فہرست
خطابات طاہریہ

خالص عبادت

 

نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم

اما بعد

فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۝

صدق اللہ العظیم۔

معزز سامعین! تقریر اور واعظ سے زیادہ بڑھ کر اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے۔ یہ خود اللہ تبارک و تعالیٰ کا حکم ہے، اس کا فرمان ہے۔ یہی انسان کو زیادہ منفعت پہنچاتا ہے اگر کوئی صحیح معنیٰ میں سمجھ سکے۔ قرآن مجید میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی یاد اور ذکر کا مقام اور مرتبہ، شرف و شان یوں بیان فرمایا ہے

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اِنَّ الصَّلوٰۃَ تَنْھیٰ عَنِ الْفَحْشَآئِ وَالْمُنْکَرِ۝ وَلَذِکْرُ اللہِ اَکْبَرُ۝

بیشک نماز بہت ہی زیادہ نفعہ پہنچانے والی ہے۔ نماز ہی انسان کو گناہوں سے روکنے کا، برائی اور بے حیائی کے کاموں سے روکنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ لیکن وہ نماز نہیں جو کہ بالعموم ہم لوگ پڑھتے ہیں۔ یقینا نماز تو نماز ہی ہوتی ہے، لیکن جب انسان کے دل میں تعلق مع اللہ کی کیفیت موجود ہو، توجہ الی اللہ اس کو حاصل ہو، نسیان ماسوی اللہ اس کو حاصل ہو،  اللہ تبارک و تعالیٰ کی عظمت اس کے دل میں موجزن ہو، اللہ تبارک و تعالیٰ کی محبت اس کے دل میں محسوس ہو رہی ہو تو وہ نماز انسان کے لئے بہترین ذریعہ ہے۔ گناہوں سے بچانے کا بھی اور نیکی، تقویٰ اور اخلاص کے اعلیٰ مقام پر پہچانے کا بھی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ”وَلَذِکْرُ اللہ اَکْبَر“

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں نماز بھی بڑی ہے، روزا بھی بڑا ہے، حج بھی، زکوٰۃ بھی، خیرات بھی، صدقات اور سخاوت بھی۔ لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ ان سب کے روح کو بیان فرمارہا ہے، ان سب عبادات کے اصل مغز کو بیان فرمارہا ہے، تطابق دلاتے ہوئے کہ ذکر اللہ ان من جملہ سب چیزوں سے بڑا ہے۔ بڑا کیونکر ہے؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما جو رئیس المفسرین ہیں وہ فرماتے ہیں اس لئے کہ جب آپ اور ہم نماز پڑھتے ہیں تو اللہ تبارک و تعالیٰ کو یاد کرتے ہیں، روزہ رکھتے ہیں تو ہم اللہ تبارک و تعالیٰ کو یاد کرتے ہیں، سخاوت کا مظاہرہ ہورہا ہو تو یہ بھی ایک ذکر ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ کی رضا جوئی کا ایک ذریعہ ہے۔ اس طرح سے دیگر عبادتوں کو لیں اس میں کوئی ایسی بات ہمیں معلوم نہیں ہو پاتی کہ کیا واقعی اللہ تبارک و تعالیٰ اس سخاوت کے دوران، اس عبادت کے دوران، اس نیک کام کے دوران مجھے بھی یاد کر رہا ہے اس کا یقین نہیں ہوتا۔ لیکن جب اللہ تبارک و تعالیٰ کی یاد میں کوئی بندہ مشغول ہوجائے تو پھر اللہ تبارک و تعالیٰ کا وعدہ قرآن مجید میں موجود ہے

فَاذْکُرُوْنِیْ اَذْکُرُکُم۝

جب تم مجھے یاد کرو گے تو میں اللہ تمہیں یاد کروں گا۔ اللہ کا وعدہ ہے۔ تو جب ہم لوگ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر کررہے ہیں تو یہ اس کی گارنٹی ہے، ضمانت ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ بھی آپ کو یاد کر رہا ہے۔ اب دو باتیں ہوگئیں۔ ایک بندہ کا یاد کرنا اللہ کو، یہ تو ایک معمول ہے کیونکہ بندہ تو بندگی کرے گا، وہ بندگی کرتے ہوئے اچھا لگتا ہے اوراس کا کام ہی بندگی کرنا ہے۔ جیسے کوئی آقا کسی نوکر کو غلام رکھے پانچ ہزار تنخواہ یا تین ہزار تنخواہ کہ بھئی تم ککنگ (cooking) کرو، ڈرائیونگ (driving) کرو۔ تو وہ کام میں لگا ہوا ہے، کیا کبھی وہ کہہ سکتا ہے کہ میں تو بڑا احسان کر رہا ہوں۔ اگر کہے گا تو لوگ اس کو بے وقوف کہیں گے کہ بھئی تم اپنے مالک، جو تمہاری خدمتوں کو خرید چکا ہے، اس کی خدمت کرتے ہوئے اس پر کوئی احسان نہیں کر رہے، تمہارا یہ کام کرنا کوئی بڑی بات نہیں ہے کیونکہ تم اپنی خدمتیں بیچ چکے ہو، تمہارا کام ہی یہی ہے۔ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں بندے کا اللہ کو یاد کرنا، عبد کا معبود کو یاد کرنا یہ معمولی بات ہے، غیر معمولی بات نہیں ہے۔ لیکن معبود کا عبد کو یاد کرنا، اللہ کا بندے کو یاد کرنا یہ بہت ہی غیر معمولی بات ہے۔ اگر وہ مالک اس کو کہے بھئی تم کام نہ کرو میں خود کرتا ہوں تم بیٹھ جاؤ، تو یہ ایک غیر معمولی بات محسوس ہوتی ہے کہ بھئی نوکر کو اس نے بٹھادیا ہے اور وہ خود کام کر رہا ہے۔ بلاتمثیل، اس کی کوئی تمثیل نہیں ہے۔ بلاتمثیل میں عرض کر رہا ہوں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ جب بندے کو یاد کرتا ہے تو یہ بہت ہی بڑی بات ہے۔ اسی لئے کہا گیا ہے کہ ”وَلَذِکْرُ اللہ اَکْبَر“ کہ اللہ کا یاد کرنا بندے کو یہ بہت ہی بڑا ہے۔ اور اس وقت یہ عظمت بندے کو ملتی ہے جب وہ اپنے رب کو یاد کرے۔ اسی لئے تو حضرت ثابت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے اپنے احبابوں کو، فقیروں کو جب اللہ عرش عظیم پر یاد کرتا ہے تو ہمیں اس فرش پر پتہ چل جاتا ہے۔ غلاموں نے عرض کیا کیسے پتا چل جاتا ہے؟ آپ مسکرانے لگے اور فرمایا کیا تم نے وہ آیت نہیں پڑھی ”فَاذْکُرُوْنِیْ اَذْکُرُکُمْ“ جب تم مجھے یاد کرو گے اللہ فرماتا ہے میں تم کو یاد کروں گا۔ تو جب میں یاد کرتا ہوں اللہ تبارک و تعالیٰ کو اس فرش پر بیٹھ کر، تو مجھے یقین ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنا عہد نبھاتا ہے اور مجھے بھی یاد کرتا ہے۔

