فہرست
خطابات طاہریہ

آزمائش خداوندی

 

نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم

اما بعد

فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

سَنُرِیْہِمْ اٰیٰاتِنَا فِیْ الْاٰفَاقِ وَفیْ اَنْفُسِہِمْ۝

صدق اللہ العظیم۔

میرے محترم دوستو عزیزو! نصیحت اور واعظ آپ نے سن لی، مزید کوئی ضرورت تو نہیں ہے۔ الحمدللہ سنانے والے بھی نیک صالح اور سننے والے بھی آپ سب نیک صالح۔ یہ عاجز ان دونوں باتوں سے محروم ہے۔ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ ہدایت سلیم دے اور نیک بندوں کی صحیح محبت اور عقیدت بھی نصیب کرے اور ان کی صحبت اور محبت کا شوق دل میں پیدا ہو۔ کیونکہ جب تک یہ طلب اور جستجو پیدا نہ ہوگی دعواؤں سے کچھ بھی نہیں ہوگا۔ اگر دعواؤں سے کام بنتا تو آج آپ کو کوئی بھی شخص زمینوں میں ہل چلاتا ہوا نظر نہیں آتا یا کوئی بھی شخص دکانوں پر بیٹھا ہوا نظر نہیں آت، اپنی فیکٹریوں اور ملوں میں آپ کو کوئی بھی آدمی نظر نہیں آتا۔ ہر شخص صرف زبان کی کمائی کھات، جاکے دعویٰ کرتا اور وہ چیز اس کو مل جاتی۔

تو جو دنیاوی چیزیں ہیں، عارضی اور فانی چیزیں ہیں، مختصر اور قلیل چیزیں ہیں، ان سب چیزوں کو حاصل کرنے کے لئے اتنی سخت محنت کرنی ہوتی ہے۔ حالانکہ دنیا فانی اور عارضی ہے، جب اس کے حصول کے لئے اتنی محنت کی ضرورت ہے تو آخرت جو باقی ہے، ابدی ہے، دائمی ہے، افضل ہے، اعلیٰ ہے، بہتر ہے، برتر ہے۔ تو کیا اس کے اندر وہ منزلیں اور مقام اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی وہ بغیر محنت کئے اور بغیر کوشش کئے ہمیں مفت میں حاصل ہوجائے گی؟ اگر ایسا ہوتا تو انبیاء علیہم السلام کبھی بھی مشقتیں نہیں اٹھاتے۔ مگر آپ دیکھیں انسانوں کے گروہ میں جنہیں سب سے زیادہ تکالیف اور اذیتیں پہنچی ہیں، جنہوں نے مشقتیں اٹھائی ہیں اور محنتیں کی ہیں، وہ انبیاء علیہم السلام کا ہی گروہ ہے۔

بعض انبیاء کو کلمہ حق کے لئے، اللہ تعالیٰ کے خوشنودی اور رضا کو حاصل کرنے کے لئے اپنے وطن کو چھوڑنا پڑ، اور بعض وہ تھے جن کو اللہ کی راہ میں شہید کیا گیا اور بعض انبیاء وہ تھے جن کو بہت زیادہ سخت آزمائشوں میں ڈالا گیا۔ حضرت ایوب علیہ السلام کے صبر کو آپ نے سنا ہوگا کہ کتنی آپ کی مال و دولت تھی، کس قدر اولاد تھی۔ اتنی ساری چیزوں کو اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے بطور آزمائش یکسر ختم کردیا گیا۔ پہلے مال چلا گی، جائداد چلی گئی، حتیٰ کہ اولاد بھی، اور ان سب چیزوں کے بعد ان کے جسم پر آزمائش شروع ہوگئی۔ یہ واقعہ علماء کرام سے آپ نے سنا ہوگا۔ حضرت ایوب علیہ السلام کے علاوہ اور انبیاء مثلا حضرت ابراہیم علیٰ نبینا علیہ الصلوٰۃ والسلام۔ ان کو کس طرح آزمایا گیا کہ بہت بڑی آگ جلائی گئی تھی جس کی تپش اور گرمی میلوں دور تک پہنچ رہی تھی۔ ان کو آگ میں ڈالا گیا۔

اس ناچیز کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ ہی وہ لوگ ہیں جو آخرت کی حقیقت سے بہت زیادہ واقف ہیں اور ان سب میں سے زیادہ ہمارے آقا و مولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو آزمایا گیا۔ جس طرح کہ آپ فرماتے ہیں کسی بھی نبی کو مجھ سے پہلے اس طرح اذیتیں نہیں دی گئیں اور اس طرح تکالیف نہیں دی گئیں۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ، سیرت مبارک کو جب ہم پڑھتے ہیں تو یہ ہی چیز ہمیں معلوم ہوتی ہے کہ جوانی سے لے کر اخیر عمر تک آپ پر مختلف زمانوں میں مختلف تکالیف اور آزمائشیں آتی رہیں۔ مکہ میں آپ کی نبوت کے ابتدائی زمانہ کو دیکھیں، بچپن میں دیکھیں، والد بہت پہلے وفات پاگئے اور والدہ کا سایہ سر سے اٹھ گیا اور اس طرح آپ اپنے دادا اور اس کے بعد اپنے چچا کے پاس قیام پذیر رہے۔ نبوت کے بعد مکہ میں آپ قیام پذیر ہیں، اللہ تبارک و تعالیٰ کا حکم ہوتا ہے کہ میرا پیغام ان لوگوں تک پہنچاؤ، ان کو حق کی طرف بلاؤ۔ دعوت دیتے ہیں، کوہ صفا پر کھڑے ہوئے ہیں، قریش مکہ کو بلاتے ہیں جس طرح اس وقت میں معمول تھا کہ کوئی ایسی سخت مشکل درپیش ہوتی تھی یا کوئی بڑا خطرہ درپیش ہوتا تھا تو قریش اسی طرح ایک دوسرے کو بلاتے تھے۔ اسی انداز میں میرے آقا و مولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے قریش مکہ کو بلایا۔ کوہ صفا پر کھڑے ہیں، سب رئیس اور سب سردار اکٹھے ہوگئے بلکہ مکہ کے جو بھی لوگ تھے وہ بھی اکٹھے ہوگئے۔ سینکڑوں لوگ جب کھڑے ہوگئے تو میرے آقا و مولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے ان کو فرمایا کہ میں اس پہاڑی پر کھڑا ہوں اور آپ دیکھ رہے ہیں کہ میں آپ کی صورتوں کو بھی دیکھ رہا ہوں اور اس طرف جو کچھ ہورہا ہے وہ بھی میں دیکھ رہا ہوں۔ یہ بات آپ اچھی طرح دیکھ رہے ہیں اور سمجھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا بیشک۔ آپ نے فرمایا اگر میں آپ کو یہ بتاؤں کہ جس طرف میری نظر جارہی ہے ایک بڑا جم غفیر، ایک بڑا لشکر اور سپاہ اسلحہ سمیت جبل کے اس پار آپ کو نیست نابود کرنے کے لئے چلا آرہا ہے، کیا آپ یقین کریں گے؟ سب لوگوں نے کہا کیوں نہیں، ہم نے آپ کو ہمیشہ سچ پر پایا ہے۔ تو آپ نے فرمایا اے قریش مکہ ذرا یہ سن لو، میں آپ کو بتاتا ہوں کہ ایک آج ہے جس کے بعد ایک کل آنے والی ہے۔ اس کل کے متعلق میں آپ کو ڈراتا ہوں۔ وہ قیامت کا دن ہوگا جب ہر شخص کو اللہ کی بارگاہ میں پیش ہونا ہے، اپنی زندگی کا حساب دنیا ہے۔ تم فضول نہیں پیدا گئے۔ اس لئے نہیں دنیا میں آئے ہوکہ صرف اپنے پیٹ کا بسر کرو یا صرف اپنے قبیلہ اور قوم پر بسر کرو، اس کے لئے ہی اپنی جان کو قربان کردو یا ضایع کردو۔ یاد رکھو کہ یہ دنیا عارضی ہے، فانی ہے۔ آخرت دائمی اور باقی ہے۔ آخرت کے لئے تمہیں کچھ کرنا چاہیے۔ اور آپ نے اللہ تبارک و تعالیٰ کی عبادت کی طرف بلایا، اس کی وحدانیت کا درس دیا، آخرت کا ان کو فکر بتایا۔ جب یہ باتیں سب نے سنیں تو اور تو خاموش رہے غالبا آپ کے چچا ابولہب، اس نے آپ کی شان میں گستاخی کی، کچھ کم و بیش الفاظ کہے لیکن آپ اس محنت اور مشقت کو ان لوگوں کے غلط الفاظ کے وجہ سے روکنے والے نہیں تھے۔ آپ کی محنت برابر جاری رہی۔ کس قدر دشمنی بھڑکی، کس قدر تکالیف اور اذیتوں میں اضافہ ہوا کہ آپ کو مکہ چھوڑنا پڑا۔ جس طرح کہ پہلے کچھ مسلمان حبش کی طرف روانہ ہوئے، لیکن پھر بھی آپ نے ماحول کو بنتے ہوئے نہیں پایا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوا

