فہرست
خطابات طاہریہ

خلاصہ تصوف

 

نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم

اما بعد

فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَی الْاَرْضِ ھَوْنًا وَّ اِذًا خَاطَبَھُمُ الْجٰھِلُونَ قَالُوْا سَلٰمًا۝ وَالَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّھِمْ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا۝ وَالَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَھَنَّمَ اِنَّ عَذَابَھَا کَانَ غَرَامًا۝

صدق اﷲ العظیم

معزز سامعین کرام! یہ محفل ایک عظیم المرتبہ ہمارے پیشوا، رہنما، محسن سندھ بلکہ محسن عالم اسلام بلکہ جمیع عالم حضرت خواجۂ خواجگان، قطب دوران، قیوم زمان حضرت پیر سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ کی یاد، ان کی سیرت و سوانح، ان کے فیوض و برکات، ان کے اخلاق و عادات، ان کی پسند و ناپسند جو کہ عین سنت و شریعت کے مطابق تھی، اس کو بیان کرنے کے لئے منعقد کی گئی ہے۔ جب ہم یہاں آتے ہیں تو ہمارے دل و دماغ میں یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ ہم یہاں سیکھنے آتے ہیں۔ ہم اپنے ذہن و قلب میں اپنے نفس کی خباثت و خرابی کو سیکھنے اور جاننے کے لئے آتے ہیں۔ اور جب یہاں سے واپس ہوں تو یہ خوب صورت تبدیلیاں ہمارے اندر یقینی طور پر رونما ہونی چاہییں۔ محبت میں اضافہ ہو، نسبت میں اضافہ ہو۔ اور ہم ان کے نقشِ قدم پر چلیں جن کے نقش قدم پر چلنے کے لئے خدا تعالیٰ حکم فرماتا ہے، جن کی تابعداری کے لیے آقائے نامدار آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے۔

آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نہ صرف ایک عظیم الشان کتاب قرآن مجید کی صورت میں ہمارے درمیان چھوڑ گئے بلکہ انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ میری امت میں سے ایسے لوگ پیدا ہوتے رہیں گے جو نبی نہیں ہونگے، رسول نہ ہونگے مگر نبوی رنگ میں رنگے ہوئے ہونگے، رسالت کی وراثت کے صاحب ہونگے۔ ان کا مقام مرتبہ اور کام یہ ہوگا کہ قرآن مجید کا عملی تفسیر اپنے اخلاق و کردار، رفتار و گفتار کے ذریعے لوگوں کے سامنے پیش کریں گے۔ یہ اولیاء کرام کے گروہ کی طرف اشارہ ہے اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری و ساری رہے گا۔

ہمارا ایمان ہے کہ اس دھرتی کا قائم رہنا، اس زمیں کا فتنہ فساد کی بربادی سے بچنا اولیاء کرام کے وجود مسعود کے صدقے سے ہے۔ ورنہ آج جب ہم اپنے حال و احوال کو دیکھتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ یقینا ہم اپنی زمین کو اپنی بد افعالی اور بد کرداری کی وجہ سے تباہی کے کنارے پر لاچکے ہیں۔ وہ کونسی خرابیاں ہیں جو ہمارے اندر نہیں ہیں۔ ہمارے اندر ہر طرح کی خرابیاں اور بیماریاں پیدا ہوچکی ہیں، لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ کے پیارے ان ولیوں کے وجود کی برکت سے خدا تعالیٰ نے ا س دھرتی کو تباہی و بربادی سے ابھی تک محفوظ رکھا ہے۔ جیسے کہ خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ تب تک اس دنیا کا سب سے بڑا فتنہ یعنی قیامت قائم نہیں ہوگی جب تک کہ اس خطہ زمیں پر ایک بھی خدا کا نام لیوا موجود ہوگا۔ حدیث میں ہے آقائے نامدار آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فرشتے آگے بڑھیں گے اور عرض کریں گے یا الٰہ العالمین دنیا میں ہر قسم کی برائی عام ہوچکی ہے، بے فرمانی عام ہو چکی ہے، مخلوق میں گمراہی عام ہوچکی ہے، عبادتوں کو انہوں نے ترک کردیا ہے، خواہشات کو انہوں نے اپنے آگے لگادیا ہے، نفسانیت ان میں پیدا ہوچکی ہے، عداوت ان میں پیدا ہوچکی ہے، محبت ان میں مفقود ہوچکی ہے۔ یا رب العالمین قیامت قائم ہونے میں اب کون سی دیر ہے؟ نشانیاں تو سب ظاہر ہوگئیں۔ جس طرح کہ آج ہم بھی کہتے ہیں کہ قیامت کی نشانیاں جو آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے بتائیں تھیں، آج وہ سب پائی جارہی ہیں۔ یہ بھی نشانی پائی جارہی ہے، یہ بھی نشانی، یہ بھی نشانی۔ گن گن کر اوروں کو سناتے ہیں۔ فرشتے بھی یہی بات عرض کریں گے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائیں گے ہاں سب یہ باتیں پیدا ہوچکی ہیں، لوگ غافل ہیں، اپنی خواہشات میں پھنسے ہوئے ہیں، گناہوں میں مبتلا ہیں۔ لیکن پورے خطۂ زمین پر ایک آدمی موجود ہے جو صبح بھی کہتا ہے اللہ اور شام کو بھی کہتا ہے اللہ۔ جب تک وہ میرا نام لینے والا موجود ہے تب تک قیامت قائم نہیں ہوگی۔ دیکھیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد کو ہمارے پیر و مرشد نے کس خوبصورت طریقے سے واضح کر کے دکھایا کہ اس خطہ پر ایک تو کیا بلکہ خدا کے فضل و کرم سے اور ہمارے پیر و مرشد یعنی حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ اور سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ کی محنتوں سے ایسے لاکھوں لوگ موجود ہیں جو صرف زبان سے اللہ اللہ نہیں پکارتے بلکہ دل سے اور چوبیس گھنٹے اللہ اللہ کا ذکر کرتے ہیں۔ ایسے نہیں کہ صرف صبح و شام اللہ کا نام لیتے ہیں اور پھر شام تک بھلادیں اور پھر شام کو خدا کا نام لیں۔ بلکہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میرا ذکر کرو صبح سے لے کر شام تک۔ یعنی صبح سے لے کر شام تک کوئی بھی ایسا لمحہ نہ ہو جب تو میرے ذکر سے غافل ہوجائے۔ اللہ والوں نے اپنی محنت، اپنی توجہ سے مخلوق کے دلوں میں وہ صلاحیت پیدا کی ہے کہ ان کا ایک ایک سانس، ایک ایک لمحہ، ایک ایک ساعت اور ایک ایک منٹ خدا کے ذکر میں گذرتا ہے۔ اس لئے ہمیں یقین ہے کہ ان سب فتنوں سے بچانے والی یہ نعمت اللہ تعالیٰ نے ان اللہ والوں کے صدقے میں ہمیں ذکر کی صورت میں عطا فرمائی۔ قیامت قائم نہ ہوگی، زمین کا خطہ سلامت ہوگا اور اللہ کی رحمت نازل ہوگی۔ بیشک قیامت آنے والی ہے لیکن ہمیں حضور صلّی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان پر یقین ہے کہ زمین تب تک سلامت ہوگی جب تک ذکر والے آتے رہیں گے۔

