فہرست
سیرت ولی کامل (حصہ اول)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوانح حیات

نام و نسب

قریشی، عباسی خاندان کے یادگار چشم و چراغ اور سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ کے معروف پیر طریقت عامل شریعت عارف باللہ حضور شمس العارفین سراج السالکین سیدی و مرشدی کا نام نامی، اسم گرامی (حضرت قبلہ الحاج) اللہ بخش اور مشہور لقب سوہنا سائیں (نور اللہ مرقدہ) ہے۔ جب کہ حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ آپ کو مولوی صاحب کہہ کر پکارتے تھے اور شروع میں اکثر جماعت آپ کو وڈو خلیفو ( بڑا خلیفہ ) سے موسوم کرتی تھی مگر بعد میں ”سوہنا سائیں“ کے ہر دلعزیز لقب سے مشہور ہو گئے، جسے پسند کرتے ہوئے ایک بار حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا! جبکہ مولوی صاحب (سوہنا سائیں قدس سرہ) کے اخلاق و اعمال سوہنے (اچھے) ہیں بیشک انکو سوہنا سائیں کہتے رہیں۔ اس کے بعد تو اور بھی زیادہ اس لقب سے پکارے جانے لگے۔

ولادت با سعادت

آپ کی ولادت مؤرخہ ۱۰ مارچ ۱۹۱۰ء میں قریشی عباسی خاندان کے معزز، بزرگ صفت اور خوش قسمت حضرت محمد مٹھل قریشی رحمۃ اللہ علیہ کے گھر تحصیل کنڈیارو کے خانواہن نامی چھوٹے سے شہر میں ہوئی۔ حضور کے آباو اجداد خانواہن کے قدیم اور معزز باشندوں میں سے تھے۔ اسی وجہ سے تعداد میں دوسرے قبائل سے کم ہونے کے باوجود آج تک آپ کا خاندان خانواہن کا معزز اور بااثر گھرانہ شمار ہوتا ہے۔

آپ کے دادا محترم

حضور کے جد امجد حضرت اللہ ابھایو رحمۃ اللہ علیہ کافی جائداد کے مالک ہونے کے ساتھ ساتھ صالح، خائف خدا اور سخی انسان تھے۔ جن کی خدا ترسی صبر اور سادگی سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض سرکش پڑوسیوں نے بلاوجہ آ پ کی زمینوں پر ناجائز قبضے کئے مگر اس مرد مجاہد نے جھگڑے، فساد سے بچنے کے لئے صبر کرتے ہوئے اپنی ذاتی زمینوں سے دست بردار ہونا تو پسند کیا، لیکن پڑوسیوں سے اختلاف اور جھگڑا گوارہ نہ کیا، بلکہ اتنی زیادتی کے باوجود آخر تک ان سے شیرو شکر رہے۔

کھنبھڑا قریشی

مشہور یہ ہے کہ راشدی خاندان کے چشم و چراغ ولی کامل حضرت نصیر الدین شاہ راشدی رحمۃ اللہ علیہ کے زمانہ میں حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے خاندان کے بزرگ ان کے مخلص مرید تھے۔ چونکہ ان کے پاس مال مویشی کافی تھے، ایک بزرگ ( نام معلوم نہ ہو سکا ) خانواہن سے دودھ لے کر حضرت نصیر الدین راشدی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں بکھری دے آتے تھے۔ چنانچہ ایک مرتبہ اندھیری رات، سخت بارش اور طوفان کے باوجود وہ صاحب دودھ لے کر روانہ ہوئے، جیسے ہی حضرت راشدی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں پہنچے انہوں نے دیکھا کہ اتنی بارش کے باوجود دودھ دوہنے کے وقت پیدا ہونے والی جھاگ ابھی باقی ہے، تعجب سے فرمایا کیا آپ کے پَر تھے کہ اتنی بارش اور طوفان کے باوجود اڑ کر یہاں پہنچے ہو۔ سندھی زبان میں کھنبھڑا پَر کو کہا جاتا ہے۔ اسی دن سے کھنبھڑا کے نام سے مشہور ہو گئے۔

آپ کے والد ماجد

حضور کے والد ماجد حضرت محمد مٹھل رحمۃ اللہ علیہ کا شمار خانواہن کے شرفاء میں ہوتا تھا۔ آپ نہایت درجہ خائف خدا سخی اور بزرگ صفت مرد مومن تھے۔ نماز باجماعت کے ہمیشہ پابند رہے۔ پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک، غریبوں اور مسکینوں سے مدد و ہمدردی آپ کی فطرۃ ثانیہ تھی۔ خاص کر رمضان المبارک میں تو اور بھی زیادہ غریب پڑوسیوں کی خبر گیری کرتے تھے۔ افطاری کے وقت حسب استطاعت بہتر کھانا تیار کروا کر مسجد میں روزے داروں کے افطار کا اہتمام کرتے تھے اور سحری کے وقت کھانا لے کر مسکینوں کو گھر دے آتے تھے۔

اولاد۔ حضرت محمد مٹھل رحمۃ اللہ علیہ کے گھر یکے بعد دیگرے چار صاحبزادیاں تولد ہوئیں۔ جن میں سے دو ابھی تک حیات ہیں۔ (اور بفضلہ تعالی ان کے کافی بچے بچیاں، پوتے نواسے وغیرہ ہیں) مگر عرصہ تک نرینہ اولاد سے محروم رہے۔ آخر عمر میں اللہ تعالیٰ نے ایک ساتھ دو جڑواں صحت مند صاحبزادے عطا فرما کر ان کی دیرینہ تمنا پوری فرمائی، جن میں سے ایک کا نام (حضرت) اللہ ابھایو (رحمۃ اللہ علیہ) اور دوسرے کا نام (حضرت خواجہ) اللہ بخش (نور اللہ مرقدہ) رکھا گیا، جو آگے چل کر پیر طریقت ولی کامل حضرت الحاج اللہ بخش سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے نام سے مشہور ہوئے۔

تربیت کی فکر۔ حضرت محمد مٹھل رحمۃ اللہ علیہ کو بچوں کی بہتر تربیت کا فکر بھی ہمیشہ دامن گیر رہتا تھا۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ اپنی زوجہ محترمہ (حضور کی والدہ ماجدہ علیہا الرحمہ) سے بچوں کے بارے میں دیہاتی ماحول کے مطابق یہ دعا کہ دونوں بچے بڑے ہوکر کھیتی باڑی کریں گے، بہت ساری آمدنی ہوگی، وغیرہ سن کر فرمایا نہیں نہیں، دنیاوی مال و دولت کی فراوانی کی دعا نہ کرو۔ بلکہ یہ دعا مانگو کہ اللہ تعالیٰ ان کو عالم و فاضل اور واصل باللہ بنائے تاکہ دینی امور میں لوگ ان کی طرف رجوع کریں۔

وفات۔ ابھی حضور سوہنا سائیں اور آپ کے بھائی نور اللہ مرقدہما صرف پانچ ماہ کے شیر خواہ بچے ہی تھے کہ حضرت محمد مٹھل رحمۃ اللہ علیہ کا جواں سالی میں انتقال ہو گیا۔

