فہرست
خطابات طاہریہ

تعلیمات صوفیاء کرام

 

نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم

اما بعد

فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

وَعَدَ اللہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِی الْاَرْضِ۝

صدق اللہ العظیم۔

معزز سامعین اور ذاکرین جماعت!

آپ یہاں پر قرب و جوار سے، دور دراز علائقوں سے سفر کرتے ہوئے، مشقتیں راستے کی اور تکالیف سفر کی برداشت کرتے ہوئے یہاں تشریف لائے۔ یہ ساری رونق، یہ سارا رنگ، یہ سارا نور، یہ میرے آقا و مولا آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کی نظر، ان کا فیض یہ سب آپ لوگوں کی برکت اور آنے کی وجہ سے ہمیں میسر ہورہا ہے۔ جس طرح کہ ہمارے سندھ کے عظیم شاعر، صوفی، اللہ والے، کیونکہ صوفیاء کرام جن سے ہم توسل اور تعلق کی دعویٰ کرتے ہیں، ان سے محبت کا ہم دعویٰ کرتے ہیں، ان کا طریقہ کار بھی ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ماشاء اللہ دیگر لوگ جو اپنے اپنے انداز میں دین کی خدمتیں کر رہے ہیں، مختلف ناموں سے، جو بھی خلوص سے خدمت کررہا ہے، جو بھی خالصتًا لوجہ اللہ دین کی سر بلندی کے لئے کوشش کررہا ہے، ہماری دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔ لیکن میں یہ عرض کررہا تھا کہ چونکہ ہم یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہماری نسبت اور تعلق صوفیائے کرام سے ہے۔ تو دوستو ان کے طریقہ کار کو سمجھنا پڑے گا، ان کے انداز تربیت کو سمجھنا پڑے گا، ان کی پیروی ہمیں کرنی پڑے گی۔

جو سب سے اہم امتیازی نشان یا طریقہ یا انداز جو صوفیائے کرام کو حاصل تھا، جس کی وجہ سے انہوں نے دین کی، حضور صلّی اللہ علیہ وسلم کے مذہب اسلام کی خدمت کی، اس کو عام کیا۔ دوستو وہ ان کی امتیازی خصوصیت ان کی سادگی تھی، مساوات تھی، محبت تھی لوگوں کے ساتھ، عجز تھا، انکساری تھی، اپنی ذات کی نفی تھی، اپنے عمل کی نفی تھی۔

ازاں بر ملائک شرف داشتند
کہ خود را بہ از سگ نہ پنداشتند

جو عظیم شاعر گذرے ہیں فارسی کے ان میں سے ایک سعدی بھی ہے۔ آپ نے فردوسی کا نام بھی سنا ہوگا، عمر خیام کا نام بھی سنا ہوگا، الہامی شاعر حافظ کا نام بھی سنا ہوگا۔ میرے خیال میں ان سب حضرات کا تعلق ایران سے ہے۔ وہاں یہ لوگ پیدا ہوئے اور انہوں نے اپنے انداز اور طریقے سے اپنے پیغام کو لوگوں تک پہنچایا۔ جو میں شعر عرض کررہا ہوں وہ شیخ سعدی کا شعر ہے۔ تو وہ بتاتے ہیں کہ اس لئے لوگ صوفیاء کرام کا ذکر کرتے ہیں، ان کے اخلاق اور عادات کا ذکر کرتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو، اپنی ذات کو کتے سے بھی بدتر سمجھتے تھے۔ اسی لئے ان کا مقام اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے بھی بلند کردیا ہے۔

حضرت خواجہ بہاؤ الدین جو نقشبندی سلسلے کے پیشوا ہیں، ان کا ایک واقعہ میرے ذہن میں آتا ہے۔ اللہ والوں کو اللہ تعالیٰ وہ علم نصیب فرماتا ہے جس کا تعلق سینے سے ہوتا ہے۔ وہ علم جو ہم کتابوں کے ذریعے حاصل کرتے ہیں، استادوں کے ذریعے حاصل کرتے ہیں وہ ایک مختلف علم ہوتا ہے۔ تو آج اس سینے والے علم کو پانے کے لیے ہم سب جمع ہوئے ہیں۔ کتابوں کو تکنے کی آج ضرورت نہیں ہے، استادوں کو ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں ہے، کسی بڑے ماہر واعظ اور تقریر کرنے والے کو ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بلکہ بیان گفتگو کی حاجت ہی نہیں ہے۔ اگر یہ گفتگو کی جارہی ہے تو میں سمجھتا ہوں اس کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے۔ یہ تو ایک رسمی کاروائی ہے۔ بنیادی کام تو اس طرح ہورہا ہے، جن کے سینے کھلے ہوئے ہیں، جن کے سینے متوجہ ہیں، جن کے سینے اس سیپ کی مانند ہیں جو سمندر کے تہہ میں رہتی ہے اور اس کو رحمت کے قطرے کی تلاش ہوتی ہے۔ وہ سمندر جس کا پورے کا پورا پانی کڑوا، کسیلا اور کھارا ہوتا ہے۔ سندھی میں ہم کھارا کہتے ہیں، اردو میں غالبا اس کو کڑوا کہتے ہیں۔ تو وہ پانی ایسا سخت کڑوا ہوتا ہے کہ اگر زبان کو لگ جائے تو زبان بھی جلنا شروع ہوجاتی ہے۔ تو اس سمندر کے تہوں میں رہنے والی وہ سیپ، اس کو تلاش ہے ایک قطرے کی۔ اپنے منہ کو اس نے بند کرکے رکھا ہے۔ کتنا پانی ہے سمندر کا، کیا رحمتیں ہیں اللہ تعالیٰ کی۔ سمندر کو دیکھیں اور پھر اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کو بھی دیکھیں۔ سمندر کا کوئی کنارہ نہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی رحمت اس سمندر سے بھی کئی گنا بڑھ کر ہے۔ تو اتنے کثیر پانی میں رہتے ہوئے بھی وہ سیپ اپنے منہ کو بند رکھتی ہے سمندر کے تہوں میں تاکہ کوئی بھی ایک قطرہ سمندر کے پانی کا اس کے اندر داخل نہ ہو، کیونکہ اس کو تلاش ہے پانی کی۔ کوئی عام پانی نہیں، پانی تو سمندر میں موجود ہے لیکن نہیں۔ اس کو علم ہے کہ وہ ایک ایسا قطرہ ہوگا جو اللہ کی رحمت کی بارش جو برستی ہے، اس میں سے ہوگا اور اس کو امر ہوگا کہ ہاں تیرے اندر میں نے وہ صلاحیت ودیعت کی ہے، اگر تو سیپ کے سینے کے اندر چلا جائے تو تجھ سے گوہر نایاب پیدا ہوگا۔ تو وہ سیپ اس قطرے کے انتظار میں رہتی ہے۔ سائنسدان کہتے ہیں، ماہر آبیات کہتے ہیں کہ وہ کبھی کبھار سمندر کے اوپر آکر اپنا چھوٹا سا منہ، بلکل چھوٹی سی سیپ چھوٹا سا منہ کھولتی ہے اور انتظار کرتی ہے کہ کب بارش کا وہ قطرہ آئے گا جو میرے سینے میں سما جائے، جس کو پانے کے لیے اللہ نے مجھے مقرر کیا ہے۔ ایک بار آنے کے بعد اس کو قطرہ نہیں ملتا۔ خاموشی سے پھر وہ سمندر کے تہوں میں چلی جاتی ہے۔ کیا ہوا اگر پیاس میری نہیں مٹی، پانی کا وہ قطرہ نہیں ملا تو کوئی فرق نہیں، لیکن اگر میں حاصل کروں گی تو وہی قطرہ حاصل کروں گی جو باران رحمت سے ہوگا، اللہ تعالیٰ میرے لیے بھیجے گا۔ پھر دوسری مرتبہ وہ سمندر کے تہوں سے نکلتی ہوئی سمندر کے پانیوں سے اپنا چھوٹا سا منہ چھوٹی سی سیپ باہر نکالتی ہے کہ کب رحمت کی وہ بارش آئے گی۔ سینکڑوں مرتبہ اس کو امتحان سے گذرنا پڑتا ہے، سینکڑوں مرتبہ، لیکن اس کو کامیابی نہیں ملتی۔ اس آبی جانور کا حوصلہ دیکھیں، اس کی تقویٰ دیکھیں، اس کا صبر دیکھیں، اپنے مطلوب کو پانے کے لیے جدوجہد دیکھیں۔

اے انسان ہم اور آپ کو کیا ہوگیا ہے کہ جانوروں کی طرح ہر چیز کی طرف منہ مارتے ہیں۔ جانوروں کی طرح صرف ہمیں پیٹ بھرنے کا فکر ہے۔ جانوروں کی طرح صرف ہمیں خواہش کو پورا کرنے کا فکر ہے۔ ارے وہ سیپ دیکھو جو صرف ایک قطرے کے لیے اپنی زندگی کو وقف کردیتی ہے۔ اس کو کچھ بھی نہیں چاہیے صرف رحمت کا قطرہ چاہیے۔

اے دوست تمہارے سینے میں بھی اللہ تبارک و تعالیٰ نے وہ دل والی سیپ رکھدی ہے۔ اس میں بھی وہ ایک اہم خصوصیت رکھی ہوئی ہے کہ اگر معرفت کا ایک قطرہ اس دل کے، اس سینے کے اندر موجود دل والی سیپ میں آجائے تو خدا کی قسم، میں قسم نہیں اٹھاتا، عادت نہیں ہے لیکن مجھے کہنا پڑتا ہے خدا کی قسم تمہارا اور میرا بھی کام بن جائے۔ لیکن کہاں ہے وہ صبر؟ کہاں ہے وہ جستجو؟ کہاں ہے وہ طلب؟ کہاں ہے وہ پیاس؟ ہمیں اگر کچھ نظر آتا ہے تو صرف اپنا پیٹ نظر آتا ہے۔ ہمیں نظر آتا ہے تو صرف اپنا جسم نظر آتا ہے۔ اس جسم کے اندر ہم کچھ ڈالنا چاہتے ہیں تاکہ اس میں قوت پیدا ہو اور پھر وہ بدمستیاں کرے۔ اس کے اندر ایک طاقت، جبلت پیدا ہو کہ ہر چیز کو اپنا سمجھنے کی کوشش کرے یہ بھی میرا ہے وہ بھی میرا ہے۔ سندھی زبان میں کہتے ہیں

جڏهن رڍ جو پيٽ ڀربو آ ته دڙيون ٽپندي آهي“

جب بھیڑ کا پیٹ بھر جاتا ہے پھر وہ ٹیلے پھلانگنے لگتی ہے، حالانکہ ویسے وہ ان پر چڑھنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ اسی طرح جب ہمارا پیٹ بھر جاتا ہے تو پھر کہتے ہیں کہ ہم جیسا کون ہے؟ اس خمار گندم نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔ میں کھانے اور پینے سے منع نہیں کررہا ہوں۔ میں یہ بات آپ کی خدمت میں کہنا چاہتا ہوں کہ اے دوستو تم انسان ہو، خلیفۃ اللہ فی الارض ہو، تمہاری زندگی صرف اس مقصد کے لئے نہ ہو کہ ”زیستن برائے خوردن“ کہ اس لئے زندگی ہے کہ میں کھا پی لوں۔ اے دوستو! اس زندگی سے تو سیپ کی زندگی کئی درجہ بہتر ہے جس کو کوئی اہمیت دینے کے لیے ہم تیار نہیں۔ وہ آبی جانور ہے۔ ہم میں سے کسی نے دیکھا ہوگا، کسی نے نہیں بھی دیکھا ہوگا۔ تو اس حالت میں بیچارا وہ سیپ وہ قطرہ سینے میں رکھنے کے بعد، اس کو گوہر نایاب بنانے کے بعد اپنی زندگی سے گذر جاتا ہے۔ جب اس کو گوہر نایاب مل جاتا ہے اس کو پھر پرواہ نہیں ہوتی۔ پھر وہ کناروں پر پڑا رہتا ہے، پاؤں تلے روندا جاتا ہے لیکن اس کو پرواہ نہیں ہوتی۔ کیونکہ جس مقصد کے لیے اللہ نے اس کو تخلیق کیا تھا اس مقصد کو اللہ کی بارگاہ میں پورا کرکے دکھادیا۔ تو گرمی کے موسم میں سیپ کا آنا جانا پھر نیچے رہنا، اور پھر آنا، پھر نیچے جانا، پھر اوپر آنا خدا کی شان۔ اللہ کی ذات اوپر سے دیکھ رہی ہے۔ تو وہ ایک سیپ خدا کی نظر سے دور نہیں ہے، تو انسان تو تو خلیفۃ اللہ فی الارض ہے، تو کیسے اللہ تعالیٰ کی نظر سے مخفی ہوسکتا ہے؟ جہاں کہیں بھی ہے، تمہارا ظاہر بھی عیاں ہے اللہ تعالیٰ کے سامنے، تمہارا باطن بھی عیاں ہے اللہ تعالیٰ کے سامنے۔ تمہاری کوئی حرکت اس سے مفقود اور دور نہیں ہے۔ تو کسی بھی حالت میں ہو، تجھ پر وہ نظر رکھتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ تم اگر چاہو تو وہ رحمت کی نظر ہوجائے۔ وہ کیسے کہ کوئی ایسا کام کرکے دکھاؤ جو اس کو پسند آجائے۔ جس طرح اس سیپ کا انتظار، اس کی کوشش، اس کا بار بار آنا اور جانا اللہ تعالیٰ کو پسند آجاتا ہے۔ پھر اس سیپ کی دعاؤں کی وجہ سے، اس سیپ کی تمنا کی وجہ سے وہ رحمت کی بارش برسنا شروع ہوجاتی ہے۔ سیپ کو تو قطرہ ملتا ہی ہے، لیکن اس سیپ کی دعاؤں کی وجہ سے پوری دنیا کو اللہ تعالیٰ سیراب کردیتا ہے۔ اسی لئے اولیاء اللہ فرماتے ہیں کہ دعاؤں میں الہاء اور زاری ہونی چاہیے۔

جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں اصحاب بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک خاتون آئی۔ اس نے عرض کیا کہ یا حضرتا میرا بیٹا گم ہوگیا ہے دعا فرمائیں۔ آپ نے ہاتھ اٹھائے اور دعا فرمائی۔ دوسرے دن کے بعد پھر وہ آگئی، اس نے آکر کہا کہ حضور میرے لیے دعا کریں میرا بیٹا نہیں مل رہا۔ پھر آپ نے دعا فرمادی۔ کئی مرتبہ اس طرح ہوتا رہا۔ لیکن ایک دن ایسا ہوا کہ وہ روتی ہوئی آئی، اس کے بال بکھرے ہوئے تھے، اس کا حال بدحال تھا، کپڑے میلے کچیلے تھے، آنکھوں سے آنسوں رواں دواں تھے اور وہ اپنے بیٹے کے فراق اور حجر میں نڈھال ہوچکی تھی اور اس کی آواز بھی نہیں نکل رہی تھی۔ وہاں پہنچی اور وہ گرگئی۔ اس کی زبان سے کچھ نہیں نکل رہا تھا۔ سب جانتے تھے کہ یہ کیوں آرہی ہے۔ حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو اٹھایا اور فرمایا ”خاتون تم جاؤ تمہارا بیٹا گھر میں ہے“۔ وہ چلی گئی اور دوسرے دن آئی، وہ بہت اچھے ہی لباس میں خوش مطمئن اور بیٹا اس کے ہاتھ میں تھا۔ ”حضور یہ آپ کی دعا سے واپس آیا ہے“۔ دوستوں نے عرض کیا کہ حضور آپ نے دو تین دن دعا فرمائی، کام نہیں بنا، مگر آخری دن دعا ہی نہیں کی اور اس کا کام ہوگیا یہ کیا اسرار ہے؟ انہوں نے فرمایا ہم دیکھ رہے تھے اس کی الہاء اور زاری اور اس کی تڑپ و جستجو کو۔ پہلے دن کم تھی، ہم نے دعا کی۔ دوسرے دن آئی پھر بھی کم تھی، لیکن جب تیسرے دن آئی اور ہم نے جب اس کی حالت دیکھی تو ہمارے دل نے گواہی دی کہ اے جنید اللہ اپنے بندے کو کبھی بھی اتنی الہاء اور زاری کے بعد، اتنی التجا کے بعد اس کی دعا کو رد نہیں کرتا۔ مجھے اپنے رب کی وہ آیت یاد آگئی کہ

اُدْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ ۝

میرا کوئی کمال نہیں ہے۔ یہ تو اس کی الہاء اور زاری اور اس کی تڑپ اور جستجو کا صدقہ ہے کہ اس کو اس کا بیٹا مل گیا ہے۔ تو جب ہماری دعائیں قبول نہیں ہوتیں تو یہ ہمارے عجز، طلب، پیاس، جستجو اور تڑپ کی کمی ہوتی ہے۔ پھر ساتھ میں یہ بھی بات ہوتی ہے کہ کس طرح وہ چیز ہم اللہ تعالیٰ سے چاہ رہے ہیں۔ کیا وہ فائدہ مند بھی ہے یا نہیں ہے۔

تو میں کہیں سے کہیں چلا گیا۔ میں عرض کررہا تھا کہ صوفیاء کرام کی تعلیم اور تربیت کو سمجھنا چاہیے۔ صوفیاء کرام وہ تھے جو کبھی بھی اس طرح اسٹیجیں سجا کر تقریر نہیں کرتے تھے۔ ہم پر تو اور رنگ ہی غالب آگیا ہے۔ ان کا کبھی بھی یہ طریقہ نہیں تھا۔ وہ تو دنیا و مافیھا سے لاتعلق ہوکر اپنے رب سے لو لگا کر بیٹھ جاتے تھے۔

تو میں حضرت خواجہ بہاؤ الدین نقشبند بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا واقعہ عرض کررہا تھا انکساری کے حوالے سے۔ تو ان کی خدمت میں ایک آپ کا مرید خادم نہیں آیا۔ کافی دن گذر گئے۔ تو آپ بخارا میں تھے اور وہ دور دراز کہیں کہہ رہا تھاکہ ”میں تو اس لئے اپنے پیر کی خدمت میں نہیں جارہا ہوں کہ میرا وجود ناپاک ہے، میری عادات خراب ہیں، میرا باطن پلید ہے۔ تو ایسا نجس آدمی وہاں کیسے جائے“۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے کرم سے اس کی حالت سے حضرت خواجہ صاحب کو وہیں مطلع کردیا۔ میں عرض کررہا تھا آج یہاں سینے کھولنے کی بات ہوگی، بھئی گفتگو فضول ہے۔ گفتگو کو آپ چھوڑدیں، اپنے دل کی کھڑکی کھول دیں۔ مولانا شیخ جلال الدین رومی کا شعر ہے

اولیاء را حق کند علم نصیب
بے حساب و بے کتاب و بے ادیب

اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کو علم عطا کرتا ہے۔ خدا ہر چیز پر قادر ہے، وہ اپنے اولیاء کو علم عطا کرتا ہے اور اس طرح عطا کرتا ہے کہ اس کا کوئی حساب کتاب نہیں ہوتا۔ یعنی کوئی اس کا اندازہ مقدار میں نہیں ہوتا۔ وہ اپنی مرضی سے، وہ اپنی خوشی سے جو دینا چاہتا ہے بے حساب، بے کتاب۔ کوئی کتاب کی حاجت وہاں نہیں ہوتی۔ بے ادیب، کوئی سکھانے والا نہیں ہوتا، اللہ اپنی طرف سے ان کے سینے میں علم لدنی ڈال دیتا ہے۔ تو حضرت خواجہ بہاؤ الدین نقشبند بخاری رحمۃ اللہ علیہ کو وہاں پتہ چلا۔ جب اولیاء اللہ کے لطائف، ذکر کی برکت اور حرارت سے، مشائخ کے توجہات سے ان کے لطائف جب ذکر کرنا شروع کردیتے ہیں تو وہ کبھی وہ عروج میں رہتے ہیں، کبھی ان کا نزول ہوتا ہے، کبھی وہ بارگاہ الٰہی میں ہوتے ہیں، کبھی وہ مشرق میں گھوم رہے ہوتے ہیں، کبھی وہ مغرب میں جارہے ہوتے ہیں، کبھی جنوب میں کبھی شمال میں۔ اللہ تعالیٰ ان کو اپنی طرف سے وہ صلاحیت وہ روحانیت عطا کردیتا ہے۔

تو خواجہ صاحب کو ان کی حالت سے بخارا میں اللہ تعالیٰ نے مطلع کیا اور وہ باخبر ہوگئے۔ جب وہ فقیر وہاں آئے تو آپ نے محفل میں فرمایا ”کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہم اس لئے نہیں جاتے ذکر والوں کی صحبت میں، ذکر والوں کی محفل میں کہ ہمارے پیر کی بارگاہ میں ایسا ناپسندیدہ آدمی بھی جائے۔ اپنی حالت خراب ہونے کی وجہ سے وہ عذر پیش کرتے ہیں“۔ آپ نے فرمایا ”اے فقیر ادھر آؤ“۔ اس فقیر کو ہاتھ سے پکڑا اور وہ حیران ہوگیا کہ یہ الفاظ تو میں نے کہے تھے، میرے شیخ کو اس کا علم کیسے ہوا۔ تو وہ اس کو لے کر گئے اپنے گھر کی طرف۔ وہاں فقیر نے دیکھا کہ بیمار کتا پڑا ہوا ہے کس تکلیف دہ حالت میں اور اس کی مرہم پٹی کی گئی ہے۔ آپ نے فرمایا ”اے دوست! تو کیا سمجھتا ہے کہ ہم اچھے اچھے لوگوں کے ساتھ دوستی رکھتے ہیں؟ ہماری دوستی اس کتے کے ساتھ بھی ہے، ہم تو اس کے ساتھ بھی وقت بتاتے ہیں، ہم تو اس کے ساتھ بھی رہتے ہیں“۔ تو اس شخص کے خیال کی آپ نے اصلاح فرمائی کہ یاد رکھو جو خداکے بندے ہوتے ہیں وہ خدا کی ہر چیز سے پیار کرتے ہیں۔ انسان تو انسان جانوروں سے بھی ان کی محبت ہوتی ہے، ان سے بھی پیار کرتے ہیں، ان پر شفقتیں کرتے ہیں۔

تو صوفیاء کرام اولیاء کاملین مشائخ عظام کا یہ طریقہ ہے کہ اگر کوئی ان کے پاس چل کر آتا تھا تو اس کو سینے سے لگاتے تھے۔ یہ نہیں پوچھتے تھے کہ تیرا نام کیا ہے؟ تیرا کام کیا ہے؟ کس طرف سے آیا ہے؟ دولت مند ہے یا غریب؟ اے میرے دوستو آپ بھی میرے پیر کے آنگن پر آئے ہیں۔ آپ ہی مجھے پوری دنیا میں میرے دوست لگتے ہیں۔ آپ ہی لوگ مجھے اس دنیا میں رشتیدار لگتے ہیں۔ آپ ہی لوگ مجھے اس دنیا میں عزیز لگتے ہیں۔ آپ ہی لوگ مجھے اس دنیا میں پیارے لگتے ہیں۔ جو میرے پیر کے آنگن پر، اس عرس مبارک میں اپنے گھروں کو، اپنے کاموں کو چھوڑ چھاڑ کر یہاں آئے ہیں کہ یہاں کچھ لمحوں کے لیے بیٹھ جائیں۔ جس طرح شاہ عبداللطیف بھٹائی صاحب فرماتے ہیں ؎

مون ساريندي سپرين، اچين جي هيڪار،
پيرين ڌرڙيان پنبڙيون، هنڌ وڇايان هار،
ساڄن سڀ ڄمار، هوند گولو ٿي ته گذاريان.

