فہرست
خطابات طاہریہ

اسوہ حسنہ

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ۝

صدق اللہ العظیم۔

میرے محترم دوستو عزیزو! الحمدللہ کافی نصیحت وعظ پراثر، ذومعنیٰ باتوں پر آپ سن چکے ہیں۔ مزید یہ عاجز کیا عرض کرے۔ کچھ ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی لیکن دوستوں کے اصرار، ان کے ارشاد کے مطابق یہ عاجز کچھ عرض کرتا ہے۔ دعا ہے اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں توفیق عمل عطا فرمائے۔

اپنی حقیقت ہر ایک انسان کے سامنے ہوتی ہے۔ انسان اپنی ذات کی حقیقت کو چھپائے یا کسی اور چیز کی حقیقت کو لاکھ چھپائے۔ ممکن ہے وہ کچھ نادان لوگوں کو دھوکہ بھی دے دے کہ وہ کچھ کم عالم ہو، کم عمل ہو۔ اپنے آپ کو بڑا عالم ظاہر کرے، بڑا عامل ظاہر کرے، بڑا فاضل ظاہر کرے۔ لیکن جو عقل مند ہوتے ہیں، سمجھ دار ہوتے ہیں، وہ جان ہی جاتے ہیں کہ وہ شخص کتنے پانی میں ہے۔ تو یہ عاجز بھی اچھی طرح اپنے آپ کو جانتا ہے کہ یہ عاجز کتنے پانی میں ہے اور میری کیا حیثیت ہے۔ دوستوں نے تعریفیں بیان فرمائیں، یہ ان کا حسن ظن ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اس کو سچا کرے۔ حالانکہ یہ عاجز اس لائق ہرگز نہیں ہے اور نہ ہی اس چیز کو پسند کرتا ہے اور نہ ہی اس سے خوشی محسوس کرتا ہے بلکہ شرمندگی ہوتی ہے۔ اگر کچھ ہے یہ سب میرے شیخ کامل حضرت قبلہ عالم روحی وقلبی فداہ کے نظر کرم کا صدقہ ہے، یہ ان کی دعاؤں کا اثر ہے، یہ ان کی تربیت کا اثر ہے۔ ورنہ مجھ جیسا ناکارہ جو کسی بھی لائق نہیں،کوئی بھی لیاقت نہیں رکھتا کہ آپ کے سامنے کچھ بیان کرے۔ ممکن ہے کہ ایاز کی مثال کی طرح لوگ سمجھتے ہوں کہ بھائی یہ تو بڑا ہی دنیادار ہے یا عقل مند ہے یا علم کا مالک ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ محمود کی خدمت میں ایاز رہتا تھا۔ محمود اس پر بے حد مہربان تھا۔ محمود کوئی معمولی انسان نہ تھا بلکہ ایک اہل دل انسان تھا، اہل اللہ تھا، بڑی سلطنت کا مالک تھا۔ لاکھوں کی تعداد میں اس کی فوج تھی۔ بڑے بڑے معرکہ اس نے سرانجام دیئے۔ تاریخ میں لکھا گیا ہے کہ محمود غزنوی نے اپنی زندگی کا اکثر حصہ گھوڑے کی پیٹھ پر گذارا۔ ہمارا اکثر حصہ اپنے گھر میں بسر ہوتا ہے، بستر پر بسر ہوتا ہے، تجارت میں بسر ہوتا ہے، دکانوں میں بسر ہوتا ہے۔ لیکن وہ مجاہد انسان اپنی زندگی کا اکثر حصہ، نصف سے زیادہ حصہ، اگر ان کی عمر 60 سال تھی تو تیس سال برابر اس طرح گذرے کہ وہ گھوڑے کی پیٹھ پر سوار رہے۔ زمین پر قدم رکھنے کا موقعہ بھی نہ مل سکا۔ تو اتنا اولوالعزم بادشاہ، بڑے سلطنت کا مالک اور صالح انسان وہ ایاز پر مہربان ہوگیا۔ ایاز کیا تھا؟ اس کی حقیقت کیا تھی؟ وہ آپ نے کتابوں میں پڑھی ہوگی اور علماء سے سنی ہوگی۔

