فہرست
سیرت ولی کامل (حصہ اول)

حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت

شروع ہی سے حضرت پیر قریشی قدس سرہ نے اپنے خلیفۂ اجل حضرت خواجہ محمد عبدالغفار عرف پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کو سندھ میں تبلیغ کرنے کا حکم فرمایا تھا۔ حسب ارشاد حضرت قریشی رحمۃ اللہ علیہ کے حین حیات میں اکثر اوقات اندرون سندھ کے دیہی علاقوں میں تبلیغ کرنے تشریف لاتے تھے اور حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ سمیت سندھ کی جملہ جماعت کی آپ سے والہانہ عقیدت و محبت تھی، اس لئے حضرت پیر قریشی رحمۃ اللہ علیہ کے انتقال پر ملال کے بعد اسی سال حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ نے حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ سے تجدید بیعت و ارادت کی۔

عاشق آباد شریف میں لنگر کا کام: حضرت پیر قریشی قدس سرہ کے وصال کے بعد حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کا اکثر قیام چنی گوٹھ اسٹیشن کے قریب عاشق آباد نامی بستی میں رہا (جسے حضرت پیر قریشی قدس سرہ نے پسند کیا بلکہ منتخب فرمایا تھا۔ گنجینہ حیات غفاریہ) جس کے تعمیراتی کاموں میں بھی سندھ کے فقراء بالخصوص حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کا کافی عمل دخل رہا۔ جس کا تذکرہ کرتے ہوئے خود ہی کبھی فرماتے تھے کہ اس زمانہ کے فقراء میں لنگر کے کام کا بڑا شوق اور جذبہ تھا، سارا سارا دن کام کرتے تھے، بڑا لطف آتا تھا۔ اس وقت محبت، وجد و جذبہ کی کثرت قابل دید تھی۔ دیواریں بنانے کے لئے رکوع کی ہـیئت میں جھک کر پیٹھ پر دونوں ہاتھ کا حلقہ بناکر اس پر مٹی اٹھا کر چلتے تھے۔ محترم سید علی حیدر شاہ صاحب، محترم سید عبدالخالق شاہ صاحب، محترم قاضی دین محمد صاحب جو اس زمانہ میں حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے ساتھ عاشق آباد شریف جاتے اور کافی کافی دن وہاں رہ کر لنگر کا کام کرتے تھے، ان کا کہنا ہے کہ کام تو جملہ فقراء و خلفاء شوق و محبت سے کرتے تھے، مگر جو لگن حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ میں پائی جاتی تھی وہ کسی اور میں نہیں تھی، عبادت و مجاہدہ میں بھی اپنی مثل آپ تھے۔ یہاں تک کہ محترم سید علی حیدر شاہ صاحب نے خلیفہ مولانا خاوند بخش صاحب اور مولانا رحمۃ اللہ صاحب کے حوالہ سے بتایا کہ درگاہ عاشق آباد شریف میں حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کے فرمان سے ہم نے ایک بہت بڑا چبوترہ بنایا تھا۔ تقریباً ایک ماہ مسلسل ہم کام کرتے رہے، تھک کر رات کو ہم تو سو جاتے تھے، مگر حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ رلی اوڑھ کر مراقبہ میں بیٹھ جاتے تھے۔ رات کو جس وقت آنکھ کھلتی، آپ مراقبہ میں نظر آتے تھے۔

عطیۂ خلافت: حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی خداداد صلاحیت، اہلیت، زہد و تقویٰ دیکھ کر حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ نے خلافت و نیابت کے اعلیٰ منصب پر فائز کیا، اور تدریجاً سلوک و طریقت کے مروجہ باطنی اسباق و مراقبات کی تعلیم کے بعد دائرہ لاتعین تک ولایت کبریٰ کی بھی تکمیل فرمائی، جس کا تذکرہ حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ نے تحریری اجازت نامہ میں بھی فرمایا ہے۔

تبلیغ و ارشاد: ویسے محدود پیمانہ پر حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ نے تبلیغ کی ابتدا تو سلوک و تصوف میں قدم رکھنے سے بھی پہلے کی تھی، مگر خلافت و اجازت کے بعد اس تبلیغ و اشاعت اسلام کی اہم ذمہ داری سے جس طرح عہدہ برا ہوئے، کم از کم دور حاضر میں ایسی شخصیت کہیں نظر نہیں آتی۔

سب سے پہلے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنی بستی خانواہن، اور دیگر قرب و جوار کی بستیو، مثلاً مڈ کوندھر (اس بستی میں حضرت پیر قریشی قدس سرہ اور حضرت پیر مٹھا قدس سرہ بھی تشریف فرما ہو چکے تھے، اور ان میں کئی پکے فقیر بھی بن چکے تھے) ہاماؤ، موجائی راجپر ۔۔۔۔ اور نانگور قوم میں جا کر بڑی محنت سے تبلیغ کی، اور اس کے عمدہ ثمرات سینکڑوں نیک مرد و خواتین کی صورت میں اب بھی نظر آرہے ہیں۔
اس کے بعد ضلع نواب شاہ کے دسیوں مقامات پر تبلیغ کے لئے تشریف لے گئے۔ ضلع جیکب آباد، ضلع لاڑکانہ، ضلع دادو، ضلع خیرپور میرس کے بھی نہ معلوم کتنے مقامات پر کبھی اکیلے اور کبھی چند ساتھیوں کے ہمراہ تبلیغ کے لئے جاتے رہے۔ عموماً آپ کی یہ تبلیغ دیہی علاقوں پر مشتمل تھی اور دیہاتی سیدھے سادے آدمی ایک دوسرے سے بڑھ کر مستفیض ہوتے رہے۔ خاص کر دریائے سندھ کے مغربی کناے جاڑو کلھوڑو نامی بستی میں سب سے زیادہ فائدہ ہوا، یہ اس لئے بھی کہ اس بستی کے مرد صالح فقیر خان محمد رحمۃ اللہ علیہ پہلے سے حضرت قریشی رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت ہو چکے تھے، انفرادی طور پر تبلیغ بھی کرتے رہے تھے اور حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کو بھی وہی مذکورہ بستی میں لے گئے تھے، اور حضور کے ساتھ قریب کی دوسری بستیوں میں بھی تبلیغ کے لئے جاتے رہے۔ سندھ بھر میں تجوید و قرات کے مشہور استاد، اور فن تجوید کی کئی مقبول ترین کتابوں کے مؤلف حضرت مولانا عبدالکریم دیروی رحمۃ اللہ علیہ بھی حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی معرفت طریقہ عالیہ سے پوری طرح آشنا ہی نہیں ہوئے، بلکہ اپنے اکثر خاندان احباب اور شاگردوں سمیت بڑی تعداد میں لوگوں کو طریقہ عالیہ میں داخل کرایا۔ اس درمیان کئی بار حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ، قافلے کی صورت میں فقراء کو لیکر درگاہ عاشق آباد شریف حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوتے رہے، جن میں جاڑو کلھوڑو بستی اور اس کے قرب و جوار کے سید اور کلھوڑو خاندان کے مرد و خواتین بڑی اکثریت میں ہوتے تھے۔ اور حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ بھی وقفے وقفے سے سندھ کے تبلیغی دورے پر تشریف فرما ہوتے رہے اور عموماً ہر سفر میں، ہر مقام پر حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ بھی ساتھ ہوتے تھے۔ گو جاڑو بستی دریائے سندھ کے کنارے گھنے جنگل میں واقع تھی اور آنے جانے کے لئے معقول راستہ نہ ہونے کی وجہ سے مناسب سواری کا انتظام بھی نہیں ہو سکتا تھا۔ پھر بھی مذکورہ بستی کے فقراء کی محبت اور اخلاص دیکھ کر کئی بار حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ تشریف فرما ہوئے اور کئی کئی دن تک مسلسل قیام فرما رہے۔

اس بستی کے فقراء کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ ان میں سے جو پہلے چوری کیا کرتے تھے فوراً تائب ہوگئے اور جو مرد خلاف شرع رسم و رواج میں مبتلا تھے، طریقہ عالیہ میں داخل ہوتے ہی ان کو ترک کر دیا۔ یہی نہیں بلکہ خالص رضائے الٰہی کی خاطر اپنے رشتہ داروں اور دوستوں سے بھی شادی بیاہ ختنہ وغیرہ کی خلاف شرع رسوم میں شرکت ترک کی، جس کی وجہ سے بعض فقراء کو سخت اذیتوں اور مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر مرشد کامل کی نظر عنایت سے ہر موقعہ پر تائید الٰہی شامل حال رہی، فقراء کے پاء استقامت میں لغزش نہ آئی۔

پہلے تو معاشی زرعی سہولت کے پیش نظر یہ فقراء دو چار گھر کی صورت میں تھوڑے، تھوڑے فاصلہ پر علیحدہ رہتے تھے۔ مگر بعد میں شریعت و طریقت کے احکام و مسائل سیکھنے اور عمل کرنے کے لئے باہمی ایک جگہ اکٹھے ہوکر بستی بنانے کا فیصلہ کیا، جس کا نام حضرت پیر مٹھا قدس سرہ اور حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی موجودگی میں دین پورشریف تجویز کیا گیا۔

دوسری شادی: حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی پہلی زوجہ محترمہ کے انتقال کے بعد دین پور کے سادات حضرات (جناب قبلہ سید نصیرالدین شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ، سید عبدالخالق شاہ صاحب اور سید علی حیدر شاہ صاحب، سید غوث محمد شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ) نے ان کے یہاں سے شادی کرنے کے لئے عرض کی۔ مگر آپ نے انکار کر دیا۔ لیکن وہ نہ مانے۔ آخر ان کے اصرار کرنے پر حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ سے اجازت لینے کے لئے اپنے دوست محترم قاضی دین محمد صاحب کو کرایہ دے کر درگاہ عاشق آباد شریف بھیجا، جس کا تذکرہ کرتے ہوئے مؤرخہ ۶ رجب ۱۴۰۳ھ بعد از نماز ظہر ارشاد فرمایا کہ جب قاضی صاحب نے میرا خط حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں پیش کیا اور زبانی طور پر بھی احوال بیان کیا تو حضرت صاحب رحمۃ اللہ علیہ بہت خوش ہوئے اور ازراہ شفقت میرے نام جواب تحریر فرمایا، جس میں اجازت کے ساتھ ساتھ ان الفاظ سے خوشی کا اظہار فرمایا کہ: ایں قدر خوشی حاصل گردید کہ خواستم کہ برخواستہ وجد بکنم (مجھے اس قدر خوشی ہوئی کہ دل چاہا اٹھ کر وجد کروں) حضور پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے اس تحریری اجازت نامہ کے بعد ہی میں نے دین پور میں شادی کی۔

اتباع سنت: حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کی طرف سے تحریری اجازت ملنے کے بعد آپ نے مذکورہ سادات حضرات کو بلاکر فرمایا: ہم شریعت و سنت کے تابع اور خادم ہیں، میں جانتا ہوں آپ حضرات نیک و صالح ہیں لیکن پھر بھی رشتہ داری کے معاملہ میں طرفین کے لئے احتیاط اور سوچ و فکر ضروری ہے، اس لئے میں صاف الفاظ میں آپ حضرات کو بتا دیتا ہوں کہ آپ مجھے رشتہ دینا چاہتے ہیں، تو میں اس شرط پر شادی کروں گا کہ شادی کے وقت، اس سے پہلے یا بعد میں کبھی بھی شریعت و سنت کے خلاف کسی رسم و رواج کی نہ تو اجازت دوں گا، نہ ایسے موقعہ پر میں یا میری بیوی شامل ہوں گے، میرے گھر بیوی کے صرف وہی رشتہ دار آسکیں گے جن کو شریعت مطہرہ کی رو سے اجازت ہوگی، اگر میری یہ شرائط منظور ہوں تو میں شادی کروں گا ورنہ ہاتھ باندھ کر معذرت خواہ ہوں کہ آئندہ کبھی مجھے شادی کے لئے نہ کہنا وغیرہ۔

مذکورہ سادات حضرات تو پہلے سے آپ کے اعلیٰ اخلاق، کردار، تقویٰ سے متاثر ہی نہیں، عاشقانہ انداز میں فریفۃ تھے۔ آپ کے ان ارشادات سے ان کی عقیدت و محبت میں اور بھی اضافہ ہوگیا، اور بخوشی شرائط قبول کئے اور ہر قدم پر آپ کے ساتھ تعاون کا یقین دلایا، جس کے بعد آپ نے کچے (دریائی علاقے) کے حالات کے مطابق سرکنڈے اور لکڑی کا سیدھا سادہ مگر مضبوط گھر تیار کیا اور سید قبلہ نصیرالدین شاہ صاحب دین پور سے بیل گاڑیاں لے کر خانواہن سے آپ کا گھریلو سامان لے آئے۔

ان دنوں حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ دین پور سے چند میل کے فاصلہ پر فقراء کی بستی نور پور (جس میں کافی عرصہ مستقل طور پر حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ قیام فرما رہے) تشریف لا چکے تھے۔ حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ شادی سے پہلے دعوت دے کر آپ کو دین پور شریف لے آئے اور حصول برکت کی خاطر اپنے مکان میں ٹھہرایا۔ شادی سادگی سے شریعت و سنت کے مطابق انجام پائی، حسب استطاعت دل کھول کر آپ نے ولیمہ کا انتظام بھی کیا۔ شادی کے بعد غالباً پہلے ہی سال ایک صاحبزادہ تولد ہوئے جن کا نام حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے محمد مطیع اللہ تجویز فرمایا۔ معصوم محمد مطیع اللہ ابھی بہ مشکل چھ ماہ کے ہوں گے کہ ان پر وبائی بیماری چیچک کا حملہ ہوا۔ اس وقت حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ میہڑ کی طرف تبلیغی سلسلے میں گئے ہوئے تھے، اطلاع ملنے پر دین پور تشریف لائے مگر صاحبزادہ اس موذی مرض سے جانبر نہ ہو سکے۔ آخر تیسرے دن انتقال فرما گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔

معصوم لخت جگر کی جدائی سے بے ساخۃ آنکھیں اشکبار تھیں۔ مگر شدید غم کے باوجود قضائے الٰہی پر صابر و راضی رہے، جیسا کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لخت جگر حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے انتقال کے موقعہ پر ارشاد فرمایا ”آنکھیں آنسو بہا رہی ہیں، دل رنجیدہ ہے (لیکن ہم) ایسی کوئی بات نہ کہیں گے جو رضائے الٰہی کے خلاف ہو۔ اے ابراہیم (رضی اللہ عنہ) میں تیرے لئے کبیدہ خاطر ہوں“۔

باطنی بینائی: ابھی معصوم محمد مطیع اللہ زندہ ہی تھے کہ حضور کی زوجہ محترمہ پر بھی چیچک کا اس قدر سخت حملہ ہوا کہ آنکھیں بھی محفوظ نہ رہ سکیں۔ ظاہری بینائی ختم ہوجانے کے بعد بھی باطنی بصیرت و فراست کے ذریعے نماز کے اوقات وغیرہ خود ہی معلوم کر لیتیں اور ٹھیک وقت پر نماز ادا کرتی رہیں۔ ایک مرتبہ جیسے ہی مسجد سے نماز پڑھ کر حضور گھر تشریف لائے، چونکہ قریب ہونے کے باوجود بی بی صاحبہ حضور کو نہیں دیکھ رہی تھیں، افسوس سے کہنے لگیں، حضور اب تو بینائی بھی ختم ہو چکی، آپ کی زیارت سے بھی محروم ہوں، اس پر آپ نے فرمایا واقعی تیری ظاہری آ نکھیں تو نہیں دیکھ سکتیں، مگر تیرے دل کی آنکھیں بہت روشن ہیں کہ بتائے بغیر نماز کے اوقات خواہ میری آمد کا ازخود تجھے پتہ چل جاتا ہے۔

