فہرست
خطابات طاہریہ

حقیقت دنیا

 

نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم

اما بعد

فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

مَا یَفْعَلُ اللہُ بِعَذَابِکُمْ اِنْ شَکَرْتُمْ وَاٰمَنْتُمْ ۝

صدق اللہ العظیم۔

معزز سامعین کرام! مختصر وقت میں انشاء اللہ کوشش ہوگی اپنے مافی الضمیر کو آپ کی خدمت میں پیش کیا جائے۔ گفتگو تقاریر بہت ہوچکی ہیں، زیادہ کی بالکل ضرورت بھی نہیں ہے، لیکن جیسا کہ معمول ہے، ایک روایت ہے، اس کے مطابق چند کلمات بیان کرنے کے لئے مجھ ناچیز کو دوستوں نے فرمایا، بلایا۔ تو وہی بات مدنظر رکھتے ہوئے، پیغام وہی ذکر الٰہی کا، وہی محبت الٰہی کا جو کہ ہمارے اجتماع کا غرض اور مقصد ہے۔

بیشک وہ محفل جس کے انعقاد کا غرض و مقصد ”لَا یُرِیدُونَ اِلَّاوَجھًہ“ ہو کہ وہ کچھ بھی نہیں چاہتے، کچھ بھی نہیں چاہتے، ذرا سوچئے گا! جتنے آپ اور ہم سب یہاں بیٹھے ہوئے ہیں، اس محفل کو ممتاز بنانا، عنداللہ پسندیدہ بنانا، مقبول اور منظور بنانا اس کا انحصار ہم اور آپ پر ہے، ہماری نیت پر ہے، ہماری سوچ پر ہے۔ کسی کے کہنے پر کوئی محفل ممتاز نہیں ہوتی۔ کسی کی دعویٰ سے کسی محفل کو امتیاز اور شان نہیں مل جاتا۔ ہوسکتا ہے کہ ہم جیسے جاہل لوگ کسی کی بات کو زوردار انداز میں، پر اثرانداز میں سننے کے بعد کہہ بھی دیں کہ ہاں ہاں بالکل ٹھیک ہے۔ لیکن ایسا ہونا نہیں چاہئے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے بار بار قرآن مجید میں ایمان والوں کو یہ تلقین فرمائی ہے کہ تم اپنی عقل اور فہم کو استعمال کرو۔ جب کوئی چیز تمہارے سامنے پیش کی جائے تو صرف اس لئے نہیں کہ یہ میں آپ کے سامنے پیش کررہا ہوں، بس وہ بات ٹھیک ہوگئی۔ اسی لئے نہیں کوئی عالم اور کوئی شخص یا کوئی واعظ جو بڑا مشہور ہے، بڑا نیک نام ہے، اس کی کرامتیں ہم نے سن رکھی ہیں، اس کے فضائل لوگ بیان کرتے ہیں، اب اس نے جب تقریر میں یہ بات کردی تو یہ ٹھیک ہوگا۔ ایسے نہیں، کیونکہ میرے آقا و مولا آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے نفوس کو ہی پاک نہیں بنایا تھا بلکہ انہوں نے عقلوں کے تالے بھی کھول دیے تھے اور دماغوں کو روشن کردیا تھا، سوچوں کو بلند کردیا تھا۔ جبکہ ہم جیسے، جن سے لوگ محبت کرتے ہیں، جن کو وہ قائد بنادیتے ہیں سروں پر بٹھاکے، وہ تو اس بات پر خوش ہوتے ہیں کہ بھئی جو بات میں کہے دیتا ہوں وہ آپ بلا چون و چرا مان لیں۔ بس کوئی اس کی کسوٹی نہیں، کوئی اس کا معیار نہیں، کوئی اس کی ضمانت نہیں، کوئی اس پر سوچ بچار نہیں۔ بس جو میں نے کہہ دیا ہے وہ تمہیں کردینا ہے۔ لیکن میرے آقا و مولا آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کی ایسی تربیت فرمائی تھی جس طرح کہ تربیت کا حق ہے۔

میں آپ کے سامنے یہ بات کہہ دوں کہ بات میری بالکل بور ہوگی۔ جوش بھی نہیں ہے، سلیقہ بھی نہیں ہے، کوئی انداز بھی نہیں ہے۔ میں پہلے سے ہی معذرت کردیتا ہوں، اور اس لئے بھی کہ آپ پر مجھے مسلط کردیا گیا ہے ”بھئی تمہیں بولنا ہے“۔ ورنہ تو میں ہزار بار تقاریر سے توبہ کرتا ہوں۔ یہ بڑا فتنہ ہے، جب اس سے مجھے نجات ملے گی میں شکرانے کے نفل ادا کروں گا۔ میری پوری کوشش ہے کہ اس معاملے میں میری چھٹی ہوجائے۔

تو میں عرض کر رہا تھا کہ آقا صلّی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کی کس طرح تربیت کی تھی اور آج کے قائدین، آج کے واعظین، آج کے رہنما و رہبر، وہ کس طرح تربیت کررہے ہیں۔ یہ بہت زیادہ سوچنے کی بات ہے۔ بھئی آپ صرف اس چیز پر کیوں انحصار کرتے ہیں کہ کوئی آئے اور آپ کو سنا کر چلا جائے۔ نہیں، آپ کو تاکید کی جاتی ہے کہ جو عقل اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کی ہے، قلب اللہ نے آپ کو عطا کیا ہے اس کو استعمال کریں۔ حق بھی واضح ہے اور باطل بھی واضح ہے۔ جب تم غور کرو گے تو تمہیں تب اس میں فرق نظر آئے گا۔ بھیڑ اور بکریوں کی طرح ہم نہ بن جائیں کہ جو بھی لاٹھی لیکر ہمار ے سامنے کھڑا ہوجائے تو ہم اس کی لاٹھی کے ڈر سے اس کے پیچھے چلنا شروع کردیں۔ تم انسان ہو، تم خلیفۃ اللہ فی الارض ہو۔ میں صرف کرسی پر بیٹھنے والا میں نہیں یا یہ اسٹیج پر بیٹھنے والے نہیں یا کسی دارالعلوم یا کسی کالج و یونیورسٹی میں پڑھنے والے وہ لوگ نہیں جن کو ایک سند مل گئی، جن کو ایک شان مل گیا اور ہم اپنے احساس محرومی میں ہی رہ گئے کہ بھئی اس نے بڑی کتابیں پڑھ لی ہیں خلیفۃ اللہ تو یہ ہے۔ نہیں نہیں، جتنے بھی انسان اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائے ہیں

لَقَدخَلَقنَااَلاِنسَانَ فِی اَحسَنِ تَقوِیم ۝

سب کو اس نے بہترین سانچے میں ڈھالا ہے۔ ایک مزدور جو تغاری اٹھانے والا ہے اس کو بھی بہترین سانچے میں ڈھالا، اس کو بھی وہ سب کچھ چیزیں عطا کی گئیں، اس کو بھی عقل دیا گیا، اس کو بھی آنکھیں بھی دی گئیں، اس کو دل بھی دیا گیا، اس کو سوچنے کی صلاحیت بھی دی گئی۔ اب اگر وہ خود اپنے احساس محرومی کی وجہ سے، اپنی بیوقوفی کی وجہ سے، اپنی جہالت کی وجہ سے، غلط صحبت کی وجہ سے کہ بھئی کچھ بھی نہیں ہوگا، ہم کیا کریں گے۔ جس طرح کہ بہت سارے لوگوں سے سننے میں آتا ہے کہ بھئی ہمارا تو کچھ بھی نہیں ہوگا، کیا ہوگا؟ کبھی بھی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تو تمہارے لئے سب دروازے کھول دیے ہیں۔ کوئی بھی ہو، کبھی اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ چیز نہیں سکھائی۔ ہماری اپنی کوتاہی و جہالت کی وجہ سے یہ سوچ ہمارے دل میں پیدا ہوئی ہے۔