اور ہم دیکھتے ہیں کہ ذکر والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ میرے مرشد کا عرس مبارک اس کی واضح مثال ہے۔ مایوس نہ ہوں، نا امید نہ ہوں۔ ان لوگوں میں سے نہ بنو جو تھوڑی تھوڑی بات پر کہنے لگتے ہیں کہ کل قیامت آئے گی، پرسوں قیامت آجائے گی۔ آپ ایسے مت بنیں۔ آپ مایوس مت ہوں بلکہ خدا کی رحمت میں امیدوار بنے رہو۔ خدا سے آپ کا عقیدہ مضبوط اور مستحکم ہونا چاہئے، یقین تمہارا مضبوط ہونا چاہئے، حوصلہ تمہارا بلند ہونا چاہئے۔ کاہل اور سست بن کر بیٹھ نہ جاؤ۔ کیا قیامت قائم ہونے کے اثرات دیکھ کر تجارت کرنے والوں نے تجارت چھوڑدی ہے؟ قیامت قائم ہونے کے اثرات دیکھ کر سیاست کرنے والوں نے سیاست چھوڑدی ہے؟ جب وہ اپنے کاموں میں مشغول ہیں، اپنی محنت میں مشغول ہیں تو پھر ہمیں کیا ہوگیا ہے کہ صرف واعظ حضرات سے اس طرح کی باتیں سن کر کہ قیامت قائم ہونے والی ہے، اب اصلاح ہونا ممکن ہی نہیں ہے، اب بس کرکے ایک کونے میں بیٹھ جاؤ، اب اللہ اللہ کرو، اب کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔ یہ سراسر غلط بات ہے۔ یہ ہمارے ایمان میں کمزوری کی نشانی ہے۔ ہماری محبت میں کمی کی نشانی ہے اور خدا پر بھروسے میں کمی کی علامت ہے۔ خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ ذکر کرنے والا ایک بھی ہوگا تو قیامت قائم نہیں ہوسکتی۔ تو جب لاکھوں ذکر کرنے والے موجود ہیں تو ہمیں کونسا فکر، کونسی پریشانی ہے۔ کوشش کرنی چاہئے کہ ان ذکر کرنے والوں کا سلسلہ بڑھتا رہے، کم نہ ہو۔ انشاء اللہ پھر اس زمین پر اللہ کی رحمت نازل ہوتی رہے گی، مشکلیں دور ہوجائیں گی۔ جو اندھیرا نظر آرہا ہے، جو مایوسی نظر آرہی ہے، جو تکالیف رکاوٹیں نظر آرہی ہیں، وہ بہت معمولی اور تھوڑی ہیں۔ جب کہ ایمان والوں کا حوصلہ بہت بڑا ہے۔

آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم جن حالات و کیفیات سے گزرے آپ اس کا جائزہ لیں۔ مکی زندگی کو دیکھیں، مدنی زندگی کو دیکھیں، کیا وہ حالات آج سے کئی گنا زیادہ نہ سخت تھے؟ مشرکین مکہ مسلمانوں پر ظلم کرتے، ان کو کم و بیش کہتے، ان کے اوپر طعنہ زنی کرتے، انکی ملکیتوں پر قبضہ کرلیتے۔ جب سب نے یک زبان ہوکر عرض کی کہ یا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم ہمیں اجازت ہو کہ ہم ان سے مقابلہ کریں اور ان کو ظلم کرنے سے روکیں۔ آپ نے فرمایا ہرگز نہیں، تم صبر کرو۔ صبر ہی تمہیں کامیابی دلائے گا۔ صبر کے ذریعے ہی تم خدا تعالیٰ کی رحمت کے حقدار ٹھہرائے جاؤ گے۔ کیوں کہا؟ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ میں صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوں۔ نہیں تمہیں اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ تم ان سے جنگ کرو اور نہ ہی ان پر جبرکرو، ظلم کے بدلے ظلم کرو۔ ہرگز نہیں۔ تم استقامت کرو، تبلیغ کرو، تم اللہ کے حکم اور پیغام کو عام کرو، اس کی توحید کو عام کرو۔ تمہیں مکے سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہے، ادھر ہی رہو۔

کتنے ہی سال گذر گئے۔ ایک سال، دو سال۔ جب حالات ناگفتہ ہوگئے اور صحابہ کا اسرار بڑھ گیا، تکلیفیں بڑھ گئیں، پریشانیاں بڑھ گئیں تو آپ نے صحابہ کی تکالیف اور پریشانیوں کو دیکھ کر ان کو حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت فرمائی۔ ایسے نہیں فرمایا کہ سب چلے جاؤ۔ جو جانا چاہتے ہیں وہ چلے جائیں اور جو ادھر رہنا چاہتے ہیں وہ ہمارے پاس ادھر ہی رہیں، ثابت قدم رہیں، دین کی خدمت کے لیے کمربستہ رہیں۔ پھر کچھ صحابہ تبلیغ کی غرض سے اور کچھ صحابہ تکلیف سے بچاؤ کی غرض سے، کچھ مردوں اور کچھ عورتوں نے حبشہ کی طرف حجرت کی جیسے کہ آپ نے تاریخ میں ان کی باتوں کو پڑھا ہوگا۔ یہ عاجز تو اتنا علم نہیں رکھتا جو بیٹھ کر تاریخ کے کتابوں کا حوالہ دے ۔چند مختصر الفاظ میں جو مقصد اس عاجز کا ہے وہ آپ کے سامنے بیان کرتے ہیں۔