واضح رہے کہ بی بی صاحبہ کی تکلیف کے پیش نظر صاحبزادہ صاحب کے انتقال کی خبر ان سے پوشیدہ رکھی گئی، مگر ازراہ فراست معلوم ہونے پر دیگر اہل خانہ سے کہنے لگیں، کب تک میرے بچے کی خبر مجھ سے چھپاؤ گے؟ مجھے معلوم ہوچکا ہے کہ میرے فرزند انتقال کر چکے ہیں۔

اس قدر تکلیف کے باوجود آخر تک نہ کبھی بیماری کی شکایت کی، نہ کبھی نماز کا کوئی وقت قضا کیا۔ آخری دن کہنے لگیں مجھے گھر جانا ہے۔ ان کی پھوپھی صاحبہ جو وہاں موجود تھیں، کہنے لگیں، گھر ہی میں ہو، اس پر کہنے لگیں مجھے اپنے اصلی گھر جانا ہے۔ بلا شبہ اہل اسلام کا اصلی گھر دنیا نہیں، آخرت ہی ہے۔

واضح رہے کہ حضور شمس العارفین سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ نے بھی حیات ظاہری کی آخری رات بظاہر نیم خوابی کے عالم میں چند بار فرمایا: کیا گھر نہیں چلو گے؟ جواباً حضرت قبلہ صاحبزادہ مدظلہ العالی یہی عرض کرتے رہے ”حضور اپنے ہی گھر میں ہیں“۔ مگر آپ پھر بھی فرماتے رہے ”کیا گھر نہیں چلو گے؟“ نہ معلوم آپ کا یہ اشارہ وطن آخرت کی طرف تھا جو واقعۃ ابدی آرام گاہ ہے۔ یہ دنیا و مافیہا تو ہمیشہ آپ کی نظروں میں ہیچ رہیں۔

تیسری شادی: زوجہ محترمہ کے انتقال کے تقریباً دو ماہ بعد دین پور کے مذکورہ سادات خاندان میں ہی تیسری شادی کرلی اور ان ہی سے آپ کی موجود اولاد ہے۔ (اولاد و احفاد کی تفصیل آخر میں ملاحظہ فرمائیں) دین پور میں شادی اور مستقل قیام کے بعد بھی بدستور بیرونی علاقوں میں تبلیغ کرنے جاتے رہے۔ ماہوار جلسہ دین پور شریف میں مقرر فرمایا اور اس کے جملہ اخراجات حضرت پیر مٹھا قدس سرہ کی تشریف آوری سے پہلے اور بعد میں بھی حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ برداشت کرتے رہے۔ دین پور کے فقراء پر کسی قسم کا بوجھ نہیں ہوتا تھا۔ البتہ اگر کوئی فقیر اپنی خوشی سے تعاون کرنا چاہتا تو بخوشی قبول کرتے تھے۔

حضرت پیر مٹھا قدس سرہ کہ دین پور میں آمد

گو دین پور شریف ایک گھنٹے جنگل میں دریا کے کنارے واقع تھا۔ ظاہری مادی سہولتیں بھی نہ ہونے کے برابر تھیں۔ آمد و رفت کے راستے اس قدر ناکارہ تھے کہ بقول سید علی حیدر شاہ صاحب ایک بار رادھن سے دین پور جاتے ہوئے راستہ میں کیچڑ وغیرہ اس قدر تھی کہ حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے پاؤں ورما گئے۔ پڑوس کے چند بااثر زمینداروں کی مخالفت دشمنی کی حد تک پہنچی ہوئی تھی (اور اسی وجہ سے فقراء کیٹی آباد تحصیل کنڈیارو سے منتقل ہو کر ’مؤمنن جا بھان‘ نامی بستی (لاڑکانہ) میں آباد ہوئے جہاں پہلے سے چند فقیر آباد تھے) ان تمام دشواریوں کے باوجود فقراء کی غیر معمولی اصلاح، نیکی، استقامت، محبت اور علاقہ بھر کی اصلاح کی خاطر حضور سوہنا سائیں خود بھی دین پور میں مقیم ہو گئے۔ اور ان فقراء سے مل کر عاشق آباد میں جاکر حضرت پیر مٹھا قدس سرہ کو بھی عرض کیا۔ کوئی ظاہری دنیاوی مقصد پیش نظر نہ ہونے کی وجہ سے حضرت پیر مٹھا قدس سرہ کو بھی یہ بستی دیکھ کر بہت پسند آئی۔ دین پور کے فقراء خاص کر حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی غیر معمولی محبت، نسبت اور بار بار گزارش کے پیش نظر آبائی وطن ترک کرکے مستقل طور پر سندھ میں آکر آباد ہوئے۔ آپ کا سندھ میں قیام کرنا سندھ کی تمام جماعت کے لئے بے حد مسرت و خوشی کا باعث تو تھا ہی، مگر جو غیر معمولی مسرت و شادمانی حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کو میسر ہوئی اس کا اظہار آپ کے پر کیف وجدانی کلام سے بخوبی ہوتا ہے، اور اس کی تصدیق فقراء کے علاوہ خود حضرت پیر مٹھا قدس سرہ نے ان الفاظ سے فرمائی کہ ”ایہو جواں میکوں سندھ وج گھن آیا“ (کہ یہی جوان مجھے سندھ میں لے آئے) بعض اوقات فقراء کی غفلت و سستی معلوم ہونے پر خفا ہوکر یہ تک فرماتے تھے کہ تم ڈھگے یعنی بیل کی مانند ہو، تمہیں اللہ تعالیٰ کی محبت و معرفت کی عظیم نعمت کی کیا قدر؟ بس یہی ایک ہیں جن کی وجہ سے میں سندھ میں آیا اور رہا ہوں، اگر یہ مجھے خوشی سے اجازت دے دیں تو میں آج ہی واپس پنجاب چلا جاؤں۔ آپ نے حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی دین پور آمد کے موقع پر جو عمدہ اشعار بناکر پڑھے ان میں سے چند قطعات بطور نمومہ ملاحظہ ہوں۔

ترجمہ: ”آج یہاں میرے دل کے محبوب تشریف لائے ہیں، جن کے دیکھنے کے لئے اولیاء کرام بھی ترستے ہیں۔ آج میں خوشی سے کپڑوں میں نہیں سماتا۔ نہ ہی فرش زمین پر میرا قدم جمتا ہے۔ یہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کا عظیم احسان ہے، سبھی غم اور پریشانیاں ختم ہو گئیں ہیں“۔

دین پور تشریف لانے سے پہلے کے ہجر و فراق اور بارگاہ الٰہی میں مانگی گئی دعاؤں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ترجمہ: ”برسوں سے بارگاہ الٰہی میں یہی آہ و التجا تھی، ہماری وہ دعائیں مقبول ہوئیں اور ہمارے محبوب دُور سے تشریف لے آئے“۔

دین پور کے باسیوں کے سابقہ حالات کا ذکر کرتے ہوئے حضور کی آمد کے بعد کی دینی بیداری کا اس انداز سے بیان فرمایا۔ ترجمہ: ”سر سے پاؤں تک جو جہالت اور گناہوں میں گرفتار تھے، نہ تو خود نیک تھے نہ ہی نیکوں سے کوئی تعلق واسطہ تھا، آج وہی لوگ خائف خدا، شریعت سے باخبر ہیں اور ان کو شریعت مطہرہ سے ازحد محبت ہے“۔

والدہ ماجدہ کا انتقال: حضرت سوہنا سائیں قدس سرہ کا قیام جب دین پور شریف میں بکثرت ہونے لگا تو آپ اپنی والدہ صاحبہ کو بھی دین پور شریف لے گئے تاکہ اپنے ہاتھ سے ان کی خدمت سرانجام دے سکیں۔ بالاخر تقریباً ستر برس کی عمر میں ۴ ستمبر ۱۹۵۳ء میں دین پور شریف میں ان کا انتقال ہو گیا اور وہیں مدفون ہوئیں۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔

حضرت حاجی دلمراد فقیر لوڑھائی رحمۃ اللہ علیہ کی پہچان

فقیر صاحب موصوف طریقہ عالیہ قادریہ کے مشہور بزرگ ہو گزرے ہیں۔ بڑے عابد و زاہد صاحب کرامت بزرگ تھے جن کی یہ کرامت بہت مشہور ہے کہ جب ارادۂ حج سے روانہ ہوکر ساحل سمندر پر پہنچے۔ پیسے نہیں تھے اور حجاز جانے والے جہاز رانوں سے پیسے لئے بغیر لے جانے سے انکار کردیا تو دیکھتے ہی دیکھتے عصا مبارک کو سمندر میں ڈال دیا اور خود اس پر چڑھ بیٹھے اور آپ کی کرامت کی یہ کشتی (عصا) جہاز سے بڑھ کر تیزی سے چلنے لگی۔ یہ دیکھ کر جہاز کے عملے کی آنکھیں کھلیں۔ اسی کرامت کی بناء پر آپ ڈنڈے والے بزرگ کے نام سے مشہور ہوئے۔ ان کے اخلاص و للھیت کا مزید اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا کوئی مرید ان کی خدمت میں جاتا تو فرماتے تھے کہ ”تیرے مرشد تو فیض کے دریا ہیں یہاں آنے کی تجھے کیا ضرورت تھی“۔ لیکن جب بتا دیا جاتا کہ خود حضرت صاحب نے آپ کے یہاں آنے کی اجازت دے رکھی ہے تو پھر خوشی سے رہنے دیتے تھے۔

درگاہ لوڑھو شریف چونکہ کنڈیارو سے دین پور جاتے ہوئے راستے کے قریب واقع ہے۔ اس لئے دین پور شریف جاتے یا آتے وقت حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ ان کی خدمت میں جایا کرتے تھے اور حاجی صاحب موصوف آپ سے بے حد پیار و محبت سے ملتے، گلے لگاتے اور رخصت ہونے پر فرماتے جی نہیں چاہتا کہ آپ مجھ سے جدا ہوں، کاش یہ ممکن ہوتا کہ آپ کو لفافہ میں ڈال کر اپنی جیب میں رکھ لیتا اور بار بار نکال کر دیکھتا رہتا۔ حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے مذکورہ ارشادات اور واقعات بیان فرما کر ان کے اخلاص و للھیت کی بہت تعریف فرماتے تھے۔ مزید فرماتے تھے کہ حاجی دلمراد صاحب قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فقراء کو یہ نصیحت فرماتے تھے کہ تمہیں اپنے پیر کے علاوہ کسی اور بزرگ کی صحبت میں جانے کی ضرورت نہیں۔ نہ ہی عام علماء کرام کے وعظ و نصیحت سننے کی ضرورت ہے۔ بس جو کچھ اپنے پیر متبع السنت سے سنو تمہارے لئے کافی ہے۔

لنگر کی خدمت: تصوف و سلوک میں اپنے شیخ کی جان و دل سے خدمت کرنا، شیخ کی خانقاہ کی ضروریات میں حتی المقدور تعاون کرنا باطنی ترقی میں ممد و معاون ہے۔ گو مشائخ کو کسی کی خدمت کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی، مگر اس طرح مخلص مرید کا للھیت کا مظاہرہ اور اس پر مزید فیوض و برکات کا نزول ہوتا ہے۔ چنانچہ صحیح بخاری شریف کی حدیث پاک، ترجمہ: ”یا اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کو دینی بصیرت عطا فرما“ کے تحت محدثین کرام نے لکھا ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء سے باہر تشریف لائے تو پانی کا لوٹا بھرا ہوا پا کر پوچھا یہ کس نے رکھا ہے؟ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ یہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے رکھا ہے۔ اس پر ازراہ شفقت و قبولیت ارشاد فرمایا ”اللھم فقھہ فی الدین“۔ چونکہ حضور کے لئے لوٹا بھر کے لے آنا بھی دینی معاونت کے زمرہ میں آتا ہے، اس لئے حضور نے بھی اس کی دینی بصیرت و مہارت کے لئے دعا فرمائی تاکہ اس سے دوسروں کو بھی نفع حاصل ہو۔ (ارشاد الساری صفحہ ۲۳۴ جلد اول)

صاحب مجمع السلوک نے بعض صوفیاء کرام کے حوالے سے تصوف و سلوک کے ظاہری ارکان میں یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ سالک اپنے شیخ اور دین کے ساتھیوں اور کمزوروں کی خدمت بجا لائے، سخاوت، جواں مردی اور ایثار سے پیش آئے۔

چونکہ حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ فطرۃً خدمت گار، سخی مزاج، اور سخاوت پسند تھے، اس لئے حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خانقاہ عالیہ کے غیر معمولی اخراجات کے پیش نظر نہ صرف یہ کہ اپنی ذاتی زمینوں کی آمدنی لنگر کے لئے وقف کر دی بلکہ اپنے متعلقین و احباب کی بھی اس جانب رہنمائی فرمائی اور وہ بھی تقویٰ اور طریقہ عالیہ کے عین مطابق اس قدر احسن اور عمدہ طریقہ سے کہ کبھی اشارۃً یا کنایۃً بھی لنگر کے لئے کچھ طلب نہ کیا۔ بلکہ زمینداروں سے کاشت کے لئے زمین لے لیتے، بیج وغیرہ کا خرچہ لنگر کا یا خود سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کا ہوتا اور کاشت کاری کی خدمت اپنی خوشی سے فقراء کرتے تھے۔ اس سلسلے میں دین پور شریف کے فقراء پیش پیش تھے۔ جبکہ دین پور کے علاوہ بستی چنیھانی نزد کنڈیارو، بستی عمر راہو تحصیل مورو، نانگور نزد محراب پور، میھڑ اور بعض دیگر مقامات پر بھی لنگر کے لئے گندم، چاول، کپاس، گنا وغیرہ کاشت کئے جاتے تھے۔ فقراء گنے سے گڑ اور دیسی شکر خود بناتے تھے اور وہی گڑ جو بڑے احتیاط اور تقویٰ سے تیار ہوتا تھا، حضرت صاحب رحمۃ اللہ علیہ خود بھی استعمال فرماتے تھے۔ فقراء کے لئے لنگر میں بھی استعمال ہوتا تھا۔

حضور اور دیگر جماعت کس قدر اخلاص اور شوق سے لنگر کا کام کرتے تھے، اس کا اندازہ آپ کے اس خط سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے جس میں آپ نے دین پور کے فقراء کے نام لکھا کہ ہم اور آپ لنگر کے زرخرید غلام ہیں، لنگر کے کام کو اپنے اوپر فرض سمجھتے ہوئے محبت سے شامل ہوتے رہیں۔

اس سلسلہ میں ایک اور خط بھی ملاحظہ ہو جو آپ نے حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں اجازت کے لئے تحریر کیا اور اس کا جواب جو حضور پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ نے مرحمت فرمایا۔ خط کے اقتباسات بلفظ یہ ہیں۔

بخدمت جناب حضرت قبلہ عالم غوث الاعظم مجدد مئاۃ اربعۃ عشر قطب الارشاد جناب حضرت مرشدنا و سیدنا و سندنا و وسیلتنا فی الدارین، دام الطافکم علینا۔

بعد السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ: ھزارھا بار قدم بوسی نیاز مندی ادائے آداب بندگی ماوجب فی شانکم معروض باد دست بستہ با ادب در حضور عالیہ عرض ۔۔۔ یہ عاجز نیک نہیں، نہ ہی محبت ہے، حضور کی کرم نوازی سے یہ حرص زیادہ ہوتا ہے کہ لنگر کا فائدہ ہو، خدمت اور غلامی کرتا رہوں۔ حضور کو کسی چیز کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ لیکن ہم سے جو تھوڑی بہت نیکی ہو حضور قبول فرمائیں اور ایسے مواقع پر براہ کرم اجازت کی مہربانی ہوتی رہے۔ تاکہ لنگر کی خدمت بھی ہوتی رہے اور تبلیغ کا کام بھی ہوگا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔ رو برو عرض کرنے بات کرنے کی طاقت و ہمت نہ ہوئی۔ اس لئے عریضہ پیش خدمت ہے۔ (عاجز بیکار اللہ بخش سگ دربار معلی غفاری)

