فہرست
خطابات طاہریہ

رجوع الی اللہ

 

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم

اما بعد

فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

وَ الَّذیْنَ اٰمَنُوْا اَشَدُّ حُبًّـا لِلّٰہ۝

صدق اللہ العظیم۔

یقینا جس محفل کے قائم کرنے میں اللہ تعالیٰ کی رضا ہو، جس کو قائم کرنے والے بھی اہل ذکر ہوں، اس میں شامل ہونے والے بھی اہل ذکر ہوں، ایسی محفل میں شمولیت ایک بہت بڑی سعادت ہے۔ ہمارے مشائخ میں سے حضرت خواجہ عبیداللہ احرار رحمۃ اللہ علیہ کا وہ واقعہ آپ نے سنا ہوگا کہ احباب کی محفل تھی، یہ تذکرہ چھڑا کہ جمعہ کے دن میں ایک ایسی گھڑی ہوتی ہے کہ اس گھڑی میں جو بھی دعا کی جائے اللہ تبارک وتعالیٰ قبول فرما دیتا ہے۔ پھر احباب سے دریافت فرمانے لگے کہ آپ بتائیے اگر وہ گھڑی آپ کو میسر ہو تو کیا دعا فرمائیں گے؟ ہر ایک نے اپنی اپنی تمنا کا اظہار کیا، مختلف باتیں عرض کیں، کسی نے کچھ عرض کیا، کسی نے کچھ عرض کیا۔ مثال کے طور پر کسی نے حج کی تمنا کی ہوگی، کسی نے اور طرح کی باتیں بیان کی ہونگی، جنت کی تمنا کی ہوگی، لیکن جب سب احباب عرض کر گئے تو انہوں نے عرض کیا یا حضرتا آپ بھی بتائیے کہ آپ کیا دعا فرماتے اگر ایسی گھڑی آپ کو میسر ہوتی؟ آپ نے جواب دیا اور یہ وہ حضرت ہیں جو کہ حضرت ملا جامی رحمۃ اللہ علیہ جو ایک عاشق رسول اور بہت بڑے عالم گذرے ہیں ان کے پیر ہیں، ہمارے سلسلہ عالیہ کے پیر ہیں۔ وہ فرمانے لگے اے دوستو اگر وہ گھڑی ہمیں میسر ہوجائے تو ہم اور کوئی دعا نہیں کریں گے، صرف یہ ہی دعا کریں گے اے میرے رب العالمین ہمیں اپنے دوستوں کی صحبت عطا فرما۔

تو میرے دوستو عزیزو! یہ کتنی بڑی تمنائے عظیم ہے اور ہم نے معلوم نہیں یہ تمنا کی ہوگی یا نہ کی ہوگی، ہم نے ایسی دعا مانگی ہوگی یا نہ مانگی ہوگی، ہمارے دل میں ایسا جذبہ ہو یا نہ ہو۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی رضا ہے جسے عزت بخشے، جسے دولت بخشے اور جسے اپنی رحمت عطا فرمائے۔ اس سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ وہ بے پرواہ، بے نیاز اور غنی ہے۔ کتنی اس نے شفقت فرمائی ہم گنہگاروں پر کہ ہمیں ایسی محفل نصیب فرمائی۔

میرے دوستو عزیزو! آپ اتنی دور دراز سے تشریف لائے ہیں لیکن آپ کو جانے کی جلدی نہیں ہونی چاہیے کیونکہ ایسی محفلیں قسمت سے ملتی ہیں۔ ایسی مجلسیں ہمیشہ نہیں ملا کرتی ہیں۔ ہمارے مرشد مربی آنے والے دوستوں سے اتنی محبت فرماتے تھے، اتنی شفقت فرماتے تھے، اس قدر خوشی کا اظہار فرماتے تھے کہ اس عاجز کو اچھی طرح یاد ہے کہ دربار فقیر پور شریف میں ایک عرس کے موقع پر آپ نے فرمایا تھا اے دوستو آپ تو بھاگ رہے ہیں، جانے کی تمنا رکھتے ہیں مگر ہم تو کہتے ہیں ایک بہت بڑی زنجیر کی باڑھ بنائیں اس زنجیر کی باڑھ میں آپ کو بند کردیں کہ آپ یہاں بیٹھے رہیں اور گھروں کو نہ جاسکیں۔ یہ ان کی محبت تھی، یہ ان کا جذبہ تھا، یہ دین کا درد تھا، یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے پیغام رسانی کا شوق تھا، یہ میرے آقا ومولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ والہانہ عشق تھا کہ آپ کو ان کی امت کے ساتھ اس قدر محبت تھی۔ اس قدر تعلق تھا کہ وہ اس قدر ہم گنہگاروں کے لئے سوچا کرتے تھے۔ میرے عزیز دوستو! اس قدر مہرباں آج تو والد بھی اپنی اولاد پر نہیں ہوتا، اس قدر شفقت تو باپ کو اپنے بیٹے کے ساتھ نہیں ہوتی۔ اگر وہ بے فرمانی کرتا ہو تو اس کو اپنے گھر سے نکال دیتا ہے۔ لیکن یہ اولیاء اللہ، جو محبوبان خدا ہیں، جو محبوبان رسول صلّی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ان کی رحمت، ان کی برکت، ان کی شفت اس قدر وسیع ہے کہ کتنا ہی گنہگار کیوں نہ ہو، کتنا ہی سیاہ کار کیوں نہ ہو، اس قدر اس سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔ جس قدر جس کے زیادہ گناہ ہوتے ہیں، اس سے اتنی زیادہ شفقت فرماتے ہیں۔ یہاں پر ایسے ہزارہا لوگ موجود ہیں۔ ان میں سے ایک ایک سے پوچھیں آپ کو سیکڑوں باتیں بتائے گا کہ میرے مرشد مربی کس قدر مہربان ہوتے تھے، کس قدر ان کی شفقت وعنایت ہوتی تھی۔