تو صحابی گئے پھر لوٹ آئے۔ پھر تکلیفوں اور مشقتوں کا دور شروع ہوگیا۔ ابھی موجودہ زمانے میں جو ہمارے اوپر حالات ہیں، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کہ کہنا شروع کردیں کہ ہمارا دین معاذ اللہ مغلوب ہوگیا ہے یا ہمارے دین پر معاذ اللہ کفر اورگمراہی غالب ہوگئی ہے۔ یہ آج کی صورت نہیں ہے۔ ایسا زمانہ ہمیشہ موجود رہا ہے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے کو دیکھیں۔ آقائے نامدار آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کی ظاہری جدائی کے بعد، وصال کے بعد جب حضرت ابوبکر مسند خلافت پر بیٹھے اورسب صحابہ نے بالاتفاق آپ کی دست بیعت کی، اس وقت حالت یہ ہوگئی تھی کہ مدینے کے چاروں طرف شور و غوغا شروع ہوگیا۔ سب قبیلوں نے ایسے سمجھا کہ اب دین ختم ہوگیا کیونکہ جب آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم ہی اس دنیا میں نہیں رہے تو اب دین بھی نہیں رہے گا۔ اب نمازیں بھی نہیں رہیں گی، روزے بھی نہیں رہیں گے، اب زکوٰۃ بھی نہیں دینی پڑے گی، جہاد بھی نہیں کرنا پڑے گا اور وہی کافر قبیلے غالب آجائیں گے۔ اسی وجہ سے کئی قبیلے اسلام کو چھوڑ کر بیٹھ گئے۔ نمازیں انہوں نے چھوڑ دیں، روزہ رکھنے اور زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا۔ تاریخ داں لکھتے ہیں بلکہ آپ کے بھی علم میں ہوگا کہ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دین کتنا وسیع ہوچکا تھا۔ حجۃ الوداع کے موقعہ پر کتنا جم غفیر موجود تھا۔ کتنے ہی قافلے ہزاروں کی تعداد میں، کئی شام کی طرف، کئی یمن کی طرف، کئی عراق کی طرف، کئی ایران کی طرف بلکہ پوری دنیا میں اسلام کا پیغام لے کر نکل چکے تھے۔ کامیابی حاصل ہوچکی تھی۔ پھر دیکھیں آزمائش کتنی بڑی آتی ہے۔ مستند تاریخی کتابوں میں لکھا گیا ہے کہ اس ارتداد کے فتنے سے وہی لوگ بچ سکے جو مدینہ میں موجود تھے۔ ورنہ سب اس کے اثر پذیر ہوگئے۔ کن پر زیادہ، کن پر تھوڑا لیکن اثر ان تک پہنچا۔ صحابہ کرام نے مل کر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں عرض کیا کہ حضرتا مدینے کو بچائیں۔ اب دوسرے سب دین کو چھوڑ کر بھاگ گئے، دین سے انہوں نے منہ موڑ لیا، اسلام سے روگردانی کرلی۔ اس لیے باہر کی فکر آپ چھوڑدیں اور مدینہ کی حفاظت کے لیے اس لشکر کو روک لیں جو حضرت اسامہ کی قیادت میں محاذ پر جانے والا ہے۔ مگر آپ نے فرمایا کہ نہیں، جس لشکر کو آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم جانے کا حکم دے چکے تھے اس کو میں روک نہیں سکتا۔ یہ لشکر ضرور جائے گا۔ یعنی کہ ایسی مشکل صورتحال میں بھی آپ ناامید نہیں تھے بلکہ انہیں یقین تھا کہ اس دین کو کوئی بھی ختم نہیں کرسکتا۔ اس لئے آپ نے اس لشکر کو مدینے کی حفاظت کے لیے روکا نہیں۔ اور ہمارا یہ حال کہ معمولی باتوں سے گھبرا کر یہ کہنا شروع کردیتے ہیں کہ اب معاذ اللہ ہمارا دین مغلوب ہوگیا۔ یعنی کہ صدیق اکبر نے سب کی رائے سنی اور ان میں، رائے دینے والوں میں بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ موجود تھے، مگر آپ نے فرمایا کہ اس لشکر کو ضرور بھیجا جائے گا کیونکہ ان کو بھیجنا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کا حکم تھا۔ اس سے آپ اندازہ لگائیں کہ صحابہ کرام اس معاملے میں کتنے محتاط تھے، کتنا ادب کا لحاظ رکھتے تھے۔ اس حد تک کہ غالباً ایک صحابی ہیں حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ جو بڑے مدبر اور دانا صحابی ہیں، ان کے بارے میں اس عاجز نے پڑھا کہ انہیں پیغام ملا کہ حضرت عمر فاروق نے انہیں بلایا ہے۔ جب وہ حضرت عمر فاروق کے دروازہ پر پہنچے اور دروازہ کھٹکھٹایا مگر کوئی جواب نہیں ملا۔ انہوں نے دوبارہ آواز دی، السلام علیکم کہا مگر جواب نہیں آیا۔ تیسری مرتبہ بھی اسی طرح ہوا تو وہ واپس چلے گئے۔ جب حضرت عمر فاروق باہر آئے تو آپ نے حضرت طلحہ یا کوئی اور صحابی ہیں، ان سے پوچھا کہ ہمارے پیغام پر آپ کیوں نہیں آئے؟ یہ بھی آداب ہیں شریعت کے۔ ان سے کبھی بھی منہ نہ موڑیں۔ ایسے نہ ہو کہ کسی کے دروازے پر جائیں اور کھٹکھٹانا شروع کردیں، آواز لگانا شروع کردیں، بس ہی نہ کریں۔ میاں کچھ سمجھ رکھو۔ پتہ نہیں وہ بیچارہ کس مصروفیت میں ہو۔ اگر اندر سے جواب ملتا ہے تو ٹھہرو، اگر تین دفعہ بلانے کے بعد جواب نہیں آتا تو خاموشی سے واپس چلے جاؤ۔ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں، چھوٹے چھوٹے آداب ہم ایمان والوں کے لیے بہترین اخلاق کے مظہر ہیں۔ لمبی گفتگو و تبلیغ سے زیادہ یہ باتیں لوگوں کے اوپر اثر انداز ہوتی ہیں۔