تو ذکر اللہ تبارک و تعالیٰ کا سب سے بڑا ہے، سب سے افضل ہے، اور اسی مقصد کے لئے ہم یہاں جمع ہوئے ہیں۔ اس کے لئے آپ اور ہمارے قلوب یہاں موجود ہونے چاہییں اور متوجہ ہونے چاہییں۔ کیونکہ یہ ایک روحانی محفل ہے۔ اس کو اولیاء کاملین سے نسبت ہے، اس کومیرے آقا و مولا آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم سے نسبت ہے اور ہمارا یہ ایمان ہے آقائے نامدار آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم ایسی محفلوں میں تشریف لاتے ہیں، نظر عنایت فرماتے ہیں۔ یہ ہمارا ایمان ہے، اس میں ہمیں شک و شبہ نہیں ہے۔ اور ہمیں یہ بھی ایمان ہے کہ ہمارے مشائخ کے ارواح طیبہ وہ متوجہ ہوتے ہیں، ان کے توجہات حاصل ہوتے ہیں، ان کی نگاہ کرم حاصل ہوتی ہے۔ جس کسی کا توجہ اپنے دل کی طرف ہوگا تو وہ یقینا ان چیزوں کو محسوس کر رہا ہوگا۔ تقریر اور واعظ کرنا یہ بہت ہی مشکل کام ہے، جس طرح مولانا محمد رمضان صاحب فرما رہے تھے کہ ہم یہاں اپنی اصلاح اور فائدے کے لئے آتے ہیں، لیکن بولنے کے لئے جب کہا جاتا ہے تو شرمندگی ضرور ہوتی ہے۔ کبھی کبھی کسی اور دوست کو تو اجازت مل جاتی ہوگی ”بھئی تم بیٹھو آج فلاں تقریر کرے“ میری تو ڈیوٹی ہر وقت لگائی گئی ہے کہ بھئی جلسہ ہو تو تمہیں تو بیٹھنا ہے۔ تو یہ عاجز اس لئے اس بات کو اپنے لئے بہت ہی مشکل سمجھتا ہے۔ یہ بات مجھے ایک طرح سے اس طرح لگتی ہے جس طرح کسی تلوار پر چلنا۔ اس میں کتنی احتیاط ملحوظ رکھنی ہوگی جو مجھ سے ہو نہیں پارہی، کیونکہ میں تو ایک ناقص اور خطاکار ہوں۔ تقریر کرنے والا در حقیقت ایسے ہی ہوتا ہے کہ وہ تلوار پر چل رہا ہوتا ہے۔ جیسے کہ حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی کا ایک شعر ہے۔ اس کے اصل الفاظ تو مجھے یاد نہیں ہیں، اصل لطف تو ان الفاظوں میں ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ میرے محبوب نے میرے ہاتھ پاؤں باندھ کر مجھے کنویں میں پھینکا ہے اور حکم دیا ہے کہ خبردار اپنے کپڑوں کو مت بھگونا۔

تو میرے دوستو اس معنیٰ میں ہم اگر دیکھتے ہیں یہ تو ہمیں گویا کہ اپنے مشائخ کی طرف سے ڈیوٹی لگائی گئی ہے۔ حالانکہ میں سمجھتا ہوں مجھ سے آپ لوگ بہت اچھے ہیں، یہ میرے دل کی آواز ہے۔ سننے والے بہت اچھے ہیں، کاش سنانے والے اچھے ہوجائیں۔ کیونکہ سننے والے تو بڑے عظیم ہوتے ہیں، وہ اپنے کام کاج چھوڑ کر، اپنی مصروفیتوں کو چھوڑ کر صرف اسی لئے آتے ہیں کہ چلو سنتے ہیں۔ یہ کوئی آسان کام نہیں ہے کسی کے سامنے بیٹھ کر اس کی بات سننا، لیکن سنانے والے اس کی نزاکت کو نہیں سمجھتے کہ کتنی بڑی ذمہ داری ان سارے لوگوں نے ہمارے اوپر ڈال دی ہے اور یہ ہم میں یقین رکھتے ہیں کہ یہ ہمیں صحیح بات بتائیں گے جس میں ہماری دنیا و آخرت کی بھلائی ہوگی۔ اب اگر سنانے والے کا یہ خیال نہیں، اس کا یہ یقین نہیں، اس کے اندر یہ احتیاط نہیں ہے کہ یہ ایک امانت میرے اوپر رکھی گئی ہے تو پھر اس کا بولنا، اس کی گفتگو، اس کی تقریر میں تو سمجھتا ہوں کہ یہ سراسر گناہ ہی بن جاتا ہے۔ ہم دعاگو ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمارے دل میں کچھ شرم پیدا کرے تاکہ ہم حق ادائی کرسکیں اور یہ احساس دل میں پیدا ہو اور اس کی اہمیت ہمارے سامنے ہو کہ یہ اتنا نازک کام ہے۔