اے میرے پیارے! میرے یاد کرتے ہوئے اگر کبھی تو آجائے تو میں اپنی آنکھوں کی پلکیں تیرے قدموں کے تلے بچھادوں۔ اے میرے پیارے جو تم آئے ہو یہاں۔ اے میرے دوست جو تم اپنے گھر کو چھوڑ کر یہاں آئے ہو۔ واللہ آپ کا آنا اتنی بڑی چیز ہے، اتنی بڑی خوشی ہے، اتنا بڑا اعزاز ہے مجھ گنہگار کے لئے کہ اگر میں کمر بستہ ہوکر پوری زندگی ایک گولے غلام کی مانند آپ کا پانی بھرتا رہوں تو اس سے بڑھ کر میرے لئے کوئی نعمت نہیں ہوسکتی۔ کیسا پیارا تعلق ہے یہ، جس کی بنیاد کسی مفاد پر نہیں ہے، کسی طمع اور لالچ پر نہیں ہے، کسی مطلب اور مقصد پر نہیں ہے۔ صرف اس بات پر ہے کہ اللہ اس چیز کو پسند کرتا ہے کہ میرے نام کو یاد کرنے کے لئے ایک جگہ جمع ہوجاؤ۔ میرے آقا و مولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم اس چیز کو پسند کرتے ہیں کہ میرے امتی میری محبت میں، میرے عشق میں ایک جگہ جمع ہوجائیں۔ اور کچھ بھی نہ کریں، کچھ بھی نہ کریں، صرف اللہ کا نام لیں۔ لیکن یاد رکھو آنے والے لاکھوں ہونگے، ہزاروں ہونگے، صدہا ہونگے۔ لیکن دوستو سندھی میں کہتے ہیں حلوہ کھانے کے لئے بھی منہ چاہیے۔ فیض ملے گا، رحمت ملے گی، بارش ہوگی لیکن ملے گی کس کو؟ یہی تو آج امتحان ہے۔ جیسے سیپیں تو لاکھوں ہوتی ہیں سمندر میں، بار بار وہ سب آتی ہیں اور پھر جاتی رہتی ہیں، ایک قطرہ رحمت کے انتظار میں وہ اپنی زندگی بِتادیتی ہیں۔ مگر کتنی سیپیں ہیں جو وہ گوہر نایاب اپنے سینے میں لے لیتی ہیں؟ سب نہیں۔ یہ مشیت ہے اللہ کی، یہ اس کا ارادہ ہے۔ لیکن یہ بہانہ نہیں چلے گا کہ میں کیا کرتا اللہ کی مشیت نہیں تھی۔ نہیں نہیں۔ وہ شاعر کہتا ہے۔

یابم یا نہ یابم جستجوئے می کنم
حاصل آید یا نہ آید آرزوئے می کنم

کچھ ایسی جگہ پہ پہنچ گیا ہوں، ایسے در پہنچ گیا ہوں، کچھ ملے یا نہ ملے جستجو تو کرتا رہوں گا۔ ایسے در پر پہنچ گیا ہوں، ایسی جگہ پر پہنچ گیا ہوں، ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھ گیا ہوں، کچھ ملے نہ ملے جستجو جاری رکھوں گا۔ کچھ حاصل ہو یا نہ ہو آرزو کرتا رہوں گا، کرتا رہوں گا۔ بھلے جان ختم ہوجائے، میرے جسم سے جان نکل جائے، مگر آرزو میرے جسم سے نہ جائے۔

تو دوستو! ایسے نہ ہوکہ دریاء کے کنارے پر آنے کے بعد، پہنچنے کے بعد، اس دریا کی بہتی ہوئی روانی اور سیل رواں کو دیکھنے کے بعد، اس کی موجوں اور لہروں کو دیکھنے کے بعد، اس کی جولانی کو دیکھنے کے بعد، اس کے ٹھنڈے ٹھنڈے پانی کو دیکھنے کے بعدبھی ہم بھوکے اور پیاسے رہ جائیں۔ قطرہ نہ مل سکے۔ بڑے افسوس کی بات ہوگی۔ ایسے بھی ہوتا ہے کہ کنارے پر پہنچنے والے، وہ قطرہ قطرہ کے لیے منہ پیٹتے رہ جاتے ہیں اور بہت دور بیٹھے ہوئے وہ دریا کے پانی کے مزے لے رہے ہوتے ہیں۔ ایسے بھی چلتا ہے دوستو، ایسے بھی چلتا ہے۔

تو یہ طلب، یہ پیاس، یہ جستجو کی بات ہورہی ہے۔ جس طرح آنے والے تو بہت تھے میرے آقا ومولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں، ہزارہا ہونگے۔ لیکن کچھ لوگ وہاں آئے اور دیکھنے کے بعد واپس چلے گئے کہ ”یہ تو ہم جیسا انسان ہے“ نعوذ باللہ من ذالک۔ اور کچھ لوگ وہ بھی تھے جب وہاں آئے تو پھر انہوں نے واپس جانے کا نام ہی نہیں لیا۔ اپنی جانیں قربان کردیں۔ یہ وہ لوگ تھے جن کے جسم کمزور تھے، جن کے لباس پھٹے ہوئے تھے، جن کے بال بکھرے ہوئے تھے۔ ہم جیسے موٹے تازہ نہیں تھے، ہم جیسے فاخرہ لباس زیب تن کرنے والے نہیں تھے۔ ان کے پاؤں میں کھجور کے پتوں کی جوتیاں ہوتی تھیں۔ آج کل کی طرح نہیں جس طرح ہم بڑے نفیس اور عالیشان جوتے پہنتے ہیں ویسے ان کے پاؤں میں نہیں ہوتے تھے۔ ان کے لباس ایسے کھردرے اور سخت ہوتے تھے کہ جو ہم لوگ اپنے جسم کو لگائیں تو چیخ اٹھیں۔ لیکن وہ اپنے وعدے کے پکے تھے۔ جو کہتے تھے اس پر عمل کرتے تھے۔ امانت میں خیانت نہیں کرتے تھے۔ فرمان ہوجاتا تھا کہ بیٹھ جاؤ تو بیٹھ جاتے تھے۔ فرمان ہوجاتا کہ اٹھ جاؤ تو کھڑے ہوجاتے تھے۔ حکم ہوتا تھا کہ لوگوں کو تبلیغ کرو تو وہ تبلیغ کرتے تھے۔ ان کو اس سے سروکار نہیں ہوتا تھا کہ یہ بات ہمارے عقل اور دماغ کو قبول بھی ہے یا نہیں۔ وہ صرف آقا کے چہرہ انور کو دیکھتے تھے۔ ان کے حکم اور ان کے فرمان پر چلتے تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جن کو صحابہ کے نام سے ہم جانتے ہیں۔

تو اب اس کا مفہوم یہ بھی نہیں ہے کہ ہم صرف اپنے جسم کو کھردرا لباس پہنادیں اور اپنے پاؤں میں سادہ سی چپلیں یا کھجور کی بنی ہوئی چپلیں پہن لیں اور ہم سمجھیں کہ ہم صحابہ کی پیروی کرہے ہیں۔ صرف یہیں تک ہماری کوشش نہیں ہونی چاہیے۔ بیشک اس طرح ان کی ظاہری پیروی تو آپ کرسکیں گے لیکن اصل بات جو ان کو ممتاز بنادیتی تھی اللہ کی نظر میں، وہ صرف ان کا لباس نہیں تھا، ان کی ظاہری سادگی نہیں تھی۔ ایسی چیز تھی، ایسی امانت تھی جو آقا صلّی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نگاہ کرم سے ان کے سینے میں ڈالدی تھی۔ وہ آقائے نامدار آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور آپ کا عشق اور آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا جذبہ تھا۔ اس وجہ سے خدا کی نظر میں وہ ممتاز بن گئے۔

اے ڈاکٹر! اے انجنیئر! اے زمیندار! اے سیاستدان! اے افسر! اتنی بڑی ڈگریاں ہم نے اور آپ نے لے لیں۔ اتنے بڑے لقب نام کے ساتھ ملالیے۔ لیکن بتاؤ تو سہی ڈاکٹر بھی بن گیا، انجنیئر بھی بن گیا، زمیندار بھی بن گیا، سیاستدان بھی بن گیا، سب کچھ بن گیا کیا مسلمان بھی بنے یا نہیں؟ اگر مسلمان بننے کی تمنا اور تڑپ ہے تو صرف ڈاکٹر بننے کے بعد تم مسلمان نہیں بن سکو گے۔ انجنیئر بننے کے بعد تم مسلمان نہیں بن سکو گے۔ جو میں نے آیت کریمہ تلاوت کی ہے اس میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ہے

وَعَدُ اللہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ ۝

اللہ نے تم لوگوں کے ساتھ وعدہ کیا ہے۔ کس کے ساتھ؟ جو ایمان لائے ہیں۔ وَعَدُ اللہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا۔
اللہ نے وعدہ کیا ہے ایمان لانے والوں کے ساتھ۔ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ۔ ایمان بھی لائے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ عمل صالح بھی کرتے ہیں۔ ہم میں سے تو ہر کوئی کہے گا کہ میں ایمان لے آیا ہوں، ہر کوئی کہے گا۔ لیکن ایمان کا اقرار زبان سے ہم کردیں تو اس کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ ہمارا دل بھی مؤمن ہوچکا ہے۔ ایمان کا تعلق صرف زبان سے نہیں ہے۔ ایمان کا تعلق تمہارے اور ہمارے دلوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ اگر ہم اپنے ظاہر کو مسلمان کے جیسا بنادیں اور ہمارا باطن، ہمارا قلب وہ ایمان کی حقیقت سے ناآشنا ہو، وہ غیراللہ کی محبت میں مبتلا ہو، وہ دنیا کے حرص میں مبتلا ہو، وہ تکبر اور ریا سے بھرا ہوا ہو تو لوگوں کے نظر میں وہ مومن بن جائے گا، لیکن اللہ کی نظر میں بن سکے گا یا نہیں، یہ آپ خود سوچیں۔ لوگوں کی نظر میں مؤمن بننا آسان ہے۔ جیسے کہتے ہیں

”من ترا حاجی بگویم تو مرا غازی بگو“

میں تمہیں حاجی حاجی پکارنا شروع کردیتا ہوں، تم مجھے غازی غازی کہنا شروع کردو۔ لوگوں کی نظر میں یہ سب کچھ بننا آسان ہے۔ لیکن کامیابی اس وقت ملے گی جب ہم اللہ تبارک و تعالیٰ کی نظر میں مؤمن بننے کے حقدار بن جائیں۔

کیونکہ یہ زندگی دنیاوی بہت مختصر اور قلیل ہے۔ دنیا والوں کے ساتھ دنیاداری کرتے کرتے ہم نے بہت ساری عمر بتادی ہے۔ تیس سال، چالیس، پچاس، ساٹھ یا اس سے کم و بیش۔ اب کتنے سال باقی بچے ہیں کچھ پتا ہے؟ کب موت کا بلاوا آئے گا کچھ پتا ہے؟ کب قبر کی طرف روانگی ہوگی کچھ پتا ہے؟ قبر کے بعد اگلی منزل کیا ہے کچھ پتا ہے؟ محشر کے میدان میں حاضری ہوگی کچھ پتا ہے؟ نامۂ اعمال ہمارے ہاتھوں میں ہونگے کچھ پتا ہے؟ بلایا جائے گا ہر اک کو اس کے نام کے ساتھ کہ فلاں ابن فلاں کہاں ہے اور وہ سب لوگوں سامنے نروار ہوکر بارگاہ الٰہی میں اپنے نامۂ اعمال ساتھ لے کر جائے گا کچھ پتا ہے؟ ترازو کے اس پلے میں اس کی نیکیاں اور دوسرے میں اس کے گناہ رکھ دیے جائیں گے اور حساب کتاب شروع ہوجائے گا۔ جہنم کا نظارہ بھی سامنے ہوگا، جنت بھی اس کی نظر کے سامنے ہوگی اور ترازو میں اس کے اعمال نامے تولے جائیں گے اور وہ دیکھ رہا ہوگا۔ پھر دیکھ رہے ہونگے کہ جو امتحان میں ناپاس ہورہے ہیں، جن کے اعمال کم ثابت ہورہے ہیں، وہ جہنم کی طرف لے جائے جارہے ہیں۔ وہ چیخ رہے ہیں۔ او فلاں کہاں ہو میری مدد کرو۔ اور میرا باپ کہاں ہے؟ میری ماں کہاں ہے؟ کچھ پتا ہے؟ تو دوستو صرف ظاہر کو اسلام اور ایمان کے ساتھ مشابہت کرنے سے بات نہیں بنتی۔

مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللہ علیہ بڑے عارف، بڑے کامل، عالم ربانی ہوکر گذرے ہیں۔ ان کی ہدایات مثنوی کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہیں۔ ایک بڑی عمدہ تمثیل دی ہے۔ میں نے ایک مرتبہ ان کا ایک واقعہ پڑھا، لیکن پھر چونکہ کتاب بڑی طویل ہے تو دوبارہ مجھے وہ ملا نہیں۔ وہ تمثیل دیتے ہیں یہ تمہارا جسم ہے اور جسم کے اندر روح ہے۔ جس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام تھے اور آپ نے خرِ عیسیٰ علیہ السلام کا نام بھی سنا ہوگا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام گدھے پر سوار ہوکر سفر کرتے رہتے تھے۔ کوئی گھر اور ٹھکانہ نہیں بنایا۔ چلتے رہتے تھے۔ لوگوں کو پیغام حق سناتے رہتے تھے۔ یہ سوچنے کی بات ہے۔ میں عرض کررہا تھا کہ صوفیاء کرام سے تعلق رکھنے والے، ان سے محبت اور رابطہ اپنے دل کا جوڑنے کی کوشش کرنے والے اس بات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔کیونکہ آج ہم یہاں جمع ہوئے ہیں لیکن جب یہاں سے واپس جائیں تو ایک واضح تبدیلی ہمارے اندر ہونی چاہیے۔ ایسے نہ ہو کہ کھودا پہاڑ نکلا چوہا۔ بڑے پہاڑ کو کھودنا شروع کردیا بڑی محنت اور مشقت سے کہ اس کی جڑ سے ہمیں سونا ملے گا، ہمیں ہیرے جواہرات ملیں گے۔ لیکن کھود کھود کر عمر گذر گئی۔ جب اس کے بالکل جڑ تک پہنچنا نصیب ہوا تو وہاں نہ سونا تھا نہ ہیرے تھے۔ نہ موتی نہ جواہرات تھے۔ وہاں تو ایک چوہا نکلا۔ تو دوستو ایسے نہ ہو کہ ہم یہاں سے واپس جائیں اور جیسے آئے تھے ویسے ہی چلے گئے۔

تو مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ تمہارا یہ جسم، اس کی تمثیل دیتے ہیں عیسیٰ علیہ السلام کے گدھے کی طرح ہے۔ اور جو تمہارا روح ہے، فرماتے ہیں کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام کی طرح ہے۔ اب پھر اگر کوئی شخص سفر کرنا چاہے گا تو گدھے کو گھاس ڈالے گا، اس پر زین رکھے گا، اس کو تیار کرے گا اور اس پر خود سوار ہوگا اور پھر آگے جائے گا۔ لیکن جو اس نے گدھے کو کھلایا ہے، گدھے پر زین ڈالی ہے اس سے اپنی ضروریات اس کے جسم کی پوری نہیں ہوئیں۔ اس کے جسم کو ضرورت ہے مختلف چیزوں کی۔ وہ گدھے والا دانا وہ خود نہیں لے گا۔ وہ گدھے والی زین اپنی پیٹھ پر نہیں ڈالے گا۔ جو اس گدھے کی ضروریات ہیں وہ خود استعمال نہیں کرے گا۔ وہ فرماتے ہیں بے وقوف! تم خر عیسیٰ کی طرح اپنے جسم کو تو کھلا پلا رہے ہو، اس کو تیار کر رہے ہو تاکہ وہ اچھا نظر آئے، موٹا نظر آئے، تازہ نظر آئے۔ لیکن جو اس پر سوار ہے روح، اس کی غذا کیا ہے؟ اس کو تو تو نے کچھ کھلایا ہی نہیں۔ اس کی تو تو نے کچھ خیر خبر لی ہی نہیں۔ اس کو تونے کبھی یاد ہی نہیں کیا۔ اس کی ضروریات کو کبھی نہیں جانا۔ اس کی طلب اور جستجو کو تونے نہیں پہچانا۔ تو وہ روح تمہارا بھوکا رہ گیا اور تمہارا جسم موٹے سے موٹا ہوتا چلا گیا۔ تو تمہاری روح کی غذا بھی عیسیٰ علیہ السلام کی طرح بڑی پاکیزہ ہے۔ وہ اللہ کا ذکر ہے، وہ اللہ کی یاد ہے، وہ نور ایمان ہے، وہ تقویٰ ہے، وہ معرفت ہے جو اللہ والوں کی صحبت میں بیٹھنے سے قلب اور روح کو میسر ہوتی ہے۔ تو تمہارا روح پیاسا ہے، تمہارا روح بھوکا ہے، تمہارا روح کمزور ہے، تمہارا روح مریض ہے اور بیمار ہے۔ بیوقوف! صرف اپنے جسم پر لباس فاخرہ سجانے کے بعد، اچھے کپڑے پہننے کے بعد، اچھی اچھی چیزیں گھر میں جمع کرنے کے بعد یہ مت سمجھو کہ میں نے سب کچھ کرلیا۔ میں نے اپنی ذمیداریوں کو پورا کرلیا۔ اب تو میں بہت ہی بڑا آدمی بن چکا ہوں۔ نہیں، جب تک تمہارے روح کی غذا نہیں ملے گی اور اس کی ضروریات نہیں پوری ہونگی تب تک تم انسان کہلوانے کے حقدار نہیں ہو۔ ایسا جسم تو گدھے کو بھی ہے۔ ایسا جسم تو گائے اور بیل کو بھی ہے۔ ایسا جسم تو جانوروں کو درندوں اور پرندوں کو بھی ہے۔ اس لئے اپنی جستجو اور اپنی کوشش کو صرف جسم کی ضروریات تک محدود مت رکھو۔ انسانیت بہت اعلیٰ اور ارفع چیز ہے۔

وَالتِّیْنِ وَالزَّیْتُوْنِ وَ طُوْرِ سِیْنِیْنَ۝ وَھٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِیْنِ۝ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ اَحسَنِ تَقْوِیْمِ۝ ثُمَّ رَدَدْنٰہُ اَسْفَلَ سٰفِلِیْن۝

اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے مجھے انجیر مقدس کی قسم ہے، زیتون کے درخت کی قسم ہے، طور سینا جبل کی قسم ہے، اس امن والے شہرکی جس میں آقا و مولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم رونق افروز ہوئے، اس شہر کی قسم کہ ہم نے انسان کو بہترین سانچے میں ڈھالا ہے۔ اس کے جسم کی بھی تعریف کی گئی ہے لیکن جو اس کا مقصد حیات ہے

ثُمَّ رَدَدْنٰہُ اَسْفَلَ سٰفِلِیْن۝ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰت۝

چونکہ جسم اس کا اس کو بڑا بھا گیا، اس کو اچھا لگا تو وہ جسم کی پوجا پاٹ میں لگ گیا کہ میرا میک اپ صحیح ہو، میرا جسم صحیح ہو، میرا لباس صحیح ہو۔ اور اس نے اپنے روح اور قلب کو بھلادیا، بالکل ہی بھلادیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس کی اس غلط سوچ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہم نے اس کو پستیوں میں گرادیا۔ جانوروں کی صف میں اس کو بٹھادیا۔ بلکہ ان سے بھی پیچھے چلاگیا ہے۔ جانوروں کو بھی مالک کی پہچان ہوتی ہے۔ گدھے اور گھوڑے کو بھی اپنے مالک کی پہچان ہوتی ہے۔ ہم تو ایسے ناقدرے ہیں کہ ہمیں اپنے مالک کی پہچان نہیں ہوئی ہے ابھی تک۔ اگر ہمیں اپنے مالک کی پہچان ہوتی تو کبھی بھی ہم آج رسوا نہیں ہوتے، مختلف تکالیف سے دوچار نہیں ہوتے۔ وہ مالک جس نے ہمیں پیدا کیا ہے، وہ مالک جس نے ہمیں آنکھیں دی ہیں، وہ مالک جس نے ہمیں کان عطا فرمائے ہیں، وہ مالک جس نے ہمیں احسن صورت سے نوازا ہے، جس نے ہمیں اولاد کی نعمت دی ہے، جس نے ہمیں رزق عطا فرمایا ہے۔ اس کی پہچان سے ابھی تک تو بہت دور ہے، اس لئے تجھے پستیوں میں گرادیا گیا ہے۔ اگر تو اس سے بچنا چاہتا ہے، ان پستیوں سے نکل کر اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ بندوں کی صف میں شامل ہونا چاہتا ہے تو کچھ ہاتھ پاؤں مارنے پڑیں گے۔

دوستو! صرف القاب نام کے ساتھ ملانا کہ فلاں وڈیرہ، فلاں رئیس، فلاں ڈی سی، فلاں کمشنر، ڈاکٹر اور انجنیئر۔ اس طرح بات نہیں بنے گی۔ اس کے لئے ضرورت اس چیز کی ہے کہ تم وہ چیز پالو جس کو اللہ تعالیٰ اس آیۃ کریمہ میں بیان فرماتا ہے۔ ”اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا“ ایمان تمہارے دل میں آجائے۔ اور صرف اسی پر اکتفا نہیں ہے ”وَعَمِلُوا الصٰٔلِحٰت“ جو حضور نبی اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قانون حیات دیا ہے، اٹھنے اور بیٹھنے کا سلیقہ سکھایا ہے، کام کرنے کا رنگ اور ڈھنگ بتایا ہے، ملنے اور جلنے کا طریقہ سکھایا ہے۔ اس قانون کو اپنے لیے چن لیں اور اس پر چلنا شروع کردیں۔ ان کی اطاعت میں، ان کی فرمانبرداری میں، ان کے نقش قدم پر جب تو چلنا شروع کرے گا اور اسے اپنی زندگی کا حصہ بنالے گا۔

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَھُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْن۝

ایسا اجر اس کو عطا کریں گے، اتنا اجر اس کو عطا کریں گے، زیادہ اجر عطا کریں گے جو کبھی بھی ختم ہونے والا نہیں ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی وہ کامیاب لوگوں کی صف میں شامل ہوجائے گا۔ جو میں آیت کریمہ تلاوت کررہا تھا اس میں اس وعدہ ”لَھُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُون“ کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ایک اور واعدہ بھی فرمایا۔ ”لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِی الْاَرْض“ کہ جب وہ عمل صالحہ بھی کریں، ایمان بھی لائیں تو ان کو ضرور زمین میں ہم خلیفہ بنادیں گے۔ اللہ کی نیابت اس کو مل جائے گی۔ دوستو یہ نیابت بڑا اعزاز ہے۔ آج ہم نے اس نیابت کو چھوڑ کر غیروں کی نیابت کو اختیار کرنے کے لئے ہاتھ پاؤں مارنا شروع کردیے ہیں۔ بھئی فلاں صدر کا، فلاں ملک کا، فلاں وزیر کا، فلاں وڈیرے کا میں نائب بن جاؤں۔ اے بے وقوف! اے نادان! کس کس کا نائب تو بننے کی کوشش کررہا ہے۔ اتنا بڑا موقعہ تجھے میسر ہے کہ جو احکم الحاکمین ہے وہ تجھے بلارہا ہے کہ آؤ میں تجھے اپنا نائب بنادوں۔ اوروں کی نیابت میں در در کے دھکے، ذلت اور رسوائی کے علاوہ ہمیں کیا ملتا ہے؟ ہمیں کہنا چاہیے کہ رب العالمین لبیک۔ ہم حاضر ہیں۔ ہماری جھولیاں کھلی ہوئی ہیں۔ ہم تیری ہی رحمت کے انتظار میں ہیں۔ بیشک ہم نے کھلے گناہ کردیئے۔ بے شک ہم نے اپنے اوپر ظلم کردیا۔ بے شک ہم نے تمہاری حدود کو توڑا۔ بے شک ہم نے تمہارے دیئے ہوئے قرآن کی حقیقت کو نہیں جانا۔ ہم نے گناہ در گناہ کئے ہیں۔ لیکن قربان جاؤں اے میرے رب العالمین تیرے سوا کوئی فریاد رس بھی نہیں ہے۔ تیرے حبیب کا وسیلہ لے کر تیری بارگاہ میں ہم التجا کرتے ہیں کہ ہمارے گناہوں کو بخش دے، ہماری خطاؤں کو معاف کردے اور اس مقام پر ہمیں پہنچنے کا راستہ بخش دے جو تونے ہمارے لیے مقرر کر رکھا ہے۔

