فہرست
خطابات طاہریہ

طریقۂ تبلیغ

 

نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم

امابعد

فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اُدْعُ اِلیٰ سَبِیْلِ رَبِّکَ بِاالْحِکْمَۃِ وَالْمَوعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْہُمْ بِاالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ۔

صدق اللہ العظیم۔

نصیحت کاسلسلہ تقریباً ہر دن تقریر اور واعظ کی صورت جاری رہا ہے۔ اتنی کثرت اور اتنی محنت جو علماء کرام نے اور فقراء نے کی ہے، یقینا اس سے خوبصورت اثرات ہمارے قلب پر مرتب ہوئے ہونگے۔ قدردان شخص ہی فائدہ حاصل کرسکتا ہے۔ اگر قدر نہ ہو تو پھر کتنا ہی عمدہ نصیحت کرنے والا کیوں نہ ہو، حتیٰ کہ جو سب انسانوں میں بہترین انسان انبیاء علیہم السلام، ان کے واعظ اور نصیحت کو سننے والے بے قدر لوگ اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے تھے اور سننے سے انکار کردیتے تھے۔ اور یہ کہتے تھے کہ ہم آپ کی بات سننا نہیں چاہتے، کیونکہ ہم دیکھتے ہیں آپ کے ساتھ کوئی امیر نہیں ہے، آپ کے ساتھ کوئی وقت کا حکمران نہیں ہے بلکہ چند مسکین اور غریب لوگوں کا ٹولہ آپ کے ساتھ ہے، تو ہم آپ کی بات کیونکر سنیں۔ بعض لوگ کہتے تھے کہ یہ جادوگر ہے، بعض لوگ ان کو کچھ کہتے تھے۔ لیکن جن کے دل میں قدر تھا، جو اس بات کی حقیقت کو جان چکے تھے، وہ ان کی بات پر، حکم پر لبیک کہتے ہوئے عمل کے لیے تیار ہوجاتے تھے۔ پھر جو لوگ ان کے خلاف تھے، ان کے دشمن تھے، وہ ان کے متبعین پر، ان کے امتیوں پر ظلم ڈھاتے تھے۔

اس کی بہترین مثال میرے آقا و مولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی سیرت میں آپ کو ملے گی کہ حضرت خباب رضی اللہ عنہ نے کسی موقعہ پر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے سامنے اپنی حالت زار بیان کرتے ہوئے بتایا تھا ”جب میں ایمان لے آیا جو دشمنان اسلام تھے، جو مشرکین تھے انہوں نے مجھے اس ایمان لانے سے، توحید کی دعوت پر لبیک کہنے سے مجھے روکنا چاہا، ہر طرح سے مجھے لالچیں دیں۔ جب میں باز نہیں آیا تو مجھ پر انہوں نے تشدد شروع کیا۔ اور تو بہت سارے انہوں نے تشدد مجھ پر آزمائے، لیکن یہ بھی انہوں نے مجھے تکلیف دی کہ انہوں نے دہکتے ہوئے انگاروں کا ایک بہت سارا ڈھیر جمع کردیا اور مجھے پیٹ کے بل اس پر لٹاکر بہت بھاری پتھر سینے پر رکھ دیا اور اس قدر انگاروں نے کام کیا کہ میری چمڑی جل گئی اور میری چربی پگھلنے لگی۔ پگھلتے پگھلتے اس قدر پگھلی کہ ہڈیوں تک جاکر انگارے پہنچے۔ اس چربی کے پگھلنے کی وجہ سے وہ انگارے بجھ جاتے مگر مجھے اٹھنے کے لیے اجازت نہیں ہوتی تھی“۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو اپنی قمیص مبارک اوپر اٹھاکر دکھائی تو عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے چیخ نکل گئی۔ انہوں نے کہا ”خدا کی قسم میں نے ایسی پیٹھ آج تک نہیں دیکھی جس پر نہ جلد سلامت ہے نہ گوشت سلامت“۔

تو میں عرض کررہا تھا، نصیحت اور واعظ تو کافی ہوچکا ہے اور ماشاء اللہ آپ سن بھی رہے ہیں، اب ہمیں اگلے مرحلے کے لیے تیار ہونا ہے۔ کیونکہ اتنے دن محنت ہوئی ہے، پروگرام ہوتے رہے، آپ لوگ اس میں شرکت فرماتے رہے۔ یہ کوئی رسمی کاروائی تھی نہیں، کہ جس طرح ہم اپنے دوستوں کی دعوت پر جاتے ہیں، گپ شپ لگاتے ہیں، کھانا کھاتے ہیں اور پھر اٹھ کر روانا ہوجاتے ہیں۔ جو پہلے حال تھا وہ ہی ہمارا حال ہوتا ہے۔ یہ محفلیں کچھ اس طرح کی نہیں تھیں۔ یہ محفلیں میرے آقا و مولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور ان کی تابعداری میں منعقد کی گئیں۔ جس طرح آپ صلّی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کو کافی دن اپنے صحبت میں رکھتے تھے، نگاہ کرم فرماتے تھے، محبت اور پیار دیتے تھے، ان کو تعلیم دیتے تھے، ان کو تربیت دیتے تھے، ان کو قرآن مجید پڑھاتے تھے، ان کو احادیث سناتے تھے۔ جب وہ پوری طرح تیار ہوجاتے نماز سیکھ کر، شریعت کے مسائل سیکھ کر تو پھر ان کو حکم دیتے تھے کہ اب تم چلے جاؤ ایسے لوگوں کے پاس جن تک یہ پیغام نہیں پہنچا، جو دین حق سے ناواقف ہیں، جو توحید کی دعویٰ کو ابھی تک نہیں سن سکے ہیں۔

حجۃ الوداع کے موقع پر جو آپ نے خطاب فرمایا، ایک لاکھ صحابہ کا مجمع موجود تھا۔ جب آپ نے اپنے خطاب کو ختم فرمایا تو آخر میں یہی تلقین فرمائی ”جو لوگ یہاں حاضر ہیں ان کا فریضہ یہ ہے کہ ہمارا پیغام غائبین تک پہنچائیں جو یہاں موجود نہیں ہیں“۔ تو میرے آقا و مولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد صرف اس وقت کے صحابہ کے لیے نہیں تھا، بلکہ موجودہ زمانے کے لیے بھی یہ حکم ہے کہ

