فہرست
خطابات طاہریہ

قلب سلیم

 

نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم

اما بعد

فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوْنَ اِلَّا مَنْ اَتَی اﷲَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ۔

صدق اللہ العظیم۔

معزز سامعین! یہ جو کچھ احباب نے ابھی پیش کیا، جو تقاریر کیں، حقیقی بات یہ ہے کہ میں شرمسار ہوں۔ ایک ایسا ماحول بن چکا ہے، سب لوگ اسی ماحول کے مطابق چلتے ہیں۔ کسی میں کوئی ہمت نہیں ہے۔ جو ایک لگا لگایا ماحول، ایک رسم ہے موجودہ زمانے میں کہ مبالغہ آرائی تعریف میں اور بے شمار باتیں۔ آپ کہیں گے ان سے باتیں بھی کروائیں، اور اب ان کی مذمت بھی کررہا ہے۔ میرے پاس تو کچھ لفظ ہی نہیں ہیں گفتگو کرنے لیے۔ میں بہت شرمسار ہوں۔ میں ان لوگوں کی گفتگو سے بالکل متفق نہیں ہوں۔ اس سے تو بہتر تھا محبت رسول کی باتیں کرتے، آقائے نامدار آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی محبت کی باتیں کرتے، اولیاء ماسلف کی محبت اور عشق کی باتیں کرتے۔ پتہ نہیں کیا کچھ بولتے رہے۔ دل میں آیا کہ میں نہیں بولوں بیٹھا رہوں لیکن پھر وہی کہ کہیں گے کہ بھئی ایک معمول ہے، ایک رسم ہے، چلی آرہی ہے، آج اس طرح کیوں نہیں ہوا؟ کچھ لوگوں کے دل میں افسوس پیدا ہوگا، مایوسی پیدا ہوگی، محض اس وجہ سے خانہ پری کے لیے۔ ورنہ تو حقیقی بات عرض کرتا ہوں، میں اس قابل ہی نہیں رہا اخلاقی طور پر کہ میں ایک لفظ بھی کہہ سکوں۔ اس لیے ہم نے آپ کو یہاں جمع نہیں کیا۔ جو لوگ یہ باتیں کر رہے تھے یہ باتیں تو آپ ہر جگہ سن سکتے ہیں کہ فلاں سے بیٹا ملا، فلاں سے بیٹی ملی اور یہ ملا اور وہ ملا۔ ہم یہاں اس لیے جمع نہیں ہوئے۔

میرے دوستو !میں بہت شرمسار ہوں۔ ہم یہاں اپنے دل کی بستی آباد کرنے کے لیے آئے ہیں۔ دل کی بستی کا جو ہم نے حال بنایا ہے، جس طرح اس کو کھنڈر بنایا ہے، جس طرح اس کو ویران کیا ہے، میں اپنے دل کی بات کرتا ہوں آج اس میں الو بول رہے ہیں، اس میں کچھ باقی نہیں رہا۔

ہم یہاں اپنے دل کی بستی آباد کرنے کے لیے آئے ہیں۔ ذوق دلانے کے لیے دوستوں کو بلاتے ہیں کہ اللہ کا ذوق ہمیں ملے۔ یہ جو ہم وسائل صرف کرتے ہیں اس لیے کرتے ہیں کہ وہ ذوق ہمیں ملے۔ جب تک یہ ذوق نہیں ملے گا تو بارش کیسے برسے گی؟ اس طرح سے کیسے یہ ہمارے ویران دل آباد ہونگے؟ کس طرح یہ بنجر زمین، یہ جو دل، یہ جو گھر، یہ جو بیت ہے یہ کس طرح آباد ہوگا؟

دل گلستاں تھا تو ہر شے سے ٹپکتی تھی بہار
دل بیاباں ہوگیا عالم بیاباں ہوگیا

آج واقعی بیابانی ہے۔ میں اپنے دل کی بات کرتا ہوں، آپ کو اپنے دل کا پتا ہوگا کہ کس حال میں ہے آپ کا دل۔ کوئی ایک زخم تو نہیں ہے میرے اس دل پر جس پر مرہم رکھا جائے۔ یہ غیراللہ کے تعلقات اور دوسری محبتوں اور ان کے ساتھ وابستگیوں میں اس دل کا ایک روئیں روئیں، وہ پورے کا پورا زخمی ہوچکا ہے۔ کیا حال ہوگا اس دل کا میرے دوستو؟ آج آپ دیکھ رہے ہیں یہ پنڈال، یہ بھی کوئی مذاق نہیں ہے کہ اس کو اس طرح بنانا۔ کتنے لوگوں نے اپنا ٹائم اور وقت صرف کیا ہوگا؟ کس طرح انہوں نے انتظامات کیے ہوں گے اور کس طرح انہوں نے پلاننگ کی ہوگی؟ مہینوں اس پر سوچا ہوگا کہ اس پر یہ بھی ہونا چاہیے وہ بھی ہونا چاہیے، تب یہ اس صورت میں آپ کے سامنے بنا۔ انتظامات کتنے بھی کیے گئے وہ ناکافی تھے، نامکمل تھے۔

تو جب اتنے معمولی سے پنڈال کو، اس پنڈال کو چھوڑیے ایک بستی، ایک شہر، ایک گاؤں، ایک دیہات کو آباد کرنے کے لیے کتنا زمانہ درکار ہوتا ہے؟ کتنا ٹائم درکار ہوتا ہے؟ بستیاں بسنے میں بڑی دیر لگاتی ہیں۔ ایسے ہی بستیاں آباد نہیں ہوجاتیں۔ سندھی میں کہتے ہیں کہ صرف باتیں کرنے سے گاؤں نہیں بن جاتے۔ تو یہ دنیا، یہ بستیاں جب آباد ہوتی ہیں اور اتنا ٹائم لیتی ہیں، کیا یہ دل کی بستی ایک منٹ میں آباد ہوجائے گی؟ اس کو ہم سمجھ رہے ہیں یہ کوئی بچوں کا کھیل ہے؟ وہ دل جس کے بار ے میں اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ”میرا گھر ہے“۔ آپ اپنے گھر میں کس طرح صفائی کرتے ہو، کس طرح اس کو اچھا بناتے ہو، کس طرح اس کو سنوارتے ہو، کس طرح اس کو سجاتے ہو، کس طرح اس کو خوبصورت بناتے ہو۔ اور پھر بھی تسلی نہیں ہوتی کہ نہیں میرا گھر ٹھیک نہیں ہے، اس میں اور بھی حسن آنا چاہیے، اس میں اور بھی خوبصورتی ہو، اس میں اور بھی چیزیں آنی چاہییں۔ تو وہ چیزیں نکال کر باہر پھینکی جاتی ہیں، پھر نئی چیزیں۔ پھر بھی تسلی نہیں ہوتی۔ بھئی دنیا کے گھر کو آباد اور خوبصورت بنانے کے لیے اتنی جدوجہد اور اللہ کے گھر کو بنانے کے لیے ہم کیا کررہے ہیں؟ اس کو اور بھی زیادہ غیر آباد کر رہے ہیں۔

یہاں صرف ذکر الٰہی کے لیے ہمارا اجتماع ہوا ہے۔ اس کی یاد کے لیے، اس کی رضا کے لیے۔ میرے آقا و مولا آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کو یہی چیز پسند تھی کہ میں ایسے لوگوں کے ساتھ جاکر بیٹھوں جو اللہ کا ذکر کرتے ہیں، جو خدا کو یاد کرتے ہیں، جو اللہ سے محبت کرتے ہیں اور اللہ ان سے محبت کرتا ہے، اور ان کے ساتھ جاکر بیٹھوں اور ان کے ساتھ جاکر ذکر کروں، صبح کو بھی اور شام کو بھی۔

وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ بِالْغَدٰوۃِ وَالْعَشیِّ

ہمارے مشائخ کہتے ہیں ذکر سب اچھے ہیں، سب بہتر ہیں، سب افضل ہیں، سب اعلیٰ ہیں لیکن ذکر قلبی کی بات ہی نرالی ہے۔ اس ذکر کو پانے کے لیے، اس ذکر کو سیکھنے کے لیے، اس ذکر کو اختیار کرنے کے لیے ہم یہاں جمع ہوئے جس طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

وَلَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَہٗ عَنْ ذِکْرنَا۔

جو میرا نام زبان سے بھی لے رہا ہو اور تم سمجھو کہ ہاں یہ خدا کا ذکر کر رہا ہے، مجھ اللہ کو یاد کررہا ہے، مجھ اللہ سے محبت کرتا ہے اور میں صبح اور شام اس کے ساتھ بسر کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے نہیں نہیں، دیکھنا کہ اس کا دل میری یاد سے غافل تو نہیں؟ زبان سے تو کہہ رہا ہے مگر یہ بات تو نہیں کہ اس کا دل میری یاد سے، اس کا دل میرے ذکر سے غافل ہو؟ پھر اگر یہ بات ہے تو اس کے ساتھ مت بیٹھنا کیونکہ ہر ایک کے ہاتھ میں ہاتھ نہیں دینا ہے۔ مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔

اے بسا ابلیس آدم روئے ہست
پس بہر دستے نباید داد دست

وہ فرماتے ہیں کہ بہت سارے لوگ بظاہر انسانی شکل میں ہیں، لیکن درحقیقت وہ اندرونی خرابیوں کی وجہ سے، اپنی قلبی ویرانیوں کی وجہ سے، بیت اللہ کو، عرش رحمٰن کو یعنی اپنے قلب کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ اس طرح ان پر نفس اور شیطان قابض ہوجاتے ہیں۔ ان کے دلوں میں خواہشات کے جنگل اگ آتے ہیں۔ اس قدر شیطان اور نفس ان پر حاوی ہوجاتے ہیں کہ وہ خود شیطان ہوجاتے ہیں۔ شکل انسانی، صورت انسانی، گفتگو انسانی، رنگ انسانی، لباس انسانی لیکن ان کے اعمال شیطانی ہوتے ہیں۔ لوگوں کے درمیان وہ نیکوکار بن جائیں گے جس طرح ہم بن جاتے ہیں۔ لوگ ان کے ساتھ محبت کریں گے۔ یہ نیک ہیں، یہ پرہیز گار ہیں، یہ ذاکر ہیں۔ لیکن جب ان کے دلوں کو دیکھو گے۔

اَفْرَاَیْتَ مَنِ التَّخَذَ اِ لٰھَہُ ھَوَاہُ۔

انہوں نے اللہ کو نہیں یاد کیا، انہوں نے اللہ کو نہیں پوجا۔ سجدے کیے ہیں لیکن ان کے صرف سر جھکے ہیں، ان کی پیشانیاں جھکی ہیں، ان کے دل نہیں جھکے ہیں۔ اللہ نے ان کو پہچان لیا ہے، ان کے دلوں کو دیکھ لیا ہے۔ وہ ہمیں آگاہ کرتا ہے کہ او کم علم لوگو اور بیوقوف انسانو! بڑے عقلمند بنے پھرتے ہو، ایسے نہ ہو کہ تم بھی اپنا ستیاناس کردو۔ جو بظاہر مجھے پوجتے ہیں، جو بظاہر مجھے یاد کرتے ہیں، لیکن چونکہ ان کے دل غافل ہیں، لیکن چونکہ ان کے دل مردہ ہیں ”ولاتُطِعْ“ ان کی تابعداری مت کرو، ان کے ساتھ بیٹھنا بھی مت۔

تو میں عرض کررہا تھا کہ ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ رحمت کی بارش برسے۔ جس طرح آج ہر طرف پانی پانی کی پکار ہے۔ واقعی مشکلات کا ہم شکار ہوچکے ہیں۔ آج شہروں میں بسنے والے پانی کے لیے پریشان ہیں۔ دیہات والے پہلے نہیں ہوتے تھے، آج وہ بھی پریشان ہیں کہ پانی کی قلت ہے۔ ہم بہت زوردار بیان بھی دیتے ہیں، احتجاج بھی ریکارڈ کرواتے ہیں لیکن ہم نے کبھی یہ سوچا ہے، ضمنًا میں بات کررہا ہوں کہ اس عظیم قربانی کا قدر ہم نے کس قدر کیا ہے؟ آج حقوق انسانی کی بات ہوتی ہے، آج جانور کے حقوق کی بات ہوتی ہے، آج قوموں کے حقوق کی بات ہوتی ہے۔ لیکن میں آپ کو عرض کردیتا ہوں، میرے آقا و مولا آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے جو شریعت اور اسلام میں ہمیں حقوق کا درس دیا ہے، اس میں نے یہ امر فرمایا ہے کہ ہر وہ چیز جو اللہ نے تخلیق کی ہے۔

ھُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَکُمْ مَّا فِیْ الْاَرْضِ جَمِیْعاً۔

اس ذات نے جو کچھ زمینوں میں پیدا کیا ہے وہ تمہارے لیے ہے۔ وہ ایک ایک چیز جس سے تم استفادہ کرتے ہو، جس سے تم نفعہ پاتے ہو، یاد رکھو اس چیز کا حق بھی اللہ نے تم پر عائد کیا ہے۔ جب نعمت کی کثرت ہوتی ہے تو مستی مت کیا کرو۔ ایک اللہ والے کی طواف کرتے ہوئے کسی آمر جابر بادشاہ سے مڈبھیڑ ہوگئی۔ ان کا باہمی ٹکراؤ ہوگیا۔ اس فقیر کا پاؤں اس کے پیر پر آگیا یا اس کے چوغے پر آگیا۔ اس نے فورا سوچا کہ میں حکمران، میں بادشاہ۔ جس طرح میں کہتا ہوں کہ میں پیر، اور لوگ میری تعریف کرتے ہیں کہ بھئی واہ واہ۔ بیڑا غرق ہوگیا۔ لوگ، ساری دنیا میری پیچھے ہو، لیکن میرا مالک مجھ پر اگر راضی نہیں ہے تو میں ان لوگوں کا کیا کروں گا۔ میری تو ذلت اور رسوائی ہے۔ اسی ایک کو راضی کرنا ہے۔ یہی سبق پکانے کے لیے ہم یہاں آتے ہیں۔ بڑی کتابیں، بڑے الفاظ، بڑے دلائل ہم سن چکے اور پڑھ چکے۔ سینہ نہیں کھلا، سینہ بند رہا۔ عشق کے حالات حل نہیں ہوئے، بڑھتے چلے گئے۔ وہی ہماری مشکلاتیں، وہی ہمارے مصائب،  وہی ہمارے آلام۔ صرف اس لیے کہ تم نے دنیا کو اپنا مقصد بنالیا ہے اور اسی کے حصول میں لگے ہوئے ہو۔ جو اصل محبوب ہے وہ تو تمہارے آنکھ سے اوجھل ہوچکا۔ شاہ صاحب کا بیت مجھے بہت پسند آیا تھا، میں نے یاد کیا تھا لیکن میرے ذہن سے نکل گیا ہے۔ تو میں دیکھ کر آپ کو بتارہا ہوں کہ پڑھ پڑھ کر، پڑھ پڑھ کر وہ خود کتاب بن گئے۔ انسانیت ان میں رہی ہی نہیں۔ اللہ نے تو ان کو انسان بنایا تھا جس میں ایک دکھ اور درد کو محسوس کرنے والا دل رکھا تھا، محبت کرنے والا قلب رکھا تھا، جو ڈرتا بھی تھا، جو اللہ سے امید بھی رکھتا تھا، جو لوگوں کا درد بھی محسوس کرتا تھا، جو لوگوں سے پیار بھی کرتا تھا، وہ ختم ہوگیا۔ جیسے جیسے پڑھتے چلے جاتے ہیں دل میں کڑھتے نہیں ہیں، اپنے محبوب کی محبت میں نہیں کڑھتے۔ اس علم کو حاصل کرنے کے بعد افسوس نہیں کرتے، ندامت نہیں کرتے۔ ہم نے عمل کچھ بھی نہیں کیا، اور پڑھنا چاہتے ہیں، اور پڑھنا چاہتے ہیں۔ تو جوں جوں صرف پڑھتے چلے جاتے ہیں، شاہ صاحب فرماتے ہیں اتنے گناہ ان پر اور لگائے جاتے ہیں، لگائے جاتے ہیں۔ خوف ہی نہیں ہے، اللہ کاخوف ہی نہیں ہے۔

تو میں عرض کررہا تھا کہ اس مالک کو ہم بھلا تو نہیں چکے ہیں؟ ”میں وہ میں“ میں پھنس تو نہیں چکے ہیں؟ یہاں اس مقصد کے لیے آئے ہیں، اس غرض و غایت کے لیے آئے ہیں کہ اس ٹوٹے ہوئے رشتے کو ہم دوبارہ جوڑ دیں۔ ہمیں کسی اور دلیل اور حجت کی ضرورت نہیں۔ اے میرے مولا تو ایک ہی میرے لیے کافی ہے۔