وَ اھْجُرْھُمْ ھَجْرًا جَمِیْلًا۝

اے میرے حبیب اب تم ان کو چھوڑدو، ان سے علیحدگی اختیار کرلو۔ شاید اس طرح آپ کے دور جانے سے ان کے لئے کچھ مصلحتیں پیدا ہوں اور آپ کی طرف ان کا میلان ہو۔ تو آپ مدینہ طیبہ تشریف لے گئے۔ کون ہوگا اہل ایمان جو یہ پسند کریگا کہ خانہ کعبہ کو چھوڑدے اور اس سے دور چلا جائے؟ کون ہے وہ جو یہ چاہے گا کوہ صفا و مروہ جیسی پاکیزہ جگہوں کو چھوڑ کر کہیں اور چلا جائے؟ کون ہے جو یہ چاہے گا کہ حجر اسود جیسی عظیم ایک نعمت جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے کعبۃ اللہ میں رکھی ہے اس کو چھوڑ کر کہیں دور چلا جائے؟ وہاں مقدس مقامات ہیں، وہاں انبیاء علیہم السلام کی آمد رہی، ملائکہ کا نزول وہاں ہمیشہ رہتا ہے، اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا نزول وہیں پر ہوتا ہے۔ آپ ان سب چیزوں کو اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی کے لئے چھوڑ رہے ہیں۔ کیوں کہ انہوں نے اس طرح پریشان کیا اور تکالیف اور اذیتیں دیں کہ اب ممکن نہیں رہا تھا کہ اطمینان اور آرام سے تبلیغ کا کام ہوسکے۔ آپ وہاں سے رخصت ہوتے ہیں۔

وہی رات جو آپ کی مکہ میں آخری رات ہے۔ جملہ قریش نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہر ایک قبیلہ کا ایک ایک نوجوان آگے بڑھے اور آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کے گھر مبارک کا گھیراؤ کرلیں اور یہ ان کا ناپاک عزم اور ارادہ ہے کہ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کو شہید کردیا جائے۔ گھیرے میں لے لیا ہے، تنہا اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے ہیں لیکن آپ پر کچھ گھبراہٹ کے آثار نہیں ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جس کے کام میں لگے ہوئے ہیں وہ ہمیں دیکھ رہا ہے اور ان کفار کو بھی دیکھ رہا ہے اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ حق پر کون ہے اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اگرچہ یہ چند مسلمان، جو اس کے نام لیوا ہیں اگر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی مدد نہ فرمائی تو پھر آگے کوئی اس کا نام لیوا نہ رہے گا۔ اس لئے آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کو یقین تھا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے گا۔

اس سے ہمیں یہ بھی درس ملتا ہے کہ جب ہم اللہ کی راہ میں نکلیں اور اس کا پیغام عام کرنے کے لئے کوشاں ہوجائیں اور اس قدر مخالفتیں بڑھیں۔ حالانکہ ایسی کوئی صورت ہمیں نظر تو نہیں آتی کہ دشمنان ہمیں گھیر لیں اور ہمیں کوئی راستہ بھی نظر نہ آئے کہ کہیں سے ہم نکل سکیں۔ تو اہل ایمان کو یہ واقعہ اپنے سامنے رکھنا چاہیے کہ یہ ہمارا پیشوا، رہنما، راہبر اپنی زندگی سے یہ درس دے کر گیا ہے۔ اس لئے اگر ایسی صورت بھی درپیش آجائے تو بھی آپ کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات آپ کے ساتھ ہے اور وہ آپ کی مدد ضرور کریگا۔ جب آپ اس کی راہ میں نکلتے ہیں، اس کے دین کی سربلندی کے لئے کوشاں ہیں تو وہ آپ کی ضرور مدد کرے گا۔ اگرچہ آپ کو ظاہری عقل یہ فتویٰ دے کہ موت یقینی ہے، کچھ بھی راستہ باقی نہیں اور آپ اب کہیں بھی نہیں جاسکتے، اپنی جان بچا نہیں سکتے۔ لیکن آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ درس دیا اور بتادیا اپنے عملی تفسیر اور عملی قدم سے کہ ایسے وقت میں بھی آپ کو مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے۔

بیشک یہ حقیقت ہے کہ ایمان والے کبھی بھی موت سے نہیں ڈرتے۔ وہ جانتے ہیں کہ یہ پیاری زندگی اگر چھوڑ کر ہم آگے گئے تو اس سے بہتر ہم آگے پائیں گے۔

اور انسان ہمیشہ یہ ہی چاہتا ہے کہ میں ایک جگہ کو چھوڑ کر کسی ایسے مقام پر چلا جاؤں جو یہاں سے بہتر ہو۔ حتیٰ کہ لوگ اپنے وطن کو چھوڑ دیتے ہیں۔ کوئی دبئی چلا جاتا ہے، کوئی امریکا چلا جاتا ہے، کوئی لندن چلا جاتا ہے، کوئی افریکا چلا جاتا ہے۔ کس لئے جاتے ہیں؟ اس لئے جاتے ہیں کہ ہمیں بہتر معاش ملے، زیادہ ترقی ملے، زیادہ دولت ملے۔ اسی فکر کے تحت وہ اپنے گھر کو، ماں باپ کو، بیوی بچوں کو چھوڑ دیتے ہیں۔

اسی طرح مؤمنین اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ دنیا سے آخرت زیادہ افضل اور اعلیٰ ہے۔ تو جب موت ان پر آتی ہے تو کوئی گھبراہٹ ان پر طاری نہیں ہوتی، ان کے چہرے پر کوئی پریشانی نہیں ہوتی، وہ غمگین نہیں ہوتے کیونکہ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ فرشتے نازل ہورہے ہیں، اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے ان کی آمد ہورہی ہے، وہ خوش خبریاں لارہے ہیں، جنت کا مقام دکھا رہے ہیں اور جب وہ اللہ کے حضور میں پہنچے گا تو اللہ اس پر راضی ہے اور وہ اس سے راضی ہوگا۔ اس کے لئے قبر قبر نہیں رہے گی بلکہ وہ جنت کا باغ ہوجائے گی اور وہ دیکھے گا جنت کی کھڑکی کھول دی گئی ہے اور جنت کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں آرہی ہیں اور وہ دیکھے گا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے فرشتے آئے ہیں، اس کے لئے جنت کا بچھونا بچھا رہے ہیں اور اس کو کہتے ہیں تم کو کچھ فکر نہیں، تم کو کچھ غم نہیں، تو مزے سے آرام کی نیند سوجا کیونکہ تو زیادہ محنت کرکے آیا ہے۔ جو ڈیوٹی اللہ نے تیرے اوپر لگائی تھی، تجھ کو مبارک ہو وہ ڈیوٹی تم نے پوری کی پوری ادا کرلی ہے۔

جس طرح ایک ملازم ہو اور وہ مہینے کی تنخواہ پر ملازمت اختیار کرے پھر پورا مہینہ محنت کرے۔ صبح کو دفتر پہنچے، گرمی کی پرواہ نہ ہو، سردی کی پرواہ نہ ہو اس کو، دفتری فرائض کو ادا کرکے شام تک وہ مکمل ذمہ داری سے بیٹھا رہا، کچھ لکھتا بھی رہا۔ اس کو حکم ہوا لکھنے کا، اس کو حکم ہوا کہ تو جاکے بینک سے فلاں کام کرکے آ۔ وہ اپنی جیب میں چیک ڈال کر بینک پہنچا۔ اس کو حکم ہوا تو فلاں علائقہ میں جا اور ہمارے دفتر کا جو بھی کام ہے وہ کرکے آ۔ اس کام سے وہ ادھر چلا گیا۔ انکار نہیں کیا۔ اس کو حکم ہوا اور بھی تیرے لئے مشکل مراحل ہیں، تم کو فلاں پہاڑی علائقے میں جانا ہے جدھر تم کو بھوکا اور پیاسا رہنا پڑے گا۔ اس نے اس بات کی پرواہ نہیں کی۔ پورا مہینہ اپنی ذمہ داری کو پورے احسن طریقے سے ادا کیا۔ اب مہینے کی آخری تاریخ ہے اس کو غم نہیں ہوگا، اس کو دکھ نہ ہوگا، اس کو فکر نہیں ہوگی بلکہ وہ مطمئن اور مسرور ہوگا۔ وہ جانتا ہے کہ میں نے اپنے فرائض پوری ایمانداری سے سرانجام دیئے ہیں۔