آج کے دور میں جو دوسری قومیں ہیں۔ جب ہم ان کو دیکھتے ہیں تو ان قوموں نے ان اسلامی اخلاق کو، اسلامی عادات کو اپنا کر بڑی ترقی حاصل کرلی اور ہم نے اپنے اس اعلیٰ اخلاق، اعلیٰ اقدار کو، اعلیٰ ورثے کو بلکل بھلادیا ہے اور آنکھیں بند کرکے غیروں کے طریقے اپنانا شروع کردیے ہیں۔ اگر ان میں سے کوئی ہمارے پاس آتا ہے تو ہم ان کو آنکھوں پر بٹھا لیں گے بلکہ ادھر کی بنی ہوئی چیزوں کو بھی آنکھوں پر رکھتے ہیں۔ جیسے کہ ادھر سے گھومنے والے جاتے ہیں، باہر کے ملک میں، تو وہاں کے کپڑے کی تلاش کرتے ہیں۔ بھائی ہم یہاں کا، اپنے ملک کا کپڑا نہیں پہنیں گے، ہم باہر کے ملک کا کپڑا پہنیں گے۔ کوئی دوست بات کررہا تھاکہ باہر کے کپڑے کے لیے بہت دوکان گھوما۔ وہ کہتا ہے گھوم گھوم کر مجھے رات کا ٹائم ہوگیا۔ جہاز بھی جانے والا تھا۔ پھر ایک ایسا کپڑا نظر آیا جو مہنگا تھا۔ آنکھیں بند کرکے لے لیا، کہا کہ اپنے گھر والوں اور دوستوں کو دونگا۔ جب لیکر اپنے گھر پہنچا تو دوستوں سے کہا کہ یہ لندن کا کپڑا ہے۔ یہاں کا نہیں ہے بلکہ لندن شہر کا کپڑا ہے۔ جب دوست کو دیا اور اس نے کھول کر دیکھا اور لیبل اس کا، مہر اس کی ظاہر ہوئی تو لکھا تھا میڈ ان پاکستان۔ مجھے دوست نے کہا کہ میاں تو باہر ڈھونڈتا پھرتا ہے یہ تو ہمارے اپنے ملک کا کپڑا ہے اور یہاں تو پتا نہیں کتنا سستا ملتا ہے اور پتا نہیں کتنا خرچہ کرکے باہر سے لایا ہے۔ ایسی کتنی ہی مثالیں ہونگی۔ تو یہ ہمارے دل میں بڑا شوق ہوتا ہے کہ اچھی سے اچھی چیز حاصل کریں، قیمتی سے قیمتی چیز حاصل کریں۔

تو میں نے عرض کیا کہ وہ اقدار، وہ اخلاق جو انگریز مسلمانوں سے حاصل کرکے گئے۔ جیسے وہ اسپین کے ملک کے بارے میں آپ نے سنا ہوگا۔ ادھر کم و بیش سات سو سال مسلمانوں کی حکومت قائم رہی۔ کیا اسلام کا دور تھا! کیا سنہری دور تھا! کیا عزت اور بلندی تھی جو اللہ تعالیٰ نے عطا کی کہ یورپ میں اسلام کا ڈنکا بجتا رہا۔ بڑے بڑے ماہر، بڑے بڑے عالم، بڑے بڑے مدبر، مفسر، محدث اور فلسفی اس ملک میں رہتے تھے۔ پورے یورپ کے لوگ گروہ در گروہ، جماعت در جماعت ان کی خدمت میں آکر ان سے علوم حاصل کرتے تھے۔ ہماری اپنی بد اعمالیاں، اپنی کمزوریاں، باہمی اختلافات اور انتشار نے غیروں کو یہ موقعہ فراہم کیا کہ ہمارے باہمی اختلافات اور لڑنے جھگڑنے کا فائدہ لیتے ہوئے وہ ان ملکوں کے اوپر قابض ہوگئے۔ وہ حکومتیں ختم ہوگئیں۔ وہ ذکر فکر اسلام اور ایمان اور سائنسی علوم کے مرکز غیروں کے قبضے میں آگئے۔ آج بھی تم وہاں جاؤ، وہاں ان مساجد، ان مدرسوں، ان درسگاہوں کو انہوں نے آثار قدیمہ کی صورت میں محفوظ کیا ہے۔ وہ آثار قدیمہ یہ گواہی دیتے ہیں کہ ادھر مؤمن، مسلمان اور کلمہ گو رہتے تھے۔