والدہ ماجدہ

حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی رابعہ صفت والدہ ماجدہ بھی نہایت درجہ خائفۂ خدا، عبادت گزار خاتون تھیں۔ تقویٰ و پرہیزگاری کا اس قدر اہتمام کرتی تھیں کہ ایک روایت کے مطابق کسی موقعہ پر محلے کی چند خواتین اپنے بچوں کو دودھ پلا رہی تھیں۔ وہاں حضور کی والدہ ماجدہ بھی موجود تھیں۔ بات چیت کرتے ہوئے دوسری عورتوں سے پوچھا تمہیں وضو ہے؟ ان کے انکار پر کہا افسوس کی بات ہے کہ وضو کئے بغیر اپنے معصوم بچوں کو دودھ پلا رہی ہو، میں نے کبھی بھی وضو کئے بغیر کسی بچے کو دودھ نہیں پلایا۔ اس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حضور کی والدہ ماجدہ کس قدر صالحہ پارسا خوش قسمت خاتون تھیں۔ حضور کی والدہ صاحبہ کو بھی اپنے یتیم بچوں کی بہتر تعلیم و تربیت کا بہت فکر تھا۔ خاص کر حضرت محمد مٹھل رحمۃ اللہ علیہ کی نیک خواہشات کہ میرے بچے عالم و فاضل اور صالح بنیں ہمیشہ پیش نظر تھیں۔ جبکہ بعد از وفات بھی کئی بار خواب میں زوجہ محترمہ سے فرمایا میرے بچوں کی تربیت کا خیال رکھنا، کسی بات سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، دنیاوی طور پر بھی تم کسی کے محتاج نہ رہوگی، دیکھو فلاں چیز گھر کے فلاں حصہ میں رکھی ہے اور فلاں چیز فلاں کونے میں موجود ہے وغیرہ۔ اس سے اور بھی قلبی اطمینان و سکون حاصل ہوتا اور بچوں کی نیکی اور حسن تربیت کا اور بھی زیادہ فکر ہوتا۔ خاص کر حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ سے محبت بھی زیادہ تھی اور ان کی تعلیم کا فکر بھی زیادہ تھا۔

معاشی حالت

حضرت محمد مٹھل رحمۃ اللہ علیہ کے انتقال کے وقت ۳۰ ایکڑ زرعی زمین کے علاوہ ترکہ میں قابل ذکر کوئی اور چیز نہ تھی۔ زمین سے جو دانے حصے میں آتے حضور کی والدہ ماجدہ گھر کی جملہ ضروریات ان ہی دانوں سے پورا کرتی تھیں۔ سال بھر کے ذاتی استعمال کے علاوہ حسب ضرورت دانے بیچ کر گزارہ کرتی تھیں۔ بعض اوقات دانے بھی اس قدر کم آتے کہ سال بھر کی کفایت نہ سمجھ کر اناج کی بٹائی کے بعد جو تھوڑے بہت دانے زمین پر رہ جاتے ہیں گھر لے آتیں اور صاف کرکے اپنا اور بچوں کا گزارہ کرتی تھیں۔ اس زمانہ میں دانے جمع کرنا عام بات تھی، آج کل عموماً لوگ اس سے عار کرتے ہیں۔ گھر میں دو تین بکریاں بھی تھیں جن کا دودھ پینے کے بھی کام آتا اور بچا کر اسی سے لسی اور گھی کا فائدہ بھی حاصل کرتی تھیں۔ حضور کی بڑی ہمشیرہ صاحبہ کا کہنا ہے کہ اس زمانہ میں گو معاش کے ظاہری اسباب کی قلت تھی، پھر بھی اللہ تعالیٰ نے اس قدر برکت عطا فرمائی تھی کہ ہم نے کبھی تنگ دستی محسوس نہیں کی۔ ضروریات کے لئے والدہ صاحبہ کے پاس کچھ نہ کچھ پیسے ہر وقت موجود ہوتے تھے، اور یہ حقیقت ہے کہ ”تو خدا کا ہو کہ ہوجائے خدا تیرے لئے“۔

والدہ ماجدہ کی شفقت و محبت

ویسے تو آپ کی ہمشیرائیں خواہ دوسرے قریبی رشتہ دار آپ کے اعلیٰ اخلاق کی بدولت آپ سے بہت پیار کرتے تھے، لیکن آپ کی رابعہ صفت والدہ ماجدہ کی دوربین باطنی نگاہ حال سے آگے بڑھ کر آپ کے مستقبل کے رہبر و رہنما ہونے پر مرکوز تھی۔ یہاں تک کہ جب حضرت محمد مٹھل رحمۃ اللہ علیہ (والد حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ) کے وصال کے بعد ان کی ایک ہمشیرہ (حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی پھوپھی) اپنے مرحوم بھائی کے کمسن یتیم بچوں کی خدمت کے لئے مستقل طور پر آکر ان کے یہاں ٹھہریں، تو حضور کی والدہ ماجدہ علیہا الرحمہ نے اپنے دوسرے فرزند اللہ ابھایو سمیت تمام بچوں کی خدمت ان کے سپرد کردی، مگر ان کی چاہت کے باوجود ان کو سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی خدمت کرنے نہیں دیتی تھیں، جملہ حوائج و ضروریات کی خدمت خود ہی کیا کرتی تھیں۔ شیر خوارگی کے بعد جب کھانا کھانے لگے تو نیک طینت حضور سوہنا سائیں کے لئے روٹی، سالن علیحدہ تیار کرتی تھیں، اور اس قدر آداب و احترام ملحوظ رکھتیں کہ بقول حضور کی ہمشیرہ صاحبہ اطال اللہ عمرہا حضور کی چارپائی پر کسی دوسرے بچے خواہ بڑے کو بیٹھنے نہیں دیتی تھیں۔ اسی طرح آپ کے پینے کے لئے جو پانی کا مٹکا اور اس پر کولا رکھ دیتی تھیں اس میں سے کسی دوسرے کو پانی پینے نہیں دیتی تھیں۔ غرضیکہ جملہ حوائج و ضروریات کے معاملے میں والدہ ماجدہ دوسرے بچوں سے بڑھ کر آ پ کا خیال کرتی تھیں۔

والدین کی تقویٰ و پرہیزگاری ہی کا یہ ثمر تھا کہ صغر سنی ہی میں آپ کے مزاج میں نیکی، تواضع، ہمدردی اور خدمت خلق کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا معلوم ہوتا تھا۔ آپ کی ہمشیرہ صاحبہ اطال اللہ عمرہا (جو عمر میں آپ سے بڑی ہیں) کا کہنا ہے کہ جیسے ہی آپ ذرا سمجھ دار ہوئے کسی کے کہنے سمجھانے کے بغیر از خود نماز شروع کی، جس سے والدہ صاحبہ بہت خوش ہوئیں اور بار بار دعائیں دینے لگیں۔ اس کے بعد پانی کا لوٹا بھر کر چارپائی کے قریب ایک اینٹ پر رکھ دیتی تھیں، تاکہ معصوم صالح فرزند جب چاہیں اس سے وضو کرلیں۔ جیسے ہی نماز شروع کی پابندی سے پڑھتے رہے۔ ابھی صغیرہ ہوں گے کہ دل میں اذان دینے کا شوق پیدا ہوا اور محلّہ والوں کی اجازت سے وقت ہوتے ہی سب سے پہلے مسجد میں جاکر اذان دیتے تھے۔