یہ عاجز ایک واقعہ عرض کرتا ہے، مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللہ علیہ نے غالباً اس کو بیان کیا ہے یا کسی اور بزرگ نے کہ وہ ایاز پر بے حد مہربان تھا۔ جتنے بھی امرائے سلطنت تھے وہ اس سے جلتے تھے، حسد کرتے تھے کہ یہ شکل کا بھی سادہ ہے، علم تو اس کے پاس ہے ہی نہیں۔ یہ تو وہ شخص ہے جو جنگل میں بکریاں چراتا تھا، اونٹوں کو ہانکتا تھا۔ آج ہم سے بھی برتر ہے۔ بادشاہ اس کے مشورے کو، اس کی بات کو بڑے غور سے سنتا ہے اور زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ آخر یہ سب کچھ کیونکر ہے۔ انہوں نے طرح طرح کی باتیں سوچنا شروع کردیں۔ یہ بات بھی انہوں نے اٹھائی کہ یہ درحقیقت دنیا کا طالب ہے، پیسے کا طالب ہے اور بہت سارا خزانہ اس نے چھپایا ہوا ہے۔ بادشاہ تک انہوں یہ بات پہنچائی کہ بہت سارا خزانہ اس نے چھپایا ہوا ہے۔ ایک خلوت خانہ بنایا ہوا ہے جس میں اس نے ہیرے، جواہر، لعل، یاقوت جو موقعہ ملتے اس نے خزانے سے لے لئے ہیں، وہاں جمع کر رکھے ہیں۔ جب سب لوگ سوجاتے ہیں، رات کو ہم نے اس کی جاسوسی کی ہے، اس کو دیکھا ہے کہ وہ اس خلوت خانہ میں چلا جاتا ہے ان ہیروں کو دیکھتا ہے، ان پیسوں کو گنتا ہے، اور وہ بڑی خوشی اور مسرت محسوس کرتا ہے۔ محمود نے اس بات پر کوئی غور نہیں کیا۔ ان کا غصہ اور بھی بڑھا، انہوں نے اور بھی زیادہ مرچ مصالحہ لگا کر وہ بات بیان کی۔ محمود نے ان کو کہا کہ اچھا اگر اس کا کوئی خزانہ محفوظ ہے تو میں آپ کو اجازت دیتا ہوں آپ چلے جائیں، اس کا دروازہ توڑیں، جو کچھ بھی وہاں موجود ہو یہاں لے آئیں۔ وہ بڑے خوش ہوئے اور وہ فوراً وہاں سے نکلے کہ ابھی وہ ایاز کا جو راز ہے، فاش کرتے ہیں اور بادشاہ کا جو اعتماد ہے وہ مجروح ہوجائے گا اور پھر اس پر نظر کرم نہیں کرے گا، اپنے پاس نہیں بٹھائے گا۔ ہم اس کے مقرب بن جائیں گے۔ وہ دوڑے دوڑے اس کے گھر تک، اس خلوت خانہ تک پہنچے۔ دروازے کو توڑا، اندر داخل ہوگئے کہ وہاں بڑے بڑے ہیروں کے ڈھیر ہونگے، سونا چاندی ہوگی، روپے اور پیسے ہونگے لیکن وہاں دیکھا تو کچھ بھی نہیں تھا۔ بالکل خالی۔ ایک کونے میں گئے، دوسرے کونے میں گئے، تیسرے کونے میں گئے، چوتھے کونے میں گئے لیکن کچھ بھی نظر نہیں آیا۔ ایک ٹوٹی پھوٹی صندوق سی نظر آئی جو بالکل خستہ حال تھی، جس کا ڈھکن بھی کھلا ہوا تھا اور وہ بند بھی نہیں تھی۔ اس میں جھانکا تو پھٹا پرانا ایک چوغا یا جس کو پیراہن کہیں یا کوئی معمولی سا نام دے دیں جس سے انسان اپنا بدن ڈھانپ سکتا ہے۔ وہ پھٹا پرانا پڑا ہوا تھا۔ ایک نہایت ہی کم قیمت اور انتہائی حقیر سی جوتی پھٹی ہوئی وہاں پڑی تھی۔ ایک عصا وہاں پڑا ہوا تھا۔ وہ سب یہ چیزیں بادشاہ کے سامنے شرمندہ شرمندہ لے کر آئے، وہ صندوق لائے۔ کیا کرتے۔ تو انہوں کہا کہ ہم تو بڑے شرمندہ ہوئے ہیں وہاں توکچھ بھی نہیں تھا۔ صرف یہ چیز پڑی ہوئی تھی۔

محمود نے ایاز کو بلایا۔ بتاؤ اے ایاز تو نے کیا وہاں چھپا کے رکھا ہے؟ ایاز نے کہا کہ میں اس حقیقت کو کبھی بھی عیاں نہیں کرتا لیکن جب یہ آپ کے سامنے بات آچکی ہے تو میں عرض کردیتا ہوں۔ میں اپنی حقیقت کو سب لوگوں سے چھپا کر اندر رکھ چکا تھا چونکہ آپ کے احسانات، آپ کے انعامات اتنے بڑھ چکے تھے کہ لوگ سمجھتے تھے کہ ایاز تو بادشاہ کا بڑا ہی معتبر ہے، اس پر تو بادشاہ نے احسانات کیے ہیں۔ لیکن میں اپنے نفس کو ہمیشہ حقیقت دکھاتا تھا کہ بادشاہ نے تیرے اوپر کرم نوازی کی ہے، تجھے اعزاز دیا ہے، یہ اس کی مہربانی ہے۔ لیکن ایاز تیری حقیقت تو یہ ہے کہ تو ایک معمولی سا چرواہا ہے جو جنگل میں بکریوں کو چراتا تھا۔ اگر تو نے ان احسانات کی قدر شناسی کی اور شکر ادا کیا اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے احسانات کو مانا تو پھر یہ تیرے لئے فائدہ مند ہیں اور اگر تو نے ناشکری کی اور ان انعامات پر اپنے اندر تو نے تکبر پیدا کیا، فخر پیدا کیا اور اپنے آپ کو تو نے اس سے بڑھ کر سمجھا جو تیری حقیقت ہے تو پھر یقین جان کہ تجھے پھر وہی کام ہی کرنا ہوگا جو پہلے کیا کرتا تھا کہ جنگل میں بکریوں کو یا اونٹوں کو چراتا تھا۔ تو میں اپنے نفس کو یہ حقیقت دکھاتا رہتا تھا۔