اسی طرح سے ایک مؤمن، ایمان والا، متقی، پرہیزگار انسان اپنی زندگی کے دن بسر کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کو فرماتا ہے

اِنَّ اللہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤمِنِیْنَ اَنْفُسَہُمْ وَ اَمْوَالَہُمْ بِاَنَّ لَہُمُ الْجَنَّۃَ۝

بیشک اللہ تعالیٰ نے مؤمنوں سے خرید لی ہیں ان کی جانیں اور ان کے مال کہ اس کے عوض ان کو جنت ملے گی۔ اب نہ ان کو اپنی جانیں عزیز ہیں اور نہ ان کو اپنے مال سے پیار ہے، کیونکہ اس کے عوض اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے جنت مقرر کردی ہے۔ یہ تجارت ہوگئی۔ اب ان کو یقین ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں جو بھی حکم کرے گا اس پر ہم لبیک کہیں گے، کیونکہ ہم اپنی جانیں اللہ کے حوالے کرچکے ہیں۔ بدلے میں ہم نے جنت خرید کی ہے۔

اللہ کا حکم ہوگیا اب آپ اٹھ کر میری نماز کو ادا کریں، انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ آج گرمی زیادہ ہے گھر سے کیسے نکلیں یا ایسے سوچیں کہ بدن میں درد ہے کیسے میں اپنے گھر سے باہر نکلوں۔ یا ان کو حکم ہوگیا کہ آپ روزے رکھو۔ اس کو معلوم ہے کہ میں اللہ سے اپنی تجارت کرچکا ہوں، میں جنت خرید چکا ہوں، اب مجھے اپنی ڈیوٹی کے اوپر نظر رکھنی ہے۔ اسی لئے بلا چوں و چرا کے اس نے روزے رکھنے شروع کردیئے۔ سخت پیاس نے ستایا، اکیلا بیٹھا تھا، کوئی دیکھنے والا نہیں تھا سوائے اللہ کی ذات کے اور پانی بھی آگے پڑا ہے، شربت بھی موجود ہے لیکن اس نے پانی یا شربت کو ہونٹوں کے قریب لانا بھی گوارا نہیں کیا۔ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے اوپر یہ ڈیوٹی لگائی تھی کہ پیاسا اور بھوکا رہنا ہے۔

اسی طرح سے ان کو زندگی میں زکوٰۃ ادا کرنی ہے۔ مال سے بہت پیار ہے، ایک ایک روپیہ، پیسہ اس نے جمع کیا ہے۔ اب کون چاہے گا کہ اس کو بغیر کسی بدلے کے مفت میں ایسے ہی دے دے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر تیرے پاس نصاب کے مطابق پیسے ہیں اور ان کو سال گذر گیا ہے یا تمہارے پاس سونا اور چاندی ہے اور ان کو سال گذرچکا ہے اور وہ سونا اور چاندی نصاب کے مطابق ہے تو اب تم کو ضرور زکوٰۃ نکالنی ہے۔ تمہارے اوپر فرض ہے۔ اگر تم زکوٰۃ نہیں نکالو گے تو آخرت میں تمہارے لئے دردناک عذاب ہے۔ جیسے قرآن مجید میں آیا ہے کہ جو بھی سونے اور چاندی کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتے بلکہ ان کو کٹھے کرکے رکھتے ہیں، جمع کرتے ہیں، ان کے اوپر سانپ بن کر بیٹھ جاتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا کہ اس سونے اور چاندی سے ان کی پیشانیوں کو قیامت کے دن داغا جائے گا۔ آگ میں سونے چاندی کو گرم کرکے ان کی پیشانیوں کو داغا جائے گا اور وہ سونا چاندی عذاب کی صورت میں ان کے سامنے درپیش ہوگا اور آگے بھی جہنم کا عذاب اس کے علاوہ ہے۔

تو جب اللہ کا حکم ہوتا ہے کہ تم میرے اس حکم کے ماتحت زکوٰۃ ادا کرو تو تم بلاچوں و چرا اس نصاب کے مطابق زکوٰۃ ادا کردو۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ اب وہ سکرات کا لمحہ پہنچ گیا ہے، دوسرے پریشان ہونگے، تم خوش ہوگے۔ کیونکہ تم جانتے ہو پوری زندگی اللہ کی ڈیوٹی دی ہے۔ جو میری نوکری مقرر کی گئی تھی اس کو میں نے پوری طرح ادا کیا ہے۔ رشوت سے بچا، حرام سے بچا، سود سے بچا، چوری سے بچا، زنا سے بچا۔ اب اطمینان ہے، خوشی اور مسرت ہے کہ مجھے اپنی محنت کا اجر ضرور ملے گا۔ چہرے پر کوئی غم نہیں ہے۔

تو میرے عزیزو دوستو یہ عاجز وہ ہی عرض کررہا تھا کہ ہم اور آپ اس زندگی میں ان فرائض کو اخلاص سے ادا کریں کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان فرائض کا حسین اجر ہمارے لئے تیار کر رکھا ہے۔ جن کا آخرت پر یقین ہے وہ کبھی بھی اس معاملے میں پیچھے نہیں ہونگے۔

میں نے جو آیت کریمہ تلاوت کی اس میں اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ ہم اس آفاق میں، اس دنیا میں، اس زمین میں اور آسمانوں میں انسانوں کو اپنی نشانیاں دکھاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کو اپنے نفس میں، اپنی جان میں بھی اپنی علامات دکھاتے ہیں تاکہ ان کو یقین ہوجائے۔ ان کے اندر جو شکوک اور شبہات کے بادل چھائے ہوئے ہیں وہ چھٹ جائیں۔ ان کو معلوم ہوجائے کہ یہ مذہب اسلام، یہ دین جو حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس لائے، یہ ہی سچا ہے اور یہ ہی برحق ہے۔ یہ ان کو کامل یقین حاصل ہوتا ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کی اس آیت کے مطابق اسی غور و فکر سے آفاق کو دیکھتے ہیں اور اپنی جانوں کو دیکھتے ہیں۔ اگر اسی نظر سے ہم اس آفاق کو دیکھیں تو اللہ کی نشانیاں ہم کو بھی نظر آجائیں گی۔ مگر ہم اپنے زمین کے ٹکرے کو اس نیت سے دیکھیں گے کہ یہ میری ملکیت ہے، میں بڑا زمیندار ہوں، میں بڑا رئیس ہوں، میں بڑا خان ہوں، میرا بڑا شان ہے، دوسروں کو زمین نہیں ہے مجھے تو زمین ہے۔ لیکن اس نیت سے ہم نہیں دیکھیں گے یہ زمین اللہ تبارک و تعالیٰ نے پیدا کی ہے۔ اس کی قدرت کاملہ پر نظر کرو کہ یہ ایک حقیر مٹی ہے، اس مٹی میں زندگی کا کوئی نشان نظر نہیں آتا، کیا کسی مٹی کو آپ نے بولتے ہوئے دیکھا ہے یا اس کو کھاتے ہوئے دیکھا ہے یا اس کو چلتے ہوئے دیکھا ہے؟ اس میں کوئی زندگی کا نشان نظر نہیں آتا۔ ہوا کا جھونکا آتا ہے اس کو اڑا کر لے جاتا ہے۔ کبھی ادھر، کبھی ادھر، پاؤں میں پڑی ہوتی ہے۔ ایسی بظاہر بے جان مٹی، لیکن اس میں قدرت کاملہ کا ایک عجیب نظارہ دیکھو کہ جب اس میں گندم کا دانا ڈالتے ہیں، پانی اس کو لگتا ہے تواس میں سٹا پیدا ہوجاتا ہے۔ جو اللہ والا ہوگا وہ اس کو اس نظر سے دیکھے گا۔ اس میں غور فکر کرے گا کہ خدا کی قدرت کا شان دیکھو جو کیسی بے جان مٹی سے ایک سبز چیز گندم کے سٹے کو پیدا کرتا ہے۔ کسی دوسرے کو طاقت ہے جو ایسا کرسکے؟ اسی طرح سے وہ درخت کے اوپر نظر کرم کرتا ہے۔ درخت کی حقیقت کیا ہے؟ وہ ایک چھوٹا سا بیج ہے، ایک معمولی سا۔ اگر اس کو چڑیا بھی کھانا چاہے تو اس کو نگل لے۔ بلکہ اس سے بھی چھوٹا پرندہ ہو تو اس کو ہضم کرجائے۔ ایک معمولی دانا، جو انتہائی کمزور اور حقیر تھا۔ ایک انگلی سے وہ ٹوٹ سکتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کو سب دشمنوں سے محفوظ رکھا۔ بکریاں بھی اس کے پاس سے گذریں، بھینسیں بھی اس کے پاس سے گذریں، گائیں بھی اس کے پاس سے گذریں، انسان بھی گذرے لیکن کسی نے بھی اس کو توڑا نہیں۔ اس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے محفوظ رکھا۔ وہ بڑھتا چلاگیا۔ اس کو غذا بھی اللہ کی طرف سے ملتی رہی۔ وہ بڑھتا ہی رہا۔ کبھی اس کو کسی نے پانی بھی نہیں دیا۔ یہ پیپل کے درخت آپ کو نظر آتے ہیں اس کو کس نے پانی دیا؟ اکثر ایسے ہی درخت ہیں جو خدا کی قدرت سے بڑھے اور اتنے بلند ہوگئے کہ جو ابھی کوئی ٹریکٹر آکے اس کو ٹکر مارے تو بھی اس کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے۔ یہ کس کی قدرت ہے؟ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی قدرت ہے۔

