فہرست
خطابات طاہریہ

بہترین امت

 

نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم

اما بعد

فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اُدْعُ اِلیٰ سَبِیْلِ رَبِّکَ بِاالْحِکْمَۃِ وَالْمَوعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْہُمْ بِا الَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ۝

صدق اللہ العظیم۔

معزز سامعین! آپ نے ہمارے احباب کے زبانی تبلیغی احوال سماعت فرمائے۔ ان احباب کی محنت اور کاوشوں سے ہمیں بھی تحرک کا جذبہ ملے گا کہ ہم جو معطل ہیں، کاہل ہیں، منجمد ہیں، ان باتوں کو سن کر کہ نوشہرہ والوں کے دوستوں کی رپورٹ کیا تھی۔ حیدرآباد کے دوستوں کی کیا رپورٹ تھی۔ ہمارے دوست سلطان صاحب انہوں کیا کچھ بتایا۔ یہ سننے کے بعد جو معطل اور منجمد اور کام سے کاہل لوگ تھے وہ اس سے جذبہ پائیں گے، ان میں شوق پیدا ہوگا۔ ان کو چاہیے کہ وہ بھی اپنی صلاحیتوں کو، اپنی قابلیت کو بروئے کار لاتے ہوئے دوستوں سے رابطہ کریں،  ان سے ملیں، ان سے تعلق قائم کریں۔ اور یہ فکر اور جذبہ ہو اور یہ شوق ہو کہ ان لوگوں کے دلوں میں اللہ کی محبت پیدا ہوجائے۔ اس لئے ہم ان سے ملیں کہ ان کے دلوں میں آقائے نامدار آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کی محبت پیدا ہوجائے، اس لئے ہم ان سے ملیں کہ صوفیاء کرام کا طریقہ ہمیں ان کو بتانا ہے۔

دوستو! یہ بات مسلمہ ہے۔ تاریخ کو پڑھ کر دیکھیں کہ اس علائقہ میں، برصغیر کی بات میں کرتا ہوں۔ پاکستان، ہندوستان، بنگلادیش یا جو دیگر چھوٹے چھوٹے ممالک ہیں جواس ساؤتھ ایشیا میں واقع ہیں۔ ان ممالک میں اسلام کا پہنچنا، لوگوں کا راغب ہونا، لوگوں کا متوجہ ہونا اسلام کی طرف، ان کے دلوں میں محبت الٰہی کا پیدا ہونا، ان کے دلوں میں عشق رسول کا پیدا ہونا، ان کے دلوں میں نور توحید کی شمع کا روشن ہونا۔ اس کی وجہ صرف صوفیاء کرام تھے، اولیاء اللہ تھے۔ اس پوری بات میں کسی قسم کا مبالغہ نہیں ہے۔ علماء کی خدمتیں اپنی جگہ پر، اس سے ہم کو انکار نہیں، لیکن لوگوں کے دلوں کو فتح کرنے والے، لوگوں کے دلوں کو اللہ کی طرف متوجہ کرنے والے اگر تھے تو یہ صوفیاء کرام تھے۔ آپ سب کو تاکید کیا جاتا ہے آپ اسلام کی تاریخ کو ضرور پڑھیں لیکن بالخصوص اپنے برصغیر کی تاریخ کو، ساؤتھ ایشیا، ہندوپاک کی تاریخ کو پڑھیں کہ آپ کو پتا چلے کہ کس طرح سے وہ داعی، وہ عاشق، وہ عارف، وہ صالح، مخلص بندے ان علائقوں میں آئے۔ کس طرح انہوں نے تبلیغ کی۔ اور پھر اس فکر، اس جذبے، اس طریقے کو بھی ہم اپنائیں۔ کیونکہ کسی بھی آدمی کو تشدد اور سختی سے کچھ بھی ہم سمجھا نہیں سکتے۔ آپ کوپتا ہوگا، اس دور میں یہ بات کہی جائے گی کہ آپ کے جو چھوٹے چھوٹے بچے ہیں یا شاگرد ہیں، ان کو پیار اور محبت سے پڑھائیں۔ ان کی بھی عزت اور وقار کا خیال رکھیں۔ ان کی صلاحیتیں اسی طرح بڑھیں گی۔ ان کے علم کا ذوق ایسے بڑھے گا۔ لیکن اگر تشدد، مار اور سختی اختیار کی جائے گی تو ہم نے بھی شاگردی والا دور گذارا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ذہنی طور پر جو کمزور شاگرد ہیں، ممکن ہے کہ وہ کسی قدر علم کی طرف، پڑھنے کی طرف زور لگائیں۔ پر جو ذہین ہیں، جن کے ذہن اچھے ہیں، جن کے ذہن متحرک ہیں، جو کچھ سوچ رکھتے ہیں اس طریقے کو وہ استاد کی طرف سے پسند نہیں کرتے۔ لاکھ مرتبہ اس کو کہو کہ جدھر ڈنڈا لگے گا وہاں جہنم کی آگ حرام ہے لیکن شاگرد کبھی بھی دل سے اس ڈنڈے کو نہیں قبول کرے گا۔ میں نے بھی دو تین دن مدرسے میں پڑھایا ہے۔ اگر کسی کو پڑھایا جاسکتا ہے تو پیار والا طریقہ ہے۔ میں اپنا ایک چھوٹا سا مثال دوں۔ جب میں بالکل چھوٹا تھا، چار پانچ سال عمر ہوگی، والد محترم حضرت صاحب کو بہت شوق تھا کہ یہ جلدی پڑھے۔ انہوں نے مجھے استاد کے حوالے کیا۔ میں ڈرتا تھا کیونکہ قاری صاحب کا جو تعلق اپنے شاگردوں کے ساتھ تھا وہ میں اپنی آنکھوں سے دیکھتا تھا۔ تو میں ڈرتا تھا اور میں بہت کتراتا تھا۔ مجھے حوالے کیا گیا جناب استاد محترم مولانا کریم بخش صاحب مرحوم کے۔ اللہ ان کو غریق رحمت فرمائے۔ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھانے والے وہ تھے۔ سو استاد صاحب نے مجھے بٹھایا اور دیکھا کہ یہ ڈرتا ہے۔ انہوں نے کیا کیا کہ مجھ سے میٹھی میٹھی باتیں کیں کچھ بھی نہیں پڑھایا۔ جب میں اٹھنے والا تھا، میرے خیال میں مجھے ایک آنہ دیا کہ بھائی تم نے بہت اچھا پڑھا۔ تمہارے لئے ایک آنہ انعام ہے۔ میں بہت خوش ہوا اس بات پر کہ پڑھنا تو بہت اچھا ہے کہ پڑھنے کے بعد ایک آنہ ملتا ہے۔