تو دوستو! عبادات بے شک بڑی اہمیت کی حامل ہیں، اس سے کوئی انکار نہیں ہے۔ لیکن صرف عبادات تک محدود رہنے والے لوگ، دین کے باقی حصے یعنی حقوق العباد کو چھوڑنے والے لوگ کہ والدین، پڑوسی، بیٹے اور بیٹیاں، گھر والے، مسلمان اور جتنے بھی انسان ہیں، ان کے حقوق جو اللہ تعالیٰ نے ہم پر عائد کئے ہیں۔ ان سے اگر ہم صرفِ نظر کرلیتے ہیں تو پھر عبادات، جس طرح حدیث میں ہے کہ دین کے دس حصوں میں سے عبادت ایک حصہ ہے، نو حصے حقوق العباد ہیں جن کو ہم نظر انداز کررہے ہیں۔ نماز پر تو اس لئے ہمارا شوق بڑھ جاتا ہے کہ لوگ ہمیں مسجد میں دیکھ کر ہمارے لیے اچھا گمان ڈالدیتے ہیں کہ ہاں یہ نمازی ہے۔ لیکن نماز پڑھنے کے بعد اگر وہ گھر میں آکر ایسے ایسے کام کرے جس سے شیطان بھی شرما جائے، جھوٹ بولے، لوگوں پر ظلم کرے، ماں باپ کی بے فرمانی کرے، پڑوسیوں کے ساتھ ظلم کرے تو پھر اس کی نمازیں آخرت میں انہی لوگوں تک پہنچ جائیں گی اور یہ خالی کا خالی رہ جائے گا۔ کیونکہ اس نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے۔ تو وہ نو حصے دین کے آپ اور ہم مت بھلائیں۔ انکی اہمیت مت بھلائیں۔ ان کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ آقائے نامدار آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے بار بار ان چیزوں کی وضاحت فرمائی اور قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میری عبادت کرو اور اپنے والدین کے ساتھ احسان کرو، اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ”فَاِنَّ الْعَھْدَ کَانَ مَسْئُوْلا“ کہ جب عہد کرو، اقرار کرو تو اس کو پورا کرکے دکھاؤ۔

بنو امیہ کے دور میں افغانستان کے علائقے میں فوجوں کو بھیجا گیا۔ اونٹوں پر سوار ہوکر آئے اور انہوں نے افغانستان میں موجود اس وقت کے بادشاہ رطبیل پر حملہ کردیا، اور اس نے مان لیا کہ ٹھیک ہے میں آپ کو خراج دینے پر آمادہ ہوں تو وہ چلے گئے۔ اس معرکہ میں صحابہ بھی شامل تھے، تو اس بادشاہ نے صحابہ کو دیکھا۔ جب وہ چلے گئے تو کافی عرصے کے بعد یزید بن معاویہ کے دور میں غالباً جب محسوس کیا گیا کہ وہاں سے خراج نہیں مل رہی ہے تو پھر اور لوگوں کو بھیجا گیا کہ بھائی جاؤ ان کے ساتھ لڑائی کرو۔ گھوڑوں پر سوار ہوکر کافی سارا لشکر پہنچ گیا۔ بنو امیہ کا دور ہے یا اس کے آگے پیچھے مجھے پوری طرح یاد نہیں۔ تو جب وہ لوگ آئے وہاں وہی حکمران تھا۔ تو وہ حکمران اپنے گھر سے، محل سے نکلا لشکر و سپاہ کے ساتھ کہ دیکھوں یہ کون لوگ آئے ہیں۔ جب وہ آیا اس نے دیکھا کہ ان کے لباس بڑے نفیس تھے، ان کے جسم صحتمند تھے، ان کے گھوڑے بڑے تروتازہ تھے۔ تو انہوں نے اس کے ساتھ بات چیت شروع کردی۔ بھئی ٹھیک ہے آؤ بات کرو، مگر اس نے بات کرنے کے بعد چند دنوں کی مہلت مانگی۔ چند دنوں کے بعد پھر ان سے ملا، پوچھا کہ وہ لوگ کہاں گئے جو کچھ سال پہلے آئے تھے۔ ان کے لباس آپ کی طرح اچھے نہیں تھے، ان کی صحت بھی بڑی کمزور تھی، ان کے چہروں پر نشانات تھے، ان کے پاؤں میں بڑی معمولی سی چپلیں تھیں کھجور کے پتوں سے بنی ہوئی۔ وہ کہاں گئے؟ تو انہوں نے کہا کہ سب وفات پاچکے ہیں۔ اچھا تو اب تم آئے ہو ان کی جگہ۔ واضح فرق ہے تم میں اور ان میں۔ ہاں اب تو بڑی نعمت ہے۔ اسلامی حکومت کی حدود مصر، روم شام، ایران، عراق ان سب علائقوں تک پہنچ چکی ہے۔ بڑی دولت کی کثرت ہے۔ اس نے کہا ٹھیک ہے مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں ہے، لیکن میں دیکھ رہا ہوں جو تم سے پہلے لوگ آئے تھے وہ بڑے بے لوث تھے۔ ان کے دل میں کوئی طمع نہیں تھی۔ اپنے وعدے کے پکے تھے اور ایک مرتبہ عہد اور اقرار کرلیتے تو اس سے آگے پیچھے نہیں ہوتے تھے۔ لیکن مجھے بڑا افسوس ہے، میں نے دو تین دنوں میں تمہیں آزمایا ہے، نہ تم اپنے وعدے کے پکے ہو، نہ تمہارا کردار اتنا اعلیٰ ہے جس طرح کہ ان لوگوں کا تھا۔ بیشک تمہارے لباس اچھے ہیں، بیشک سواریاں اچھی ہیں مگر میں آپ جیسے لوگوں سے کوئی معاملہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں۔

تو دوستو ایک ایسا شخص جس نے کبھی آقائے نامدار آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا۔ حالت ایمان میں نہیں تھا۔ لیکن وہ بھی پرکھ کر بتا دیتا ہے کہ اخلاق کی عظمت، وعدے کی سچائی، کردار کی پختگی، امانتداری یہ کتنی بڑی امانت ہے۔ ہم اور آپ آج اپنے حال پر غور کریں۔ ضروریات زندگی میسر نہیں ہورہی ہیں، ہم پریشان ہیں، ایک دوسرے پر اعتماد مفقود ہوچکا ہے۔ پاکستان میں رہنے والے لوگ ایک دوسرے پر اعتماد کھوچکے ہیں۔ ہر ایک دوسرے کو کہتا ہے کہ وہ لوٹنے والا ہے۔ وہ دوسرا کہتا ہے نہیں میں ٹھیک ہوں یہ لوٹنے والا ہے۔ ایک دوسرے کے اوپر انگلیاں سیدھی ہیں۔ کوئی باہمی اعتماد نہیں، کوئی باہمی احترام نہیں، کوئی باہمی مساوات نہیں، کوئی باہمی مواخات نہیں۔ اور بظاہر ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان کے لوگ صوفیاء کرام سے بڑی محبت رکھتے ہیں۔ داتا صاحب کا عرس ہو، لاکھوں لوگ نظر آئیں گے، قلندر شہباز کا عرس ہو لاکھوں لوگ نظر آئیں گے، بھٹائی صاحب کا عرس ہو سینکڑوں ہزاروں لوگ پہنچ جائیں گے۔ بھئی صوفیاء کرام سے محبت تو ہے لیکن اس محبت کا نتیجہ کہاں ہے؟ محبت تو وہ ہوتی ہے کہ جس سے محبت کیجاتی ہے اس کے فرمان پر لبیک کہا جائے۔ کیا صوفیاء کرام کی یہ تعلیم تھی کہ ایک دوسرے کی داڑھیوں کو پکڑو؟ صوفیاء کرام کی یہ تعلیم تھی کہ تم ایک دوسرے کے گریبان کو کھینچو؟ صوفیاء کرام کی یہ تعلیم تھی کہ تم فرقوں میں بکھر جاؤ؟ صوفیاء کرام کی یہ تعلیم تھی کہ اسٹیج پر کھڑے ہوکر اپنے علاوہ باقی سب لوگوں کو کہو کہ یہ غلط ہے وہ بھی غلط ہے؟ کیا یہ تعلیم تھی ان کی؟ اگر تم اولیاء کے عاشق ہو، حضور صلّی اللہ علیہ وسلم کے عاشق ہو تو پھر وہ علامتیں کہاں ہیں؟ وہ بادشاہ افغانستان کا جو کہہ رہا تھا وہی بات ہمارے سامنے ہے۔ آئینہ ہمارے سامنے ہے۔ میرے سامنے ہے آپ کے سامنے ہے۔ چہرہ اپنا دیکھ لو کہاں کھڑے ہو، کیا کر رہے ہو؟ صرف دعویٰ ہے اور کچھ بھی نہیں۔

ہمارے سندھ میں گیدڑ پائے جاتے ہیں۔ یہاں بھی جب ہم شروع میں آئے تھے، میرے مرشد و مربی ہمیں یہاں لے کر آئے تھے تو یہ قبرستان بڑا گھنا تھا۔ تو یہاں بڑے گیدڑ ہوتے تھے۔ کراچی کے لوگ اور لاہور کے لوگ ڈر نہ جائیں کہ یہاں بھئی ایسے جانور بیٹھے ہوئے ہیں کہ ہمیں کھا جائیں گے۔ بھائی ان جانوروں سے بدتر تو ہم لوگ جانور بن چکے ہیں۔ وہ بیچارے دنیا چھوڑ گئے۔ کیوں کہ یہ خود جانور بن گئے ہمارا کام نہیں رہا۔ تو جب شام ہوتی تھی، ان کی آواز آتی تھی۔ ان کی ایک مخصوص چیخ ہوتی ہے جو میں بڑے شوق سے سنتا تھا۔ مغرب کی نماز پڑھ کر جب گھر میں جاتے تھے، قبرستان سے آواز سننے میں آتی تھی۔ میں بڑے آرام سے ان کی آواز سنتا تھا۔ ہمارے حضرت فرماتے تھے کہ تمہیں پتا ہے کہ گیدڑ شام کو کیا کہتے ہیں؟ پھر فرماتے تھے کہ ایک گیدڑ نکلتا ہے، دن کو اس نے کھایا پیا ہے، پیٹ اس کا بھر گیا ہے، وہ غرور سے آواز بلند کرتا ہے ”میں وہ میں“، بھئی مجھ جیسا کوئی نہیں ”میں وہ میں“۔ یہ سن کر دوسرا گیدڑ ادھر سے نکل آتا ہے تیری کیا ہے، تو کیا ہے ”میں وہ میں“۔ تیسرا آتا ہے، تو کیا بنتا ہے، تیرا کیا ہے ”میں وہ میں“۔ پھر چاروں طرف سے یہی آوازیں آتی ہیں۔ میں وہ میں، میں وہ میں، میں وہ میں۔ گیدڑوں کی طرح آج ہر طرف سے ہماری آوازیں آرہی ہیں ”میں ہی میں، میں ہی میں“۔ میں ٹھیک ہوں، میں صحیح ہوں، باقی سب غلط ہیں۔

دوستو! اگر تم لوگ صوفیاء کرام سے محبت کرتے ہو، ان کے عاشق ہو، سندھی ہو یا پنجابی ہو، سرحد کے ہو یا بلوچستان کے ہو، صوفیاء کرام کی تعلیمات پر عمل کرکے دکھاؤ۔ کیا آج بھی دیکھو ان کے درباروں پر ہر طرف سے لوگ نہیں آتے؟ ہر قسم کے لوگ نہیں آتے؟ ان کی دربار پر ہر طرح کے لوگ اس وقت بھی آتے تھے، یہ اور بات ہے جو اس وقت تعلیم دی جاتی تھی آج وہ تعلیم وہاں مفقود ہوچکی ہے۔ ان کے ہاں بیٹھنے والے وہ لوگ جب وہاں سے جاتے تھے ان کے سینوں میں انسانیت کی خوشبو ہوتی تھی۔ وہ وہاں سے جاتے تھے تو پیار اور محبت سیکھ کر جاتے تھے۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں

هلو هلو در ڪورئين، نازڪ جنين نينهن،
ڳنڍين سارو ڏينهن، ڇنڻ مور نه سکيا.