تو اس نے پورے آفاق میں، زمین میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی نشانیاں ہمیں دکھائی ہیں۔ گندم ہے، دانے ہیں۔ جیسا دانا ڈالتے ہو ویسا ہی پودا اگتا ہے۔ پھر اس کی قدرت کے اوپر نظر کرو۔ ایک سٹا ہے پھر اس سٹے میں اللہ تعالیٰ نے اتنی برکت ڈالدی کہ ویسے تو ایک دانہ تھا تو اس سے ایک ہی دانہ پیدا ہونا چاہیئے، مگر اتنی برکت ڈالی کہ کتنے ہی خوشے پیدا ہوئے اور ایک ایک خوشے میں سے دس دس، بیس بیس دانے پیدا ہوئے۔ پھر اس میں اتنی برکت ہوئی کہ اس دانے میں سے سات سو دانے پیدا ہوئے۔ کسی دوسرے انسان کو یہ طاقت ہے یا کسی علم والے کو یا کسی دعویدار کو یہ طاقت حاصل ہے کہ وہ ایسا کر دکھائے؟ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ عبرت والی نظر تم ہر طرف گھماؤ اور تمہیں ہر طرف میری نشانیاں اور علامتیں نظر آجائیں گی۔ تمہارا ایمان کامل ہوجائے گا، مضبوط اور مستحکم ہوجائے گا۔ اپنے وجود کے اوپر نظر کرو، آفاق کو تم دیکھ چکے۔ دیکھو اور گہری نظر سے دیکھو۔ پہاڑوں کو دیکھو۔ ایک ایک چیز کے اوپر نظر کرو لیکن اس سے آگے آسان ترین یہ ہے کہ اپنے وجود کو دیکھو۔ امام غزالی فرماتے ہیں جو کچھ اللہ تعالیٰ نے آفاق میں پیدا کیا ہے اس سب کا ایک تفصیل ہے۔ درخت ہیں، ندیاں ہیں، پہاڑ ہیں، اسی طرح سے مسطح اور سیدھی زمین ہے۔ کہیں اوپر نیچے ہے۔ فرماتے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سب کو اجمالی طرح انسان کے جسم کے اندر رکھدیا ہے۔ تفصیل تو اس کا پورے جہاں میں پھیلا ہوا ہے لیکن اجمالا اس کا انسان کے اندر موجود ہے۔ پھر وہ ایک ایک چیز کو تفصیل سے بتاتے ہیں۔ وہ ہڈیوں کو پہاڑوں سے تشبیہ دیتے ہیں، انسان کی ہڈیوں کو دیکھو گویا کہ یہ پہاڑ ہیں۔ فرماتے ہیں اس کی جو شریانیں ہیں، اس کی جو رگیں ہیں، جو پورے جسم میں پھیلی ہوئی ہیں، اس کو ندیوں اور نالوں سے تشبیہ دیتے ہیں۔ اس کے بالوں کو گھاس سے تشبیہ دیتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے جسم میں اس پوری دنیا کے تفصیل کو اجمالا جمع کرکے پیدا کیا ہے۔ انسان اپنے وجود کو دیکھے تو اس کو دنیا کا عکس نظر آئے گا۔ اس قدر اللہ تعالیٰ نے انسانی جسم کو اعلیٰ اور احسن صورت عطا فرمائی۔

لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِی اَحْسَنِ تَقْوِیْم۝

بے شک ہم نے انسان کو بہترین سانچے میں ڈھالا ہے۔ ایسا کوئی کامل مکمل نمونہ کہیں بھی نظر نہیں آئے گا۔ انسان کے نفس کو آپ دیکھیں، اس کے قلب کو دیکھیں، کیا کچھ اس کے اندر صلاحیتیں پیدا کی ہیں کہ جو کچھ سالہا سال پہلے اس نے دیکھا ہوا تھا لیکن عرصہ دراز سے اس کو کبھی بھی نہیں دیکھا مگر آنکھیں بند کرکے اپنے دل میں اس کا تصور لائے تو وہ چیز گویا کہ اس کے سامنے کھڑی ہے۔ آپ نے لاہور کو دیکھا ہے چند سال پیشتر، اب قریب میں نہیں گئے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے انسانی نفس میں وہ قوت رکھی ہے جو آنکھیں بند کرے اور تصور لائے تو وہ ساری چیزیں اس کے سامنے ہیں۔ لاہور کی بازاریں، اس کی گلیاں، جو کچھ بھی اس نے دیکھا ہے وہ ساری چیزیں اس کے سامنے ہونگی۔ اسی طرح انسان اگر اپنے نفس کی خامیوں اور خوبیوں کو تلاش کرے تو وہ بھی اس کے سامنے آجائیں گی۔ یہ اور بات ہے کہ کوئی اس کی طرف توجہ دیتا ہے کوئی اس کے طرف توجہ نہیں دیتا۔ انسانیت کا کمال اسی میں ہے کہ وہ اپنے خامیوں کو تلاش کرے اور اپنی خامیوں سے اپنے آپ کو علیحدہ کرے۔ جو بہترین، اعلیٰ اور افضل چیزیں ہیں، عمدہ اخلاق ہیں وہ اپنے اندر پیدا کرے، ان کو زیادہ بڑھائے تو اس سے انسان کی ترقی ہوتی ہے۔

قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَکّٰی۝

کامیاب وہی ہوا جس نے اپنے نفس کو پاک اور صاف کیا۔ پاک اور صاف بنانے کا طریقہ یہی ہوتا ہے کہ کپڑا اگر ناپاک ہوجاتا ہے تو جس چیز کی وجہ سے ناپاک ہوا ہے، اس کپڑے کو دھوکر، اس چیز کو نکالا جاتا ہے۔ پھر صاف اور پاک پانی میں اس کو ڈالا جاتا ہے۔ اس کو نچوڑا بھی جاتا ہے تاکہ گندگی، غلاظت دور ہوجائے۔ کبھی اس کو نیل لگائی جاتی ہے، صابن لگایا جاتا ہے کہ اس میں چمک پیدا ہو اور وہ صاف ستھرا لباس بن جائے۔ اسی طرح انسان کا جسم بھی دنیا کی آلودگیوں کی وجہ سے وہ بھی ناپاک ہوچکا ہے۔ اس میں حرص بھی آگیا، ہوس بھی آگئی، تکبر بھی موجود ہے، ریا بھی موجود ہے، اور بھی بیشمار بیماریاں اس کے نفس میں موجود ہیں۔ اب یہ ناپاک ہوچکا ہے۔ اب یہ نفس اس لائق نہیں ہے کہ یہ اپنے آپ کو پہچان سکے۔ جیسے کسی کی آنکھوں کی بینائی چلی جائے تو وہ کیا جانے گا کہ دنیا میں کیا کچھ ہوتا ہے، اس جہان میں کیا کچھ موجود ہے۔ اس بیچارے کو کچھ بھی معلوم نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح وہ نفس اندھا ہوجاتا ہے، بہرا ہوجاتا ہے، گونگا بھی ہوجاتا ہے۔ جب اس کی بیماریاں دور ہوجائیں گی تو اس کے اندر وہ صلاحیت اور قوت پیدا ہوجائے گی جو اللہ تبارک و تعالیٰ اس نفس میں دیکھنا چاہتا ہے۔ پھر اس کو اللہ تعالیٰ کا عرفان بھی حاصل ہوگا، اس کا قرب بھی حاصل ہوگا۔