آپ کے خط کے جواب میں حضرت قبلہ پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے نہایت مختصر اور دعائیہ جواب ان الفاظ میں عنایت فرمایا۔ مصرعہ

اجازتست بروید بفضل اللہ تعالی
ہر آنجا کہ باشی خدا یار باد

لاشی فقیر محمد عبدالغفار فضلی

(جانے کی اجازت ہے، اللہ تعالیٰ کی مدد و مہربانی آپ کے شامل حال رہے جہاں کہیں بھی ہوں۔) صرف کاشت کاری ہی نہیں، دین پور کے فقراء خواہ دوسرے فقراء جان و دل سے فدا ہوتے تھے۔ دین پور شریف سے رحمت پور شریف منتقل ہونے کے بعد بھی مذکورہ فقراء حسب سابق خدمات انجام دیتے رہے۔

غلہ کے علاوہ حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی ترغیب پر حسب ضرورت سرکنڈے کے بنے ہوئے ٹوئے (جو پردہ، دیوار اور چھت کے کام آتے ہیں) اور جلانے کی لکڑیاں وافر مقدار میں دین پور سے بیل گاڑیوں اور اونٹوں کے ذریعے فقراء رادھن اسٹیشن تک لے آتے اور وہاں سے آپ ٹرین کے ذریعے لاڑکانہ لے جاتے تھے۔ لنگر کے کام سے دلچسپی کے متعلق محترم حاجی محمد صدیق بھٹی صاحب نے بتایا کہ ایک بار درگاہ رحمت پور شریف میں حضرت قبلہ پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے حکم سے کافی فقراء و خلفاء لنگر کے لئے مٹی اٹھا رہے تھے۔ بارش کا موسم تھا، جیسے ہی بوندا باندی شروع ہوئی آہسۃ آہسۃ ایک دو ہو کر فقراء چلتے گئے۔ یہاں تک کہ آخر میں سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ بارش کے باوجود اکیلے مٹی اٹھا رہے تھے۔

درگاہ رحمت پور شریف لاڑکانہ

حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ دین پور شریف قیام کے دوران، ایک دو رات کے تبلیغی سفر اور جلسوں کے علاوہ سندھ کے مختلف مقامات مثلاً پٹی ماچھی نزد رانی پور ضلع خیر پور، بستی نورپور ضلع دادو، بستی گیریلو اور بستی آبڑی ضلع لاڑکانہ میں ایک ہفۃ سے ایک ماہ تک قیام فرما رہے تھے۔ اس سلسلے میں ایک بار تقریباً ایک ماہ اُنـڑپور میں قیام کے بعد دین پور جانے کے لئے رادھن اسٹیشن پر پہنچے، مگر دریا کی طغیانی اور سخت سیلاب کی وجہ سے مجبوراً چند دن وہیں رکے۔ معلوم ہونے پر لاڑکانہ کے فقراء نے آکر سیلاب ختم ہونے تک لاڑکانہ میں قیام کی گذارش کی اور آپ تشریف لے گئے۔ جتنے دن لاڑکانہ میں قیام رہا، آمد و رفت کی معقول سہولت کی وجہ سے دین پور سے کہیں زیادہ فقراء کی مسلسل آمد و رفت رہی، جس کے پیش نظر بعض فقراء نے موقعہ پاکر وہیں مستقل سکونت کے لئے عرض کی۔ چونکہ آپ کی زندگی کا مقصد ہی عین ”میری زندگی کا مقصد تیرے دین کی سرفرازی“ دین کی تبلیغ و اشاعت تھی، اور یہ مقصد لاڑکانہ میں احسن طریقے سے پورا ہو سکتا تھا۔ جبکہ دین پور پہنچنے کے لئے جماعت کو سخت تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اس لئے آپ نے خلفاء کرام کے مشورہ سے ان کی تجویز پسند فرمائی اور ہندوؤں کے خالی پلاٹ بھی قیمۃ خرید لئے گئے، اور عملی طور پر اہل شرک و کفر کی جگہ اہل اللہ کا مستقل قیام اور دین اسلام کی عظیم تبلیغی روحانی خانقاہ قائم ہوئی جس کا نام رحمت پور شریف تجویز کیا گیا۔
گو دین پور شریف حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کا وطن مالوف اور پسندیدہ تبلیغی مرکز بھی تھا، مگر گھر وطن اور دنیاوی سہولتوں سے بڑھ کر آپ کے لئے بھی اشاعت اسلام اور مرشد کامل کی رضا تھی، اس لئے آپ بھی بلا تامل دین پور سے رحمت پور شریف چلے آئے۔ آپ کے علاوہ سید قبلہ نصیرالدین شاہ صاحب اور دین پور شریف کے چند دیگر فقراء بھی مستقل طور پر رحمت پور شریف آکر آباد ہو گئے۔

درگاہ رحمت پور شریف کے تعمیراتی خواہ انتظامی امور میں بھی حضرت قبلہ پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کے جملہ خلفاء کرام میں سے بڑھ کر کام حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ اور آپ کے متعلقین فقراء نے کیا۔ گو لاڑکانہ دین پور سے کوئی ۶۰ کلومیٹر دور ہے، پھر بھی کثیر جماعت کے لئے روزانہ لنگر پکانے اور ماہوار گیارھویں شریف اور سالانہ عظیم الشان جلسوں میں غیر معمولی استعمال کے باوجود رحمت پور شریف میں غلہ یا جلانے کی لکڑیوں کی کمی محسوس نہ کی گئی۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جب کبھی بھی غلہ، لکڑی یا کسی بھی چیز کی ضرورت ہوتی، منتظمین حضرات حضرت پیر مٹھا قدس سرہ کو عرض کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے تھے، بلکہ حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کو اطلاع کر دیتے اور آپ فوراً مطلوبہ اشیاء کا انتظام کر لیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ صدیق صفت حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے متعلق بارہا حضرت پیر مٹھا قدس سرہ سے سنا گیا کہ لنگر کے جتنے اخراجات ہوتے ہیں ان کے بارے میں مجھے کوئی پتہ ہی نہیں ہوتا۔ بس مولوی صاحب (حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ) ہی جانتے ہیں کہ اتنے اخراجات کس طرح پورے ہو رہے ہیں۔ غرضیکہ اول سے آخر تک آپ اپنے پیر و مرشد حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کے ایک معمولی اشارے پر مر مٹنے کے لئے تیار رہے، اس راہ میں کبھی بھی کوئی ذاتی مفاد و مقصد حائل نہ ہوا۔ پیر بھائی فقراء سے اس قدر محبت کہ رات گئے تک بوڑھے کمزور مسافروں کے پاؤں دباتے رہتے، مریضوں کے لئے اپنے گھر سے مناسب کھانا تیار کر کے لا دیتے، رحمت پور شریف کے باشندے یا کسی مسافر کو پیسوں کی ضرورت ہوتی تو آپ سے لے لیتے، ذاتی معاملات میں آپ سے مشورے لیتے۔ اگر کسی غلطی پر حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کسی پر ناراض ہوتے تو معافی دلانے کے لئے آپ ہی کے پاس حاضر ہوتے اور اس معاملہ میں آپ کے نزدیک اپنے پرائے کی کوئی تمیز نہیں تھی، بلکہ بلا امتیاز ہر ایک سے تعاون فرماتے تھے۔ چنانچہ رحمت پور شریف میں مقیم ایک شخص جو کسی دوسرے خلیفہ صاحب سے منسلک تھا، اور حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے انتقال کے بعد اپنے آبائی گاؤں چلا گیا اور کسی دوسرے بزرگ سے جاکر بیعت ہوا، وہ کہتا تھا کہ بیعت ہونا نہ ہونا تو اپنی مرضی کی بات ہے لیکن رحمت پور شریف قیام کے دوران سوہنا سائیں (نور اللہ مرقدہ) سے بڑھ کر میں نے کوئی خیر خواہ نہیں دیکھا، چنانچہ جب میں شروع میں طریقہ عالیہ میں بیعت ہوا تو جنون کی حد تک محبت کا غلبہ تھا، جس کی وجہ سے میں اپنی ذاتی زمین جو آبائی گاؤں میں واقع تھی بیچ رہا تھا، معلوم ہونے پر سوہنا سائیں (نور اللہ مرقدہ) نے مجھے روکا اور بہت سمجھایا کہ کچھ بھی ہو زمین نہ بیچیں، کسی وقت آپ کو اس کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اس وقت آپ کی بات مجھے سمجھ میں نہیں آئی، تاہم آپ کی للھیت و اخلاص کے پیش نظر میں مان گیا۔ آج سوچتا ہوں کہ اگر سوہنا سائیں اس دن مجھے نہ روکتے اور میں زمین بیچ ڈالتا تو آج کسی اور زمینداروں کا محتاج ہوتا۔

رحمت پور شریف میں مقیم ایک اور فقیر کا واقعہ ہے کہ بے دین رشتہ داروں سے غیر ضروری تعلق کی وجہ سے ان پر حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس قدر رنجیدہ ہوئے کہ فرمایا اس کے یہاں رہنے کی ضرورت ہی نہیں یہاں سے چلا جائے، اگر نہیں جاتا تو منتظمین حضرات اس کے گھر کا سامان باہر نکال کر پھینک دیں تاکہ چلا جائے۔ چونکہ الحب للہ والبغض للہ (محبت بھی اللہ تعالیٰ کے لئے اور غصہ بھی اسی کے لئے) کے تحت آپ کی رنجشیں رضائے الٰہی کی خاطر تھیں، اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو رعب و ہـیـبت بھی اس قدر عطا فرمائے تھے، کہ آگے بڑھ کر سفارش کے طور پر کچھ عرض معروض کرنے کی ہمت کسی میں نہ تھی۔ ایسے میں حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ آگے بڑھے، اور روتے ہوئے باادب عرض کیا یا حضرت ہم گمراہیوں کی اندھیریوں میں تھے، آپ ہی نے ہماری راہنمائی فرمائی، آپ ہی کے توسط سے راہ حق کی ہدایت نصیب ہوئی ہے، جیسے ہیں آپ کے ہیں آپ کا در چھوڑ کر آخر کہاں جائیں گے؟ وغیرہ۔ ’جو دل سے نکلتی ہے اثر رکھتی ہے‘ کے مطابق حضرت صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا چہرہ مہک اٹھا، اور فرمایا: چونکہ آپ اس کی سفارش کرتے ہیں اور خود فقیر صاحب نیک بھی ہے، اس لئے اس بار اس کو معافی دیتے ہیں بشرطیکہ آئندہ شریعت و طریقت کے کسی معاملے میں کوتاہی نہ کرے۔ واضح رہے کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کی رنجش کے ایک موقعہ پر حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے گھٹنوں کے بل کھڑا ہو کر عرض کیا ”ہم اللہ تعالیٰ کے پروردگار ہونے، اسلام کے دین ہونے اور حضرت محمد مصطفی صلّی اللہ علیہ وسلم کے نبی صلّی اللہ علیہ وسلم ہونے پر راضی ہیں“۔ اس وقت رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کا غصہ فرو ہوا اور نورانی چہرہ انور پر بشاشت کے آثار ظاہر ہونے لگے تھے۔

واضح رہے کہ حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ پر عموماً صفت جلال کا عکس اس قدر غالب رہتا تھا کہ شریعت و طریقت کے کسی معاملہ میں ادنیٰ سی چشم پوشی یا رو رعایت کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ بعض اوقات اس قدر رنجیدہ ہوتے تھے کہ مقیم خواہ مسافر حضرات کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے تھے، بعض نئے وارد تو یہ سمجھتے کہ شاید ان سے کوئی ناقابل معافی جرم سرزد ہوگیا ہے۔ ایسے موقع پر عموماً حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ بستی کے فقراء اور خلفاء کرام کی دلجوئی فرماتے تھے کہ حضور کی رنجش کسی ذاتی مفاد کے لئے تو ہے نہیں، خوشی اور رضا کی طرح آپ کی رنجش بھی اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہی ہے اور اس میں ہمارا ہی فائدہ ہے۔ اگر حضور نماز باجماعت، تہجد، عمامہ، مسواک اور دیگر شرعی امور کی اس قدر سختی سے پابندی نہ کراتے تو ہم پہلے کی طرح ان دینی کاموں سے سست رہتے، لہٰذا حضور کا یہ غصہ اور رنجش بھی ہمارے لئے رحمت و شفقت ہے۔ الحمد للہ حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی ہمت افزائی سے، فقراء کے عزائم اور بھی بلند ہو جاتے تھے۔

حضرت قبلہ پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ دربار شریف کے مقرر کردہ اصول و ضوابط کی اس قدر سختی سے پابندی کراتے تھے کہ لاکھوں مریدین ہونے کے باوجود محدود فقراء اور خلفاء ہی حضرت کے دربار شریف پر قیام کر سکے۔ چنانچہ ایک مرتبہ آپ نے تمام خلفاء کرام کا اجلاس بلایا اور بہت پیار و محبت سے (حضور کی خلفاء اور فقراء سے محبت بھی مثالی تھی، ان کے ہر سکھ دکھ کو اپنا سکھ دکھ تصور کرتے تھے، زبانی جمع خرچ ہی نہیں بلکہ ہر طرح سے عند الضرورت تعاون بھی فرماتے تھے) ارشاد فرمایا آپ میرے پیر و مرشد کے مقرب اور نائب ہیں، ہمارا دل چاہتا ہے کہ آپ یہاں آکر رہیں تاکہ مل کر اللہ اللہ بھی کریں، اور باری باری تبلیغ کے لئے باہر بھی جاتے رہیں، یہاں آنے سے تمہاری اولاد کی بھی اصلاح ہوگی اور تبلیغ کے لئے سفر میں جانے کی صورت میں گھر کا زیادہ فکر بھی نہ رہیگا۔ ایک دوسرے کی خدمت اور تعاون کرنا ہمارا دینی اور اخلاقی فریضہ ہے۔ مگر حضور کی اس مخلصانہ پیشکش پر کسی نے لبیک کہہ کر رحمت پور شریف آکر رہنے کی ہمت و جرأت نہ کی۔ آخر حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ وجد کی حالت میں اٹھ کھڑے ہوئے اور خلفاء کرام سے پرزور اپیل کی کہ حضور قبلہ عالم کی اس قدر شفقت کہ اپنے ساتھ رہنے کی پُرخلوص دعوت دیں، پھر بھی تم یہاں آنے کے لئے تیار نہ ہو؟ بہرحال پھر بھی کوئی آمادہ نہ ہوا۔ آخر مجلس برخواست ہونے پر حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ سے کہنے لگے (جس کا تذکرہ خود بھی فرمایا کرتے تھے) زور آور! یہ آپ حضرات کی ہمت ہے کہ یہاں رہ رہے ہو؟

رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم اور مرشد کامل کی محبت

واضح ہو کہ رضائے الٰہی کی خاطر مقربان الٰہی (انبیاء و ا ولیاء) سے محبت و تعلق نہ فقط جائز ہے بلکہ راہ حق میں ممد و معاون ہونے کی وجہ سے انتہائی مفید اور ضروری ہے، اس لئے کہ دراصل یہ محبت، محبت خدا ہی ہوتی ہے۔ لا ایمان لمن لا محبۃ لہ (جسے محبت نہیں اسے کمال ایمان بھی حاصل نہیں۔ تفسیر صاوی) اور یہی محبت حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو حاصل تھی کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کے ایک ایک بال کو اپنی سینکڑوں جانوں سے عزیز تر جانتے تھے۔ اسی طرح صدیق صفت سیدی سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کو بھی حضور پُرنور شافع یوم النشور صلّی اللہ علیہ وسلم، حضرات صحابہ کرام، حضرات اہل بیت عظام، ماسلف بزرگان دین اور اپنے پیر و مرشد حضرت پیر مٹھا (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) سے جو محبت کاملہ حاصل تھی کم از کم دور حاضر میں اس کی نظیر کہیں نظر نہیں آتی۔

رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم سے اس قدر محبت اور حضوری حاصل تھی کہ بارہا دوران تقریر امت مرحومہ کی موجودہ پستی، سستی بالخصوص فلسطین اور افغانستان کے مظلوم عوام، عراق ایران جنگ کے تباہ کن حالات اور اہل اسلام کے باہمی اختلافات اور دین اسلام سے بیگانگی کا بیان فرما کر آقا صلّی اللہ علیہ وسلم کی نظر کرم شفقت و عنایت کے طالب ہوتے۔ اسی سلسلہ میں اکثر حالی کے یہ پُردرد اشعار رقت آمیز لہجہ میں پڑھ کر سامعین کو تڑپا دیتے تھے۔ آج بھی آپ کی ایمان افروز تڑپ کی باز گشت گوش قلب کی گہرائیوں میں محفوظ ہے۔ ان میں سے چند اشعار

اے خاصۂ خاصانِ رسل وقت دعا ہے
امت پہ تیری آکے عجب وقت پڑا ہے

جو دین بڑی شان سے نکلا تھا وطن سے
پر دیس میں وہ آج غریب الغرباء ہے

فریاد ہے اے کشتی امت کے نگہباں
بیڑا یہ تباہی کے قریب آن لگا ہے

اے چشمہ زمت بابی انت و امی
دنیا پہ تیرا لطف سدا عام رہا ہے

اور کبھی کیف و مستی کے عالم میں بے ساخۃ بادصبا کو مخاطب ہوکر اُمت مرحومہ کی حالت زار اور اپنی دوری و مہجوری کی رقت آمیز داستان سنا کر آقا و مولیٰ حضور رحمۃ للعالمین صلّی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیش کرنے کو کہتے۔ درج ذیل پیغام کے الفاظ اگرچہ حضرت جامی علیہ الرحمہ کے ہیں مگر اس وقت آپ ہی کے دل کی ترجمانی معلوم ہوتی تھی۔ تبرکاً چند اشعار یہ ہیں

نسیما جانب بطحا گذر کن
ز احوالم محمد را خبر کن

توئی سلطان عالم یا محمد
ز روئے لطف سوئے من نظر کن

ز مہجوری برآمد جان عالم
ترحم یا نبی اللہ ترجم

ایک بار سالانہ جلسہ کے بھرے مجمع میں محترم حاجی محمد احسن صاحب کو (جو کہ مدینہ منورہ میں قیام پذیر اور اس وقت دربار عالیہ پر موجود تھے) بلا کر حضرت جامی علیہ الرحمہ کے مذکورہ پیغام کے علاوہ اپنے مخصوص انداز میں مسلمانوں کے موجودہ حالات کے حوالہ سے امداد کے خواستگار ہوئے اور فرمایا یہ ہماری گزارشات ضرور بارگاہ نبوی صلّی اللہ علیہ وسلم میں پیش کرنا۔ یوں محسوس ہوتا گویا کہ بالمشافعہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سراپا ادب بن کر ملتجی ہیں۔

دوران تقریر بکثرت فرماتے تھے کہ ”ہماری جانیں، اولاد، مال و اسباب سبھی رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم، آپ کے صحابہ و اہل بیت رضی اللہ عنہم اور دین متین پر قربان“۔ سالانہ جلسہ میں ہاتھ اٹھوا کر سامعین سے بھی عہد لیتے تھے، کہ جان قربان، مال قربان، ایک جان کیا لاکھوں جانیں قربان، یہ جان کیا چیز ہے عشق رسول صلّی اللہ علیہ وسلم اور دین کی خدمت کے مقابل تو کوئی چیز ہے ہی نہیں۔ تقریباً روزانہ مراقبہ کی ابتدا قصیدہ بردہ شریف کے درج ذیل اشعار سے کرتے تھے

محمد سید الکونین والثقلین
والفریقین من عرب و من عجم

ھو الحبیب الذی ترجی شفاعتہ
لکل ھول من الاھوال مقتحم

نیز درج ذیل اشعار بکثرت مراقبہ میں پڑھتے تھے

یا رب یہ جان میری جب میرے بدن سے نکلے
صل علیٰ کا کلمہ میرے دہن سے نکلے

اللہ یا محمد ہووے زباں پہ جاری
جب یہ روح میری چرخ کہن سے نکلے

ادب رسول صلّی اللہ علیہ وسلم کی بناء پر سبز شلوار پہننے سے منع فرماتے تھے کہ یہ گنبد خضریٰ کا رنگ ہے، جبکہ بعض اوقات سبز عمامہ خود بھی استعمال فرماتے تھے کہ یہ سنت بھی ہے اور اس میں احترام بھی ہے۔

فرماتے تھے کہ دعا کے اول و آخر میں درود شریف پڑھا کریں، ایک مرتبہ تو لازمی طور پر ہر دعا میں درود شریف پڑھنا چاہیے۔ یہ محبت کی علامت بھی ہے اور قبولیت دعا کا ذریعہ بھی۔

صدیق صفت حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کو اپنے پیر و مرشد حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے بھی فنائیت کے درجہ کی محبت تھی۔ ساتھ ہی ان کا خوف بھی مثالی نظر آتا تھا۔ حضرت پیر مٹھا قدس سرہ کے ہم نشین خلفاء و فقراء کا کہنا ہے کہ انتہائی مقرب ہونے کے باوجود آپ حضرت پیر مٹھا قدس سرہ کے سامنے یا قریب نہیں بیٹھتے تھے بلکہ اکثر فقراء کے پیچھے سراپا متوجہ ہوکر بیٹھے رہتے تھے۔ جب کبھی حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ آپ کو بلاتے تو دوڑتے ہوئے حاضر ہوتے تھے اور اس قدر آہستگی اور ادب سے کلام کرتے تھے کہ مشکل سے کوئی اور سمجھتا تھا۔

واضح رہے کہ مقربان الٰہی کو جس قدر اللہ تعالیٰ، رسول خدا صلّی اللہ علیہ وسلم اور اپنے شیخ کامل سے کمال محبت ہوتی ہے، اس قدر ان کا خوف اور ڈر بھی ہر وقت طاری رہتا ہے کہ کہیں ہم سے ناراض نہ ہوجائیں، چنانچہ

محبت اور خوف: مشہور یہ ہے کہ حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جب صلاح مشورے یا کسی کام کے لئے آپ کو بلاتے تھے تو آپ کے جسم پر لرزہ طاری ہو جاتا تھا کہ کہیں حضرت صاحب کسی بات پر ناراض نہ ہوں۔ (مفتی عبدالرحمن صاحب) اور یہی کمال وصف حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین میں بھی پائی جاتی تھی۔ چنانچہ سنن نسائی شریف کی حدیث ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے، آپ کی نظر کھڑے دو آدمیوں پر پڑی جو جماعت میں شامل نہیں ہوئے تھے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا ”دونوں کو میرے پاس لے آؤ“ راوی حدیث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ (سنن نسائی صفحہ ۱۲۷ جلد اول) ”دونوں آپ کی خدمت میں لائے گئے اس حال میں کہ ان کے کاندھے کا گوشت پھڑک رہا تھا۔ پس فرمایا، کس چیز نے تمہیں ہمارے ساتھ نماز پڑھنے سے روک رکھا تھا؟“

کھانا چھوڑ دیا: مولانا بخش علی صاحب نے بتایا کہ ایک مرتبہ میہڑ کے قریب فقیر قادر بخش ڈیپر کے یہاں جمعہ کی رات دعوت تھی۔ حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے ساتھ مولانا حاجی بخش صاحب رحمۃ اللہ علیہ، مولانا نثار احمد صاحب بھی اس دورے میں شامل تھے۔ جمعہ نماز دوسرے گاؤں میں پڑھنے کا پروگرام تھا۔ صبح سویرے دوسرے خلفاء کرام وہاں چلے گئے۔ حضور کا پروگرام کچھ دیر بعد جانے کا تھا۔ میں بھی آپ کے ساتھ ٹھہر گیا۔ فقیرصاحب صبح کا ناشتہ لے آئے۔ ایک دو لقمے ہی کھائے تھے کہ رحمت پور شریف سے ایک آدمی حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کا خط لے آیا جس میں حضرت سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ کو فوراً رحمت پور شریف پہنچنے کا حکم درج تھا۔ کھانا کھائے بغیر اسی وقت اٹھ کھڑے ہوئے۔ مجھے فرمایا، جلدی چلیں بس آرہی ہے۔ الغرض رادھن پہنچنے کے بعد مجھے اپنے گھر جانے کا حکم فرمایا اور خود اکیلے رحمت پور شریف روانہ ہو گئے۔

آپ فرماتے تھے کہ یہ عاجز جب بھی حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے اجازت لے کر تبلیغ کے لئے یا لنگر کے کسی کام کے لئے چند دن باہر رہ کر واپس رحمت پور شریف جاتا تھا تو دل میں یہ خوف اور فکر ہوتا تھا کہ نہ معلوم حضرت صاحب مجھ پر راضی ہیں یا نہیں۔ کہیں مجھ سے ایسی کوئی کوتاہی سرزد نہ ہوئی ہو کہ حضرت صاحب رنجیدہ ہوں۔ یہاں تکہ کہ جب حاضر خدمت ہو کر قدم بوسی کرتا، آپ بخوشی خیریت دریافت فرماتے، تب جا کر دل کو اطمینان ہوتا تھا۔ حضرت صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا یہ خوف اس قدر دل میں راسخ ہو چکا تھا کہ حضرت صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے وصال کے بعد جب فقیر پور بنا، یہ عاجز تبلیغ کے لئے باہر جاتا تو واپسی پر یہی تصور غالب رہتا تھا کہ گویا اپنے شیخ کامل حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں حاضر ہو رہا ہوں۔ نہ معلوم حضرت صاحب رحمۃ اللہ علیہ میرے اس سفر سے راضی ہوئے یا مجھ سے کوئی کوتاہی سرزد ہوئی ہے جس پر آپ خفا ہیں۔

محبت کی علامت: آپ فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم سے محبت کی علامت آپ کی اطاعت و اتباع کرنا ہے۔ یہی نہیں بلکہ نص قطعی سے ثابت ہے کہ خداوند عزوجل سے محبت کی علامت بھی اتباع رسول صلّی اللہ علیہ وسلم ہے۔ اسی طرح متبع سنت شیخ کامل سے محبت کی علامت بھی اس کے فرمان پر عمل کرنا ہے۔ نیز جس کو رسول صلّی اللہ علیہ وسلم کی امت سے محبت اور ہمدردی ہے وہ ان کی اصلاح و فلاح کے لئے کوشاں رہتا ہے۔ علیٰ ھذا جس کو اپنے پیر بھائیوں سے محبت و ہمدردی ہے تو سمجھو کہ اسے اپنے پیر سے بھی محبت ہے، ورنہ اپنے دعویٰ میں سچا نہیں خواہ کتنے ہی دعویٰ کرتا پھرے۔ الغرض محبت کے اس معیار کے مطابق بھی دیکھا جائے تو معلوم ہوگا حضرت سوہنا سائیں قدس سرہ اپنے خالق و مالک اور حضرت رسول مقبول صلّی اللہ علیہ وسلم اور اپنے پیر کامل کے صف اول کے محب صادق تھے۔امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کے بظاہر ادنیٰ سے ادنیٰ فرد سے بھی آپ کو محبت و ہمدردی تھی (بلکہ حیوانات تک سے مثالی ہمدردی تھی، اس قسم کے چند واقعات سوانح ہذا میں بھی ذکر کئے گئے ہیں)۔

مریدین کے علاوہ بھی کئی آدمی دعا کے علاوہ ذاتی و دنیاوی امور میں مشورہ کے لئے آپ کی طرف رجوع کرتے تھے، آپ کا خلوص و للہیت ہی تھا جس کی وجہ سے حضرت پیر مٹھا قدس سرہ کی جملہ جماعت آپ سے محبت کرتی تھی۔

ایک بار خانواہن کے علاقہ میں تشریف لائے۔ عشاء نماز کے بعد بھی کافی دیر تک جلسہ جاری رہا۔ اختتام جلسہ کے بعد بھی کافی دیر تک بستی والے مہمان فقراء کے لئے بستر نہیں لائے، تمام فقراء چٹائیوں پر لیٹ گئے جس کے بعد وہ رلیاں اور رضائیاں لے آئے اور رکھ کر چلے گئے۔ ابھی حضور سوہنا سائیں قدس سرہ جاگ رہے تھے۔ آپ اٹھے اور سوئے ہوئے فقراء کے اوپر رلیاں اوڑھانے لگے کہ محترم حاجی محمد صدیق بھٹی صاحب (حضور کے پڑوسی اور مخلص دوست اور مرید ہیں) کی آنکھ کھلی اور اٹھنے لگے کہ میں بھی آپ سے تعاون کروں، مگر آپ نے دیکھتے ہی اشارے سے منع کیا اور خود ہی یہ خدمت انجام دی۔
درگاہ رحمت پور شریف میں بھی عموماً بعد از نماز عشاء جب فقراء سو جاتے تھے، حضرت سوہنا سائیں قدس سرہ مسجد شریف میں تشریف لے آتے۔ جو کوئی مریض، کمزور یا بوڑھا نظر آتا اس کے پاس چلے جاتے اور زبانی ہمدردی کے علاوہ اس کے پاؤں دباتے اور پوچھتے کہ کسی چیز کی ضرورت ہو تو بلا تکلف کہہ دیں، میں سعادت سمجھ کر تیری خدمت کروں گا۔ اسی طرح کئی مریضوں کو پرہیز کا کھانا وغیرہ بھی بنوا کر دیتے تھے۔

مثالی جان نثاری

درگاہ عاشق آباد شریف نزد اسٹیشن چنی گوٹھ قیام کے دوران بھی حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بکثرت تبلیغ کے لئے سندھ تشریف لاتے تھے اور تقریباً ہر سفر میں حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ بھی ساتھ ہوتے تھے۔ عموماً واپسی پر بھی عاشق آباد شریف تک ساتھ جاتے تھے۔ اسی طرح ایک مرتبہ واپسی میں حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ اور دیگر احباب بھی آپ کے ساتھ چناب ایکسپریس پر سوار تھے جو کہ چنی گوٹھ اسٹیشن پر نہیں ٹھہرتی تھی۔ چلتی ٹرین میں باہمی یہ بات ہو رہی تھی کہ اب ڈیرہ نواب اسٹیشن پر اتر کر پیدل عاشق آباد شریف تک جانا ہوگا اور فاصلہ بھی کافی ہے، وغیرہ۔ حضرت سوہنا سائیں نوراللہ مرقدہ جیسے عاشق صادق کے لئے اتنا فاصلہ مرشد و مربی کا پیدل چل کر جانا بڑی بات تھی۔ چنانچہ جب ٹرین چنی گوٹھ اسٹیشن پر پہنچی، تو حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ نے یہ کہتے ہوئے نیچے چھلانگ لگادی کہ ”میں حضرت صاحب کے لئے سواری کا انتظام کرنے جا رہا ہوں“، اور رات کے اندھیرے میں غائب ہو گئے۔ تمام جماعت جانثار سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے اس مثالی کردار سے متاثر بھی ہوئی اور اس سے بڑھ کر پریشان بھی کہ اندھیری رات میں چلتی ایکسپریس سے چھلانگ لگا کر سلامت بچ جانا مشکل ہے۔ بالاخر جب ٹرین ڈیرہ نواب اسٹیشن پر پہنچی تو ابھی کافی رات باقی تھی۔ حضرت صاحب رحمۃ اللہ علیہ جماعت سمیت قریبی مسجد شریف میں لیٹ گئے۔ صبح ہوتے ہی حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ اپنے مرشد و مربی رحمۃ اللہ علیہ کی سواری کے لئے عاشق آباد شریف سے سائیکل لے کر حاضر ہوئے۔ دریافت کرنے پر بتایا کہ چھلانگ لگا کر اترتے وقت مجھے کوئی پتہ نہ چلا، نہ ہی کسی قسم کی تکلیف ہوئی۔ لانگری مولانا عبدالرحمان صاحب نے بتایا کہ یہ واقعہ میں نے خود حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے سنا ہے۔