تو میرے دوستو عزیزو یہ ان لوگوں کا احسان ہے، یہ ان کا انعام ہے جنہوں نے مجھ جیسے حقیر آدمی کو نیچے سے اٹھاکر اوپر بٹھا دیا اور اس لائق بنادیا۔ تو اس ایاز کے واقعے میں میرے لئے اور تمہارے لئے ایک بہت ہی بڑا درس ہے۔ آج کوئی بڑا تاجر بن چکا ہے تو وہ یہی سمجھتا ہے کہ وہ تو ایسا ہی تھا۔ اب اس کی پیچھے نظر نہیں ہے کہ پہلے وہ کیسا تھا؟ اس کی نظر آگے ہے۔ کوئی بڑا سیاستدان بن چکا ہے اور سینکڑوں لوگ اس کے پیچھے ہیں تو وہ بھی سمجھتا ہے کہ میں تو اس لائق تھا بلکہ میں اس سے بھی بڑھ کر ہوں لیکن افسوس لوگوں میں میری کچھ قدر نہیں ہے۔ اسی طرح ہر ایک شخص کو دیکھا جائے تو اپنے نفس کے اس حربے میں مبتلا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو بالکل بھلا دیتا ہے اور وہ ناشکرے پن کا مظاہرہ کرتا ہے اور وہ یہ سمجھتا ہے میں تو جس لائق ہوں وہ تو مجھے ملا ہی نہیں۔ مجھے تو اس سے بھی زیادہ ملنا چاہیے۔ پھر نتیجہ اس کا یہ نکلتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی رحمتوں سے محروم ہوجاتا ہے۔ کس طرح محروم ہوتا ہے کہ دولت کے انبار ہیں، عمدہ لباس ہے، عمدہ سواری ہے، عمدہ گھر ہے لیکن کچھ برکت نہیں، کچھ سکون نہیں، کچھ اطمینان نہیں۔ گھر میں جاکر دیکھو تو ہر شخص دوسرے سے بیزار ہے۔ جس سے بات کرو توکاٹنے کو دوڑتا ہے لڑنے کو آتا ہے۔ وہاں سینکڑوں کے تعداد میں طعام موجود ہیں لیکن کھانے والا کہتا ہے کہ مجھے یہ بھی نہیں پسند، مجھے وہ بھی نہیں پسند، مجھے فلاں چیز بھی پسند نہیں ہے۔ یہ سب عرش کی طرف سے عذاب کی صورت ہے۔

کیونکہ میرے آقا و مولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمادیا کہ جب تم دنیا میں غور کرو تو اپنے سے کمتر کو دیکھو تاکہ تمہارے اندر شکر کا مادہ پیدا ہو، اور جب دین کے معاملے میں غور فکر کرو تو اپنے سے زیادہ نیک، صالح اور پرہیزگار انسان کو دیکھو تاکہ زیادہ عمل کا جذبہ بیدار ہو۔ اور ہمارا معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے۔ دین کے معاملے میں تو ہم کہتے ہیں کہ فلاں شخص جو جھوٹ بولتا ہے تو میں کیوں نہ بولوں۔ فلاں شخص جو نماز نہیں پڑھتا تو میں کیوں پڑھوں۔ فلاں شخص جہنم کے کنوئیں میں گرتا ہے تو میں کیوں نہ گروں۔ تو اس وجہ سے جس شخص کو دیکھو حرص و ہوس میں انتہا کرچکا ہے۔ وہ اتنا تو حریص بن چکا ہے جس طرح کہ مفسرین نے فرمایا ایک کوئی جانور ہے وہ سارا دن کھاتا ہے۔ اتنا تو کھاتا ہے کہ جنگلوں کے جنگل ختم کردیتا ہے۔ جب شام ہوتی ہے تو رونا شروع کردیتا ہے۔ کل کیا کھاؤں گا؟ اور ساری رات اس فکر میں رہتا ہے۔ جب صبح کو بیدار ہوتا ہے تو وہ جنگل جو اس نے ہڑپ کیا تھا خدا کے حکم سے دوبارہ سرسبز و شاداب ہوجاتا ہے۔ پھر اس کو کھانا شروع کردیتا ہے۔ تھکتا نہیں۔ شام ہوجاتی ہے پھر رونا شروع کردیتا ہے کل میں کیا کھاؤں گا؟ حالانکہ سالہا سال سے وہ دیکھ رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک دن بھی مجھے بھوکا نہیں رکھا، مجھے دے رہا ہے۔ تو ہم انسانوں کا اس جانور جیسا حال ہوچکا ہے۔ سارا دن خدا کی نعمتیں ہیں، احسانات ہیں، مہربانیاں ہیں جن کا کچھ شمار نہیں لیکن جب رات ہوتی ہے اورسرہانے پر ہمارا سر آتا ہے تو اللہ یاد نہیں آتا اور اس کا شکر ادا کرنا یاد نہیں آتا۔ اپنے گناہ یاد نہیں آتے۔ اپنی برائیاں اور بے حیائیاں یاد نہیں آتیں۔ ہمیں یہ یاد آتا ہے کہ کل ہمیں کھانے میں کیا ملنا چاہیے اور پہننے کے لئے کیا ہو اور رہنے کے لئے کیسا ہو۔ ایک روپیہ تو ہے لیکن یہ تو بہت تھوڑا ہے، مجھے اور بھی چاہیے۔ ایک لاکھ روپیہ تو ہے لیکن یہ بھی قلیل ہے، ایک کروڑ روپیہ ہے لیکن یہ بھی تھوڑا ہے مجھے تو اور بھی زیادہ چاہیے۔ تو اس قدر انسان کی عقل ماری جاتی ہے کہ وہ کھانے پینے کے فکر میں پریشاں و سرگرداں رہتا ہے۔ جب کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے انسان تو اشرف المخلوقات ہے۔ تیرا شان اور شرف تو بہت بلند ہے۔ جب ایک ادنیٰ سا رینگنے والا کیڑا جو زمین پہ رینگتا ہے اس کی روزی کا ذمہ میں نے لے رکھا ہے، جب میں اس کو رزق پہنچاتا ہوں تو تُو تو میرا اپنا ہے، تُو تو میرا نائب اور خلیفہ ہے، میں تجھے کیسے محروم رکھ سکتا ہوں؟