”بلغو عنی ولو کان آیۃ“۔ میری طرف سے پہنچاؤ، اگر ایک ہی آیت تمہاری طرف پہنچی ہے۔

تو یہ تمہارا فرض ہے کہ اس ایک آیت کو، اس ایک مسئلے کو تم لوگوں کی طرف پہنچانے کی کوشش کرو۔ یقین جانیے کہ اگر شریعت کا ایک مسئلہ ہم نے یاد کرلیا، اتنی ساری محفلیں ہوتی ہیں، ان سے اگر ایک مسئلہ بھی ہم نے یاد کرلیا یہ بھی ایک بہت بڑا قیمتی سرمایہ ہے۔ اس کا قدر آج تو ہمیں ہو نہیں سکتا، لیکن آگے چل کر اس کا قدر ہمیں ضرور ہوگا۔ ہم تو سرمایہ روپے اور پیسے کو سمجھتے ہیں کہ دولت ہو، ہزار درہم ہوں، لاکھ درہم ہوں، پاکستان میں جاگیر ہو، دکانیں ہوں، عمدہ بنگلے ہوں، گاڑیاں ہوں، نوکر چاکر ہوں۔ ہم تو سرمایہ اور اعزاز اس کو سمجھتے ہیں۔ حالانکہ جس طرح ہم اس کو حاصل کر رہے ہیں اور جس طرح اس کی محبت میں مبتلا ہیں تو یہ سب ہمارے لیے وبال جان ہے۔

جائیے ان لوگوں کے پاس جو دن رات اسی فکر میں مبتلا ہیں کہ ہمیں زیادہ دولت ملے۔ انہوں نے اپنا معبود اور مقصود دولت کو بنالیا۔ غیر اللہ کو بنالیا اور اس کی طلب اور جستجو میں دن رات لگے ہوئے ہیں۔ اللہ نے ان کے اوپر یہ عذاب نازل کیا ہے کہ ان کے دلوں سے سکون رخصت ہوگیا۔ ان کے دل میں فرحت نہیں، ان کے دلوں میں آرام نہیں، ان کو کوئی چین حاصل نہیں۔ اس دنیا نے ان کو اتنا بے کل اور پریشان کردیا کہ وہ یہاں تک تیار ہوجاتے ہیں کہ بھلا ہم مرجائیں، خودکشی کرلیں ایسی زندگی سے تو موت اچھا ہے۔ جس طرح کسی شاعر نے کہا ہے۔

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مرجائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

دنیا کے مشکلات اور مصائب سے پریشان ہوکر آدمی یہ تمنا کرتا ہے کہ میں مرجاؤں۔ لیکن وہ جب قبر میں پہنچے تو وہاں بھی اس کے لیے سخت ترین سزا موجود ہو تو پھر وہ کیا کرے گا۔ پھر تو کوئی راستہ نہیں بچتا۔ تو جب انسان اس دولت کے فکر میں مبتلا ہوتا ہے اور اس کی محبت میں پھنس جاتا ہے اور یوں پھنستا ہے کہ اپنے رب کو بھلا دیتا ہے، تو پھر حلال و حرام کی تمیز مٹ جاتی ہے اور وہ صرف دولت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ”دولت آوے ہی آوے ایمان جاوے توجاوے“۔ معاذ اللہ۔ تو جب یہ نعرہ بن جاتا ہے تو پھر یہ دولت اس کی سانپ سے زیادہ خطرناک ہوجاتی ہے۔ وہ سانپ تو صرف جان لے لیتا ہے لیکن یہ دولت، غیر اللہ کی محبتیں اس کی جان کے ساتھ اس کے ایمان کو بھی لے جاتیں ہیں۔

وتایو فقیر ایک درویش ہمارے سندھ میں گذرے ہیں۔ اس کی نصیحت اور واعظ مشہور ہے۔ ان کی حکایتیں بظاہر ہنسنے کی باتیں ہوتی ہیں لیکن ان میں اتنی معنیٰ اور حقیقت پوشیدہ ہوتی ہے کہ اہل نظر ہو وہ سمجھ لے گا کہ وہ کیا کہنا چاہتا ہے۔ کہتے ہیں کہ وہ جارہے تھے، ان کو راستے میں کہیں روپیہ مل گیا۔ پہلے وہ چاندی کے روپے ہوتے تھے، آج کل تو نوٹ ہوگئے ہیں کاغذ کے۔ تو ایک روپیہ جو مل گیا، وہ پریشان ہوگئے۔ وہ فقیر درویش آدمی، انہوں نے کہا یہ دنیا ہے، یہ پیسہ ہے، یہ اگر میرے ساتھ رہا تو میرے لیے وبال بن جائے گا، مشکلات پیداکرے گا، اس سے ابھی سے جان چھڑانا ہی بہتر ہے۔ انہوں نے کیا کیا کہ ایک درخت کی جڑ میں اس روپیہ کو پھینک دیا اور جس سفر پہ جارہے تھے روانا ہوگئے۔ جس کام کے لیے گئے تھے وہ ختم کیا اور کافی دنوں کے بعد پھر ان کی واپسی ہوئی۔ ان کی واپسی سے پہلے کوئی شخص اس درخت کی جڑ کے قریب بیٹھ کر پیشاب کررہا تھا۔ جب اس نے پیشاب کیا تو وہ پیشاب کی وجہ سے وہاں سے مٹی ہٹنے لگی اور روپیہ باہر نکل آیا۔ وہ حیرت زدہ رہ گیا کہ یہ کیا ہوا؟ جلدی جلدی ادھر ادھر دیکھا کہ کوئی دیکھ تو نہیں رہا ہے۔ کیونکہ روپیہ آج کے دور میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا، اگر بچے کو دو تو وہ بھی ناراض ہوجاتا ہے، اگر کسی بھکاری کو دو تو وہ بھی ناراض ہوجاتا ہے یہ کیا دے رہے ہو۔ لیکن اس وقت جب چوبیس روپے میں سونے کا تولہ ملتا تھا اس وقت روپے کی بڑی قیمت تھی۔ وہ بڑا حیران ہوا۔ فوراً اس نے اس روپے کو اٹھالیا۔ اس نے سمجھا کہ اس درخت کی جڑ میں یقینا خزانہ موجود ہے۔ رات کے ٹائم میں کسی مزدور کو ساتھ لے کر آیا کہ اس جگہ کو کھودو، میں تمہیں اتنے اتنے پیسے دوں گا۔ اس جگہ بہت بڑا گڑھا کھدوایا، مگر وہاں کچھ نہیں ملا۔ درخت کے دوسرے طرف دوسرا بڑا گڑھا کھدوایا۔ کیونکہ پچھلے زمانے میں بینکیں تو ہوتی نہیں تھیں، تو لوگ کسی ایسے درخت کی نشانی بناکر وہاں چھپادیتے تھے کہیں جنگل میں کہیں کسی جگہ۔ تو اس نے سمجھا کہ یہاں کسی نے دولت چھپائی ہے۔ چاروں طرف سے گڑھے اس نے کھدوائے، نتیجہ یہ نکلا کہ وہ درخت بے چارہ گرگیا۔ جب وتایو فقیر وہاں سے گذرا، اس نے سوچا کہ وہاں روپیہ میں نے پھینکا تھا اس کا کیا ہوا۔ گذرتے گذرتے اس جگہ پر پہنچا تو اس نے یہ ماجرا دیکھا کہ بڑے گڑھے کھودے ہوئے ہیں اور درخت بے چارہ گرا ہوا ہے اور اس کی ٹہنیاں بے چاری ساری سوکھی ہوئی ہیں اور وہ ختم ہوچکی ہیں۔ وہ فوراً اللہ کی طرف متوجہ ہوا کہ یا رب العالمین تیرا شکر ہے کہ یہ روپیہ میرے ساتھ نہیں تھا ورنہ میں بھی جڑ سے چلا جاتا۔ مجھے بھی اس طرح برباد کردیتا۔ اور یہ حقیقت ہے جب انسان اس روپے کو اپنے دل میں بٹھالیتا ہے، اس کی محبت کو دل میں بٹھالیتا ہے تو یہ روپیہ بھی اس درخت کا حال بنالیتا ہے، اور پھر نہ ہی اس کا زمین پر پاؤں لگتا ہے اور نہ ہی کسی اور جگہ پر آرام اور سکون ملتا ہے۔

