فہرست
خطابات طاہریہ

تزکیۂ نفس

 

نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم

اما بعد

فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکَّاھَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاھَا۝

صدق اللہ العظیم۔

معزز سامعین! مختصر وقت کے لئے یہ ناچیز حاضر خدمت ہے دوستوں کے فرمان اور ان کے ارشاد کے مطابق۔ دعا کریں اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو اپنے ذکر کی طرف مائل کرے اور جو باتیں ہوں وہ دل کی باتیں ہوں، محبت کی باتیں ہوں، مواخات کی باتیں ہوں اور وہ دل سے سنی جائیں اور ان پر دل سے عمل کیا جائے۔ کیونکہ آج ہم شکم پروری، نفس پرستی، خواہشات میں پھنسے ہوئے ہیں، پیٹ پوجا میں مشغول ہیں۔ ہمیں یاد ہے تو صرف اپنا پیٹ یاد ہے، اپنا نفس یاد ہے، اپنی خواہشات یاد ہیں۔ ہمارے افعال سے سمجھ میں یہ آتا ہے کہ جیسے انسان صرف اپنے پیٹ پوجا کے لئے ہی پیدا ہوا ہے۔ جوہمارا کردار ہے، جوہماری رفتار ہے، جو ہمارے انداز ہیں، جو ہمارے اطوار ہیں، یہی کچھ ظاہر کر رہے ہیں، وہ یہی بتا رہے ہیں۔ اگر انسان کی سوچ یہ بن جائے، فکر اس کا یہ ہوجائے اور دن رات اسی فکر میں سرگرداں ہو، زندگی کے قیمتی دن، قیمتی ہفتے، سال اور ماہ اسی میں بسر ہوتے چلے جائیں، گذرتے چلے جائیں، بیس سال، تیس سال، چالیس سال، ساٹھ سال اور بس یہی فکر ہو کہ مجھے آج کیا کھانا ہے۔ آج تو مجھے چٹ پٹا کھانا چاہیے، لذیذ طعام چاہیے، مزیدار کھانا چاہیے۔ آج میرا نفس چاہتا ہے فلاں چیز کھاؤں۔ آج میرا نفس چاہتا ہے کہ آج میں مزیدار طعام فلاں ہوٹل میں کھاؤں۔ گھر میں کونسا کھانا پکا ہے۔ اور اسی فکر میں ہی ہمارے صبح و شام گذرتے رہتے ہیں۔ یا مجھے کیسا لباس پہننا چاہیے، کیا فیشن ہو، کیسا انداز ہو، کیسا اطوار ہو، گھر کیسا ہونا چاہیے۔ بلڈنگ ایسی ہونی چاہیے۔ اگر انہی خیالات میں ہماری زندگی بسر ہوتی چلی جائے تو یہ انسانیت کا مقام نہیں ہوسکتا۔

یہ انداز و اطوار تو حیوانوں کے ہوتے ہیں، جانوروں کے ہوتے ہیں کہ ہر وقت ان کو پیٹ پوجا کی فکر ہوتی ہے۔ بھینس اور گائے کو دیکھیں تو اس کو یہی فکر ہوتی ہے کہ کسی ایسی جگہ تک ہم پہنچ پائیں جہاں گھاس ملے، پیٹ بھرنے کی جگہ ملے۔ وہ کسی مدرسے یا کالج کا رخ نہیں کرتے۔ پرندے اڑتے ہیں تو ان کو بھی بس یہی فکر ہوتا ہے کہ دانا دنکا وہ چگ لیں، اپنے دن کی خوراک حاصل کرلیں اور شام کو اپنے گھونسلے کی طرف نکلتے ہیں جہاں اپنی رات بسر کرسکیں۔ اگر انسان تمہارا حال بھی یہی ہو کہ دن گذرے اپنے پیٹ پوجا میں اور رات کو آپ کو ٹھکانا چاہیے جہاں ہم اپنی رات بسر کرسکیں۔ پہننے کے لئے کپڑے چاہییں، کیونکہ پرندوں اور درندوں کو تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی قدرت سے لباس دے دیا ہے۔ تو پھر یقینا اپنے آپ کو حیوان سمجھنا ہوگا۔ انسانیت کی معراج تو بہت ہی اعلیٰ اور افضل ہے۔

اور اللہ تعالیٰ نے انسان کو بنایا بھی ہے بہت اعلیٰ اور افضل۔ بہت ہی حسین بنایا ہے۔ جیسا کہ حدیث مبارک میں آیا ہے کہ انسان کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی صورت کے مطابق تخلیق فرمایا ہے۔ کتنا بڑا اعزاز ہے، کتنا بڑا اکرام، کتنا بڑا شان، کتنا بڑا شرف۔ لیکن انسان کو اس طرف توجہ ہی نہیں ہے۔ اورپھر مزید اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تمہاری شکل کو میں نے حسین بنایا ہے، تمہاری آنکھوں کو میں نے حسین بنایا ہے، تمہارے ہاتھوں کو میں نے حسین بنایا ہے، تمہارے ہونٹوں کو میں نے حسین بنایا ہے، جسم کے ایک ایک حصے کو میں نے ٹھیک ٹھاک بنایا ہے اور پھر خدا تعالیٰ اس سے آگے بہت سی اور بھی بلندیوں سے نوازنا چاہتا ہے۔ اس سے آگے اور بھی اعلیٰ مقام عطا فرمانا چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے تمہیں خیر سے بھی واقف کردیا، تجھے شر سے بھی واقف کردیا ہے، اور پھر میں نے تجھے اختیار بھی دے دیا ہے جس راستے کو تو چاہے اختیار کر۔ لیکن ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ

گندم ز گندم بر آید جو ز جو
از مکافات عمل غافل مشو

اے انسان! تجھے جاننا چاہیے، اگر تو گندم کا دانا زمین میں ڈالے گا تو گندم ہی کاٹے گا۔ اگر جو کا دانا ڈالے گا تو جو ہی کاٹے گا۔ یہ کبھی بھی نہ سوچنا کہ تم ڈالو جو کا دانا اور کاٹو گندم کا دانا۔ یہ نہیں ہوسکتا۔ اس طرح زندگی بسر کرو شر میں، زندگی بسر کرو بدی میں، زندگی بسر کرو نفس کی غلامی میں، خواہشات کے پیچھے، اور پھر امید لگائے بیٹھے ہو کہ مجھے جنت بھی ملے۔ اور پھر امید بھی لگائے بیٹھے ہو کہ اللہ تعالیٰ مجھے اعزاز بھی فرمائے گا۔ میں ولی بن جاؤں گا۔ میں اللہ کا مکرم بھی بن جاؤں گا۔