دوستاں را کجا کنی محروم
تو کہ با دشمناں نظر داری

ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ کیسے محروم رکھ سکتا ہے۔ اپنے رزق سے، اپنی رحمت سے، اپنی مغفرت سے، اپنے انعاموں سے کیسے محروم رکھ سکتا ہے۔ جب کہ وہ کافروں پر بھی مہربان ہے۔ جو اس کی ذات کے دشمن ہیں، اس کا انکار کرنے والے ہیں، وہ بتوں کے سامنے سجدہ ریز ہونے والے ہیں، جب ان کو بھی عطا فرما دیتا ہے تو ایمان والوں کو کیسے محروم رکھ سکتا ہے۔ لیکن ہمارا دل اندھا ہوچکا ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ پر ہمارا بھروسہ رہا ہی نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم اپنے بل بوتے پر کھاتے ہیں اور اپنے بل بوتے پر زندہ رہتے ہیں۔ لیکن یاد رکھو اللہ تبارک و تعالیٰ کی نعمت ایک لمحے کے لئے اگر مفقود ہوجائے تو ہم زندگی کا ایک سیکنڈ بھی بسر نہیں کرسکتے۔ یہ ہوا چل رہی ہے۔ یہ کس کی نعمت ہے؟ کیا تو اس کو اپنے بل بوتے پر کرسکتا ہے؟ ایک سیکنڈ کے لئے اگر اللہ تعالیٰ کا حکم ہوجائے اس ہوا کو کہ تم زمین کے حصے سے گم ہوجاؤ یا ختم ہوجاؤ یا دور ہوجاؤ۔ آپ ذرا سوچ کے بتائیں کیا ایک جانور بھی زمین پر زندہ رہ سکتا ہے؟ اور پھر کس طرح اللہ تعالیٰ نے اتنی اعلیٰ نعمت کو ہمارے لئے آسان کردی، مہیا کردیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارا روپیہ اور پیسا سب سے بڑا ہے۔ اس کی بڑی قدر کرتے ہیں۔ خوب گنتے ہیں، اس کو چھپاتے ہیں، بینکوں میں رکھتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ یہ ہماری بڑی دولت ہے۔ یہ نہیں سوچتے کہ جس ہوا میں ہم سانس لے رہے ہیں یہ کتنی بڑی قیمتی ہے۔ اس کی قدر کیوں نہیں ہے؟ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں مفت میں عطا فرمائی ہے۔ اگر اس کی قیمت وصول کی جاتی کہ اے انسان تم اس کی قیمت دے دو پھر میں تجھے ہوا مہیا کروں گا تو کیا ہم اس کی قیمت ادا کرسکتے؟ اتنی لازوال نعمت اور پھر کس طرح اللہ تعالیٰ نے بندوبست فرمادیا۔ بازاروں میں چلے جاؤ تو یہ ہوا تیرے لئے وہاں بھی موجود ہے۔ تم بازاروں سے باہر جنگلوں میں چلے جاؤ تو یہ ہوا تیرے لئے وہاں بھی موجود ہے۔ پہاڑوں کی چوٹیوں پر چلے جاؤ یہ نعمت تمہارے لئے وہاں بھی موجود ہے۔ کمرے کے اندر چلے جاؤ تو یہ نعمت تمہارے لئے وہاں بھی موجود ہے۔ اتنا اللہ تعالیٰ نے اعلیٰ بندوبست فرما دیا ہے۔

تو میں عرض کررہا تھا کہ ان نعمتوں پر ہماری نظر نہیں جاتی۔ حالانکہ بیشمار نعمتیں ہیں۔ تو یہ ایک بہت بڑا طویل مضمون ہے جیسے کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

وَاِنْ تَعُدُّوا نِعْمَۃَ اللہِ لَا تُحْصُوْھَا۝

اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو کبھی بھی نہیں گن سکتے۔ یہ تو بے پایاں ہیں، بے حد و حساب ہیں، بے شمار ہیں لیکن ہم گنتے تو نہیں بلکہ مانتے ہی نہیں۔ گننے کی قوت تو ہے ہی نہیں۔ گن تو نہیں سکتے لیکن ہم اس کو مانتے بھی نہیں۔ اگر اللہ کی نعمتوں کو ماننے والے ہوتے تو کبھی بھی ایک دوسرے کے حق غصب نہیں کرتے۔ کبھی بھی ایک دوسرے کا خون نہیں بہاتے۔ کبھی ہم جھوٹ نہ بولتے۔ کبھی ہم خیانت نہ کرتے۔ یہ اس لئے ہمارے اندر برائیاں ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی شکر ادائی نہیں کرتے۔ ہم کہتے ہیں جو کچھ ہمارے پاس ہے یہ ہمارے عقل کا کیا دھرا ہے۔ یہ ہماری سوچ ہے۔ یہ ہماری فکر ہے۔ اس وجہ سے ہم اتنے بڑے آدمی ہوچکے ہیں۔ یہ نہیں سوچتے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت ہے۔ تو یہ بھروسہ ہمارا اللہ تعالیٰ کی ذات پر نہیں رہا