تو میرے دوستو عزیزو! اس محبت دنیا کو اپنے دل سے آزاد کرانا ہمارا فریضہ ہے۔

تو میں عرض کر رہا تھا کہ آقا و مولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جو یہاں موجود ہیں وہ نکل جائیں ایسے لوگوں کے پاس جنہوں نے یہ پیغام نہیں سنا۔ ان تک یہ پیغام پہنچائیں اور ان کو دعوت دیں تاکہ وہ دین حق کی دعوت قبول کرکے دنیا اور آخرت کی نجات پالیں، کامیابی اور فلاح کو حاصل کریں۔ اس کا بدلہ یہ ہوگا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ تمہیں بھی ان انبیاء علیہم السلام کے صدقے میں وہ مقام عطا فرمائے گا کہ روز قیامت لوگ تمہارے اس مقام کو، اس شان کو دیکھ کر حیران رہ جائیں گے کہ یہ کون ہے۔ کوئی ان کا عمل نہیں بتایا جائیگا، یہی بتایا جائیگا کہ یہ خادم دین تھے، مبلغ دین تھے۔ کیونکہ جو خدمت اسلام کرتے ہیں، خدمت دین کرتے ہیں، حقیقت میں وہی انبیاء کے وارث ہیں۔

تو میرے دوستو! یہ جو محفلیں منعقد ہوتی ہیں، ان کا مقصد یہ ہے کہ جو باتیں ہم نے آج سن لیں، ان کو اپنے دل میں سمولیا ہے۔ اب ہمارا فرض بنتا ہے کہ اس پیغام کو آگے بڑھائیں، لوگوں تک پہنچائیں تاکہ ان کی دلوں میں بھی اللہ کا خوف پیدا ہو اور وہ بھی راہ راست پر چلنا شروع کردیں۔ مگر اس پیغام کو پہنچانے کے بھی کچھ آداب ہوتے ہیں، ایسے کام نہیں ہوگا۔ جیسے کہ قرآن مجید کی تلاوت کے لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اس کو بغیر پاک ہوئے نہ چھوؤ۔ جب تم قرآن پڑھنا چاہو تو پہلے تم وضو بناؤ، اپنے حدث سے پوری طرح پاکائی حاصل کرو، پھر تم قرآن کو اٹھاکر دل کی محبت اور شوق سے پڑھو۔

صرف ظاہری اعضاء کا وضو نہیں ہونا چاہیے۔ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں نماز اور تلاوت کے لیے اپنے باطنی اعضاء کا بھی وضو ہونا چاہیے۔ ایک تو وضو وہ ہے کہ تو نے ہاتھ کو دھویا۔ اس کی برکت یہ ہوتی ہے کہ انسان کے جو ہاتھ کے گناہ ہیں وضو کرنے والے کے، وہ ہاتھ کے سارے گناہ اللہ تعالیٰ معاف کردیتا ہے۔ پورے خلوص اور محبت سے وضو کرتے ہوئے اپنے چہرے کو دھویا تو اس عمل کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کے، آنکھوں کے سارے گناہ بخش دیتا ہے۔ کلیاں کرتا ہے تو اللہ اس کے منہ کے گناہ بخش دیتا ہے۔ اگر بازؤں کو دھوتا ہے تو اس کے بازؤں کے گناہ اللہ تعالیٰ معاف فرمادیتا ہے۔ یہ عمل اتنا اعلیٰ اور پسندیدہ ہے اور اس لیے وضو کیا جاتا ہے تاکہ یہ گناہوں سے پاک اور صاف ہوکر اس لائق بن سکے کہ اپنے محبوب رب العالمین سے ہم کلام ہو۔ ہم تو اس ہم کلامی کو بھی نہیں جانتے۔ ہم تو سمجھتے ہیں کہ نماز تو صرف اٹھنے بیٹھنے کا نام ہے۔ کھڑے ہوگئے، دو سجدے کیے، رکوع کیا، دعا مانگی اور چلے گئے۔ نہیں، نماز اتنی بڑی اعلیٰ اور ارفع چیز ہے کہ جب تک انسان کا اس میں دل شامل نہ ہوجائے، اس کا شوق اس میں شامل نہ ہو، اس کی محبت اس میں شامل نہ ہو اس وقت تک نماز کا کماحقہ فائدہ پہنچ ہی نہیں سکتا۔ حکومت اگر ڈنڈے بردار مقرر کردے کہ بھئی کسی کو بھی نہیں چھوڑو۔ جو نماز کے ٹائم پر نماز نہیں پڑھتا اس کو مارو پیٹو۔ بے شک یہ بہتر کام ہوگا لیکن ان کی نماز جو ڈنڈے کے خوف سے پڑھی جاتی ہے تو وہ نماز پسندیدہ نہیں ہے۔ بلکہ نماز تو وہ ہے جو اللہ کی رضا کے لیے پڑھی جاتی ہے، اس کی محبت میں اور شوق میں پڑھی جائے۔ اور ایک نماز ہوتی ہے کہ لوگوں کو دکھانے کے لیے پڑھی جاتی ہے۔ لوگ کہیں کہ بڑا صوفی صاحب ہے، یہ بڑا بزرگ صاحب ہے۔ اس کو میرے آقا و مولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے شرک اصغر فرمایا ہے۔