الف ہکو ہی بس وے میاں جی
الف کہی دل کس وے میاں جی

اے میرے مولا! تیرا ایک نام میرے لیے کافی ہے۔ میں چاہتا ہوں میں تیری محبت میں فنا ہوجاؤں، تیرے حضور کو پالوں۔ اگر تیرے حضور تک میری رسائی نہیں تو کم ازکم ان لوگوں کے قریب ہوجاؤں جو تجھ سے محبت کرتے ہیں۔ اور اگر ان کے قریب نہیں بھی ہوسکا تو ان کے جوتی بردار کے لسٹ میں ہی میرا نام شامل ہوجائے۔ یہی میرے لیے غنیمت ہے۔ مجھے ضرورت نہیں ہے کسی اور لقب کی، کسی اور فضیلت کی، کسی اور مقام کی۔

تو میرے دوستو! یہی بات میں عرض کررہا تھا کہ بھئی جس مقصد کے لیے آئے ہو، جس غرض کے لیے آئے ہو اس غرض کو اپنے ذہن سے محو مت ہونے دو۔ ایک لمحے کے لیے بھی نہیں۔ بلکہ ہمارا حال وہی ہونا چاہیے، میں مثال دے رہا تھا پانی کی قلت ہوچکی ہے، بیان بازیاں دی جارہی ہیں، میں نے پھر آیت کریمہ تلاوت کی۔

ھُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لکُمْ مَّا فِیْ الْارْضِ جَمِیْعَا

جو کچھ بھی زمین میں تخلیق کیا گیا ہے تیرے لیے، انسان تیرے لیے ہے۔ تو میرے آقا نے فرمایا یہ نعمتیں تیرے لیے ہیں، لیکن یہ نہیں کہ نعمت کو پاؤ، اپنا پیٹ بھرو، پھر اس کو یوں پھینک دو۔ پھر اس کی ناقدری شروع کردو۔ حضور نے فرمایا نہیں، اس پانی کا بھی تیرے اوپر حق ہے۔ میں عرض کروں گا کہ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے ماں باپ کے بھی حق بتائے ہیں، بچوں کے بھی حقوق بتائے ہیں، پڑوسیوں کے بھی حقوق بتائے ہیں اور بڑے تفصیل سے، بہت تفصیل سے، بہت تفصیل سے۔ پڑھ کر دیکھو۔ عبادات تو بہت پڑھی ہونگی آپ نے، کبھی یہ چیزیں بھی پڑھ کر دیکھو۔ حضور نے پڑوسیوں کے حقوق بتائے ہیں، یتیموں کے حقوق بھی بتائے ہیں، بیواؤں کے حقوق بھی بتائے ہیں بلکہ خود عمل کرکے دکھایا ہے۔ جو محبت، جو شفقت، جو رفعت، جو رحمت آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کے سینے میں اللہ کی جمیع مخلوق کے لیے تھی اس کا مثال ہمیں نہیں ملتا۔ تاریخ کو کھنگال کے دیکھ لیں نہیں ملے گی، بلکہ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کے ساتھ انسانیت کے حقوق بھی بتائے ہیں کہ اگرچہ وہ غیر مسلم ہوں، بلکہ وہ چیزیں جن کا ہم اپنے اوپر کوئی حق نہیں سمجھتے جیسے کہ پانی۔ اس کا بھی ہمیں حق بتایا ہے، اس کا بھی تیرے اوپر حق ہے۔ کبھی سوچا ہوگا ہم نے؟ جو روٹی لے رہے ہیں اس کا بھی ہم پر حق ہے، جو پانی لے رہے ہیں اس کا بھی حق ہے ہم پر۔ جانوروں کے بھی حقوق ہمیں حضور نے بتائے ہیں۔

ایک سفر کے موقع پر کچھ صحابہ میرے آقا کے ساتھ ہیں۔ وہ سفر کے دوران ایک منزل پر پڑاؤ ڈالتے ہیں۔ صحابہ رہائش کی جگہوں کو تیار کرنے میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ کچھ صحابہ کھانے پینے کے بندوبست میں شامل ہوجاتے ہیں، وہ چولھا جلاتے ہیں۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم جب وہاں پہنچتے ہیں، نظر آرہا ہے آپ کو کہ چیونٹیوں کا ایک بل ہے جہاں سے وہ اندر جارہی ہیں اور باہر نکل رہی ہیں اور اس آگ کے چولھے کے قریب ہیں۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فوراً آگ بجھاؤ، آگ بجھاؤ، آگ بجھاؤ۔ تین مرتبہ فرمایا۔ صحابی حیران رہ گیا۔ ”حضور کیوں کیا غلطی ہوئی؟“ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یہاں چیونٹیوں کا بل ہے، ان کو تکلیف مت پہنچاؤ، ان میں سے کوئی جل نہ جائے، کسی کو تکلیف نہ آئے۔ یہاں سے اٹھو کہیں اور آگ جاکے جلاؤ“۔ تو یہ میرے آقا کی محبت تھی جانوروں کے ساتھ۔ ایک مرتبہ صحابہ کی معیت میں کہیں تشریف لے جارہے ہیں۔ حالانکہ مجھے تو پہلے والدین کے حقوق بتانے چاہییں، پھر مجھے بتانا چاہیے تھا کہ والدین کے، بچوں کے کیا حقوق ہیں۔ پھر مجھے بتانا چاہیے تھا کہ زوجین کے باہمی حقوق کیا ہوتے ہیں۔ یہ لمبی بات ہوجائے گی، تو میں نے جانوروں کے حوالے سے بات کی ہے۔ ہم تو کچھ پرواہ نہیں کرتے۔ گھر میں گدھا کھڑا ہوا ہے، بھوکا ہے، پیاسا ہے، میری بلا سے۔ کچھ پرواہ نہیں ہے۔ مرغیاں ہیں گھر میں، ان کی کچھ پرواہ نہیں۔ پرندے پال رکھے ہیں ان کی کچھ پرواہ نہیں۔ لیکن آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جو درس دیا ہے وہ سوچنے اور عمل کرنے کے قابل ہے۔ سفر میں تشریف لے گئے۔ کسی پرندے کے چھوٹے سے ننھے منے سے وہ پیارے بچے وہ کسی صحابی کو پسند آئے۔ وہ ہاتھ میں پکڑ کر لائے۔

مجھے بھی بڑے پسند ہوتے ہیں مرغیوں کے چوزے۔ چھوٹے چھوٹے بہت پیارے لگتے ہیں۔ مجھے یاد ہے میں بالکل چھوٹا تھا تو ہم نے ایک مرغی رکھی۔ اس کو ہم نے شوق سے انڈوں پر بٹھایا۔ جب اس کے چوزے نکل آئے تو اس مرغی کی بچوں سے محبت، بچوں کی مرغی سے محبت، یہ مجھے اتنا پیارا رشتہ لگتا تھا، اتنا پیارا کہ آج تک میں دیکھتا ہوں تو میں کھوجاتا ہوں۔ کیا ان جانوروں میں پیار اور محبت ہے۔ انسان تو بھیڑیا بن چکا ہے۔ کیا نہیں ہورہا ہے ہمارے معاشرے میں۔ تو میں گھنٹوں بیٹھ کر ان کو دیکھتا تھا، خصوصاً وہ شام کا ٹائم، اندھیرا پھیلنے کا وقت، سردی کا موسم، ٹھنڈی ہوائیں، چھوٹے چھوٹے بچے اپنی ماؤں کو یاد آتے ہیں۔ اس بے زبان مرغی کو اپنے چھوٹے چھوٹے چوزے یاد آتے ہیں۔ وہ اپنے پروں کو یوں پھیلادیتی ہے، وہ اس کے پروں میں گھس جاتے ہیں۔ سبحان اللہ!کیا نظارہ ہوتا ہے۔ کس نے اس کے دل میں یہ محبت ڈالی؟ کوئی کتاب پڑھا ہے انہوں نے؟ کہاں سے پیار سیکھا ہے؟ واللہ میری آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں جب یہ نظارا میں دیکھتا ہوں۔ جب ہمیں اللہ نے نصیب کیا کہ خانہ کعبہ میں پہنچے۔ دوست میرے ساتھ تھے۔ جو میرے ہم سفرتھے وہ موجود ہیں، یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔ ہم رکن یمانی کی طرف سے مطاف میں بیٹھے ہوئے تھے۔ رمضان شریف کے دن تھے۔ گرمی کا موسم نہیں تھا۔ خانہ کعبہ کا سایہ سورج غروب ہونے کی وجہ سے آہستہ آہستہ آگے ڈھل رہا تھا۔ تو ایسا انعام اور احسان ہوا کہ وہ آہستہ آہستہ آگے بڑھتے بڑھتے، وہ سایہ ہمارے اوپر بھی آگیا۔ تو میرے ساتھ جو دوست بیٹھے ہوئے تھے میں نے کہا یہ رحمت الٰہی ہے۔ دیکھو جس طرح وہ مرغیاں اپنے چھوٹے چھوٹے چوزوں کو اپنے پروں میں میں چھپالیتی ہیں، اللہ کی رحمت نے آج ہمیں اپنے پروں میں چھپالیا ہے۔ کتنے خوش قسمت ہیں ہم۔ مجھے وہی تحفظ محسوس ہورہا تھا جو ایک چھوٹا چوزہ، ایک بے زبان، بے سمجھ مرغی کے پروں میں محسوس کرتا ہے، اس میں چھپ جاتا ہے۔ تو میں وہی تحفظ وہاں محسوس کررہا تھا۔ وہ رحمت الٰہی کی کرنیں، وہ احساس دل میں آرہا تھا۔ آنکھوں سے آنسو رواں تھے اور ایک عجیب سرور مل رہا تھا۔ تو وہ محبت اللہ تعالیٰ کی جو بندوں کے ساتھ ہے جب میں مرغی کو دیکھتا ہوں تو اس کا جلوہ نظر آتا ہے۔