تو میں عرض کررہا تھا آقائے نامدار صلّی اللہ علیہ وسلم نے کیا تربیت فرمائی تھی۔ جب حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو ایک علائقے یمن کی طرف گورنر بنا کر بھیج رہے تھے تو ان سے آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا اور جب وہ جارہے تھے تو آپ صلّی اللہ علیہ وسلم اس کو الوداع کرنے کے لئے جارہے ہیں۔ آج ہم جیسے قائدین نہیں جائیں گے جب تک کہ دو تین کیمرے والے نہ ہوں، جب تک کہ کوئی دس بارہ دیکھنے والے نہ ہوں، جب تک کہ کوئی مشاہدہ کرنے والا نہ ہو اور پھر جاکر دوستوں میں بتائے کہ ہاں ہاں اس نے یہ کام کیا۔ تو جو روایت مجھ ناچیز نے پڑھی ہے، میں ایک ان پڑھ سا آدمی ہوں، جو میں نے سنا اور پڑھا، ایک ایسا مفہوم ملتا ہے کہ حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلم اور معاذ بن جبل کے سوا کسی تیسرے کا تذکرہ اس روایت میں مجھے نہیں ملا۔ جارہے ہیں، معاذ بن جبل کا گھوڑا تیار ہے، اس کی لغام اس کے ہاتھ میں ہے، آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں اور ان کے ساتھ باتیں کررہے ہیں۔ اے معاذ!بتاؤ جب تم وہاں جاؤ گے تو کیا کرو گے؟ کوئی ایسی صورت، کوئی ایسا مسئلہ، کوئی ایسی مصیبت، کوئی ایسا پرابلم تمہارے سامنے آجائے تو اس کو حل کیسے کرو گے؟ تو انہوں نے عرض کیا اور اس کو کچھ ڈر نہیں، کچھ خوف نہیں۔ یا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم میں اس کو کتاب اللہ میں تلاش کروں گا۔ اس کا حل اللہ کے احکامات میں جو آپ نے ہمیں سکھائے ہیں قرآن مجید کی صورت میں۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تمہیں اس میں فی الفور نظر نہ آئے؟ تو انہوں نے عرض کیا کہ احادیث و سنۃ میں، اس کے ذریعے، اس معیار پر، اس کی کسوٹی پر اس مسئلہ کو میں حل کرنے کی کوشش کروں گا۔ تو اس طرح کی دوتین باتیں دریافت کیں۔ پھر آقا صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان سب چیزوں میں تمہیں اس مسئلہ کا حل نظر نہ آئے؟ تو حضور میں خود اس پر غور کروں گا پھر میں عقل کو استعمال کروں گا۔ میں اپنی سوچ کو اس میں استعمال کروں گا پھر مجھے جو صحیح نظر آیا میں اس کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے صحیح کہا۔ تمہیں ایسا ہی کرنا چاہیے۔

تو آقائے نامدار آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم تو عقلوں کے تالے کھولنے آئے تھے۔ ہم جیسے ایسے رہبر و رہنما آج پیدا ہوگئے ہیں کہ ہم تو لوگوں کے ذہنوں پر تالے ڈال دیتے ہیں۔ کل قیامت کے روز بارگاہ الٰہی میں بڑی مار پڑے گی۔ یقین سے جانئے ہم جیسے نام نہاد قائدین پر بڑی مار پڑے گی۔ کوئی خوف نہیں! جو بات بتانی چاہئے وہ بتاتے نہیں اور جس کی ضرورت نہیں، خاص اس پر ہمارا زور ہے۔

تو میں عرض کررہا تھا کہ ہم اور آپ کو اس دنیا میں رہتے ہوئے اپنے عقل اور فہم کو استعمال کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ ایسا ہی ہے اگر کوئی اپنے بازو کے استعمال کو ترک کردے اور اس کو بالکل ہی چھوڑدے اور اس کو ہلانا چھوڑدے تو چند مہینوں کے بعد اس کا وہ عضوہ معطل ہوجائے گا۔ اس کے جو یہ بند ہیں وہ کام نہیں کریں گے، اکڑ جائیں گے، وہ بازو جو ہے وہ ختم ہوجائے گا۔ اس طرح ہم اور آپ قلب کے ساتھ عقل کو استعمال ہی نہیں کریں گے تو عقل معطل ہوجائے گی۔

تو آپ کے سامنے جو میں نے آیۃ کریمہ تلاوت کی ہے اس سے پہلے ذرا سا، مختصر سا تذکرہ کیا جائے گا کہ زندگی جو ہم گذار رہے ہیں تو اس میں کوئی سلیقہ بھی ہونا چاہیے، کوئی طریقہ بھی ہونا چاہیے، جس طرح کہ زندگی گذارنے کا حق ہے۔ میں آؤں گا آخر میں اس ذکر پر جو کہ بنیادی چیز ہے، جو بنیادی غرض و بنیادی مقصد ہے اس محفل کا۔ تو اس دنیا کو اللہ تعالیٰ نے تخلیق کیا ہے۔ یہ دنیا اللہ تعالیٰ کا حسین شاہکار ہے، اس دنیا کی مذمت کرتے ہوئے ہمیں کچھ ڈر نہیں لگتا۔ ہم کہتے ہیں دنیا کی تو ایسی کی تیسی۔ اس دنیا میں تو کیا رکھا ہے، چھوڑو اس کو۔ ہم تو دنیا سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ ہمیں کچھ بھی نہیں چاہیے۔ بہت سارے لوگ ایسی بھی سوچ رکھتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ ایسے کچھ خشک زاہد آپ کو آج بھی مل جائیں، لیکن کیا واقعی ایسا ہونا چاہئے؟

دنیا کی مذمت کرنے سے پہلے آپ کو یہ بات بھی سوچنی پڑے گی کہ دنیا ہے کیا چیز؟ کس چیز کو آپ دنیا کہہ رہے ہیں؟ جو بھی شخص، بیشک میں بھی آپ کے سامنے ایسی بات کہوں کہ دنیا رذیل ہے، بیکار ہے، ایسی ہے ویسی ہے۔ تو مجھ سے آپ کو ضرور پوچھنا چاہئے کہ دنیا کس چیز کو آپ کہتے ہیں، متعین کریں کوئی چیز؟ جب اس کا نام آپ رکھیں گے تو پھر ہم دیکھیں گے کہ اس حقیقت میں خامیاں کتنی ہیں اور خوبیاں کتنی ہیں۔ جب کوئی متعین چیز آپ کے سامنے رکھی ہی نہیں جائے گی اور ایسے کہہ دیا جائے گا کہ بھئی یہ خراب ہے، یہ بیکار ہے، اس کو پھینک دو۔ یہ تو ایسے ہی ہوا میں تیر چلانے والی بات ہوئی۔ تو متعین چیز ہونا چاہئے کہ دنیا کیا ہے اور اس کی مذمت کرنے میں، میں حق بجانب ہوں کہ نہیں ہوں۔