دوستو! یہ میرا ذاتی تجربہ ہے۔ اس سے میں کیا بتانا چاہتاہوں؟ ایک صوفیاء کرام کا طریقہ ہے۔ ایک دیگر لوگوں کا طریقہ ہے جو اسلام کی طرف لوگوں کو راغب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آپ کو علی الاعلان بتاتے ہیں کہ ہم خادم ہیں، ہم صوفیاء کرام کی نمائندگی کرنے کا شوق رکھتے ہیں۔ اسی لئے صوفیاء کرام کے طریقے کو سیکھو۔ ان کے ڈھنگ کو سیکھو۔ صرف باتیں نہ کرو۔ آپ کے اپنے عمل میں، آپ کی اپنی رفتار میں، آپ کے اپنی گفتار میں، آپ کے اپنے کردار میں ان کی جھلک ہونی چاہیے۔ اگر میں بڑی بڑی باتیں بیان کروں، بڑے بڑے مسائل بیان کروں جیسے کہتے ہیں کہ بال کی کھال اتاروں، بڑے بڑے لمبے دلیل پیش کروں۔ لیکن میرا عمل، میرا کردار، اس کا آئینہ نہیں ہے، اس کا عکس پیش نہیں کرتا۔ تو دوستو اس بات پہ کبھی بھی سمجھدار لوگ راغب نہیں ہوں گے۔ ہوسکتا ہے کہ جاہل باتیں سن کر پیچھے لگ جائیں۔ اسی لئے دوستو دولت کا نہ ہونا یہ محرومی ہے، ایک لحاظ سے دنیا میں ایک محرومی ہے، لیکن علم کا نہ ہونا یہ ایک بڑی محرومی ہے۔ علم ہی ہے جو انسان کو ممتاز بناتا ہے۔ وہ لوگ جو علم نہیں رکھتے، جو ذہن اور عقل سے، جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو دیا ہے، اس کو استعمال نہیں کرتے، ہوسکتا ہے کہ ایسے لوگوں سے متاثر ہوجائیں جو باتوں کے غازی ہوں۔ جو تقریر کے ماہر ہوں۔ جو گفتار میں جادو بیانی کرتے ہیں۔ ایک سماع طاری کرسکتے ہیں۔ ہوسکتا ہے۔ لیکن جو سمجھدار ہونگے، جن کو علم ہے، جو سوچ رکھتے ہیں، جو اٹھتے بیٹھتے ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے قلب سلیم دیا ہے وہ ان کی باتوں کو سننے کے بعد وہ اس کے عمل و کردار پر ضرور غور کریں گے۔