تو میرے دوستو! ہم ان غیروں کی تقلید میں ان باتوں کو ڈھونڈتے ہیں جو ہمیں ان سے ملتی ہیں، لیکن ہم نے کبھی اپنے ورثے کو دیکھا ہے؟ اگر دیکھا بھی ہے تو گہری نظر سے نہیں دیکھا۔ اس کو ہم نے کبھی جانچا ہی نہیں ہے کہ اس میں کتنی معنائیں پوشیدہ ہیں، اس میں کتنے بڑے مقاصد پوشیدہ ہیں۔ حضور نبی اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم نے جو بھی حکم فرمائے ان سب میں بڑے مقاصد پوشیدہ ہیں۔ مثلاً ایک چھوٹا سا مثال میں آپ کو بتاؤں۔ نبی اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم کو جماہی آئے اپنے منہ پر ہاتھ رکھو۔ آج کی سائنس کے مطابق معلوم ہوتا ہے اگر آدمی منہ پھاڑ کر جماہی لیتا ہے تو اس کے اندر جو جراثیم موجود ہیں، وہ فضا میں پھیلیں گے اور وہاں پر بیٹھے ہوئے دوسرے لوگوں کو وہ بیماری لگ سکتی ہے۔ تو حضور صلّی اللہ علیہ وسلم کی ایک ایک بات میں بڑی بڑی حکمتیں پوشیدہ ہیں، لیکن ہم اپنی سوچ اور ذہن پر چلتے ہیں۔ اسی طرح پانی پینے کے دوران تین دفعہ سانس لینے کا حکم دیا کہ جب آپ پانی پئیں تو تین دفعہ سانس لیں، جلدی نہ کریں۔ آج کی جدید سائنس کہتی ہے جو ایک سانس میں پانی پیتا ہے تو جو اس کے حلقوم کے جو حصے ہیں ان پہ اثر پڑتا ہے، ان کے اوپر پریشر پڑتا ہے، اس سے نقصان ہوتا ہے۔ کیونکہ پہلے حلق خشک ہوتا ہے تو تھوڑا سا پانی پیو پھر دوسری مرتبہ چھوٹا سا گھونٹ لیں جیسے کہ آپ کا حلق گیلا ہوجائے۔ پھر اس کے بعد آپ پورے کا پورا پانی پی لیں جیسے آپ کی صحت ٹھیک رہے، تکلیف سے محفوظ رہو، بیماری سے محفوظ رہو۔ ان سب آداب کو اپنانے میں ہمارے لیے دین و دنیا کی بہتری ہے، ترقی ہے، کامیابی کے راستے موجود ہیں۔ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں انسان کو بلند مرتبے پر فائز کرنے کے لیے نہایت ضروری ہیں۔

تو میں عرض کررہا تھا کہ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ تین دفعا کھٹکھٹانے کے بعد لوٹ گئے اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے پوچھا وہ کہاں ہیں؟ جب ان کو لوٹایا گیا اور وہ خدمت میں آئے تو آپ نے فرمایا کیوں تم نہیں آئے؟ انہوں نے کہا کہ میں نے تین مرتبہ دروازے پر دستک دی اور پھر میں لوٹ گیا کیونکہ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کا یہی حکم ہے۔ آپ نے فرمایا جو تم یہ بات کررہے ہو اور اس کو جو اللہ کے رسول کی طرف منسوب کر رہے ہو تو پھر گواہ پیش کرو ورنہ عمر کا درہ تمہیں نہیں چھوڑیگا۔ وہ صحابی سخت پریشان ہوئے۔ عادل، منصف، متقی، پرہیزگار، صحبت یافتہ صحابی سوچ رہا تھا کیا میرے اس قول پر حضرت عمر کو یقین نہیں آیا۔ روتے روتے باہر آیا اب میں کیا کروں۔ عمر فاروق تو مجھے اب نہیں چھوڑے گا۔ مجھے تو سزا دیگا کہ میں نے غلط بات رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کی ہے، اب میں گواہ کہاں سے لاؤں۔ اتنے میں دوسرا صحابی غالباً حضرت زبیر رضی اللہ عنہ ہیں یا کوئی دوسرا واللہ اعلم، اس سے ملاقات ہوگئی۔ پوچھا کہ تم کیوں رورہے ہو، کیوں اتنے پریشان ہو؟ کہا کہ میں نے یہ بات حضرت عمر کے سامنے کہی ہے جس کے جواب میں انہوں نے مجھ سے گواہ طلب کیا ہے۔ اب میں کدھر جاؤں، کس کو گواہ بناؤں؟ حضرت زبیر یا دیگر صحابی نے کہا کہ جب حضور صلّی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا اس وقت میں وہاں موجود تھا۔ چلو میں گواہی دیتا ہوں۔ جب عمر فاروق کے پاس پہنچے اور گواہی دی گئی اور دیکھا کہ حضرت طلحہ مایوس اور پریشان ہیں تو حضرت عمر نے انہیں گلے سے لگایا اور فرمایا کہ اگر میں بغیر گواہ کے تمھاری بات پر اعتماد کرتا تو پھر سب آدمیوں کو موقعہ مل جاتا اور وہ کوئی نہ کوئی اپنا غلط قول حضور صلّی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کردیتے۔ اس فتنے اور شر سے بچنے کے لیے میں نے یہ کیا۔ مجھے تمھاری عدالت پر یقین ہے۔ مجھے تمھارے ایمان پر یقین تھا لیکن پیچھے آنے والی امت مسلمہ کو فتنے سے بچانے کے لیے میں نے سختی کا مظاہرہ کیا۔ تو اس قدر احتیاط اور تقویٰ کو ملحوظ رکھتے تھے۔ اس کے بعد اس بات کو منظور کرتے تھے کہ واقعی یہ بات حقیقتاً اللہ تعالیٰ اور آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہے۔

تو میرے عزیزو دوستو! جو آیت کریمہ میں نے تلاوت کی، پھر بات سے بات نکلتی گئی۔ اس لئے یہ عاجز فوراً اپنے موضوع پر آتا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ رحمان کے جو بندے ہیں وہ زمین پر عاجزی و انکساری سے رہتے ہیں، اور جب ان سے جاہلین جھگڑا کرتے ہیں، ان کوکم و بیش کہتے ہیں تو وہ جواب میں ان سے اسی قسم کا برتاؤ نہیں کرتے۔ وہ سلام کرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ ہم اپنے حال پر غور کریں کہ اگر کوئی ہمیں برا بھلا کہتا ہے ہم جواب میں کس قسم کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ کیا واقعی خدا کے حکم کے مطابق صبر کرتے ہیں اور سلام کرکے چلے جاتے ہیں۔ ہر ایک اپنے حال پر غور کرے کیوں کہ دوسروں کو نصیحت کرنا تو بہت ہی آسان ہے مگر خود اس پر عمل کرنا بہت ہی مشکل۔ جس طرح کہ کرسی پر بیٹھہ کر یہ ناچیز باتیں بیان کررہا ہے، میرا ضمیر مجھ کو کو ملامت کررہا ہے

اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِاالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ اَنْفُسَکُمْ۝