ایاک والشرک الاصغر قالوا من الشرک الاصغر قال الریاء۔ اوکما قال النبی صلّی اللہ علیہ وسلم۔

آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بچاؤ اپنے آپ کو شرک اصغر سے، چھوٹے شرک سے اپنے آپ کو بچاؤ۔ شرک کے جو تین اقسام محدثین نے بیان فرمائے ہیں، اس کا تیسرا قسم یہ ریا بتایا ہے۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بچو اس شرک اصغر سے۔ صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! شرک اصغر کیا ہے؟ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شرک اصغر یہ ہوتا ہے جب تم عبادت کرو، جب تم خیرات کرو، جب تم قربانی کرو، جب تم نماز پڑھو، وہ اس لیے پڑھو کہ لوگ تمہیں نیک کہیں، لوگ تمہاری تعظیم بجالائیں، لوگ تمہاری توقیر بجالائیں، اس کو ریا کہا جاتا ہے۔ ایسی عبادت کی بارگاہ خداوندی میں کچھ مقبولیت نہیں ہے۔

کہتے ہیں کہ ایک دکاندار تھا وہ نماز پڑھ رہا تھا۔ نماز اس نے پوری کی اور جب سلام پھیرا تو وہ کہنے لگا کہ اے بوڑھی نمک کا سیر ڈیڑھ آنے میں ہے، اس کو لینا ہے تو لے لو ورنہ چلی جاؤ۔ لوگ حیران رہ گئے۔ یہ نماز پڑھ رہا ہے اور یہ نمک کی بات کر رہا ہے، ہے کیا اسرار؟ لوگوں نے اس سے پوچھا بھئی کیا تونے یہ بات کہی؟ اس نے کہا خدا کے لیے چھوڑدو، مجھے ایسے ہی رہنے دو تو بہتر ہے۔ جب انہوں نے اصرار کیا، اس نے کہا دراصل بات یہ ہے کہ روزانہ شام کے ٹائم پر ایک بوڑھی میرے دکان پر آتی ہے، ہر ایک چیز پر ہاتھ رکھتی ہے۔ پیاز پر ہاتھ رکھے گی اس کا کلو کتنے کا ہے؟ گھی پر ہاتھ رکھے گی اس کا کلو کتنے کا ہے؟ چینی پہ ہاتھ رکھے گی اس کا کلو کتنے کا ہے۔ پھر کسی ایک چیز پر آکر اڑ جائے گی ”اس کا اتنا تو نہیں میں اتنا دونگی“۔ پھر جب میں نے نماز شروع کی، اللہ اکبر کہا تو تصور ہی تصور میں دکان پہ پہنچ گیا۔ وہ کھڑا مسجد میں ہے، اللہ کے سامنے کھڑا ہے اور دکان پہ پہنچ گیا۔ اسی موقع پر وہ بوڑھی بھی آگئی۔ میں رکوع میں جارہا ہوں، سجود میں جارہا ہوں لیکن گفتگو میری اس بوڑھی سے ہورہی ہے۔ لڑائی جھگڑا اس کے ساتھ ہورہا ہے۔ آخر میں میں جب التحیات میں گیا تو اس نے نمک پر ہاتھ رکھا۔ میں اس سے پریشان ہوگیا تھا کہ ابھی بھی جان نہیں چھوڑ رہی ہے۔ تو سلام پھیرتے ہوئے بے اختیار میرے منہ سے یہ بات نکل گئی۔ کیونکہ میں اتنا محو ہوگیا تھا، اس تصور میں غرق ہوگیا تھا کہ میں نماز کو بھول گیا تھا۔ میں نے سمجھا کہ میں دکان پہ بیٹھا ہوا ہوں اور بوڑھی عورت میرے سامنے کھڑی ہے۔ میں نے اس کو کہا کہ ڈیڑھ آنے سیر نمک کا کلو ہے، لینا ہے تو لے لو ورنہ نکل جاؤ۔ تو ہماری نماز بھی اسی طرح ہوتی ہے۔ نماز پڑھ رہے ہیں اور اپنے دنیا کے حساب میں لگے ہوئے ہیں۔ ایسی نماز اللہ تعالیٰ کے ہاں کیسے مقبول ہوسکتی ہے۔

تو میں عرض کر رہا تھا کہ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں جب تم وضو بناؤ تو ایک ظاہری وضو ہے، دوسرا تمہیں باطنی و روحانی وضو کی ضرورت ہے۔ وہ یہ ہے کہ جب تم مسجد میں پہنچو تو اس سے پہلے اپنے دل کو بھی وضو کراؤ۔ دل کا وضو کیا ہونا چاہیے؟ اسے محبت خداوندی، معرفت خداوندی کے نور سے وضو کراؤ تاکہ اس میں جو ریاء کے اثرات موجود ہیں، ان سب چیزوں سے دل بالکل پاک اور صاف بن جائے۔ اور جب تم اللہ اکبر کہو تو تمہارا دل بھی مانے کہ واقعی سب سے بڑا اللہ ہے۔ اور میں اس کے سامنے کھڑا ہوں جو بادشاہوں کا بادشاہ ہے، جو مہربان ہے اور قہار بھی ہے، وہ رحمت والا بھی ہے اور عذاب کرنے والا بھی ہے۔ یہ کیفیات اپنے دل میں رکھ اور امید بھی تیرے دل میں موجود ہو اور اس کے ساتھ خوف بھی تیرے ساتھ موجود ہو۔ پھر تم نماز ادا کرو تو ایسی ایک رکعت دیگر لاکھ رکعتوں سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں بلند مقام رکھتی ہے۔ ورنہ تو کوئی بڑا عالم کیوں نہ ہو، بہت بڑا قاری کیوں نہ ہو، بہت بڑا مجاہد کیوں نہ ہو۔ لیکن اگر اس کے دل میں نیت صحیح اور خلوص موجود نہیں ہے تو وہ اس کے سارے عمل اکارت چلے جاتے ہیں۔ میرے آقا و مولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن ایک قاری کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کیا جائیگا۔

اندر خواتین مستورات باپردہ بیٹھی ہوئی ہیں۔ یقینا وہ بھی سینکڑوں کی تعداد میں گذشتہ پروگراموں میں تشریف لاتی رہیں جس طرح احباب نے بتایا ہے، اور آج بھی ضرور تشریف لائی ہونگی۔ تو یہ نصیحتیں صرف مردوں کے لیے نہیں ہیں یہ خواتیں کے لیے بھی ہیں۔ یہ سب باتیں جو میں عرض کررہا ہوں، یہ خرابیاں ہم سب کے اندر پائی جاتی ہیں۔ مردوں میں بھی عورتوں میں بھی، بوڑھوں میں بھی اور جوانوں میں بھی۔