کہتے ہیں جاؤ ان جولاہوں کے پاس جو کپڑا بنتے ہیں۔ بڑے نازک نازک دھاگے ہوتے ہیں، پر وہ چھوٹے چھوٹے دھاگے ایک دوسرے سے ملاتے جاتے ہیں، ملاتے جاتے ہیں۔ وہ اپنی کوشش کرتے ہیں کہ ایک دھاگہ بھی ٹوٹنے نہ پائے۔ جب وہ بڑی محنت سے اپنی نظر خرچ کرتے ہیں، اپنی کوشش خرچ کرتے ہیں تو ایک خوبصورت لباس تیار ہوتا ہے۔ وہ ان جولاہوں سے اللہ والوں کو تشبیہ دیتے ہیں۔ بھائی چلو ان جولاہوں کے پاس، ان اللہ والوں کے پاس جن کی عجیب محبت ہے۔ وہ تو سارا دن گانٹھتے ہی رہتے ہیں، ملاتے ہی رہتے ہیں۔ وہ کبھی بھی توڑنا سیکھے ہی نہیں۔ آج ہم قوموں میں بٹ چکے ہیں، آج ہم فرقوں میں بٹ چکے ہیں۔ وہ ایسا ہے وہ فرقہ ویسا ہے، میرا فرقہ صحیح ہے ان کا فرقہ غلط ہے، یہ ایسا ہے یہ ویسا ہے۔ یہاں آپ کو یہ تعلیم نہیں ملے گی۔ ہمیں بھلے پتھر ملیں، کھائیں گے پتھر۔ ہمیں بھلے کفر کی فتویٰ ملے ہمیں قبول ہے۔ ہمیں برا بھلا کہا جائے ہمیں قبول ہے۔ ہم اپنے مشائخ کی تعلیم دیتے رہیں گے، کوئی خوش ہو یا ناراض۔ وہ یہ ہے کہ آؤ سینے سے لگ جاؤ، ہمیں بھی سینے سے لگاؤ، ایک بن جاؤ، خدا کی بندگی کا حق ادا کرکے دکھاؤ، حضور صلّی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں اپنا سر جھکا کے دکھاؤ۔ تمہارے اوپر اللہ کی رحمت تب ہی برسے گی۔ دوستو تمہاری تکالیف تب ہی دور ہونگی۔ تمہاری پریشانی اسی وقت دور ہوگی۔ تمہاری بیماری کا علاج ہی یہی ہے۔ تمہاری تکالیف کا علاج ہی یہی ہے۔ صرف گفتار کے غازی مت بنو کردار کے غازی بن کر دکھاؤ۔

تو دوستو! آج میری اس گفتگو کے مدعات دو تین تھے۔ ایک یہ تھا کہ ہم صوفیاء سے محبت کرتے ہیں، اولیاء کرام سے محبت کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول سے عشق کرتے ہیں۔ اس لئے ہم یہاں آئے ہیں۔ تو میں نے آپ کے سامنے ان لوگوں کے کردار کی جھلکیاں پیش کیں کہ ان کا کیا کیا کام تھا۔ وہ چیزیں ہمارے اندر ہیں یا نہیں؟ اگر نہیں ہیں تو وہ اپنے اندر پیدا کرکے دکھاؤ۔ اور دوسری بات میں نے یہ کہی کہ خلیفۃ اللہ فی الارض بننے کی دعوت اللہ کی طرف سے مل رہی ہے۔ آجاؤ، میرے خلیفہ بن جاؤ۔ اس کے لئے شرطیں اللہ تعالیٰ نے رکھیں ہیں کہ ایمان لے آؤ اور عمل صالح کرو۔ یعنی حضور صلّی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پر لبیک کہتے ہوئے ایمان لے آؤ اور حضور جو قانون آپ کے سامنے لائے ہیں اس قانون اور دستور عمل کو زیر عمل لاؤ، ان کی پیروی کرو۔ بڑی حیرت کی بات ہے۔ خلیفۃ اللہ فی الارض کی معنیٰ تو یہ ہے کہ پوری روئے زمین کا وارث

وَ لَقَدْ کَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِنْ بَعْدِ الذکْرِ اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُھَا عِبادِیَ الصٰلحُونَ۝

کہ ہم نے زبور میں لکھ دیا ہے میری زمین کے وارث میرے صالح بندے بنیں گے۔ تو خلیفۃ اللہ فی الارض کے معنیٰ یہ ہیں پوری زمین کا وارث۔ تو زمین کا وارث بننے کے لیے یہ کہا جاتا بھائی تم جاؤ کوئی بڑا ادارہ کھولو، ان لوگوں کو فوجی ٹریننگ دو۔ یہ کہا جاتا کہ ان کو کسی یونیورسٹی میں ڈالدو، کوئی کالج کھول کر اس میں پڑھانا شروع کردو، کسی بڑے ادارے میں ان کو ڈال دو، کسی بڑے ماہر دانشور کی خدمت میں بھیج دو۔ یہ بات نہیں کی گئی۔ بڑی حیران کن بات ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لے آؤ، خلافت ملے گی، زمیں کی وراثت ملے گی، زمین کی حکومت ملے گی، عزت اور آبرو ملے گی، شرف اور شان ملے گا۔ ہم یہ سوچتے ہیں کہ ہمارے بچے بڑے اچھے کالج میں پڑھیں گے تو بڑے انسان بن جائیں گے، ہمارے بچے بڑی یونیورسٹیوں میں پڑھیں گے تو بڑے انسان بن جائیں گے۔ بیشک یونیورسٹیوں میں پڑھیں، بیشک کالج میں پڑھیں، بیشک بڑے اداروں میں ان کو ڈالیں، بیشک وہاں سے وہ انجنیئر بن کے نکلیں، بیشک وہ ڈاکٹر بن کرکے نکلیں، وہاں سے سب چیز ان کو مل سکتی ہے لیکن جو چیز اللہ سکھا رہا ہے وہاں سے وہ چیز نہیں ملے گی۔ کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے ”لَیَسْتَخْلَفَنّھُمْ فِی الْاَرْض“ ہم ان کو ضرور ضرور نائب بنائیں گے۔ تاکید ہے، ضرور ضرور ان کو نائب بنائیں گے۔ کب بنائیں گے؟ جب رسول کے اوپر اور مجھ اللہ پر ایمان لائیں گے۔ ایمان ان کے دلوں میں داخل ہو اور جو قانون رسول مکرم صلّی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے اس پر عمل کرکے دکھائیں۔ یہ دو باتیں کرکے دکھاؤ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرا وعدہ ہے میں تمہیں زمین کا وارث بناؤں گا۔ اور پھر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے میری رسی کو مضبوطی سے تھام لو، ایسے نہ ہو کہ تم ٹکڑوں میں بٹ جاؤ، فرقوں میں بٹ جاؤ۔ بلکہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو۔

فَقَدِ اسْتَمسَکَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقیٰ لَنْ فِصَامَ لَھا۝

ایسے مضبوط سہارے کو پکڑلو جو کبھی بھی ٹوٹنے والا نہیں ہے۔ اس کو پکڑلو۔ میرے آقا و مولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کی ذات یہ سہارا ہے، قرآن کریم یہ سہارا ہے۔ اس سہارے کو تھام لو اور پھر اس سہارے کو اس طرح مضبوطی سے تھام لو کہ کوئی تمہارے اندر فرق نہیں رہے۔ محمدی رنگ میں رنگ جاؤ۔ تو جب اس رنگ میں رنگ جاؤ گے پھر تمہیں خلافت بھی عطا کروں گا، ولایت میں عطا کروں گا۔

تو دوستو! بیشک تم ڈاکٹر بھی بنو، انجنیئر بھی بن جاؤ اور اس کی ضرورت بھی ہے۔ سائنس اور ٹیکنالاجی کے میدان میں ہمارے نوجوانوں کو آگے بڑھنا چاہیے۔ لیکن جو وراثت نبوی ہے، وراثت مصطفوی ہے، فیضان نبوی ہے، جو عنایت نبوی ہے وہ چیزیں بھی ہمارے اندر ہونی چاہییں۔ یہ سرمایہ ہمارے سینے میں ہونا چاہیے۔ کیا حسین منظر ہوگا جب ایک سائنسدان بھی ہو، ایک ڈاکٹر بھی ہو، ایک انجنیئر بھی ہو، سب چیزیں اس کے اندر موجود ہوں اور اس کے ساتھ اس کے سینے میں ایمان کامل بھی ہو، عشق رسول بھی ہو اور اس کا عمل سنت نبوی کے مطابق ہو۔ مخلوق خدا پر مہربان ہو۔ جب یہ سب چیزیں اس میں اکھٹی ہوجائیں گی میں سمجھتا ہوں کامیابی ہم سے دور نہیں ہے۔ ایسے لوگ پیدا ہونگے۔ آقا و مولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کی نظر سے ایسے لوگ پیدا ہونگے۔ کیونکہ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مثل الامتی کمثل مطر“۔ میری امت کی مثال بارش کی طرح ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ بارش کا اول اچھا ہے یا آخر۔ اسی بارش کی طرح میری امت بھی ہے۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے اس وقت کیا ہورہا ہے۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے آگے کیا ہونے والا ہے۔ پوری امت کا منظر آپ کے سامنے تھا۔ یہ تو میرے آقا کے غلاموں کو آقا کے صدقے یہ نعمت مل جاتی ہے، یہ دولت مل جاتی ہے۔ آقا کا مقام ہی کیا ہوگا؟ ان کا شان ہی کیا ہوگا؟ حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ جو نقشبندیہ سلسلہ کے پیشوا ہیں وہ فرماتے ہیں، وہی بات جو میں پہلے کہہ رہا تھاکہ الہاؤ زاری بڑی اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔ وہ فرماتے ہیں ہمارے اندر انکساری، الہاؤ زاری کا اشتیاق پیدا ہوا۔ ہم سجدے میں چلے گئے اور رونے لگے اور اللہ کی بارگاہ میں اپنی بے بسی پیش کرنے لگے۔

نداریم غیر از تو فریاد رس
توئی عاصیاں را خطا بخش وبس

اے میرے رب العالمین توئی بخشنے والا ہے، توئی کرم فرمانے والا ہے۔ وہ فرماتے ہیں الہام ہوا اللہ کی طرف سے اے احمد سرہندی (رحمۃ اللہ علیہ) تمہیں ہم نے بخش دیا۔ ہم نے دیکھا رحمت الٰہی جوش میں ہے، وہاں سے عنایت ہورہی ہے، فرماتے ہیں ہم نے اور زیادہ الہاؤ زاری شروع کردی۔ اے میرے رب العالمین تیری رحمت کا تجھے واسطہ ہے، تیری سخاوت کا تجھے واسطہ، تیری مغفرت کا تجھے واسطہ ہے اور بھی مہربانی فرمادے، اور بھی مہربانی فرما۔ الہام ہوا ”قد غفرت لک ومن توصل بک“ کہ ہم نے تجھے تو بخش دیا لیکن جس نے تیرے ہاتھ کو پکڑا ہے اس کو بھی بخش دیا ہے۔ فرماتے ہیں ہمیں مسرت بھی ہورہی تھی، خوشی بھی ہورہی تھی، لیکن سوچا آج احمد سرہندی ایسا موقعہ ملا ہے پھر کبھی شاید نہ ملے۔ رحمت کے دروازے کھول دیئے گئے ہیں، مغفرت کے اعلان ہورہے ہیں، بخششیں مل رہی ہیں، اعزاز و اکرام مل رہے ہیں تو امام ربانی فرماتے ہیں ہم نے اور الہاؤ زاری شروع کردی۔ اے میرے رب العالمین میں اور بھی چاہتا ہوں۔ میں اس سے بھی زیادہ چاہتا ہوں۔ جتنی تیری رحمت ہے میں اتنا چاہتا ہوں۔ اے احمد سرہندی کیا چاہتے ہو؟ میں نے عرض کیا یا رب العالمین تیرے حبیب کے صدقے، آقا کے صدقے میں چاہتا ہوں جو بھی طریقہ نقشبندیہ میں اس وقت داخل ہے، جو آگے داخل ہونگے ان سب کو مغفرت مل جائے، سب کی بخشش کردی جائے، سب کو معاف کردیا جائے، سب کو جنتی ہونے کا سرٹیفکیٹ دیا جائے۔ کتنا پیار ہے ہمارے مشائخ کو ہم جیسے گنہگاروں سے۔ جن کی وجہ سے، جن کے نام کے صدقے آج ہم یہاں جمع ہوئے ہیں۔ میرے سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ، حضور پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ، حضرت پیر فضل علی قریشی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت امام ربانی رحمۃ اللہ علیہ۔ ان کا صدقہ ہے جو آج ہم یہاں جمع ہیں ورنہ تو مجھ جیسے خطاکار کو، سیاہ کار کو کون جانتا ہے۔ میری حالت، میری کیفیت مولانا جلال الدین رومی علیہ الرحمۃ کے شعر کی مانند ہے۔