اے میرے مولا ہم بھی گنہگار ہیں، ہم بھی نفس اور شیطان کے مارے ہوئے ہیں، ہم نے بھی اپنے اوپر ظلم کیا ہے، اپنے پیروں پر ہم نے خود کلہاڑی ماری ہے، تیری حدود کو توڑا ہے، تیرے حقوق کا خیال نہیں کیا، بندوں کے حقوق کا خیال نہیں کیا۔ لیکن یا رب العالمین! کیا اس طرح ہمارے لیے بھی ہوسکتا ہے جس طرح شام کو وہ مرغی اپنے چوزوں کو چھپالیتی ہے۔ تیری رحمت تو بہت بڑی ہے۔

دوستاں را کجا کنی محروم
تو کہ با دشمناں نظر داری

تو تو اپنے دشمنوں کو بھی رحمت میں ڈال دیتا ہے۔ ویسے ہمارا حال تو وہی ہے جو حضرت بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا۔ وہ اشعار عجیب ہیں کہ میں اپنے آپ کو کس طرح پاتا ہوں۔ وہ اپنی کیفیت کو بیان کرتے ہیں۔

نہ در اسلام شایانم نہ در کفار یا اللہ

میرا حال تو ویسا ہوچکا ہے کہ مسلمانوں میں جاتا ہوں وہاں بھی میں اپنے آپ کو گنہگار پاتا ہوں، وہاں سے بھاگ جاتا ہوں۔ نہ میں کفار میں، نہ میں مسلمانوں میں۔ یعنی کہ اپنے اعمال کی نفی کرتے ہیں، اپنی انکساری کا اظہار کرتے ہیں، اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ اے میرے مولا میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔

تو میں یہ آپ کو عرض کررہا تھا کہ وہ نعمتیں اللہ تعالیٰ کی ہوتی ہیں، ان کا حق ہمارے اوپر ہوتا ہے۔ یہ ایک سبق ہے۔ ہم سب کو یہ بھی حضور نے بتایا۔ یہ ہمیں اولیاء کاملین واصلین باللہ نے محبت اور عشق سے بتایا ہے۔ جس طرح میرے شیخ فرماتے تھے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے پانی لیا اور اس نے دو گھونٹ لیے اور باقی سارا پانی یوں زمین پر گرادیا۔ وہاں جو بندہ خداوند، اللہ والے، محبت کے متوالے وہاں کھڑے تھے، انہوں نے یہ منظر دیکھا، بے ہوش ہوکر گر پڑے۔ لوگوں نے سوچا کہ حضرت کو کیا ہوا۔ کوئی ان کے ہاتھوں کو ملنے لگا، کوئی ان کے پاؤں کو ملنے لگا، کسی نے کچھ حیلہ کیا، کسی نے کچھ حیلہ کیا۔ کافی وقت کے بعد جب وہ ہوش میں آئے تو دوستوں نے عرض کیا کہ حضرت کس چیز نے آپ کو اس قدر مدہوش کیا؟ آپ کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور آپ نے روتے ہوئے فرمایا کہ اس بندے کو میں نے دیکھا، پانی گلاس میں لیا، دو گھونٹ پیے باقی پورا گلاس اس نے زمین پہ گرادیا۔ میں نے سوچا یہ کتنی بڑی نعمت ہے اور اس پانی کا اللہ نے ہم پر حق رکھا ہے۔ جس طرح یہ اس کو ضائع کررہا ہے اگر اللہ کو غیرت آجائے اور پانی سے ہمیں محروم کردے تو ہمارا کیا حال ہوگا۔ ہے ہمیں اس نعمت کا قدر؟ یہ ہوا جس میں سب سانس لے رہے ہیں کس قدر ضروری ہے، کتنی انمول ہے۔ ہے ہمیں اس کا قدر؟ کس نے دیا ہمیں یہ سورج جو نکل آتا ہے تمہاری روشنی کے لیے، کس نے دیا ہے یہ؟ جب بھی سورج نکلتا ہے واللہ اس نظر سے دیکھو یہ اللہ کی محبت کا پیغام لے کر آیا ہے اس کے بندوں کے لیے کہ سورج بھی تیرے لیے حاضر ہے۔ لو یہ ہوا بھی میرے بندو تمہارے لیے حاضر ہے۔ لو یہ پانی بھی تمہارے لیے حاضر ہے۔ لیکن ہم کیا کررہے ہیں؟ حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی رحمۃ اللہ علیہ کا مشہور شعر ہے۔ جب آپ جارہے تھے حج کے لیے۔ اس واقعے کو شعروں میں بیان کیا ہے۔ وہ شعر تو مجھے یاد نہیں آرہا ہے تو ان کو پیاس لگی۔ ایک چھوٹی سی ندی کے کنارے آپ نے پانی پیا، منہ دھویا اور بیٹھ گئے۔ اتنے میں دیکھا دور سے بکریاں دوڑتی ہوئی آئیں۔ بہت پیاسی تھیں۔ پانی کو دیکھا ان کا ہوش جاتا رہا۔ جاکر پانی پر ڈھے گئیں، گھٹنوں کے بل گر گئیں اور بڑی تیزی سے وہ پانی کو پینے لگیں۔ جب وہ پانی پی کر فارغ ہوئیں، ان کی پیاس ختم ہوئی، ہوش بحال ہوا، بڑے مزے سے وہاں کھڑے ہوکر جگالی کرنے لگیں اور وہیں پر مینگنیاں گرانے لگیں اور اسی پانی میں پیشاب کرنے لگیں۔ شاہ صاحب کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اللہ والوں کی رمز کچھ اور ہوتی ہے۔ ہم تو ظاہر پرست ہیں۔ سندھی میں کہتے ہیں کیا دال کیا بسم اللہ۔ جس طرح کہ اردو میں کہتے ہیں حلوا کھانے کے لیے منہ چاہیے۔ ہمارا نہ منہ نہ شکل اور چلے ہیں عاشق بننے۔ شاہ صاحب کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ کہنے لگے اے میرے پروردگار کیا نظارا تونے مجھے دکھایا۔ بکریاں پیاسی تھیں، پانی کے لیے مر رہی تھیں۔ پیٹ بھر گیا تو پانی کی بے قدری شروع کردی۔ اے عبداللطیف تو بھی مکہ مدینہ جارہا ہے۔ وہاں حاضری تو دے گا، یہ تو نہیں کہ دیکھنے کے بعد تمہارا بھی پیٹ بھر جائے اور وہیں پر تم بھی بے ادبی شروع کردو۔ پھر انہوں نے کہا اے میرے حبیب، اے میرے محبوب میں تمہیں ڈھونڈتا ہی رہوں، ڈھونڈتا ہی رہوں، ڈھونڈتا ہی رہوں، کبھی بھی نہ پاؤں۔ یہ کیفیت ہے ان اللہ والوں کی کہ جو میری تمنا ہے، میرا جذبہ ہے، میرا شوق ہے، میری پیاس کی شدت ہے، اے میرے مولا ایسے نہ ہو کہ میں حبیب کے قدموں میں پہنچوں اور وہ میری پیاس کم ہوجائے۔ اس کو بھی میں بے ادبی سمجھتا ہوں۔ تو میں عرض کر رہا تھا کہ بھائی یہ پیاس بنیاد ہے۔ یہ پیاس، یہ شدت پیاس، یہ طلب، یہ جستجو بنیاد ہے۔ کیا کہا گیا ہے۔