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا تمہیں شرم کرنی چاہیے، دوسروں کو نیکی کا حکم دیتے ہو، دوسروں کو اچھی اچھی باتوں کا تاکید کرتے ہو، او بیوقوفو اپنے آپ کو بھلادیتے ہو۔ کیا وہ اچھی باتیں، اچھے اخلاق تمہارے اندر موجود ہیں یا یہودیوں جیسے بن گئے ہو جن کے پاس غریبوں اور مسکینوں کے لئے بہت کڑے شرط تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مذہب کے اصول بتاکر ان غریبوں کو خوب کھینچ کر رکھتے تھے۔ دین کے نام پر ظلم اور تشدد کرتے تھے۔ ویسے بھی دین موسوی میں بہت سختی تھی۔ رعایت نہیں ملتی تھی۔ معمولی معمولی باتوں پر بہت سخت سزا ہوتی تھی لیکن جب اپنا معاملہ آتا تھا تو ہماری طرح، جیسے کہ کہتے ہیں کسی نے آکر مولوی صاحب سے پوچھا کہ جب دو جانور آپس میں لڑ پڑیں اور لڑتے لڑتے ایک نے دوسرے کو مار دیا تو پھر سائیں اس کا کیا حکم ہے؟ مولوی صاحب نے کہا میاں یہ جانور ہیں بے سمجھ و بے عقل ہیں، اب اگر ایک نے دوسرے کو مار دیا تو کیا اس کا فیصلہ ہوگا، وہ مرگیا بس بات ختم کوئی، جرمانہ نہیں ہوگا۔ اس آدمی نے کہا کہ سائیں معاف کرنا آپ کی گائے کو میری گائے نے مار دیا ہے۔ مولوی صاحب نے کہا کیا؟ ایسے ہوا ہے۔ بھئی ذرا ٹھہرو میں کتاب دیکھ لوں۔ جلدی جواب نہیں دیا جاتا اس پر غور و فکر کرنا ضروری ہے کیوں کہ پہلے میں نے بے خیالی سے جواب دیا تھا۔ تو ہمیں خدا کا خوف نہیں۔ خدا کے سامنے پیش ہونے والا دن ہم کو یاد نہیں ہے۔ ہماری نظر اپنے مفاد پر ہے۔ اے میاں! یہ دنیا ہے کتنے دن؟ کتنے دن تو جیے گا؟ کتنا بھی حیلہ بہانہ کرلے، دولت جمع کرلے، دوسروں کے حق غصب کرلے، خود کو بڑا رئیس بنالے لیکن جیے گا کتنے دن؟

تو میرے دوستو! خدا تعالیٰ نے اسلام میں جو حسن اخلاق سکھائے ہیں ان میں در حقیقت اللہ کی صفات کی تربیت دی گئی ہے مومنین کو۔ جو اللہ کی صفات ہیں، مؤمنین کو کہا گیا ہے کہ ان صفات کا عکس اپنے اندر پیدا کرو۔ جیسے کہ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا

حسن الخلق خلق اللہ الاعظم

حدیث مبارکہ میں ہے بہترین اخلاق، نرم گفتگو، عفو در گذر، دشمن کو معاف کر دینا، پڑسیوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا اور مشکلات میں صبر کرنا۔ فرمایا یہی خدا کا بڑا اخلاق ہے۔ یہی وہ صفات ہیں جو اللہ تعالیٰ کی ذات میں موجود ہیں۔ ایمان والوں کو بھی ان صفات سے موزوں ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ سمیع بھی ہے، بصیر بھی۔ اور سمیع یعنی سنتا بھی ہے، ہر ایک کی سنتا ہے اور ہر ایک کو دیکھتا ہے۔کوئی بھی اس کی نظر سے چھپا ہوا نہیں ہے۔ لیکن قربان جاؤں اس کی ذات پر کہ گنہگاروں کو گناہ کرتے دیکھتا ہے پھر بھی ان کی پردہ پوشی کرتا ہے۔ ان کو رسوا نہیں فرماتا۔ مجھ جیسے خطاکار کو جو بڑا صوفی بن کے آپ کے سامنے بیٹھا ہوا ہے، تو جو میرے اعمال کتنے غلط اور گندے ہونگے لیکن قرباؤں اللہ کی ذات پر وہ چھپا دیتا ہے۔ وہ ان کو اپنی رحمت کی چادر میں چھپا دیتا ہے۔ توخدا بصیر بھی ہے، دیکھ بھی سکتا ہے۔ کوئی بھی آدمی کوئی بھی حرکت، کوئی بھی کام کہیں بھی کرے، وہ اللہ کی نظر میں پوشیدہ نہیں ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس بندے کو چھوڑدو۔ اس کو میں نے تخلیق کیا ہے۔ یہ میری خلقت کا حصہ ہے اور مجھے اس سے محبت ہے۔ ہوسکتا ہے یہ آگے چل کر میری رحمت کا حقدار بن جائے اور کوئی بھی ایسا عمل کردے کہ میں اس کے سارے گناہ بخش دوں۔ تو یہ اللہ کی صفات ہیں۔ اب اللہ تعالیٰ نے تجھے بھی قوت سماعت دی ہے، قوت بصارت دی ہے لیکن سماعت و بصارت اس رنگ میں ہونی چاہیے جس طرح اللہ کے رنگ میں ہے۔ یہ نہیں کہ اوروں کے عیب دیکھتا پھرے، فلاں کا یہ عیب ہے، فلاں کے اندر یہ خرابی ہے۔ یا ہر وقت کان لگاتا پھرے کہ کیا بات کہتا ہے، یقینا میری مخالفت کررہا ہوگا۔ وہ آپس میں باتیں کر رہے ہیں اور اس کی دل میں خیال ہے کہ یہ میرے خلاف بول رہے ہیں، یہ میرے دشمن ہیں۔ اور جو آکر ہمیں کہے کہ تو تو بڑا اچھا ہے لیکن فلاں جو ہے وہ تیرے خلاف ہے، وہ تیرے بارے میں اس طرح کہہ رہا ہے۔ ہم اتنا اس بات پر یقین کرلیتے ہیں کہ شاید قرآنی آیت پر بھی اتنا یقین نہ ہو۔ اس عادت کو آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے بدترین فرمایا ہے کہ مؤمنین میں جو عادتیں پائی نہیں جانی چاہییں ان میں سے ایک یہ بھی عادت ہے کہ ایک کی بات دوسرے تک پہنچانا۔ ایک کی غلط بات منسو ب کرکے دوسروں کو اپنے زیر اثر لانا۔ ان سب چیزوں سے اللہ کے پیارے حبیب نے ممانعت فرمائی ہے۔