من عرف نفسہ فقد عرف ربہ

اس لئے صوفیاء کرام نے فرمایا جو اپنے نفس کو پہچان لیتا ہے، اس کی غلط باتیں دور کرکے اس میں صحیح باتیں پیدا کرلیتا ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ کا عرفان اس پر آسان ہوجاتا ہے۔ بلکہ ایسے ہی سجھیں کہ وہ خدا تعالیٰ کی معرفت حاصل کرچکا ہے۔ یہ عاجز عرض کرتا ہے کہ ایسی ایسی مثالیں بھی دنیا میں موجود ہیں جیسے کہ میرے مرشد و مربی ہمیشہ یہ واقعہ بیان فرماتے تھے۔ عراق کا واقعہ ہے، جس طرح جو میں نے آیت کریمہ تلاوت کی کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم تمہیں اس جہان میں ایسی نشانیاں اور علامتیں دکھاتے ہیں کہ تمہارا ایمان کامل ہوجائے اور تمہیں یہ اطمینان ہوجائے کہ جو یہ مذہب اسلام ہے، جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا فرمایا ہے۔ یہی سچ ہے، یہی صحیح ہے، یہی حق پر ہے۔

تو ہمارے مرشد و مربی کی خدمت میں ایک رسالہ ماہ طیبہ پیش کیا گیا تھا، وہ ساری جماعت کی خدمت میں پڑھ کر سناتے تھے۔ طاہر آباد میں وہ پڑھا گیا سارے مجمعے میں۔ وہاں موجود سارے دوستوں نے سنا تھا۔ فرماتے ہیں 1929ء میں یہ عراق میں واقعہ درپیش آیا تھا۔ اس وقت میں جو اس علائقہ کا حکمران تھا، اس کا نام مجھے یاد نہیں ہے، اس کو خواب نظر آیا کہ دجلہ دریا کے کنارے دو صحابی رسول صلّی اللہ علیہ وسلم حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اور غالباً حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ واللہ اعلم بالصواب، ان دو حضرات کے مزارات تھے۔ اس بادشاہ کو یا اس حکمران کو خواب نظر آیا کہ وہ دونوں صحابی رسول فرمارہے ہیں کہ ہماری مزارات میں پانی پہنچ چکا ہے اس لئے ہمارے جسم اطہر کو وہاں سے منتقل کردو۔ اس نے سوچا یہ کیسا خواب ہے اس پر کچھ غور فکر کرنا چاہیے۔ اس نے کچھ لوگوں کو مقرر کیا کہ دجلہ دریا جہاں سے بہتا ہے اور ان دو صحابیوں کی مزارات کے درمیان جو زمین آتی ہے اس کو کچھ کھود کر دیکھو کیا واقعی وہاں پانی ہے؟ اگر پانی ہوگا تو یقینا یہ خواب میرا سچا ہے۔ جب وہاں کھدائی کی گئی تو وہاں کچھ پانی نظر نہیں آیا۔ اس نے سوچا کہ شاید میرا یہ وہم اور خیال ہے اور وہم کو ذہن سے نکال دیا۔ پھر چند دنوں کے بعد اس کو خواب نظر آیا، دونوں صحابی رسول اس کو نظر آئے کہ بھئی ہم نے تجھے کہا کہ ہمارے مزارات میں یا قبروں میں پانی پہنچ چکا ہے اور تو غفلت کررہا ہے۔ اس طرح دو تین مرتبہ خواب نظر آیا۔ اس نے اس علائقے کے مفتیوں کو، عالموں کو بلایا اور ان کے سامنے باتیں بیان کیں کہ یہ خواب مجھے بار بار نظر آرہا ہے، اب مجھے کیا کرنا چا ہیے؟ تو وہاں پر ایک عالم بھی موجود تھا اس نے کہا کہ یہی خواب چند دن پہلے میں نے بھی دیکھا ہے اور اس پر ہمیں غور کرنا چاہیئے۔ جمیع علماء نے آپس میں مل کر بیٹھ کر مشورہ کیا اور متفق طور پر یہ فتویٰ جاری کیا کہ ان قبروں کو کھود کر ان صحابہ کے جسدوں کو وہاں سے نکالنا چاہیے۔ یہ بات لوگوں کے علم میں آئی اور حجاج کرام نے پر زور اصرار کیا کہ اس معاملے کو کچھ دن مؤخر کیا جائے کیوں کہ حج سے فارغ ہوکر ہم بھی یہ مشاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ بہرحال حجاج کے بہت اصرار پر اس کام کو مؤخر کردیا گیا۔ تو جو عاشق رسول تھے انہوں نے بھی جہاں کہیں سے یہ بات سنی تو خالص اس ارادے سے کہ اس بہانے سے صحابہ کی زیارت ہوجائے گی، وہ پاکیزہ اور پر نور ہستیاں، جن کو آقا و مولا آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کا دیدار نصیب ہوا، ہم نشینی اور صحبت نصیب ہوئی، ان کی زیارت ہمیں حاصل ہوجائے گی۔ اس وجہ سے ویسے بھی لوگ پہنچنا شروع ہوگئے۔ لکھنے والا لکھتا ہے کہ اس کی ملاقات ان لوگوں سے ہوئی جنہوں نے اس کا مشاہدہ کیا تھا، دیکھا تھا۔ انہوں نے خود بیان کیا بلکہ وہاں محکمہ اوقاف کے جو ذمہ دار افراد تھے انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ واقعہ سچا ہے۔ کہتے ہیں کہ وہاں بہت سارے لوگ پہنچنا شروع ہوگئے حتیٰ کہ غیر مسلم جو یہودی اور نصاریٰ، وہ بھی وہاں پہنچنا شروع ہوگئے کہ ہم بھی یہ دیکھنا چاہتے ہیں جو مسلمان اپنے دین کی حقانیت بیان کرتے ہیں۔ ہمیں اس سے معلوم ہوجائے گا کہ ان کی باتوں میں کس قدر وزن ہے اور کس قدر سچائی ہے۔ غیر مسلم بھی وہاں پہنچنا شروع ہوگئے۔کہتے ہیں کہ لاکھوں کا مجمع جمع ہوگیا۔ اس سارے مجمعے کو دکھانے کے لئے اس وقت میں اس عراق کی حکومت نے بڑی بڑی اسکرینیں مختلف جگہوں پر لگادیں تاکہ سارا عمل جو لوگ وہاں پر کھڑے ہوئے ہیں اور اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتے تو سکرینوں پر، پردوں پر اس کا عکس دیکھ سکیں۔ ہزارہا لوگ موجود ہیں۔ ان قبروں کی کھدائی کی گئی۔ حضرت حذیفہ، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما یا واللہ اعلم ان کے علاوہ کوئی اور صحابی ہیں۔ جب ان قبروں کو کھودا گیا، جب ان کا جسم اطہر ظاہر ہوا۔ ہزارہا لوگوں نے اپنی آنکھوں سے یہ مشاہدہ کیا کہ ان صحابی رسول کے جسم مبارک بالکل تروتازہ تھے۔ کچھ بھی ان کے جسم پر مٹی لگنے کے آثار موجود نہیں تھے۔ لوگوں کی نظریں جب ان پر پڑیں تو ان کے قلب کی عجیب کیفیت ہوگئی۔ بہت سارے لوگ ایسے تھے جو ان کو دیکھ کر، جن کا پہلے ایمان کمزور تھا ان کا ایمان کامل ہوگیا۔ بلکہ وہاں اس کتاب میں لکھا گیا ہے کہ ماہر امراض چشم ایک عیسائی شخص بھی وہاں پر موجود تھا۔ وہ آگے بڑھا، اس نے کہا کہ میں ان حضرات کی آنکھوں کو دیکھنا چاہتا ہوں تاکہ میں یقین کرسکوں کہ جس طرح یہ لوگ تروتازہ نظر آرہے ہیں، ان کی آنکھوں سے مجھے علم ہوجائے گا کہ حقیقت کیا ہے۔ اس نے ان حضرات صحابہ کی آنکھوں کا مشاہدہ کیا۔ اس مشاہدہ کے بعد اس نے برسر عام اعلان کیا کہ جب کسی انسان کی وفات ہوجاتی ہے تو چند لمحے گذر جانے کے بعد وہ آنکھوں کی جو ایک مخصوص چمک ہے، وہ ختم ہوجاتی ہے۔ وہ آنکھیں چمک سے عاری ہوجاتی ہیں۔ میں نے ابھی ان کے آنکھوں کو دیکھا ہے، ان صحابہ رسول کی آنکھوں کو دیکھا ہے۔ مرنے کے چند لمحوں کے بعد جو چمک ختم ہوجاتی ہے وہ چمک ابھی تک ان کی آنکھوں میں موجود ہے۔ وہ کہتے ہیں سینکڑوں لوگ ایسے بھی تھے جو یہ صرف دیکھنے آئے تھے۔ یہ سارا مشاہدہ دیکھ کر، یہ سارا اسرار و رموز دیکھ کر، ان صحابہ کو دیکھ کر، ان صحابہ کی زیارت کرکے ان کو ایمان نصیب ہوگیا۔ وہ دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے پوری دنیا کو یہ دکھادیا بلکہ ایسا موقعہ پیدا کیا جو ان سارے لوگوں نے دیکھا کہ جو میرے پیارے آقا و مولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کے جانثار صحابہ ہیں وہ یقینا اس دنیا میں، قبروں میں ان کے جسم اطہر موجود ہیں تو وہ بھی ایسی زندگی بسر کرتے ہیں جو زندگی ہم اس زمین پر بسر کررہے ہیں۔ بلکہ اس سے کئی گنا اعلیٰ اور افضل بہتر ان کی زندگی قبروں میں ہے، بلکہ ان کے جسم اطہر اس طرح تروتازہ ہیں جس طرح ایک زندہ آدمی نیند میں سوجائے اور نیند کی حالت میں اس کے جسم پر کچھ ایسے آثار ظاہر نہیں ہوتے کہ یہ کمزور ہوچکا ہے، ضعیف ہوچکا ہے، یا مردہ ہوچکا ہے۔ وہ ایسا ہی تروتازہ ہوتا ہے۔ بلکہ حالت نیند میں اس کے چہرے پر اور بھی تازگی ہوجاتی ہے۔ تو وہ صحابی رسول بھی اسی طرح نظر آرہے تھے جیسے وہ حالت نوم میں ہیں، نیند میں پڑے ہیں۔ کہتے ہیں کہ سب لوگوں کی تمنا تھی ہم ان کے جسم اطہر کو کندھا دیں۔ کہتے ہیں کہ بڑے بڑے بانس لگائے گئے، جو سینکڑوں فٹ لمبے تھے۔ ان کو اور بھی لمبا کیا گیا اور جب ان کے جسدوں کو اٹھایا گیا تو سینکڑوں لوگوں کو بلکہ ہزارہا لوگوں کو کندھے دینے کی سعادت نصیب ہوئی اور ان کو منتقل کرکے سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مسجد، جامع مسجد سلمان جو آج بھی عراق میں موجود ہے۔ ان کی مزار کے قریب انہیں دفنایا گیا۔