سو دوستو! جو بھی عہدیدار ہیں، جو بھی ممبر ہیں، جو بھی خلفاء ہیں، جو بھی فقراء ہیں ہم صبح و شام کوشش کریں کہ وہ صوفیاء کرام، مشائخ عظام جو کہ عین نبوی طریقے پر تھے، کہ ان کے کردار کی جھلکیاں ہمارے اندر پیدا ہوں۔ سب سے بڑی بات ہے صبر۔ صبر ہونا چاہیے۔ میں اپنی بات کروں کہ اس بات کی میں اپنے اندر بہت کمی محسوس کرتا ہوں۔ آپ ماشاء اللہ صبر کرتے ہونگے۔ تو صبر اپنے اندر پیدا کرنا چاہیے، کیونکہ تبلیغ کے لئے جو نکلتا ہے اس میں صبر ہو، اس میں حوصلہ ہو، جو اونچ نیچ برداشت کرسکے، گرمی سردی برداشت کرسکے۔ کیونکہ مختلف قسم کے لوگ اس سے ملیں گے۔ کچھ اس کو عزت دیں گے۔ کچھ اس کو دھکے دیں گے۔ لیکن اس کو اس بات پر فکر نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ ہمارے آقائے نامدار آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے مکے میں، مدینے میں اس صبر کا بار بار مظاہرہ کیا۔ جب آپ نے تعلیم، تبلیغ و دعوت کا سلسہ شروع کیا تو کفار نے پتھر برسانے شروع کئے۔ کفار نے نماز پڑھنے کے دوران آپ کی وجود اطہرکے اوپر اوجھڑی پھینکی۔ آپ کی گردن مبارک میں جو کپڑا تھا اس کپڑے کو کھینچا۔ آپ کو تکلیفیں دی گئیں ہر طرح کی، لیکن کبھی بھی زبان سے کسی کے متعلق بددعا نہیں نکلی، بلکہ ایسے فرماتے تھے کہ اے میرے مولا میری قوم کو ہدایت دے جو مجھے پہچانتے نہیں ہیں۔ آج جو ہم اور آپ دین کے داعی بن کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ سب سے پہلے ہیں علماء۔ سب کے واسطے ماشاء اللہ وہ گہری نظر رکھتے ہیں، ہر کسی کا تنقیدی جائزہ رکھتے ہیں۔ ہمیں بھی اپنے کردار کو دیکھنا چاہیے کہ جو یہ حضور کا عملی نمونہ تھا کتنا ہمارے اندر ہے؟

آقائے نامدار آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کا جو مشہور واقعہ ہے، آپ نے دیکھا کہ ایک پیرسن عورت کو، جو نکلی جا رہی ہے مکے سے۔ پوچھا اس سے اماں کہاں جارہی ہو؟ کہا کہ میں مکہ چھوڑ کر جارہی ہوں کہ ادھر ایک جادوگر پیدا ہوا ہے جو ہمارے آباؤ اجداد کے دین سے، بتوں سے منع کرتا ہے اور جو اس سے ملتا ہے وہ اس کے مذہب پر چلا جاتا ہے، سو میں ادھر نہیں رہوں گی۔ میں یہاں سے جارہی ہوں۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم بہت پیرسن عورت ہو، تم سے سامان نہیں اٹھایا جائے گا، میں تمہاری مدد کروں؟ کہا کہ بالکل مدد کرو۔ جو اس کا سامان تھا وہ آپ نے سر مبارک پر رکھا۔ میں اپنے اندر دیکھتا ہوں کہ مجھ میں اتنا حوصلہ نہیں ہے۔ میرا خیال ہوگا کہ میرے ساتھ جو دوست ہے سامان وہ اٹھائے۔ کیوں کہ اگر سامان کی گٹھڑی میں نے اٹھائی تو میں سائیں کس بات کا؟ لیکن ہمارے آقا کا مثال ہمارے سامنے ہے۔ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے اس کافر، مشرک، بوڑھی عورت کا سامان اپنے سر پر اٹھایا۔ ہے کوئی عالم؟ ہے کوئی پیر فقیر؟ جو اپنے مخالف کا، جو اپنے دشمن کے سامنے ایسے کردار کا مظاہرہ کرے۔ اولیاء اللہ کرسکتے ہیں۔ جو کامل ہیں، جن کے دل میں اخلاص ہے وہ کرسکتے ہیں۔ کوئی ہمارے جیسا مولوی نہیں کرسکتا۔ اس میں اتنے دانے نہیں ہوسکتے تو پھر باقی عشق کس چیز کا؟ محبت کس چیز کی؟