وَ مَنْ یَتَوَکَّلْ عَلَی اللہِ فَھُوَ حَسْبُہٗ۝

جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے، اللہ اس کے لئے کافی ہوجاتا ہے۔ اس کا روپیہ اس کے لئے کافی نہیں ہوجاتا۔ لاکھ، کروڑ، ارب اس کے لئے کافی نہیں ہوسکتے۔ اس کی دولت، زمین، جائداد، دکان، یہ سیاست، تجارت اس کے لئے کافی نہیں ہوسکتی۔ اگر ان پر بھروسہ کرے گا کہ یہ میرے لئے کافی ہوجائیں گے تو زندگی بھر خاک پھانکتا رہے، محنتیں کرتا رہے، کبھی بھی اس میں اپنے لئے کفایت نہیں پائیگا، بلکہ پریشانی در پریشانی، مصیبت در مصیبت چلی آتی رہے گی۔ اگر وہ اللہ پر بھروسہ کرے گا اور اس کی ذات پر متوجہ ہوجائے گا تو تھوڑا بھی اس کے پاس ہی ہو تو اس کے لئے کافی ہے، بہت کافی ہے۔ جس طرح کہ مولانا شیخ سعدی شیرازی فرماتے ہیں کہ

نیم نانے گر خورد مرد خدا
بذل درویشاں کند نیم دگر

اللہ کے نیک بندے کو ایک روٹی مل جائے تو آدھی خود کھائے گا اور الحمداللہ کہہ کر آدھی کسی اور کو دے دے گا۔

ہفت اقلیم بگیرد بادشاہ
ہم چناں در بند اقلیم دگر

اور دوسری طرف دنیا داروں کی سوچ کیا ہے؟ اگر کسی بادشاہ کو سات حکومتیں مل جائیں، سات ولایتیں مل جائیں تو بھی اس کا پیٹ نہیں بھرے گا۔ وہ کسی اور ولایت کے، اور ملک کے فکر میں ہوگا کہ اس کو بھی اپنے قبضے میں لوں، اس کو بھی ہتھیالوں۔

تو میرے دوستو! جو اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں ان کے لئے تھوڑا بھی بہت ہوتا ہے بلکہ بہت سارا ہوجاتا ہے۔ میرے آقا و مولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کے ان معجزوں کو آپ نے سنا ہوگا۔ جب آپ کی خدمت میں ایک پیالہ دودھ کا پیش کیا گیا۔ ایک صحابی رسول فرماتے ہیں کہ میں گلی میں بیٹھا ہوا تھا، بھوک سے نڈھال تھا۔ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم وہاں سے گذرے اور مجھ سے میرا حال دریافت فرمایا۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم میرا حال تو یہ ہے کہ اتنے دنوں سے بھوکا ہوں۔ آپ نے فرمایا کچھ فکر نہیں چلے آؤ۔ اپنے گھر میں چلے گئے اور دریافت فرمایا کہ کچھ موجود ہے؟ کہا گیا کہ ایک پیالہ دودھ کا ملا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ چلے جاؤ اور جتنے بھی صحابہ ہیں ان کو لے آؤ، مسجد نبوی میں جتنے صحابی موجود ہیں ان کو لے آؤ۔ غالباً وہ صحابی ابوہریرہ ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں بڑا پریشان ہوا کہ ایک دودھ کا پیالہ ہے جس میں آدھا کلو یا ایک پاؤ دودھ ہوگا۔ وہ تو میرے لئے ناکافی ہے اور حضور صلّی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں کہ اتنے سارے لوگوں کو لے آؤ۔ میرے آقا و مولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کی یہ سخاوتیں دیکھو۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا بے شک میرے حبیب کی زندگی، اللہ کے رسول کی زندگی آپ کے لئے ایک بہترین نمونہ ہے۔ ہم اس کو اختیار بھی نہیں کرتے۔ ہمارے اندر وہ احساس پیدا بھی نہیں ہوتا جو ہمارے آقا و مولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق ہوتا تھا کہ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم خود بھی بھوکے ہیں، آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کو بھی ضرورت ہے، لیکن اپنی ضرورت پر اپنے احباب کی ضرورت کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں، ان کا زیادہ خیال رکھتے ہیں۔ کیا یہ وصف ہمارے اندر ہے؟ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اے ایمان والو جب تم گھر میں سالن پکاؤ تو اس میں زیادہ پانی ڈالو، اس کو کشادہ کرو تاکہ اس میں سے کچھ حصہ اپنے پڑوسی کو بھی دے سکو۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ تم پیٹ بھر کر سوجاتے ہو، اپنے پیٹ کو بھرتے ہو لیکن اپنے پڑوسیوں کا خیال نہیں کرتے، وہ بھوکے سوجاتے ہیں۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی قسم تمہارا ایمان کامل نہیں۔ یہ میرے آقا و مولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق حسنہ تھا۔ کیا آپ کا مقام ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب انبیاء کرام کا سردار بنایا۔ کیا آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کا مقام ہے کہ معراج پر بلایا، اپنے دیدار سے مشرف فرمایا۔ کیا آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کا مقام ہے کہ جمیع انسانوں کا سردار اور انبیاء کا سردار اور نبی بنا کرکے بھیجا۔ انسان جنات بلکہ جتنی بھی زمین پہ مخلوقات ہیں آپ صلّی اللہ علیہ وسلم سب کے لئے رحمت بن کر آئے۔ لیکن انکساری اور تواضح تو دیکھو۔ کوئی ادنیٰ سے ادنیٰ انسان بھی جاکر دروازے پر پکارتا تھا، آپ کا نام لے کر پکارتا تھا تو آپ لبیک لبیک کہتے ہوئے باہر تشریف لے آتے۔ ہماری طرح ہوں یا ہاں یا اس طرح کے الفاظ نہیں فرماتے تھے۔ لبیک لبیک کہتے دروازے پر پہنچ جاتے۔ آپ کو معلوم ہے کہ لبیک کی معنٰی کیا ہے؟ لبیک کی معنیٰ ہے میں حاضر ہوں، میں تیرے لئے حاضر ہوں۔ کیا ہمارے اندر یہ اخلاق پایا جاتا ہے؟ اتنا آپ کا اعلیٰ اخلاق۔

اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا اے میرے پیارے حبیب میں تجھے شہنشاہ نبی بناؤں یا میں تجھے عبد نبی بناؤں۔ شہنشاہ نبی، جس طرح سلیمان نبی علیہ السلام کو بنایا گیا کہ پوری دنیا کی حکومت دی گئی، حتیٰ کہ جو ہوا تھی وہ بھی آپ کے حکم کی تابع تھی۔ جنات، دیو، پریاں یہ سب آپ کے حکم کے تابع تھے۔ آپ کا جو تخت تھا وہ ہوا پہ چلتا تھا۔ اور کہا گیا ہے سالوں کی مسافت وہ مہینوں میں طے کرتے تھے، بلکہ مہینوں کی مسافت ہفتوں میں، ہفتوں کی مسافت دنوں میں طے ہوجاتی۔ اتنا لمبا سفر جو چند ساعت میں طے ہوجاتا تھا، یہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے معجزہ عطا فرمایا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو بھی تو چاہے میں تجھ کو عطا کردوں۔ آپ نے شہنشاہیت پر عبدیت کو فوقیت دی۔ یا رب العالمین تو مجھے اپنی عبدیت میں بلند مقام عطا فرمادے۔ شہنشاہیت کا میں طالب نہیں ہوں، اس چیز کی مجھے ضرورت نہیں ہے، مجھے تو عبدیت کا بلند ترین مقام عطا فرمادے۔ اور یہ عبدیت کا بلند ترین مقام تھا کہ جو کسی نبی کو مہیا نہیں ہوسکا۔ آپ کی مسکینوں سے، غریبوں سے وہ محبت تھی کہ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرماتے تھے

اَللّٰہم احینی مسکینا و امتنی مسکینا و احشرنی فی زمرۃ المساکین۔

اے میرے مولا مجھے مسکینوں میں زندہ رکھنا۔ کیا آپ کی محبت ہے مسکینوں کے ساتھ کہ اپنے آپ کو مسکینوں کے ساتھ ملاتے ہیں۔ حالانکہ یہ بھی فرما سکتے تھے کہ مسکینوں کو میرے ساتھ رکھنا، لیکن عجز و انکساری کا عجب اظہار تو دیکھو۔ فرماتے ہیں کہ مجھے مسکینوں کے ساتھ رکھنا۔ یہ بھی اعزاز آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے مسکینوں کو عطا فرمادیا، غریبوں کو عطا فرمادیا۔ امیروں کو عطا نہیں فرمایا۔ مجھے مسکینوں کے ساتھ زندہ رکھ اور مسکینوں کے ساتھ میرے اوپر وفات آئے اور قیامت کے دن جب میں اٹھوں تو مجھے مسکینوں کی جماعت میں سے رکھنا کہ ان کے ساتھ میں اٹھوں۔ وہ میرے ساتھ ہوں، میں ان کے ساتھ رہوں۔ تو یہ کتنا بڑا اعزاز و اکرام ہے۔

آج ہم نادان لوگوں نے مسکینوں کو ایک گالی بنادیا ہے۔ بھئی کہتے ہیں کہ خدا کسی کو مسکین نہ بنائے، اور اللہ تعالیٰ کا حبیب فرماتا ہے مجھے مسکین بنادے۔ تو اس سے بڑھ کر ان مسکینوں کے لئے اعزاز کیا ہوسکتا ہے۔ تو آپ نے یہی تمنا کی کہ یا رب العالمین مجھے عبدیت میں بلند ترین مقام عطا فرما۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اگر ہم چاہتے تو سلیمان علیٰ نبینا علیہ السلام سے بھی بڑی حکومت اللہ تعالیٰ ہمیں عطا فرما دیتا۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر ہم دعا کرتے تو یہ جو پہاڑ ہیں وہ سونے اور چاندی کے بن کر ہمارے ساتھ چلتے۔ لیکن آپ نے فرمایا کہ ہمیں اس چیز کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ آپ نے فرمایا