ہم جو اس دنیا میں زندگی بسر کر رہے ہیں، ان میں سے جس کسی سے پوچھو وہ زبان سے اگر نہ بھی کہے، اقرار نہ کرے لیکن اس کے دل میں یہ خواہش ضرور ہوتی ہے مجھے محکومیت نہیں حاکمیت چاہے۔ مجھے نوکری نہیں چاہیے میں آقا بننا چاہتا ہوں۔ کیونکہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ میں محکوم بن گیا تو یہ میری ذلت اور رسوائی ہوگی، میری توہین ہوگی۔ حالانکہ اگر گہری نظر سے دیکھیں تو تقریبا ہر ایک شخص کسی نہ کسی پہلو سے حاکم ضرور ہوتا ہے۔ وہ کچھ پہلوؤں سے محکوم ہوگا، ہوسکتا ہے کہ دفتر میں چند گھنٹے بیٹھتا ہے، اس وقت وہ کلرک ہو یا چپڑاسی یا کوئی اور اس کا عہدہ ہو، اس کا باس کوئی اور ہو، اس وقت وہ محکوم ہوسکتا ہے۔ لیکن جب وہ دفتر سے باہر نکلتا ہے اس وقت وہ کسی کا محکوم نہیں ہوتا اور اس وقت جب حاکمیت جو اللہ کی طرف سے مل جاتی ہے گھر میں جانے کے بعد، اس کے دل میں اس کا احساس نہیں ہوتا کہ وہ شکر کرے کہ اتنے سارے لوگ میری طرف دیکھتے ہیں، میرے حکم کو تسلیم کرتے ہیں اور میری توقیر کرتے ہیں اور میری عزت کرتے ہیں، تو اب میری ذمہ داری ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جو مجھے یہاں ایک امتیازی مقام دیا ہے اس کا میں صحیح استعمال کروں۔ لیکن اس پر تو وہ دفتر کا بھوت سوار ہوتا ہے، میں دفتر میں محکوم کیوں ہوں؟ اگر میں وہاں محکوم ہوں تو گویا کہ لاشعوری طور پر اپنے آپ کو محکوم ہی سمجھتا ہے اور وہ روتا ہی رہتا ہے۔ جس طرح کہ ہمارا معمول ہے اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نعمت ہو، ہمارے اوپر کوئی مہربانی ہو تو وہ ہمیں یاد نہیں آتی، اگر ذرا سی کوئی تکلیف ہوجائے، ذرا سی کوئی آزمائش اور ابتلا آجائے تو ہماری نظر میں ہر وقت وہ ہی کھٹکتی رہتی ہے کہ میرے اوپر ہی تکلیف کیوں؟ کسی سے پوچھیں، تعلیم یافتہ ہو یا ان پڑھ ہو، اس کے ساتھ بیٹھیں۔ جب آپ اس کے ساتھ بات چیت کریں گے تو وہ بھی رونا روئے گا کہ یہ فلاں مصیبتیں میرے اوپر خاص ہی کیوں؟ گویا کہ وہ سمجھ رہا ہے کہ دنیا بھر کی مصیبتیں میں نے ہی جھیلیں ہیں اور سب لوگ تو عیش کرتے ہیں۔ آپ جب غور و فکر سے دیکھیں گے، بالعموم آج ہمارا تاثر یہی ہوگا۔ بہت ہی کم لوگ ہونگے ایسے جو دل سے اپنے رب کا شکر ادا کرتے ہیں اور یقینا ان ہی لوگوں کی زندگی مطمئن اور مسرور ہوگی۔

تو میں حاکموں کی بات کر رہا تھا، لوگ حاکمیت چاہتے ہیں کہ ہمیں ہر جگہ حاکمیت ملے لیکن میرے آقا و مولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پاک ہے کہ انسان کو دنیا کی لالچ اور اس کا شوق، اس کا حرص اتنا بڑھا ہوا ہے کہ حضور صلّی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اگر ایک پہاڑ سونے کا مل جائے وہ فوراً دوسرے پہاڑ کا تقاضا کرے گا، ایک کافی نہیں مجھے دوسرا بھی پہاڑ چاہیے۔ تو یہ انسان کی فطرت کو، ہمارے مزاج کو آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح بیان فرمایا ہے۔ اب اس بات کو دیکھنا ہے کیا ہمیشہ جو حاکم ہوتے ہیں وہ ہی کامیاب ہوتے ہیں؟ کیا وہی مسرور ہوتے ہیں؟ لیکن یہاں جس لحاظ سے جمع ہوئے ہیں میں اس نقطہ نظر سے بات کروں گا۔