از مکافات عمل غافل مشو

اس مکافات عمل سے تجھے غافل نہیں ہونا چاہیے۔ جیسا تو کرے گا ویسا ہی تو کاٹے گا۔ تجھے سب کچھ بتادیا ہے، تجھے عقل سلیم عطا فرمایا، سمجھ سے نوازا، تجھے علم سے نوازا، یہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ نے عطا فرمادیں ہیں۔ اور تجھ پر گراں ذمیداری بھی ڈال دی ہے کہ تو میرا نائب اور خلیفہ ہے۔ ایسے ویسے تو مت سمجھ کہ میں اپنی مرضی سے چلوں گا، اپنی مرضی سے کھاؤں گا اور اپنی مرضی سے رہوں گا۔ یہ تجھے نہیں سوچنا چاہیے، بلکہ تجھے یہ علم ہونا چاہیے کہ تو انسان اللہ تبارک و تعالیٰ کا نائب اور خلیفہ ہے

”وَ نَفْسٍ وَّ مَا سَوّٰھَا“، قسم ہے اس نفس کی اور جس نے اس کو ٹھیک بنایا، درست طریقے سے بنایا۔

”فَاَلْھَمَھَا فُجُوْرَھَا وَ تَقْوٰھَا“، پس الہام کردیا بدی کے بارے میں بھی اور اچھائی کے بارے میں بھی۔ یہ باتیں اس کو بتادیں۔ اور پھر

”قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَا“، اے انسان! تو یہ بدی بھی تجھے معلوم ہوگئی اور تجھے خیر بھی معلوم ہوگیا لیکن کامیاب تب ہوگا جب اپنے اندر کو پاک کرے گا۔

اور یہ بات تجھے معلوم ہونی چاہیے کیونکہ تو کامیاب ہونا چاہتا ہے، جیتنا چاہتا ہے۔ انسان کے اندر جیت کا بڑا شوق ہوتا ہے، ولولہ ہوتا ہے۔ جس میدان میں وہ قدم رکھتا ہے چاہتا ہے کہ میں جیت جاؤں۔ کوئی کاروبار میں ہے وہ کہتا ہے کہ میں سب سے آگے آگے رہوں، سب سے بازی لے جاؤں، سب سے زیادہ میں دولت سمیٹ لوں، سب سے زیادہ منافع کمالوں۔ اگر وہ سیاست کے میدان میں ہے، وہ اتنا ہی زور لگاتا ہے کہ سب سے جو بڑی اعلیٰ کرسی ہے اس پر میں فائز ہوجاؤں۔ اگر کسی کی ملازمت ہے، کسی محکمے میں ہے تو اس کی نظر ہوتی ہے کہ اور آگے بڑھتا چلا جاؤں، اور آگے بڑھتا چلا جاؤں۔ صرف آگے نہ بڑھتا چلا جاؤں بلکہ جو میرے اوپر ہیں، انسان کی یہ فطرت بن چکی ہے کہ جو میرے اوپر ہیں ان کی ٹانگ پکڑ کر ان کو گراتا بھی چلا جاؤں، تاکہ وہ سب نیچے چلے جائیں میں اوپر چلا جاؤں۔ یہ انسان کا حرص ہوتا ہے جو اس کو انتہائی پستیوں میں گرادیتا ہے۔ جس کسی کو اللہ تعالیٰ نے تھوڑا نوازا ہے اس کے خلاف دل میں حسرت پیدا ہوگئی، یہ اس کو کیوں ملا؟

کہتے ہیں کہ سندھ کے ایک مشہور بزرگ کا واقعہ ہے اور اس میں بڑا سبق ہے۔ وہ واقعہ وتایو فقیر کے بارے میں ہے۔ جب عید کا چاند نظر آیا تو سب لوگ خوشیاں منارہے تھے۔ وتایو فقیر درویش وہ بھی خوش ہورہا تھا۔ جب سب لوگ دعا مانگ رہے تھے تو وتایو فقیر بھی دعا مانگ رہا تھا۔

درحقیقت ہم دعا زبان سے کچھ مانگتے ہیں، مگر دل میں ہماری خواہشات کچھ اور ہوتی ہیں۔ زبان تو کہتی ہے ”اے اللہ مجھے نیک بنادے، یا اللہ مجھے متقی بنادے، یا اللہ مجھے نمازی بنادے“، لیکن دل کا آواز اس میں شامل نہیں ہوتا۔ اسی لئے تو آواز میں اثر پیدا نہیں ہوتا، دعا کو قبولیت حاصل نہیں ہوتی۔ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ تمہارے زبان کے الفاظوں کو نہیں دیکھ رہا ہوتا، وہ تمہارے دل کو دیکھتا ہے۔ ابھی تک بڑی دیر ہے زبان کے آواز کے ساتھ دل کے آواز کے ملنے میں، بڑی دیر ہے۔ جب تک دل کا آواز نہیں ملے گا اس وقت قبولیت کیسے ملے گی۔ حدیث شریف میں آتا ہے۔

ان اللہ لا ینظر الیٰ صورکم واموالکم ولٰکن ینظر الیٰ قلوبکم ونیاتکم۔

اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں کو نہیں دیکھتا، اللہ تبارک و تعالیٰ تمہارے مال و ملکیت کو نہیں دیکھتا، ان اعمال کے حجم کو اور ان کی طوالت کو، ان کی وسعت کو نہیں دیکھتا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ تمہاری نیتوں کو دیکھتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے۔ دعا ہم زبان سے کچھ مانگتے رہتے ہیں لیکن دل کی آواز اس میں شامل نہیں ہوتی، دل ہمارا وہاں موجود ہوتا ہی نہیں۔