تو میرے دوستو! یہ اللہ تعالیٰ کے حسن اخلاق کا عکس ایمان والوں کے اندر پایا جانا چاہیے۔ کچھ اللہ تبارک و تعالیٰ کی صفات ایسی ہیں جو اس کے ساتھ مخصوص ہیں۔ جس طرح تخلیق بھی اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ہے۔ وہ چیزوں کو بناتا ہے، سنوارتا ہے، سجاتا ہے، حسین بناتا ہے۔ تو یہ وصف اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہی خاص ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ کی صفت یہ بھی ہے کہ اس کی عظمت بہت بڑی ہے۔ اس کبریائی، اس کی بلندی، اس کی شان، اس کی رفعت بہت ہی اعلیٰ ہے۔ بندے کو یہ زیب نہیں دیتا وہ اپنے آپ کو یہ سمجھنا شروع کریں کہ میں بڑا ہوں، میں بڑا وڈیرا ہوں، میں بڑا پیر ہوں، میں بڑا عالم ہوں، میں بڑا عقل والا ہوں، میں سب کا بڑا ہوں، میں ان سب سے بلند ہوں، یہ سب سے چھوٹے ہیں۔ وہ جس طرح میں اکثر عرض کرتا ہوں کہ اس طرح کی خام خیالی ہمارے ذہن میں شیطان بھر لیتا ہے، پھر ہم سمجھتے ہیں یہ سب چیزیں کچھ بھی نہیں ہیں۔ ہم تو بہت ہی اونچے ہیں۔

کہتے ہیں کہ ایک بلوچ آدمی تھا، وہ میروں کی خدمت میں جاکر رہا۔ خیرپور میرس میں میروں کی ریاست تھی۔ کلہوڑوں سے انھوں نے حکومت چھینی تھی۔ پہلے یہ میر ان کلہوڑوں کے سپہ سالار تھے لیکن انھوں نے کلہوڑوں سے جنگ کی اور میروں کی فتح ہوگئی، کلہوڑوں کو شکست ہوگئی اور وہ حکومت کے صاحب بن گئے۔ تو کہتے ہیں کہ ایک بلوچ ان کی خدمت میں جاکر رہا تو اس کو اور کوئی کام نہیں ملا، میروں کو کتے پالنے کا شوق تھا وہ کتوں کی خدمت کرتا تھا۔ ان کو نہلاتا دھلاتا صابن لگاتا تھا، ان کو کھانا کھلاتا تھا۔ تو وہ بلوچ آدمی کتوں کی خدمت کرتا تھا اور وہ میر صاحب اس کو مذاق میں سرکار سرکار کہتا تھا۔ وہ بیچارہ ان پڑھ جاہل آدمی جس طرح ہم ہیں۔ پیر نے ہمیں یہاں بٹھالیا ہے۔ ہمارے شیخ نے یہاںپر بٹھادیا ہے۔ کوئی صلاحیت نہیں، کوئی عقل نہیں، کوئی فہم نہیں اور لوگ ہمیں سائیں سائیں کہتے ہیں اور ہمارے ہاتھ پاؤں چومتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں ہم بڑے پیر ہیں۔ اس طرح ہم اپنے آپ کو خود پستیوں میں گراتے ہیں۔

ثُمَّ رَدَدْنٰہُ اَسْفَلَ سٰفِلِیْن۝

خدا تعالیٰ فرماتے ہیں اسطرح ہم ان کو پستیوں میں گرادیتے ہیں۔ اسی لیے ہمیشہ اپنی حقیقت کو سامنے رکھنا چاہیے، کبھی بھی تصور میں نہیں آنا چاہیے کہ میں تو بڑا بن چکا ہوں۔ نہیں اپنی اصلیت کو دیکھو بلکہ اس بھی آگے دیکھو کہ اللہ نے مجھے تخلیق کس چیز سے کیا ہے۔ پیشاب کے دو قطروں سے۔ اور وہ قطرے ایسے ہیں کہ اگر وہ قطرے جسم کو لگیں تو جسم ناپاک، کپڑے ناپاک۔ ان دو قطروں سے اللہ نے تجھے تخلیق کیا ہے اور حسین صورت عطا فرمائی ہے۔ تو یہ اس کی قدرت کا کمال ہے، اس کا شاہکار ہے۔ تو وہ سرکار سرکار کہا جانے لگا، تو وہ سرکار میں مدہوش ہوجاتا تھا کہ میں واقعی سرکار ہوں۔ میر صاحب مجھے سرکار کہہ رہے ہیں، میں سرکار ہوں کیونکہ جو ریاست کے والی ہیں،کمشنر، کلیکٹر جس کے سلامی ہیں وہ مجھے سرکار کہہ رہا ہے۔ میں تو میر سے بھی کچھ اوپر چیز ہوں۔ کام کرتا تھا کتوں کی خدمت اور کہا جاتا تھا اس کو سرکار اور وہ سمجھتا تھا کہ میں میر سے بھی کوئی اور چیز ہوں۔ جب واپس جانے لگا اپنے گاؤں۔ اپنے خیال میں بڑی مستی میں جارہا تھا۔ جھومتا ہوا جارہا تھا کہ گاؤں والوں کو بتاؤں گا کہ میں سرکار ہوں۔ میں کوئی ایسی ویسی چیز نہیں ہوں، میں سرکار ہوں۔ جب اپنے گھر کے نزدیک پہنچا، یہ بڑی عمر کا تھا تو اس کے پوتے پوتیاں سارے اس کے پاس بھاگ کر آپہنچے۔ کوئی آگے کوئی پیچھے، کوئی اسے دادا کہہ کر بلائے، کوئی اسے نانا کہہ کر بلائے، کوئی اسے چاچا کہہ کر بلائے۔ اس نے سب کو دھکا دیکر دور کیا۔ اس کے اندر سرکار کا بڑا گھمنڈ تھا۔ کہا کہ دور ہوجاؤ دور ہوجاؤ۔ سرکار کسی کا ابا نہیں۔ میں سرکار ہوں۔ وہ سمجھ رہا تھا کہ میں انسان نہیں کوئی اور چیز ہوں۔ تو میرے دوستو ہم جو بھی ہیں خوامخواہ اپنے آپ کو سرکار نہ سمجھیں۔