غرضیکہ بچپن ہی سے آپ کی سمجھ بوجھ، بڑوں کا ادب اور حسن اخلاق ایک مدبر، عاقل صالح شخص سے کچھ کم نہ تھا۔ جب بھی کوئی پیاسا آتا، بڑا ہوتا یا چھوٹا، اٹھ کر اسے کولا بھر دیتے تھے۔ کھانے کے وقت جتنے بھی بچے موجود ہوتے اپنے کھانے میں سے ضرور ان کو کچھ دیا کرتے تھے۔ والدہ صاحبہ یا کسی اور رشتہ دار سے جیب خرچی کے لئے پیسے ملتے تو وہ اپنے بھائی کو دیا کرتے تھے۔ غرض کہ بقول حضرت سعدی شیرازی علیہ الرحمۃ کہ بزرگی بعقل است نہ بہ سال (آدمی زیادہ عقل سے بڑا ہوتا ہے نہ کہ زیادہ برس گزرنے سے) حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ بچپن کے زمانہ میں بھی بڑے معلوم ہوتے تھے۔ آپ کے ہمعصر ہم وطن ساتھیوں کا کہنا ہے کہ صغر سنی ہی میں آپ سنجیدہ مزاج، بردبار اور خوش اخلاق تھے۔ باوجود یہ کہ آپ کا کوئی بڑا بھائی، والد، دادا یا کوئی دوسرا ایسا قریبی رشتہ دار نہ تھا جو آپ کی نگرانی یا تربیت کرتا، پھر بھی پڑوس کے تمام بچوں سے اخلاق و رواداری میں آگے تھے۔ دوسرے بچوں کی طرح شرارت لڑنے جھگڑنے سے ہمیشہ دور رہے۔ گو بچوں کے ساتھ اس وقت کے مروجہ دیہاتی کھیل شاہ ٹوٹو، اٹی ڈکر کھیلتے اور عموماً کامیاب بھی ہوتے تھے۔ لیکن اس میں بھی اس قدر رواداری اور حسن اخلاق پیش نظر ہوتا کہ کسی دوسرے کو زیر کرنے کی مطلق کوشش نہیں کرتے تھے۔ جس کی وجہ سے ساتھ کھیلنے والے مسلمان خواہ ہندو لڑکے اور ان کے والدین سبھی آپ کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ جوں جوں عمر میں اضافہ ہوتا گیا، عمر رسیدہ افراد کی مانند آپ کا شمار بھی معززین افراد میں ہونے لگا۔

بھائی کی جدائی

حضور کو اپنے بھائی اللہ ابھایو (رحمۃ اللہ علیہ) سے جسے دادی صاحبہ پیار سے اللہ اڈیو کے نام سے پکارتی تھیں بہت پیار و محبت تھی۔ مگر افسوس کہ زیادہ عرصہ ایک ساتھ رہنا مقدر میں نہ تھا۔ محض ساڑھے سات برس کی عمر میں ایک دن کھیت سے واپس آکر والدہ صاحبہ سے کہا اماں شاید کوئی کیڑا بدن سے گھوم گیا ہے کہ قدرے خارش معلوم ہوتی ہے، اس سال جوار کی فصل تو نہ ہونے کے برابر ہے، کہیں اس سال تمہیں کھانے کے لئے اناج کی تکلیف نہ ہو ( گویا کہ انہیں اپنی زندگی ختم ہونے کا یقین ہو چکا تھا والدہ اور بہن بھائی کا فکر لاحق تھا) غالباً وہی کیڑا پیغام اجل ثابت ہوا کہ ایک دو دن بعد مؤرخہ ۲۶ اکتوبر ۱۹۱۷ء راہی ملک بقا ہوئے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔

پھوپھی صاحبہ کا انتقال

ابھی مرحوم بھائی کی جدائی کے زخم مندمل نہ ہوئے تھے کہ اسی سال آپ کی پھوپھی صاحبہ (جو اپنے بھائی صاحب کی جدائی کے فوراً بعد اپنا گھر بار چھوڑ کر ان کے بچوں کی خدمت کے لئے مستقل آکر رہیں) بھی دارالفناء سے راہی ملک بقا ہوئیں۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔

حضور کی زندہ دل والدہ ماجدہ کو دوسرے بچوں کی نسبت پہلے ہی حضور سے پیار و محبت زیادہ تھی، لیکن دوسرے عزیز فرزند کی جدائی کے بعد ظاہری طور پر بھی ان کی نظر اسی نیک سیرت اکلوتے فرزند پر مرکوز ہوگئی، جو مستقبل میں بیسیوں افراد سے بڑھ کر ثابت ہوئے۔ فالحمد للہ علی ذالک۔

تعلیم و تربیت

مفسر قرآن، جلیل القدر محدث، فقیہ اعظم حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے  مروی ہے کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ من یرد اللہ بہ خیرا یفقھہ فی الدین۔ (ترمذی)

ترجمہ ”جس سے اللہ تعالیٰ بھلائی کرنا چاہتا ہے، اسے دین کی بصیرت عطا فرماتا ہے“

فقہ سے صرف نماز، روزہ کے ظاہری احکام جاننا مراد نہیں، بلکہ شریعت و طریقت اور حقیقت سبھی علوم کا جاننا مراد ہے (ملا علی قاری علیہ الرحمہ)

گو اس زمانے میں نہ تو تعلیم کی خاص قدر تھی نہ ہی والدہ صاحبہ کے علاوہ والد، بھائی یا کوئی اور رشتہ دار تھا جو آپ کو تعلیم کی طرف متوجہ کرتا یا مالی مدد کرتا، پھر بھی والد ماجد کی دعا اور والدہ کی ترغیب اور ذاتی شوق کی بدولت اللہ تعالیٰ نے قریشی ہاشمی خاندان کے اس مادرزاد ولی اور در یتیم کو اس قدر ظاہری اور باطنی علوم و معارف عطا فرمائے کہ لاکھوں راہ حق کے متلاشی آپ سے مستفیض ہوئے اور قیامت تک اس چشمۂ حیات سے سیراب ہوتے رہیں گے، انشاء اللہ تعالیٰ۔

جیسے ہی ہوش سنبھالا ذرا پڑھنے کے قابل ہوئے، کھیل کود کے بجائے پڑھنے کی طرف زیادہ متوجہ ہوئے۔ مگر مالی حالت کمزور ہونے اور خانواہن یا اس کے قرب جوار میں کوئی مناسب دینی مدرسہ نہ ہونے کی وجہ سے عرصے تک نیک دل ماں بیٹے کی یہ قلبی خواہش (کہ آپ دینی علم پڑھ کر عالم فاضل بنیں) پوری نہ ہوسکی اور قرآن مجید کی ناظرہ تعلیم کے ساتھ سکول میں پرائمری تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد سندھی میں فائنل پاس کیا، ساتھ ساتھ اپنی ذاتی زمینوں کی نگہداشت بھی خود کرتے تھے۔ لیکن ذاتی طور پر خود حضور اور آپ کی والدہ صاحبہ اس صورتحال سے مطمئن نہ تھے۔ بالاخر نیک دل والدہ ماجدہ نے دینی تعلیم حاصل کرنے کے لئے اپنے اکلوتے لخت جگر سوہنا سائیں نوراللہ مرقدہ کو اجازت دے کر دعاؤں کے ساتھ دینی تعلیم حاصل کرنے کے لئے رخصت کیا۔