در طلب مردن شرط است

یہ نہیں کہا گیا کہ پہنچ گئے تو تم کامل ہوگئے اور اب تم سب پاگئے۔ جو کوئی بھی ہمیشہ اپنے دل میں طلب کو محسوس کرے مرتے دم تک تبھی کامیابی ممکن ہے۔ اگر یہ طلب جس کی طرف شاہ صاحب نے اشارہ کیا ہے، یہ کم ہوگئی تو پھر ناکامی اور نامرادی مل سکتی ہے۔ تو یہ طلب، یہ جستجو، جس طرح کسی شاعر کا شعر ہے

یابم یا نیابم آرزوئے مے کنم

اے میرے مولا میں تمہیں پاسکوں یا نہ پاسکوں، تمہارے حضور میں پہنچ سکوں یا نہ پہنچ سکوں، آرزو کرتا ہوں، آرزو کرتا ہوں۔ سبحان اللہ

حاصل آید یا نہ آید جستجوئے مے کنم

کچھ ملے یا نہ ملے جستجو تو میری قائم ہے۔ بس مجھے اسی جستجو میں ہی رکھیو، اسی طلب میں ہی رکھیو، اسی شوق میں ہی رکھیو۔ کبھی میرا شوق، کبھی میرا یہ عشق، کبھی میرا یہ جذبہ کم نہ ہونے پائے۔ اس میں اضافہ ہو، اس میں ترقی ہو۔ اسی طرف اللہ نے اشارہ فرمایا

یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوْنَ اِلَّا مَنْ اَتَی اﷲ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ۔

نہیں نفع دے گا مال۔ ہمیں مال پر بہت اعتماد ہے۔ نفع نہیں دے گی تمہیں تمہاری اولاد۔ بہت پیاری ہے تجھے اولاد۔ قریش میں یہ رواج تھا کہ جس کے پاس مال زیادہ ہو اور اولاد زیادہ ہو تو وہ اپنے آپ کو سرداری کے قابل سمجھتا تھا کہ ہاں میں سردار بننے کے قابل ہوں ۔کیونکہ میری اولاد بھی ہے اور میرے پاس مال بھی ہے۔ آج بھی ویسا ہی ماحول ہے ہمارے دیہات میں کہ جس کے بیٹے زیادہ ہوتے ہیں۔ بھلے ان کو تعلیم نہیں دی، ان کی تربیت نہیں کی، ان کو کچھ اخلاق نہیں سکھایا، نہ ان کو کوئی سلیقہ، نہ کوئی ادب نہ آداب سکھایا لیکن پھر بھی وہ زیادہ بیٹے ہونے پر فخر کرتا پھرتا ہے۔

تو جو کچھ اللہ نے نعمتیں تخلیق کی ہیں اس کا ہم پر حق رکھا ہے۔ وہ حق کیا ہے کہ اس نعمت کی جو بنیادی افادیت ہے، جس طرح پانی ہے، اس کی بنیادی افادیت کیا ہے کہ پیاس بجھائے۔ اس کی بنیادی افادیت کیا ہے؟ کھیت کو سرسبز و شاداب بنانا۔ اس کی بنیادی افادیت کیا ہے؟ پاک بنانا، جسم کو صاف بنانا۔ اب ہمارے اوپر اس پانی کا حق ہے کہ اس کی بنیادی افادیت کو خراب مت کریں۔ یورپ والے آج ہمیں سکھاتے ہیں۔ بھئی ہمیں تو پہلے ہی کالی کملی والے نے، ہمارے آقا نے سکھادیا۔ لیکن آج ہمیں شوق ہی نہیں ہے ان باتوں کو پڑھنے کا، کرامتیں پڑھنے کا بہت شوق ہوتا ہے۔ بے شک اللہ والوں کی کرامتیں برحق ہیں اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ لیکن موجودہ زمانے میں جو بات اسلام نے ہمیں سکھائی تھی وہ کوئی اور سکھانے آجائے اور ہمیں یہ طعنہ دے کہ تمہارا دین تو کچھ بھی نہیں، تمہارے مذہب میں تو کچھ بھی نہیں، شریعت میں تو کچھ بھی نہیں۔ چند عبادات ہیں۔ تو اس لیے ہمیں ان سب باتوں کو سمجھنا چاہیے اور صرف پڑھنا کافی نہیں ہوتا بلکہ عمل سے اوروں کے سامنے ثابت کریں کہ ہاں اگر پانی ہے تو اس کا بھی ہم پر حق ہے اور اس کی حق ادائیگی ہم کر رہے ہیں۔ اس طرح سے دیگر نعمتیں مثلاً ہوا ہے۔ میں اگر تفصیل میں جاؤں گا تو آپ کہیں گے یہ کیا باتیں اس نے اخبار والی بیان کرنا شروع کردی ہیں۔ یہ باتیں اکثر لوگوں کے سروں کے اوپر سے گذر جاتی ہیں۔ میں یہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کے حوالے سے کہہ رہا ہوں کہ اس ہوا کی بنیادی افادیت کیا ہے کہ ہم سانس لیں اور یہ ہوا ہمارے پھیپھڑوں کو تازہ دم بنائے، ہمارے خون کو صاف بنائے، ہماری قوت کو بحال کرے۔ اس ہوا کا کیا فائدہ ہے؟ جب چلے تو ہمارے پسینے کو خشک کرے، ہمارے جسم کو فرحت بخشے۔ اس ہوا کا بنیادی فائدہ کیا ہے؟ جب کسی خاص موسم میں چلے تو ہمارے کھیتوں کو تیار کرے۔ وہ پک کر تیار ہوجائیں۔ کیا کیا باتیں بتائیں، کیا باتیں بتائیں۔ سبحان اللہ کیا نعمتیں ہیں اللہ تعالیٰ کی۔ اب ہمارے اوپر یہ حق ہے کہ ان کی بنیادی افادیت کو خراب مت کریں۔ یہ حضور صلّی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھایا ہے مگر کیا ہم کرتے ہیں خیال؟ اس ابتلاء، اس آزمائش کے آنے کی بہت ساری وجوہات ہیں۔ ان میں ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نعمت الٰہی کی ناقدری ہم نے انتہا تک پہنچادی۔ ہم کہیں گے کہ بھئی تسبیح پڑھ رہا ہوں۔ ہم کہیں گے نماز میں پڑھ رہا ہوں، عمرے پر گیا تھا۔ ماں باپ کو حرام ہو جو ایک پیسہ بھی دے، عمرے کا بڑا شوق ہے۔ میں منع نہیں کررہا ہوں عمرے سے، لیکن ارشاد ربانی کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ کیا فرماتا ہے اگر تمہارے پاس ملکیت اور مال ہے تو اس کو خرچ کس طرح کرنا ہے۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

قُلْ مَا اَنْفَقْتُمْ مِنْ خَیْرٍ فَلِلْوَالِدیْنِ وَالْاَقْرَبِیْنَ

اگر تم کوئی چیز، فائدہ مند چیز، نفعہ پہنچانے والی چیز خرچ کرنا چاہتے ہو تو پھر یہ خرچ کرو تم اپنے والدین پر۔ تو پھر یہ خرچ کرو تم اپنے عزیزوں پر، قریبوں پر۔ میں نہیں کہہ رہا ہوں مالک مختار کہہ رہا ہے۔ ہمیں تو مزہ نہیں آئے گا۔ عمرے پر جائیں گے تو بھئی سب کو پتا چلے گا، اخبار میں خبر لگے گی فلاں صاحب حج و عمرہ کرکے آگئے ہیں۔ بھئی گئے تو تھے مگر کیا واقعی تمہارا جانا محبوب کی خدمت میں پسندیدہ بھی تھا؟ کیونکہ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم جہاد پر تشریف لے جارہے ہیں۔ صحابہ جارہے ہیں۔ ایک آکر کہتا ہے حضور میں بھی ساتھ چلنا چاہتا ہوں۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے اس کو فرمایا کیا تمہارے والدین زندہ ہیں؟ اس نے کہا جی ہاں۔ حضور نے فرمایا جاؤ جاکر ان کی خدمت کرو تمہارا جہاد یہی ہے۔ یہاں تک کہ جن مجاہدین کو والدین کی اجازت نہیں ہوتی تھی تو حضور صلّی اللہ علیہ وسلم کی بھی اجازت نہیں ہوتی تھی کہ تم جہاد پر چلو۔