جس طرح حضرت خواجہ بہاؤالدین نقشبند بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا میں مکہ میں موجود تھا اور طوافِ بیت اللہ کر رہا تھا۔ ایک شخص کو میں نے دیکھا، وہ بھی طواف کرتے ہوئے، آگے بڑھتے ہوئے۔ اس نے غلاف کعبہ کو ہاتھوں میں لیا اور کہنے لگا یارب یارب یارب۔ فرمایا جب ہم نے اپنی نظر باطن سے اس کے قلب کو دیکھا، اس کے دل کو دیکھا تو بڑا افسوس ہوا کہ اس کا دل وہاں موجود ہی نہیں تھا۔ اس کا دل پیچھے مال مویشی میں، گھر میں، کاروبار میں پھنسا ہوا تھا۔ آپ فرماتے ہیں کہ میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ یا رب العالمین! کیسا عجب اسرار ہے کہ کوئی تیرے گھر کے اتنے قریب پہنچ کر بھی زیادہ دور ہے، بہت زیادہ دور ہے۔ اور پھر فرماتے ہیں یہ حسرت ہمارے دل میں تھی۔ چلتے چلتے ہم منیٰ کے بازاروں میں جاکر پہنچے۔ ایک نوجوان کو دیکھا، وہ خرید و فروخت میں مشغول ہے۔ مال خرید رہا ہے اور پیسے دے رہا ہے۔ کاروبار کر رہا ہے۔ حساب لکھ رہا ہے۔ پچاس ہزار درہم یا چالیس ہزار درہم کا اس نے وہاں ایک جگہ پر سودا کیا۔ فرمایا جب ہم نے اس کے دل کو دیکھا تو بڑی حیرت ہوئی، اتنا بڑا کاروبار کرتے ہوئے وہ بھی منیٰ کے بازار میں، لوگ تو وہاں پر ارکان حج ادا کررہے ہوتے ہیں اور یہ کاروبار کررہا تھا۔ لیکن جب ہم نے اس کے دل کو دیکھا تو ہم حیران ہوگئے کہ اس کا دل ایک لمحے کے لئے بھی اپنے رب کے ذکر سے غافل نہیں ہوا۔ اس کی یاد میں شاغل تھا۔ یہ بلندی ہے، یہ وہ اعلیٰ مقام ہے جو انسان کو جب عطا ہوجاتا ہے تو انسان حقیقی امیر بن جاتا ہے، حقیقی غنی بن جاتا ہے۔

شاید آپ سمجھتے ہوں جس کے پاس دولت کے انبار ہوں، جس کے پاس بے شمار خزانے ہوں، جس کے پاس بہت ساری گاڑیاں ہوں، جس کا عالیشان بنگلہ ہو، جس کا عمدہ لباس ہو وہ امیر ہوتا ہے۔ نہیں ہرگز نہیں۔ اس طرح امیری نہیں ملتی۔ آپ اس کے ساتھ رہ کر دیکھیں، آپ اس کی باتیں سن کر دیکھیں، اس کے حالات کو معلوم کرکے دیکھیں۔ جب اس کی صحیح صورت حال تمہارے سامنے آئے گی تو تمہیں حیرت ہوگی کہ میں جس کو بڑا امیر سمجھتا تھا اس کی اپنی حالت کیا ہے۔ کیونکہ انسان کا بلند ترین مقام تو اخلاق سے بنتا ہے اور پھر اس کے تعلق مع اللہ سے بنتا ہے۔ دنیا کی فراوانی سے تو نہیں بنتا۔ جتنے بھی مذاہب دنیا میں پائے جاتے ہیں ان کا بنیادی سبق کیا تھا؟ وہ کیوں دنیا میں آئے؟ کیوں ان کی ترویج ہوئی؟ کیوں ان کی ترقی ہوئی؟ ان کا ایک واحد مقصد تھا۔ وہی مقصد مذہب اسلام کا ہے کہ انسان کے اخلاق کو بلند تر کیا جائے۔ یہودیوں کے مذہب کو تو پڑھکر دیکھو، عیسائیوں کے مذہب کو تو پڑھ کر دیکھو یا دیگر مذاہب جتنے بھی ہیں۔ بنیادی نقطہ یہی تھا کہ انسان کے اخلاق کو بہترین بنایا جائے۔ یہی وہ تعلیم تھی، یہی وہ تربیت تھی جو آقائے نامدار آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم مکے میں بھی دیتے تھے، طائف میں دیتے تھے اور مدینے میں بھی دیتے تھے۔ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ جو کہ مکے سے دور رہا کرتے تھے، جب انہوں نے آقا کا نام سنا تو اپنے بھائی کو بھیجا ”جاؤ صورتحال کا جائزہ لو، نبوت کا کوئی دعویدار پیدا ہوا ہے اور بڑا شور شرابہ اٹھا ہے اور لوگ اس کی موافقت میں ہیں، بہت سارے اس کے مخالفت میں ہیں، جاؤ صحیح صورت حال معلوم کرکے مجھے بتاؤ پھر ہم فیصلہ کریں گے کہ کیا کرنا چاہیے“۔جب اس کابھائی گیا تو کتنے ہی دن وہاں پہ رہا۔ صحابہ کو دیکھتا رہا۔ آقائے نامدار آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں بیٹھتا رہا۔ ان کی تعلیمات کو سنتا رہا۔ ان کے کردار اور عمل کا جائزہ لیتا رہا۔ جب واپس اپنے بھائی کے پاس آیا تو اس نے دو لفظوں میں ساری باتیں بتادیں۔ لمبی چوڑی تقریر نہیں کی، جس طرح ہماری عادت بن چکی ہے کہ بہت لمبی بات کرتے ہیں۔ لیکن آقائے نامدار آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کا کلام جامع اور مختصر ہوا کرتا تھا جس میں سب مفہوم آجاتے تھے۔ تو حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کا بھائی واپس آیا تھا، اس نے بات ہی مختصر کی ”بھائی میں نے اس کو دیکھا وہ اخلاق کی تعلیم دیتا ہے، وہ اخلاق کو بہتر بنانے کی تعلیم دیتا ہے“۔ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو ان دو باتوں پر اتنا تو اطمینان ہوا کہ فورا وہاں سے روانہ ہوگئے۔

تو میں عرض کر رہا تھا کہ جمیع مذاہب، جتنے بھی آئے وہ اسی لئے تو آئے ہیں کہ انسان کے اخلاق و کردار کو بہتر بنائیں۔ بلکہ آقائے نامدار آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے احادیث مبارکہ میں جو اپنی بعثت کا مقصد بیان فرمایا ہے وہ بھی یہی ہے۔ موطا امام مالک کی روایت ہے کہ آقائے نامدار آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