مدرسہ اسلامیہ گیریلو

گو مذکورہ مدرسہ خانواہن سے کافی فاصلہ پر ضلع لاڑکانہ میں واقع تھا، مگر چونکہ اس مدرسہ کے مدرس اعلیٰ حضرت علامہ مولانا الحاج رضا محمد صاحب بہتر تعلیم اور بزرگی و تقویٰ کے لحاظ سے مشہور تھے، اس لئے آپ نے اسی مدرسہ کا قصد کیا۔ چند ہی دن میں نئے وارد خاموش طبع سنجیدہ مزاج، سادگی پسند ادیب اور خدمت گار شاگرد سوہنا سائیں علیہ الرحمہ سے مدرسہ کے منتظمین، اساتذہ اور طلبہ سبھی متاثر ہوئے۔ خاص کر حضرت مولانا رضا محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے تو آپ کی اعلیٰ صلاحیتوں کو بھانپ کر اپنے بچوں کی طرح اپنا لیا، تعلیمی خواہ انتظامی امور میں خصو صی شفقت فرمانے لگے۔

فقر۔ مذکورہ مدرسہ میں طلبہ کے لئے خاص لنگر خانے باورچی وغیرہ کا انتظام نہیں تھا، بلکہ اس وقت کے اکثر مدارس کی طرح طلبہ پڑوس کے مسلمانوں کے گھروں سے کھانا لینے جاتے تھے اور وہ بخوشی ثواب کی خاطر کھانا دے دیا کرتے تھے (اور یہ ازروئے شرع جائز بلکہ دینے والوں کے لئے بڑا اجر و ثواب کا باعث بھی ہے) مگر متوکل علی اللہ سیدی سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے دل نے یہ گوارہ نہ کیا کہ کھانا لینے کے لئے کسی کے در پر چلے جائیں۔ جب دوسرے طلبہ فقر (لنگر) لینے جاتے تھے تو آپ کسی جگہ تنہائی میں بیٹھ کر پڑھتے یا ذکر و تلاوت میں مشغول ہوجاتے۔ کسی سے کھانا نہ ملنے کی شکایت کرنا تو دور کی بات ہے، کئی دن تک کسی کو یہ محسوس بھی نہ ہونے دیا کہ آپ فاقہ سے ہیں۔ حسب معمول خوش و خرم دکھائی دیتے رہے۔ آخر آپ کے توکل، تقویٰ اور عاکف بباب اللہ (دربار الٰہی پر مقیم) ہونے کا عمدہ ثمر یہ ظاہر ہوا کہ بعض باصلاحیت طلبہ (نے جب آپ کو کچھ کھاتے یا کسی کے گھر کھانا لینے نہ جاتے ہوئے دیکھ کر باہمی مشورہ کر کے) مدرسہ میں بیٹھے آپ کو کھانا دے جاتے تھے۔ حضور اپنے مدرسہ جامعہ عربیہ غفاریہ کے طلبہ کو تعلیم کی ترغیب دیتے ہوئے اپنے زمانہ تعلیم کے کئی واقعات و حالات سناتے تھے۔ مثلاً یہ کہ فرمایا میں ضلع نواب شاہ کا رہنے والا تھا جہاں چاول کی روٹی کھانے کا رواج ہی نہیں ہے، اور گیریلو ضلع لاڑکانہ میں رواج ہی چاول کی روٹی کا تھا۔ جتنا عرصہ میں وہاں رہا پیچش کی وجہ سے بیمار رہا۔ چاول شروع سے میرے مزاج کے موافق نہ تھے، پھر بھی تعلیم بہتر ہونے کی وجہ سے عرصہ تک کھاتا رہا۔

یار شاطر باشد نہ بار خاطر

”دوست وہ ہے جو اپنے دوست کے لئے خوشی کا باعث ہو، نہ کہ بوجھ و تکلیف کا“

حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کو اللہ تعالیٰ نے بچپن ہی سے اپنے در دولت کا مستقل مہمان بنا رکھا تھا۔ تاحیات لالچ، طمع، غیر کے خوف و امید سے کوسوں دور رہے۔ دوست و احباب سے تعلق و محبت بھی الحب فی اللہ (خدا کے لئے محبت) کے تحت رہی، اسی لئے کسی بھی بہی خواہ پر بوجھ بننا کبھی گوارہ نہ کیا۔ چنانچہ گیریلو میں پڑھنے کے زمانہ کا ایک واقعہ بیان فرماتے تھے کہ خانواہن اور گیریلو کے درمیان کافی فاصلہ تھا۔ دریائی ریت کا طویل سفر کرکے کشتی کے ذریعہ دریا پار کرکے پھر بھی کافی فاصلہ پیدل طے کرکے مدرسہ پہنچتا تھا، اس لئے بعض اوقات کھانے کا وقت گزر جانے کے بعد گیریلو پہنچتا تھا۔ تو ایسی صورت میں مدرسہ کے بجائے کچھ ہی فاصلہ پر کسی درخت کے نیچے یا کسی کھیت میں سو جاتا تھا، جہاں طلبہ یا بستی والوں کی آمدورفت نہ ہوتی تھی۔ مدرسہ اس لئے نہ جاتا تھا کہ کہیں میرے جانے پر استاد صاحب یا کوئی طالب علم کھانا لانے کا تکلف کرے، اسی طرح زمین پر سو کر رات گزارتا اور صبح کو بروقت مدرسہ پہنچ جاتا تھا۔

والدہ کی خدمت و ادب

وقفہ وقفہ سے آپ والدہ صاحبہ کی خبر گیری، زیارت اور خاص کر جلانے کی لکڑیاں جمع کرکے دینے کے لئے خانواہن آتے تھے (اس لئے کہ کوئی اور آدمی لکڑیاں جمع کرکے دینے والا تھا نہیں) جیسے ہی آپ گھر میں داخل ہوتے والدہ صاحبہ دیکھتے ہی الحمد للہ بسم اللہ کہہ کر خوشی کا اظہار کرتی تھیں اور آپ قدم بوسی کی کوشش کرتے تھے مگر والدہ صاحبہ قدم بوس ہونے یا ہاتھ چومنے نہیں دیتی تھیں۔ اس لئے مصافحہ کے بعد باادب دوزانو بیٹھ جاتے تھے اور والدہ صاحبہ خیریت دریافت کرنے کے ساتھ ساتھ بار بار دعائیں دیتی رہتیں کہ اللہ تعالیٰ تجھے عالم و فاضل بنائے، طویل عمر اور اولاد صالح عطا فرمائے وغیرہ۔

مدرسہ دیہات میں

شاید اللہ تعالیٰ کو اپنے اس نوجوان پیارے ولی کی والدہ سے دوری، اور سفر کی مزید مصیبت برداشت کرنا منظور نہ تھا، از خود مولانا موصوف گیریلو سے مستعفی ہوکر دیہات تحصیل کنڈیارو میں پڑھانے آئے جو کہ خانواہن سے بہت قریب ہے۔ کچھ ہی عرصہ بعد کوڑو وہتو نامی بستی کے باشندوں کے اصرار کرنے پر ادھر منتقل ہوگئے۔ ہر دو جگہ حضور، استاد محترم کے پاس رہ کر پڑھتے رہے۔ یہاں آنے کے بعد مزید سہولت یہ ہوئی کہ تقریباً ہر ہفتہ والدہ صاحبہ کی خدمت میں حاضر ہو کر جملہ ضروری اشیاء خرید کر دے جاتے تھے اور حسب ضرورت لکڑیاں بھی جمع کر کے دے جاتے تھے۔ جبکہ گیریلو سے کافی دیر بعد ہی چند دن کے لئے گھر آتے تھے۔