فَنَا فِی الشَّیخِ

سید حاجی عبدالخالق شاہ صاحب نے بتایا کہ حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ عاشق آباد شریف میں تھے، اچانک آپ کو پیٹ میں سخت درد کی تکلیف ہوگئی، آپ نے عاشق آباد سے حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے پاس دین پور شریف (سندھ) لینے کے لئے آدمی بھیجا۔ پیغام پہنچتے ہی حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی پریشان حالی کی حد نہ رہی، سید نصیرالدین شاہ صاحب اور بھی کچھ احباب ساتھ لے کر روانہ ہو گئے۔ دور کا سفر اور دین پور کے دریائی علاقے میں سواری کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے عاشق آباد شریف پہنچتے پہنچتے تین دن گزر گئے۔ کافی دوائیوں کے استعمال کے باوجود کوئی فائدہ نہ ہو رہا تھا۔ ہم نماز ظہر سے ذرا بعد عاشق آباد شریف پہنچے تھے۔ حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کو اطلاع کی گئی۔ اسی وقت آپ نے حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کو اپنے پاس گھر بلایا۔ کچھ دیر بعد جب واپس ہوئے تو آپ سے چلا نہ جاتا تھا۔ معلوم ہوا کہ جس مقام پر حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو پیٹ درد کی تکلیف تھی، بعینہ اسی جگہ حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کو تکلیف شروع ہوگئی اور حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا پیٹ درد کافور ہو چکا تھا۔ نماز عصر پر حسب معمول چاک و چوبند تشریف لائے، نماز کے بعد مغرب تک جماعت میں بیٹھے، وعظ نصیحت اور بات چیت کرتے رہے۔ ادھر حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کو سخت پیٹ درد، کہ بہ مشکل نماز پڑھی پھر لیٹ گئے، مجلس میں بیٹھ بھی نہ سکے۔ آپ کی اس قدر تکلیف کے پیش نظر ہم بھی خدمت کے لئے آپ کے پاس بیٹھے، اور حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں بیٹھ نہ سکے۔ اسی دن سے ہمیں پتہ چلا کہ فنا فی الشیخ کیا چیز ہوتی ہے؟ جب کہ اس سے پہلے صرف فنا فی الشیخ کا لفظ سنتے رہے، مگر اس چشم دید واقعہ سے اس کی حقیقت سمجھ میں آگئی۔

تقویٰ ہی قرب کا باعث ہے

محترم محمد عثمان بروہی (سکنہ لاڑکانہ جو کہ حضرت پیر مٹھا قدس سرہ کے زمانہ میں لنگر کے مال مویشی کی خدمت پر مامور تھے) نے بتایا کہ ایک بار وبائی مرض سے کافی مال مویشی مر رہے تھے۔ میں نے پسے ہوئے نمک کا ایک تھال لے لیا تا کہ حضرت صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے دم کرواکر مال کو کھلاؤں، تاکہ حضور کی دعا کے صدقہ لنگر کا مال محفوظ رہ جائے۔ اس وقت حضرت پیر مٹھا قدس سرہ اپنے دروازہ مبارک پر کھڑے تھے۔ میں نے صورت حال عرض کی اور نمک دم کرنے کے لئے کہا۔ آپ نے حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی طرف اشارہ کرکے فرمایا، ان سے دم کروا کر کھلائیں، میں اور یہ ایک ہی چیز ہیں، انشاء اللہ تعالیٰ فائدہ ہوگا۔ مگر چونکہ آپ نے نہایت ہی قریب سے دم کیا اور نمک پسا ہوا تھا، اس کے معمولی ذرات اڑ کر آپ کے ہونٹوں تک پہنچے جس کا ذائقہ محسوس ہوا، جس سے فوراً گھبرا گئے اور مجھے فرمایا محمد عثمان نادانستہ طور پر مجھ سے غلطی سرزد ہوگئی ہے کہ بلا اجازت لنگر کا نمک چکھ لیا ہے۔ حضور سے میرے لئے معذرت کرنا کہ ان سے نادانستہ یہ غلطی ہوگئی ہے معاف فرما دیں۔ چنانچہ میں نے عرض کیا۔ اتفاقاً ان ہی دنوں ایک اور خلیفہ صاحب نے بلا اجازت لنگر کے بیر کھائے تھے جس کا حضور کو پتہ تھا۔ چنانچہ آپ نے عام جماعت میں مذکورہ دونوں واقعات بیان فرما کر ارشاد فرمایا، دیکھو مولوی صاحب (سوہنا سائیں) اور دوسرے خلفاء میں یہی فرق ہے کہ یہ نادانستہ نمک چکھنے پر بھی معذرت خواہ ہیں جبکہ بعض دوسرے جان بوجھ کر لنگر کے بیر کھاتے ہیں۔

آپ سے حضرت پیر مٹھا قدس سرہ کی محبت

مرید تو اپنے پیر کی تعریف کیا ہی کرتے ہیں، حتیٰ کہ بطور ضرب المثل مشہور ہے ”پیراں نمی پرند، مریداں مے پرانند“ (پیر خود نہیں اڑتے، ان کو مرید اڑاتے ہیں) مگر ایسا کم ہوا ہے کہ پیر اپنے مرید کی تعریف کرے اور تعریف بھی ایسی جیسی کہ حضرت باقی باللہ نے امام ربانی قدس سرھما کی کی، اور حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حضرت سوہنا سائیں قدس سرہ کی کی۔ چنانچہ بارہا خلفاء کرام کے خصوصی اجلاس میں اور کبھی جلسہ عام میں کھلے الفاظ میں حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ سے اپنی محبت کا اظہار مختلف انداز میں بیان فرماتے تھے۔

یہاں تک کہ ایک مرتبہ اپنے گھر میں اہل خانہ سے حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی کمال محبت، صلاحیت اور تقویٰ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہم مولوی صاحب (حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ) سے تھوڑی دیر کے لئے بھی جدائی برداشت نہیں کرسکتے، جی چاہتا ہے کہ میرے اور مولوی صاحب کے گھر کے درمیان ایک کھڑکی ہو اور وہ ہر وقت کھلی رہے تاکہ میں جب چاہوں، ان کو دیکھتا رہوں۔ (حضرت صاحبزادہ قبلہ مدظلہ و دیگر اکابرین)
میری آمدنی: ایک بار کافی عرصہ حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ ثواب پور بستی تحصیل کنڈیارو میں قیام فرما رہے۔ اسی بستی میں حضرت پیر فضل علی قریشی رحمۃ اللہ علیہ بھی تبلیغی سلسلہ میں چند دن قیام فرما ہوئے تھے۔ ثواب پور قیام کے دوران ایک مرتبہ دورانِ تقریر حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے بارے میں ارشاد فرمایا: ایک بار اچانک مولانا عبدالغفور صاحب مدنی (جو کہ حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کے پیر بھائی اور حضرت پیر قریشی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ تھے) سے ملاقات ہوئی، انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ مولوی صاحب اتنے عرصہ سے آپ بڑی محنت سے سندھ میں تبلیغ کا کام کر رہے ہیں، کیا آپ کی محنت کا کچھ نتیجہ بھی بر آمد ہوا ہے۔ میں نے کہا جی ہاں، میری محنت کا عمدہ نتیجہ برآمد ہوا ہے، میری پوری محنت کی کمائی اور نتیجہ ایک مولوی اللہ بخش صاحب (نور اللہ مرقدہ) ہیں۔

ایک مرتبہ حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا مولوی صاحب (حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ) نے اپنی محبت کے جال میں مجھے پھنسا لیا ہے، یہ میرے وفادار ساتھی ہیں، یہ طریقت کے شیر ہیں، میں انکی وجہ سے یہاں سندھ میں ٹھہرا ہوا ہوں، طریقہ عالیہ کو میرے بعد یہی آگے چلائیں گے، میرے بعد آپ حضرات ان سے بیعت ہونا۔ (خلیفہ سید محمد مٹھل شاہ صاحب مدظلہ)

ایک عطر دو بوتل: ایک مرتبہ خلفاء کرام کے مجمع میں حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے متعلق حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا: اس جوان کی تمہیں کیا قدر، اس کی جوتی میں تمہارا پاؤں نہیں آسکتا، میں اور یہ ایک ہی چیز ہیں۔ جس طرح ایک بوتل میں عطر ہو دوسری خالی ہو، خالی بوتل میں بھی اسی سے عطر ڈالا جائے تو دونوں میں ایک ہی عطر ہوگا، ان میں کسی قسم کا فرق نہیں ہوگا۔ اسی طرح میرے اور مولوی صاحب (سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ) کے مابین بھی کوئی فرق نہ سمجھو۔ بعض لوگ کہتے ہیں یہ خلیفہ ہیں ان سے ذکر کیا دلائیں، پیر صاحب سے ذکر دلائیں گے۔ چخے دشمن! (یہ لفظ آپ غصہ کی حالت میں استعمال فرماتے تھے) تو کیا سمجھتا ہے یہ کوئی بھوسے کی آگ ہے کہ جلدی جل کر راکھ ہو جائے گی؟ یہاں شیر بندھے ہوئے ہیں۔ یہ کام دن بدن بڑھتا ہی رہے گا۔ پھر حضرت امیر خسرو رحمۃ اللہ علیہ کا یہ شعر پڑھا۔

من تو شدم تو من شدی، من تن شدم تو جان شدی
تاکس نہ گوید بعد ازیں، من دیگرم تو دیگری

(میں، تو ہوگیا اور تو، میں ہوگیا۔ میں جسم ہوگیا اور تو جان ہوگیا۔ یہاں تک کہ اس کے بعد کوئی یہ نہ کہے کہ میں اور ہوں اور تو اور، بلکہ ایک ہی ہیں)

مولانا بخش علی صاحب حیدرآباد

میرا شکار: حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ نے سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے متعلق ارشاد فرمایا: کل قیامت کے دن میرا پیر مجھ سے پوچھے گا کہ سندھ میں تو نے کیا کام کیا تھا تو میں کہوں گا حضور میرا شکار (میری محنت کا ثمرہ) یہ مولوی صاحب ہی ہیں۔
سونے کا محل: ایک مرتبہ فرمایا جی چاہتا ہے کہ زمرد اور سونے کا ایک محل تیار کراؤں، مولوی صاحب (سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ) کو اس میں بٹھا کر دیکھتا رہوں۔ (لانگری عبدالرحمان صاحب) مولانا بخش علی صاحب کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ میں تو چاہتا ہوں کہ سونے کا محل ہو، درمیان سے کھڑکی ہو، میں اس کھڑکی سے مولوی صاحب (سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ) کو دیکھتا رہوں اور وہ مجھے دیکھتے رہیں۔ تمہیں ان کی صلاحیتوں کا کیا پتہ؟ (مولانا بخش علی صاحب و دیگر فقراء)

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ خلیفہ مولانا حاجی محمد علی صاحب بوزدار نے بتایا کہ ایک مرتبہ حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ خلفاء کرام پر ناراض ہوئے تھے۔ خلفاء کرام کو علیحدگی میں بلاکر سخت تنبیہہ کی اور فرمایا مجھے اپنے پیر حضرت فضل علی قریشی رحمۃ اللہ علیہ کا سندھ میں تبلیغ کرنے کا حکم تھا، میں تبلیغ کرکے واپس پنجاب جاتا تھا۔ مگر چونکہ یہ مولوی صاحب (سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ) ہی مجھے یہاں لائے ہیں اور یہاں مستقل ٹھہرا لیا ہے، اب آپ ان کی منت کریں، بلکہ اپنی پگڑیاں اتار کر ان کے قدموں میں رکھیں کہ جس طرح مجھے یہاں لائے ہیں اسی طرح بخوشی مجھے پنجاب چھوڑ کر آئیں۔ غصہ کی حالت میں حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ اس قسم کے الفاظ ارشاد فرماتے تھے۔

مولانا بخش علی صاحب نے بتایا کہ ایک مرتبہ بعینہ اسی طرح کا ارشاد مسجد شریف میں خلفاء کرام کے مجمع میں فرمایا۔ خلفاء کرام کے لئے حضرت صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا پنجاب تشریف لے جانا تو بہت بڑی بات تھی۔ کافی دیر تک خاموش بیٹھے رہے، بالاخر حضرت صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی رنجش دیکھ کر تمام خلفاء کرام نے پگڑیاں اتار کر حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے قدموں میں رکھ دیں اور انہوں نے اپنا عمامہ اتار کر تمام دستاریں حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ کے قدموں میں رکھ دیں اور رونے لگے۔ اس پر ایک خلیفہ صاحب نے ادب سے عرض کیا یا حضرت! ہم نے ان کے (سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ) قدموں میں پگڑیاں اتار کر اس لئے نہیں رکھیں کہ آپ کو پنجاب چھوڑ آئیں، بلکہ اس لئے کہ جس طرح آپ کو یہاں سندھ لے آئے ہیں اسی طرح اب بھی آپ کو ہمارے اوپر راضی کریں۔ یا حضرت ہم چور تھے، فاسق فاجر تھے، ہر قسم کی برائیاں ہم میں موجود تھیں۔ آپ کے آنے سے ہماری اصلاح ہوئی، کئی برائیاں ختم ہوگئیں وغیرہ۔ ان کی یہ پُر درد و سوز گزارشات سن کر حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کا نورانی چہرہ خوشی سے مہکنے لگا اور عام معافی دے دی۔

محترم قاضی دین محمد صاحب نے بتایا کہ میں چونکہ حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے آبائی گاؤں خانواہن کا رہنے والا ہوں، طریقت میں آنے سے پہلے ہی میری آپ سے محبت اور دوستی تھی، حضرت پیر قریشی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے بھی دنوں بیعت تھے۔ ان کے وصال کے بعد دونوں حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت ہوئے۔ عاشق آباد شریف عموماً ایک ساتھ جاتے تھے، اور بھی کافی فقراء ہوتے تھے۔ اتنے عرصہ قریب رہنے کی روشنی میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے خلفاء میں ان جیسا کوئی نہیں تھا۔ حضرت پیر مٹھا کا سندھ میں تشریف لانا، یہاں تبلیغ کرنا اور تاحیات سندھ میں رہنا یہ سبھی کچھ حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی قلبی محبت اور اخلاص کا صدقہ ہے۔ حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے ”ایہو جوان میکوں سندھ وچ گھن آیا“۔ یہی جوان (حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ) مجھے سندھ میں لے آئے۔

”توں رنج نہ تھی!“

حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ گرمیوں میں اکثر و بیشتر کوئٹہ جاتے تھے، حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ چند ایک دیگر خلفاء بھی ساتھ جاتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ کوئٹہ میں تھے کہ دربار رحمت پور شریف سے خلفاء کرام نے انتظامی صورت حال کی رپورٹ بھیجی جس میں ایک بات یہ بھی درج تھی کہ فلاں رات دربار شریف میں چور آئے تھے۔ خط پڑھ کر آپ نے موجودہ تمام خلفاء کرام کو بلایا اور خط کے مندرجات سنا کر فرمایا: ہم نے بڑی محنت سے کافی عرصہ سندھ میں تبلیغ کی، مگر سندھیوں نے اس نعمت کی کوئی قدر نہ کی۔ لہٰذا اب ہم یہیں سے سیدھے پنجاب چلے جائیں گے، واپس سندھ جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے وغیرہ۔ آپ کے ایسے رنجش آمیز کلمات سنتے ہی تمام حاضرین خلفاء کرام کے گریہ زاری و پریشان حالی کی کوئی حد نہ رہی۔ حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ سمیت تمام خلفاء کرام نہایت درجہ ادب و عاجزی سے معافی طلب کرتے ہوئے واپس سندھ چلنے کے لئے التجا کرنے لگے، اتنے میں حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی طرف متوجہ ہوکر حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: توں رنج نہ تھی، توں چا راضی تھی، توں تاں اساڈے نال ہوسیں۔ (آپ فکر نہ کریں، آپ راضی ہوجائیں آپ تو ہمارے ساتھ ہوں گے) جہاں کہیں بھی ہم جائیں گے آپ تو حسب معمول ساتھ ہوں گے، آپ کو فکر کرنے کی کیا ضرورت۔ الغرض اس بار بھی حضرت قبلہ سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی منت و سماجت کے بعد آپ بخوشی رحمت پور شریف لاڑکانہ سندھ تشریف لے آئے۔ (حافظ نور محمد صاحب)