یہ فقیروں کی محفل ہے۔ ہم فقیر ہیں اور ہمیں اس پر فخر ہے۔ جو علماء دین کی خدمت کر رہے ہیں ان کا ہمیں احساس ہے، ہم ان کے مشکور ہیں۔ مگر یہ عاجز آپ کو عرض کرتا ہے کہ یہاں جب بھی آئیں فتویٰ لینے کے لئے نہ آئیں، چھیڑ خانی کے لئے نہ آئیں کیونکہ یہاں یہ کام نہیں ہوتا۔ یہاں صرف اور صرف اپنے دل کی محبت لے آئیں اور دل کی ہی اصلاح کرنے کے لئے آئیں۔ صرف یہ کام ہوتا ہے یہاں۔ ہمارے مشائخ کی تعلیمات کے مطابق ذکر خداوندی اور دل کی اصلاح کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے، اپنی خرابیوں کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے۔ یہاں انسان کے آنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے دل کے اندر جتنی خرابیاں ہیں، تعلقات غیر اللہ کے، بغض ہے، کینہ ہے، تکبر ہے، حسد ہے، ریا ہے، ان بیماریوں سے ہم کس طرح چھٹکارا پاسکتے ہیں۔ یہی غور و فکر یہاں ہوتا ہے، یہی ہمارا مشن ہے، یہ ہمارے مشائخ کا سلسلہ ہے۔ یہ کوئی آج کی بات نہیں ہے، یہ سلسلہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے شروع ہوا جنہوں نے ہمارے آقا و مولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم سے سیکھا اور شجرہ عالیہ موجود ہے، آپ اسمائے گرامی پڑھ سکتے ہیں۔ ہمارے مشائخ نے پوری زندگی یہی کام کیا ہے۔ اس میں ہم نفرت کی بات نہیں کریں گے، کبھی بھی نہیں۔ یہاں محبت کی بات ہوتی ہے۔ جو کوئی بھی آتا ہے، جس کسی رنگ کا ہو، جس کسی علائقہ کا ہو، جو کوئی اس کا مذہب ہو، وہ ہماری آنکھوں پر ہے، ہمیں عزیز ہے۔ اس سے سروکار نہیں کہ وہ امیر ہے یا غریب ہے۔ وہ ہماری آنکھوں پر ہے کیونکہ وہ اللہ کا بندہ ہے، اللہ کی تخلیق ہے۔ اور یہی میرے آقائے نامدار آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ”الخلق عیال اللہ“ کہ جمیع مخلوق اللہ کا کنبہ ہے۔ اور آپ صلّی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تم لوگوں میں بہترین وہ ہی شخص ہے جو اللہ کی مخلوق سے محبت کرے۔ ہم ان صوفیاء کرام کے غلام ہیں، ان سے محبت کا شوق رکھتے ہیں جو کسی مچھر کو مارنا پسند نہیں کرتے۔ میں نے سیرت ولی کامل میں پڑھا ہے ایک فقیر کا بیان ہے وہ کہتا ہے کہ میں حضرت سوہنا سائیں کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا کہ کوئی مچھر آکر بیٹھ گیا اور وہ خون چوسنے لگا اور آپ اس کو دیکھتے رہے۔ میں نے چاہا کہ اس کو اڑادوں، آپ نے اجازت نہیں دی۔ جب وہ خون چوس کر پوری طرح سیراب ہوگیا تو آپ نے کپڑے سے یوں اڑادیا اور وہ اڑکر چلا گیا۔ تو یہ ہمارے مشائخ کرام کی محبت الٰہی اور خدا کی مخلوق سے محبت اور پیار کا عظیم مظاہرہ ہے اور میں یقین سے کہتا ہوں کہ آج زمانے کو سب سے زیادہ ان ہی تعلیمات کی ضرورت ہے اور ان تعلیمات کا اثر آگے اور بھی واضح ہوگا۔ اس کی ضرورت اور بھی لوگوں پر آشکار ہوگی۔ ہم یہی چاہتے ہیں کہ اس پیغام کو سمجھنے والے بہت سارے لوگ پیدا ہوں، اور یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے دیگر لوگوں کو اسلام کی طرف راغب کیا تھا جو غیر مذاہب سے تعلق رکھتے تھے۔

تو بات سے بات ہوتی چلی جائیگی، اس عاجز کو طویل گفتگو نہیں کرنی ہے۔ تو میں عرض کررہا تھا کہ حاکمیت کو ہم بہت پسند کرتے ہیں، لیکن کچھ لوگوں نے یہ غور و فکر کرنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ محکومیت میں بھی مزہ ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ آپ محکوم کس کے ہیں؟ اگر کوئی محکوم کسی ایسے شخص کا ہے جو خود عیوب کا مجسمہ ہے یا اس کے اندر نقص پائے جاتے ہیں، خرابی پائی جاتی ہے تو پھر اس کی محکومیت انتہائی بدتر ہے۔ جس طرح کہ ہم یہاں پہلے وقت گذار چکے ہیں کہ بھئی انگریزوں کا قبضہ تھا ہم محکوم تھے۔ ہم سمجھتے تھے کہ ہم غلام ہیں۔ تاریخ کی کتابوں میں ہم پڑھتے ہیں، یہاں گورے آئے، انہوں نے ہمارے ساتھ غلاموں جیسا سلوک کیا۔ اور کوئی بھی باعزت شخص اس درجہ محکومیت کو پسند نہیں کرتا اور پسند بھی نہیں کرنا چاہیے، تو لوگوں نے ان کے خلاف کوشش کی اور اپنے ملک کو آزاد کیا۔ لیکن محکومیت اگر کسی ایسی ذات سے قبول کرلی جائے جو کہ واقعی سب عیوبات سے پاک ہو، سب خوبیاں اس میں پائی جاتی ہوں، محبتیں اس میں پائی جاتی ہوں، عظمتیں اس میں پائی جاتی ہوں تو اسکی محکومیت میں مزہ ہے، اس کی عبدیت میں ہی زندگی کا معراج ہے۔ اسی چیز کو میرے آقا و مولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم جمیع لوگوں کو سکھانے کے لئے تشریف لائے تھے کہ تم سمجھتے ہو کہ یہاں رہتے ہوئے اپنے خیال سے چلیں گے یا اپنے ہاتھ کے بنائے ہوئے بتوں کی عبادت کریں گے۔ نہیں نہیں، ان کی محکومیت قبول نہ کرو۔ اگر ان گھٹیا چیزوں کی محکومیت کو قبول کرو گے تو گویا کہ تم اپنے آپ کو اس مقام اس شان سے نیچے گراؤ گے۔