تو میرے دوستو عزیزو! یہ بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا ایک عجیب اظہار تھا۔ جو لوگ یقین نہیں کرتے بلکہ ان باتوں کو معاذاللہ ایک واہمہ سمجھتے ہیں یا ایک بنی بنائی باتیں سمجھتے ہیں۔ ان کو بھی یقین ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ بھیجا ہوا دین برحق ہے اور جو اس کو پھیلانے والے ہیں آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ، وہ بھی سچے اور برحق ہیں اور اس قدر سچے ہیں کہ ان کی سچائی اور صداقت کا ثبوت یہ بھی ہے کہ قبر میں مٹی ان کوکچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی، ان کے کفن تک کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ اس کو سارے لوگوں نے دیکھا اور آج تک اس کو دیکھنے والے عراق میں زندہ بھی ہیں۔ کوئی وہاں جائے اور وہ پوچھ گچھ کرے تو ایسے لوگوں سے ملاقات کر بھی سکتا ہے۔

تو میرے دوستو عزیزو! اگر ہم بھی چاہتے ہیں کہ ایسی ابدی اور دائمی زندگی ہمیں حاصل ہوجائے تو ان صحابہ کرام کے نقش قدم پر ہم چلنا شروع کردیں۔ وہ صحابہ جو ان کے سامنے کوئی دنیاوی منصب رکھا جاتا تھا تو اس کو رد کرتے تھے۔ گورنری پیش کی جاتی تھی تو وہ یہی تمنا کیا کرتے تھے کہ ہمیں اس سے معزول کیا جائے۔ ہم اس کے علاوہ اپنے آپ کو بہتر اور ہلکا محسوس کرتے ہیں۔ آج وہ دور آچکا ہے کہ ہر شخص یہ تمنا کرتا ہے کہ جو بڑے سے بڑا منصب ہے وہ مجھے مل جائے۔ حضرت عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا واقعہ یہ عاجز گذشتہ دنوں پڑھ رہا تھا کہ آپ شام کے علائقے میں جہاں جنگ مسلمانوں کی طرف سے لڑی جارہی تھی، اس جنگ میں مشغول تھے۔ امیر عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف سے وہاں ان کو پیغام ملا۔