تو میرے دوستو عزیزو! جو آیت کریمہ اس عاجز نے تلاوت کی اس میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے متوسلین کا تذکرہ فرمایا ہے، اپنے محبوبین کا تذکرہ فرمایا ہے، اپنے عاشقان کو یاد فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ”وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں وہ اللہ کے ساتھ محبت میں بہت زیادہ سخت ہیں“۔ جس طرح ہمیں دنیا کی محبت ہوتی ہے، اولاد کی محبت ہوتی ہے، جس طرح کفار ومشرکین کو اپنے بتوں سے محبت ہوتی ہے، وہ اصنام کی عبادت میں فنا ہوجاتے ہیں، مشغول ہوجاتے ہیں، تو ان کو کوئی اور چیز یاد نہیں رہتی۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو ایمان والے ہیں، جو اخلاص والے ہیں، جو محبت رکھتے ہیں، جو تعلق رکھتے ہیں، جو نسبت رکھتے ہیں، وہ اللہ کے ساتھ محبت میں اس سے بھی زیادہ سخت ہیں۔ اس محبت میں جان کو بھی قربان کردیتے ہیں، اس محبت میں اولاد کو بھی قربان کردیتے ہیں، اس محبت میں وطن کو بھی قربان کردیتے ہیں، اس محبت میں جو بھی ان کے پاس ہوتا ہے اس کو قربان کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ ان کی تو یہ ہی ایک تمنا ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو۔ اس صحابی کا واقعہ آپ نے سنا ہوگا کہ میرے آقا ومولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں شریک ہے، تلواریں چلا رہا ہے، تیر برسا رہا ہے۔ کفار مشرکین کی طرف سے بھی حملے ہور رہے ہیں، اس کو زخم پہنچ رہے ہیں، اس کا سارا جسم زخموں سے چور چور ہوجاتا ہے، حتیٰ کہ وہ گر جاتا ہے۔ اب وہ یہ سمجھنا شروع کردیتا ہے کہ میں شہادت کے مرتبے پر فائز ہونے والا ہوں۔ ایسے وقت میں کیا حال ہوتا ہے۔ جناب ڈاکٹر ظفر صاحب نے جو واقعہ ذکر فرمایا وہ کچھ نامکمل تھا، میں اس کو مکمل عرض کر دیتا ہوں۔ میرے مرشد مربی جب سول ہسپتال میں داخل تھے تو ان کے قریب ہی ایک اور مریض داخل تھا۔اس کے ساتھ اس کے ورثاء بھی رہے ہوئے تھے۔ اس کو سکرات کی حالت طاری ہوگئی بہت سخت اور شدت سے۔ پتہ نہیں کتنے گھنٹے یا کتنے دن گذر گئے۔ اس میں کمی نہیں آرہی تھی۔ ڈاکٹروں نے فتویٰ دے دیا بھئی اب اس کا موت قریب ہے، اس کے بچنے کی کوئی امید نہیں ہے۔ درد کی وجہ سے وہ بالکل گول مول ہوتا تھا، اس کے حلق سے اس طرح کی آوازیں نکلتی تھیں جس طرح جانور کو ذبح کیا جاتا ہے۔ سب اس کے قریب رہنے والے لوگ بھی آوازیں سن رہے تھے، میرے حضرت بھی سن رہے تھے۔ آپ کا وہاں پر تین یا دو مرتبہ آپریشن ہوا تھا۔ ایک آپریشن ہوا وہ ناکام ہوگیا۔ خون جاری ہے اور آپ کو یہ تکلیف ہے کہ آپ ہل جل نہیں سکتے تھے۔ بہت سارے احباب آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔ ڈاکٹروں نے منع کردیا ہے کہ آپ کو ہلنا جلنا بھی نہیں۔ اس مریض کے ورثاء آتے ہیں، عرض کرتے ہیں کہ اس کو تکلیف ہے۔ انہوں نے دیکھا کہ اللہ کے ولی آئے ہوئے ہیں۔ عرض کرتے ہیں کہ آپ وہاں تشریف لے چلیں اور اس کے لئے دعا کریں کہ اس کی موت آسان ہوجائے۔ ڈاکٹر مرحوم عبداللطیف صاحب اور بھی بہت سارے حضرات وہاں موجود تھے۔ سب نے عرض کیا کہ یا حضرتا آپ کا جانا مناسب نہیں ہے۔ ہمارے حضرت میرے آقا ومولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں انسان تو کیا بلکہ جانوروں پر بھی مہربان تھے۔ یہ اولیاء اللہ کا امتحان ہوتا ہے کیونکہ ان کو مخلوق خداوندی سے محبت ہوتی ہے۔ چاہے وہ اچھا ہو یا برا ہو ہر ایک سے محبت کرتے ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ یا حضرتا آپ تشریف نہ لے جائیے لیکن آپ نے فرمایا کہ نہیں نہیں ہمارے پڑوسی کو تکلیف ہے جو ہمارے پڑوس میں رہا ہوا ہے، اس کا ہمارے اوپر حق ہے۔ میرے آقا ومولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم بھی یہی فرماتے ہیں کہ اگر تو خوش گذارے اور تیرا پڑوسی تکلیف میں مبتلا رہے اور تو اس کی تکلیف کو دور کرنے کی سعی نہ کرے تو تیرا یمان کامل نہیں ہے۔ میرے آقا ومولیٰ کا فرمان ہے کہ پڑوسی کا حق یہ صرف نہیں ہے کہ اس پر ظلم مت کرو بلکہ اس کا حق یہ ہے اس کے ظلم پر صبر کرو، اس کے جبر پر صبر کرو، اس کے ظلم کو برداشت کرو۔ یہ ایک پڑوسی کا حق ہوتا ہے۔ اور جو آپ کے عاشقان ہوتے ہیں، جو آپ کے ساتھ تعلق اور نسبت رکھتے ہیں ان کا اس فرمان پر عمل ہوتا ہے۔ ہم صرف زبان چلانے والے ہوتے ہیں، عمل والے نہیں ہوتے لیکن جو اللہ والے ہوتے ہیں وہ صرف زبان نہیں رکھتے ہیں بلکہ عمل بھی رکھتے ہیں۔ وہ بولتے کم ہیں عمل زیادہ کرتے ہیں۔ یہی میرے مرشد مربی کی زندگی تھی۔ انہوں نے عرض کیا کہ حضرت مہربانی فرمائیے۔ آپ دو حضرات کو اپنے ساتھ لے لیتے ہیں اور ان کے سہارے پر آپ وہاں جاتے ہیں۔ جو لوگ وہاں موجود تھے خود دیکھتے ہیں کہ وہ سخت تکلیف میں مبتلا ہے۔ سب لوگ یہ سوچتے ہیں کہ اب اس کے مرنے کا وقت قریب ہے۔ آپ دعا کے لئے ہاتھ اٹھا دیتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس کی صحت کے لئے دعا فرماتے ہیں، اس کی تندرستی کے لئے دعا فرماتے ہیں۔ جب واپس لوٹ آتے ہیں تو سب احباب کہتے ہیں وہ آوازیں بند ہوگئیں۔ ہم نے سوچا کہ اس کا اسی ٹائم انتقال ہوگیا، اس بیچارے کی موت آسان ہوگئی۔ کچھ لمحے گذرے کہ اس کے جو ورثاء تھے وہ ہنستے ہوئے آئے اور انہوں نے کہا ”اب وہ بالکل ٹھیک ہے اور اس کو بے ہوشی بھی نہیں ہے وہ ہوش حواس میں ہے“۔ یہ میرے مرشد مربی کی محبت تھی انسانیت کے ساتھ، یہ شفقت تھی۔ ڈاکٹر صاحبان بھی اپنے دل میں درد رکھتے ہیں، وہ بھی فکر رکھتے ہیں، وہ بھی تڑپ رکھتے ہیں لیکن میرے عزیزو انہوں نے ہی جواب دے دیا تھا کہ اب اس کے بچنے کی امید نہیں ہے۔ لیکن جو اللہ والے ہوتے ہیں وہ کبھی بھی خدا کی رحمت سے مایوس و ناامید نہیں ہوتے۔