اسی لئے کہتے ہیں کسی بھی انسان کی عظمت کا معیار اگر جانچنا ہو تو اسی ایک نقطہ سے بھی انسان کو جان سکتے ہو کہ اس کی محبت کن چیزوں سے ہے۔ دوسرے الفاظ میں کہ اس کی محبت کون سے لوگوں سے ہے۔ اگر اس کی محبت ایسے لوگوں سے ہے جو کہ واقعی اچھے ہیں تو یہ آپ بھی سمجھ سکتے ہیں کہ یہ بھی اچھا ہے۔ یہ تو ایک عام سی مثال ہے، لیکن دنیا میں ایسے لوگ بھی تو موجود ہیں جو ایسے لوگوں سے، ایسی چیزوں سے محبت کرتے ہیں جن کو دیکھ کر انسان کا سر پیٹنے کو جی چاہتا ہے۔ لوگوں کو آپ نے دیکھا ہوگا کہ کتوں سے محبت کرتے ہیں، مرغوں سے محبت کرتے ہیں، بٹیروں سے محبت کرتے ہیں، بھینسوں سے محبت کرتے ہیں اور خدا اور اس کے بندوں سے محبت کرنے سے لاتعلق رہتے ہیں۔ تو یہ لوگ جو اس طرح کی چیزوں کی محبت میں مبتلا ہوکر اپنی پوری زندگی گذار دیتے ہیں یہ خود کو، اپنے آپ کو اس اعلیٰ ترین مقام سے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو عطا فرمایا ہے، وہ خود اپنے آپ کو نیچے گراتے ہیں۔ اگر کوئی شخص کتے سے محبت کرے اور اس کو انسانوں کی طرح رکھے تو ہم یہی کہیں گے کہ بھئی یہ تو اس کا محکوم بن چکا ہے۔ اس کو نہلاتا ہے، دھلاتا ہے، چارپائی پر رکھتا ہے، اس کی سیوا کرتا ہے بلکہ نوکر مقرر کر رکھے ہیں کہ اس کو کوئی تکلیف نہیں پہنچنی چاہیے۔ ایئر کنڈیشنڈ میں رکھا ہوا ہے اور اس کا کوئی کام نہیں ہے صرف اسی کی سیوا میں لگا ہوا ہے۔ کیا یہ انسانیت کا مقام ہوسکتا ہے؟ اسی طرح اگر کوئی شخص کسی اور چیز کی محبت میں مبتلا ہوگیا ہو تو وہ گویا کہ اپنے آپ کو خود گرارہا ہے۔ میرے آقا و مولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں عبدیت اچھی چیز ہے لیکن عبدیت ہونی چاہیے تو صرف اللہ کی ہونی چاہیے۔

اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۝

خدایا ہم تیرے ہی بندے ہیں، تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں۔

اب ہم کیسے بندے ہیں یہ ہمیں خود سوچنا ہے، اور یہ بھی سوچنا ہے کہ کیا واقعی محکومیت ہم دل سے اللہ کی مانتے ہیں؟ یہ تو میں بھی کہتا ہوں کہ اللہ میرا حاکم ہے میں اس کا محکوم ہوں۔ آپ بھی کہتے ہیں اور لوگ بھی کہہ سکتے ہیں۔ لیکن جو اللہ کی حاکمیت کو تسلیم کرتا ہے وہ چوں چرا زبان پر نہیں لاتا کہ یہ کیوں ہوا، وہ کیوں ہوا؟ اس طرح کیوں ہوا، اس طرح ہونا چاہیے تھا۔ میرے ساتھ کیوں ہوا؟ یہ اللہ کی محکومیت میں نہیں ہے، یہ اپنے نفس کی محکومیت میں ہے، یہ اپنے نفس کی بندگی میں لگا ہوا ہے۔ اور اسی چیز کی طرف حضرت غوث اعظم محبوب سبحانی قطب ربانی شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ اشارہ فرماتے ہیں تو اللہ کا بندہ نہیں ہے۔ حالانکہ آقائے نامدار آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم اس لئے تشریف لائے تھے کہ ہمیں خالص اللہ کا بندہ بنائیں اور اس کے لئے آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کے نفوس کا تزکیہ کیا، ان کے دلوں کی صفائی کی، ان کے دلوں میں محبت الٰہی کا جذبہ موجزن کیا۔