الغرض یہ حقیقت عالم آشکار ہے کہ تن تنہا حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی عظیم شخصیت ہی تھی جن کے عشق و محبت اور صداقت کے صدقے ہی ہم سندھیوں کی ناہلیوں، ناقدریوں بلکہ بے ادبیوں، طرح طرح کی مخالفتوں اور تکلیفوں کے باوجود حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ جیسے نازک مزاج ولی کامل نے اپنا ملک وطن، خویش و اقارب چھوڑ کر مستقل طور پر سندھ میں کر اپنا وطن بنا لیا اور سندھی ہوکر رہے۔ (آپ فرماتے تھے کہ میں اتنا عرصہ سندھ میں رہا ہوں اب میں سندھی ہوں۔ سندھی کے کافی الفاظ اور جملے بھی بہ شوق استعمال فرماتے تھے) یہاں تک کہ آپ کی آخری آرام گاہ ہونے کا شرف بھی سرزمین سندھ کو حاصل ہوا، الحمد للہ علی ذالک

پیشین گوئی حضرت پیر قریشی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی

شروع شروع میں جب تبلیغ کے لئے حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سندھ تشریف لائے تھے تو بالائی سندھ کے ڈہرکی، روہڑی، سکھر کے علاقوں میں زیادہ تبلیغ کی۔ شریعت و طریقت کی اشاعت کا مثالی کام ہوا۔ مگر انہوں نے اس نعمت کی پوری طرح قدر نہ کی۔ دنیا داری کی وجہ سے وجد و جذبہ سے کتراتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ نے حضرت پیر قریشی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے ان کی ناقدری کا تذکرہ کیا تو آپ نے غصے سے فرمایا یہ نا قدرے آدمی ہیں، ان کے پاس جانے کی ضرورت نہیں، ان کو دنیا چاہیے، ان کا دین سے کیا واسطہ وغیرہ۔ اس واقعہ کے بعد جلد ہی سندھ کے کچھ مخلص فقراء باعیال مسکین پور شریف (حضرت پیر قریشی رحمۃ اللہ علیہ) کے دربار پر گئے جن میں ایک مائی صاحبہ اس قدر عابدہ اور زاہدہ تھیں کہ رات کا اکثر حصہ ذکر، مراقبہ، نوافل میں روتے ہوئے گزراتی تھیں اور سارا دن شوق سے لنگر کا کام کرتی تھیں۔ ایک مرتبہ آپ نے اس کی محنت و اخلاص سے خوش ہوکر پوچھا، آپ کے اولاد بھی ہے؟ مائی صاحبہ نے جواباً عرض کیا حضور اولاد نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا کل تجھے تعویذ دے دیں گے، انشاء اللہ تعالیٰ تیری یہ امید بھی پوری ہو گی۔ عموماً مردوں سے بڑھ کر عورتوں کو اولاد کی خواہش ہوا کرتی ہے۔ اس کے لئے پیروں کے پاس تعویذ و دعا کے لئے بکثرت جاتی ہیں۔ مگر مائی صاحبہ نے یہ سن کر روتے ہوئے کہا میں اولاد کے لئے نہیں بلکہ آپ سے یہ دعا کرانے آئی ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا، محبت و معرفت حاصل ہو۔ یہ سن کر آپ کی خوشی کی حد نہ رہی۔ اسی وقت مسجد شریف میں تشریف لائے اور فقراء کو اکٹھا کرکے مذکورہ نیک عورت کا واقعہ بیان فرما کر حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا جب سندھ کی ایک خاتون کے دل میں رضائے الٰہی کی اتنی طلب ہے تو مجھے یقین ہے کہ مردوں میں بھی ایسے قیمتی دانے ضرور ملیں گے اور وہ اس نعمت کی قدر کریں گے۔ اور حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کی مذکورہ ارشادات کی روشنی میں یہ حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ برسوں پہلے جس قدر دان اور قیمتی دانے کی پیشین گوئی حضرت پیر قریشی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کی تھی وہ حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی ذات گرامی ہی تھی جو آگے چل کر صرف سندھ کے لئے نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کے لئے محسن اور ایک بے لوث روحانی رہنما ثابت ہوئے۔

جدائی ناقابل برداشت

واضح رہے کہ حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ سے اس قدر محبت تھی کہ سفر خواہ حضر میں ان سے زیادہ عرصہ جدائی برداشت نہیں کرتے تھے۔ اسی طرح حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ بھی کبھی جدا ہونا نہیں چاہتے تھے اور اگر لنگر کے کسی کام یا تبلیغ کے لئے چند دن اجازت لے کر جاتے اور کسی وجہ سے پروگرام کے مطابق واپس نہ پہنچتے تو حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کو بہت انتظار ہوتا۔ بار بار معلوم کرتے رہتے کہ مولوی صاحب (حضرت سوہنا سائیں) آئے ہیں کہ نہیں۔ متعدد بار ایسا بھی ہوا ہے کہ حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ سفر میں ہوتے اور حضرت پیر مٹھا نور اللہ مرقدہ آدمی بھیج کر واپس بلا لیتے تھے۔ حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ۷ سال مسلسل گرمیوں میں باعیال کوئٹہ جاتے رہے۔ ہر سال حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ بھی باعیال ساتھ جاتے رہے۔

ایک مرتبہ جب حضرت پیر مٹھا قدس سرہ حاجی مشتاق احمد صاحب والوں کی دعوت پر ان کی بستی پٹی ماچھی نزد رانی پور پہنچے، اور حضرت سوہنا سائیں قدس سرہ کے بارے میں پوچھا۔ جب بتایا گیا کہ وہ نہیں آئے تو اسی وقت آدمی بھیج کر آپ کو بلا لیا۔

ادب: حضرت بوعلی دقاق رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا قول ہے: العبد یصل بطاعۃ الی الجنۃ وبادبہ یصل الی اللہ (کہ بندہ اطاعت سے جنت میں پہنچے گا اور ادب سے اللہ تعالیٰ تک پہنچے گا) اللہ تعالیٰ جل شانہ، رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم، اہل بیت عظام رضی اللہ عنہم، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، ماسلف بزرگان دین، اپنے زمانہ کے اولیا علماء بالخصوص جس شیخ سے باطنی نسبت ہے، یا جس استاد سے ظاہری تعلیم حاصل کی ہو، ان کے علاوہ قرآن مجید، احادیث نبویہ صلّی اللہ علیہ وسلم اور دیگر ہر وہ شخص اور ہر وہ چیز جس کی شریعت مطہرہ میں صراحۃ یا اشارۃ کوئی اہمیت ہے اس کا ادب کرنا کمال ایمان کی علامت اور مزید ظاہری اور باطنی ترقی کے لئے نہایت ضروری ہے۔ یہاں تک کہ حضرت شیخ جلال رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے ”من لا ادب لہ لا شریعت لہ“ جس کو ادب نہیں اس کو دین و شریعت کی خبر ہی نہیں۔ غرضیکہ شریعت و طریقت کے لئے ادب جزو لازم کی حیثیت رکھتا ہے۔ جتنا ادب زیادہ ہوگا اتنا ہی زیادہ فائدہ ہوگا۔ ادب میں کمی ظاہری خواہ باطنی انحطاط کی علامت ہے اور بے ادبی محرومی کی علامت ہے۔

از خدا خواہیم توفیق ادب
بے ادب محروم مانداز لطف رب

بے ادب خود را نہ تنہا کردرد
بلکہ آئش درہمہ آفاق زد

(ہم اللہ تعالیٰ سے ادب کی توفیق مانگتے ہیں، بے ادب اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے محروم رہتا ہے، بے ادب نہ صرف اپنے آپ کو محروم کرتا ہے، بلکہ تمام جہان کے لئے خرابی کا باعث بنتا ہے)

الغرض سیدی و مرشدی حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے محسنین کے ادب اور خدمت کی اس قدر ہمت و توفیق بخشی کہ دور حاضر میں اس کی ہمیں کہیں مثال نہیں ملتی، بلکہ بعض ایسے آداب بھی بجا لاتے دیکھے گئے کہ وہاں ہماری سمجھ کی رسائی ہی نہیں ہوتی۔

من یھتدی فی الفعل مالا یھتدی
فی القول حتی یفعل الشعراء (متنبی)

(آپ وہ کچھ کر دیتے ہیں جو دوسرے زبان سے بھی ادا نہیں کر پاتے) اللہ تعالیٰ اور حضور ساقی کوثر صلّی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک بلا وضو نہیں لیتے تھے۔

کعبۃ اللہ اور روضۂ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم اور ان کے طفیل تمام حجاز کا اس قدر ادب کہ حرمین شریفین جاتے وقت استنجا کے لئے ڈھیلے پاکستان سے ساتھ لے گئے تھے اور جن جائے نمازوں پر کعبۃ اللہ شریف یا مسجد نبوی کی تصویریں بنی ہوئی تھیں، آپ نسبت کا احترام کرتے ہوئے نہ کبھی ان تصاویر پر بیٹھتے اور نہ ہی پاؤں رکھتے تھے۔

آپ رسول اللہ رحمت دوجہاں صلّی اللہ علیہ وسلم کے اسم مبارک کے ساتھ لفظ ”صلعم“ یا ”صہ“ لکھنے سے منع فرماتے تھے کہ یہ ادب اور محبت کے خلاف ہے، اسی طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نام مبارک کے ساتھ ”رضہ“ اور بزرگان دین کے ناموں کے ساتھ ”رح“ لکھنے سے منع فرماتے تھے اور خود بھی صلی اللہ علیہ وسلم، رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور رحمۃ اللہ علیہ لکھتے تھے۔

رضائی پر نہ بیٹھے: گوٹھ بخش علی ماچھی تحصیل وارہ میں حضور کی دعوت تھی، صاحب دعوت نے قیام گاہ پر آپ کے لئے جو رضائیاں چادریں اور تکیے، سیٹ کر رکھے تھے، ان پر مالکان کے نام تحریر تھے، جن میں اسماء اللہ تعالیٰ مثلاً (عبد اللہ) اور اسماء رسول (محمد بشیر) بھی ضمناً شامل تھے۔ یہ دیکھ کر آپ نے بیٹھنے سے انکار کر دیا اور سخت تنبیہہ کی کہ تم لوگوں نے اللہ تعالیٰ اور حبیبِ خدا صلّی اللہ علیہ وسلم کے اسماء مبارکہ کی یہ تعظیم کی ہے کہ ہر چیز پر ان کا نام لکھ رکھا ہے؟ الغرض اسی وقت ان تکیوں اور رضائیوں کے کوَر اُتارے گئے، اور حضور کے لئے دوسرے بستر لائے گئے جن پر آپ تشریف فرما ہوئے۔ (خلیفہ مولانا محمد ایوب)

یا اللہ، اور یا محمد کا ادب: موسیٰ گوٹھ کراچی میں جلسہ تھا۔ جس کمرے میں حضور کی رہائش کا انتظام کیا گیا اور آپ کے لئے چارپائی رکھی گئی تھی، اس میں پائنتی کی طرف یا اللہ، یا محمد (صلّی اللہ علیہ وسلم) لکھا ہوا تھا۔ یہ دیکھ کر آپ صاحبِ دعوت پر ناراض ہوئے کہ تم نے چارپائی اس طرح کیوں رکھی کہ اسماء مبارکہ کی بے ادبی ہوتی ہے۔ خادمین نے جلدی جلدی چارپائی پھیر کر پاؤں دوسری طرف کردیئے، تب آپ اس پر لیٹے۔ (خلیفہ محمود علی صاحب)

حجاز مقدس کی ہر چیز کا ادب کرو

ہر سال خاصی تعداد میں آپ کے مریدین، فریضہ حج کی ادائیگی کے لئے حرمین شریفین جاتے تھے۔ جو بھی اجازت لینے آتا، معمول کے خلاف آپ اس کا زیادہ خیال کرتے تھے۔ بعض اوقات اپنے لئے اس سے دعا بھی کرواتے تھے۔ اور ہر ایک کو یہ تاکید کرتے تھے کہ حجاز مقدس کے ہر انسان بلکہ حجر و شجر کی بھی تعظیم کرنا۔ وہاں کی کسی چیز کو حقارت کی نظر سے دیکھنا بھی بے ادبی میں شامل ہو جاتا ہے۔ وہاں کے بعض لوگ اگر اخلاق و اعمال کے لحاظ سے شریعت مطہرہ کے مطابق نظر نہ آئیں تو بھی ان کی تعظیم کرنا، گو وہ اعمال کے لحاظ سے کچھ بھی ہوں پھر بھی رسول صلّی اللہ علیہ وسلم کے پڑوسی ہونے اور کعبۃ اللہ شریف کے قریب رہنے کی وجہ سے قابل تعظیم ہیں۔ وہاں پہنچ کر اپنا قیمتی وقت گھومنے پھرنے میں ضائع نہ کرنا، بلکہ جتنا زیادہ ہوسکے مکہ مکرمہ میں قیام کے دوران کعبۃ اللہ شریف میں اور مدینہ شریف زادھا اللہ شرفا وتعظیما میں اکثر وقت زیارتِ روضۂ رسول صلّی اللہ علیہ وسلم میں گزاریں۔

خلفاء راشدین رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے محبت اور ادب

۱۳۹۹ھ میں حضور پنجاب کے تبلیغی سفر میں تھے کہ جب لاہور پہنچے تو معلوم ہوا کہ شیخوپورہ کے باغ میں قدرتی طور پر ایک درخت کے تنے پر حضرات خلفاء راشدین رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے اسماء گرامی بالترتیب تحریر شدہ ظاہر ہوئے ہیں۔ آپ نے یہ بہتر خبر سن کر فرمایا پھر تو ایسے درخت کی زیارت کرنی چاہیے۔ چنانچہ حاجی محمد حسین نے بتایا کہ محترم محمد اشرف بٹ صاحب کی کار میں آپ کے ساتھ یہ عاجز مولانا محمد رمضان صاحب اور حاجی نظر محمد صاحب بہاول نگر والے زیارت کے لئے گئے۔ جب باغ کے پاس پہنچے، آپ نے نعلین مبارک اتاری، نہایت ہی ادب کے ساتھ ننگے پاؤں چل کر درخت کی زیارت کی۔ (حاجی محمد حسین صاحب)

پیر و مرشد کا ادب

اپنے مرشد مربی حضرت پیر مٹھا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا اس قدر ادب ملحوظ رکھتے تھے کہ بے ادبی کے خوف سے قریب نہیں بیٹھتے تھے، ان کے سامنے بلا ضرورت کوئی کلام نہیں کرتے تھے۔ حضرت صاحب کچھ پوچھتے تو مختصر سا جواب دے کر خاموش ہو جاتے تھے۔ نہ ہی دربار رحمت پور شریف میں تقریر کرتے تھے۔ اگر حضرت صاحب خود تقریر کے لئے ارشاد فرماتے تو ان کے فرمان کی بجا آوری کرتے اور مختصر سا وعظ فرما کر حضرت صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی شان میں غزل یا منقبت شروع کرتے تھے جس سے تمام جماعت پر گریہ و وجد کی حالت طاری ہو جاتی تھی۔

مؤرخہ ۲۰ جمادی الاول ۱۳۹۶ھ کو جب حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ چھ بسوں پر مشتمل فقراء اہل ذکر کا قافلہ لے کر شیخ المشائخ حضرت فضل علی قریشی نور اللہ مرقدہ کی دربار مسکین پور شریف پہنچے تو مسکین پور شریف پہنچنے سے قبل ہی مریدین کو سختی سے منع کردیا کہ وہاں کوئی میرا ادب نہ کرے، میری جوتی نہ اٹھائے، نہ ہی میرے پیچھے چلے۔ اس درِ اقدس کے سبھی یکساں سوالی ہیں، کوئی امتیاز نہ رہے۔ جہاں تک راقم الحروف کو یاد ہے کہ کسی فقیر نے مسجد شریف میں داخل ہوتے وقت آپ کی نعلین مبارک اٹھانا چاہی، آپ اس پر ناراض ہوئے کہ ہم نے پہلے منع نہیں کیا تھا؟