میں آپ کی خدمت میں عاجزانہ گذارش کرتا ہوں کہ جس زمین پر آپ بیٹھے ہوئے ہیں یہ بھی دنیا ہے۔ اگر دنیا خراب ہے تو اس زمین پر ہم کیوں بیٹھے ہیں؟ یہی وہ زمین ہے جس میں سے اللہ تعالیٰ تیری غذا بھی پیدا کرتا ہے اور تیری پوشاک بھی پیدا کرتا ہے، اور پہاڑوں پر جب بارش برستی ہے تو برف کی صورت میں جمع ہوجاتی ہے۔ تو یہ بھی دنیا ہے۔ اس برف کے بڑے بڑے گلیشیر بن گئے، دیکھو تو عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ نانگا پربت کے پہاڑوں سے میں گذرا ایک مرتبہ تو بڑا حسین منظر تھا۔ میں زندگی میں کبھی بھی اس چیز نہیں کو بھول سکتا۔ ہر طرف برف ہی برف پھیلی ہوئی ہے۔ بہت ہی حسین منظر۔ کوئی سوچے گا بھی کہ بھئی یہ برف اتنی کیوں ہے؟ وہی بات کہ عقل کو ہم تو استعمال بھی نہیں کرتے۔ یہ برف کا اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے ایسا حسین سسٹم بنادیا ہے کہ جو میرا خلیفہ ہے زمین پر، جس کو میں نے تخلیق کیا ہے اس کو کبھی بھی زمین پر تکلیف نہ پہنچے۔ تو وہ برف جمع ہوگئی اور بہت زیادہ جمع ہوگئی اور پھر جب دور دراز علائقوں میں پانی کی ضرورت محسوس کی گئی، گرمی کا موسم آگیا، پانی کی شدت سے انسانوں کو چاہت محسوس ہوئی، پینے کے لئے، نہانے کے لئے، کھیتوں کے لئے بھی، باغوں کیلئے بھی اس کی ضرورت محسوس ہوئی۔ تو پھر اللہ تعالیٰ نے اس گرم موسم میں اس برف کو پگھلانا شروع کیا۔ یہ کس کی قدرت ہے؟ کہاں پر برف نے ہزارہا میل دور پگھل پگھل کر دریاؤں کی صورت اختیار کی اور وہ دریا جنوب کی طرف پانی کو لیکر چلنا شروع ہوگئے۔ کیسا سسٹم، کیسا نظام جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا۔ تو یہ بھی دنیا ہے۔ میں اپنے زاویہ سے بات عرض کررہا ہوں، ایک متعین چیز کے حوالے سے عرض کررہا ہوں۔ پھر اس سسٹم کو ہم کیوں برا کہہ رہے ہیں؟ یہ بھی دنیا کا ایک حصہ ہے، یہ بھی اللہ نے تخلیق فرمادیا اور بڑے بڑے دریاؤں سے پانی چھوٹے چھوٹے نالوں کے ذریعے کھیتوں تک پہنچنا شروع ہوگیا۔

یہ نہری نظام تو بعد میں ہوا لیکن دریا اس سے پہلے بھی، انگریز کے بنائے ہوئے اس سسٹم سے پہلے اپنا راستہ ڈھونڈ کر سمندر تک پہنچ جاتے تھے۔ ہزارہا گاؤں شہر راستے میں آجائیں، کھیت راستے میں آجائیں، باغات راستے میں آجائیں ان کو سیراب کرتے ہوئے چلے جارہے ہیں۔کوئی ٹیکس نہیں، کوئی آپ کے پاس بل نہیں آتا، کوئی آپ سے پیسہ طلب نہیں کیا جاتا۔ یہ اللہ نے اپنی قدرت کاملہ سے سارا سسٹم بنادیا ہے۔ یہ خدا کے عجیب مناظر میں سے ایک حسین ترین منظر ہے۔

اور پھر جن جن علائقوں میں اگر یہ نہر کا پانی نہیں پہنچ سکتا تو اللہ نے ان کے لئے بھی بندوبست فرمادیا۔ سمندر کا ذخیرہ کس لئے ہے؟ اتنا بڑا، اتنا بڑا سمندر اور پھر دیکھو ہے بھی نمکین۔ اگر یوں منہ میں پانی ڈالنے کی کوشش کرو تو منہ میں ڈال بھی نہیں سکتے۔ ایسے نمکین پانی سے اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے اپنے انسان، اپنے خلیفہ کے لئے بندوبست کا یہ بھی نظام بنادیا کہ بخارات کی صورت میں بڑے بڑے بادل بن جاتے ہیں۔ بڑے بڑے بادل جو سمندر کے اوپر بنتے ہیں۔ جب وہ بادل تیار ہوتے ہیں تو اللہ کے حکم سے ہوائیں چلتی ہیں۔

یہ کارگو سسٹم، جس طرح ایئر لائن والے کہتے ہیں کہ بھئی ہمارے کارگو ایئر لائن آپ کا ایک من ہو، آپ کے دس من یا ایک ٹن کا سامان ہو، آپ جہاں بھی کہیں ہم پہنچادیں، لیکن ان کے پیسے دینے پڑیں گے۔

لیکن بڑے بڑے یہ بادل، پانی کے کنٹینر خدا کے حکم سے ہوا میں ٹہلتے ہوئے جارہے ہیں۔ کیا حسین نظارہ ہے۔ جارہے ہیں ان تھر کے علائقوں کی طرف جہاں کبھی بھی کوئی نہر نہیں گذری۔ جہاں لوگ پانی کو ترستے ہیں۔ جہاں انسان، حیوان، درند پرند، جانور، حشرات الارض سب پانی کو ترستے ہیں۔ خدا کے حکم سے وہ کنٹینر چل چل کر کر وہاں پہنچتے ہیں اور وہاں پانی برساتے ہیں۔ ایسا کوئی سائنسدان کرسکتا ہے؟ بڑے سے بڑا کوئی حکیم، عقلمند انسان ایسا کرسکتا ہے؟ یہ بھی دنیا میں شامل ہے۔

تو یہ دنیا اللہ کی بڑی حسین چیز ہے، بہت ہی خوبصورت چیز ہے۔ اس کی تعریف و توصیف خود اللہ قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ میری نہروں کو دیکھو، میرے سمندر کو دیکھو۔ کیسے اس کے اندر کشتیاں چلتی ہیں، اس میں جہاز چلتے ہیں اور اس سمندر میں کس طرح میری مخلوق رہتی ہے۔ اللہ خود اپنی قدرت کو قرآن مجید میں بیان فرماتا ہے۔ تو یہ دنیا اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے تخلیق کی ہے، اس سے رو گردانی نہیں کرنا، اس کو پیٹھ دیکر الگ نہیں ہوجانا ہے۔ اس دنیا کے حقائق، اس کے فوائد، اس کے ثمرات صرف تمہارے لیے ہیں۔ اللہ فرماتا ہے۔

ھُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَکُمْ مَّا فِیْ الاَرْضِ جَمِیْعَا ۝

اے انسان! تیرے لئے ہی ہے سب کچھ۔ بلا تمثیل و تشبیہ جیسے کوئی باپ اپنے بیٹے سے کہتا ہے ”بیٹے آؤ، آفس میں بیٹھو، کام کرو“۔ وہ بھاگتا ہے کہ میں نہیں بیٹھوں گا۔ ”بیٹا اتنا میں کاروبار بنا رہا ہوں، اتنا بڑا میرا بزنس ہے، اتنا زیادہ میرا پیسہ ہے، اتنے بڑے بینک بیلنس ہیں۔ جب تم کام کرو گے تو تمہارا بنک بیلنس اور بھی بڑھے گا، تمہارے پیسے اور بھی بڑھیں گے۔ یہ سب تمہارے لئے ہی تو ہیں“۔ تو اسی طرح اللہ سمجھا رہا ہے دیکھو میری زمین کو، میرے پانی کو دیکھو، میرے سمندر کو دیکھو، درختوں کو دیکھو یہ سب تیرے لئے ہیں۔

خَلَقَ لَکُمْ مَّافِیْ الاَرْضِ جَمِیْعَا ۝

اس زمین میں جو کچھ بھی ہے وہ تیرے لیے ہی ہے۔ اس لئے اس دنیا کو خدا کی نعمتوں میں سے ایک حسین نعمت سمجھنا چاہیے۔ میرے آقا و مولا آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا کہ جب کوئی اچھی سے اچھی چیز آپ کے سامنے پیش کی جاتی تھی آپ صلّی اللہ علیہ وسلم شکر الحمدللہ کہہ کر اس کو قبول فرماتے تھے۔ کسی نے بھی کوئی تحفہ کسی بھی موقع پر آپ کی خدمت میں پیش کیا تو کبھی بھی آپ نے یہ تو نہیں فرمایا کہ بھئی یہ واپس لیکر جاؤ، یہ نہیں چاہئے۔ یہ تو دنیا ہے بلکہ آپ تو آفرین دیتے تھے، ان کو دعائیں دیتے تھے۔