میرے دوستو! یہ صرف اپنے خیال پر چلنے والی بات نہیں ہونی چاہیے کہ جو مجھے پسند آئے گا وہ میں قبول کروں گا۔ اس طرح دیگر مذاہب کے لوگ کرتے تھے۔ جو چیز ان کو پسند آتی تھی ان کو اختیار کرلیتے تھے اور جو چیز ان کے نفس کے خلاف ہوتی تھی اس کو رد کرتے تھے۔ ہم بھی خیرات کریں گے اپنے دوستوں پر۔ ریستوران میں بڑا کھانا کھلائیںگے۔ خیرات کریں گے ہم اپنے خوشامدیوں پر تاکہ وہ کہیں کہ واہ واہ یہ سخی ہے۔ بڑے بیوقوف ہیں۔ بڑے احمق ہیں۔ یہ حضور کی تعلیم نہیں ہے۔ خوشامد کرنے والے کے متعلق آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ اس کو کہو کہ تمہارے منہ میں دھول۔ اس خوش آمد کرنے والوں نے اس ملک کو یہاں تک پہنچایا ہے۔ یہ جو آج مشکلاتیں، دقتیں نظر آرہی ہیں یہ انہیں خوش آمدیوں کا نتیجہ ہے۔ جب بھی تمہارے اردگرد خوش آمد کرنے والے جمع ہوجائیں سمجھو بیڑا غرق ہوگیا۔ بھئی یہ تو بڑا پیر ہے۔ اس کی تو بڑی کرامتیں ہیں۔ اتنی کسی کی جماعت نہیں ہے۔ تباہی و بربادی کے سوا کچھ بھی نہیں۔ بھئی یہ جو ساری جدوجہد پوری زندگی میں اس لیے کررہے ہیں کہ وہ مالک ہم پر راضی ہوجائے۔ بھئی یہ ڈھنگ سیکھنے کے لیے ہم یہاں آئے ہیں۔ اللہ والوں کے پاس اسی لیے جایا جاتا ہے۔ بیشک یہ تسلیم کرتے ہیں کہ دعا قضا کو رد کرتی ہے کیونکہ میرے آقا صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔ ہم مانتے ہیں لیکن یہ خدا کی مشیت سے ہوتا ہے۔ اگر سنے تو بھی اس کی مرضی اگر نہ سنے تو بھی اس کی مرضی۔ ہم تو اس کی ملکیت ہیں۔ ہم یہاں یہ بھی سیکھنے آئے ہیں کہ عبدیت کا مفہوم کیا ہے؟ وہ ہمارا مالک ہے۔ کہے گا اٹھو اٹھ جائیں گے۔ کہے بیٹھو بیٹھ جائیں گے۔ کہے کہ تم سوجاؤ ہم سوجائیں گے۔ بھئی یہ بات ایک دن میں سمجھ میں نہیں آتی۔ میں نے پہلے کہا تھا کہ دل کی بستی آباد کرنی ہے۔ اس پنڈال کو تعمیر کرانے میں بنانے میں بڑے دن لگے ہونگے۔ بستی کو بنانے میں بھی بڑے دن لگتے ہیں۔ کسی کراچی جیسے شہر کو آباد کرنے میں کتنا عرصہ، کتنے سال بلکہ کہا جائے صدی درکار ہے تو دل کی بستی آباد کرنا اس سے بھی مشکل ہے۔ یہ تب آباد ہوتی ہے کہ جب تم اس جدوجہد میں، اس فکر میں، اس کوشش میں لگے رہو۔ تمہیں فکر ہو اس بستی کو آباد کرنے کا، تمہیں فکر ہو اس کو سجانے کا۔ کیوں میں زور دے رہا ہوں؟ کیونکہ میرے رب نے فرمایا

یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوْنَ اِلَّا مَنْ اَتَی اﷲَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ۔

نفع نہیں دے گا مال، نفع نہیں دے گی اولاد۔ بلکہ سجا ہوا دل، سلیم، سنورا ہوا دل چاہیے، اور پھر یہ بھی ہو کہ خدا تعالیٰ کیسی سنوار چاہتا ہے۔ اس کی پسند تو دیکھو۔ میں اپنی بیوی کی پسند کو دیکھوں گا، اپنے بیٹوں کی پسند دیکھوں گا، دوستوں کی پسند دیکھوں گا۔ بھئی اس طرح مالک کی سجاوٹ کا معیار کیا ہے وہ تو میں نہیں جان سکتا۔ اب جاننا یہ ہے کہ اس کی سجاوٹ کا معیار کیا ہے؟ کس قسم کی سجاوٹ مطلوب ہے؟ تو جو اس کا معیار ہے، جو اس کو سجاوٹ مطلوب ہے اس کو جاننے کے لیے اللہ والوں کے پاس جاتے ہیں۔ لیکن ہم یہاں یہ بھی سیکھنے آئے ہیں کہ اللہ والوں کے پاس کس نیت سے، کس لیے جانا چاہیے۔ بھئی آج ہمارا وہ حال ہوچکا ہے اگر کوئی پیر صحیح راستے پر چلنا بھی چاہے تو ہم جو مرید ہوتے ہیں اسے غلط راستے پر لے آتے ہیں۔ زبردستی پیسے دے کر، اس کو بے شمار غلط روایتوں میں پھنسا کر اس کو راستے سے ہٹادیتے ہیں۔ وہ جس طرح کہتے ہیں کہ ڈبہ پیر۔ تو ہم یہ معتقدین ہی ہوتے ہیں جو اچھے بھلوں کا خانہ خراب کردیتے ہیں۔ ایک مثال مشہور ہے ایک کوے کو ماوے کا چھوٹا ذرہ مل گیا تھا۔ وہ اسے چونچ میں لے کر درخت پر بیٹھ گیا اور وہ ماوے کو کھانے لگا۔ بڑا مزیدار تھا۔ گیدڑ وہاں سے گذر رہا تھا۔ اس نے سوچا واہ واہ اس کوے کے تو مزے ہوگئے کہ اس کے پاس ماوا ہے۔ ہم تو ماوا کہتے ہیں۔ اردو میں شاید کھویا کہتے ہیں۔ تو وہ کھویا اس کے منہ میں ہے۔ یہ دیکھ کر اس گیدڑ کے منہ میں پانی بھر آیا، وہ نیچے بیٹھ کر سوچ سوچنے لگا کہ یہ کیسے کھویا حاصل کیا جائے؟ سوچ کر اس کو کہنے لگا ماشاء اللہ نام تو کوے کا سنا تھا آج دیکھنے کو ملا ہے۔ تعریف تو بڑی سنی تھی لیکن آج نظارہ ہوا ہے۔ کیا حسن ہے۔ کیا خوبصورتی ہے۔ر نگ تو دیکھو سیاہ۔ واہ واہ کیا حسین خوبصورت کلر ہے۔ کوا بھی اپنے اندر سوچنے لگا کہ واقعی میں کچھ ہوں تو وہ بھی خوش ہوکر پھیلنے لگا۔ اس نے کہا واہ واہ صورت بھی دیکھ لی اب پر بھی دیکھ لیں، ذرا پروں کو تو پھیلاؤ۔ اس نے پر کھول کر پھڑ پھڑائے۔ گیدڑ کہنے لگا واہ واہ کتنے حسین پر ہیں۔ یہاں تو کسی اور پرندہ کا مقابلہ ہی نہیں ہے۔ پھر اس نے کہا پر بھی دیکھ لیے، چونچ بھی بڑی خوبصورت ہے لیکن میٹھا میٹھا آواز نہیں سنا۔ آج میٹھا آواز سننے کو ملے تو ٹھنڈ پڑ جائے گی۔ کوا تو پہلے ہی اس کی تعریف میں آچکا تھا، جس طرح ہم پیر آجاتے ہیں۔ کوئی کچھ تعریفیں کررہا ہے، کوئی کچھ تعریفیں کررہا ہے۔ تو اس کوے نے بھی اپنی چونچ کھول کے کائیں کائیں کی آواز نکالی۔ اب کوے کی آواز کیا ہوتی ہے؟ دماغ کو خراب کردیتی ہے۔ اس میں کیا حسن ہوگا؟ جیسے ہی چونچ اس نے کھولی تو کھویا نیچے گر پڑا اور وہ خوش ہوکر زیادہ کائیں کائیں کرنے لگا۔ گیدڑ نے وہ کھویا لیا اور چلتا بنا۔ اس نے سوچا وہ گیدڑ کہاں جارہا ہے۔ ابھی تو میں نے ایک قرات سنائی ہے پانچ قراتیں تو پیچھے ہیں۔ تو گیدڑ نے کہا کہ بھئی مجھے تمہاری آواز کے ساتھ کوئی کام نہیں تھا۔ مجھے کام کی چیز مل گئی مہربانی، اور وہ چلتا بنا۔ تو بھئی ایسے ہی ہوتا ہے۔ جو تھوڑی بہت نیکی ہوتی ہے معمولی سی، وہ بھی اس طرح مریدین چھین لیتے ہیں۔ وہ کہیں گے کہ تمہاری دعا سے یہ ہوگیا، اب دعا سے یہ کردو جس طرح وہ ڈبہ رکھتے ہیں اور اس میں فرمائشیں ڈالتے ہیں۔ یہ فرمائش پوری ہو، یہ فرمائش پوری ہو، پھر وہ پیر بھی فرمائش گاہ بن جاتا ہے۔ پھر وہ اصل جو بڑا ہوتا ہے اس کو بھول جاتا ہے پھر ”میں وہ میں“ ہوجاتا ہے۔