دو راتیں قیام کے دوران دوسرے فقراء کی طرح آپ نیچے زمین پر سوئے۔ ادب کا لحاظ کرتے ہوئے چارپائی لینے سے انکار کردیا۔ وہاں قریب کا ایک سیٹھ حضور کی خدمت میں آیا (جو حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے خلیفہ مولانا سردار احمد صاحب سے پہلے ہی وابسۃ تھا) اور بیعت ہونے کی خواہش ظاہر کی، آپ نے فرمایا یہاں پیر خانہ پر ایک مرید و خادم کی حیثیت سے میں بھی فیض لینے آیا ہوں، یہاں بیعت کرنا ادب کے خلاف ہے۔ کافی منت و سماجت کے بعد بھی جب حضور نے بیعت کرنے سے صاف انکار کردیا تو اس نے یہ تدبیر اختیار کی اور حضور سے عرض کی یا حضرت تھوڑے ہی فاصلہ پر میری زمین ہے، براہ کرم تھوڑی دیر کے لئے آپ میرے غریب خانے پر تشریف لے چلیں۔ اس کی بے حد محبت اور بار بار اصرار کرنے پر حضور اس کے ڈیرہ پر تشریف لے گئے اور وہ اپنے متعلقین و احباب سمیت حلقۂ ارادت میں داخل ہوئے۔

یہی نہیں بلکہ درگاہ مسکین پور شریف خواہ عاشق آباد شریف قیام کے دوران قضائے حاجت کے لئے دربار شریف کے حدود اور لنگر کی زمینوں سے بہت دور چلے جاتے تھے اور دیگر فقراء کو بھی یہی تاکید فرماتے تھے۔

اساتذہ کا احترام

حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ نے دوران تعلیم اور اس کے بعد اپنے اساتذہ کی کس قدر خدمات سر انجام دیں اور ان کے آداب بجا لاتے رہے، اس سلسلہ میں تفصیلات تو معلوم نہیں ہو سکیں۔ البتہ مدرسہ کے طلبہ کو نصیحت فرماتے ہوئے اساتذہ کے ادب و خدمت کے بارے میں ترغیب کے طور پر اپنے چند واقعات بیان فرماتے تھے جو پیش خدمت ہیں۔

۱۔ ہمارے پرائمری سکول کے اساتذہ میں ایک استاد ہندو تھے، اس کے باوجود ہم اس استاد کا ادب کرتے تھے۔

۲۔ ہمارے استاد محترم مولانا رضا محمد صاحب بھریا منتقل ہوگئے۔ ان کی ایک بلی وہیں رہ گئی جو پریشان حال دوسرے گھروں کے چکر کاٹ رہی تھی۔ استاد محترم کی بلی کی یہ پریشانی مجھ سے نہ دیکھی گئی، اسے پکڑ کر استاد محترم کو پہنچا آیا۔

۳۔ غالباً یہ بھی آپ ہی سے سنا تھا کہ جب میں بھریا میں استاد مذکور کے پاس پڑھتا تھا، شہر کی ایک مسجد میں امام کی ضرورت تھی، استاد محترم نے مجھے امامت کا حکم فرمایا۔ حسب فرمان میں پڑھتا بھی رہا اور امامت بھی کراتا رہا، لیکن جو کھانا مجھے مسجد میں ملتا وہ لے کر استاد محترم کی خدمت میں پیش کرتا تھا اور خود مدرسہ کی روٹی سالن جو دوسرے طلبہ کھاتے میں بھی وہ کھاتا تھا۔ مہینہ پورا ہونے پر جو تنخواہ ملی وہ بھی تمام کی تمام استاد محترم کی خدمت میں پیش کی۔ آپ کے سب سے زیادہ کرم فرما استاد یہی تھے جو عرصہ سے مستقل طور پر حرمین شریفین میں قیام فرما ہوگئے تھے۔ مسند نشینی کے بعد ایام حج ہی میں ان سے ملاقات ہوئی اور ان کی خواہش کے مطابق ان ہی کے پاس قیام فرمایا۔ اس وقت کتنے ظاہری و باطنی تحائف و انعامات سے ان کو نوازا، کتنے آداب بجا لائے، کس قدر خدمت کی وہ تو خدا ہی بہتر جانتا ہے۔ البتہ سفر حج کے ساتھیوں سے اس قدر سنا کہ وہ آپ کے ایام طالب علمی کے اخلاق و اخلاص اور اس وقت کی دینی خدمات اور تبلیغی مساعی سے اس قدر متاثر تھے کہ استاد ہوتے ہوئے بھی آپ سے بیعت ہونے کی خواہش ظاہر کی اور آپ نے استاد محترم کے ادب کے پیش نظر معذرت کی۔ ازحد تواضع و انکساری کرتے ہوئے جان چھڑانے کی کوشش کی، مگر وہ ایک نہ مانے۔ بالاخر مجبور ہوکر ان کو بیعت کیا۔

جب تک استاد مذکور اور محترم مولانا حاجی علی محمد صاحب زندہ رہے، حج پر جانے والے ساتھیوں کے ساتھ ان کے لئے شہد، دینی کتابیں اور دیگر مختلف تحفے تحائف بھیجا کرتے اور وہ بھی آپ کے لئے اور حضرت قبلہ صاحبزادہ سجن سائیں مدظلہ کے لئے (جو اس وقت طالب علم تھے) تحفے بھیجا کرتے تھے۔

۴۔ درگاہ اللہ آباد شریف کی موجودہ جامع مسجد بننے سے پہلے ایک مرتبہ جائے نماز میں حضور کی مجلس گرم تھی کہ اتنے میں ایک سفید ریش درویش صفت آدمی تشریف لائے۔ ان کو دیکھتے ہی حضور ادباً کھڑے ہوگئے، بڑے احترام سے گلے ملے اور بیٹھنے کے لئے مصلیٰ دے دیا۔ ہم حیران ہوگئے کہ یہ کون شخصیت ہیں جن کے لئے حضور اتنا تکلف فرما رہے ہیں۔ مگر جب آپس میں پرائمری تعلیم کے زمانے کے حالات معاملات کا تذکرہ فرمایا اور دلچسپی سے حال احوال ہوئے تو پتہ چلا کہ یہ آپ کے پرائمری اسکول کے استاد محترم ہیں۔
محترم بیدار مورائی صاحب نے بتایا کہ جب آخری بار آپ مورو تشریف لائے تو آپ سے ملنے کے لئے آپ کے ایک استاد محترم علی بخش صاحب تشریف لائے۔ ان کو دیکھتے ہی آپ اٹھ کھڑے ہوئے، نہایت ادب و محبت سے بغلگیر ہوئے اور آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور اس وقت تک کھڑے رہے جب تک استاد محترم کے لئے کرسی نہ لائی گئی۔ حالانکہ ان دنوں آپ کو ڈاکٹر صاحب نے کھڑا رہنے سے منع کر دیا تھا۔ مذکور استاد محترم سے آپ کی یہ آخری ملاقات ثابت ہوئی۔

دینی کتابوں کا احترام

قرآن مجید، احادیث اور دیگر اسلامی کتب کے علاوہ اخبارات اور دیگر ایسے کاغذات جو عموماً باہر پھینکے جاتے ہیں، آپ ان کا بھی احترام کرتے اور دوسروں کو ادب کرنے کی تاکید کرتے تھے۔ یہی نہیں بلکہ بالکل سفید کاغذ جس پر کچھ لکھا ہوا نہ ہوتا، بلکہ علم کی نسبت سے سیاہی کا بھی احترام فرماتے تھے۔ چنانچہ حضرت قبلہ مرشدی صاحبزادہ سجن سائیں مدظلہ نے بتایا کہ ایک بار بیت الخلاء کو جاتے ہوئے فوراً رُک گئے اور واپس آکر ہاتھ دھونے لگے۔ میں نے جاکر ادب سے واپسی اور ہاتھ دھونے کے بارے میں پوچھا، اس پر فرمایا میرے ہاتھ میں سیاہی لگی ہوئی تھی، ہاتھے دھوئے بغیر بیت الخلاء جانا بے ادبی سمجھتا ہوں۔

راستہ چلتے ہوئے کوئی کاغذ کا ٹکڑا پڑا ہوا نظر آتا خواہ اخباری ہی ہوتا، فوراً جھک کر اٹھا لیتے تھے۔ طلبہ و فقراء کو بھی ایسے کاغذات اٹھا کر ادب سے رکھنے یا ایسی جگہ زمین دوز کرنے کا حکم فرماتے تھے جہاں بے ادبی کا احتمال نہ ہو۔ درگاہ اللہ آباد شریف کے اوائل زمانہ میں جب آپ کی صحت اچھی تھی ڈاکٹر عبدالطیف صاحب رحمۃ اللہ علیہ روزانہ شام کو آپ کے لئے اخبار لاتے تھے۔ آپ پڑھ کر دوسرے تیسرے دن اس عاجز کو دے دیتے تھے۔ ساتھ ساتھ تاکید فرماتے تھے کہ آپ خود پڑھیں، لیکن مدرسے کے طلبہ کو اخبار پڑھنے کے لئے نہ دینا۔ اس سے ان کے مزاج پر بُرا اثر پڑے گا اور اخبار کے عادی ہوکر تعلیم کی طرف کم توجہ دیں گے۔ اگر کوئی خاص مضمون یا شمارہ ہوتا تو اس کی بھی نشاندہی فرماتے تھے۔ یہ عاجز اسے علیحدہ رکھ لیتا تھا۔ تقریباً دو سال مسلسل اسی طرح میرے پاس اخبارات جمع ہوتے رہے۔ ایک مرتبہ تنہائی میں، میں نے آپ سے پوچھا کہ حضور کئی سیر وزن کے اخبارات جمع ہوگئے ہیں، ان کے متعلق جو ارشاد ہو، ان کو بیچ دیا جائے یا جلا دیا جائے یا دفن کر دیا جائے۔ فرمایا مسئلے کی نوعیت تو آپ خود جانتے ہیں، میرے خیال میں بیچنا تو غلط ہے، باقی جلا دینے کے متعلق اگرچہ بعض علماء نے جواز کا فتوی دیا ہے، تاہم میرے خیال مین دفن کرنے میں ادب کا پہلو اور بھی زیادہ ہے۔ آخر وہ اخبارات میں نے قبرستان میں دفن کروا دیئے۔

مسجد شریف یا مدرسہ میں کوئی کتاب بے احتیاطی سے فرش یا چٹائی پر رکھی ہوئی نظر آتی یا کسی کتاب میں کوئی کاغذ نظر آتا یا غیر ضروری نوٹس، اشعار پتے وغیرہ لکھے ہوئے نظر آتے تو سخت ناراض ہوتے تھے۔ طلبہ کے علاوہ اساتذہ کو تنبیہہ فرماتے تھے کہ تم نے ان کو کتابوں کا ادب تک نہیں سکھایا۔ اس سلسلہ میں ہدایات دیتے ہوئے فرماتے کہ اگر ایک دوسرے کے اوپر کتابیں رکھنی ہوں تو سب سے اوپر قرآن مجید، پھر حدیث شریف، اس کے بعد فقہ، صرف و نحو اور سب سے نیچے منطق کی کتاب رکھا کریں، لیکن پڑھتے وقت یا ویسے فرش یا چٹائی پر کوئی کتاب نہ رکھیں خواہ منطق کی کتاب ہو۔ دورہ حدیث کے طلبہ کو بہتر لباس، عمامہ اور خوشبو لگا کر ادب سے پڑھنے کی تاکید فرماتے تھے۔ ایک بار آپ کے سامنے بے احتیاطی سے کتاب کھولتے ہوئے ایک مولوی صاحب سے ایک ورق معمولی سا پھٹ گیا، جس پر پریشانی و گھبراہٹ کے انداز میں فرمایا اوہ! دیکھو جلدی ورق الٹانے سے کتنا نقصان ہوگیا۔ اسی طرح ایک مرتبہ مولوی صاحبان کی غفلت کی وجہ سے تصوف کی مشہور و معروف کتاب عین العلم کا کافی حصہ کیڑوں کی نذر ہوگیا، جس پر اس قدر آپ کو دکھ اور افسوس ہوا، شاید لاکھ روپے ضائع ہونے پر آپ کو اتنا دکھ نہ ہوتا۔ بار بار افسوس سے کتاب کے ضائع ہونے کا تذکرہ فرماتے تھے۔

پیر کے خاندان کا ادب

واضح ہو کہ مرشدنا حضرت قبلہ پیر فضل علی قریشی مسکین پوری رحمۃ اللہ علیہ (حضرت سوہنا سائیں نوراللہ مرقدہ کے مرشد اول) کے کئی رشتہ دار مثلاً ان کے داماد سید عبدالرؤف شاہ صاحب، نواسے حضرت علامہ سید رفیق احمد شاہ صاحب وغیرہ، اسی طرح آپ کے مرشد کامل حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کے داماد حضرت قبلہ مولانا غلام فرید صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور نواسے حضرت قبلہ سائیں محمد دیدہ دل صاحب وغیرہ حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ سے بیعت تھے۔ اور ان حضرات کو مریدانہ انداز میں آپ سے والہانہ عقیدت و محبت تھی۔ پھر بھی جب وہ زیارت و ملاقات کے لئے آپ کے پاس تشریف لے آتے یا آپ ان کے پاس دربار مسکین پور شریف یا غریب آباد شریف تشریف لے جاتے، مرشد کے خاندان ہونے کے ناطے سے ہمیشہ مریدانہ انداز میں ان کا احترام فرماتے تھے۔ آگے بڑھ کر استقبال کرتے، معانقہ و مصافحہ کے بعد بیٹھنے کے لئے مصلےٰ پیش کرتے تھے، نہایت ادب اور محبت سے بات چیت کرتے اور رہائش وغیرہ کا معقول انتظام فرماتے، جاتے وقت کچھ نہ کچھ نذرانہ بھی پیش کرتے تھے۔

پیر و مرشد کے خاندان سے آپ کی یہ عقیدت و محبت جز وقتی یا دکھاوے کے طور پر نہیں بلکہ دائمی حقیقی اور قلبی عقیدت و محبت تھی جس کا اظہار آپ کے قول و فعل سے یکساں طور پر ہوتا تھا۔

حضرت قبلہ صاحبزادہ سید رفیق احمد شاہ صاحب مدظلہ العالی تقریباً تین سال تک مسلسل دربار عالیہ اللہ آباد شریف میں تدریسی خدمات انجام دیتے رہے۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ حضرت سوہنا سائیں نوراللہ مرقدہ کی ان سے محبت دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔ اور یہ کیوں نہ ہو جبکہ مرشد کامل کی اولاد میں سے یہی ایک مستند عالم دین عامل، متقی اور پرہیز گار اور صحیح معنوں میں حضرت پیر قریشی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے نقش قدم پر چلنے والے ہیں۔

اسی طرح حضرت قبلہ صاحبزادہ محمد دیدہ دل صاحب جب مدرسہ عالیہ میں پڑھنے کے لئے تشریف لے آئے۔ آپ نے ان کی تعلیمی خواہ ظاہری خدمت کو اپنے لئے سعادت سمجھتے ہوئے ہر طرح سے ان کی دل جوئی کی، یہاں تک کہ کھانا اپنے گھر سے بھیجتے تھے، خدمت کے لئے ایک طالبعلم کو مقرر کیا گیا۔ حالانکہ بذات خود آپ کسی طالب علم کے لئے امتیازی سلوک کو اچھا نہیں سمجھتے تھے۔ خاص کر جب کہ ان کی والدہ ماجدہ مدظلہا کی بھی یہی خواہش تھی کہ ان کا رہن سہن دوسرے طلبہ کے ساتھ ہو۔ پھر بھی آپ نے جملہ انتظامات حضرت صاحبزادہ صاحب مدظلہ کے مزاج و مذاق کے موافق رکھے تاکہ دل جمعی سے پڑھتے رہیں۔ آپ کی اس حسن تدبیر کا ہی نتیجہ تھا کہ آگے چل کر خود انہوں نے دوسرے طلبہ کے ساتھ ہی رہنے کو پسند فرمایا۔