بعثت لاتمم مکارم الاخلاق، او کما قال النبی صلّی اللہ علیہ وسلم۔

کہ میں آیا ہی اس لئے ہوں کہ اخلاق انسانی کو اعلیٰ معیار پر پہنچادوں۔ اخلاق کو بہت بلند تر کردوں، بہتر کردوں۔ میری آمد ہی اسی لئے ہے۔ صحابہ بھی اس بات کو سمجھ چکے تھے۔ کیونکہ وہ آقائے نامدار آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہا کرتے تھے، ان کی تعلیمات کو سنتے تھے۔ وہ بھی جان چکے تھے کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کا محور کیا ہے، مقصد کیا ہے۔ ہماری طرح نہیں کہ یہاں بیٹھ کر اٹھیں گے اور کسی سے پوچھیں گے کہ بات کیا ہوئی تو جواب میں کہا جائے گا کہ تقریریں بڑی اچھی اچھی کی گئیں۔ بھئی وہاں پر تم نے سنا کیا؟ مگر شاید ہی کوئی بیان کرسکے کہ میں نے کیا سنا۔

وہ کہتے ہیں کہ ایک پہاڑ کا بروہی تھا، وہ آیا تھا مدرسے میں تعلیم حاصل کرنے۔ سردیاں جب ہوتی ہیں تو وہ پہاڑی بیچارے اتر کر سندھ میں چلے آتے ہیں۔ کیونکہ وہاں برف باری ہوتی ہے، ان کے مال مویشی کے لئے وہاں گھاس نہیں ہوتا تو وہ سندھ میں اتر آتے ہیں۔ ایسے ہی ایک بروہی صاحب آگئے۔ چند مہینوں کے لئے اس نے مدرسے میں داخلہ لے لیا، وہ بیچارہ ان پڑھ تھا، اس نے کبھی مدرسہ کا منہ نہیں دیکھا تھا۔ حضرت شیخ سعدی کی کتاب ہے کریما، جس میں بڑی اعلیٰ نصیحت، قناعت کا بیان ہے۔ صبر شکر کا بیان ہے۔ تصوف کا بیان ہے۔ گویا کہ مغز انہوں نے بیان کردیا ہے۔ فارسی میں وہ کتاب ہے۔ وہ بروہی پڑھتا رہا پڑھتا رہا۔ دو تین مہینوں میں بڑے زور دے کر اس نے کتاب مکمل کی۔ جب وہ جانے لگا تو استاد نے پوچھا کریما تونے سمجھ لی ہوگی؟ بالکل سمجھ گیا ہوں سائیں، لیکن ایک بات میری سمجھ میں نہیں آئی؟ استاد نے پوچھا وہ کیا بات تجھے سمجھ میں نہیں آئی؟ سائیں یہ بات ابھی تک سمجھ میں نہیں آئی کہ کریما مذکر ہے یا مؤنث ؟ تو ہمارا حال بھی یہ ہوتا ہے کہ جب تقریریں سن کر اٹھتے ہیں تو وہ باتیں ہمارے دماغ سے غائب ہوجاتی ہیں۔ اتنی محنت ہوئی، اتنی مشقت ہوئی، اتنی تقریریں ہوئیں۔ بھئی جب تک ان باتوں کو دل میں نہیں بساؤ گے، جب تک ان پر غور و فکر نہیں کروگے تو فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔

تو جو پہلی بات آپ کو عرض کی گئی وہ آپ کے ذہن میں یقینا ہوگی اور آپ نے دل سے متوجہ ہوکر یہ باتیں سننے کی کوشش کی ہوگی۔ تو آقائے نامدار آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہنے والے صحابہ بھی آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو سمجھ چکے تھے۔ جب پہلی ہجرت ہوئی تھی حبش کی طرف اور ایک بہت بڑا قافلہ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کا کفار کے مظالم سے، ان کی تکالیف سے پناہ لینے کے لئے حبش کی طرف چلا گیا تھا اور تبلیغ کے فرض سے پہنچا تھا۔ تو حبش کے بادشاہ نجاشی نے جب ان کا استقبال کیا اور ان سے آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے متعلق پوچھا تو حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ جو آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کے چچازاد بھائی ہیں۔ ان سے پوچھا کہ تم بتاؤ ان کی تعلیم کیا ہے؟ انہوں نے کہا اے بادشاہ! ہمارا پہلے یہ حال تھا کہ بتوں کو پوجتے تھے، مردار کھاتے تھے، چوری کیا کرتے تھے، زنا کرنا ہماری عادت تھی، قتل کرنا ہمارا شیوہ تھا، پڑوسیوں کے ساتھ بدسلوکی کرتے تھے، ماں باپ کی بے ادبی کرتے تھے اور یہ سب برائیاں ہمارے اندر موجود تھیں۔ جب آقائے نامدار آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے تو انہوں نے ہمیں حکم دیا کہ تم قتل نہ کرو، زنا نہ کرو، سود نہ کھاؤ، شراب مت پیؤ۔ انہوں نے ہمیں حکم دیا کہ تم پڑوسیوں کو مت ستاؤ بلکہ ان کے تمہارے اوپر حقوق ہیں۔ ان کے حقوق کو ادا کرو۔ اپنے ماں باپ کے حقوق کو ادا کرو۔ جب یہ باتیں نجاشی بادشاہ کے سامنے بتائیں گئیں تو نجاشی بادشاہ بالکل مطمئن ہوگیا۔ اس نے کہا برحق یہ باتیں پیغمبر کی تعلیم ہوسکتی ہے۔

تو میرے دوستو! وہ اخلاق جو بنیادی ایک نقطہ ہے مذہب کا، اور اسی کی وجہ سے انسان بلندیوں تک پہنچ سکتا ہے اور وہ اخلاق آج ہمارے اندر مفقود ہوچکا ہے۔

تو میں عرض کررہا تھا کہ دعا کچھ کرتے ہیں دل میں کچھ اور ہوتا ہے۔ لوگ خوش ہورہے تھے تو وہ ایک دوسرے کو مبارک باد دے رہے تھے۔ بھئی آج نماز پڑھیں گے، آج مقبولیت کا دن ہے، اس لئے وہ دعائیں کررہے تھے۔ لیکن جو لوگوں کے دلوں میں تھا وہ وتایو فقیر برملا سب کے سامنے بیان کر رہا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا کہ تم پتا نہیں کیا دعا کررہے ہو میری بھی ایک دعا ہے۔ لوگوں نے پوچھا کیا دعا ہے؟ اس نے کہا میری تو دعا ہے کہ چاند تو نظر آگیا ہے ماشاء اللہ۔ آج رات اللہ کرے کہ سب لوگ، جتنے بھی ہیں، وہ سب سویاں پکائیں۔ جب سب گھروں میں سویوں کی دیگچیاں پک جائیں، تیار ہوجائیں تو اللہ کرے سب لوگ مر جائیں۔ پھر وتایو فقیر ہو اور اس کی ماں ہو۔ ہم دونوں وہاں سے اٹھا اٹھا کر ساری دیگچیاں اپنے گھر میں جمع کرلیں۔ جب سب سویاں گھر میں آجائیں گی، پھر وتایو فقیر کی دعا ہے کہ اللہ کرے وتایو فقیر کی ماں بھی مرجائے۔ پھر وتایو فقیر ہو اور سویوں کی دیگچیاں ہوں، اور کوئی نہ ہو۔