جو آیت کریمہ اس ناچیز نے تلاوت کی ہے اس میں اس بات کا تذکرہ ہے کہ اے میرے بندو اگر آپ کی محبت اللہ اور اس کے رسول سے ہے اور آپ اگر دنیا میں حسن اخلاق کا مجسمہ بن کے رہنا چاہتے ہو تو تمہارا جاہلوں کے ساتھ طور طریقہ اس طرح ہونا چاہیے کہ جب کوئی جاہل تمہارے سامنے آتا ہے، تمہیں کم و بیش کہتا ہے تو تم اس کو جواب دینے کے بجائے اس سے احتراز کرلو۔ اور اس کے ساتھ ساتھ

وَّ اِذًا خَاطَبَھُمْ الْجَاھِلُونَ قَالُوْ سَلٰمًا۝ وَالَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّھِمْ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا۝

خدا کے وہ خاص بندے رات کو اٹھ کر قیام اور رکوع کرتے ہیں، اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ وہ رکوع اور سجود دل کے حضور سے کرتے ہیں۔ مگر یاد رکھو جس کے دل میں بڑائی ہے، حضور صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کے دل میں بڑائی ہے، اپنی ذات، اپنے عمل کے اوپر نظر ہے، کتنی بھی نمازیں پڑھیں، وہ نمازیں اس کو اللہ کے نزدیک نہیں کرتیں بلکہ اللہ سے دور کرتی ہیں۔ یہ حدیث احیاء العلوم میں پڑھی تھی کہ کتنے ہی ایسے نمازی بھی ہیں جن کو نماز اللہ سے دور کرتی ہے۔ یہ عاجز حیران ہوتا تھا کہ آخر ان سے کونسی ایسی نادانی اور بیوقوفی ہوئی ہے جو نماز انہیں اللہ سے دور کرتی ہے۔ بخاری شریف میں فصاحت سے درس ملا کہ ان کو نماز اس وجہ سے اللہ سے دور کرتی ہے کہ ان کی دلوں میں اپنے آپ کو معتبر سمجھنے کا شوق ہے، اپنے عمل پر نظر ہے، اپنی ذات پر نظر ہے، اپنے عمل پر نظر ہے، اپنی قوم قبیلے پر نظر ہے، جس کی وجہ سے وہ نماز ان کی اللہ کے پاس قبول ہی نہیں ہے۔ وہ نماز ان کے منہ پر لگائی جائے گی۔ بھئی تو نے تو نماز پڑھی تھی۔ تو جھکا تھا

تو بمسجد می روی بہر سجود
جسم جنبد دل نہ جنبد ایں چہ سود

مسجد میں تو سجدے کے لیے جارہا ہے مگر تیرا سر جھکا ہے دل تیرا نہیں جھکا۔ مولانا صاحب فرماتے ہیں کیا فائدہ ہوا؟ کچھ بھی نہیں۔ تیرا جانا بیکار، تیرا سجدا کرنا بیکار، تیرا رکوع بیکار۔ تو نے تو خوامخواہ اپنا وقت برباد کیا۔

دوستو اپنے نفس کو سکھائیں یہ باتیں۔ اپنے پڑوسی سے حسن سلوک کریں کیونکہ یہ ایمان کے حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔ اپنے گاؤں والوں کی مشکل وقت میں مدد کریں۔ ان سے اچھا سلوک کریں۔ اپنے ماں باپ کی خدمت کریں۔ اپنے بچوں کے ساتھ نرم رویہ اختیار کریں۔ ان سے نرمی والا برتاؤ کریں۔ ان کی کسی غلط طریقے غلط کام پر جو دل آزاری کا سبب، تکلیف کا سبب بنا ہو، اس کے اوپر صبر کریں۔ آقائے نامدار آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس محدود عمل کی وجہ سے جو چند منٹ میں ہوا، اتنا مقام حاصل کرلیتا ہے کہ پورا دن روزہ رکھنے والا، سارا دن، ساری رات عبادت کرنے والے کو بھی حاصل نہیں ہوتا۔ اس لئے میرے دوستو حسن اخلاق کے مجسمہ بن جائیں اور ہمیشہ دل میں خیال رکھیں، خطرہ ہونا چاہیے کہ یا رب العالمین ہم کو جہنم کے عذاب سے بچا کیونکہ یہ بدترین جگہ ہے اور اس کے ساتھ ساتھ

وَالَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَہَنَّمَ۝

کیونکہ یہ بدترین مقام ہے۔ تو وہ نیک بندے، خدا کے پسندیدہ بندے اس سے بھی اللہ کی پناہ مانگتے رہتے ہیں۔ کتنی عاجزی و انکساری کرتے ہیں کہ عمل صالح بھی کرتے ہیں، قیام و قعود بھی کرتے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان کے باوجود یہ کہتے ہیں ہمارے عمل تو ایسے ہیں کہ ہم جہنم کے حقدار ہوجائیں گے۔ کیونکہ ان میں انکساری ہے، ان میں عاجزی ہے اور جو رحمٰن کے بندے والا طوق انہوں نے گلے میں ڈالا ہے، اس لئے ان کی دل میں احساس ہے۔ صرف زباں سے نہیں بلکہ ان کے دل میں یہ احساس ہے کہ ہمارے عمل ایسے ہیں کہ جہنم میں جاکے پڑیں گے۔ میرے مولا تو اپنے فضل سے ہم کو بچا کیونکہ یہ بدترین مقام ہے، تیرا ناپسندیدہ مقام ہے۔ اس لئے میرے دوستو تصوف جیسے کہ اس آیت کریمہ میں آجاتا ہے۔ یہ حقیقت اپنے اندر پیدا کریں۔ یہ محبت اپنے اندر پیدا کریں۔ انشاء اللہ اس سے بڑی ترقی اور کامیابی حاصل ہوگی۔

اللہ تعالیٰ اخلاص عمل عطا فرمائے۔