اپنے مرشد گرامی کے خاندان کے علاوہ اگر کسی اور صاحب کمال بزرگ کی اولاد یا خاندان یا خلفاء کرام میں سے کوئی آجاتا تو بہت خوش ہوتے، بڑے پیار و محبت سے اسے گلے لگاتے، بیٹھنے کے لئے امتیازی طور پر مصلےٰ یا کرسی دیتے اور ہر طرح کی خاطر مدارات اور خدمت کرتے۔ گو بعض عملی اعتبار سے کمزور نظر آتے، پھر بھی بزرگوں کی نسبت سے آپ ازحد ان کا احترام فرماتے تھے۔

ایک مرتبہ آپ علاج کے سلسلے میں کراچی تشریف لے گئے اور محترم مولانا عبدالغفور صاحب کے پاس موسیٰ گوٹھ میں قیام فرمایا۔ معلوم ہونے پر حضرت خواجہ محمد باقی باللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی اولاد میں سے ایک بزرگ دعا کرانے کے لئے اپنا ایک فرزند ساتھ لے آئے۔ تعارف ہونے پر آپ کی خوشی کی انتہا نہ رہی، دونوں باپ بیٹے کی بے حد تعظیم فرمائی۔ ادب سے حال احوال پوچھا۔ ان کے صاحبزادہ صاحب داڑھی مونڈھ اور بقول ان کے نافرمان تھے، جن کے لئے انہوں نے دعا کی درخواست کی۔ آپ نے فرمایا: آپ ہمارے بزرگوں کی اولاد ہیں اور ہمارے بزرگ ہیں، آپ دعا فرمائیں میں آمین کہتا ہوں۔ محترم مولانا مولوی غلام نبی صاحب نے بتایا جو اس وقت وہاں پر موجود تھے کہ اس وقت حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی صحت کا یہ عالم تھا کہ چل پھر نہیں سکتے تھے، پھر بھی ان کو رخصت کرنے کے لئے اٹھے، اپنا ایک بازو میرے کندھے پر رکھا اور ایک مولانا محمد رمضان صاحب کے کندھے پر رکھا، اسی حالت میں گیٹ تک ان کو رخصت کرکے واپس ہوئے۔
اسی طرح حضرت امام ربانی مجدد و منور الف ثانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی اولاد میں سے ایک صاحب اور حضرت حاجی عبدالکریم صاحب پنڈی والوں کے صاحبزادہ صاحب کے ایک خلیفہ، اس عاجز سیہ کار نے حضور کی خدمت میں آئے دیکھے۔ جس خلوص و محبت سے آپ ان سے ملے، حال احوال دریافت فرمائے اور رخصت فرمایا وہ کبھی نہیں بھول سکتا۔

قدیم خانقاہوں کی اصلاح کی فکر

ویسے تو تقریباً پورے ملک کی مشہور خانقاہوں اور مشہور دینی مدارس کے سابقہ اور موجودہ حالات سے کسی نہ کسی حد تک باخبر رہتے تھے۔ خاص کر اندرون صوبہ سندھ کے تقریباً جملہ دینی مراکز کی ماضی کی دینی خدمات اور موجودہ دینداری یا دین سے بیگانگی سے ذاتی طور پر تفصیلی واقفیت رکھتے تھے اور ہمیشہ ان اسلامی اصلاحی دینی اداروں کی دوبارہ دینی آبادی کے لئے فکر مند رہتے تھے۔ اگر خوش قسمتی سے کسی قدیمی خانقاہ یا دینی مدرسہ کے بانیوں کی اولاد میں سے کوئی صاحبزادہ تشریف لاتے، خواہ ظاہری طور پر دیندار معلوم نہ ہوتے، پھر بھی ان کے احترام میں غیر معمولی تکلف فرماتے تھے۔ اور ان کو اپنے ماسلف کے کارنامے یاد دلاکر احساس دلاتے ہوئے فرماتے تھے کہ تمہارا موروثی کام تو دین اسلام کی خدمت کرنا ہے، تمہارے بزرگوں نے تو جو سوچا اور جو کام کیا وہ محض دین اسلام کی ترویج و اشاعت تھا، وہ کبھی دنیاداری کے درپے نہ ہوئے چنانچہ دنیا خود ان کے پیچھے چلی آئی۔ آپ کو چاہئے کہ دین کے لئے آگے بڑھیں۔ مزید تواضع کرتے ہوئے یہ بھی فرماتے تھے کہ یہ عاجز تو پیر یا بزرگ نہیں ہے، نہ ہی اپنے آپ کو اس کا اہل سمجھتا ہے کہ معتبرین کے مصلے پر بیٹھ کر لوگوں کو وعظ نصیحت کرے۔ لیکن کیا کریں جب آپ حضرات نے اس طرف توجہ نہ کی تو اپنی بساط کے مطابق ہم فقیر تھوڑا بہت کام کرتے ہیں اور الحمد للہ اس کے بہتر اثرات نکل رہے ہیں اور کام بہتر ہو رہا ہے۔ برائے کرم آپ آگے بڑھیں، دین کا کام کریں۔ بعض اوقات نجی محفل میں بعض مقامات کا نام لے کر افسوس سے کہتے تھے کہ فلاں قصبہ یا شہر اتنا عرصہ رشد و ہدایت کا مرکز بنا رہا جہاں سے علم و عمل کی روشنی دور دور تک پھیلی، جہاں کی روشن شمع سے سینکڑوں دیئے جلے، ان دیوں سے آگے اور دیئے روشن ہوتے رہے جس سے ایک عالم منور ہوگیا۔ مگر تھوڑا ہی عرصہ گزرا ہے، ہماری آنکھوں کے سامنے گردش ایام نے ایسا پلٹا کھایا کہ ”فخلف من بعدھم خلف اضاعو الصلوات واتبعو الشہوات“ (الایہ) کی صورت نظر آئی۔ بالخصوص انگریز دور حکومت سے ایسا انحطاط و تنزل شروع ہوا کہ جہاں کہیں شمع بجھی پھر نہ جلی۔ بے دینی اور گمراہی کی اس قدر آندھیاں چلیں کہ کہیں تو نام و نشان بھی مٹنے کو نہیں۔

وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا

یہ شعر آپ کثرت سے پڑھا کرتے تھے۔

علماء کرام کا احترام

علمائے کرام انبیاء علیہم السلام کے وارث ہیں (حدیث)۔ رسول الثقلین صلّی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایک عالم کو عابد پر اتنی فضیلت ہے جتنی تم میں سے ادنیٰ صحابی پر مجھے حاصل ہے۔ اس لئے علماء کرام جو عامل قرآن و متبع سنت رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم ہوں، ان کی تعظیم و توقیر ہر ایک مسلمان پر لازم و واجب ہے۔ خواہ خود بھی عالم ہو یا جاہل و جٹ قسم کا ہو۔ دراصل ایسے علماء کرام اولیاء امت بھی ہوتے ہیں۔ چنانچہ حضرت امام شعرانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں۔ درحقیقت اولیاء اللہ ہی علماء ہیں۔ چنانچہ آجکل بھی جو ولی ہیں بلا شک و شبہ وہ عالم اور عامل بھی ہیں، لیکن ہر عالم دین ولی نہیں ہے، کیونکہ وہ بسا اوقات اپنے علم پر عمل نہیں کرتے۔ الیواقیت و الجواہر صہ ۸۸ اور بغیر علم کوئی ولی نہیں بن سکتا۔
علماء کرام حضرت صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے دوست ہوتے۔ عام زائر ہوتے یا آپ کے مریدین، بہر صورت آپ ان کی توقیر و احترام کا لحاظ فرماتے تھے۔ بالخصوص ان علماء کرام کا اور بھی زیادہ احترام فرماتے تھے جو حضرت قبلہ پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے خلفاء ہوتے، یہاں تک کہ بعض اوقات گو وہ دربار شریف پر مقیم ہوتے پھر بھی اگر کسی کام کے لئے حضور کے پاس جاتے تو تعظیماً اٹھ کھڑے ہوتے تھے اور دوران سفر ترجیحی طور پر آپ ان ہی حضرات کو اپنے ساتھ ایک ہی سواری پر بٹھانے کی کوشش کرتے تھے۔ (خلیفہ مولانا عبدالرحمن صاحب)

برادر محترم مولانا حاجی نور محمد صاحب (حیدرآباد) نے بتایا کہ ایک مرتبہ میں اپنے رشتہ دار عالم دین حضرت مولانا محمد ابراہیم صاحب (عرف واعظ الاسلام واچوڑو) کے ہمراہ دربار فقیر پور شریف حاضر ہوا۔ اس وقت حضور مسجد شریف میں اندر تشریف فرما تھے۔ جب ہم مسجد شریف کے صحن میں واقع موجودہ نیم کی جگہ پہنچے تو حضور نے مولانا موصوف کو دیکھا، اسی وقت ان کے اسقبال کے لئے چلے آئے، ان سے بڑی محبت و پیار سے گلے ملے اور اپنے ساتھ مسجد شریف میں لے گئے اور کافی دیر تک دوستانہ ماحول میں بات چیت کرتے رہے۔ باوجودیکہ مولانا موصوف حضور سے بیعت تھے اور آپ سے بے پناہ محبت تھی، لیکن حضور ہمیشہ ایک مخلص دوست کی طرح ان سے ملتے اور بات چیت فرماتے تھے۔

ارشاد نبوی صلّی اللہ علیہ وسلم ہے کہ تم میں سے کوئی خواہ کتنا ہی معزز و محترم ہو، مگر اسے یہ حق نہیں کہ کسی شخص کے بیٹھنے کی مخصوص جگہ پر بلا اجازت بیٹھے ”ولا یقعد فی بیۃ علی تکرمۃ“ ریاض الصالحین صہ ۱۶۶۔ سیدی و مرشدی حضرت سوہنا سائیں نوراللہ مرقدہ اس بات کا بھی خیال کرتے تھے۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ دربار فقیر پور شریف میں کچھ نئے آدمی حضور سے بیعت ہونے کے لئے آئے۔ مولانا شبیر احمد کھوکھر صاحب طلبہ کو پڑھا رہے تھے۔ انہوں نے حضور کی خدمت میں اطلاع بھیجی۔ آپ مسجد شریف میں مولانا موصوف کے پاس تشریف لائے تو مولانا صاحب نے ادب سے بارہا عرض کی حضور میری نشست گاہ پر تشریف رکھیں۔ چونکہ وہ جگہ ان کے بیٹھنے کے لئے مخصوص تھی، آپ اس پر نہیں بیٹھے، چٹائی پر بیٹھ کر ان کو ذکر سمجھایا اور کچھ دیر نصیحت فرماکر رخصت کیا۔

تبرکات کا احترام

آپ کو یادگار تبرکات سے بیحد محبت تھی۔ محترم احمد دین صاحب پنجابی اور ان کے رشتہ دار حضور پرنور شافع یوم النشور صلّی اللہ علیہ وسلم کے مستعمل لباس میں سے پیراہن اور عمامہ مبارک زیارت کرانے کے لئے لے آتے تھے۔ جس وقت وہ قریب آتے تو آپ تعظیماً کھڑے ہوجاتے تھے اور اپنا مصلیٰ مبارک تبرکات رکھنے کے لئے دے دیتے تھے اور خود دوزانو ہوکر بڑی عقیدت و محبت سے بیٹھ جاتے تھے۔ عام زیارت کے علاوہ جب وہ تبرکات آپ کے ہاتھوں میں دیتا تو ازراہ عقیدت و محبت لے کر چومتے اور دیگر فقراء کی طرح نذرانہ بھی پیش کرتے تھے۔ آخر میں دعا کے لئے وہ صاحب آپ کو عرض کرتے اور حضور ان کو فرماتے۔ اس لئے بعض اوقات تبرکات کے وسیلہ سے آپ دعا فرماتے، اور کبھی وہ صاحب دعا فرماتے تھے۔

اس کے بعد تبرکات کی پیٹی حضور اپنے سر پر اٹھا کر گھر لے جاتے جہاں بستی کی مستورات زیارت کرتیں۔ آخری چند برس میں جب بھی وہ صاحب آئے تبرکات کی پیٹی حضرت سیدی و مرشدی قبلہ صاحبزادہ صاحب مدظلہ العالی گھر لے جاتے اور واپس لے آتے تھے۔ ان کی خواہش کے مطابق آپ نے تبرکات کے تصدیق نامہ پر دستخط بھی ثبت فرمائے تھے۔
حضور قبلہ پیر مٹھا صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے لباس میں سے بھی جو آپ کے پاس موجود تھے، عموماً حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کے عرس شریف کے موقعہ پر زیارت کرانے کے لئے لے آتے تھے۔ عموماً محترم قبلہ استاد مولانا کریم بخش صاحب یا حاجی حسین صاحب میں سے ایک تبرکات اٹھا کر عام جماعت کو زیارت کراتے۔ اس وقت حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کے تبرکات کو دیکھ کر ان کی صحبت بابرکت کے لمحات اور تصور سے آپ پر گریہ کی حالت طاری ہو جاتی تھی۔

اسی طرح جمادی الاول ۱۳۹۶ھ مسکین پور شریف میں حضرت خواجہ فضل علی قریشی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے مستعمل لباس، مستعمل نعلین اور مراقبہ کی تسبیح وغیرہ کی زیارت کے وقت بھی آپ پر وجد و جذب اور غیر اختیاری گریہ کی حالت طاری ہوگئی تھی۔ تبرک و یادگار کے طور پر آپ کے پاس اپنی والدہ ماجدہ کے ہاتھ کا بنا ہوا ایک مٹی کا ڈھکنا (شاید کچھ اور بھی رکھا ہوا) محفوظ ہے۔

حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کی نیابت اور مسند نشینی

صدیق صفت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ نیکی، تقویٰ، پیرکامل سے کامل محبت و نسبت، تمام پیر بھائیوں سے حسن سلوک، ہمدردی اور خداداد غیر معمولی صلاحیتوں کی بدولت پوری جماعت میں ممتاز نظر آتے تھے۔ تمام پیر بھائی عقیدت و محبت سے آپ کو بڑا خلیفہ سمجھتے اور کہتے تھے، دینی خواہ دنیاوی معاملات میں آپ کی طرف رجوع کرتے تھے۔ حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے اس قدر مقبول و منظور نظر تھے کہ سفر و حضر میں اپنے ساتھ رکھتے تھے۔ کئی بار تبلیغ یا لنگر کے کسی کام کے لئے اجازت لے کر جانے کے بعد اچانک آدمی بھیج کر آپ کو رحمت پور شریف بلا لیا اور جب حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے حکم سے خلفاء کرام میں سے مسند نشینی کے لئے انتخاب کا موقعہ آیا تو بھی متفقہ طور پر حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کا نام آیا جس پر آپ نے خوشی کا اظہار فرمایا۔ یہی نہیں بلکہ اپنی حیات ہی میں حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے قائم مقام ہونے کے اعلان کے ساتھ ساتھ اپنے روبرو نئے آدمیوں کو بیعت کرنے، اور اپنی موجودگی میں مراقبہ اور امامت کرانے کا حکم فرمایا۔ بہت معذرت کے بعد حسب ارشاد حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی موجودگی میں چند آدمیوں کو بیعت بھی کی، مراقبہ بھی کرایا اور چند دن امامت بھی فرمائی۔

واضح رہے کہ نائب نبی حضرت پیر مٹھا قدس سرہ کا صدیق صفت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کو امامت کا حکم کرنا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد سے بعینہ مطابق ہے۔ جب آپ نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے امامت کا حکم فرمایا اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے امامت کے فرائض انجام دیئے۔