اب اس نقطہ پر ہمیں غور کرنا چاہیے کہ ہم کیسے بندے ہیں اور اللہ کی حاکمیت کو ہم نے تسلیم کیا ہے یا نہیں۔ اگر اللہ کی حاکمیت کو آپ تسلیم کرچکے ہیں تو پھر یہاں کوئی بھی آپ کو کبھی بھی محکوم نہیں بناسکتا، کوئی بھی نہیں۔ لیکن بندے کیسے ہونے چاہییں؟ کیا ہم اس صورت میں اللہ تعالیٰ کے اچھے بندے بنیں گے کہ ہم صاف ستھرے کپڑے پہنیں، ہم خوبصورت لباس زیب تن کریں، خوشبو لگائیں، ہم اپنے جسم کو سجائیں، ہم اپنے گھر کو سجائیں، ہم اپنی گاڑیوں کو سجائیں۔ کیا اس طرح سے اللہ تعالیٰ کی نظر میں پسندیدہ بندے بن جائیں گے؟ یا کوئی اور کام کرنا پڑے گا۔ مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں کہ ایک شخص تھا وہ دو غلام بازار سے خرید لایا۔ مثنوی شریف کتاب ضرور پڑھیں بہت ہی عظیم کتاب ہے۔ تو وہ دو غلاموں کو خرید کر لایا۔ ان میں ایک حسین تھا، خوبصورت تھا، اس کا رنگ گورا تھا، اس کے نقوش نگار اچھے تھے، قد اس کا لمبا تھا، لباس اس کا صاف ستھرا تھا اور خوشبو اس کے بدن میں تھی، عطر لگایا ہوگا۔ لیکن جو دوسرا غلام اس نے لیا وہ قد کا بھی ہلکا تھا، رنگت اس کی کالی تھی، دانت اس کے پیلے تھے، کپڑے اس کے میلے تھے، بدن میں اس کے بدبو تھی۔ دونوں کو وہ لے آیا۔ حیرت کی بات ہے ایک ہی وقت میں بظاہر دو متضاد شخصیتوں کو لے آیا لیکن اس نے چاہا کہ لے تو آیا ہوں اب ان کا انٹرویو (Interview) کروں۔ یہ ہمارے لئے درس ہے۔ تو جو حسین جمیل اور خوبصورت نظر آرہا تھا اس کو اس نے تنہائی میں بلایا کہ بھئی آپ کا کیا خیال ہے آپ کیسے ہیں اپنے بارے میں بتاؤ۔ اس نے کہا میں راگ گا بھی سکتا ہوں، پکا بھی سکتا ہوں، دھلائی بھی جانتا ہوں، تقریریں بھی کرتا ہوں، میں شاعر بھی ہوں، میں یہ بھی ہوں، میں وہ بھی ہوں۔ بڑی باتیں شروع کردیں۔ وہ آقا خاموشی سے سنتا رہا۔ پھر اس سے پوچھا کہ اچھا وہ جو بیٹھا ہوا ہے سامنے اس کا کیا حال ہے؟ جب آقا نے اس کے بارے میں پوچھا تو اس نے ناک چڑھائی کہ وہ تو کچھ بھی نہیں جانتا، گنوار ہے، تربیت نہیں پائی، علم نہیں رکھتا، اس کو کچھ بھی نہیں آتا، بدن کو صاف نہیں رکھتا، کپڑے صاف نہیں پہنتا، یہ جہاں بھی جاتا ہے دھکے کھاتا ہے۔ آقا نے کہا اچھی بات ہے تم نے مجھے بتادیا، دراصل میں تو کسی کو اپنا ایک والی مقرر کرنا چاہتا ہوں اس لئے آپ دونوں کو لایا ہوں کہ آپ میں سے کسی ایک کو منتخب کروں۔ اس نے کہا میں اچھا ہوں اور میں اس کا حقدار ہوں کیونکہ سب چیزیں میرے اندر ہیں۔ اس نے کہا جاکر تم نہاؤ تھکے ہوئے ہو، میں تھوڑے ٹائم کے بعد تم سے پھر بات کروں گا۔ جب وہ چلا گیا، اس سیاہ رنگت والے کو، اس میلے کچیلے شخص کو جس کے بال بھی بلکل ٹھیک نہیں تھے، رنگت بھی اس کی کالی تھی، کپڑے بھی اس کے میلے تھے، قد بھی اس کا چھوٹا تھا، اس کے کپڑوں میں بھی بدبو تھی۔ اس کو بلایا، اس سے پوچھا کہ بھئی تمہارا اپنے بارے میں کیا کہنا ہے؟ تم کیسے ہو؟ اس نے کہا اے میرے آقا!میری نہ تو شکل و صورت اچھی ہے نہ ہی مجھ میں کوئی ایسی خاص چیز ہے، بس یہ ہے کہ جیسے آپ کا حکم ہوگا وہ ہی کروں گا۔ آقا نے اس سے دوسرے غلام کے متعلق دریافت کیا کہ وہ دوسرا غلام جو ہے وہ کیسا ہے؟ اس نے کہا آقا وہ بہت اچھا ہے، وہ گا بھی سکتا ہے، شاعر بھی ہے، کھانا بھی پکا سکتا ہے، وہ تو سب جانتا ہے۔ یہ سن کر آقا نے اس غلام کو جو بہت حسین تھا اور خود کو بہت کچھ سمجھتا تھا، اس کو بلایا اور کہا کہ اگرچہ تیرا ظاہر خوبصورت ہے، اچھا ہے لیکن تیرا باطن اس سے بالکل مختلف ہے، اور جو دوسرا غلام ہے اگرچہ ظاہر میں وہ میلا کچیلا اور اتنا خوبصورت نہیں ہے مگر اس کا باطن بہت ہی خوبصورت ہے، اچھا ہے۔ اس لئے میں اس کو والی بناتا ہوں اور تمہیں اس کا دربان بناتا ہوں۔ مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اے انسانو! وہ ایک آقا اپنے غلاموں کی پہچان رکھتا تھا، ان کو سمجھتا تھا اور پھر وہ فیصلہ کرتا تھا اور ان کی اندرونی کیفیت کی بنیاد پر کہ اس کے اندر کس قدر محبت ہے، اطاعت ہے اور صفائی ہے۔ اے انسانو! تم بھی اللہ کی عبدیت کا دعویٰ کرتے ہو لیکن کیا تم کو پتہ ہے کہ ہماری یہ چرب زبانی، ہوشیاری، چالاکی وہاں کام نہیں آئیگی کہ میں یہ ہوں، میں وہ ہوں۔ جس طرح کہ ہم کہتے ہیں جب کسی سے ملتے ہیں، ہاتھ ملاتے ہیں سائیں فلاں صاحب، فلاں علامہ، فلاں بزرگ، فلاں خلیفہ۔ اور پھر ساتھ میں یہ بھی کہتے ہیں دو حج میں نے کیے ہیں، میں نے دو عمرے کیے ہیں۔ بھئی یہ عمرے اس لئے کیے کہ تم مجھے بتاؤ یا اس لئے کہ لوگوں کو بتاؤ۔ اس طرح کی جو ذہنیت ہے کیا اس ذہنیت کے ساتھ ہم اللہ تعالیٰ کے سامنے سرخرو ہوسکیں گے؟