تو میں عرض کررہا تھا کہ آقا و مولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن ایک قاری کو اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ مشکوٰۃ شریف کی حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتیں یاد دلائے گا۔ اے بندے میں نے تیرے اوپر یہ نعمت کی کہ تجھے احسن صورت سے نوازا، میں نے تمہیں اتنی دولت سے نوازا، تمہیں یہ سب کچھ عطا فرمایا، تمہیں میں نے پینے کے لیے پانی عطا فرمایا، تمہیں سانس لینے کے لیے ہوا عطا فرمائی اور تم سے کوئی ٹیکس بل وغیرہ نہیں لیا۔ یہ سب چیزیں تیرے لیے میں نے مفت میں عطا فرمائی تھیں۔ ان کے ہوتے ہوئے کیا تو نے کچھ قدردانی کی؟ کیا کچھ عمل کیا؟ وہ عرض کرے گا یا رب العالمین یہ تیری ساری نعمتیں برحق ہیں لیکن میں نے بھی کچھ کم نہیں کیا، میں نے قرآن پڑھا تھا جیسا کہ میرے آقا آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ

”خیر کم من تعلم القرآن وعلمہ“۔ تم میں بہترین شخص وہ ہے جو پہلے قرآن سیکھے اور پھر اوروں کو بھی سکھائے۔

تو یا الٰہ العالمین میں نے قرآن پڑھا تھا، قرأت اور تجوید کے ساتھ پڑھا تھا، اور پڑھنے کے بعد میں نے لوگوں کو پڑھایا تھا، لوگوں کو اسٹیج پر کھڑے ہوکر بڑے خوش الحانی کے انداز میں میں نے ان کو سنایا تھا، میری ساری زندگی اسی عمل میں گذر گئی۔ یا رب العالمین میں نے یہ سب کچھ تیری رضا کے لیے کیا، تیری خوشنودی کے لیے کیا۔ اللہ تعالیٰ اسے فرمائے گا تونے جھوٹ بولا۔ یہ سب کچھ تونے واقعی کیا تھا۔ تو نے قرآن پڑھا اور پڑھایا بھی، لوگوں کو سنایا بھی، تجوید قرأت اور بڑی خوش الحانی کے ساتھ، مگر یہ سب کچھ تونے میرے لیے نہیں بلکہ اس لیے کیا تھا کہ لوگ تمہیں قاری کہیں، لوگ تیری تعظیم کریں، لوگ تجھے اعزاز اکرام اور القاب سے نوازیں۔ پس دنیا میں تجھے یہ سب چیزیں مل چکیں، اب اللہ کے پاس ان چیزوں کا کچھ اجر نہیں ملے گا۔ ملائکہ کو امر ہوگا کہ اس کو جہنم میں پھینک دو۔ حدیث میں آتا ہے کہ ملائکہ اس کو پاؤں سے پکڑیں گے، منہ کے بل گھسیٹتے ہوئے اس کو جہنم میں پھینکیں گے۔ اب اس سے اندازہ لگاؤ، قرآن مجید کی تلاوت بڑی اعلیٰ بات ہے، لیکن اگر دل میں خلوص موجود نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کی رضا طلبی موجود نہیں ہے تو یہ سارا عمل رائگاں چلا جاتا ہے۔

اس طرح سے اللہ کے سامنے ایک غنی مالدار امیر شخص پیش کیا جائے گا۔ اللہ پاک اسے اپنی نعمتیں یاد دلائے گا۔ میں نے تمہیں اتنا مال دیا، تجھے اتنی دولت عطا فرمائی، تونے اس دولت کو کہاں خرچ کیا اور کس لیے خرچ کیا؟ وہ کہے گا یا رب العالمین میں نے دولت کو تیری راہ میں خرچ کیا، اتنے غریبوں کو میں نے کھانا کھلایا، اتنی خیراتیں کیں اور قربانیاں کیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہاں یہ تو نے سب کچھ کیا لیکن اس لیے کیا کہ تیرا نام بلند ہو، تیری شہرت ہو، لوگ تجھے بڑا آدمی سمجھیں، مرعوب ہوجائیں، تو یہ سب دنیا میں تونے دیکھ لیا۔ اب میرے پاس تیرے مال کے خرچ کرنے کا کچھ اجر نہیں ہے۔ اس لیے شاہ عبداللطیف بھٹائی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے اشعار میں فرمایا

محبت رکي من ۾، رنڍا روڙيا جن،
تن جو صرافن، اڻ توريو اگھائيو.

وہ کہتے ہیں کہ جس کے دل میں محبت تھی اس نے بظاہر اتنا اعلیٰ اور نفیس کام نہیں کیا۔ وہ سوت کاتنے کی بات کر رہے ہیں۔ وہ سوت جتنا نفیس اور نرم ہو، نازک ہو، ملائم ہو اسکا اتنا مقام بلند ہوتا ہے، اس کی قیمت زیادہ ہوتی ہے۔ پہلے وقت میں کاتا جاتا تھا آج کل یہ کم ہوگیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص کو جس نے بڑا نفیس اور نرم سوت کاتا تھا، لیکن اس کے دل میں دغا تھی، اس دل میں خلوص نہیں تھا۔ ظاہری مثالیں دے کر وہ آخرت کا منظر بیان کر رہے ہیں کہ وہاں لوگوں کی قطاریں ہونگی، نامہ اعمال ہاتھوں میں ہونگے۔ اللہ تعالیٰ کی کورٹ میں ہر ایک کی پیشی ہوگی، ترازو وہاں موجود ہوگا۔ نیک اعمال رکھے جائیں گے، برے اعمال بھی رکھے جائیں گے۔ حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی رحمۃ اللہ علیہ اس لمحے کی منظر کشی کر رہے ہیں کہ جن کے دل میں دغا تھی انہوں نے عمل بظاہر بڑے اچھے کیے تھے، سوت انہوں نے اچھا کاتا تھا، یعنی عمل بڑے اچھے کیے تھے۔ لوگ تو یہی سمجھتے رہے کہ یہ بہت بڑی منزل پائیں گے، ان کو بڑا اجر ملے گا، ان کو بڑی قیمت ملے گی۔ لیکن اللہ تعالیٰ علیم بذات الصدور ہے۔ وہ دل کے بھیدوں کو اچھی طرح جانتا ہے۔ جس طرح ہمارے ظاہر کو جانتا ہے اسی طرح ہمارے باطن کو بھی جانتا ہے۔ کوئی چیز اس سے مخفی نہیں ہے۔ تو جب وہ بڑے عمل کے پہاڑ لے کر اللہ کی بارگاہ میں پیش ہوئے اور جب دیکھا گیا تو ان کے دل میں خلوص کی رتی بھی نہیں تھی۔ تو ان کے سارے اعمال کو رد کرکے جہنم میں پھینکا گیا۔ اور دوسری طرف وہ سادہ مزاج آدمی، وہ غریب آدمی، اس نے بھی سوت کاتا تھا، لیکن سوت اس کا کچھ اچھا نہیں بنا تھا۔ بظاہر دیکھنے میں موٹا تھا نفیس نہیں تھا، خوبصورت نہیں تھا۔ لیکن اس کی دل میں محبت تھی، اس کی دل میں خلوص تھا۔ جب وہ سوت لے کر صراف کے پاس گیا تو صراف نے اس کو بغیر تولے بہت سارا بھرکے دے دیا۔ بھئی لے جاؤ تمہارا میں تولتا نہیں۔ جتنی بھی تمہیں دولت چاہیے اتنی لے جاؤ۔