تو میں عرض کررہا تھا کہ سجا ہوا دل اللہ کی بارگاہ میں کام آئے گا۔ وہ سجاوٹ ہمیں یہاں سیکھنی ہے۔ اس دل کو سجانا ہے۔ اس کو پہلے تو گندگی سے، خرابیوں سے خالی کرنا ہے۔ جیسے ہم جب گھر لیتے ہیں، خریدتے ہیں تو اس میں سینکڑوں خرابیاں ہوتی ہیں۔ گردوغبار ہوتا ہے، مٹی اور دھول ہوتی ہے، اس میں جھاڑیاں اُگی ہوتی ہیں، اس میں ٹوٹا پھوٹا فرنیچر ہوتا ہے، رنگ خراب ہوچکا ہوتا ہے، دروازے ٹوٹ چکے ہوتے ہیں، کھڑکیاں ٹوٹی ہوئی ہوتی ہیں، اس کا کوئی بورڈ وغیرہ سلامت نہیں، نہ لائیٹنگ کا کوئی سسٹم ہوتا ہے۔ من جملہ سینکڑوں خرابیاں ہوتی ہیں۔ تو پہلے یہ سب مٹی، گردو غبار سے اٹی ہوئی چیزیں سب نکالی جاتی ہیں، پھر اسکی سجاوٹ کی باری آتی ہے، پھر آہستہ آہستہ گھر کو سجایا جاتا ہے۔ اس طرح پہلے تو کرینگے اس دل کو خرابیوں سے آزاد۔ سب سے بڑی خرابی غیراللہ کی محبت ہے، دنیا کی محبت ہے۔ ہے ہمت کہ ہم اس دنیا کی محبت کو اپنے دل سے آزاد کریں؟ یہ کہنا آسان ہے، کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔ جو باتیں اس ناچیز گنہگار کے دل میں ہیں وہ میں آپ کو عرض کررہا ہوں۔ آپ چاہیں گے ہم ملیں اور کچھ کہیں کہ وہ بھی بات، وہ بھی بات۔ بھئی مجھے فائدہ اس بات میں نظر آرہا ہے کہ جو میں ابھی آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں۔

تو میرے دوستو یہ بات کہ دنیا کی محبت سے دل کو آزاد کرالینا، یہ کہنا آسان ہے مگر یہ کرنے کے لیے صبر چاہیے، استقامت چاہیے۔ الاستقامۃ فوق الکرامۃ۔ کرامت سے بڑھ کر ہے استقامت۔ اسی لیے تو کہا گیا ہے ہما شما کی بات نہیں۔ محبوب الٰہی حقیقی کی رضا اور خوشنودی کا طالب چاہیے۔ جو اس کے نام پر خوش ہوجاتا ہو۔ وہ کہتے ہیں کہ مجنوں کے سامنے کوئی گذر رہا تھاکہ اس کو خاک سے بھرا ہوا دیکھا۔ پھٹا ہوا گریبان، گرد و غبار سے اٹے ہوئے بڑے بڑے بال، تو اس نے کہا جس طرح کہ شاعر نے بیان کیا ہے۔

یکے پرسی ز از مجنون غمگیں
ز لیلیٰ تو چہ می خواہی اے مسکیں

توکیا ہوگیا ہے؟ غریب ہوگئے ہو، مسکین ہوگئے ہو۔ تم بڑے امیر کے بیٹے ہو، بڑے صاحب عقل ہو، صاحب حیثیت ہو۔ تو مجنوں تو فدا تھا، محبت میں فنا تھا، اپنے یار کی رضا کا جویا تھا، اس کے علاوہ اس کو کچھ نظر ہی نہیں آتا تھا۔ تو مجنوں نے لیلیٰ کا نام سنا، اس کی ہمت جواب دے گئی اور لیلیٰ کا نام سنتے ہی بے ہوش ہوکر گر پڑا۔ ہم اللہ کا نام سنتے ہیں ہمارے روئیں بھی نہیں اٹھتے۔ ہمارے روئیں میں کوئی حرارت نہیں آتی اور مجنوں نے لیلیٰ کا نام سنا بے ہوش ہوگیا!

تو از من چند معنیٰ جوئے باشی
ترا ایں بس کہ لیلیٰ گوئے باشی

تو مجھ سے پوچھتا ہے کہ لیلیٰ کیا ہے؟ میں کہتا ہوں محبت سے لیلیٰ کہہ کر تو دیکھو۔ یہی تمہارے لیے کافی ہے۔ ایسے اللہ اللہ آپ نے کیا ہوگا۔ یہ گنہگار، بدکار، آپ کا خادم کہتا ہے کہ دل سے، محبت سے، عشق سے ایک مرتبہ اللہ کہہ کر تو دیکھو۔ اس طرح کہ واقعی دل کو احساس ہو کہ یہ دل پیاسا ہے۔ اس دل پر رحمت کی بارش برسے ہوئے سال بیت چکے ہیں۔ اے میرے مولا! اس رحمت کی تلاش میں یہاں آئے ہوئے ہیں۔ تو جہاں بلائے گا ہم وہاں آئیں گے، جس طرح کہ تیرے حبیب نے بتایا۔

اِنَّ اﷲَ یُحْیِی الْاَرْضَ الْمَیْتَۃَ بِمَائِ الْمَطْرِ۔

جب زمین ویران ہوجائے، جب زمین بنجر ہوجائے، جب زمین غیر آباد ہوجائے۔ اس زمین پر کوئی آنا پسند نہیں کرتا، کوئی چوپایہ نہیں آتا، کوئی گدھا، گھوڑا نہیں آتا تو انسان کیا آئے گا کہ ویران اور بنجر زمین ہے۔ اس کی ویرانی پر، اس کی حالت خراب پر رحمت کو جوش آتا ہے۔ بارش برس پڑتی ہے۔ اس کی ویرانی، اس کی غیر آبادی، اس کا بنجرپن آبادی میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ وہ سرسبز و شاداب ہوجاتی ہے۔ اس میں کھیت اگ آتے ہیں۔ اس میں بڑی میٹھی، دھیمی، پیاری خوشبو والے پھول کھلتے ہیں۔ وہاں جانور بھی پہنچ جاتے ہیں۔ وہاں انسان بھی پہنچ جاتے ہیں۔ وہاں درند وپرند ہر چیز پہنچ جاتی ہے۔ یہ کب ہوتا ہے؟ جب میرے مولا تیری رحمت کی بارش برستی ہے۔ آج ہمارا دل ویران ہوچکا، اس دل کو ہم نے غیر آباد کردیا، یہ دل ہم اپنے ہاتھوں میں خراب کرچکے۔ یہاں اس خطے و زمین پر، تیرے پیارے، ہمارے شیخ کامل کی اس خانقاہ پر یہ اپنا دل لاکر ہم نے پھینک دیا ہے۔ اس کی ویرانی پر رحم فرما، اس کے بنجرپن پر رحم فرما، اس کی غیر آبادی پر رحم فرما۔ اپنے حبیب کے صدقے میں، اس کے اہل بیت کے صدقے میں، اس کے ازواج مطہرات کے صدقے میں۔ کیونکہ مجھے روایت یاد ہے کہ حضور صلّی اللہ علیہ وسلم نے انصار کا وسیلہ لے کر دعا مانگی تھی۔ مہاجرین کا توسل و تصدق دیکر دعا مانگی تھی۔ اے اللہ تو ویسے ہی سننے والا ہے لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو خدا کے پاس بڑے پیارے ہوتے ہیں۔ جن کے لیے آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