تو آپ صلّی اللہ علیہ وسلم اس کا سامان اٹھا کے چلے۔ اس نے پورا راستہ حضور کو برا بھلا کہا کہ وہ ایسا ہے، وہ ویسا ہے، وہ ایسا ہے، وہ ویسا ہے۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم سنتے رہے یہاں تک کہ جتنا اس کو سفر کرنا تھا، آپ صلّی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو کرکے اس کے پیچھے چلتے رہے۔ گھر پہنچے جہاں اس کے رشتیدار رہتے تھے۔ دروازے پر آپ نے اس کا سامان اس کے حوالے کیا۔ وہ کہنے لگی کہ میں تمہیں دعا کرتی ہوں کہ تم اس نبی کے منہ نہیں لگو جو ہمارے آباؤ اجداد کے دین سے روکتا ہے، جو بتوں کی پوجا سے روکتا ہے۔ آخر میں وہ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ پر بڑی محبت سے ہاتھ پھیر کر پوچھتی ہے کہ بتا تو سہی کہ تم کون ہو؟ ایسی تمہاری طبعیت، ایسی تمہاری تربیت، ایسا تمہارا پیار کہ میرے اپنے بچوں نے اس طرح مجھ سے وفا نہیں کی جس طرح تو نے مجھ سے وفا کی ہے۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے برملا کہا کہ اے اماں اگر تو پوچھنا چاہتی ہے تو میں وہی شخص ہوں جس کی وجہ سے تو مکہ چھوڑ کر یہاں پہنچی ہو۔ کسی قسم کا رعب نہیں ہے، کسی قسم کا دبدبہ نہیں، کسی قسم کی بناوٹ نہیں، آسان بات ہے۔ میں وہ ہوں جس سے تم بھاگ کر یہاں پہنچی ہو۔ وہ بالکل ایک جگہ پر ساکت ہوگئی، منہ اس کا کھلا رہ گیا، آنکھیں اس کی پھٹی کی پھٹی رہ گئیں اور حیرت سے وہ دیکھتی رہی۔ کہا کہ کیا تم وہی ہو؟ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں وہی ہوں۔ کہا کہ اگر تم وہی ہو تو پھر تم سچے ہو۔ اس نے برملا حضور کے اس کردار کو دیکھ کر ایمان کو قبول کیا۔

تو دوستو صرف خالی تقریر سے اور لاؤڈ اسپیکر سے تبلیغ نہیں کرو۔ بلکہ آپ اپنے کردار میں، اپنے عمل میں، اپنے گفتار میں، رفتار میں وہ جھلکیاں پیدا کرو۔ جدھر بھی جاؤ یہ رنگ لے کر جاؤ۔ بس پھر بات بن جائے گی۔ اور یہی ہمارا مقصد حیات ہے، جس طرح اللہ تعالیٰ نے قران مجید کریمہ میں فرمایا ہے کہ

کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَامُرُوْنَ بِاالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ۝

کہ تم سب سے بہتر امت ہو کیونکہ تم انسانوں کو ہدایت پہنچانے کے لئے پیدا کیے گئے ہو۔ تو تبلیغی کام کو سر انجام دینے کے لئے ہمیں وہی طریقہ اختیار کرنا ہوگا جو رسول اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم نے اختیار فرمایا تھا۔

اللہ تعالیٰ توفیق عمل عطا فرمائے۔