تو میرے عزیزو دوستو! جو بھی انسان ہو اس کی روح میں اللہ تعالیٰ کی محبت موجود رہتی ہے۔ جس طرح کہ فرمایا گیا کہ پیدائش انسانیت کی ترکیب دو چیزوں سے ہے، ایک عالم امر سے دوسری عالم خلق سے۔ تو بزرگان دین نے فرمایا، مفسرین نے فرمایا کہ جو انسان ہے وہ ان دو چیزوں سے مرکب ہے۔ عالم امر سے بھی عالم خلق سے بھی۔ جو عناصر اربعہ ہیں وہ اس عالم خلق سے لئے گئے ہیں، جن عناصر سے جسم بنایا گیا۔ اور اس میں روح داخل کی گئی وہ عالم امر سے تعلق رکھتی ہے۔ اس روح میں محبت خداوندی سمائی گئی ہے۔ اس میں عالم امر کی طرف التفات اور توجہ پایا جاتا ہے۔ لیکن یہ جو ہمارا نفس ہے یہ عالم خلق کی پیدائش ہے۔ جو ہمارے عناصر ہیں ان کی پیدائش میں ان کا تعلق اس دنیا کے ساتھ ہے۔ اب نفس انسان کو دنیا کی طرف کھینچتا ہے، روح انسان کو اللہ کی طرف کھینچتا ہے۔ بس جس کی جو فطرت ہوتی ہے اس فطرت کی وجہ سے، ان عناصر کی وجہ سے وہ دنیا کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے۔ گناہوں میں ملوث ہوجاتا ہے۔ غلط باتوں میں ملوث ہوجاتا ہے۔ تو اب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس روح انسانی کے تعاون اور مدد کے لئے اپنے پیغمبروں کو مبعوث فرمایا تاکہ اس کی روح کے اندر وہ قوت پیدا کرے، تاکہ اس کے نفس کا تزکیہ کرے، ان کے قلوب کا تزکیہ کرے، اس میں وہ قوت پرواز پیدا کریں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوجائے۔ صرف وہی نہیں بلکہ اس کے باقی عناصر بھی اس کی راہ کی طرف متوجہ ہوجائیں۔ صرف روح نہیں بلکہ اس کا قلب، جمیع لطائف، اس کا نفس بھی اللہ کی راہ کی طرف متوجہ ہوجائے تاکہ اس کو اپنا اصلی مقام حاصل ہوجائے۔ وہ مقام جس مقام کے حصول کے لئے اللہ تعالیٰ نے انسان پیدا کیا۔ پیغمبران علیہم السلام کو پیدا کیا۔ خصوصاً اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کو اس لئے مبعوث فرمایا تاکہ ان پر قرآنی آیات تلاوت کرے اور ان کو حکمت سکھائے اور ان کا تزکیہ فرمائے۔

تو یہ تزکیہ ہی یہ چیز ہے جو اس کے نفس کی اصلاح کرتی ہے۔ جو اس کے وجود میں گناہ پائے جاتے ہیں، خطائیں پائی جاتی ہیں ان سب چیزوں سے اس کو آزاد بناکر اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف متوجہ کردے اور میرے آقا و مولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے یہ کام کرکے دکھایا۔ وہ لوگ جو جانوروں سی زندگی گذارتے تھے، جو اللہ تعالیٰ کی محبت سے پہلے ناآشنا تھے، جو اپنی خواہشات کو سب کچھ سمجھتے تھے، اپنی خواہشات کی وجہ سے انسان کی جان لینے سے نہ ڈرتے تھے، اپنی خواہشات کی تکمیل کے لئے کسی کے اموال کو غصب کرنے سے نہیں ڈرتے تھے، اپنے نفس کو خوش کرنے کے لئے کسی کی عزت کے ساتھ کھیلنے سے گریز نہیں کرتے تھے، وہ جن کا معاشرہ، جن کی تہذیب، جن کا تمدن سارے عالم میں سب سے گرا ہوا تھا۔ میرے آقا ومولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ان بلندیوں پر فائز کردیا کہ آج تک زمانہ ان جیسا معاشرہ پیش کرنے سے قاصر ہے، بلکہ اس کی ادنیٰ سی مثال بھی پیش کرنے سے قاصر ہے۔ 

تو میں عرض کررہا تھا کہ وہ صحابی اس جنگ میں زخموں سے چور چور ہوجاتا ہے۔ اب وہ سوچتا ہے کہ میری شہادت کا وقت قریب آچکا ہے۔ اب وہ ادھر ادھر دیکھتا ہے، جو اس کے احباب ہیں وہ سوچ رہے ہیں کہ شاید وہ اپنے احباب کو تلاش کررہا ہے، شاید اپنے رشتہ داروں کو دیکھ رہا ہے کہ ان سے کچھ بات چیت کرسکے۔ وہ اس سے کہتے ہیں کہ بھائی تیرے رشتہ دار تو ادھر کھڑے ہیں، تیرا بھائی تو ادھر کھڑا ہے۔ وہ کہتا ہے نہیں نہیں مجھے ان کی تلاش نہیں ہے، مجھے اس عظیم رہبر و رہنماکی تلاش ہے، اس اللہ کے محبوب کی تلاش ہے جس نے میرے دل میں وہ تڑپ پیدا کی کہ آج میں تلوار لیکر خدا کی راہ میں نکل کھڑا ہوا اور میں نے جنگ اور جہاد کیا۔ اس محبوب کی مجھے تلاش ہے۔ وہ کہاں ہیں؟ کہا جاتا ہے کہ یا تو ان کو لے جاتے یا وہ خود گھسٹ گھسٹ کر آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں پہنچتے ہیں۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک پہ اپنا سر رکھدیتے ہیں اور اس حالت میں انکا انتقال ہوجاتا ہے۔ اور وہ یہی کہتے ہیں کہ میری تمنا تو یہ ہے کہ میں آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں اس جہان سے رخصت ہوں۔ جس طرح کہ دنیا میں آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اسی طرح عالم آخرت میں بھی آپ کے ساتھ رہوں۔ تو یہ ان کی محبت تھی اللہ اور اس کے رسول صلّی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ۔ جب ہمارے اوپر موت آتی ہے تو تمنا کرتے ہیں کہ میرا بیٹا قریب ہو، میری بیوی میرے قریب ہو۔ میرا بھائی میرے قریب ہو تا کہ میں ان کو دیکھ سکوں، لیکن جن کی محبت اللہ کے ساتھ تھی ان کی محبت دوسری سب محبتوں سے زیادہ سخت تھی۔ تو ان کی یہ تلاش تھی، ان کی یہ تمنا تھی کہ اللہ تعالیٰ کی قربت اور اس کے رسول صلّی اللہ علیہ وسلم کی قربت میں اس جہان سے رخصت ہوجائے۔