بھریا میں تعلیم

جب حضرت مولانا رضا محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی زوجہ محترمہ کا انتقال ہوگیا تو گھر ذاتی مجبوریوں کے تحت کوڑو ہتو کے مدرسہ سے منتقل ہوکر بھریا آگئے اور وہاں مرحوم نور محمد شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے مدرسہ میں پڑھانے لگے۔ حضور بھی اپنے استاد محترم کی معیت میں بھریا پڑھنے آئے۔ اس زمانہ میں نہ ہی موجودہ قومی شاہراہ کا وجود تھا نہ ہی بس وغیرہ کی سواری تھی۔ پیدل ہی آتے جاتے تھے۔ طلبہ کو تعلیم کے لئے ترغیب دلاتے ہوئے کبھی بھریا کی تعلیم کا بیان فرماتے تھے کہ جب کبھی مجھے گھر جانا ہوتا، تہجد کے وقت بھریا سے پیدل روانہ ہوتا، دوپہر سے پہلے پہلے کنڈیارو سے گزر کر عموماً ظہر سے پہلے پہلے خانواہن پہنچتا تھا۔

بھریا میں امامت

استاد صاحب محترم کے حکم سے بھریا کی ایک مسجد میں کچھ عرصہ امامت بھی فرمائی، مگر اس درمیان مسجد میں جو کھانا آپ کو ملتا، لے کر استاد صاحب کی خدمت میں پیش کرتے تھے اور خود دوسرے طلبہ کے ساتھ مدرسہ کا کھانا کھاتے تھے اور مہینہ پورا ہونے پر جو تنخواہ ملی وہ بھی پوری کی پوری استاد صاحب کی خدمت میں پیش کی، اپنے لئے ایک روپیہ تک نہ رکھا۔

شرم و حیاء

آپ شروع سے شرمیلے، بزرگ صفت اور متواضع تھے۔ ابھی آپ مدرسے میں زیر تعلیم تھے کہ چادر اوڑھتے تھے۔ بستی کی گلیوں سے گزرتے تو چادر اوڑھے ہوئے گردن نیچی کئے ہوئے چلتے تھے تاکہ کسی غیر محرم عورت پر نظر نہ پڑے۔ گویا کہ طریقت میں قدم رکھنے سے پہلے ہی طریقہ عالیہ نقشبندیہ کے سبق ”نظر بر قدم“ کے عامل تھے۔ شمائل نبوی صلّی اللہ علیہ وسلم میں حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کی ایک خوبی شرم و حیاء بھی بیان کی گئی ہے۔

کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اشد حیاء من العنراء فی خدرھا

کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم چادر میں ملبوس ایک غیر شادی شدہ عورت سے بھی زیادہ حیا دار تھے۔ اسی طرح عاشق رسول متبع سنت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ بھی بچپن سے بڑھاپے تک یکساں مجسمۂ شرم و حیاء رہے۔ یہاں تک کہ حضور کے ہمعصر ساتھیوں کا کہنا ہے کہ ہم بچے مل کر خانواہن (حضور کی آبائی بستی) کے قریب اڑل نالی نہر میں نہانے جاتے تھے۔ لیکن چونکہ کئی لڑکے ننگے ہوکر نہاتے تھے، اس لئے ہمارے کہنے کے باوجود حضور ہمارے ساتھ نہیں نہاتے تھے بلکہ دور جا کر چادر باندھ کر اکیلے نہاتے تھے۔ اسکول میں یا راہ چلتے خواہ کھیلتے کبھی کسی سے غیر مناسب ہنسی مذاق یا استہزاء نہیں کرتے تھے۔ آپ کی خاموش طبعی، حلم و بردباری سے ناجائز فائدہ حاصل کرتے ہوئے کئی شریر لڑکے آپ کو درویش، صوفی وغیرہ کہہ کر غصہ دلانے کی کوشش کرتے اور کبھی اوڑھی ہوئی چادر چھین کر دور پھینک دیتے، مگر آپ کسی انتقام یا غصہ کے بغیر خاموشی سے اپنی چادر اٹھا کر اوڑھ لیتے تھے۔

ایک واقعہ۔ حضرت قبلہ سیدی صاحبزاہ سجن سائیں مدظلہ العالی نے بتایا کہ ایک مرتبہ جیسے ہی حضور نور اللہ مرقدہ گھر میں بیٹھے ہوئے تھے آپ کا بازو مبارک قدرے کھلا ہوا تھا، جس پر قدیمی زخم کا نشان نظر آیا۔ میں نے پوچھا حضور یہاں کوئی چوٹ لگی تھی؟ فرمایا یہ بچپن کے زمانے کا ایک یادگار نشان ہے۔ اصل واقعہ یہ ہے کہ چونکہ بچپن کے ایام میں مجھے گالی گلوچ، لڑنے جھگڑنے، شرارت کرنے یا بدلہ لینے کی عادت مطلق نہ تھی، اس لئے کئی شریر لڑکے خواہ مخواہ مجھے تنگ کرتے تھے۔ چنانچہ ایک مرتبہ میں ایک اونچی جگہ پر بے فکر کھڑا تھا کہ پیچھے سے آکر ایک شرارتی لڑکے نے دھکا دے کر مجھے گرایا، جس سے میرا یہ بازو ٹوٹ گیا۔ ایک کمہار سے ٹھیک کرایا، اس کے علاج سے فائدہ تو ہوا مگر اس کی مہارت نہ ہونے کی وجہ سے یہ نشان پھر بھی رہ گیا۔

شادی خانہ آبادی

رسول خدا صلّی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے۔ ”اربع من سنن المرسلین الحیاء والتعطر والسواک والنکاح“

چار چیزیں انبیاء کرام علیہم السلام کی سنتوں میں سے ہیں ۱۔ حیاء، ۲۔ خوشبو استعمال کرنا، ۳۔ مسواک کرنا، ۴۔ شادی کرنا۔ حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ نے پہلی شادی طالب علمی کے زمانے میں تنیہ قریشی خاندان سے کی جو بوقت نکاح صغیرہ تھی۔ واضح رہے کہ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جب رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کے عقد نکاح میں آئیں صغیرہ تھیں اور ان کی عمر صرف ۹ سال تھی۔

رسوم سے پاک شادی

ملک بھر میں اس زمانے میں بھی سینکڑوں غیر شرعی رسم و رواج شادی کا لازمی جزو سمجھے جاتے تھے، جن میں آج کی طرح اس وقت کے کئی نیک صالح افراد بھی ان رسموں میں مبتلا تھے۔ مگر آپ نے شاگردی کے اس غیر ذمہ دارانہ زمانے میں بھی مروجہ ونواہ بکی، نمھالھہ وغیرہ کی اجازت نہ دی۔ عموماً شادی سے کوئی ایک ماہ پہلے سے لاڈا سہرا شروع کئے جاتے تھے، لیکن آپ نے شادی کے عین موقعہ پر بھی اسے روا نہ رکھا۔ رسم نکاح اور ولیمہ نہایت سادگی سے شریعت مطہرہ کے مطابق انجام پائے۔ مروجہ شادیوں کی طرح دور دور کے دوست احباب کو بلائے بغیر نکاح کے موقعہ پر اپنی حیثیت کے مطابق چینی کی ایک بوری خرید کر اہل قرابت و دیگر پڑوسیوں میں تقسیم کی۔ اسی طرح ولیمہ کے موقعہ پر بھی سنت رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کے عین مطابق دو دیگ میٹھے چاول پکائے گئے اور بس۔