مختصراً یہ عاجز بیان کرتا ہے کہ صحابہ کو جو یہ مقام ملا ہے تو ان کی تقویٰ کی وجہ سے ملا ہے، ان کی محبت خداوندی کی وجہ سے ملا ہے، دنیا سے قلب کی دوری، ان کی لاتعلقی کی وجہ سے ملا ہے۔ جب کہ ہم اس دنیا میں گھرے ہوئے ہیں۔ اپنے آپ کو حرام سے بچا بھی نہیں سکتے۔ اور اس طرح کچھ کام کرکے دل میں ندامت بھی نہیں پیدا ہوتی۔ بلکہ ہم فخر کرتے ہیں کہ اتنی دولت اکٹھی کی ہے سود کی صورت میں، رشوت کی صورت میں یا جو اور طرح کے حرام اور ناجائز طریقے ہیں، ان کے ذریعے جمع کی ہے۔ جبکہ یہ صحابہ کا اخلاق تھا اور یہ تقویٰ تھی کہ جائز ذرائع سے بھی ان کے پاس دنیا آتی تھی تو اس کو بھی گوارا نہیں کرتے تھے۔ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے اخیر وقت میں میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ جب ان کی وفات کا وقت قریب تھا۔ ایک معمولی سی جھونپڑی تھی جو بوریا سے یا اس طرح کی چیزوں سے، کھجور کے پتوں سے جو بنائی گئی تھی۔ تو ایک جھونپڑی تھی، اس میں آپ لیٹے ہوئے تھے اور آپ زار و قطار رو رہے تھے۔ میں خدمت میں حاضر ہوا اور ان کی حالت کو دیکھا، عرض کیا یا حضرت آپ کو کون سی چیز رلا رہی ہے؟ کیوں آپ رو رہے ہیں؟ یہ وہ سلمان فارسی ہیں جنہوں نے سالہا سال سفر کیا تھا۔ ایران سے کبھی شام کے علائقے میں پہنچے، غلامی کی حالت میں پہنچے۔ ان کی تمنا یہ تھی کہ میں مذہب حق کو پالوں لیکن ان ساری جگہوں پر پھرتے پھرتے ایسا وقت بھی آپ پر گذرا کہ غلام کی حیثیت میں بیچے گئے۔ جب مدینہ عالیہ میں آپ پہنچے تھے تو ایک یہودی کے غلام تھے۔ اس کے پاس آپ کام کاج کیا کرتے تھے۔ اسی انتظار میں تھے کہ غالباً یہ وہی علائقہ ہے کہ جس کے بارے میں مجھے بتایا گیا کہ آخری نبی ایسی جگہ پر آئے گا جہاں بہت ساری کھجوریں ہوںگی، نخلستان ہونگے، بڑا سبز و شاداب علائقہ ہوگا۔ جب وہاں پہنچے تو آپ کو وہاں نشانیاں نظر آئیں کہ ایک ایسا شخص آگیا ہے جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اللہ نے مجھے نبی بناکر بھیجا ہے۔ آپ نے کہا کہ میں بھی دیکھوں کہ واقعی یہ نبی ہے بھی یا نہیں۔ کچھ نشانیاں تھیں جو کسی راہب نے یا کسی نصرانی نے جو اپنے جماعت کا سرپرست تھا یا سربراہ تھا، اس نے مرتے ہوئے بتائی تھیں۔ ایک نشانی یہ تھی کبھی بھی صدقہ قبول نہیں کریں گے اور دوسری یہ کہ ہدیہ قبول کریں گے۔ تیسری یہ کہ ان کی پشت مبارک پر مہر نبوت لگی ہوئی ہوگی۔ مسجد قبا پہنچتے ہیں۔ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کرتے ہیں اور کچھ اپنی کمائی سے کچھ چیزیں لاتے ہیں اور پیش کرتے ہیں۔ ”یہ میں آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں صدقے کے طور پر پیش کرتا ہوں“۔ آپ نے فرمایا ہم صدقہ نہیں لیتے، ہمارے صحابہ کو دے دو، کیونکہ صدقے سے ہمیں منع کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلی علامت تو سچی نکلی اب میں دوسری علامت بھی دیکھنا چاہتا ہوں۔ دوسرے روز پھر حاضر ہوئے اور وہ کھجور آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کی۔ عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم میں آپ کی خدمت میں بطور ہدیہ پیش کرتا ہوں۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے بڑی ہی فراخدلی سے اس تحفے کو قبول کیا اور استعمال فرمایا۔ انہوں نے کہا کہ دوسری علامت بھی سچی ہوگئی۔ کچھ دنوں کے بعد وہ آقا و مولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش ہوئے۔ صحابہ محبت سے صحبت میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم ان کو نصیحت یا ہدایت فرمارہے ہیں۔ وہ سامنے سے نہیں آئے بلکہ پچھلی طرف سے اس ارادے سے آئے تاکہ مہر نبوت کی مجھے زیارت ہوجائے۔ راوی لکھتے ہیں کہ جیسے ہی سلمان فارسی آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کی طرف سے پہنچے تو آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے بغیر اس کو دیکھے یا اس کا نام لئے کہ سلمان کو ہم دیکھ چکے ہیں، آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کرتہ مبارک کا دامن پیچھے سے اوپر کرلیا تاکہ وہ مہر نبوت کو دیکھے۔ اس مہر نبوت کو سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے دیکھا اور بوسہ دیا۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب تو تجھے تیسری علامت کا بھی یقین ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم مجھے اب مکمل یقین ہوچکا ہے۔ میں تو چہرہ انور کو دیکھ کر ہی یقین کرچکا تھا، لیکن پھر بھی میں متامل تھا۔ اب مجھے دائرہ اسلام میں داخل کردیں۔ وہ اسلام میں داخل تو ہوگئے لیکن غلام اب بھی تھے۔ وہ یہودی ان سے کام کاج لیتا تھا۔ لیکن اب اور بھی سختی کیا کرتا تھا۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے سلمان تم کچھ ایسا طریقہ اختیار کرو کہ تیری جان خلاصی ہوجائے۔ انہوں نے بات کی اپنے سردار سے یا ان کا جو مالک تھا، آقا تھا کہ کس طرح میری رہائی ہوسکتی ہے۔ اس نے کچھ ایسے شرائط رکھے جس کے متعلق اس کو یقین تھا کہ سلمان کبھی بھی پورا نہیں کرسکتا، کہ بھئی اتنے سارے درخت تم لگاؤ کھجور کے، جب وہ پھل دیں گے تو پھر تیری رہائی ہے اور دوسرا شرط یہ ہے کہ اتنا اوقیہ سونا، وہ مجھے مقدار یاد نہیں ہے، کافی مقدار اس نے سونا بتایا۔ تو وہ مجھے دے دو۔ اس کو یقین تھا کہ سلمان کبھی بھی ایسا نہیں کرسکے گا۔ حضرت سلمان حضور صلّی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ مایوس ہے، پریشان ہے۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا بات ہے؟ اس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم آپ کے فرمان کے مطابق میں نے اپنے مالک سے بات کی تھی لیکن اس نے ایسی شرائط لگائی ہیں کہ میں پہلے ہی بوڑھا ہوں تو یہ کبھی پوری ہو ہی نہیں سکتیں۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا اس نے شرائط لگائی ہیں؟ اس نے کہا کہ اتنے درخت لگاؤ۔ پھر آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا ٹھیک ہے تم کل زمین تیار کرلینا۔ اس یہودی سے پوچھ لو کہ کہاں ہے اس کی زمین اور تم اس زمین کو ہموار بنالینا۔ ہم کل آئیں گے اور لگانے والے کھجور کے پودے وہ بھی تم حاصل کرلینا۔ سلمان کو یقین تھا کہ اس میں کوئی بڑی حکمت پوشیدہ ہے۔ اس نے زمین کو بنایا اور کھجور کے پودے کہیں سے حاصل کرلئے۔ دوسرے دن آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے صحابہ سے کہ آج سلمان کی مدد کے لئے چلنا ہے۔ کون ہے جو ہمارے ساتھ جانا چاہتا ہے؟ سینکڑوں صحابہ تیار ہوگئے ”یا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم ہم بھی اس کار خیر میں شامل ہونا چاہتے ہیں“۔ صحابہ کی جماعت لے کر اس زمین پر پہنچتے ہیں جو اس یہودی کی زمین ہے اور اس کا جو شرط ہے، جو اس نے لگایا ہے وہ پورا کرنا چاہتے ہیں۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کہاں ہیں وہ تیری کھجوریں اور صحابہ کو فرماتے ہیں جو لگانے کے لئے زمین کو کھودا جاتا ہے کہ اس کی کھدائی کرو۔ صحابہ کھدائی میں لگ جاتے ہیں۔ وہ سارے صحابہ اپنے ہاتھوں سے اس کی کھدائی کر رہے ہیں۔ کیا وہ عجیب منظر ہوگا۔ وہ کس قدر خوش قسمت زمین ہوگی اور وہ باغ ہوگا کہ جس کی کھدائی کرنے والے صحابہ ہیں۔ جن کی تعریف قرآن مجید میں ہے۔ اور اس کو لگانے والا وہ تو انبیاء کا سردار ہے۔ سارے کھدائی میں لگ گئے اور آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک درخت کو اپنے ہاتھ سے لگایا۔ سارے درخت جتنے بھی تھے وہ سارے کے سارے، آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے ان کو لگایا۔ اس طرح آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کی شفقت و عنایت سے سلمان کی آزادی ہوئی۔ حضور کو اس قدر عزیز تھے سلمان فارسی کہ حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”سلمان جو ہے وہ میرے اہل بیت سے ہے“۔ ایسا امتیاز کسی اور صحابی کو حاصل نہیں ہوا۔ حالانکہ آپ عربی بھی نہیں تھے، آئے تو عجم کے علائقے سے تھے لیکن حضور سے اس قدر محبت تھی اور حضور کو آپ سے اس قدر محبت تھی کہ فرمایا ”سلمان میرے اہل میں سے ہے“۔ وہ جانثار صحابی، ہمارے طریقہ عالیہ کے پیشوا، تو حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ جب ان کی وفات کا وقت آیا تو اس وقت آپ غالباً کوفے کے گورنر تھے۔ ابن مسعود ہیں یا کوئی اور صحابی ہیں، وہ آپ کی خدمت میں جاتا ہے کہ آپ کی عیادت کرسکے۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ آپ پر وفات کا وقت قریب پہنچ چکا تھا، اس حالت میں زار و قطار رو رہے ہیں۔ آنکھوں سے آنسو جاری ہیں۔ میں کہتا ہوں سلمان کیا بات ہے؟ اے جانثارِ رسول کیا بات ہے؟ اس وقت آپ رو رہے ہیں حالانکہ آپ تو خدا کے دیدار کے لئے جارہے ہیں، آقا و مولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کی قربت کے لئے جارہے ہیں۔ کیوں رو رہے ہیں؟ وہ فرمانے لگے کہ اے میرے دوست مجھے وہ بات رلارہی ہے جو اس وقت مجھے یاد آرہی ہے۔ فرمائیے کہ وہ کیا بات ہے جو آپ کو رلا رہی ہے؟ فرمانے لگے کہ وہ یہ بات ہے جب میرے آقا و مولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت فرمائی تھی کہ اے سلمان جب دنیا کو چھوڑ کر تو آخرت میں میری طرف آئے تو اس حالت میں آنا کہ تیرے پاس دنیا و دولت نہیں ہونی چاہیے، تیرے ساتھ میں کوئی دنیا، جگہ، جائداد نہ ہو۔ اور میں دیکھتا ہوں تو اپنے پاس اتنی دولت و جائداد پاتا ہوں، تو میں آقا و مولیٰ کے سامنے کس طرح کھڑا ہوجاؤں گا، کس طرح میں ان سے بات کروں گا، کیسے میں ان کاسامنا کروں گا۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میری جب ان کے گھر پر نظر پڑی کہ وہ دولت کیا ہے جس کو آپ جائداد یا دولت کہہ رہے ہیں، دنیا کہہ رہے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ خش خاشاک کی ایک کمزور جھونپڑی بنی ہوئی تھی جس میں کوفے کا گورنر رہتا تھا۔ جسے اب وہ دنیا کہہ رہے ہیں وہ کیا تھا؟ آپ کا ایک عصا تھا، آپ کا ایک کوزہ تھا، آپ کی ایک گودڑی تھی اور آدھا بنایا ہوا وہ بوریا تھا جو آپ کے گھر میں موجود تھا۔ صرف یہ چند چیزیں موجود تھیں اور کچھ بھی نہیں تھا۔ اور فرما رہے تھے کہ یہ دولت و دنیا ہے۔ یہ انکی تقویٰ تھی، یہ ان کا ڈر تھا، یہ ان کا خوف تھا۔ روایات میں آتا ہے جو بھی وظیفہ آپ کو ملتا تھا سب سائلین میں تقسیم کردیتے تھے۔ اور یہ فرماتے تھے میں نے خدمت کی حق ادائیگی نہیں کی میں یہ وظیفہ نہیں لے سکتا، یہ میں اس علائقے کے لوگوں میں تقسیم کردیتا ہوں۔ اور اپنا گذر سفر کس طرح کرتے تھے؟ علائقے کے گورنر ہیں، اپنے ہاتھوں سے وہ چٹائی بناتے تھے، بوریاں بناتے تھے۔ کہتے ہیں کہ پانچ چھے دن میں ایک بوریا تیار ہوتا تھا، چٹائی تیار ہوجاتی اور اس کو بیچتے۔ جو اس سے رقم ملتی آدھی اپنے اوپر خرچ کرتے اور آدھی وہ بھی غریبوں میں تقسیم کردیتے۔ یہ صحابہ کرام کی زندگی تھی، یہ ان کا عمل تھا، یہ ان کا اخلاص تھا۔