الدنیا جیفۃ و طالبھا کلاب۔

دنیا کی مثال مردار کی طرح ہے اور اس کی محبت میں جو اندھے ہونے والے لوگ ہیں، اس کی محبت میں سود کھانے والے، اس کی محبت میں رشوت کھانے والے، اس کی محبت میں کسی اور کا حق غصب کرنے والے وہ کتوں کی طرح ہیں۔

تو میرے دوستو عزیزو! آقا و مولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ بیان کررہا تھا کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے۔ آپ فرماتے ہیں آپ ایک مرتبہ مسجد قبا کی طرف تشریف لے جا رہے ہیں، دراز گوش پر سوار ہیں۔ اپنی سواری پہ چلے جا رہے ہیں۔ میں بھی راستے میں مل جاتا ہوں۔ آپ فرماتے ہیں اے ابوہریرہ کیا قبا کی طرف تو بھی چلے گا؟ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم آپ کا ارشاد میری آنکھوں پر، آپ کی ہم نشینی مہیا ہو، آپ کا میں ہم سفر بن جاؤں تو اس سے بڑھ کر میرے لئے کیا انعام ہوسکتا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ سواری پر چڑھ۔ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم میں ایسے ہی آپ کے ساتھ پیدل چلتا ہوں تو آپ کے دیدار سے مشرف رہوں گا۔ آپ نے فرمایا نہیں نہیں، تمہیں ہمارے ساتھ سوار ہونا پڑے گا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے جست لگائی تاکہ میں سواری پر چڑھ سکوں لیکن میں ناکام رہا۔ آقا و مولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوہریرہ اپنا ہاتھ میری طرف بڑھا۔ فرماتے ہیں کہ میں نے ہاتھ آگے کیا، آپ نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں دیا اور مجھے اوپر بٹھانے کی کوشش کی، لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ آپ سواری سے نیچے آگئے۔ دوبارہ آپ سواری پر سوا رہوئے۔ یہ نہیں فرمایا کہ ہمیں تکلیف ہوئی ہے، اب ہم ٹھیک ہیں، چلے جاتے ہیں۔ دوبارہ آپ نے فرمایا کہ اب دوسری مرتبہ چڑھو۔ میں نے دوبارہ کوشش کی مگر ناکام رہا۔ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں دے دیا تاکہ مجھے چڑھائیں لیکن دوبارہ آپ پھر نیچے آگئے۔ اس طرح تین مرتبہ ہوا لیکن پھر بھی آپ اس سے پریشان نہیں ہوئے اور پھر بھی آپ نے فرمایا کہ تم اوپر آجاؤ۔ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم میں نے آپ کو تین مرتبہ زحمت دی ہے، تین مرتبہ میں نے اللہ کے نبی کو تکلیف دی ہے۔ اس سے زیادہ میں اللہ کے نبی کو پریشان نہیں کرنا چاہتا۔ آپ نے فرمایا اچھا تمہاری مرضی۔ کیا ان کی انکساری اور عجز کا عالم ہے۔ دیکھیں کہ ایک امتی ہے، ایک خادم ہے، ایک غلام ہے، اس کو بھی اتنا بڑا اعزاز دے دیتے ہیں۔تو میرے دوستو! وہی اخلاق حمیدہ آج ہمیں اپنے اندر پیدا کرنے کی ضرورت ہے، اگر ہم کوئی مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

تو میں روایت عرض کررہا تھا۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ مسجد نبوی کی طرف تشریف لے گئے۔ جتنے بھی صحابہ تھے ان کو بتایا اور وہ سب حضور کے بلاوے پر چلے آئے اور سارا جو آپ کا گھر مبارک تھا وہ صحابہ سے بھر گیا۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوہریرہ دائیں طرف سے اس کی ابتدا کرو۔ ابوہریرہ کہتے ہیں حضور صلّی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہوگیا لیکن میرے دل میں یہ بات بیٹھ چکی تھی کہ ابوہریرہ تجھے تو ایک گھونٹ بھی نصیب نہیں ہوگا۔ اتنے سارے لوگ آچکے ہیں، اب اس کو پئیں گے۔ ان میں سے پہلا ہی اس کو ختم کرلے گا، دوسرے کو نہیں ملے گا۔ جو یہاں اسی نوے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں اب یہ سارے پئیں گے پھر تیری باری آئے گی، یہ تو بڑا مشکل ہے۔ فرماتے ہیں کہ میں نے پہلے شخص کے سامنے پیالا رکھا۔ اس نے دونوں ہاتھوں کے ساتھ پیالا پکڑا اور پینا شروع کردیا۔ پیتا ہی چلا گیا۔ ایک بار پیا، دوسری بار پیا، تیسری بار پیا۔ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اور بھی پیو“۔ اس نے پھر کوشش کی حتیٰ کہ اس کا پیٹ بھر گیا اور مزید اس کے اندر گنجائش ہی نہیں رہی۔ میں دیکھ کر حیران رہ گیا کہ پیالے میں جتنا دودھ تھا اتنا ہی موجود ہے، کچھ بھی کم نہیں ہوا۔ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس سے لے کر دوسرے کو دو۔ میں نے پھر دوسرے کو دے دیا۔ اس نے پیا اور حضور صلّی اللہ علیہ وسلم نے بار بار اصرار کرکے اس کو پلایا، حتیٰ کہ وہ بھی خوب سیر ہوگیا لیکن میں دیکھ کر حیران ہوگیا کہ دودھ تو اتنا ہی موجود ہے، کچھ کمی ہی نہیں ہوئی۔ اس طرح تیسرے کو پھر چوتھے کو۔ جتنے بھی صحابہ موجود تھے سب نے سیر ہوکر پیا، حتیٰ کہ کوئی بھی ان میں سے بھوکا نہیں رہا۔ سب اچھی طرح سیر ہوگئے۔ میں نے پھر دیکھا پیالے میں اتنا ہی دودھ موجود ہے۔ آپ نے مسکراتے ہوئے فرمایا ”ابوہریرہ اب تم بھی پی لو“۔ میں نے بھی اس کو ہاتھوں میں لیا اور حضور صلّی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق میں نے اس کو پینا شروع کردیا۔ میں نے بھی اچھی طرح پیا۔ اس کے بعد آپ نے بسم اللہ کرکے دودھ کو نوش فرمایا۔ آپ نے جب استعمال فرمایا تب جاکر وہ دودھ ختم ہوا۔