اتباع سنت کا ثمرہ

الحمد للہ حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے خلاف شرع رسم و رواج سے نفرت، ہمت، استقامت اور اتباع سنت کے طفیل آپ کے خاندان ہی نے نہیں کیا بلکہ بہت سے دوسرے پڑوسیوں نے بھی متاثر ہو کر یہی طریقہ کار اپنا لیا۔ حضور کی شادی کے بعد آپ کے بھانجوں کی شادیاں اور بچوں کے ختنے کسی رسم و رواج کے بغیر سادگی سے انجام پائے۔

بدعت سے نفرت اور صبر

سیدی سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے بہنوئی محترم صاحبڈنہ مرحوم نیک صالح، خائف خدا انسان تھے۔ آخر عمر میں ان کو ، مرگی کا دورہ پڑ جاتا تھا۔ کافی علاج، معالجہ کے باوجود کوئی خاص فائدہ نہ ہوا، بلکہ ”مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی“ کے مطابق بیماری اور کمزوری بڑھتے ہی گئے۔ بعض لوگوں نے یہ اندیشہ ظاہر کیا کہ اس پر جنات کا اثر ہے جس کے لئے سرندد (ایک قسم کا باجہ ہے) منگوا کر اسے سنائیں خوش ہوجائے گا۔ ان دنوں حضور بھریا میں زیر تعلیم تھے، بہنوئی کی بیماری کا سن کر خانواہن تشریف لا چکے تھے، جب مرحوم کے بھائی نے مذکورہ تجویز اور اپنی آمادگی کا اظہار کیا، آپ نے فرمایا سرندد سنانا کوئی علاج نہیں، شریعت و سنت کے خلاف کوئی بھی عمل فائدہ کے بجائے نقصان کا باعث ہو سکتا ہے، میرے خیال میں اس پر آسیب کا اثر ہی نہیں، اگر ہو بھی تو خلاف شرع کسی بات پر کم از کم میں آپ سے متفق نہیں ہو سکتا۔ بہرحال مرحوم کے بھائی بضد رہے۔ حضور وضو بنا کر مسجد شریف چلے گئے۔ ابھی حضور مسجد شریف ہی میں تھے کہ سرندد بجانے والے بلائے گئے۔ اس وقت مریض کی حالت از حد نازک تھی، بات چیت کی سکت باقی نہ تھی، پھر بھی جیسے ہی سرندد بجانے والے چارپائی کے نزدیک چٹائی پر بٹھائے گئے۔ انکو دیکھتے ہی فقیر صاحب نے منہ دوسری طرف کر لیا۔ نہ معلوم ابھی سرندد بجانا شروع بھی کیا تھا یا نہیں کہ فقیر صاحب کی روح قفص عصری سے نکل کر ابدی آرام گاہ میں جا پہنچی (فقیر صاحب مرحوم نے عملی طور پر زبان حال سے بتا دیا کہ صحیح معنوں میں اہلسنّت و جماعت فضلی غفاری کبھی بھی غیر شرعی کام برداشت نہیں کر سکتا) حضور جیسے ہی نماز پڑھ کر گھر تشریف لائے رونے کی آواز سنائی دی۔ لیکن آتے ہی آپ نے سختی سے منع فرمایا کہ خبردار کوئی بھی آواز سے نہ روئے، آواز سے رونا گناہ ہے، دل ہی دل میں افسوس یا بلا آواز آنسو نکل پڑیں تو کوئی حرج نہیں، اللہ تعالیٰ کے ہر حکم پر راضی رہ کر صبر کرنا چاہیے وغیرہ۔

طریقت میں قدم

ابھی آپ بھریا کے مدرسہ میں زیر تعلیم تھے کہ ۱۳۵۴ ھ میں حضرت پیر فضل علی قریشی مسکین پوری رحمۃ اللہ علیہ تبلیغی سلسلہ میں ہالانی تحصیل کنڈیارو تشریف لائے اور آپ کے مخلص دوست اور پڑوسی قاضی دین محمد صاحب جو پہلے سے حضرت قریشی رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت تھے آپ کو اطلاع دینے بھریا آئے۔ چونکہ حضور پہلے بھی ایک بار حیدرآباد میں حضرت مسکین پوری رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت کر چکے تھے (سلاوٹ مسجد، ٹنڈو ولی محمد، حیدرآباد میں نماز پڑھ کر حضرت پیر قریشی علیہ الرحمہ باہر نکل رہے تھے کہ اتفاقاً حضرت سوہنا سائیں علیہ الرحمہ بھی وہیں آگئے اور زیارت کی، بیعت ہونے یا تفصیلی ملاقات کا وقت نہ ملا تھا۔ عقیدت، محبت اور بیعت ہونے کی تمنا اسی وقت سے دل میں موجزن رہی) حضور قاضی صاحب موصوف کے ہمراہ پیدل بھریا سے خانواہن حضرت پیر قریشی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے طریقہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت ہوئے۔

بیعت اور وجد

مورخہ ۱۳ صفر ۱۴۰۰ ھ بعد از نماز عصر حضرت قبلہ سائیں رفیق احمد شاہ صاحب (نواسہ حضرت پیر قریشی قدس سرہ) و دیگر جماعت سے اپنی ابتداء بیعت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جب حضرت پیر قریشی قدس سرہ تبلیغی سلسلہ میں ہالانی تشریف لائے تھے، اسٹیشن سے قیام گاہ کافی دور تھی، اسٹیشن سے قیام گاہ تک تمام جماعت بلند آواز سے اللہ، اللہ کا ورد کرتے ہوئے حضرت صاحب قدس سرہ کے پیچھے آرہے تھے۔ جیسے ہی یہ عاجز حضرت سے بیعت ہوا اسی وقت سخت جذبہ ہوگیا۔ (مذکورہ ارشاد فرماتے وقت حضور پر گریہ و سکتہ کی سی حالت طاری ہوگئی، تھوڑی دیر بعد میں پھر زبان درافشان سے ارشاد فرمایا) کہ اس زمانے میں جذبہ اتنی کثرت سے ہوتا تھا کہ بعض اوقات ساری ساری راتیں فقراء جذبے و مستی میں گزار دیتے تھے، کھانے پینے کی یاد ہی نہیں رہتی تھی۔ رمضان المبارک میں جذبہ و مدہوشی کی وجہ سے کھائے پیئے بغیر سحری کا وقت گزر جاتا، کئی بار کتے آکر مجذوبوں کا کھانا کھا گئے ان کو پتہ ہی نہیں چلا، لوگ حضرت قریشی قدس سرہ کو جذبہ والا پیر، اور مولویاں دا پیر کہہ کر پکارتے تھے۔ اب تو کیا درگاہ رحمت پور شریف میں بھی اس زمانے کے مقابلے میں عشر عشیر بھی جذبہ نہیں تھا، اسی تبلیغی دورے میں حضرت پیر قریشی قدس سرہ محترم حاجی محمد یوسف صاحب کی دعوت پر محراب پور بھی گئے تھے، یہ محترم سید غلام رسول شاہ صاحب کنڈیارو والے بھی اسی زمانہ کے فقیر ہیں، حضرت قریشی قدس سرہ دو تین بار کنڈیارو بھی تشریف لائے تھے۔