تو دوستو! انسان جب دنیا کی محبت میں پھنس جاتا ہے، جب دنیا کے حرص میں پھنس جاتا ہے، یقینا اس کا حال وتایو فقیر نے بیان کردیا کہ جو دنیا میں پھنستا ہے اس کا یہی حال ہوتا ہے کہ اس کا کبھی بھی پیٹ نہیں بھرتا، اور بھی زیادہ چاہتا ہے اور بھی زیادہ۔ جس طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے احکام کی پیروی نہ کرنے والے، اکڑ کر چلنے والے، تکبر کرنے والے، نبیوں سے مقابلہ کرنے والے، ان کے فرمان کو ٹھکرانے والوں کے بارے میں فرمایا ہے کہ جب وہ جہنم میں پھینکے جائیں گے، وہ کوئی دس نہیں ہونگے یا دس بیس لاکھ نہیں ہونگے یا دس کروڑ نہیں ہونگے۔ وہ لاتعداد، کثیر تعداد میں، اتنے سارے لوگوں کو جب جہنم میں پھینکا جائیگا تو لوگ سمجھیں گے کہ اب تو جہنم میں گنجائش ہی نہیں ہوگی۔ اتنے سارے لوگ گئے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم پوچھیں گے اے جہنم کیا تو بھر گیا ہے؟ وہ جواب دے گا ”یا رب العالمین! مجھے اور بھی چاہییں“۔

تو وہ جہنم کی طرح اس دنیا دار کا پیٹ بن جاتا ہے۔ وہ جہنم کی طرح کبھی بھی بھرتا نہیں۔ اس کو اور بھی چاہیے اس کو اور بھی چاہیے۔ دولت چاہیے، ہر طرح کی چیزیں چاہییں۔ پھر بھی یہ چیختا رہتا ہے، چیختا رہتا ہے۔ جیسے جیسے اس کی عمر بڑھتی گئی، اس کی حالت خستہ ہوتی گئی، پھر یہ حال ہوتا ہے کہ جب مرنے کا وقت آتا ہے تو بھی اس کو دنیا کی یاد ہوتی ہے۔

تو ایسی حالت میں جب انسان بن جائے تو کل اللہ تعالیٰ کے سامنے کیا منہ اٹھائے گا۔ کس طرح اس کی پیشی ہوگی۔ کیا یہ دھن اور دولت اس کو آخرت کے عذاب سے بچا سکے گا؟ قبر کے عذاب سے بچا سکے گا؟ جب کسی کو جہنم کی طرف لے جایا جائے گا اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں وہ ناکام و نامراد بن جائے گا، اس وقت کوئی آکر کہے کہ یا رب العالمین یہ تو ہمارے علائقے کا سیٹھ تھا، یا رب العالمین یہ تو ہمارے علائقے کا کونسلر تھا، یا رب العالمین یہ تو منسٹر تھا، یا رب العالمین یہ تو چیف منسٹر تھا، یہ پرائم منسٹر تھا، یہ صدر تھا۔ کیا اس طرح کی گواہی دینے سے اس کو معافی مل جائے گی کہ بھئی منسٹر تھا اس کو رعایت کرو۔ جس طرح کہ آج ہمارا حال ہوتا ہے کہ منسٹر صاحب راستے پر نکلیں، سڑکیں بند ہوجاتی ہیں، ان کو بہت بڑے اعلیٰ انداز میں رخصت کیا جاتا ہے۔ قیامت کے دن یہ نہیں ہوسکتا۔

اس طرح اس دن مہربانیاں خاص ہونگی متقی لوگوں کے ساتھ۔ جو خدا کے دوست ہیں، جنہوں نے خدا کا ذکر کیا، جنہوں نے اللہ کو راضی کیا۔ وہ چاہے غریب ہوں، مفلس ہوں، مسکین ہوں۔ جن کو دنیا میں کوئی نہیں جانتا۔ جن کے نام تک سے کوئی واقف نہیں ہے۔ لیکن وہ بڑے اعزاز اور بڑے احترام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں لائے جائیں گے۔ وہ اعزاز و اکرام ایسا ہوگا کہ دنیا کے جو V.I.P لوگ ہیں، ان کے اعزاز و کرام ان کے سامنے کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتے۔ فرشتے ان کو مبارک باد دیں گے۔ جب وہ خدا کی بارگاہ سے انعامات کی جھولیاں بھر بھر کر لوٹیں گے، ان کے چہرے پھول کی طرح نکھر چکے ہونگے، ان کے چہروں پر خوشی عیاں ہوگی اور وہ جب واپس اپنے اہل کی طرف آئیں گے تو وہ سب ان کو مبارکیں دیں گے کہ بھئی تم کامیاب ہوگئے۔ ایسی کامیابی جس کے بعد ناکامی کا نشان ہی نہیں۔ جنت میں وہ اللہ تعالیٰ کے دیدار سے مشرف ہونگے، اللہ تعالیٰ کی رحمتوں سے مشرف ہونگے۔

اور جن لوگوں نے دنیا میں فسق و فجور کی زندگی بسر کی، نفس پرستی کی، اللہ کی حدود کو توڑا، نماز کی پابندی نہیں کی، زکوات ادا نہیں کی، رمضان مبارک کے روزے نہیں رکھے، اور غریبوں کا حق جو ان کی ملکیت میں تھا اس کو ادا نہیں کیا۔ جو ان کی ضروریات سے زائد مال تھا اس کو بھی جمع کرکے رکھا، اس کو بھی اپنے اکاؤنٹ میں بند کرکے رکھا، اس کو غریبوں میں خرچ نہیں کیا، ضرورتمندوں کو نہیں دیا، ماں باپ پر خرچ نہیں کیا۔ خود اچھے کپڑے پہنے، ماں باپ کو اچھے کپڑے لے کر نہیں دیئے، ان کے علاج معالجے کی طرف توجہ نہیں دی۔ یا اپنی بیوی اور بچوں کی ضروریات کا خیال نہیں رکھا۔ ایسے لوگ یقینا آخرت میں سخت شرمسار ہونگے۔ افسوس اور ندامت کا شکار ہونگے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ظالم لوگ اس افسوس اور ندامت کی وجہ سے اپنی انگلیوں کو چبانا شروع کریدیں گے کہ میں نے یہ کیا کیا۔ جتنی دولت اکٹھی کی تھی وہ آج ہمیں کام نہیں آئی۔ وہ تو کوئی اور لے گیا۔ یہ ہم نے کیا کیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ انگلیوں کو چباتے ہوئے ہاتھ کو چبائیں گے، کلائی کو چبائیں گے، اپنی کہنی تک پورے ہاتھ کو ختم کردیں گے، ان کو احساس تک نہیں ہوگا کہ ہم نے یہ کیا کیا۔