تو میرے عزیزو دوستو یہ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت تھی۔ اس لئے آپ فرماتے ہیں جب کوئی تمہارے یہاں آئے تو اس سے پریشان نہ ہوجاؤ۔ تم یقین کرلو مہمان اپنے ساتھ اپنا رزق لاتا ہے بلکہ تمہارے لئے بھی برکت لاتا ہے، تمہارے لئے بھی اللہ کی رحمتیں لاتا ہے۔ تو یہ میرے آقا و مولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق حسنہ تھا۔ یہ آج ہم اپنے اندر پیدا کریں۔ وہ خشیت الٰہی، وہ خوف خدا، وہ آپ کا راتوں کو جاگنا، اللہ کے خوف سے رات رات بھر رونا، آپ کی آنکھوں سے آنسو کا جاری رہنا، آپ کے قدموں کا سوج جانا، ورم کر جانا،صحابہ کا عرض کرنا کہ یارسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم اتنی مشقت کیوں فرماتے ہیں جب کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہر چیز سے منزہ اور پاک اور صاف بنادیا ہے، اس کے بعد اتنی تکلیفیں کیوں فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا جس رب نے اتنا مجھ پر انعام فرمایا، جس نے مجھے اتنے اکرام سے نوازا، اتنے اعزاز سے نوازا جو کسی نبی کو نہیں ملا کیا، میں اس کا شکر گذار بندہ نہ بن جاؤں۔ اور آج ہم اتنی نعمتیں کھاتے ہیں، یہ توفیق نہیں ہے کہ آج ہم اللہ کے فرض نماز کو ادا کریں۔ افسوس ہے ہمارے اوپر۔ کیا منہ لے کر جاؤ گے اللہ کی بارگاہ میں۔ قیامت کے دن کس منہ سے جاؤ گے حضور نبی اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کے سامنے۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم ساری رات عبادت کرتے رہے، سارا دن خدا کے ذکر فکر اور عبادت میں بسر کریں اور تو ان کے امتی ہونے کا دعویدار، دو منٹ کے لئے تجھے مسجد میں آنا نصیب نہیں ہے کہ خدا کے فرض کو ادا کرسکے۔ جب کہ میرے آقا و مولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو نماز کا تارک ہے، نماز کا چھوڑنے والا ہے۔ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن مؤمنین کے ساتھ نہیں اٹھایا جائے گا بلکہ اس کو کفار اور مشرکین کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ تو یاد رکھو اگر تو نماز کا تارک ہے تو در حقیقت تو میرے آقا و مولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہونے کی دعویٰ میں جھوٹا ہے اور تو اپنی دعویٰ میں غلط ہے۔ کیونکہ آپ فرماتے ہیں کہ جس نے جان بوجھ کر نماز کو ترک کیا تو آپ فرماتے ہیں وہ ایمان سے خارج ہوگیا۔ جو ایمان سے خارج ہوگیا وہ آپ کا امتی کیسے رہ سکتا ہے؟ اس لئے اگر تو ان کے امتی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، تو اس دعویٰ میں سچا ہے تو اللہ کے فرائض کو پوری پابندی کے ساتھ ادا کرتا رہ۔

تو اس لئے آج ہم یہ پکا عزم کریں اور ارادہ کریں کہ نماز میں کبھی بھی سستی نہیں کریں گے اور یہ بھی ہم یقین کرلیں کہ اس دنیا کو کبھی بھی بھروسے کے لائق نہیں سمجھیں گے اور یہی سمجھیں گے کہ یہ مسافر خانہ ہے، چند روز ہے اور ہمیں آگے جانا ہے۔ ہر وقت موت کو یاد رکھیں گے، کیونکہ جو موت کو یاد رکھے گا وہ دنیا سے دل نہیں لگائے گا، وہ اللہ سے دل لگائے گا۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ دنیا چند دن کے لئے ہے اور آخرت ابدی دائمی ہے اور ہمیشہ وہاں رہنا ہے۔ اس کو زیادہ فکر آخرت کا ہوگا۔ دنیا کا کام کریگا لیکن دنیا کی محبت اس کے دل میں نہیں ہوگی۔ محبت اللہ کی ذات سے ہوگی۔ اگر غفلت آچکی ہے تو اس کا علاج اللہ کا ذکر ہے۔ اس لئے ذکر خوب کریں اور آقائے نامدار آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ، اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہوجائیں۔ انشاء اللہ دنیا و آخرت میں کامیاب و کامران ہونگے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عمل عطا فرمائے۔