زوجہ محترمہ کا انتقال اور الہام

جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا کہ پہلی شادی کے وقت اور اس کے بعد بھی کافی عرصہ تک آپ بھریا میں زیر تعلیم رہے، اس لئے آپ وقفے وقفے سے گھر جاتے تھے۔ جس دن زوجہ محترمہ کا انتقال ہوا اس دن بھی آپ مدرسہ میں تھے، معلوم ہونے پر نماز جنازہ سے بھی پہلے گھر پہنچے، مگر تیمارداری و خدمت کا موقعہ میسر نہ آنے اور بوقت وفات موجود نہ ہونے کا آپ کو سخت افسوس ہوا۔ کافی دیر تک گریہ (بلا آواز) اور وجد کی حالت طاری رہی اور مسلسل کئی دن تک زوجہ محترمہ کی مزار پر جاکر ختم بخشتے، دعا و استغفار کرتے رہے۔ آخر زوجہ محترمہ کی تدفین کے دوسرے دن من جانب اللہ آپ کو تسلی بخش الہام کے ذریعے مطمئن کیا گیا، جس کا اظہار آپ نے حاجی الہندو خان مرحوم سے اس طرح فرمایا کہ آج زوجہ کی مزار پر جذبہ کی حالت طاری ہوگئی، اسی عالم میں میں نے اپنے پیر و مرشد رحمۃ اللہ علیہ سے مخاطب ہوکر یہ التجا کی کہ یا حضرت آپ فرمایا کرتے ہیں کہ مصیبت اور مشکل کے وقت مرید کی پکار پر ہم حاضر ہوجاتے ہیں، آج میں بہت مغموم ہوں، پریشان حال ہوں، اطمینان و تسلی کا خواہاں ہوں، میری مدد فرما دیں وغیرہ۔ اسی وقت حضرت صاحب ساتھ کھڑے نظر آئے اور مجھے فرمایا پریشان کیوں ہوتے ہو؟ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ اور اسی وقت زوجہ محترمہ کے لہجہ میں مزار سے یہ ہاتفی آواز سنی کہ تمہاری دعائیں عنداللہ مقبول ہیں، میں یہاں ہر طرح سے خوش ہوں، آپ میری وجہ سے پریشاں نہ ہوں وغیرہ۔

حضور کی زوجہ محترمہ ازحد پرہیزگار، صابرہ شاکرہ خاتون تھیں اور انتقال بھی درد زہ میں ہوا تھا، جس کے متعلق رسول خدا صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو عورت درد زہ میں فوت ہو جائے وہ شہیدہ ہے، اور جملہ شہداء نص قطعی کے مطابق یقینا جنتی ہیں۔ حضور کی زوجہ محترمہ کی والدہ صاحبہ بیٹی کے انتقال سے نڈھال ہو گئیں، بعض اوقات منع کرنے کے باوجود بلند آواز سے روتی تھیں، آخر کار ایک رات حضرت صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے مخلص مرید فقیر لونگ مرحوم کو (جو مرحومہ کے بہنوئی اور از حد صالح اور مجذوب تھے) غیر اختیاری وجد و جذب اس قدر ہوا کہ بقولہ کوئی غیبی طاقت مجھے کھینچ کر قبرستان تک لے گئی، جیسے ہی حضور کی زوجہ محترمہ کی مزار کے پاس پہنچا، قبر سے یہ آواز سنائی دی ”بھائی لونگ میری والدہ رونے دھونے سے باز نہیں آتی، ان کو کہیں کہ صبر کریں، میری تو حیاتی تھی ہی اتنی میں تو یہاں خوش ہوں وغیرہ“
دراصل بعد از وفات بی بی صاحبہ نے اپنی والدہ محترمہ کے نام مذکورہ پیغام بھیج کر اسے ایک بہت بڑے گناہ سے بچنے کی ہدایت و تلقین کی۔ جس کے متعلق رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے ”وہ آدمی ہم میں سے نہیں ہے جو (تکلیف کے وقت) گریبان چاک کرے، منہ پر مارے، یا جاہلوں کی طرح کچھ کہے، (خلاف شرع الفاظ زبان پر لائے)“

تعلیم کی قدر

حضور کی ہمشیرہ صاحبہ کا کہنا ہے کہ حضور کو تعلیم کا اس قدر شوق تھا کہ تعلیم میں رخنہ واقع ہونے کی وجہ سے ضرورت کے تحت ہی گھر آیا کرتے تھے، یہاں تک کہ اگر گھر آنے کی کوئی خاص ضرورت نہ ہوتی تو مدرسہ کی چھٹیوں میں بھی گھر نہ آتے تھے، استاد محترم کے پاس رہ کر پڑھتے تھے، یہی نہیں بلکہ چند بار عید کرنے بھی گھر نہ آئے، حالانکہ بھریا پڑھنے کے زمانہ میں آپ کی شادی بھی ہوچکی تھی۔ چنانچہ عید کے بعد والدہ صاحبہ و دیگر اہل خانہ کے نام تسلی دیتے ہوئے تفصیل سے خط لکھتے تھے کہ میں بالکل خیریت سے ہوں، صرف تعلیم کی وجہ سے گھر نہ آیا، عید کے دن شاید آپ نے ایک قسم کا کھانا کھایا ہو، مجھے تو سات قسم کے کھانے (نام لکھ کر) میسر ہوئے وغیرہ۔ اور ہر خط کے آخر میں والدہ محترمہ کے نام اہلیہ کی دلجوئی اور کھانے پینے میں حتی المقدور وسعت و کشادگی کی تاکید لکھتے تھے۔ گو کتنی ہی دیر بعد گھر آتے اور والدہ صاحبہ آپ کے لئے بہت اداس اور بے تاب ہوتیں، پھر بھی کبھی یہ نہ کہا کہ آپ کیوں دیر سے آئے؟ یا عید کے لئے تو آجاتے وغیرہ۔ بلکہ جب کبھی کہا یہی کہا ”تو اللہ تعالیٰ کا ہے، اللہ تعالیٰ تجھے ہمیشہ خوش رکھے وغیرہ“۔

والدین کی دعا

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلّی الہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ”تین دعائیں مقبول ہیں، ان کی مقبولیت میں کوئی شک نہیں ہے، ۱۔ والد کی دعا اولاد کے لئے ۲۔ مسافر کی دعا ۳۔ مظلوم کی دعا“ حضرت ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے مرقات میں لکھا ہے کہ گو اس حدیث شریف میں والدہ کا ذکر نہیں ہے، لیکن جب والد کی دعا یقینا قبول ہوتی ہے تو والدہ کی دعا بطریق اعلیٰ ضرور قبول ہوگی۔

دوسری حدیث شریف میں ہے ”والدین کی رضا میں اللہ تعالیٰ کی رضا ہے، اور والدین کی ناراضگی میں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی ہے“۔ گو حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کو والد ماجد کی خدمت کا موقعہ میسر نہ آیا، مگر والدہ ماجدہ کی خدمت، فرماں برداری میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہ کیا، کماحقہ انکی رضا حاصل کی اور بار بار ان سے نیک دعائیں حاصل کرتے رہے۔ یہی نہیں بلکہ آپ کی والدہ صاحبہ دوسرے بزرگوں سے بھی آپ کے دین و دنیا کی بہتری اور بھلائی کے لئے دعائیں کراتی تھیں۔