تو میرے دوستو عزیزو! میں عرض کر رہا تھا کہ یہ محبت خداوندی انسان کے خمیر میں شامل ہے، اس کے روح میں رکھی گئی ہے۔ اب جب وہ دنیا میں آگیا تو دنیا کی لذت اور اس کی تعیش کی طرف متوجہ ہوگیا اور اس نے اپنے مقصد کو بھلادیا۔ تو پیغمبران علیہم السلام اس مقصد کو لے کر دنیا میں مبعوث ہوئے اور ان لوگوں کے اندر انہوں نے یہ فکر اور تڑپ پیدا کی جو پہلے اپنی خواہشات کے غلام تھے، جو پہلے اپنی تمناؤں کے مرید تھے، جنہوں نے اپنی خواہشات کو اپنا معبود بنالیا تھا، جو سب کچھ کرنے کے لئے تیار رہتے تھے جب ان کا ان میں ذاتی مفاد ہو، اور وہ کچھ نہیں کرتے تھے جس میں اپنی بھائی کا مفاد ہو۔ لیکن جب حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلم کی ان پر نظر کرم ہوتی ہے تو کس کمال کو پہنچ جاتے ہیں۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا وہ مشہور و معروف واقعہ آپ نے سنا ہوگا۔ ایک جنگل سے گذر ہوا تو وہاں کھڑے ہوکر زاروقطار رونا شروع کردیا، صحابہ نے عرض کیا یا امیرالمؤمنین کس چیز نے آپ کو رلایا ہے؟ کیوں آپ یہاں کھڑے ہوگئے ہیں؟ آپ ادھر ادھر دیکھ رہے ہیں اور زاروقطار رو رہے ہیں۔ آپ اس وقت امیر المؤمنین ہیں۔ آپ کی خلافت کا زمانہ ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ میرے بھائیو مجھے کسی چیز نے نہیں رلایا، مجھے اس چیز نے رلایا ہے کہ یہ وہی جنگل ہے جہاں عمر اونٹ چرایا کرتا تھا، اس سے اونٹ نہیں سنبھالے جاتے تھے۔ آج وہی عمر ہے، جب اللہ تعالیٰ کے حبیب آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں آیا، آپ کی نگاہ کرم نے وہ اثر کیا کہ آج انسانوں کا نگہبان بن گیا۔ میری وہ زندگی جو اونٹ نہیں سنبھالے جاتے تھے اور آج وہ عظمت کہ سب لوگ امیر کہتے ہیں، احترام کرتے ہیں، اس کی عزت و توقیر کرتے ہیں اور یہاں سے وہاں تک اس کی خلافت کا چرچہ ہے۔ ہزارہا لوگ اس سے مستفیض ہوتے ہیں، یہ چیز مجھے رلا رہی ہے۔میں آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کے احسانات و کرم کو یاد کررہا ہوں کہ آپ کے احسانات و کرم کیا ہیں۔ وہ امیر المؤمنین امیر عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ جب اس دنیا سے رخصت ہوتے ہیں تو حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہما یا کوئی اور صحابی ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ علم کے نو حصے دنیا سے رخصت ہوگئے۔ اور وہی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور کی صحبت میں آنے سے پہلے میری یہ کیفیت تھی کہ مجھ سے اونٹ نہیں چرائے جاتے تھے۔ اے میرے دوستو اس نے علم کہاں سے حاصل کیا تھا؟ اس نے کسی مدرسہ میں نہیں پڑھا۔ جب میرے آقا و مولیٰ کی خدمت میں آئے ان صحابہ کی کافی عمر گذر چکی تھی۔ کسی کی بیس سال، کسی کی تیس سال، کسی کی ساٹھ سال، کسی کی اس سے بھی اوپر گذر چکی تھی۔ ان کے پڑھنے پڑھانے کا زمانہ تو ختم ہوچکا تھا، لیکن ایسے لوگ جنہوں نے کسی مدرسے میں نہیں پڑھا، جنہوں نے کوئی کنز قدوری نہیں دیکھا، منطق فلسفہ نہیں سیکھا، مدرسے اور کالج کے شاگرد نہیں رہے۔ میرے آقا و مولیٰ آنحضرتصلّی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں آئے تو ان کو یہ مقام اور مرتبہ حاصل ہوا، یہ علم حاصل ہوا کہ ان کے رخصت ہونے سے علم بھی رخصت ہوجاتا ہے۔ وہ کون سا علم تھا؟ جس کی طرف وہ صحابی اشارہ فرمارہے ہیں۔ وہ یہ ہی علم تھا جس کا تذکرہ میں نے اس آیت کریمہ میں کیا۔

وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَشَدُّ حُبًّا لِلّٰہ۝

جو ایمان لائے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی محبت میں بہت زیادہ سخت ہیں۔ وہ علم جو امیر عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے رخصت ہونے سے رخصت ہوگیا وہ علم اللہ تعالیٰ کی محبت اور معرفت والا علم تھا اور یہی علم سب علوم کا مقصد و منبع ہے۔ انسان سب فن حاصل کرلے، سب چیزوں کو سمیٹ لے، سب کتابوں کو پڑھ لے، سب کتابوں کو یاد کر لے، لیکن یہ علم اس کے دل میں نہیں ہے، محبت خداوندی اس کے دل میں نہیں ہے، معرفت خداوندی اس کے سینے میں نہیں ہے، تعلق مع اللہ اس کو حاصل نہیں ہے۔ تو پورا جاہل ہے اس کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ اے میرے دوستو عزیزو! اس علم کو حاصل کرنے کے لئے آج ہم یہاں جمع ہوئے ہیں اور ہمارا کوئی مقصد نہیں ہے۔ یہ وہ ہی سلسلہ ہے، یہ وہی صحابہ کرام والا طریقہ ہے۔ 

تو میں یہ ہی عرض کررہا تھا کہ صحابہ میں کیا تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ آپ تاریخ کو تو پڑھ کر دیکھیں کہ ان کی کیا کیفیات و حالات تھے، لیکن میرے آقا و مولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کی نظر کرم سے ان کے اندر کیا تبدیلیاں رونما ہوئیں ہیں۔ میں چند واقعات عرض کرکے اس بیان کو ختم کرتا ہوں تاکہ معلوم ہوجائے جو ایمان والے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی محبت میں کس طرح سخت ہیں، کس طرح اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں۔ ہم بھی دعویٰ کرتے ہیں، ہم بھی اپنے کردار اور عمل کا جائزہ لیں کہ ہم کس جگہ پر کھڑے ہیں؟ ہم کیا کر رہے ہیں؟ اللہ تعالیٰ کی ذات اور میرے محبوب آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہم سے کیا چاہتی ہے؟ بھئی یہاں ہم لیلیٰ چنیسر کے قصے سننے نہیں آئے ہیں۔ یہاں ہم ایک دوسرے سے ملنے ملانے کے لئے صرف نہیں آئے ہیں۔ مقصد کو ذہن میں رکھو۔ مجھے بہت بڑا دکھ ہوتا ہے کہ لوگ جب یہاں آتے ہیں اور پھر یہاں پر نماز ہورہی ہے لوگ وہاں گھوم پھر رہے ہیں۔ میں پھر یہ ہی سوچتا ہوں ان کو جو لائے ہیں انہوں نے شاید مقصد سے ان کو واقف نہیں کیا۔

اے میرے دوستو! جب اپنے احباب کو لاؤ تو ان کو یہ بات ذہن نشین کراکے لاؤ کہ وہاں تجھے کیا کرنا ہے اور کیا تجھے ملے گا۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ان مقاصد کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔ تو وہ صحابہ جن کا نام آج خاص اور عام بڑی عزت و توقیر سے لیتا ہے، پتا نہیں ان کے بارے میں ہم کیا تصور رکھتے ہیں کہ صحابہ کرام کے حالات وکیفیات کیا تھیں؟ وہ کس طرح زندگی گذارتے تھے؟ حضرت خواجہ حسن بصری رضی اللہ عنہ سے کسی نے دریافت کیا۔ مشہور و معروف تابعی ہیں۔ ایک روایت کے مطابق آپ کو حضرت علی کرم اللہ وجہہ رضی اللہ عنہ کی زیارت بھی نصیب ہوئی۔ ان سے کسی نے دریافت کیا یا حضرتا آپ نے صحابہ کرام کو دیکھا ذرا بتادیجیے وہ صحابہ کرام کی کیا کیفیات تھیں، ان کے کیا حالات تھے تاکہ ہم جان سکیں۔ حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ صحابہ کرام کا نام سن کر رونے لگے، زارو قطار رونے لگے، اس سے فرمایا کہ مجھ سے پوچھنے والے اگر تو جاننا چاہتا ہے کہ صحابہ کرام کس طرح تھے تو تو سن لے، اگر تو ان کو دیکھتا تو یہ کہتا یہ صحابہ تو دیوانے ہیں، یہ تو پاگل ہیں، جن کو دنیا کا کوئی ہوش نہیں ہے۔ اور اگر وہ صحابہ کرام آپ کو دیکھ لیتے تو وہ یہ کہتے کہ یہ تو مسلمان نہیں ہیں، یہ تو منافق ہیں۔ اے میرے دوست اگر تو کچھ تصور نہیں رکھتا تو اس مثال سے اپنے ذہن کو جانچ لے کہ صحابہ کرام کی کیا کیفیت تھی۔ وہ بظاہر کچھ نظر آتے تھے، بظاہر فقیر نظر آتے تھے، بظاہر مسکین نظر آتے تھے، بظاہر ناتواں نظر آتے تھے، بظاہر غریب نظر آتے تھے لیکن ان کے دل میں وہ خزانہ موجود تھا کہ جس کی مثال بڑے بڑے بادشاہوں کے بڑے بڑے خزانوں میں نہیں ملتی۔ جس طرح مرشد فرماتے تھے