تو میں عرض کررہا تھا کہ حاکمیت کا شوق انسان کے اندر پایا جاتا ہے۔ اس حوالے سے ایک حدیث مبارکہ میرے ذہن میں آئی جو حضرت زید بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے۔ وہ فرماتے ہیں میں یمن کے علائقے سے آقائے نامدار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تفصیلاً واقعہ چھوڑ کر میں اختصار سے کام لیتا ہوں تو زید بن حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر بتایا کہ میں اپنے علائقے کا امیر آدمی ہوں، لوگ میری تعظیم کرتے ہیں اور میں اسلام قبول کرنے کے لئے آیا ہوں۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اسلام میں داخل کیا اور مجھے سفر میں ساتھ رکھا اور پھر مجھ سے کہنے لگے کیا تم پسند کرو گے ہم تمہیں اپنے ملک کا امیر بنائیں؟ اس نے کہا کہ یا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم بالکل میں تو پسند کروں گا۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے کہا ٹھیک ہے ہم تمہیں امیر بناتے ہیں اور فرمان اسی وقت لکھوادیا، حالانکہ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم پہلے اس طرف لشکر بھیج چکے تھے یمن کی طرف، اس علائقے کو فتح کرنے کے لئے۔ جب اس نے کہا کہ میں وہاں کا امیر ہوں، ان لوگوں کو اسلام میں داخل کرلوں گا، آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کی طرف پیغام بھیجا واپس آجاؤ کیونکہ یہاں پر ایسا شخص موجود ہے جو ان کو دعوت اسلام دے سکتا ہے۔ پھر اس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم میری ایک اور گذارش ہے۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا؟ اس نے عرض کیا کہ صدقات لینے کا عامل بھی مجھے ہی بنائیں۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے، حکم دیا گیا، حکم نامہ تیار ہوگیا۔ اب یہ سفر میں ساتھ چل رہا ہے۔ سیکھنے والا آدمی کس طرح سیکھتا ہے، اگر ہم جیسا آدمی ہوتا یہ پروانہ لے کر جیب میں ڈالتا اور فوراً وہاں کا رخ کرتا۔ بھئی میری تو پانچوں انگلیاں گیہوں میں اور سر کڑھائی میں ہے، اب تو وہاں میں مزا کروں گا۔ لیکن اس شخص نے پسند کیا آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنا۔ جب آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کچھ سفر کرکے گئے تو ایک اور قبیلہ کے لوگ فریاد لے کر آئے، یا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم فلاں جو عامل ہے وہ ہمارے ساتھ بڑا ظلم کررہا ہے، وہ ہمیں تکلیفیں دیتا ہے۔ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم ان کی بات سن کر بہت ہی رنجیدہ ہوئے اور آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امارت میں کسی ایمان والے مرد کے لئے کوئی بھلائی نہیں ہے۔ تو صدائی رضی اللہ عنہ شامل تھے، ان کے کان کھڑے ہوگئے، بھئی میں تو امیر ہوچکا ہوں، لیکن یہ خاموش رہے۔ پھر آگے چلے تو ایک اور شخص وہاں پہنچ گیا۔ اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم مجھے یہ تکلیف ہے، مجھے وہ تکلیف ہے، مجھے یہ ملنا چاہیے، مجھے وہ ملنا چاہیے۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امیر بننے کا شوق یہ بھی سر کا درد اور پیٹ کا درد ہے۔ جس طرح جس کو سر درد لاحق ہو تو اس کو آرام نہیں ہوتا، جس کو پیٹ میں درد ہوتا ہے اس کو آرام نہیں ہوتا۔ تو یہ سودا بھی جس کے ذہن میں آجائے، قلب میں آجائے، اس کو بھی آرام نہیں ہوتا۔ یہ سن کر حضرت حارث صدائی نے فوراً عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم میری گستاخی معاف ہو، میری بے ادبی معاف ہو اور میرا ایک عرض قبول کیا جائے۔ یا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم جو حکم نامے آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے جاری فرمائے ہیں ان کو منسوخ کیا جائے۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں، ابھی تو تم نے پسند کیا تھا؟ اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم ابھی جو آپ صلّی اللہ علیہ وسلم دیگر لوگوں کے سامنے فرما چکے ہیں کہ مؤمن مرد کے لئے امیر بننے میں کوئی بھلائی نہیں ہے تو میں اپنے لئے کیسے پسند کرسکتا ہوں۔

تو میں عرض کررہا تھا کہ ایمان والے اہل دل جو بھی ہوتے ہیں وہ اس چیزکو دیکھتے ہیں کہ ہمیں اطاعت مقدم ہونی چاہیے، فرمانبرداری مقدم ہونی چاہیے، ارشاد کو ہم دیکھیں، فرمان کو ہم دیکھیں کہ وہ کس زاویہ سے آپ فرمارہے ہیں، وہ کس طرح تربیت کیئے جارہے ہیں۔ لیکن ہم اپنی امارت کا شوق اپنے دل میں سجائے ہر وقت یہی خواب دیکھتے رہتے ہیں کہ ہمیں ”ھل من مزید“ اور بھی زیادہ چاہیے، اور بھی زیادہ چاہیے۔