اب دنیا تو ہوگئی لیکن اس دنیا کا استعمال کرنا بھی ہمیں سیکھنا ہے کہ کس طرح استعمال کی جائے۔ اس کے مصارف ہمیں سمجھنے چاہییں تاکہ ہم صحیح معنیٰ میں اس دنیا کے ثمرات و فوائد سے بہرمند ہوسکیں۔ ہمارے آقا و مولا آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کی اتنی کھلی طبع مبارک تھی کہ کوئی تکلف نہیں تھا۔ اگر آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کوئی سبزی پیش کی جاتی تو بھی آپ صلّی اللہ علیہ وسلم بلا تکلف اس کو نوش فرما دیتے۔ اگر مرغی کا گوشت پیش کردیا جاتا تو سبحان اللہ کہہ کر وہ بھی استعمال فرما دیتے۔ شہد پیش کیا جاتا بسم اللہ کرکے استعمال کر دیتے۔ خشک زاہدوں کی طرح نہیں جیسے آج کل ایسے بہت سے لوگ ہوتے ہیں ”بھئی میں نے تو فلاں چیز چھوڑدی“ بھئی یہ کیوں چھوڑ دیا؟ جو تمہیں پسند ہو وہ صحیح ہے، جو تمہارے نفس کو پسند نہیں ہے وہ صحیح نہیں ہے۔ یہ میرے آقا و مولا آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ نہیں تھا۔

صحابہ کو جو آپ نے تربیت دی، ان کی ذہن سازی فرمائی، ان کی کردار سازی فرمائی اور یہی فرمایا کہ دنیا کے تم اندر رہو، دنیا سے باہر نہیں رہنا۔ اور یہی ہمارے مشائخ ہمیں سکھاتے ہیں۔ اور طریقہ والے، ان کے طریقے بہت پیارے ہیں، ہمارے پاس ان کی عزت ہے، بلاشک وہ اپنے طریقہ سے اپنے احباب کی تربیت کریں۔ لیکن یہ عاجز عرض کرتا ہے صوفی وہی ہے جو دنیا کے اندر رہے۔ دنیا سے باہر رہنے کی بات نہیں کی جارہی۔ دنیا والوں کے ساتھ رہیں۔ اپنے آپ کو بھی ان میں سے ایک سمجھیں۔ میری طرح کوئی نرالی مخلوق نہ بن جائیں جس طرح مجھے آپ لوگوں نے بنادیا ہے۔ بڑا ظلم ہے، بہت بڑا ظلم ہے۔ اللہ پناہ دے ایسی زندگی سے۔

وہ آدمی سب سے بہترین ہے جو سب لوگوں کے ساتھ ایک جیسا ہے، ان کے ساتھ بیٹھتا ہے، ان کے ساتھ اٹھتا ہے، ان کے ساتھ پیار کرتا ہے۔ یہ زندگی ایسی زندگی ہے جو میرے آقا و مولا آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کو بہت پیاری تھی۔ یہی آپ کا معمول تھا۔ ہم نے پتا نہیں دین میں کیا شامل کردیا ہے۔ میں نے پہلے ہی بات کی تھی کہ آخرت میں بڑی مار پڑے گی۔ جو کچھ ہم کررہے ہیں ہم اس کو دین کہتے ہیں، لیکن دین کی حقیقت کیا ہے؟ بڑے بڑے عالموں سے پوچھو گے وہ بھی اپنے مسلک کی بات کریں گے اور بس۔ لیکن دین کی حقیقت کیا ہے، دین ہے کیا چیز؟ جیسا کہ ہمارے سندھ کے عظیم شاعر حضرت بھٹائی صاحب کا شعر جو دوست پڑھتے ہیں۔

دين نبي ڪريم جو ٿيو نماڻو نروار

شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلم کا جو دین ہے وہ بیچارہ ہوگیا ہے۔ کس نے بیچارہ بنایا ہے؟ جو دین کے داعی ہیں، جو کہ دین کا نام لیتے ہیں، جو دین کے رہنما و رہبر بنے پھرتے ہیں، انہوں نے ہی اس کو بیچارہ بنادیا۔ سوچنا چاہیے میرے آقا صلّی اللہ علیہ وسلم نے کیا دین ہمارے سامنے پیش کیا تھا اور ہم نے اس کا حلیہ کیا بنادیا ہے۔

تو میرے دوستو! میں اپنے اس موضوع پر آتا ہوں کہ دنیا میں رہنے کا سلیقہ اور طریقہ حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم نے کیا اختیار فرمایا۔ اگر دنیا سے روگردانی فرماتے پھر شادیاں کیوں کرتے؟ اگر یہ چیزیں خراب ہوتیں تو آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم ان چیزوں کو کیوں پسند فرماتے؟ تو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں جتنی بھی چیزیں اللہ نے تخلیق فرمائیں وہ سب بامقصد ہیں۔ ان کی حقیقت سمجھنے کی کوشش کرو۔ ایسے نہ کہو کہ دنیا تو ایسی ویسی ہے۔ اس طرح کی باتیں شریعت سے تعلق نہیں رکھتیں۔ اس طرح کی باتیں تصوف سے تعلق نہیں رکھتیں۔ یہ کسی کی ذاتی رائے ہوسکتی ہے۔

تو اب اس کا مفہوم میں آپ کو عرض کرنا چاہتا ہوں کہ دنیا میں رہتے ہوئے، دنیا کے کام کرتے ہوئے، دنیا کی تجارت کرتے ہوئے، زراعت، ملازمت، دھندہ، کاروبار، یہ سب کرتے ہوئے تم اپنے رب کے حقوق کو بھی ادا کرنا مت بھولو۔ اس کے ذکر سے بھی مت غافل ہو۔ تو یہ دنیا تمہارے خدا کی نظر میں عین ثواب بن جائے گی۔ اگر یہ تجارت خراب ہوتی تو صحابہ تجارت کیوں کرتے۔ بازاروں میں جاکر دکانوں پہ بیٹھنا، کاروبار کرنا، لین دین کرنا اگر ناپسندیدہ ہوتا تو حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ جن کے بارے میں میں نے کسی کتاب میں پڑھا ہے کہ جب ان کی وفات ہوئی تو اتنی زیادہ دولت اپنے ترکے میں چھوڑی تھی کہ سونا اتنا زیادہ تھا کدالوں سے نکالا جارہا تھا، اور حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں شامل ہیں، وہ کیوں تجارت کرتے؟ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ مشہور صحابی، میرے آقا صلّی اللہ علیہ وسلم کے چہیتے۔ جب ان کی وفات ہوئی تو بیشمار دولت انہوں نے اپنے ورثے میں چھوڑی۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو تلقین کی تھی کہ تم کاروبار بھی کرو، تجارت بھی کرو، دنیا کے کام بھی کرو، دنیا کے دھندے بھی کرو، دور دراز علائقوں میں جاکر بھی کرو، یہاں بھی کرو۔ لیکن ان سب باتوں کو کرتے ہوئے یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتیں ہیں تاکہ تمہارے دل میں تکبر نہ آئے، تمہاری گردن میں سریہ نہ آجائے، اکڑ نہ آجائے۔ یہاں آکر فرق پیدا ہوتا ہے ایک ایمان والے کا اور ایک ایسے شخص کا جو دنیا کی حقیقت کو نہیں جانتا اور دنیا ہی کو سب کچھ سمجھتا ہے اور اس کو دل دیکر بیٹھتا ہے اور اپنے رب کے ذکر سے غافل ہوجاتا ہے، اس کی یاد سے غافل ہوجاتا ہے، مخلوق کے ساتھ مہربانی نہیں کرتا انصاف نہیں کرتا، اور یہیں پر آکر وہ مار کھاتا ہے۔ جو میں نے آیۃ کریمہ تلاوت کی اس میں بھی اللہ تعالیٰ نے اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ

مَا یَفْعَلُ اللہُ بِعَذَابِکُمْ اِنْ شَکَرْتُم ْوَاٰمَنْتُمْ ۝

اگر تم شکر کرو اور ایماندار ہو جاؤ تو خدا تعالیٰ تمہیں عذاب کیوں دے گا۔ میں تم سے پوچھتا ہوں شکر کب ہوگا؟ شکر تب ہوگا جب نعمت تمہیں نظر آئیگی۔ اگر تمہاری نظر کے سامنے کوئی نعمت ہی نہیں ہے تو شکر کس چیز کا کرو گے؟ اس زمین پر جتنی بھی تخلیقات اللہ تعالیٰ کی ہیں، یہ سب نعمتیں ہیں۔ اب اگر تم ان چیزوں کو حاصل کرلیتے ہو اپنی محنت سے، اپنی کوشش سے، اپنی تجارت سے اور اس کو مِن اللہ یعنی اللہ کی طرف سے سمجھتے ہو تو کہو گے یہ نعمت ہے، یعنی کہ انعام ہے اللہ کی طرف سے۔ تم نے خود مزدوری کی یا تجارت کی۔ جب وہ چیز آپ کے ہاتھ میں آئے گی تو آپ کہیں گے کہ یہ نعمت مجھے مل گئی۔ جب یہ نعمت تمہیں نظر آئے گی پھر تم شکر کرو گے اور شکر کرنے کا اللہ نے بہت زیادہ تاکید فرمایا ہے کہ میرے شکر گذار بندے بن جاؤ۔ تو اس آیت میں بھی اللہ فرماتا ہے کہ اگر تم شکر گذار بن جاؤ اور ایمان والے بن جاؤ تو اللہ تمہیں عذاب دیکر کیا کریگا۔ میں ترجمہ عرض کررہا ہوں، یعنی دو باتوں کا تذکرہ کیا ہے۔ ایمان بھی اور اسکے ساتھ تم شکر گذار بندے بھی بن جاؤ۔ جب یہ دو چیزیں تمہارے اندر آجائیں گی تو اللہ تعالیٰ تمہیں عذاب دیکر کیا کریگا؟ وہ تو بڑا مہربان ہے، وہ توبڑا شفیق ہے۔ تو نعمتوں کو نظر آنا چاہیے اور نعمتیں اس کو نظر آئیں گی، یعنی انعام جب کوئی ایسا شخص آپ کو تحفہ دیدے جس سے آپ کی محبت ہو۔ اگر کوئی ایسا شخص آپ کو تحفہ دیتا ہے جس سے آپ کی محبت نہ ہو تو اس سے لینا بھی پسند نہیں کرو گے ”بھئی تم کون ہوتے ہو مجھے پیسے دینے والے“ یا تمہیں کوئی تحفہ دیدے تو ہوسکتا ہے تم اسے پسند ہی نہ کرو۔ لیکن اگر ایسا شخص دے جس کے ساتھ آپ کی محبت ہے، جس سے تمہارا پیار ہے، جس سے تمہاری دلی الفت ہے تو پھر تم ہر جگہ اس کی ثناخوانی کرتے پھرو گے ”بھئی اس نے یہ پیسے مجھے دیے ہیں“ کیونکہ اس کے ساتھ تمہاری محبت ہے، تمہارا انس ہے۔ یہی کچھ صورت حال اے انسانو ہماری ہے۔

اللہ تعالیٰ تو نعمتیں سب کو دیتا ہے، لیکن بیشمار لوگ ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی عظمت کو نہیں جانتے، اس سے پیار نہیں کرتے، ان کے قلوب اس کے پیار سے خالی ہیں۔ تو ان نعمتوں کی شکر ادئیگی کا ڈھنگ اور سلیقہ ہی ان کو نہیں آتا۔ اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے دل میں اللہ کی محبت اور پیار ہوتا ہے، پھر جب ان کو مِن اللہ کوئی چیز مل جاتی ہے یعنی کوئی بھی چیز۔ بظاہر انہوں نے خود محنت کی تو پھر بھی وہ کہتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے اور پھر اس نعمت سے انہیں پیار ہوجاتا ہے اور اس پیار کی وجہ سے خدا کی شکر ادائی کرتے ہیں۔ شکر ادائی صرف زبان سے تعلق نہیں رکھتی بلکہ یہ دل سے تعلق رکھتی ہے۔ وہ سراپا شکر بن جاتا ہے۔ وہ لمحہ لمحہ اپنے رب کی نعمتوں پر بچھ بچھ جاتے ہیں اور اپنی حماقتوں، اپنی غلطیوں کو کبھی بھی نہیں بھلاتے۔ جب وہ تنہائیوں میں ہوتے ہیں تو اپنے آپ پر اپنا احتساب کرتے ہیں۔ ہوسکتا ہے تھپڑیں بھی مارتے ہوں اپنے آپ کو۔ مولوی صاحبان کہیں گے تم اپنے آپ پر ظلم کر رہے ہو، اپنے آپ کو تھپڑیں کیوں مار رہے ہو؟ لیکن اس لئے ماریں گے کہ جو اتنی نعمتیں کررہا ہے، جس کی اتنی مہربانیاں ہیں، اتنے اعزاز بخشے ہیں، میں نے یہ کیا کردیا۔ اپنی غلطیوں، اپنی حماقتوں پر روئیں گے۔ دل ان کے کڑھتے ہیں۔

حضرت امیر عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے متعلق حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یا اور کوئی صحابی کہتے ہیں کہ جب وہ تنہائی میں جاتے تو اپنا درہ اپنی ساق پر مارتے کہ اے عمر تم نے یہ کیا کردیا۔ وہ اپنے درے سے جو عمر رضی اللہ عنہ کا درہ مشہور ہے اپنے آپ کو مارتے تھے۔ آپ ہی کا قول مبارک ہے کہ ”حاسبوا قبل ان تحاسبوا“۔ اپنا احتساب کرو اس سے پہلے کہ تمہارا احتساب کیا جائے۔

تو میرے دوستو یہ دنیا بہت ہی خوبصورت اللہ تعالیٰ نے بنائی ہے، اس کو مزید خوبصورت بناؤ، اس کو اچھا بناؤ۔ خدا تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر کرو اور اس نعمت سے کسی اور کو بہرمند ہوتے دیکھو تو بھی شکر کرو۔ اپنے بھائیوں کی خوشیوں میں بھی تم خوش ہوجاؤ۔ اپنے بچوں کی خوشیوں میں بھی خوش ہوجاؤ۔ بڑی خوشیاں ہمارے اردگرد بستی ہیں جن سے ہم صرف نظر کردیتے ہیں۔ چاہتے ہیں کہ جو میں ہی سوچتا ہوں وہی ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ تو قدم قدم پر خوشیاں دیتا ہے، قدم قدم پر نور دیتا ہے، مغفرتیں دیتا ہے، عنایتیں دیتا ہے۔ میرے آقا و مولا آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے عنایتیں ہوتی ہیں قدم قدم پر، لیکن ہو کچھ شناس، ہو کچھ فہم، ہو کچھ عقل، کچھ سمجھ ہو۔ ہماری سندھی زبان میں مثال دیتے ہیں کہ