مدینے کے گدا دیکھے

ہم دنیا داروں کے گدا بن گئے، امیروں کے گدا بن گئے ہیں، شہنشاہوں کے گدا بن گئے ہیں، سیاست دانوں کے گدا بن گئے ہیں۔ لیکن جو میرے محبوب کے غلام تھے وہ بھی گدا تھے، لیکن وہ میرے آقا و مولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی جھولی دراز کیا کرتے تھے، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنے دست سوال کو دراز کیا کرتے تھے۔ اور کسی پر ان کی نظر نہیں ہوتی تھی۔ وہ شاعر فرماتا ہے

مدینے کے گدا دیکھے جہاں بھر کے امام اکثر
بدل دیتے ہیں تقدیریں محمد کے غلام اکثر

یہ میرے محبوب آقا و مولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کا کام تھا۔ وہ کیا کام کرتے تھے؟ جو گنہگار ہوتا اور ان کی خدمت میں آتا نیکو کار بن جاتا۔ جو ظالم تھا ان کی خدمت میں اللہ تعالیٰ کی محبت پالیتا تھا۔ اس کو علم ہوجاتا تھا کہ زندگی کس طرح گذارنی ہے۔ یہ ان کی نظر کرم تھی، یہ ان کی صحبت کا اثر تھا۔ 

اے میرے دوستو عزیزو! میں عرض کررہا تھا کہ ان کی مثالیں، ان کی زندگی کیا تھی؟ ایک مشہور معروف واقعہ ہے کہ امیر عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک صحابی کو کسی علائقے میں گورنر بناکر بھیجا۔ چند دنوں کے بعد وہاں کے لوگ شکایتیں لے کر آگئے۔ یا حضرت کیسا گورنر بھیجا ہے آپ نے۔ کہا کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا ہمیں چند اعتراض ہیں۔ ایک اعتراض تو یہ ہے کہ یہ آپ کا بھیجا ہوا گورنر صبح کو بہت دیر سے اپنے گھر سے باہر آتا ہے اور ہم اپنی شکایت لے کر دروازے پہ کھڑے رہتے ہیں۔ دوسری شکایت یہ ہے کہ یہ آپ کا بھیجا ہوا گورنر رات کو بالکل گھر سے باہر نہیں نکلتا، اور تیسری شکایت یہ ہے کہ جمعہ کے روز یہ بڑی دیر کے بعد مسجد پہنچتا ہے۔ یہ ہماری شکایتیں حل کیجیے۔ امیر عمر فاروق رضی اللہ عنہ جن کا عدل و انصاف بڑا مشہور ہے۔ اس کی طرف پیغام بھیجا۔ جب وہ حاضر ہوئے تو دریافت فرمایا کیا ہم نے تجھ کو اس لئے گورنر بناکر بھیجا تھا کہ لوگ تیری شکایت لے کر آئیں؟ تجھے خادم اور ان کا نگہبان بنا کر بھیجا تھا، یہ لوگ آج تیری شکایتیں کر رہے ہیں۔ اور جو شکایتیں تھیں بیان کی گئیں۔ تو وہ صحابی رسول جو حمص کا گورنر بنایا گیا تھا زاروقطار رونے لگا اور عرض کرنے لگا ”امیر المؤمنین یہ میرے راز ہیں انکو ظاہر نہ فرمائیے“۔ آپ نے فرمایا نہیں، جب بات یہاں تک پہنچی ہے تو تجھے سب حقیقتیں بیان کرنی ہونگی اس طرح نہیں چھوڑا جائیگا۔ اس نے کہا یا امیر المؤمنین بات کو رہنے دیجیے۔ آپ نے فرمایا نہیں نہیں۔ جب آپ نے بہت زیادہ اصرار کیا تو انہوں نے فرمایا ٹھیک ہے میں عرض کر دیتا ہوں۔ چونکہ آپ کا حکم ہوگیا، ورنہ یہ باتیں ظاہر کرنے کی نہیں تھیں۔ یا امیر المؤمنین حقیقت یہ ہے کہ میں اور میری بیوی گھر میں تنہا رہتے ہیں۔ ہمارے پاس کوئی غلام نوکر نہیں ہے۔ اے دوست ذرا تصور کرو، وقت کا گورنر ہو اور اس کے پاس کوئی نوکر نہ ہو۔ بھائی آج تو ایک معمولی سا آدمی بھی دس دس نوکر اپنے ساتھ رکھتا ہے۔ لیکن یہ کون تھے؟ یہ میرے آقا و مولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کے صحبت یافتہ صحابی تھے، ان سے تعلق و محبت رکھنے والے لوگ تھے، ان سے وابستگی رکھنے والے لوگ تھے، ان کی زندگی کو دیکھ لے۔ تو بھی محبت کی دعویٰ کرتا ہے، تو بھی عشق کی دعویٰ کرتا ہے، اب تو اپنے حال کو بھی دیکھ، ان کے حال کو بھی دیکھ۔ اب تو بھی اپنی محبت کو دیکھ، ان کی محبت کو بھی دیکھ۔ ان کو اس محبت نے کیا سکھایا، تجھے اس محبت نے کیا سکھایا۔ ہم کہتے تو ہیں اللہ کے عاشق ہیں لیکن اللہ کے عاشق نہیں ہیں۔ ہم کہتے ہیں اللہ کے بندے ہیں لیکن اللہ کے بندے نہیں ہیں۔ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ سے محبت نہیں کرتے۔ کیونکہ ہمارے پاس ایسی مثالیں موجود ہیں، جو اللہ سے محبت کرنے والے، اللہ کے عاشق صادق ان کی کیفیات اور حالات کیا تھے۔ وہ کہنے لگے یا حضرتا میری بیوی اور میں تنہا رہتے ہیں، ہمارے پاس کوئی نوکر نہیں، کوئی لونڈی نہیں، کوئی غلام نہیں ہے، اور اتفاق سے میری بیوی مریض ہے۔ اس قدر مریض ہے کہ چارپائی سے اٹھ نہیں سکتی۔ یا امیر المومنین میں صبح کو سویرے گھر واپس آتا ہوں۔ خود آٹا گوندھتا ہوں، خود آگ جلاتا ہوں، خود توا رکھتاہوں، خود روٹیاں پکاتا ہوں، روٹیاں پکاکر اپنی بیوی کو بھی کھلاتا ہوں اور خود بھی کھاتا ہوں تا آنکہ مجھے دیر ہوجاتی ہے۔ اے مسلمان ذرا تصور کرلے۔ صحابی رسول صلّی اللہ علیہ وسلم ہے اور وقت کا گورنر ہے۔ اپنے ہاتھ سے روٹیاں پکارہا ہے، خود آگ جلارہا ہے، خود بھی اپنی خدمت کرتا ہے اور اپنے اہل وعیال کی بھی خدمت کرتا ہے۔ حضرت آپ نوکر کیوں نہیں رکھتے؟ غلام کیوں نہیں رکھتے؟ تو فرماتے ہیں کہ میں خود وہاں لوگوں کی خدمت کے لئے گیا ہوں کیا میں خود اپنی خدمت لینا شروع کردوں۔ یہ صحابی رسول تھے۔ پھر ان سے پوچھا گیا ذرا یہ تو بتا کہ رات کو تو باہر کیوں نہیں آتا؟ تو انہوں نے عرض کیا یا امیرالمؤمنین بات یہ ہے کہ میں گورنر بنائے جانے سے پہلے دن کو بھی عبادت کرتا تھا، دن کو بھی ذکر کرتا تھا، دن کو بھی دعائیں کرتا تھا۔ اسی طرح رات کو بھی کیا کرتا تھا۔ لیکن اب میرے اوپر دوگنی ذمہ داری آگئی۔ مخلوق کی ذمہ داری مجھ پر عائد ہے، ان کے حقوق میرے اوپر فرض ہیں۔ اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کے حقوق بھی مجھ پر فرض ہیں۔ اب میں نے اپنے دن اور رات کو دو حصوں میں تقسیم کردیا۔ دن تو مخلوق کے حوالے اور رات خالق کے حوالے ہے۔ دن کو خدمت کرتا ہوں اور رات کو عبادت کرتا ہوں۔ اب جو دونوں باتوں کو تقسیم کردیا ہے اس میں کوئی نقص یا زیادتی کرنا مناسب نہیں چاہتا۔ پھر ان سے پوچھا کہ جمعہ کے دن تم دیر سے باہر کیوں آتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا یا امیرالمؤمنین بات یہ ہے کہ میرے پاس پہننے کے لئے صرف کپڑے کا ایک جوڑا ہے۔ اب جب جمع کا دن آتا ہے تو آٹھ دن پہنتے پہنتے میرے کپڑے میلے ہوجاتے ہیں۔ اب جب میں ان کپڑوں کو اتارتا ہوں تو ایک تہہ بند کے بغیر میرے پاس کچھ نہیں ہوتا۔ ان کپڑوں کو خود میں دھوتا ہوں، دھوکر میں ان کو سکھانے کے لئے رکھتا ہوں، اپنی گھر والی کے کپڑوں کو دھوتا ہوں، ان کو سکھانے کے لئے رکھتا ہوں۔ سوکھتے سوکھتے دیر ہوجاتی ہے اس لئے مجھے یہ تاخیر ہوتی ہے، ورنہ تو کوئی اور وجہ نہیں ہے۔ یہ میرے آقا و مولیٰ کے صحابہ تھے، یہ ان کے عمل تھے، ان کا خلاص تھا، یہ ان کی تقویٰ تھی۔ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق نہ صرف اپنی بلکہ اپنے اہل وعیال کی بھی خدمت کیا کرتے تھے۔ جیسے کہ میرے آقا و مولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے بہترین وہ ہے جس کا خلق اپنے اہل وعیال سے بہتر ہے۔ اور ہمارا معاملہ برعکس ہوتا ہے۔ دوستوں کے ساتھ شفیق و مہربان، گھر میں سخت دل اور سخت جان ہوتے ہیں۔ دوستوں کے ساتھ مسکرا کر بات کرتے ہیں اورگھر والوں کے ساتھ ڈانٹ کی بات کرتے ہیں۔ یہ میرے آقا و مولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اس طرح نہیں تھی۔