تو میرے دوستو! پھر جب ان کی اللہ کے سامنے پیشی ہوگی تو پہلے ہی ان کو اپنی حالت کا علم ہوگا، وہ پریشان ہونگے۔ پھر جب نامہ اعمال وہاں ان کو سب لوگوں کے سامنے کھول کر دیئے جائیں گے، اس نے یہ بھی کیا، اس نے یہ بھی کیا۔ سب باتیں بیان کی جائیں گی۔ شرم کی وجہ سے ان کے سر جھک جائیں گے۔ اور پھر نامہ اعمال ان کے پیٹھ کے پیچھے بائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے۔ پھر جب واپس لوٹیں گے اپنے دوستوں کی طرف، اپنے اہل کی طرف، سخت شرمندہ ہونگے۔ ان کو معلوم ہوگا کہ ہمارا ٹھکانہ اب جہنم ہے۔

تو اس لئے میرے دوستو! اس دن شرمندگی سے بچنا چاہتے ہو تو آج نفس پرستی کو چھوڑدو۔ اپنے نفس کو اعلیٰ اخلاق سے مزین کرو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم کو قسم ہے اس نفس کی اور اس کی جس نے اس کو ٹھیک بنایا اور پھر اس کو بدی اور نیکی کی تعلیم بھی دے دی اور پھر کامیاب وہ ہوگا جس نے، ”قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکَّاھَا“، جس نے اپنے نفس کو پاک بنایا۔

قرآن مجید میں اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے میرے محبوب کی دنیا میں آمد اسی لئے ہوئی تھی کہ آپ اپنی نگاہ کرم سے، محبت سے، اخلاق سے، پیار سے، نصیحت سے، واعظ سے ان کے قلوب اور نفوس کا تزکیہ فرمائیں۔ تزکیہ ایک عربی کا لفظ ہے۔ جب کوئی چیز خراب ہوجائے، گندی ہوجائے، میلی ہوجائے اور پھر اس کو اچھی طرح جھاڑ کر صاف کردیا جائے یا اس کو دھولیا جائے تاکہ اس کی جتنی بھی گندگی، غلاظت تھی وہ دور ہوجائے، وہ اپنی اصلی حالت میں آجائے تو اسکو تزکیہ کہتے ہیں۔ کیونکہ انسان اللہ تبارک و تعالیٰ کی تخلیق کا ایک عمدہ نمونہ ہے۔ جب اس کی تخلیق ہوئی تھی تو اللہ تعالیٰ نے اس کو معصوم صورت اور معصوم انداز میں تخلیق کیا تھا، پھر اس نے غلط لوگوں کی صحبت اختیار کی اور غلط انداز میں اس کے حالات ہوگئے۔ تو آقائے نامدار آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں پہنچنے کے بعد پھر آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نگاہ کرم سے ان کی ساری غلاظتیں، ان کے نفس کی خرابیاں اور ان کی سب خباثتیں دور کردیں۔ جو قاتل تھے، جو زانی تھے، جو شرابی تھے، جو لڑنے والے تھے، جو لوگوں کے اوپر ظلم کرنے والے تھے۔ وہ لوگوں کی عزتوں کے محافظ بن گئے اور لوگوں کے رہبر و رہنما بن گئے، بلکہ پوری دنیا کے رہبر و رہنما بن گئے اور آج تک زمانہ ان کی نظیر نہیں لاسکتا۔ تو آقائے نامدار آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے یہ کام کیا اور یہ کام آپ کے صحابہ نے آپ کے حکم سے جاری رکھا اور یہ تاقیامت کام جاری رہے گا، چلتا رہے گا۔ تو ہمیں بھی ضرورت ہے اس تزکیہ کی۔ وہ نور، وہ فیض جو آقائے نامدار آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم تقسیم کیا کرتے تھے، جو اولیاء اللہ کے سینے میں سینہ بہ سینہ منتقل ہوا ہے۔ ان کی صحبت میں جانے سے، ان کی محبت دل میں رکھنے سے، ان کی باتوں کو سن کر ان پر عمل کرنے سے انسان کے نفوس کا تزکیہ ہوتا ہے۔ اور یہ تم پر لازم ہے۔ اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ ورنہ تو کل قیامت کے دن ہماری اولاد بھی ہم پر فریاد کرے گی یا رب العالمین ہمیں تو عذاب دیا جارہا ہے لیکن ہمارے ماں باپ کو دوگنا عذاب دیجیے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو ہمیں کبھی نیک صحبت میں لے کر نہیں گئے۔ جنہوں نے کبھی ہمیں نیک بات نہیں بتائی، جنہوں نے کبھی ہمیں خدا کے خوف کے بارے میں نہیں بتایا، تقویٰ کے بارے میں نہیں بتایا۔ یارب العالمین! ہم سے دوگنا عذاب ہمارے ماں باپ کو دیجیے۔