گڏھ ڇا ڄاڻي گلقند مان

گدھے کو کیا پتہ کہ گلقند کیا چیز ہے۔ حکیم صاحب اگر گدھے کو گلقند کھلانا چاہیں تو گدھے کو کیا پتہ کہ گلقند کیا ہے۔ وہ تو اس کو گھاس سمجھ کر کھا جائیگا۔ اسی طرح نعمتیں تو ہمیں بیشمار ملتی ہیں مگر ہم بھی گدھے کی طرح گلقند کا قدر نہیں جانتے۔ اگر تم ذکر کرنا شروع کردو، اگر تم اپنے دل میں اپنے رب کا پیار بسادو، اگر تم اپنے دل سے بغض و کینہ نکال دو، کوئی بھی ہو، تو دیکھو پھر کیسے تمہارے دل میں خوشیاں آتی ہیں، طمانیت آتی ہے، نور آتا ہے۔ پھر کیسے تمہاری زندگی سہل بن جاتی ہے اور کس طرح تم لوگوں کے مددگار بن جاتے ہو۔ ہم تو چاہتے ہیں کہ سب لوگ میری مدد کریں۔ ہم جیسے لوگوں کے لئے یہ لطیفہ مشہور ہے کہ کوئی ڈوب رہا تھا جو ہمیشہ لینے والوں میں سے تھا، تو اس سے کسی نے باہر والوں میں سے کہا کہ ”مولوی صاحب ہاتھ دو“۔ وہ ڈبکیوں پے ڈبکیاں کھارہا ہے لیکن ہاتھ نہیں دے رہا، تو اس نے کہا ”مولوی صاحب ہاتھ لو“۔ اس نے فورا ہاتھ دیا اور کہا کہ پہلے اگر ہاتھ لینے کی بات کرتا تومیں اتنی ڈبکیاں نہیں کھاتا، تم دینے کا مجھے کہہ ر ہے تھے۔ ہے یہ لطیفہ لیکن بڑا معنی خیز ہے۔

ہم مولویوں کے بارے میں ایسی باتیں کرتے ہیں، ان کو کہتے ہیں لیکن برے، خراب ہم خود ہیں۔ ہم اور آپ سب اس لئے خراب ہیں کہ ہم اپنا سارا زور اپنے ظاہر پر لگاتے ہیں۔ کسی کو نیک بننا ہے تو وہ سارا زور اپنے ظاہر پر لگاتا ہے۔ بھئی متشرع بن گیا، لوگوں نے کہدیا کہ بھئی یہ صوفی ہے، بات ختم۔ او بیوقوف، او احمق اپنے تیرے اندر کا کیا حال ہے؟ اس کو کتنا سجایا؟ اس میں کیا خوبی پیدا ہوئی؟ اس میں کونسا نور آیا؟ ایمان کا کچھ ذرہ تمہارے دل میں بھی آیا یا نہیں آیا؟ سارا زور ہمارا ظاہر پر ہوتا ہے، یہ بڑی حماقت ہے۔ لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں لیکن اللہ کی ذات علیم بذات الصدور ہے، وہ سب کچھ جانتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ ان سے وہ لوگ اچھے ہیں جو دنیا میں رہتے ہیں، دنیاداری کرتے ہیں لیکن ان کا ظاہر باطن ایک جیسا ہے۔ وہ فائدے میں ہیں۔ اور ہم سارا زور اپنے ظاہر پر لگاتے ہیں۔ اس لئے حضرت غوث اعظم پیران پیر دستگیر شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”ظَاھِرُکَ مُسْلِم اَمَّا بَاطِنُکَ فَلَا“۔ تمہارا ظاہر مسلمان ہے، لیکن باطن تمہارا مسلمان نہیں ہے۔ کیوں کہہ رہے ہیں؟ اس لئے کہہ رہے ہیں کہ تم نے دل میں بغض اور کینے کو جگہ دی ہوئی ہے۔

میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ تم میں سے کوئی ایک بندہ ایسا بھی ہے کہ جس کے دل میں کسی کے لئے بغض نہ ہو، کسی کے خلاف بھی نہیں؟ اگر کوئی ایسا ہے تو وہ تو بھئی مبارک باد کے قابل ہے۔ میں کہون گا کہ صحیح معنیٰ میں ولی وہ ہی ہے۔ لیکن یہ بات اتنی آسان نہیں ہے۔ اس کے لئے دل میں جھانکنا پڑیگا۔ ہے ہم میں صلاحیت؟ ہے صلاحیت؟ ہے اتنی گہری نظر؟ اتنی گہری کہ دل کے اندر چلی جائے۔

دل کوئی اتنی چھوٹی چیز نہیں کہ تم گیند کی طرح اس کو یوں کرکے دیکھ لو۔ دل اتنی گہری ہے، اتنی بڑی دنیا ہے کہ اگر تم ساری زندگی دل کا سیر کرتے چلے جاؤ، کرتے چلے جاؤ، ساٹھ سال، ستر سال، اسی سال تمہاری عمر ہوجائے دل کا سیر مکمل نہیں کرسکتے۔ اتنی گہری ہے یہ دل کی دنیا۔

کس کے پاس ہے ایسی صلاحیت، کس کے پاس ہے وہ ذہن، کس کے پاس ہے وہ فراست ایمانی کہ اپنی دل میں جھانک کر دیکھیں؟ لیکن فرصت ہی نہیں۔ اوروں کو دیکھیں گے۔ بڑا بازار گرم ہے، جہاں بھی چلے جاؤ، بڑے بڑے مقررین واعظین کو سنو، یہی بات آپ کو سنائی جائے گی۔ وہ ایسا ہے، یہ ایسا ہے، اس کی ٹانگ پکڑو، اس کا کان کاٹو، اس کو اڑادو۔ کوئی بھی ا پنے آپ کو نہیں دیکھتا۔ تو پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب تمہارا اگر یہ حال ہوگا تو عذاب تو آئے گا ہی آئے گا۔ بے شکری بھی ہوگئی۔ ایمان بھی ہم نے صرف اپنے جسم پر سجالیا جیسے کوئی لباس ایمان پہن لیا۔ بس ٹھیک ہے کوئی ایک ایسا ملبوس جو ہم نے پہن لیا اور بس ہم سب ایماندار ہوگئے۔ حالانکہ ایمان ان کے دلوں میں آیا ہی نہیں۔ ایمان کے لئے ان کے دل صحیح معناؤں میں کھلے ہی نہیں ہیں۔ وہ تالے بند ہیں، زنگ آلود ہوچکے ہیں۔ وہ تالے توڑنا کوئی آسان بات نہیں کہ یہ تالے ٹوٹ جائیں اور اس کی کثافت زدہ دل کی دنیا کھل جائے اور پھر ان کے اندر جو بھی خرابیاں ہیں، بغض ہے، کینہ ہے، جو بھی غیراللہ کی محبتیں ہیں، ان سب کو پاک صاف بنانا، یہ کوئی مذاق نہیں ہے۔

دوستو! اگر معزز بننا چاہتے ہو اللہ کی نظر میں، تو پھر تمہیں یہ کام کرنا پڑے گا۔ ورنہ آج جو یہ صورتحال جو تمہارے اوپر ہے، جو تکالیف، مشقتیں، پریشانیاں تمہیں نظر آرہی ہیں، اس لئے ہیں کہ ہم نے دین کی حقیقت کو بھی نہیں سمجھا اور دنیا کی حقیقت کو بھی نہیں سمجھا۔ مل کر بیٹھو۔ سب کو دعوت دی جارہی ہے، غور کرو۔ دنیا کیا ہے اور دین کیا ہے؟ اور ان میں فرق کہاں پیدا ہوتا ہے؟ ایسا تو نہیں ہے ہم جس کو دین سمجھ رہے ہیں وہ دنیا ہے اور جس کو دنیا سمجھ رہے ہیں وہ دین ہے؟ سوچنے کی بات ہے۔