اے دریغا کس نہ می داند مرا
گر بداند دم بر آند مرا

کیا ہی اچھا ہے، کوئی مجھے جانتا ہی نہیں، کوئی مجھے جانتا ہی نہیں۔ میرے اندر کو نہیں جانتا ہے، میرے گناہوں کو نہیں جانتا، میری سیاہیوں کو نہیں جانتا ہے اس لئے مجھے سر پر بٹھا رکھا ہے۔ اگر وہ میری سیاہ کاریاں جان لے۔ میری بد اعمالیاں جان لے۔ اے میرے مولا یہ تو تیرا کرم ہے کہ تو نے مجھے چھپا دیا ہے۔ اگر جان لے تو مجھے یہاں سے دھکے دیکر نکال دے۔ واللہ میں تو اس لائق ہوں، لیکن اس کا کرم ہے اس کی مہربانی ہے کہ اتنی عزتیں مل رہی ہیں۔ میں قربان جاؤں ان الہاؤ زاریوں پر جن کی وجہ سے عزتیں مل رہی ہیں۔ یہ میرا کمال نہیں ہے، میری کوئی حیثیت نہیں ہے، مجھے کوئی پوچھتا بھی نہیں۔ یہ تو ان کا ہاتھ ہے، شفقت ہے، ان کی عنایت ہے، ان کی مہربانیاں ہیں کہ میں خطا در خطا کرتا چلا جارہا ہوں، لیکن وہ اپنی سخاوت کے دروازے کبھی بند نہیں کرتے۔

تو امام ربانی مجدد منور الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا ہاں اے احمد سرہندی تیری یہ حجت، تیری یہ الہاء زاری ہمیں پسند آئی، جتنے بھی قیامت تک تیری طریقت میں آئیں گے واسطے سے یا بلا واسطہ

”قَدْ غَفَرْتَ لَکَ وَ مَنْ تَوَصَلَ بِکَ بِوَاسِطَۃِ اَوْ بِلَا وَاسِطَۃ“

سب کو بخش دیا۔ قیامت تک آنے والے نقشبندیوں کو امام ربانی رحمۃ اللہ علیہ نے بارگاہ الٰہی میں دعا کرکے، جب وہ پیدا بھی نہیں ہوئے تھے، وہ شکم مادر میں بھی نہیں آئے تھے، وہ دنیا میں پیدا بھی نہیں ہوئے۔ امام ربانی رحمۃ اللہ علیہ نے اللہ کی بارگاہ میں الہاء زاری کرکے ان کی پیدائش سے پہلے ہی ان کی مغفرت کا سرٹیفکیٹ اللہ کی بارگاہ سے لے لیا۔ ہمیں فخر ہے کہ ہم نقشبندی ہیں۔ کیوں کہ ہمارے طریقہ کے سالار اتنے فیاض ہیں۔ پھر فرماتے ہیں ہم دعا کرتے چلے گئے اے میرے رب العالمین کرم نوازی فرما۔ تو اتنا اللہ کا انعام ہوا، وہ تو ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ فرماتے ہیں جتنے بھی نقشبندی طریقے میں آئیں گے ہمارے بعد یا اس سے پہلے آچکے تھے، ان سب کی صورتیں ہمیں دکھائی گئیں۔ ہم نے ان کو دیکھ لیا۔

تو میں عرض کررہا تھا یہ آقا کے غلاموں کا مقام ہے اللہ کی بارگاہ میں۔ تو آقا کا مقام کیا ہوگا، یہ اندازہ خود کرلو۔ اگر یہ پسند ہے تو یہ رنگ قبول کرلو لیکن ایک شرط ہے۔ ایک شرط کہ کوئی اور رنگ اس کے ساتھ مکس نہیں ہوگا۔ اگر کوئی اور رنگ مکس ہوگیا تو پھر وہ کہتے ہیں کہ کوے کو شوق ہوا تھا میں بھی مور کی چال سیکھوں، تو بیچارا اپنی بھی چال بھول گیا۔ تو اگر یہ رنگ ہم نے حاصل کرنا ہے تو پھر وہ کوا پن چھوڑنا پڑیگا۔ تو پھر وہ کائیں کائیں چھوڑنی پڑیگی پوری طرح سے۔ یہ موروں کا رنگ ہے۔ یہ شیروں کا رنگ ہے۔

بھٹائی صاحب سے پیار کرنے والے لوگو کچھ ہوش کرو۔ کل قیامت کے دن بھٹائی سے ملاقات ہو اور کہیں کہ سائیں تھے ہم فرقہ بندی کے شکار اور لوگوں سے لڑتے ہی رہتے تھے۔ شاہ صاحب کہیں گے کہ واہ خوب تم نے میری ہدایت پر عمل کیا ہے۔ شاہ صاحب نے تو محبت کا درس دیا، پیار کا درس دیا، اپنی ذات کی نفی کا درس دیا۔ دوستو! بڑے عقیدتمند ہوتے ہیں، لوگ بھی کہتے ہیں واہ کا عقیدت مند ہے، آپ کے ار دگرد ہونگے، میرے چوگرد ہونگے۔ دوستو! عاشقوں کو پر نہیں ہوتے کہ پر دیکھ کر آپ سمجھ جائیں ہاں یہ واقعی عاشق ہیں۔ حضر ت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ کا واقعہ میں آپ کو بتاتا ہوں۔ بڑے عجیب بزرگ گذرے ہیں۔ مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ان پر الہام اور مستی کا غلبہ ہوا تو انہوں نے اس وقت کے واعظ اور ان لوگوں پر جو تقریر کرنے والے تھے ان پر تنقید شروع کردی۔ یہ مثنوی شریف کا واقعہ ہے۔ تو اس وقت انہی کی حکومت تھی، انہوں نے کہا کہ بھئی یہ تو فتنہ بڑھا رہا ہے، لوگوں میں انتشار پیدا ہورہا ہے اور لوگ ان کی تقریریں سنتے ہیں اور یہ برملا تنقید کرتے ہیں۔ مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ نے یہ تو ذکر نہیں کیا کہ کیا تنقید کرتے تھے اور پھر وہ اللہ کی محبت کی بات کرتے تھے، عشق کی بات کرتے، مجذوبوں کی طرح وہ لوگوں کے درمیان بھاگتے ہوتے۔ تو کہا بھئی پکڑو اس کو۔ اس کو جیل میں ڈال دو۔ حضرت ذالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ کو پکڑ کر جیل میں ڈال دیا۔ اب پورے ملک میں یہ بات مشہور ہوگئی بھئی اس اللہ والے کو انہوں نے جیل میں ڈال دیا کیونکہ کہ ظاہر میں ان لوگوں کو اس حقیقت کا پتہ ہی نہیں ہوتا کہ محبت کیا ہے؟ عشق کیا ہے؟ اللہ تبارک وتعالیٰ کے ساتھ جب رشتہ پڑجاتا ہے تو اسکی علامت کیا ہے؟ ہمارے حضرت یہ شعر پڑھتے تھے

سرمد غم عشق بوالہوس را نہ دہند
سوز دل پروانہ مگس را نہ دہند

سرمد ایک مغلیہ دور میں بڑے مجذوب بزرگ گذرے ہیں۔ مستی میں رہتے تھے۔ وہ کہتے ہیں جو عشق کا غم ہے وہ خواہش کے مارے ہوئے کو نہیں ملتا، جو اپنے نفس کا پجاری ہے اس کو نہیں ملتا۔ خود اللہ تعالیٰ نے اس کی مذمت فرمائی ہے

اَفْرَاَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰھَہُ ہَوَاہ۝

اے میرے حبیب کیا تونے اس کو دیکھا ہے جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنالیا۔ بہت بدترین اپنا معبود بنایا ہے۔ اس کے پیچھے بھاگتا ہے۔ جو اس کا نفس چاہتا ہے وہ کرتا پھرتا ہے۔ تو سرمد کہتے ہیں غم عشق جو ہے وہ بوالہوس کو نہیں ملتا۔ سوز اور گداز جو پروانے میں پایا جاتا ہے یہ مکھی کو نہیں ملتا۔ مکھی بھی وہاں آتی ہے، اِدھر اُدھر گھومتی پھرے گی لیکن شعلے کے قریب نہیں آئے گی۔ کیونکہ اس کو پیٹ بھرنے کا فکر ہوتا ہے۔ بڑے بڑے آتے ہیں امیر، رئیس، وزیر، ملازمت پیشہ لوگ، یوں دیکھ کر چلے جاتے ہیں۔ ہاں سائیں دعا کرو۔ بس چلے جائیں گے، بیٹھنے میں ان کو مزا نہیں آئے گا۔ ان کو تب مزا آئے گا جب سب لوگ ان کے سامنے کھڑے ہوں اور یہ کچھ کہنا شروع کردیں جس طرح میں کررہا ہوں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے انگشتری خریدی تھی تو اس نے انگشتری پہنی۔ دو تین دن بازار میں دوستوں یاروں کی طرف گیا لیکن کسی نے اس کی انگشتری کو دیکھا نہیں۔ اس کو بڑا فکر ہوا کہ بھئی لوگ بات نہیں کررہے ہیں میں نے بڑی اچھی انگشتری سونے کی بنوائی ہے۔ تو اس نے دوستوں کو دعوت دی۔ سب لوگ آگئے، تو جب آرہے تھے تو انگشتری دکھانے کے لئے وہ کہہ رہا تھا یہاں بیٹھیں، یہاں بیٹھیں کہ انگشتری کی چمک دمک بھی نظر آئے۔ لیکن پھر بھی کسی نے توجہ نہیں کی، وہ تو کھانے کی طرف دیکھ رہے تھے۔ کیا پلاؤ ملتا ہے، کیا قورمہ ملتا ہے اور کیا روسٹ ملتا ہے۔ جیسا کہ آج ہمارا حال ہے۔ ایسا نہیں کرنا چاہیے۔

یاد رکھو کم کھاؤ گے تو تمہارا روح تازہ رہے گا، پیٹ پوجا میں لگے رہو گے، تمہارا روح بھوکا رہ جائے گا۔ زیادہ کھانا صوفیاء کرام کا شیوہ نہیں ہے۔

نیم نانے گر خورد مرد خدا
بزل درویشاں کند نیمِ دگر

اگر آدھی روٹی خدا کا بندہ کھاتا ہے تو آدھی روٹی دوست کو کھلادیتا ہے۔ تو وہ اپنے دوستوں کو کہنے لگا بھئی ادھر بیٹھو، پھر بھی کسی نے نہیں توجہ کی۔ لوگ کھانا بھی کھا چکے، کسی نے انگشتری کی تعریف بھی نہیں کی، تو مجبور ہوکر وہ یوں ہاتھ اوپر اٹھاتا ہے اور کہتا ہے بھئی آج بڑی گرمی ہے مجھے انگشتری اتارنی پڑے گی۔ تو ایسے ہی ہمیں عادت ہوتی ہے لوگوں کو دکھائیں کچھ اپنا کمال۔ تو دوستو! یہ چیز انسان کو رسوا کردیتی ہے اللہ کی نظر میں۔ بندگی کا شیوا ہے عاجزی، انکساری، چھپانا اپنے آپ کو۔ تو میں عرض کررہا تھا وہ سرمد کا شعر

عمرے باید کہ یار آید بکنار
سرمد ایں دولت ہمہ کس را نہ دہند

ایک عمر چاہیے، وقت چاہیے کہ دوست تمہارے بازو میں آجائے۔ یہ ایسے نہیں ہوگا کہ تم نے جھٹ سے کہا اور پٹ سے آگیا۔

یاد رکھو دوست ہر ایک کے بازو میں نہیں آتا، کسی خوش نصیب کے بازو میں آتا ہے۔ تو محبوب کو پانا چاہتے ہو تو پھر دل سے خواہش نکال دو، بوالہوس نہ بنو۔ فدا کرنے والے، جان فدا کرنے والے بنو، قربان ہونے والے ہوجاؤ۔

