فہرست
خطابات طاہریہ

پیش لفظ

 

    عربی زبان کا معروف مقولہ ہے ”کلام الملوک ملوک الکلام“ کہ بادشاہوں کا کلام کلاموں کا بادشاہ ہوتا ہے۔ چونکہ دنیوی حکومت و اختیارات بادشاہ وقت کے ہاتھ میں ہوتے ہیں تو اس کے حکم سے ہی ایسے قوانین عمل میں آتے ہیں جن سے بالواسطہ یا بلاواسطہ لوگ متاثر ہوتے ہیں اور لوگوں کے دنیوی فائدے یا نقصان کا دارومدار بھی اس کے حکم پر ہوتا ہے۔ لہٰذا اس کے کلام (احکامات) کو انسانوں کے کلاموں کا بادشاہ کہا گیا۔

    تو اس مقولے کے تحت اب جبکہ صرف ظاہری جسم پر حکومت کرنے والے بادشاہ (چاہے وہ ظالم و غاصب ہی کیوں نہ ہو) کا کلام کلاموں کا بادشاہ قرار دیا جاتا ہے تو دلوں پر حکومت کرنے والے، مخلوق کو فائدہ پہنچانے اور دنیا و آخرت کے نقصان سے بچانے والی باتوں کی طرف توجہ دلانے والے اللہ کے پسندیدہ اور محبوب بندے کا محبت اور اپنائیت بھرا کلام کیا مقام رکھتا ہوگا۔ اور چونکہ ان کا کلام صرف زبان تک ہی محدود نہیں ہوتا بلکہ اس میں انسانیت کی اصلاح و فلاح کی خواہش مند ان کی دل بھی شامل ہوتی ہے، لہٰذا اس کے پراثر ہونے میں بھی کوئی کلام نہیں۔ اسی نظریے کے تحت کافی عرصے سے میرے دل میں یہ خواہش تھی کہ اس وقت کے عظیم مصلح اور ولی کامل حضرت خواجہ سجن سائیں مدظلہ العالی کے خطابات کو مطبوعہ شکل میں عوام الناس کے سامنے لایا جائے تاکہ خاص و عام اس سے بہرمند ہوسکیں۔ لہٰذا اسی خیال کے تحت یہ بامقصد کام شروع کیا گیا۔ اس کام کے شروع کرنے کی نہ مجھ میں قوت تھی اور نہ ہی اس کو انجام دینے کی حیثیت۔ مگر یہ سب میرے مرشد و مربی کی نگاہ کرم کا صدقہ ہے کہ مجھ جیسے بے کار کو اس کار کے لائق بنایا۔

    ان خطابات کے اندر کیا کچھ پوشیدہ ہے اس کا احاطہ مجھ جیسا بے علم و بے عقل شخص نہیں کرسکتا، کیونکہ من آنم کہ من دانم۔ درحقیقت اس کی قدر و قیمت اہل دل ہی سمجھ سکتے ہیں اور بیاں کرسکتے ہیں۔ آپ خود دل کے حضور سے خطابات کا مطالعہ کیجئے اور ان الفاظوں کی معانی و مطالب پر غور کیجئے۔ مجھے یقین ہے کہ اس کے ذریعے آپ کو فیوض و برکات کا حصول ہوگا۔

    آخر میں ان احباب کا تذکرہ جنہوں نے اس کام میں میری رہنمائی فرمائی۔ ان میں جناب مفتی عبدالرحیم صاحب، محترم استاد حبیب الرحمٰن صاحب، محترم ڈاکٹر منور صاحب اور جناب غلام محمد صاحب قابل ذکر ہیں۔ اس موقع پر اگر میں محترم الطاف حسین میمن اور محترم محمد زبیر چنہ کا تذکرہ نہ کروں تو یہ نا انصافی میں شمار ہوگا۔ یہ دونوں دوست از اول تا آخر شب و روز میرے ساتھ مددگار رہے۔ خدا تعالیٰ کی خدمت میں التماس ہے کہ وہ ان جملہ احباب کو اجر عظیم عطافرمائے، میری اس کاوش کو قبول فرمائے اور مجھے دنیا و آخرت میں مرشد مربی حضور قبلہ عالم سجن سائیں مدظلہ العالی کی رضا و عطا نصیب فرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین۔

 

محمد جمیل عباسی طاہری
درگاہ اللہ آباد شریف کنڈیارو