تو میرے عزیزو دوستو! یہ صحابہ تھے، یہ میرے محبوب کے عاشق تھے، یہ ان کے خادم تھے، یہ ان کے پاس بیٹھنے والے تھے، یہ ان سے محبت کرنے والے تھے۔ اب اپنی محبت کو بھی دیکھ لے ان کی محبت کو بھی دیکھ لے۔ اگر تو بھی کچھ بننا چاہتا ہے تو ان واقعات کو اپنے لئے مشعل راہ بنالے۔

اے میرے دوستو عزیزو! ہم بھی اپنے عمل کو، اخلاص کو ان کی زندگی کی روشنی میں بنائیں تاکہ ہماری نجات ہوسکے۔ ہم یہاں پر اسی مقصد کے لئے جمع ہوئے ہیں۔ جب یہاں سے واپس جائیں تو ہماری زندگی میں ایک انقلاب رونما ہوجائے، ایک تبدیلی رونما ہوجائے۔ جو پہلے بے نمازی تھا وہ نمازی بن جائے، جو پہلے ظالم تھا وہ ظلم کو ترک کردے، خدا کے خوف سے جس کا دل خالی تھا اس کے دل میں خوف خدا آجائے، جو پہلے جھوٹ بولتا تھا وہ جھوٹ سے باز آجائے، زنا کرتا تھا زنا سے باز آجائے، برائی اور بے حیائی کو ترک کردے، اللہ تعالیٰ کی محبت کو اپنے دل میں پیدا کردے۔ یہی مقصد ہے جس کے لئے آپ یہاں جمع ہوئے ہیں۔ اے میرے مرشد مربی کے خلفاء کرام، اے میرے دوستو! آج وہ وقت آگیا ہے کہ آپ کے آزمائش اور امتحان کا وقت ہے۔ آپ کی محنت اور جدوجہد کا زمانہ ہے۔ آج کے بعد وہ کونسا وقت آئے گا جب ہم نکل کھڑے ہونگے اور اپنے محبوب کے پیغام کو عام کریں گے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ آمَنُوْٓا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُھُمْ لِذِکْرِاللہ۝

اللہ کی طرف سے ہمیں یہ خطاب ہوتا ہے، خبردار کیا جاتا ہے کہ اے ایمان والو۔ کتنا محبت بھرا خطاب ہے، کتنی محبت ہے اللہ کو اپنے بندوں کے ساتھ۔ سبحان اللہ یہ ناچیز گنہگار کیا بیان کرے۔ اے میرے دوستو کبھی خدا کی محبت کو اپنی دل میں جگہ تو دے۔ تجھے معلوم ہوکہ وہ عظیم، وہ بے پرواہ ذات تجھے کتنا چاہتی ہے۔ تجھ سے کتنی محبت فرماتی ہے۔ تیرے ساتھ اس کا کیا تعلق ہے۔ لیکن تو نے اس در کو چھوڑدیا ہے، اوروں کے دروں پر چلا جاتا ہے، اوروں سے مانگتا ہے، اللہ سے نہیں مانگتا۔ اگر کبھی جاتا ہے تو خلوص دل سے نہیں جاتا، محبت سے نہیں جاتا، بس ایک رسم سی پوری کرنے جاتا ہے جیسے آج ہم نے اسلام کو ایک روایت سمجھ لیا ہے کہ نماز مسجد تک تو اسلام ہے، مگر جب گھر میں چلے جائیں تو اسلام ہم سے بھول گیا۔ بازار میں چلے گئے تو اسلام کو ہم نے چھوڑدیا۔ کہیں کاروبار کی جانب گئے تو اسلام کو ہم نے چھوڑدیا۔ بھئی اس طرح نہیں ہوتا۔ اسلام وہ مذہب ہے کہ جو ہماری جمیع زندگی سے تعلق رکھتا ہے۔ ہماری صبح سے بھی تعلق رکھتا ہے، شام سے بھی تعلق رکھتا ہے۔ ہمارے ظاہر سے بھی تعلق رکھتا ہے، ہمارے باطن سے بھی تعلق رکھتا ہے۔ ہر چیز سکھاتا ہے، ہر چیز اسلام میں موجود ہے۔ لیکن ہم نے اس طرف توجہ نہیں دی۔ 

تو میں عرض کررہا تھا کہ وہ عظیم ذات کس طرح محبت کرتی ہے اپنے بندوں کے ساتھ، وہ ہمیں معلوم نہیں ہے۔ وہ عظیم ذات ایسی ہے کہ ایک بار تو گناہ کردے پھر بھی تجھے معاف فرمادے، دوبارہ گناہ کرلے اور سچی دل سے توبہ کرلے تو پھر تجھے معاف فرمادے۔ بھئی ایسی شفقت اور مہربانی دنیا میں نہیں دیکھی جاتی۔ باپ اور ماں کی بھی اس طرح محبت نہیں ہوتی۔ دوتین بار تو وہ معاف کرسکتے ہیں پھر اس سے زیادہ وہ معاف نہیں کرسکتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی اس محبت کی ترجمانی حضرت ابوالخیر سعید رحمۃ اللہ علیہ جو غالباً برصغیر کے بزرگ ہیں وہ اپنے الفاظ میں اس محبت کی ترجمانی فرماتے ہیں کہ