تو ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ کی بات میں عرض کررہا تھا، ان کے معتقدین وہاں آگئے، انہوں نے کہا کہ ہم جانتے ہیں آپ تو بڑے عالم ہیں، بڑے علامہ ہیں۔ آپ نے لوگوں پر اس لئے تنقید کی ہوگی کہ لوگ آپ کے اردگرد اکٹھے ہورہے ہیں تو آپ کو جیل میں ڈالدیا جائے، آپ چھپ چھپا جائیں۔ سائیں حضور ایسی بات نہیں ہے آپ باہر تشریف لے آئیں۔ ہم آپ کے خادم ہیں اور ہم آپ کے جاں نثار ہیں۔ ہم آپ پر قربان ہونے والے ہیں۔ تو ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ نے دل میں سوچا یہ اتنی محبت کی دعویٰ کررہے ہیں ان کو آزمانا چاہیے کہ واقعی یہ محبت میں سچے بھی ہیں۔ تو وہ تو پہلے ہی مستی میں تھے۔ عشق الٰہی کی وجہ سے ان کے سینے میں ایک آگ جل رہی تھی، وہ بڑی مستی میں اور بڑے شوق میں تھے۔ انہوں نے زور سے ضرب لگائی اور جو بھی وہاں چیزیں موجود تھیں اٹھاکر ان کو مارنا شروع کردیا۔ اس کو مارا، اس کو مارا۔ وہ بھاگنا شروع ہوگئے۔ کوئی ادھر بھاگ رہا ہے کوئی ادھر بھاگ رہا ہے۔ کہنے لگے سائیں پاگل ہوگیا۔ بھاگ گئے۔ تو وہ اپنے آپ کو کہنے لگے اے ذوالنون دیکھ لیا اپنے عقیدت مندوں کا حال۔ بھئی جس کی محبت ہوتی ہے، جس کا شوق ہوتا ہے، جس کا تعلق ہوتا ہے وہ تو اپنے پیاروں سے چوٹ کھاکر بھی خوش ہوتا ہے۔ یہ نہیں کہ اس کی طرف سے چوٹ ملے تو وہ بلبلا اٹھے، چیخنا شروع کردے۔ یہ کیوں ہوا اور وہ کیوں ہوا۔ بلکہ وہ اس چوٹ کو کھاکر بھی خوش ہوتا ہے۔ وہ شعر مجھے بڑا پسند آیا مولانا رومی کا، وہ فرماتے ہیں

گراں گیرد چہ رنج دوست بہ دوست

دوست کی طرف سے پہنچنے والی تکلیف کو دوست کیوں گراں سمجھے گا۔ آگے جو بات کہہ رہے ہیں بڑے پتے کی ہے۔

رنج مغز بدوستی او را چہ اوست

کہہ رہے ہیں کہ دوستی تو چھلکا ہے۔ جو اندر اصل مغز ہے وہ رنج ہے۔ جو دوستی میں رنج پہنچتا ہے، تکلیف پہنچتی ہے اصل مغز تو وہ ہے۔ وہ کہتے ہیں وہ ہی تو مطلوب ہے۔ اگر وہ چیز نہ ہو تو دوستی کا مثال تو چھلکے کی طرح ہے۔ تم بادام خریدتے ہو۔ بادام کے اوپر چھلکا ہوتا ہے اندر مغز ہوتا ہے۔ جب تم خرید رہے ہوتے ہو چھلکے پر تمہاری نظر نہیں ہوتی، تمہاری نظر چھلکے کے اندر موجود مغز پر ہوتی ہے کہ جاکر میں اس کو توڑوں گا، اندر سے بادام نکالوں گا اور میں کھاؤں گا۔ میرے دماغ اور قلب کو تازگی ملے گی۔ اگر تمہیں، بادام نکلا ہوا ہو اور صرف چھلکے ہوں، کوئی مفت میں بھی دے کبھی بھی لینا پسند نہ کرو گے۔ کہو گے بھئی میں اس کا کیا کروں گا، یہ تو جلانے کے بھی لائق نہیں ہے۔ پھینک کے چلے جاؤ گے۔ تو وہ فرماتے ہیں دوست جس کو تم مغز سمجھ رہے ہو یہ چھلکا ہے۔ اصل جو مغز ہے وہ دوستی میں ملنے والا رنج و تکلیف ہے۔ دوست کی طرف سے جو بھی ملتا ہے وہ پیارا ہوتا ہے۔ اگر رنج مل جائے تو وہ بھی پیارا ہوتا ہے۔

ڏک سکن جي سونهن، گهوريان سک ڏکن تان

شاہ عبداللطیف بھٹائی صاحب فرماتے ہیں کہ جو دکھ مجھے ملے ہیں وہ اصل حسن تو ان ہی میں ہے۔ سمجھو صوفیو سمجھو۔ اور پھر فرماتے ہیں ایسے دکھوں پر جو مجھے محبوب کے در پر ملیں، اس کی جستجو میں ملیں، اس کی رضا کو پانے میں ملیں، فرماتے ہیں یہ جو تکلیفیں مل رہی ہیں یہ تو اصل ہے۔ میں ایسے آرام، ایسی خوشیوں کو ان پر قربان کردوں، قربان کردوں۔ میں عرض کروں گا کہ آپ یہاں آئے ہیں۔ آپ کو یہاں تکلیفیں پہنچی ہونگی، مشقتیں پہنچی ہونگی۔ تو حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ کا جو واقعہ میں نے عرض کیا تھا اور ان کے واقعے کے حوالے سے جو میں شعر عرض کیا اس میں ہماری ان تکالیف کا جواب موجود ہے۔ لیکن پھر بھی میں آپ سے معذرت خواہ ہوں۔ ہمارے حالات اتنے اچھے نہیں، یعنی کہ بندوبست اتنا اچھا نہیں کہ آپ کو آسائش مل سکی ہو۔ لیکن جفا کے پیچھے تمغے ملتے ہیں۔ جفا ہوگی تو تمغہ بھی ملے گا۔ ایسے دوست نہیں ملتا دوستو۔ تو جفا ہوگی تو تمغہ بھی ملے گا۔ وہ مبلغین، وہ خلفاء کرام، وہ پیارے جو دن رات تبلیغ کے لیے کوشاں ہیں ان کو آفرین ہو۔ میرا حال تو وہ ہے جس طرح ایک اور واقعہ میں عرض کردوں۔ مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ایک شخص کو شوق ہوا کہ میں فقیہ بن جاؤں، لوگ مجھے بڑا عالم سمجھیں۔ تو وہ دیکھتا تھا کہ فقیہوں کو، عالموں کو بڑی پگ ہوتی ہے۔ تو اس نے سوچا کہ میں بھی بڑی سی پگ باندھ لیتا ہوں، لوگ سمجھیں گے کہ بڑا عالم ہے، بڑا فقیہ ہے۔ لیکن بیچارا اتنا بدحال تھا کہ گھر میں کوئی ڈھنگ کا کپڑا بھی نہیں تھا۔ اس نے مانگے تانگے کے لئے بھی کوشش کی، مگر صرف آدھا گز کپڑا مل پایا۔ اب وہ اتنا بڑا نہیں تھا کہ پگ کی طرح سر پہ سجالے۔ تو اس نے کہا ایسے میں بیٹھا رہا تو فقیہ بننے سے رہا۔ اس نے کسی کچرے کے ڈھیر سے جو کپڑوں کے چھوٹے چھوٹے پیسز پڑے ہوتے ہیں وہ جمع کیے، وہ جو کترن ہوتی ہے کپڑوں کی، کافی ساری جمع کی اور پھر اس نے آدھے گز کے اس کپڑے کے اندر ڈالنا شروع کردیا تاکہ بڑی پگ بن جائے۔ لوگ کہیں واہ بھئی واہ۔ ہمار ا حال بھی وہی ہے۔ جس کو دیکھیں گے بھئی اس کی آواز کچھ بھاری بھرکم ہے، جسم کچھ بھاری بھرکم ہے اور وہ کچھ اپنے آپ کو بنا بناکر پیش کر رہا ہے تو ہم اس کے پاؤں میں گرتے ہیں، ہم اس کو بہت کچھ سمجھتے ہیں ۔تب ہی تو ہم ایسے ہی بن گئے ہیں۔ اندر کچھ بھی نہیں ہوتا خالی ڈبہ ہوتا ہے، لوگ کہتے ہیں واہ بھئی واہ۔ ہمارا حال بھی وہی ہے۔ ایسے نہیں بنو۔ عقل تمہیں اللہ نے دی ہے، دل تمہیں اللہ نے دیا ہے، پہچان رکھو پہچان۔ جاہلوں کی طرح ایسے نہ ہو کہ جس کے ہاتھ میں لاٹھی ہو اس کے آگے آگے چلنا شروع کردو

 تو وہ پگ اس نے بنائی اور وہ گھر سے نکلا۔ وہ پگ باندھ کر گھومتا ہے، ہر جگہ اس کو عزتیں ملتی تھیں۔ تو کسی چور اچکے نے دیکھا بھئی یہ تو بالکل مفلس کلاش تھا، اس نے بڑی بوسکی کی پگ باندھی ہوئی ہے بڑا مزا ہوگیا ہے اس کا تو۔ وہ اس کے پیچھے کئی ہفتے خوار ہوتا پھرا۔ کبھی موقع ملے تو اس کی پگ میں چھین لوں۔ تو ایک دن کہیں سے اس کو یہ شخص اکیلا جاتا ہوا، بڑی پگ والا جو فقیہ بنا تھا وہ مل گیا۔ تو چور نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، پگ اس کے سر سے جھپٹ کر بھاگا۔ جب کافی دور چلا گیا تو اس نے کہا او بھائی بات تو سن۔ کیا بات ہے؟ اندر دیکھ اس میں ہے کیا۔ تو اس نے کہا نہیں نہیں میں گھر جاکر دیکھوں گا۔ او بیوقوف ابھی دیکھ لے۔ اس نے یوں پگ کو کھولا تو کپڑوں کی کترن گری ہے اور صرف آدھا گز کپڑے کا ہے۔ وہ اس کو بڑی صلاتیں سنانے لگا بیوقوف تونے میرے دن ضایع کردیئے۔ ایک مہینہ تمہیں تاڑا ہے یہ بوسکی کی پگ مجھے مل جائیگی۔ اور اس میں کترن بھری ہوئی ہے اور کچھ بھی نہیں ہے۔

تو بھائی ہمارا حال بھی وہی ہے۔ ایک کترن بھری ہوئی اور کچھ بھی نہیں ہے۔ نہ اخلاص ہے، نہ عمل ہے، کچھ بھی نہیں۔ لیکن دوستوں نے جو کہہ دیا کہ آپ کچھ بولیں تو پھر میں سمجھتا ہوں یہ مشائخ کا فیض ہے، مہربانی ان کی ہوگی ہم عرض کردیتے ہیں۔ ہمارا کچھ بھی حال نہیں ہے۔ میرے عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ دل کی اصلاح ہو اور نفس کی خرابیاں دور کرنے کی ہم کوشش کریں۔ ایسے سینکڑوں لوگ میں نے دیکھے۔ جب انہوں نے ذکر کیا، ذکر والوں کے ساتھ بیٹھے، ان کی زندگی میں انقلاب آگیا۔ سینکڑوں لوگ۔ آپ کو اس محفل میں ایسے ہزاروں لوگ ملیں گے جو چور تھے، جھوٹ بولتے تھے، نشہ کرتے تھے، لوگوں کے حق غصب کرتے تھے، بداخلاق تھے، اور بھی دنیا بھر کی خرابیاں ان میں تھیں۔ مگر جب میرے پیر کی صحبت میں آئے، ذکر لیا، ذکر کمایا، صحیح معنیٰ میں مراقبہ کیا، آج ان کے اندر وہ انقلاب آگیا کہ ان کی اصلاح ہوگئی۔ پورے گھرانے کی اصلاح ہوگئی۔ اور جو میں نے پہلے بات عرض کی کہ یہاں سے جانے کے بعد آپ مخلوق کے لئے پیار کرنے والے بنیں۔ یہ میرے آقا کی سنت ہے کہ اپنوں سے تو پیار کیا مگر جو دشمن تھے ان کو بھی سینے سے لگایا۔ اس لئے اگر آپ کا کوئی بھی دشمن ہے، آپ اس کے خلاف بغض دل میں قطعاً نہ رکھیں، قطعا نہ رکھیں۔ بلکہ میرے آقا کی سنت پر عمل کریں۔ جو آپ کو مخالف، دشمن سمجھتا ہے وہ ملے تو اس کو سلام کرتے چلے جائیں۔ یہ سلام ایسا لفظ ہے، میرے آقا کی سنت ہے کہ اس کے سینے سے جو مخالف ہے اس کے سینے سے بغض اور کینہ بھی نکال کر باہر کردیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہماری خطاؤں کو معاف فرمائے۔