پیر کی محبت

حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی دعوت پر حضرت خواجۂ خواجگان پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ خانواہن تشریف فرما ہوئے، گھر ہی کے ایک علیحدہ کمرے میں قیام فرمایا، نماز فجر بھی اسی کمرے میں باجماعت ادا کی اور اس کے بعد مراقبہ بھی وہیں کرایا۔ مراقبہ سے فراغت کے بعد حضرت سوہنا سائیں کی والدہ ماجدہ نور اللہ مرقدھا نے حضور پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ سے عرض کی کہ حضور میرے اس فرزند (حضرت سوہنا سائیں علیہ الرحمہ) کے لئے دعا فرمادیں کہ اس کی شادی بھی ہو جائے اور اللہ تعالیٰ اسے صالح فرزند بھی عطا فرمائے وغیرہ، اس پر بلند آواز سے ایک بار اللہ کی ضرب مار کر کھڑے ہوگئے اور با ادب والدہ صاحبہ سے عرض کرنے لگے، اگر میرے لئے دعاکرانا چاہتی ہو تو پیر کامل کی ہی کامل محبت اور شریعت پر استقامت کی دعا کرائیں، نہ کہ بیوی بچوں کی دعائیں۔ حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ نیک دل والدہ کی اپنے لائق فرزند سے محبت، دعا طلبی اور صالح فرزند کا ادب، شریعت و طریقت سے کمال محبت دیکھ کر تبسم فرمانے لگے، اور جب واپس اپنی خانقاہ شریف پر پہنچے تو اپنے گھر میں بڑے شوق سے ماں بیٹے کا مذکورہ مکالمہ بیان کر کے فرمایا، مولوی صاحب کی والدہ صاحبہ ان کے لئے دگنی، دگنی (شادی اور ساتھ ساتھ اولاد) کی دعائیں کرا رہی تھی۔

ایک اور موقعہ پر لاؤڈ اسپیکر پر تقریر کرتے ہوئے حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی بہت تعریف فرمائی، ساتھ ساتھ یہ بھی فرمایا کہ مولوی صاحب (سوہنا سائیں علیہ الرحمہ) کو والدہ کی دعاؤں نے رنگ دیا ہے، ان کو نیکی، تقویٰ اور بزرگی کے مدارج پر نیک والدہ کی نیک دعاؤں نے پہنچایا ہے۔
قول مقبولاں را رد نباشد کے مطابق اللہ تعالیٰ نے آپ کو دین دنیا کی سعادتوں سے نوازا، شادی بھی ہو گئی، صالح فرزند بھی عطا ہوا۔

ملازمت اور استعفاء

چونکہ آپ کی طالب علمی کے زمانہ میں زمینوں کی صحیح دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے مناسب پیداوار نہیں تھی اور نہ ہی دوسرا کوئی ذریعہ معاش تھا، اس لئے تعلیم سے فراغت کے بعد والدہ صاحبہ کے مشورہ سے خانواہن آکر رہے۔ پڑوس میں تبلیغ، والدہ کی خدمت، زمینوں کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ والدہ صاحبہ اور دیگر بہی خواہوں کے مشورے سے چند ماہ بستی قاضی امام بخش میں بطور معلم ملازم رہے، مگر جلد ہی ملازمت کو خیر باد کہہ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دین اسلام کی اشاعت کی ملازمت کو اپنا لیا۔ اسکول سے استعفا دینے کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے تھے، اسکول میں چند استاد اور بھی تھے اور وہ طلبہ پر کبھی بیجا سختی کرتے تھے اور خوب مارتے تھے جو مجھ سے دیکھا نہ جاتا تھا۔ دیگر یہ کہ مجھے شریر لڑکوں کو سزا دینا بھی دشوار لگتا تھا کہ کہیں قصور سے زیادہ کسی کو سزا نہ مل جائے اور شریر لڑکوں کا سزا کے بغیر پڑھنا بھی مشکل ہوتا ہے، اس لئے میں نے یہی مناسب سمجھا کہ ایسی ملازمت سے علیحدہ رہنا ہی میرے لئے بہتر ہے۔ واضح رہے کہ مذکورہ ملازمت کے دوران آپ کو جتنی تنخواہ ملتی رہی وہ سبھی والدہ صاحبہ کی خدمت میں پیش کرتے رہے۔ آخر والدہ صاحبہ کے حکم سے ان پیسوں کی ایک گائے خریدی جس کی نسل ابھی تک چلی آرہی ہے۔ جبکہ مختصر عرصہ آپ نے سلائی کا کام بھی کیا۔ (صاحبزادہ صاحب مدظلہ)

گو مذکورہ ملازمت سے علیحدگی کے بعد بھی مختصر سی زمین کی محدود آمدنی کے علاوہ اور کوئی ذریعہ معاش نہ تھا، مگر آپ بجائے اس کے کہ خود رہ کر زمین کی کاشت یا نگہداشت کرتے اپنی ساری زمین الہندو خان مرحوم کی نگہداشت میں دے کر مستقل طور پر سلوک و طریقت کی طرف متوجہ ہو گئے۔ بس توکلا علی اللہ رات دن تبلیغ و اشاعت اسلام میں مصروف رہے اور اس وقت سے لے کر آخر عمر تک نا تو کسی قسم کا ذاتی کاروبار کیا نہ ہی اس کی ضرورت پیش آئی۔

حضرت پیر قریشی علیہ الرحمہ سے آخری ملاقات

حضور پیر فضل علی قریشی رحمۃ اللہ علیہ سے حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی تیسری اور آخری ملاقات و زیارت ۲۷ رجب ۱۳۵۴ھ میں ہوئی تھی جس کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے تھے کہ جب دہلی اور جالندھر کے تبلیغی سفر میں جانے سے پہلے حضرت قریشی رحمۃ اللہ علیہ ۲۷ رجب کے مقررہ جلسہ میں شرکت کرنے جلال پور پیر والہ تشریف فرما ہوئے تھے۔ یہاں سندھ کی جماعت کے ساتھ یہ عاجز بھی وہاں حاضر ہوا تھا۔ اس کے بعد حضرت قریشی رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت نہ ہو سکی۔ مذکورہ سفر پر روانگی کے وقت بھی آپ کی نقاہت و کمزوری کا یہ عالم تھا کہ چل کر گاڑی میں بیٹھنے کی بھی سکت نہ تھی، آخر مولوی صاحب (غالباً مولانا نذیر احمد صاحب یا مولانا محمد موسیٰ کا نام لے کر فرماتے تھے) نے سہارا دیکر آپ کو گاڑی میں بٹھایا۔ اسی سفر میں فالج کا شدید حملہ ہوا۔ واپسی پر جمعرات ۱۳۵۴ھ کی رمضان المبارک کی چاند رات انتقال فرمایا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

واضح رہے کہ حضرت پیر قریشی قدس سرہ نے اپنی باطنی بینائی سے حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی اہلیت و استعداد معلوم کرکے اس دوسری ہی ملاقات میں خصوصی توجہات عالیہ کے ساتھ ساتھ دوسرے باطنی سبق (لطیفہ روح) کی تعلیم سے بھی نوازا، حالانکہ عموماً مشائخ طریقت ہر بار نئے سبق کا اضافہ نہیں کرتے۔