تو میں عرض کر رہا تھا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حمص کا گورنر بناکر روانہ کیا۔ کافی عرصہ گذر گیا ان کا کچھ احوال معلوم نہیں ہوا۔ امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس صحابی رسول گورنر کو یہ پیغام بھیجا کہ بھئی تم نے بیت المال میں مال جمع نہیں کروایا اور کچھ ہمیں اپنا حال بھی نہیں بتایا۔ آپ کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ پتا نہیں گورنر بن کر عمیر کا مزاج بگڑ نہ گیا ہو۔ حضرت عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جو پیغام ملا تو وہاں سے نکلے۔ پیادہ سفر کرتے ہوئے، دن رات سفر کرتے ہوئے امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اس عالم میں کہ آپ کا چہرہ گرد آلود تھا، لباس پھٹ چکا تھا، گرد آلود ہوچکا تھا، نہایت کمزور اور لاغر ہوچکے تھے۔ آپ نے فرمایا کیا عمیر بن سعد ہو؟ اے عمیر تم پیدل آئے ہو؟ اس نے عرض کیا کہ اے امیر المؤمنین ہاں میں پیدل آیا ہوں۔ حضرت عمر نے فرمایا اتنا لمبا سفر تم نے طے کیا ہے، کیا حمص والوں نے تجھے سواری نہیں دی؟ آپ نے فرمایا نہیں میں نے ان سے طلب ہی نہیں کی اور نہ ہی انہوں نے مجھے کچھ دیا۔ میں تو ایسے ہی نکل پڑا۔ چونکہ آپ کا حکم پہنچ چکا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ بیت المال کا حصہ دو۔ آپ نے فرمایا کہ بیت المال کا حصہ میں کیا دوں۔ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے۔ تو تیرے پاس کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ دیکھیں۔ ہمارے پاس کوزا ہے یا جو میں نے لباس پہنا ہوا ہے اس کے علاوہ میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا کہ بیت المال کا وہ حصہ کہاں گیا؟ آپ نے فرمایا جو بھی آمدنی ہوتی تھی تین یا چار آدمیوں کا ایک وفد یا ایک گروہ تشکیل دیا ہوا تھا۔ وہ سب مل جل کر اس کے حصے بناتے تھے اور غرباء اور مساکین میں تقسیم کردیتے تھے۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس اور کچھ بھی نہیں ہے۔ اس طرح کچھ باتیں ہوئیں۔امیرالمؤمنین عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دل میں اطمینان پیدا ہوا اور فرمایا کہ اب تم واپس حمص کی طرف جاؤ۔ انہوں نے کہا کہ یا امیر المؤمنین میں پہلے ہی نہیں جانا چاہتا تھا لیکن آپ کا امر ہوا تھا اس کی بجا آوری کی تھی، لیکن اب میرا دل نہیں چاہتا۔ خدا کے لئے مجھے اس ذمہ داری سے آزاد ہی رکھیں تو میں آپ کا مشکور رہوں گا۔ دیکھیے میں اسی موضوع پر آرہا تھا کہ اس وقت کے صحابہ ان اعزازات سے اپنے آپ کو بچا رہے تھے لیکن آج ہر ایک کے دل میں یہ ایک شوق ہے میں وزیر بن جاؤں، مشیر بن جاؤں یا اس طرح کے اعزازات اور القابات لے کر ہم خوش ہوتے ہیں۔ اور وہ صحابی رسول چاہتے تھے کہ کسی تنہائی کی جگہ بیٹھ کر ہم اپنے رب کا ذکر کریں، اس کی یاد کریں، اس کی عبادت کریں۔ یہ ہمارے لئے سب سے بڑی نعمت ہے۔

تو میرے دوستو! وہ صحابہ والا عشق، وہ سوزوگداز ہمارے دل میں پیدا ہوگا تو ہمیں بھی ان کے توسل سے، ان کے تصدق سے اللہ تعالیٰ کا قرب عطا ہوجائے گا۔ تو ذکراللہ کا طریقہ ایسا ہے کہ اس کی برکت سے دل میں وہ غنا پیدا ہوتی ہے کہ کسی کی احتیاجی باقی نہیں رہتی۔ جس طرح وہ صحابہ کے وفود بڑے بڑے بادشاہوں کے درباروں میں جاتے تھے لیکن ان کی دل میں کچھ رعب تاب نہیں ہوتا تھا، بلکہ اس قدر اعتماد سے اور کامل یقین سے بولتے تھے کہ بادشاہ بھی حیران رہ جاتے تھے کہ بھئی یہ کیسے لوگ ہیں جو ایسا میرا دبدبہ ہے، ایسی میری بڑی سلطنت دیکھ آتے ہیں لیکن ان کے اوپر کچھ احساس یا فکر، کچھ ڈر یا کچھ خوف کے آثار تک ظاہر نہیں۔ تو وہ اطمینان، وہ بے پرواہی اور اللہ پر بھروسہ کامل یہ ذکر اللہ کے صدقے میں ہی حاصل ہوتا ہے۔ اولیاء کاملین کو آپ نے دیکھا ہوگا کہ جیسا رویہ ان کا ایک بادشاہ کے ساتھ ہوتا تھا وہی رویہ ان کا ایک عام آدمی کے ساتھ ہوتا تھا۔ یہ نہیں کہ کوئی بڑا امیر آگیا تو آگے بڑھ بڑھ کر اس کا استقبال کیا اور اس کو بڑی اعلیٰ جگہ پر بٹھایا۔ نہیں ان کے پاس جو بھی آتا تھا ان کے ساتھ مساویانہ رویہ اختیار کرتے تھے۔ بلکہ کسی قدر دنیا داروں سے بے پرواہی اور ان کے ساتھ عدم توجہی کا سلوک کیا کرتے تھے۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ دنیا دار جب آتے ہیں تو اپنی دنیاوی جاہ و منصب پر بھروسہ کرتے ہوئے آتے ہیں اور ان کے دل میں یہ ناز ہوتا ہے کہ ہم دنیا دار ہیں۔ اس وجہ سے ان کی طرف عدم توجہی اختیار فرماتے تھے، سواء اس کے کہ کوئی ایسا آدمی ہو جو دنیا دار بھی ہے لیکن دل اور قلب کے لحاظ سے وہ دنیا کی محبت سے آزاد ہے۔ ایسے لوگوں کے ساتھ اللہ والے حسن سلوک کرتے تھے۔ لیکن وہ لوگ جو دنیا کی محبت، دنیا کے مفادات دل میں رکھ کر آتے تو ان سے بے پرواہی اور عدم توجہی کا سلوک ہوتا تھا۔

تو میرے دوستو یہ ذکر اللہ کی برکتیں ہیں۔ جب وہ انوار اور تجلیات کا ورود ہمارے دل میں ہوگا تو دنیا کی محبت زائل ہوجائے گی اور اللہ کی محبت دل میں راسخ ہوجائے گی۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ذکر کی توفیق عطا فرمائے۔