تو اس لئے میرے دوستو! اولیاء اللہ یعنی اللہ کے دوستوں کی صحبت میں جانا چاہیے۔ انشاء اللہ ایسی ہم نشینی اور صحبت سے انسان کے کردار اور عمل میں بہتری پیدا ہوتی ہے۔ اور انسان کی بلندی ہے ہی اسی چیز میں۔ جس طرح آقائے نامدار آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری آمد اس لئے ہوئی ہے کہ اخلاق کو اعلیٰ پیمانہ تک پہنچادوں۔ اور جب صحابہ کرام نے وہ صحبت اور معیت اختیار کی، ان کے کردار میں تبدیلی رونما ہوئی۔ امام غزالی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں وہ خود بھوکے رہ جاتے تھے، وہ خود پیاسے رہ جاتے تھے، خود تنگ حال ہوا کرتے تھے لیکن ان کے دل میں یہ احساس ہوتا تھا ہمارے بھائی کو تکلیف نہ پہنچے۔ جس طرح آقائے نامدار آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص پہنچا اور اس نے کہا یا رسول اللہ! میں بھوکا ہوں۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے تم ہمارے مہمان ہو۔ گھر کی طرف پیغام بھیجا اگر کوئی کھانے کی چیز ہو تو فورا بھیج دیجیے۔ گھر سے جواب آیا کہ گھر میں کوئی چیز نہیں، کھانے کا کوئی سامان موجود نہیں۔ آقائے نامدار آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا کوئی ہے جو ہمارے اس مہمان کی میزبانی کرے، یہ ہمارا مہمان ہے۔ ایک انصاری صحابی کھڑا ہوگیا۔ اس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم یہ شرف مجھے عطا فرمائیے۔ آپ نے فرمایا ٹھیک ہے اس کو لے جاؤ۔ جب لے کر گئے اپنے گھر میں اور اپنی بیوی کو بتایا، بیوی نے کہا بہت اچھا ہوا تم مہمان کو لے کر آئے، لیکن بات یہ ہے کہ کھانا فقط اتنا ہے کہ یا ہمارے بچے کھا سکتے ہیں یا ہم کھا سکتے ہیں۔ اگر بچے اور ہم مل کر کھائیں شاید پھر شکم سیری کسی کو بھی نہ ہو۔ اب بچے بھی جاگ رہے ہیں، وہ بھی بھوکے ہیں، اب کیا کریں۔ اس نے کہا کہ بچوں کو تھوڑا بہت دے کر ان کو کسی طرح سلادو، جو کھانا بچے گا وہ مہمان کو کھلادیں گے، ہم نہیں کھائیں گے۔ اس نیک بخت عورت نے اپنے شوہر کے فرمان کے مطابق تھوڑا بہت بچوں کو کھلایا، ان کو سلادیا۔ جب کھانے کا وقت ہوا تو مہمان کے سامنے کھانا رکھدیا گیا۔ مہمان نے کہا میں ایسے نہیں کھاؤں گا جب تک میزبان میرے ساتھ نہیں کھائیں گے۔ ان دونوں میاں بیوی نے مشورہ کیا ایسی کوئی حکمت اختیار کرنی چاہیے کہ آقا کا مہمان ہے، ان کی طرف سے آیا ہے، یہ شکم سیر ہوجائے۔ اگر ہم نے بھی کھانا کھایا تو پھر اس کی شکم سیری نہیں ہوگی۔ ہم بھوکے رہ جائیں کوئی بات نہیں۔ آپس میں انہوں نے مشورہ کیا کہ کھانا جب شروع کریں گے تو ہاتھ لگا کر جو شمع یا دیا ہے اس کو بجھا دیں گے، اندھیرا ہوجائے گا۔ ہم ایسے ہی ہاتھ آگے بڑھاتے رہیں گے، منہ تک لے جاتے رہیں گے اور منہ کو ایسے ہی چلاتے رہیں گے۔ وہ سمجھے گا یہ کھانا کھا رہے ہیں اور ہم کھائیں گے نہیں، ہمارا مہمان کھائے گا۔ یہ صحابہ کو اخلاق کس نے سکھائے۔ اسی طرح اولیاء اللہ اور درویشان خدا کا یہی طریقہ ہوتا ہے جس طرح کسی شاعر نے فرمایا ہے۔

نیم نانے گر خورد مرد خدا
بذل درویشاں کند نیم دگر

کہ اگر ایک روٹی بھی مل جائے اور وہ درویش، اللہ کا بندہ بھوکا بھی ہو تو زیادہ سے زیادہ آدھی روٹی کھائے گا اور آدھی اور کسی ضرورت مند کو کھلائے گا۔ اور ہم جیسے دنیا دار کو ملے تو وہ دیکھے گا کہ کوئی دیکھ تو نہیں رہا ہے۔ اور اگر کوئی دیکھ رہا ہے تو مجھے کوئی ایسا کونہ تلاش کرنا چاہیے کہ کوئی آ نہ سکے۔ وہ کہتے ہیں کہ کوئی بخیل تھا، وہ شہد کھارہا تھا۔ اتنے میں کوئی مہمان آگیا۔ تو جیسے بخیل کی اس پر نظر پڑی اس نے روٹی چھپادی۔ شہد کو روٹی کے ساتھ کھارہا تھا، روٹی کو اس نے چھپادیا، شہد کا پیالا اس نے ہاتھ میں لے لیا۔ اس نے کہا شہد تو ویسے وہ نہیں کھائے گا، روٹی تو میں نے ویسے ہی چھپادی۔ جب وہ آگیا اس نے ایسے ہی زبانی اس کو کہا ”شہد کھاؤ گے لیکن صرف شہد ہے روٹی نہیں ہے“۔ اس نے کہا ”کوئی بات نہیں“۔ اس نے اس سے پیالہ لیا اور صرف شہد کھانے لگا۔ یہ بیچارا جل ہی گیا۔ دیکھتا رہا، دیکھتا رہا شاید اس کو اب چھوڑدے، شاید اب چھوڑدے۔ بالآخراس نے مجبور ہوکر کہا اس کو۔ ”ایک بات سنی ہے“، اس نے کہا کہ ”کیا بات ہے؟“ اس نے کہا ”بات یہ ہے حکیم کہتے ہیں جو ایسے روکھی شہد کھائے گا اس کا دل جل جائے گا“ اس نے کہا ”ہاں دل جل جائے گا لیکن تیرا جلے گا میرا نہیں“۔ تو پھر ایسا ہی ہمارا حال ہوتا ہے۔ انسان کو کوئی چیز مل جاتی ہے تو وہ اس سے خود مستفید ہونا چاہتا ہے۔ کسی اور کو دے نہیں سکتا۔ بھلے زائد ہو، گھر میں گل سڑ رہی ہو لیکن کسی کو دے گا نہیں۔ یہ درویشوں کا کام نہیں ہے، یہ اولیاء اللہ کا کام نہیں ہوتا، یہ خدا کے دوستوں کا کام نہیں ہوتا۔ جب بھی ان کو ملتا ہے، دیکھتے ہیں کوئی اور بھی ہو، وہ کھائے پھر ہم کھائیں۔ ایسی وسعت آپ کے قلب میں ہونی چاہیے، ایسی محبت آپ کی دل میں ہونی چاہیے۔