تو فرماتے ہیں جن کے دل میں خلوص اور محبت تھی، بظاہر لوگ ان کی تعظیم نہیں کرتے تھے، ان کی تکریم نہیں کرتے تھے، ان سے مرعوب نہیں ہوا کرتے تھے۔ لیکن جب خدا کی بارگاہ میں وہ مسکین، وہ غریب، وہ عاجز فقیر خدا تعالیٰ کی بارگاہ میں پہنچا تو اللہ تعالیٰ نے کہا یہ بڑا محبوب دوست ہے، اس کے دل میں میری محبت تھی، یہ ہر عمل میرے لیے کرتا تھا۔ فرشتوں کو حکم ہوگا اس کے اعمال نامہ کو تولنے کی ضرورت نہیں۔ اس کو تولے بغیر اور بغیر حساب کتاب کے اس کو جنت میں پہنچادو۔ تو یہ ایک بنیادی چیز ہے۔ جب تک انسان کے دل میں پیدا نہیں ہوگی اس وقت تک اس کے اعمال مقبول نہیں ہوسکتے۔ اس لیے میرے آقا و مولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے اصحابی اگر اللہ کی راہ میں ایک کھجور کی گٹھلی خیرات کریں اور بعد میں آنے والے لوگ اگر جبل احد، جو بہت بڑا وسیع اور اعلیٰ پہاڑ ہے، اس کے برابر سونا اللہ کی راہ میں خیرات کریں، تب بھی میرے صحابی کی اس گٹھلی کے برابر یہ سونا نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ آپ کی نگاہ کرم سے، آپ کی توجہ باطنی سے ان کے قلوب کا وہ تزکیہ ہوگیا تھا کہ ان کی نظر صرف اللہ پر ہوتی تھی، اور کسی چیز کو نہیں دیکھتے تھے۔

تو یہ عاجز عرض کررہا تھا کہ پہلی مقدم چیز تو یہی ہے کہ ہم اپنی اصلاح کریں اور اپنے اندر عجز و انکساری پیدا کریں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کو یہ چیز بڑی پسند ہے۔ مبلغین میں یہ چیز ہونی چاہیے۔ صوفیاء کرام کا بھی یہی طریقہ تھا کہ ان کے دل میں اللہ کا خوف ہوتا تھا، اللہ تعالیٰ کی محبت ہوتی تھی اور عجز و انکساری ہوتی تھی۔ اور اس چیز کی تعلیم قرآن پاک میں دی جارہی ہے

اُدْعُ اِلیٰ سَبِیْلِ رَبِّکَ بِا الْحِکْمَۃِ۔

”اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ لوگوں کو حکمۃ کے ساتھ۔“

ایسے نہ ہو کہ تم ایسی بات کہہ دو بغیر موقع دیکھے، بغیر اس کے مزاج کو دیکھے، بغیر اس کے علم اور شعور کو دیکھتے ہوئے، ایسے ہی تم اس کو کہہ دو اور نتیجہ میں وہ لڑنے مرنے کے لیے تیار ہوجائے۔ نہیں، تم اس کے مزاج کو دیکھو، اس موقعہ کو دیکھو، اس کے ماحول کو دیکھو اور پھر اس انداز سے کہو کہ اگر سیدھی بات کہنے کا موقعہ نہیں ہے تو تم اشارتاً بھی اس کو کہہ سکتے ہو۔ اپنا مثال سامنے پیش کرکے تم اس کو کہہ سکتے ہو جس طرح کہ ایک اللہ والا تھا، اس کی خدمت میں ایک بڑا آدمی آتا تھا۔ اس کی عادت تھی اس کے شلوار کے پائنچے ایسے زمین پر گھسٹ کر آتے تھے۔ تو یہ عادت اس اللہ والے کو پسند نہیں تھی۔ یہ متکبرین کی علامت ہے۔ اب دیکھیں کہ اس اللہ والے نے اس کی تربیت کیسے کی۔ اس کو ایک دن تنہائی میں بلایا۔ تنہائی میں بلاکر پھر اس کو کہا بھائی میری ایک بڑی خراب عادت ہے۔ تم بہت سمجھدار آدمی ہو، بڑے عقل مند آدمی ہو۔ ذرا تم اس خراب عادت پر غور کرکے بتاؤ کیا واقعتا وہ عادت ایسی ہے تو میں اس کو چھوڑ دوں۔ اس نے کہا حضرت کیا عادت ہے؟ آپ تو ماشاء اللہ نیک ہیں۔ اس نے کہا خراب عادت یہ ہے کہ کبھی کبھی میری شلوار کے پائنچے جو ہیں وہ گھسٹ کر نیچے آجاتے ہیں۔ تو میں کھڑا ہوجاتا ہوں، تم دیکھو یہ پائنچے صحیح ہیں یا نہیں؟ تو وہ قدموں میں گر پڑا اور رونے لگا ”حضرت آپ کے پائنچے کہاں گرسکتے ہیں، یہ تو بیماری میرے اندر پائی جاتی ہے“۔ وہ اس بات سے اتنا متاثر ہوا کہ اس سے تائب اور پشیماں ہوگیا۔