تو دوستو! اللہ تعالیٰ ہم اور آپ کو یہ توفیق دے کہ احساس پیدا ہو، یہ ندامت پیدا ہو، یہ پشیمانی پیدا ہو کہ ہم کچھ ٹائم نکالیں۔ میں پھر وہی بات عمر فاروق رضی اللہ عنہ والی عرض کرتا ہوں کہ جب آپ فارغ ہوجاتے، میں نوافل کی بات نہیں کررہا، غور سے سنئے گا۔ میں احتساب کی بات کر رہا ہوں۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ بیٹھ کر غور فرماتے تھے کہ عمر آج تم نے کیا کیا؟ جب کوئی غلط بات یاد آتی درہ مارتے تھے یہ کیا کیا تو نے۔ ہمیں تو کچھ بھی یاد نہیں۔ ہم تو بالکل ٹھیک ٹھاک ہیں۔ ہم جو کرتے ہیں وہ فرسٹ کلاس۔ او بیوقوف! اس طرح کبھی بھی تم عزت، مرتبہ، شان مان نہیں پاسکتے۔ یہ کیفیت اپنے اندر پیدا کرو۔

میرے آقا و مولا آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک اعرابی آیا اس نے عرض کیا ”یا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم میرے سامنے اگر کوئی بات آجائے اور میں پھنس جاؤں کہ یہ صحیح ہے یا غلط ہے تو پھر میں کیا کروں“۔ حضور صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اِسْتَفْتِأ بِقَلْبِکَ“ اعرابی، ان پڑھ، جاہل، بدوی، جنگل کا رہنے والا، لکھنے پڑھنے کا سلیقہ نہیں۔ اس کو بھی فرمایا کہ اپنے قلب، اپنے دل سے پوچھ لینا۔ کتنا بڑا دل ہے، کیا اس کا مقام ہے۔ کیا اس کو اعتماد دے رہے ہیں۔ کتنا اس کا حوصلہ بڑھا رہے ہیں۔ بھئی تم تو عالم ہو۔ ہم تو کہیں گے تم جاہل ہو، تم ایسے ہو، ویسے ہو، آؤ میرے پاس میں تمہیں بتاتا ہوں۔ یہ ”میں وہ میں“ نے ہمیں ماردیا۔ ہمارے حضرت فرماتے تھے

تکبر تاڑے ٹرائے گھر مُٹھے سید مُلا مِصر
وڈے وڈے آپ کہاون وڈے گیئن وسر

تکبر نے تین گھرانوں کو نقصان پہنچایا۔ ایک سید کو، وہ کہے گا میں سید زادہ ہوں مجھے کیا ضرورت ہے میں کسی کے پاس جاؤں، تربیت کراؤں۔ میں تو خود بڑے مقام اور شان کا مالک ہوں۔ اور ملا، وہ بھی کہے گا میں تو خطاب کرتا ہوں، تقریر سناتا ہوں، کتابیں پڑھتا ہوں، میر افلاں استاد، اس کا فلاں استاد، اس کا فلاں استاد۔ وہ بھی کبھی اپنی احتیاجی علم کو ظاہر نہیں کرے گا۔ مصر یعنی وڈیرہ، چوہدری، وہ بھی کبھی اپنی انکساری و عاجزی کا مظاہرہ نہیں کرے گا۔ ہمارے حضرت فرماتے ہیں ان تینوں کو تکبر نے نقصان پہنچادیا۔

یہاں پر ایک بات آپ نے محسوس کی ہوگی کہ جب بھی علماء کو دعوت دی جاتی ہے تو وہ جب بات کرتے ہیں تو وہ انکساری سے کرتے ہیں، عاجزی سے کرتے ہیں، یہ کیا چیز ہے؟ ایسی بات آپ کو ہر ایک جلسے میں نہیں ملے گی۔ لیکن یہاں پر کسی بھی عالم دین کو جو میرے حضرت کے صحبت یافتہ ہوں، ان کو کھڑا کردیں یہ انکساری کرے گا۔ دل کا راز اللہ جانتاہے لیکن عالم اور انکساری آج کے دور میں مشکل ہے۔ اسی طرح میں سنتا ہوں۔ یہ کیا چیز ہے جو علماء سے کہلواتی ہے کہ میں ناچیز ہوں، میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ وہ تو اسٹیج پر آئیگا اپنا فن دکھانے کیلئے، اپنا علم دکھانے کے لئے۔ یہ وہ نظر ہے جو ہمارے مشائخ کی عنایت ہے، ان کی توجہ ہے، ان کا تصرف ہے جو علماء کے اندر کو بھی متاثر کرتا ہے، ان کو منور کرتا ہے۔

تو جو میں نے اتنی لمبی گفتگو کی کہ یہ دنیا بڑی خوبصورت ہے اس کا مفہوم کیا ہوا؟ اس دنیا، جو کہ اللہ کی نعمت ہے، اس کو بگاڑو نہیں، اس کی مذمت نہیں کرو، اس سے منہ مت موڑو۔ دنیا میں رہنا ہے، دنیا کے ساتھ چلنا ہے اور ان نعمتوں کو اللہ کی طرف سے جاننا ہے اور کوشش بھی خوب کرنی ہے۔

پھر اس عاجز نے یہ بات عرض کی کہ دنیا ہے کس چیز کا نام، اس پر بھی غور کرو۔ پھر اس عاجز نے یہ کہا کہ دین کی حقیقت کو جاننے کی کوشش کیجئے۔ اور پھر میں نے یہ بات کی کہ چونکہ دین و دنیا کے حقائق سے ہم لاعلم ہیں اس وجہ سے بین الاقوامی طور پر ہم شدید پریشانیوں کا شکار ہیں۔ اس بات پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔

اور پھر سب سے مقدم اور اہم بات یہ ہے کہ آپ سب کو دعوت ہے آپ سراپا محبت بن جائیں، کینہ اور بغض دل سے نکال دیں۔ جتنے بھی لوگ آپ کے آس پاس بستے ہیں ان سے آپ پیار کریں، ان سے محبت کریں، ان سے پیار و محبت سے گفتگو کریں۔ یہ میرے آقا صلّی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ آقائے نامدار صلّی اللہ علیہ وسلم کی تو وہ عظمت تھی کہ کوئی بھی دعوت کے لئے آتا تھا تو انکار نہیں فرماتے تھے۔

ایک مرتبہ حضرت علی شیر خدا رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ایک ایرانی فالودہ لے آیا تو آپ فالودہ کھانے لگے۔ بڑا مزیدار ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا بھئی یہ کس خوشی میں ہے؟ تو ایرانی لوگوں نے کہا کہ یہ نوروز ہے۔ ان کی کوئی عید ہے۔ ہم بھی جب دبئی جاتے ہیں تو سارا دبئی بند ہوتا ہے، وہ کہتے ہیں آج ایرانیوں کا نوروز ہے۔ تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا کہ ایرانیوں کا سال میں ایک بار نوروز ہوتا ہے، ہمارا تو ہر روز نوروز ہے۔ کھاتے بھی گئے یعنی کہ نعمت سے خوش بھی ہورہے تھے، بہرمند ہو رہے تھے۔ اس طرح ہمیں بھی خدا تعالیٰ کی کوئی نعمت استعمال کرتے ہوئے، کھاتے ہوئے شکر ادائی کرنی چاہیے لیکن اس کے ساتھ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے اس طرح بھی نہیں کہ بھرتے چلے جاؤ پیٹ کو بوری کی طرح، اور یوں بھردو کہ گنجائش ہی نہ رکھو۔ یہ ممنوع ہے شریعت کے لحاظ سے۔ میں کم ازکم یہ کہوں گا کہ ناپسندیدہ ہے، کیونکہ آقا و مولا آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جب بھی کھانا تناول کرو تو تین حصے کرو اپنے معدے کے۔ ایک حصہ کھانے کے لئے، دوسرا حصہ پانی کے لئے، تیسرا حصہ سانس لینے کے لئے بھی چھوڑدو۔ یہ نہیں کہ جب سانس لینے کی کوشش کرو تو چاول باہر آنا شروع ہوجائیں یا حلوہ باہر آنا شروع ہوجائے، پھر کھانسی شروع ہوجائے اور وہ حلوہ آپ کی سانس کی نالیوں میں آجائے۔ اس طرح مت کیا کریں۔