تو اس موجودہ زمانے میں ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں، سب سے زیادہ جس انداز میں تبلیغ کی ضرورت ہے وہ ہم نے ابھی تک استعمال نہیں کیا۔ جب تک ہم محبت اپنے دل میں رکھتے ہوئے، صحیح محبت رکھتے ہوئے، یہ نہیں کہ ہم سب لوگوں کو خراب سمجھیں، غلط سمجھیں، یہ بھی کافر ہے، وہ بھی کافر ہے، وہ بھی گمراہ ہے، یہ بھی گمراہ ہے۔ اس طرح کی سوچ رکھنے والا کبھی بھی لوگوں کے دلوں کو جیت نہیں سکتا۔

میرے آقا و مولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں سے کس طرح محبت رکھتے تھے۔ کبھی بھی کسی کو یہ نہیں کہا کہ یہ ہو تم، وہ ہو تم۔ نہیں، ان کو پیار اور محبت سے سمجھایا، نرمی سے سمجھایا، حتیٰ کہ ایسے لوگ جن سے صریحاً غلطی ہوئی، کھلی غلطی ہوئی لیکن ان کو بھی آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے سخت الفاظ سے نہیں جھٹکا۔ کہاں گئے وہ اخلاق؟ کہاں گئیں وہ عادات؟ جس اصلاح کا نام لیتے ہیں وہ یہی تو اخلاق حمیدہ ہیں۔

میں ایک واقعہ پڑھ رہا تھا کہ ابن ابی مشہور منافق گذرا ہے۔ جب وہ بیمار ہوا، آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم اس کی طبع پرسی کے لئے خود تشریف لے گئے، حالانکہ یہ وہ شخص تھا جو چوبیس گھنٹے دشمنان اسلام سے رابطے رکھتا تھا، ان سے مل ملاتا رہتا تھا۔ کبھی ادھر بھاگتا، کبھی ادھر بھاگتا، سمجھتا تھا کہ ان سب کو ملاکر ہم اسلام کو نیست و نابود کردیں گے۔ لیکن آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم طبع پرسی کے لئے جارہے ہیں ایک منافق کی طرف۔ جب آپ صلّی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لے گئے تو اس نے عرض کیا، کیونکہ وہ مرض الموت میں مبتلا تھا، اس کو پتا تھا کہ وہ مرنے والا ہے، اس نے کہا یا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم ایک گذارش ہے وہ قبول کرلی جائے۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں کہو۔ اس نے کہا میری ایک تمنا ہے جب میں مرجاؤں تو مجھے اپنی قمیص عطا کیجیے۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں عطا کردیں گے۔ اس نے کہا میری نماز جنازہ بھی آپ صلّی اللہ علیہ وسلم پڑھائیں۔ سوچنے کی بات ہے۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں پڑھائیں گے۔ جب آپ صلّی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے گئے اس نے آدمی بھیجا کہ حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم مجھ سے وعدہ کرگئے ہیں کہ وہ قمیص عطا کریں گے۔ تو آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیص، اوپر کا جو لباس تھا اس کی طرف روانہ کردیا۔ اس نے فوراً عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم اوپر والی قمیص نہیں مجھے وہ چاہیے جو ہمیشہ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کے جسم کے ساتھ مس رہتی ہے۔ دیکھو! منافق بھی سمجھتا تھا، جو پوری زندگی دشمنی کرتا رہا وہ بھی سمجھتا تھا یہ برحق ہیں اور ان کی طرف سے اگر کچھ مجھے عطا ہوگیا تو مجھے نجات مل سکتی ہے۔ وہ بھی امید رکھتا تھا۔ آپ نے فرمایا کیوں نہیں، آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے وہ اندر جسم کے ساتھ جو قمیص پہنتے تھے وہ اس کی طرف روانہ کردی۔

عمر فاروق رضی اللہ عنہ بڑے غیور اور کفار و منافقوں کے خلاف سخت غصہ رکھنے والے صحابی رسول تھے۔ انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم آپ کا جسم اطہر پاک، آپ کا لباس مبارک پاک اور اس پلید شخص کو دے رہے ہیں، ناپاک شخص کو دے رہے ہیں۔آپ نے فرمایا اے عمر ہم اس کو قمیص اس لئے نہیں دے رہے ہیں کہ اس قمیص سے اس کو کچھ فائدہ پہنچے، اس لئے دے رہے ہیں جو اور لوگ اس کے ساتھ بیٹھے ہیں شاید ان کی ہدایت کا راستہ نکل آئے۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے قمیص روانہ کردی۔

خیر وہ تو مرگیا لیکن بعد میں دیگر منافقین نے جب دیکھا کہ ہمارا جو بگ باس تھا اور ساری زندگی آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کی دشمنی کرتا رہا اور ان کے خلاف بد زبانی کرتا رہا، مخالفت کرتا رہا، تو ایسا شخص بھی ان کے لباس میں اتنی امید رکھتا ہے کہ اس کے ذریعے اس کو نجات مل سکتی ہے، آخرت میں نجات مل سکتی ہے۔ یعنی یہ شخص بھی آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کو دل سے برحق سمجھتا تھا۔ فوراً وہ دوڑے دوڑے حضور صلّی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور وہ تائب ہوئے، اسی روز نفاق سے تائب ہوکر دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے۔ یہ وہ خلق نبوی تھا۔ امیر عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس بات پر اپنا احتجاج درج کرایا کہ آپ یہ کیا کررہے ہیں وہ تو منافق ہیں لیکن آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کی نظر بہت وسیع اور کشادہ تھی۔ تو یہی ایک کیفیت ہمارے احبابوں کے دلوں میں ہونی چاہیئے۔ سب سے محبت کریں، ان کو محبت سے بلائیں تاکہ ہماری تو یہ ہی تمنا ہے، یہ ہی طمع ہے کہ ان کے دلوں میں محبت الٰہی کا جذبہ موجزن ہوجائے، وہ اللہ کو جاننے پہچاننے لگیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عمل عطا فرمائے۔