باز آ باز آ     ہر آنچہ ہستی باز آ

اے میرے بندے تو کہاں جارہا ہے؟ تو جیسا ہے، جیسی تمہاری صورت ہے، جیسا تیرا عمل ہے، جیسی تیری یہ اوقات ہے ان باتوں کو تو چھوڑ دے تو میری طرف آجا۔ دنیا داروں نے تجھے چھوڑ دیا ہے، گھر والوں نے تجھے چھوڑدیا ہے، کوئی تجھ سے محبت نہیں کرتا، کوئی تیرے ساتھ شفقت نہیں کرتا، تو میری طرف آجا۔ جیسا بھی تو ہے تو میرا ہے، تو میری طرف آجا۔ یہ اللہ کی طرف سے صبح و شام اعلان ہوتا ہے تو جیسا بھی ہے، تیرا عمل کیسا بھی ہے تو میری طرف آجا

باز آ باز آ۔ ہر آنچہ ہستی باز آ
گر کفر و بت پرستی بازآ

اگر تو بت کا پوجا کرنے والا ہے، مشرک و کافر ہے پھر بھی تو میرے پاس ایمانی دولت لے کر چلا آ۔

اگر ہزار بار توبہ شکستی باز آ

اے میرے رب العالمین میرے تو گناہ بہت زیادہ ہیں، میں کیسے تیرے دربار میں آجاؤں؟ میں تو کئی بار توبہ کرکے توڑ چکا ہوں، میں کیسے آؤں؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کتنی بار تونے توبہ کرکے توڑی ہے؟ دس، بیس، چالیس بار۔ اگر ہزار بار توبہ کرکے تونے توڑی ہے، پھر بھی میرے دربار میں آجا۔ تو نے کتنے گناہ کئے ہیں؟ تیرے گناہ کتنے ہیں؟ کیا تیرے گناہ میری رحمت سے بڑھ گئے ہیں؟ اللہ کی رحمت تو زمین و آسمان کی وسعتوں کو گھیرے میں لئے ہوئے ہے۔ اے میرے بندے تونے کتنے گناہ کر لئے کہ زمین کے کناروں کو تونے گھیر لیا ہے اور یہ گناہ زمین کو گھیر کر آسمانوں تک جا پہنچے ہیں۔ سمندر کی جھاگ سے بھی تیرے گناہ بڑھ گئے ہیں۔ اتنے گناہ ہیں کہ تیرے جسم پر اتنے بال بھی نہیں۔ اس سے بھی زیادہ تیرے گناہ ہوگئے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے باز۔ میری طرف تو آجا۔ اتنی مہربان ذات ہے۔ یہ کیا اس کی محبت ہے، کیا اس کی شفقت ہے۔ اے میرے دوستو اہل دل ہی محسوس کرسکتا ہے۔ ہم جیسے گنہگار اور بدکار اس کو نہیں محسوس کرسکتے۔ اس عظیم ذات کو کیوں چھوڑتے ہو؟ اس کے در پر چلے آؤ، اس کے جواب میں کہو کہ لبیک اللّٰہم لبیک۔ اے میرے مولا میں حاضر ہوں، میں دوڑا چلا آتا ہوں تیری دربار، پر میں اپنے گناہوں کو اپنے سر پر لے کر، اپنے گناہ اور داغ دار قلب کو تیری بارگاہ میں لے کر، اپنے اس مجسم خطا اور عیب سے پر جسم کو لے کر تیری دربار میں حاضر ہوتا ہوں۔ اپنی رحمت مجھے عطا فرما دے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہاں ہاں، تجھے میں رحمت عطا فرماؤں گا۔ یہ زمین جو تونے گناہوں سے بھردی ہے یہ سب گناہ میں ایک لمحے میں معاف کردوں گا، اس سمندر کی جھاگ سے اگر زیادہ تیرے گناہ ہیں، سب میں معاف کردوں گا

در بارگاہ ما ناامیدی نیست

میری وہ بارگاہ ہے، میرا وہ دروازا ہے، جہاں ناامیدی کا نام و نشان بھی نہیں ہے۔

لا تقنطو من رحمۃ اللہ ان اللہ یغفر الذنوب جمیعا۝

اللہ تعالیٰ فرماتاہے میری رحمت سے ناامید مت ہو، میں تو وہ ذات ہوں کہ تیرے سب گناہوں کو معاف کردوں، چاہے کتنے بھی تیرے گناہ ہیں مگر جب تو سچی دل سے توبہ کرے اور پشیمان ہوجائے تو نہ صرف میں تیرے یہ گناہ معاف کردوں بلکہ یہ زمین تجھے نیکیوں سے رحمتوں سے پر کرکے دوں۔ جتنے تیرے گناہ ہیں اس سے دس گنا زیادہ تجھے میں نیکیاں عطا فرمادوں۔ اتنی سخی دربار ہے میرے رب العالمین کی۔ وہ تو اتنی عظیم ذات ہے، وہ اتنی کریم ذات ہے، وہ اتنی سخی ذات ہے جس کے در کو ہم نے چھوڑ دیا ہے، جس کے ذکر کو ہم نے چھوڑ دیا ہے، غفلتوں میں گر گئے ہیں، اپنے آپ کو تباہ و برباد کردیا۔ ہمیں اپنے اوپر رحم نہیں آتا لیکن میرے رب العالمین کو ہم پر بڑا رحم آتا ہے، بڑی محبت فرماتا ہے، بڑی شفقت فرماتا ہے۔ آج یہ عزم کرلو اے میرے رب العالمین تیرے در کی طرف ہم چلے آرہے ہیں اپنے اس داغ دار جسم کو لے کر، اپنے ٹوٹے ہوئے دل کو لے کر۔ اپنے اس حزن و ملال کو تیرے دربار میں لاتے ہیں۔ اپنے گناہوں کو تیرے سامنے پیش کرتے ہیں۔ اے میرے رب العالمین تیرے دربار میں کوئی کمی نہیں۔ اگر سمندر سے ایک معمولی سی چڑیا پانی پی لے، کیا سمندر میں کمی آئے گی؟ اے میرے رب العالمین ہم تیرے آسرے پر حاضر ہیں اور تیری رحمت سمندر سے بھی وسیع ہے۔ اگر تو مغفرت فرمادے تیری رحمت میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔

تو میرے دوستو! رب العالمین کے در کو تھام لو اور اپنی گرفت میں لے لو۔ ایسا تھام لو کہ کبھی اس در کو مت چھوڑو۔ کبھی بھی تم گمراہ نہیں ہوگے، کبھی بھی تم برباد نہیں ہوگے۔ یہ وہی در ہے جہاں سے پیغمبر بھی آئے، جہاں سے صحابہ کرام آئے، جہاں سے اولیاء اللہ آئے،  جہاں سے رحمتیں برستی ہیں، جہاں سے رزق ملتا ہے، جہاں سے صحت ملتی ہے، جہاں سے دولت ملتی ہے، جہاں سے ہر مقصد پورا ہوتا ہے۔ یہ وہی در ہے۔ بھئی ہم اور آپ کی مثال وہ ہے جس طرح ایک چھوٹا سا بچہ ہو اور اس کے سامنے انگارے پڑ ے ہوئے ہوں۔ ان کی چمک و دمک کو دیکھ کر وہ ان کو اپنے ہاتھ میں لینا چاہتا ہے۔ کیا آپ اس کے ہاتھ میں دے دو گے؟ نہیں دو گے کیونکہ آپ کا علم اس بچے کے علم سے زیادہ ہے۔آپ سمجھتے ہیں کہ یہ انگارے اس کے ہاتھ کو جلادیں گے۔ اس بچے سے بھی ہمارا علم بہت کم ہے۔ اللہ تعالیٰ سے جو چیز مانگتے ہیں اللہ تعالیٰ ہمیں وہ اس لئے عطا نہیں فرماتا کیونکہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ یہ شخص جو کچھ مانگ رہا ہے یہ اس کے لئے بہتر نہیں ہے۔ اور پھر اس کے بدلے میں، اس کے عوض میں، اس دعا کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اور بہتر چیز ہمیں عطا فرما دیتا ہے۔ جس کا ہمیں علم نہیں ہوتا اور ہم بے شکری کے کلمات کہتے ہیں کہ ”دعا سے کچھ بھی نہیں ملا“۔ اے بے وقوف اگر دعا سے اور کچھ نہیں تو اظہار عبدیت کا ثواب تو مل جاتا ہے، نیکی تو مل جاتی ہے، حاضری تو ہوجاتی ہے۔ رب العالمین متوجہ تو ہوجاتا ہے۔ اس سے بڑھ کر اور ہمیں کیا چیز چاہیے۔ بھائی وہ مجنوں تھا لیلیٰ کی ایک دید کو ترستا تھا۔ اگر لیلیٰ کی ایک نظر اس پر پڑجائے تو وہ دونوں جہانوں کو چھوڑنے کے لئے تیار ہوتا تھا۔ جب تو ہاتھ اٹھاتا ہے تو اللہ کی نظر تیرے طرف متوجہ ہوتی ہے، جب تو دعا مانگتا ہے اللہ کی رحمت تیری طرف متوجہ ہوتی ہے۔ تو تو خود انصاف کر اس سے زیادہ تجھے اور کیا چاہیے؟ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

عَسٰٓی اَنْ تُحِبُّوا شَیْاً وَّ ھُوَ شَرٌ لَّکُمْ۝

قریب ہے کہ کسی چیز کو آپ پسند کریں اور وہ آپ کے لئے خراب چیز ہو، نقصان دہ چیز ہو اور قریب ہے کہ کسی چیز کو آپ ناپسند کریں اور وہ آپ کے لئے بہتر ہو، اچھی ہو۔

تو میرے دوستو عزیزو! اس لئے ناشکری زبان پر مت لاؤ۔ غلط بات زبان سے مت نکالو۔ جو کچھ اللہ کرتا ہے اس پر صبر اور شکر کرو۔ اس سے بہتر اور کوئی چیز نہیں ہے۔ اپنے اعمال کو بہتر بناؤ، اپنے اخلاص کو کامل بناؤ، ایثار پیدا کرو، حسن اخلاق پیدا کرو، نیک انسان بن جاؤ، کامل انسان بن جاؤ۔ عاشق خدا بن جاؤ۔ میرے محبوب آقا و مولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کے مطیع بن جاؤ اور یہ ہی ہمارا کام ہے اور مغفرۃ دین، رحمت دینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ اس کی بارگاہ میں کوئی کمی نہیں ہے۔

میرے عزیزو دوستو! تو میں عرض کررہا تھا کہ آج یہ بیٹھنے کا وقت نہیں ہے۔ آج وہ وقت آچکا ہے کہ لوگوں کی عزتیں محفوظ نہیں، لوگ گھروں میں محفوظ نہیں، لوگوں کی دولت محفوظ نہیں، ہر طرح کے مصائب اور پریشانیاں ہمارے اوپر ٹوٹ رہی ہیں۔ ہم کس وقت کے انتظار میں ہیں؟ اللہ تعالیٰ کی وہ مہربان ذات ہمیں ارشاد فرماتی ہے

اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ آمَنُوْٓا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُھُمْ لِذِکْرِ اللہ۝

کیا وہ وقت قریب نہیں آیا، اے ایمان والو کیا وہ وقت نہیں آیا۔ جس طرح چھوٹا بچہ ہوتا ہے وہ اسکول جانے میں دیر کرتا ہے تو شفقت سے، پیار سے کہتے ہیں کہ اے بچے کیا اسکول کا ٹائم نہیں ہوا۔ اسے ڈانٹتے تو ہیں لیکن اس کے پیچھے، اس کے پس منظر میں ہماری محبت اس بچے کے ساتھ ہوتی ہے۔ اس سے ہزار گنا زیادہ محبت کا، کرم کا اظہار ہوتا ہے۔ اے ایمان والو کیا وہ وقت نہیں آیا کہ تمہارا دل میرے ذکر کی طرف مائل ہوجائے۔ دل سے آیت کریمہ کا جواب دو۔ اے میرے رب العالمین وہ وقت آچکا ہے۔ ہم تیری رحمت کی طرف متوجہ ہورہے ہیں، ہم تیرے ذکر کی طرف مائل ہورہے ہیں، ہم تیری شفقت اور محبت کے قابل بن رہے ہیں۔ ہمیں سب کچھ یہ عطا فرمادے۔ کیونکہ جو خدا کے ذکر کی طرف مائل ہوتا ہے، جو ذکر کمائے، ذکر کرے، اس کا تو مقام بلندی ہے۔ لیکن جس کے دل میں صرف یہ طلب اور تمنا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کروں تو اس کا مقام بھی تو ذرا سن لیں۔ بزرگ فرماتا ہے

ہر کسے کہ او مائلِ یادِ خدا است
خاکِ پایش توتیائے چشمِ ماست

جس کے دل میں یہ تمنا پیدا ہوئی ہے کہ میں اللہ کا ذکر کروں، میں اللہ تعالیٰ کو یاد کروں تو اس نے ذکر شروع نہیں کیا، صرف اس کے دل میں یہ تمنا پیدا ہوئی تو وہ اللہ کا بندہ فرماتا ہے اس کا مقام یہ ہے کہ اس کے پاؤں کی خاک میری آنکھوں کا سرمہ ہے۔ اگر وہ ذکر کرنا شروع کردے، خدا کے ذکر میں مشغول ہوجائے پھر اس کا کیا مقام ہوگا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

فَاذْکُرُوْنِیْ اَذْکُرُکُمْ وَاشْکُرُوْالِیْ وَلَا تَکْفُرُوْنِ۝

اے میرے بندے تو میرا ذکر تو کر، تو مجھے یاد کر تو میں تجھ کو یاد کرنا شروع کردوں۔ کتنی بڑی محبت ہے۔ اس عظیم ذات کو کیا ضرورت ہے ہم گنہگار، بیکار، عیب دار، سیاہ کار لوگوں کو یاد کرنے کی؟ لیکن اس کی محبت ہے اپنے ذاکرین کے ساتھ۔ اس کی شفقت ہے اپنے ذاکرین کے ساتھ۔ اس کا تعلق ہے اپنے ذاکرین کے ساتھ۔ جب تو خدا کے ذکر میں مشغول ہو، اللہ تعالیٰ نے تجھ کو یاد فرمانا شروع کردیا۔ ”وَاشْکُرُوْالِیْ وَلَا تَکْفُرُوْنِ“۔ اور ہر حال میں میری نعمتوں کی شکر ادائی کرتا رہ۔ ناشکری مت کر۔

تو میرے دوستو! یاد رکھو ذکر سے بڑھ کر کوئی اور عبادت نہیں ہے۔ ذکر سے بڑھ کر کوئی اور نعمت نہیں ہے۔ کوئی افضل چیز نہیں ہے۔ تو ہمیں چاہیے کہ خدا کا ذکر کریں اور اس کی نعمتوں کی شکر ادائی کرتے رہیں۔

اللہ ہمیں توفیق عمل عطا فرمائے۔