حسنین کریمین کا واقعہ آپ نے پڑھا ہوگا کہ ایک بدوی آیا جو بالکل ان پڑھ تھا، جاہل تھا۔ وہ وضو کررہا تھا مگر وضو صحیح نہیں کررہا تھا۔ ان دونوں شہزادوں نے سوچا جنہوں نے میرے آقا کی گود میں رہ کر تعلیم اور تربیت حاصل کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس کو اگر سیدھا کہیں گے تو وہ بوڑھا آدمی ہے، مبادا وہ ناراض نہ ہوجائے۔ دونوں نے آپس میں مشورہ کیا۔ انہوں نے بدوی کو کہا کہ ہمارا آپس میں جھگڑا ہوگیا ہے۔ حسن رضی اللہ عنہ کہتا ہے کہ میرا وضو صحیح ہے، حسین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں وضو اچھا بناتا ہوں۔ اب ہم باری باری وضو کرتے ہیں،  آپ دیکھ لیں کہ کس کا وضو صحیح ہے۔ بدوی کھڑا ہوگیا کہ ان سے بہتر اچھے طریقے سے وضو کون بناسکتا ہے۔ انہوں نے وضو بنایا۔ کلی کی، فرائض، سنت و مستحبات کا پورا خیال رکھا۔ بدوی دیکھ کر حیران رہ گیا۔ بھئی میں تو خود اپنا وضو نہیں جانتا ہوں ان کا فیصلہ کیا کروں۔ اس نے کہا کہ قبلہ میں اپنا وضو پہلے صحیح کرلوں پھر میں آپ کے وضو کا فیصلہ کروں گا۔

تو میرے دوستو عزیزو! یہ وہ طریقے ہوتے ہیں جو تبلیغ اور تقریر میں کام آتے ہیں۔ اختیار کرنے چاہییں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم اللہ کی راہ کی طرف بلاؤ لوگوں کو حکمت کے ساتھ اور اچھے وعظ کے ساتھ۔ ایسے نہ ہو کہ ان کو معاذ اللہ کم و بیش بولو۔ کسی کو جاہل کہو، کسی کو بے نمازی کہو، کسی کو ڈاکو کہو، کسی کو رشوت خور کہو، کسی کو برا بھلا کہنا شروع کردو۔ ایسا کہنے سے وہ نصیحت حاصل نہیں کرسکے گا، البتہ لڑائی کے لیے ضرور تیار ہوجائے گا۔ جس طرح ہمارے حضرت واقعہ بیان فرمایا کرتے تھے۔ وہ بیان فرماتے تھے کہ ایک کوئی مولانا صاحب تھے مسجد میں رہتے تھے۔ تھے وہ گرم مزاج کے آدمی۔ تو ایک دیہاتی آدمی آیا۔ سردی کاموسم تھا، بارش پڑرہی تھی۔ بے چارے کو کوئی راہ نظر نہ آئی، مسجد میں گھس گیا اور سوگیا۔ رات کو اس نے مسجد میں پیشاب کردیا۔ صبح کو جب مولانا صاحب آئے اور انہوں نے یہ دیکھا تو وہ سخت غصہ ہوئے اور انہوں نے اس کو بڑی تڑی لگائی ”نادان، احمق مسجد میں پیشاب کردیا ہے، تو تو کافر ہے، اللہ کے گھر کو پلید اور ناپاک بنادیا تونے“۔ اس نے کہا ”فقیر صاحب میں بیمار آدمی ہوں، کمزور آدمی ہوں، مجھے غصہ بھی آتا ہے، اس لیے مہربانی کرکے زیادہ نہ بولیں ورنہ تو کام زیادہ خراب ہوجائے گا“۔ ”بے وقوف اس سے زیادہ کام خراب کیا ہوگا، تونے پیشاب تو کرہی لیا ہے، مسجد کو ناپاک بناہی دیا ہے، اب اس سے زیادہ خرابی اور غلاظت کیا ہوگی“۔ اس کو جو کچھ آیا مولانا صاحب کہتا چلاگیا۔ اس نے کہا ”مولانا صاحب میرے مثانے میں کمزوری ہے“ مگر وہ نہ مانا اور برا بھلا کہتا رہا۔ اس نے کہا ”مثانے کی کمزوری کے ساتھ میرا معدہ بھی خراب ہے“۔ وہاں اس نے پائخانہ بھی کردیا۔ اب مولانا صاحب اور بھی زیادہ غصہ ہوگئے۔ تو کہنے کا مقصد یہ ہے اس بات کو اس طریقے سے لینے کی وجہ سے وہ بھی ضد میں آگیا۔ تو وہ پھر ضد میں ایسا آگیا کہ اس کے دل سے خدا کا خوف بھی چلا گیا، اس کے دل سے مسجد کا احترام بھی چلا گیا۔ اگر اس کو اس تناسب میں دیکھا جائے جس طرح میرے آقا و مولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم مسجد نبوی میں بیٹھے ہوئے تھے تو ایک بدوی مسجد میں داخل ہوتا ہے اور وہ بے خبر آدمی، لاعلم آدمی، کسی مسجد کے کونے میں اس نے پیشاب کردیا۔ صحابہ فوراً اٹھتے ہیں کہ اس کو بھگائیں، اس کو اٹھائیں۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں نہیں پیشاب کرنے کے دوران فوراً کسی کو اٹھانے سے اس کو بیماری لاحق ہوجاتی ہے۔ مثانے کی، پیشاب کی خرابی پیدا ہوجاتی ہے۔ تو اس کو اس لیے نہ اٹھاؤ، اس کو پیشاب کرنے دو۔ اس نے پیشاب کیا پھر وہ قطرے گراتے ہوئے آقا صلّی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا۔ آپ بڑے تکریم و تعظیم کے ساتھ اس سے ملے، اس سے خیر و برکت دریافت کی اور پھر محبت کی باتیں بتائیں اور پھر آخر میں کہا ”بھائی شاید تمہیں معلوم نہیں ہے، یہ جو چار دیواری ہم نے بنائی ہوئی ہے یہ ہماری مسجد ہے، یہاں ہم اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں اور اس نے حکم دیا ہے کہ اس کو پاک رکھو۔ یہاں پیشاب نہیں کیا جاتا“۔ اس نے کہا ”یا رسول اللہ! میں بے خبر تھا، خدا کے لیے مجھے معافی عطا فرمائیں، آئندہ ایسی بات نہیں ہوگی“۔ صحابہ کو آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس جگہ کو جہاں بدوی نے پیشاب کردیا تھا وہاں پانی سے اس کو دھودو۔ تو یہ آقا و مولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم و تربیت تھی جس سے وہ بالکل ان پڑھ، جاہل انسان جو شعور اور علم سے نابلد تھے بلکہ وہ دیہاتی زندگی بسر کرنے والے، وہ بھی وقت کے امام بن گئے، مبلغ بن گئے۔ ان کے اخلاق اور کردار اور عمل کو دیکھ کر بھی لوگ ہدایت پکڑتے تھے۔