لباس پہننے کے سلسلے میں عرض کروں کہ ہمار ے حضور پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ بڑے نفیس لباس پہنتے تھے، بہت ہی پیارا، بہت ہی حسین۔ بہت سے لوگ معترض ہوتے تھے، بہت سے لوگ اس پر غم و غصہ کا اظہار کرتے تھے۔ لیکن کوئی شریعت میں ممنوع نہیں ہے۔ ہمارے مشائخ نقشبند اس معاملے میں بہت ہی کھلے دل سے اچھی اچھی چیزوں کو استعمال کیا کرتے تھے۔ بہت سارے لوگ ہوتے ہیں جو کپڑے پہننے کے بعدکہتے ہیں کہ یہ تو بہت سخت ہیں، یہ مجھے پریشان کرتے ہیں۔ جب تمہیں پریشانی ہورہی ہے تو ایسے کپڑے کیوں پہن رہے ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

وَلَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیَکُمْ اِلَی التَّھلُکَۃِ ۝

اپنے آپ کو تکلیف میں مت ڈالو، ہلاکت میں مت ڈالو۔ اسی طرح تم اچھا لباس پہنو، اگر تمہیں ضرورت ہے تو ہلکا لباس پہنو، نرم اور نفیس لباس پہنو۔ لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ تم غلط طریقے سے، جتنی تمہاری طاقت بھی نہیں ہے، اپنی طاقت سے بڑھ کر نہیں، جتنی تمہاری حیثیت ہے، طاقت ہے اس کے مطابق۔ اور پھر یہ بھی نہیں کہ

بہ بیں ایں بے ھمیت را کہ ہرگز، نہ خواہد دید روئے نیک بختی
تن آسانی گزینند خویش تن را، زن و فرزند را گذارد بہ سختی

شیخ سعدی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں اس بے ھمیت کو دیکھو۔ عیش خود اڑاتا پھرتا ہے، دوستوں کو کھلاتا پھرتا ہے، اور بیوی بچوں کو تکلیف میں رکھتا ہے۔ فرماتے ہیں بے ھمیت ہے یعنی بے غیرت ہے۔ ایسے مت بنو۔ جو بھی اللہ نے تمہیں دیا ہے خود بھی استفادہ کرو، اپنے اہل و عیال پر بھی خرچ کرو۔ جتنا تم خدا کی خوشی کے لئے اپنے بچوں پر، اہل و عیال پر، اپنے پڑوسیوں پر خرچ کرو گے اتنا زیادہ تمہیں اللہ عطا فرمائیگا۔ اس مال اولاد کی محبت حاوی نہیں ہونی چاہیے۔ دل میں محبت ایک اللہ کی ہو لیکن اس حوالے سے ان چیزوں کا قدر ہو کہ یہ نعمت اللہ کی طرف سے ہے۔

اب ذکر کے بارے میں عرض کروں کہ بائیں جانب قلب انسانی ہے۔ اس دل میں ذکر کا خیال رکھیں ہر وقت۔ وضو ہو یا نہ ہو، سانس آتا جاتا رہے، توجہ دل میں رہے۔ یہ بڑا عظیم ذکر ہے، بہت ہی عظیم ذکر ہے۔ تم جب اللہ کی نعمتوں کو استعمال کرکے اور اس کا ذکر کرو گے تو تمہار ے ظاہر میں بھی خوشی ہوگی اور باطن میں بھی خوشی ہوگی۔ اللہ تمہارا ذکر عرش پر فرمائے گا۔ جب یہ ذکر آپ کریں گے، یہ خیال دل میں لگائیں گے، انشاء اللہ اللہ کی مہربانی سے، آقا و مولا آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ کرم، ان کی عنایت سے اور مشائخ نقشبند کی توجہ سے یہ دل اللہ کے ذکر میں جاری ہو جائے گا۔

بڑی ضروری ہوتی ہے صحبت۔ بغیر اس کے قلب پر محبت الٰہی کا رنگ نہیں چڑھتا، عشق الٰہی کا رنگ نہیں چڑھتا، وہ دل کی دنیا آباد نہیں ہوتی۔ جب ذکر کرنا شروع کرو گے تمہارے دل میں وہ موج و مستی ہوگی، وہ شوق اور جذب ہوگا۔

جس طرح مجنوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب لیلیٰ کی وفات ہوگئی تو مجنوں پر لوگ ہنسنے لگے کہ اے مجنوں! تمہاری لیلیٰ تو مرگئی۔ وہ دیوانہ تھا محبت میں۔ مولانا رومی علیہ الرحمۃ نے بڑے کمال کی باتیں کی ہیں۔ وہ مجنوں پر ہنسنے لگے تو وہ کہنے لگا اے بیوقوفو! تم کس لیلیٰ کی بات کررہے ہو، کون سی لیلیٰ چلی گئی؟ انہوں نے کہا جو تمہاری لیلیٰ تھی۔ اس نے کہا وہ کیسے جائے گی، وہ تو یہاں ہے (دل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) کبھی نہیں جائے گی۔ اللہ کا عشق تو اس سے بڑھ کر ہونا چاہئے۔ پھر تمہیں ڈھونڈنا ہی نہیں پڑے گا کہ اے میرے رب! میں تمہیں یاد کرتا ہوں، تمہیں پانا چاہتا ہوں۔ پھر تو تمہارے دل میں تمہارا رب آجائے گا، وہ تمہاری دل میں رہے گا، اور وہاں تمہاری اس سے سرگوشیاں، اس کے ساتھ ذکر، اس کے ساتھ یاد، اس کے ساتھ محبت، اس کے ساتھ پیار کی باتیں ہوتیں رہیں گی۔ اس سے بڑھ کر اعزاز اور کیا ہوسکتا ہے؟ اس سے بڑھ کر اور نعمت ہو ہی نہیں سکتی۔ لیکن قدردان لوگ ہیں ہی نہیں، بالکل نہیں ہیں۔ اس چیز کو سمجھنے والے ہیں ہی نہیں۔ ہم تو پتا نہیں کیا کچھ مانگتے ہیں، کیا کچھ سوچتے ہیں۔ یہ چیز تمہیں حاصل کرنی چاہیے، اس چیز کا قدر ہونا چاہیے۔

پھر مولانا رومی علیہ الرحمۃ ایک اور واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک اور موقعہ پر مجنوں کو لوگ کہنے لگے یہ لیلیٰ کا گھر ہے، دیکھو یہ لیلیٰ کا دروازہ ہے، دیکھو یہ لیلیٰ کا کتا ہے، تو وہ مجنوں آنکھیں بند کردیتا۔ لوگوں نے کہا یہ کیا کرتے ہو؟ اس نے کہا یہ گھر یہ کیا چیز ہے؟ لیلیٰ کا گھر تو یہاں ہے دل میں، لیلیٰ کا دروازہ بھی یہاں ہے، لیلیٰ کا مسکن بھی یہاں ہے، مجھے کہیں اور دیکھنے کی ضرورت ہی نہیں۔

تو پھر تمہیں بھی ادھر ادھر دیکھنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ تمہارا دوست تمہارے دل میں ہوگا، اس سے بڑھ کر اور کوئی نعمت نہیں ہوسکتی کہ تمہارا رب تمہارے دل میں ہو۔ اور اس طرح میں یہ بھی عرض کروں کہ اپنے والدین، پڑوسی، رشتہ داروں کا خیال رکھیں۔ کسی کی ساتھ کوئی ظلم زیادتی نہ کریں۔ اور پھر میں نے یہ بھی عرض کی کہ دل میں جھانکنے کی کوشش کریں تاکہ دل کی کھڑکی کھل جائے اور اندر کی دنیا تمہیں دیکھنے میں آئے۔

اللہ تعالیٰ توفیق عمل عطا فرمائے۔