وَبِہِمْ یُمْطَرُوْنَ وَبِہِمْ یُرْزَقُوْنَ۔

کہ جن کی وجہ سے بارش برستی ہے، جن کی وجہ سے رزق دیا جاتا ہے۔ یہ اللہ کی رحمت تو ہے لیکن کسی کے صدقے میں۔ کسی ایک کے وسیلہ میں اللہ عطا فرما دیتا ہے۔ تو میرے مولا ہم بھی وہ ویران دل لے کر تیری بارگاہ میں آئے ہیں۔ ہم یہ تمنا اور آرزو کرتے ہیں کہ جہاں مجھ جیسے خطاکار گنہگار کا ویران دل ہے، وہاں ایسے ایسے حسین صورت والے اور حسین دل والوں کے محبت اور عشق سے رنگین دل ہیں۔ مجھ جیسے نکمے کی حالت کو نظرانداز کرتے ہوئے ان کے صدقے میں میرے دل کو بھی آباد کردے۔ یقینا تیری بارش برسے گی۔ یقینا تیری رحمت کو جوش آئیگا۔ یقینا تو اپنی بخشش کے دروازے کھول دیگا۔ کیونکہ تیرا ہی درس ہے۔

لَا تَقْنَطُوْ مِنْ رَّحمَۃِ اللہِ اِنَّ اللہَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا۔

میری رحمت سے مایوس مت ہو۔ یہ تیرا اعلان ہے۔ ہمیں تیرے اعلان پر پکا یقین ہے، ہم مایوس نہیں ہیں۔ جب اپنی حالت کو دیکھتے ہیں، جب اپنی بدافعالی کو دیکھتے ہیں، بدکرداری کو دیکھتے ہیں، بے فائی کو دیکھتے ہیں تو یقینا ہم مایوس ہوجاتے ہیں لیکن شاعر کے بقول

مجھے اپنی پستی کی شرم ہے تیری رفعتوں کا خیال ہے

تیری کیا بلندی، تیرا کیا شان، تیری کیسی وہ سخا ہر ایک کے لیے۔ اپنوں کے لیے بھی اور جو تجھے نہیں مانتے، تیری ذات کے دشمن ہیں، تیری ذات کے منکر ہیں ان پر بھی تیری عنایتیں ہیں۔ کیا تیری رفعت! کیا تیری بلندی!

تیری اک نگاہ کی بات ہے میری زندگی کا سوال ہے

ایک قطرہ عطا فرمادے۔ ایک قطرہ عطا فرمادے۔ میری زندگی بن جائے گی۔ میری مشکل حل ہوجائے گی۔ اے میرے مولا! میرے اندر تو سلیقہ انتظار کا بھی نہیں ہے۔ تجھ سے مانگنے کا طریقہ بھی نہیں ہے۔ میں تو وہ آلودہ انسان ہوں جو کبھی دنیا کے پیچھے بھاگتا ہے، کبھی دوستوں کے پیچھے بھاگتا ہے، کبھی امیروں کے پیچھے بھاگتا ہے، کبھی وزیروں کے پیچھے بھاگتا ہے۔ تیرے درکا خیال کبھی نہیں آیا، لیکن اگر آج آہی گیا ہے، اگر آج آہی گیا ہے تو یہ تیری سخا ہے۔ یہ تیری عنایت ہے۔ یہ تیری کشش ہے۔ یہ تیرا پیار ہے۔

اللہ یَجْتَبِیْ اِلَیْہ مَنْ یَشَاء۔

تو خود کہتا ہے اللہ جس کو چاہے چن لے۔ اگر کسی مجھ جیسے بے کار، نکمے، نااہل کو بھی چن لے تو تجھ سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ تو مالک و مختار ہے۔ اے میرے مولا! ایک قطرہ چاہیے۔ یہ سب امیر، یہ سب غریب، یہ مسکین، یہ سندھی، یہ پنجابی، یہ بلوچی، یہ پٹھان، یہ مختلف صورتوں والے، یہ مختلف نام رکھنے والے، مختلف لباس، مختلف رنگ، مختلف ڈھنگ یہ سب تیری تخلیق کے حسین نمونے ہیں۔ یہاں صرف جمع ہوئے ہیں صرف ایک بات کے لیے۔ صرف ایک قطرہ چاہیے۔ ہمیں مایوس نہ لوٹانا۔ ہمیں مایوس نہ لوٹانا۔ ہمیں مایوس نہ لوٹانا۔

تو میرے دوستو

یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوْنَ اِلَّا مَنْ اَتَی اﷲَ بِقَلْبٍ سَلِیْم۔

وہ سلامتی والا قلب اس کو مدنظر رکھیں۔ اس کو سمجھیں۔ جب ہمیں اس چیز کی سمجھ آجائے گی کہ قلب سلیم کیا ہوتا ہے تو پھر اس دل کی پیدائش کا غرض بھی ہمیں سمجھ میں آجائے گا۔ ہاتھ ملا ہے یہ بھی نعمت ہے۔ اگر تم اس کو استعمال کرو اس مقصد میں جس کے لیے اللہ نے اس کو نہیں پیدا کیا، تو اللہ تم سے پوچھے گا یہ میں نے تمہیں نعمت دی تھی۔ اس کو تونے اس طرح کیوں استعمال کیا؟ آنکھ اللہ کی نعمت ہے، پاؤں اس کی نعمت ہے، زمین کے خطے اس کی نعمت ہیں۔ جس مقصد کے لیے بنائے گئے ہیں، جو ان کا کام ہے وہی ان سے لینا چاہیے۔ میرے آقا و مولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے ایک حسین مثال کے ذریعے صحابہ کو فرمایا ایک شخص بنی اسرائیل کے انبیاء کے دور میں سے کسی بیل پر چڑھ کر سفر کررہا تھا تو بیل نے اس بندے کو کہا تم مجھ سے کیا کام لے رہے ہو؟ اللہ تعالیٰ نے مجھے سواری کے لیے نہیں پیدا کیا کہ میری پیٹھ پر پر چڑھ کر تم بیٹھو۔ تو حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلم نے اس روایت میں ہمیں یہ درس دیا ہے کہ جو بیل کا کام ہے وہی بیل سے لیا جائے۔ گائے کا جو کام ہے وہ ہی گائے سے لینا چاہیے۔ بھینس کا جو کام ہے وہی بھینس سے لینا چاہیے۔ اسی طرح اعضاء کا جو کام ہے وہ ہی اعضاء سے لینا چاہیے۔ اگر اس کے علاوہ کام لیتے ہیں تو

لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ وَلَئِنْ کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ۔

اگر تم نعمتوں پر شکر کرتے ہو تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے میں تمہیں اور زیادہ دونگا۔ لیکن اگر ان کی ناشکری کی، ان کو صحیح طریقے سے استعمال نہیں کیا تو پھر میرا عذاب بھی شدید ہے۔ تو اسی لیے اگر ان اعضاء سے اور کوئی کام لیں گے تو پھر یہ کفران میں شمار ہوگا۔ تو یہ جو مشکلاتیں آتی ہیں ہماری بد اعمالیوں کی وجہ سے ہیں۔ اور یہ دل اللہ تعالیٰ نے کس لیے پیدا فرمایا ہے؟ کس لیے ہے؟ کہ قلب المؤمن بیت الرحمٰن۔ مؤمن کا قلب عرش رحمٰن ہے یعنی خدا کا گھر ہے۔ اللہ کا عرش اس دل میں ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کی تجلیوں کا ورود اسی میں ہوتا ہے۔ اسی لیے ہم قلب کا ذکر بتاتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ذکر کرو اور لوگ کہتے ہیں کہ یہ تو ذکر اللہ ہے اور بھی کوئی وظیفہ بتائیں۔ بھئی اس سے بڑھ کر کیا وظیفہ ہوسکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھ سے نوازے اور توفیق عمل عطا فرمائے۔