تو یہ آپ سب کا فرض بنتا ہے کہ یہ باتیں آپ سنیں۔ اپنے اندر یہ حوصلہ پیدا کریں، یہ ہمت پیدا کریں، محبت پیدا کریں، اخلاص پیدا کریں۔ اور پھر اس پیغام کو عام کرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ لوگوں کو ذکر کی دعوت دیں، لوگوں کو مراقبہ کی بات بتائیں، لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے فرض نماز کی طرف بلائیں۔ ان کو شریعت اور پیروی رسول کی طرف بلائیں۔ میں جیسے عر ض کررہا تھا کہ ایک مسئلا بھی آج ہم نے یاد کرلیا تو جب اس کا اجر اور عوض آخرت میں ملے گا پھر ہمیں پتا چلے گا کہ کس طرح یہ اعلیٰ ترین چیز تھی۔

وہ کہتے ہیں کہ ایک شخص تھا، بالکل بے چارہ دیہاتی ان پڑھ۔ اس نے کبھی دین اسلام کی بات بھی نہیں سنی تھی۔ اس کی وفات ہوگئی۔ جب وہ قبر میں پہنچا تو کسی شخص نے مرنے کے بعد اس کو خواب میں دیکھا۔ اس سے پوچھا کہ ہم تجھے قبر میں پہنچا کر تو آئے تھے لیکن ہم نے تجھے بالکل اس طرح پایا کہ نہ تو نماز پڑھتا تھا، نہ تونے دین شریعت کے مسائل سیکھے تھے۔ بتاؤ تیرا کیا حال ہوا؟ اس نے کہا میرا حال یہ ہوا کہ جب میں قبر میں پہنچا تو منکر نکیر پہنچ گئے۔ انہوں نے مجھ سے سوال پوچھا ”من ربک“ تیرا رب کون ہے؟ تو میں نے کہا مجھے تو اور کچھ بات معلوم نہیں ہے صرف ایک بات مجھے آتی ہے۔ ایک مرتبہ میں مسجد کے قریب سے گذر رہا تھا، کوئی مولوی صاحب درس دے رہے تھے، تقریر کر رہے تھے۔ انہوں نے تقریر کے دوران یہ بات بتائی جس آگ میں لکڑیوں کو جلایا جاتا ہے اور اس کے بعد جو خاک بنتی ہے ان لکڑیوں کی، وہ خاک مٹی کی جنس میں سے نہیں ہے۔ وہ کہہ رہ تھے اس پر تیمم کرنا صحیح نہیں ہے۔ تیمم مٹی کی جنس سے کیا جاتا ہے، خاک پر تیمم کرنا صحیح نہیں ہے۔ مجھے یہی آتا ہے اور کچھ نہیں آتا۔ فرشتے حیران رہ گئے۔ پھر اس سے پوچھتے ہیں تیرا رسول کون ہے؟ تیرا دین کیا تھا؟ اور یہ جواب میں یہی کہہ رہا تھا کہ تیمم مٹی کی جنس سے کیا جاتا ہے، خاک پر تیمم کرنا صحیح نہیں ہے۔ مجھے یہی آتا ہے، اور کچھ نہیں آتا۔ وہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پہنچے، یا رب العالمین یہ تیرا عجیب بندہ ہے، ایک ہی بات بتاتا ہے، تیرے محبوب کی شریعت کا ایک مسئلہ بتاتا ہے کہ لکڑی کی جلی ہوئی خاک ہوتی ہے، اس پر تیمم کرنا صحیح نہیں ہے۔ اور کچھ بھی نہیں بتاتا۔ نہ نماز پڑھی ہے، نہ عبادت کی اور کچھ بھی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو فرمایا کہ اس شخص نے میرے محبوب کی شریعت کا ایک مسئلہ یاد کرلیا ہے، اس وجہ سے اس کو بخش دو۔

تو میرے دوستو عزیزو! ان مسائل کو سیکھو، انشاء اللہ جب سیکھو گے تو عمل کا بھی جذبہ پیدا ہوگا۔ پھر انشاء اللہ اس علم کے حاصل کرنے کی برکت سے ہماری مغفرت ہوجائیگی۔ آگے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

وَجَادِلْہُمْ بِا الَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ۔

ان سے بحث کرو اگر ضرورت پڑجائے۔ یعنی پہلے تو حکمت اختیار کرو، محبت بھری نصیحت کرو۔ اگر کوئی ایسی صورت پیدا ہوجائے تو بحث بھی کرو، مگر یہ بحث بھی احسن طریقے سے، اچھے طریقے سے، اخلاق کے دائرہ کے اندر رہتے ہوئے۔ اور سننے سنانے والے کے دل میں یہی خیال ہو کہ جو حق کی بات ہوگی اس کو میں اختیار کرلوں گا۔ اگر وہ پہلے سے یہ رٹ لگا کر بیٹھ جائے کہ میں نہ مانوں تو پھر کس طرح مسئلہ حل ہوگا۔ پھر تو لڑائی ہوگی۔ تو اس لیے بحث ایسی ہونی چاہیے جس میں سب سے بنیادی چیز یہ ہو کہ ہدایت حاصل ہو، حق کی بات معلوم ہو اور اس پر دونوں فریق عمل کرنے کے لیے تیار ہوں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے محبوب کی امت کا یہ فرض اللہ نے قرار دیا کہ ان کو چاہیے کہ وہ اللہ کی راہ میں نکلیں اور لوگوں کو ہدایت دیں۔

کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ۔

تم امتوں میں سے بہترین ہو اس لیے کہ تم لوگوں کی ہدایت کے لیے بھیجے گئے ہو۔ لوگوں کو اچھائی کا امر کرتے ہو اور برے کاموں سے، غلط کاموں سے روکتے ہو۔ اس وجہ سے جمیع امتیں جو بھی گذری ہیں آدم علیٰ نبینا علیہ الصلوٰۃ والسلام سے لے کر میرے آقا و مولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے پہلے تک، ان سب امتوں میں سے یہ جو میرے آقا و مولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کی امت ہے، وہ سب امتوں میں بہترین امت ہے، کیونکہ یہ تبلیغ کرتے ہیں۔ اس لیے آج اگر آپ شرف پانا چاہتے ہیں تو آپ بھی لوگوں کو شریعت کا پیغام، ذکر کا پیغام پہنچائیں۔

الحمدللہ یہاں ذکر کے حلقے جاری رہتے ہیں ان میں ضرور شرکت کریں۔ کیونکہ نیک صحبت کے بغیر کبھی بھی ہدایت نہیں ملے گی، کبھی بھی استقامت پیدا نہیں ہوگی۔ اس لیے فقیروں کی صحبت اور ہم نشینی کو لازم سمجھیں۔

اللہ تعالیٰ توفیق عمل عطا فرمائے۔