تو میں عرض کررہا تھا کہ وہ کھانا تناول فرماتے رہے، ہاتھ ایسے ہی ہلاتے رہے، اس مہمان کو کچھ پتا نہیں چلا۔ صبح کو آقائے نامدار آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان میاں بیوی، ان دونوں صحابہ کے اس فعل کو بہت پسند فرمایا، بہت پسند کیا، اور ان کے شان میں آیت کریمہ نازل فرمائی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جبرائیل آیا  ”یا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم یہ جو تمہارے خدمتگار ہیں، یہ جو تمہارے غلام ہیں، یہ جو تمہارے صحابی ہیں، بڑے ہی دل والے ہیں، بڑی ہی محبت والے ہیں، بڑے ہی اخلاص والے ہیں، بڑے ہی ایثار والے ہیں۔

وَ یُؤثِرُوْنَ عَلیٰٓ اَنْفُسِھِمْ وَلَوْ کَانَ بِھِمْ خَصَاصَۃٌ۝

یہ اپنے نفس پر ایثار کرتے ہیں۔ اگرچہ خود بھوکے ہیں اور ضرورتمند ہیں، مگر خود نہیں کھاتے، کسی اور کو کھلاتے ہیں۔ تو یہ اخلاق اور کردار اس طرح پیدا ہوتا ہے کہ اولیاء اللہ کی صحبت میں رہنے سے آقا صلّی اللہ علیہ وسلم کا فیض ملتا ہے۔ تب انسان کے سینے میں وسعت اور کشادگی پیدا ہوتی ہے۔ آپ کو بھی یہ گذارش ہے کہ اس طرح سے اپنے دلوں میں لاطمع ہوکر، ایسی محبت رکھتے ہوئے، ایسا خلوص صحابہ والا رکھتے ہوئے آگے بڑھیں، جس طرح ہمارے مرشد و مربی کا مشن تھا، ان کا پیغام تھا، ان کی تقویٰ تھی۔ حاجی محمد علی بوزدار صاحب بیان کرتے ہیں، جس طرح آپ دوستوں نے سیرت ولی کامل کا بھی مطالعہ کیا ہوگا، پڑھا ہوگا۔ کسی دعوت میں ہمارے حضرت تشریف لے گئے۔ وہاں میزبانوں نے جب کھانا آپ کی خدمت میں پہنچایا تو وہ روٹی گھر میں بھول کر آیا، صرف سالن آپ کی خدمت میں پیش کیا۔ سالن آپ کے سامنے تھا لیکن زبان سے یہ نہیں کہا کہ روٹی بھی لے آؤ۔ آپ نے تھوڑا بہت جو سالن تھا اس میں سے لیا، پھر ڈھانپ کر رکھ دیا۔ خدمتگار لے گیا، وہ برتن مالکوں کے گھر پہنچ گئے، میزبانوں کے گھر میں پہنچ گئے۔ جب انہوں نے چیک کیا وہ سالن تھا، روٹی تو یہاں رہ گئی۔ بڑے شرمندہ ہوئے، خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے اب ہم دوبارہ لے آئیں۔ آپ نے فرمایا الحمداللہ آپ کی طرف سے ہم نے سیر ہوکر کھایا، مزید کوئی ہمیں ضرورت نہیں۔ آپ بھی اسی طرح لاطمع ہوکر دین کی اور انسانوں کی خدمت کریں۔ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ حضور پیر مٹھا کے زمانے میں تبلیغ کے لئے ہم نکلتے تھے، تو اس وجہ سے کہ مبادا کہیں بھوک لگے، اپنے ساتھ لال مرچ اور نمک رکھتے تھے اور روٹی تھوڑی بہت اپنے ساتھ ہوتی تھی۔ سالن لے جاتے تھے تو وہ خراب ہوجاتا تھا۔ تو جہاں کہیں پہنچتے تھے کسی سے سوال نہیں کرتے تھے۔ پانی میں سرخ مرچ اور نمک ڈال دیتے تھے۔ ہمارا شوربہ تیار ہوجاتا اور پھر ہم اس سے روٹی تناول کرتے اور اللہ کا شکر بجا لاتے۔ فرماتے کسی سے ہم بستر نہیں طلب کرتے۔ اگر وہ لاتے تو ٹھیک ہے اگر نہیں بھی لاتے تو ہمیں کچھ پرواہ نہیں ہوتی۔ اللہ کا فرش بچھا ہوا ہے۔ فرماتے تھے کہ سردیوں کا موسم ہوتا تھا تو چٹائی میں لپٹ کر سوجاتے۔ تو میرے عزیز دوستو! اسی طرح لاطمع ہوکر بندگان خدا نکلتے ہیں۔

ہمارے حضرت فرماتے تھے کہ صحابہ ایک علائقے میں پہنچے تبلیغ کے غرض سے۔ ان لوگوں کی زبان نہیں جانتے تھے لیکن ان کے دل میں اخلاص تھا، لاطمع تھے، تقویٰ تھی۔ جب ان کی طرف گئے ان سے کچھ جانور خریدے، ایک بکرا خریدا، اس کو لے آئے۔ امیر نے بکرا لانے والے سے پوچھا کہ کتنے میں خریدا؟ اس نے کہا دس درہم میں۔ امیر نے دیکھا بھئی اس بکرے کی قیمت دس درہم سے زیادہ ہوگی تم پانچ یا دس درہم مزید دے کر آؤ۔ وہ گیا ان کو دے کر آیا۔ وہ حیران ہوگیا۔ جب اس کو ذبح کردیا گیا، اس کا کافی گوشت تھا، اس میں کافی چربی تھی۔ امیر نے کہا اس کی قیمت اور بھی زیادہ ہونی چاہیے، ہم یہاں تبلیغ کرنے آئے ہیں، لوگوں کو لوٹنے نہیں آئے ہیں۔ تو اس نے مزید دس درہم اس شخص کو بھیجے۔ وہ بڑا حیران ہوا اور سارے گاؤں والوں کو بتایا کہ ایسے لوگ یہاں باہر ٹھہرے ہوئے ہیں جن کا کردار اور اخلاق اتنا اعلیٰ ہے۔ سب حیران رہ گئے۔ سب مل کر ان کے پاس آئے اور ان کو دیکھا اور بغیر کوئی لفظ سن کر وہ ان کے کردارِ عمل کو دیکھ کر دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔ ایسا اخلاق مبلغین کا ہونا چاہیے۔ لمبی تقریر سے وہ کام نہیں بنتا جو محبت اور پیار سے ہوتا ہے۔ تو مبلغین میں یہ خاصہ ضرور ہونا چاہیے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عمل عطافرمائے۔ آمین