فہرست
سیرت ولی کامل (حصہ اول)

اجازت نامہ

حضرات نقشبندیہ مجدیہ فضلیہ عالیہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

یٰایھا الذین امنوا اتقو اللہ وابتغو الیہ الوسیلۃ وجاھدوا فی سبیلہ لعلکم تفلحون۔ المجاھد من جاھد نفسہ فی طاعۃ اللہ۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔

الحمد للہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علی حبیبہ سید المرسلین والہ الطاھرین واصحابہ الطیبین اجمعین الی یوم الدین۔

اما بعد! حضرت چنـڑ پیر قدس سرہ العزیزکی اولاد میں سے فقیر لاشی محمد عبدالغفار عرض کرتا ہے کہ اس عاجز خاکسار ذرہ بے مقدار نے سلسلہ عالیہ خاندان نقشبندیہ مجددیہ فضلیہ میں داخل ہوکر، حضرت قطب الارشاد خواجۂ خواجگان، پیر پیراں، غوث اعظم، چودھویں صدی ہجری کے مجدد و منور (روشن کرنیوالے) نبی خیر البشر علیہ علی اٰلہ من الصلوت افضلہا ومن التحیات اکملھا کے نائب، سیدی و سندی قبلہ عالم محمد فضل علی قریشی، عباسی، قلبی و روحی فداہ، ابی و امی فداہ سے دائرہ لاتعین تک علم سلوک حاصل کیا۔ اور ان ہی آنکھوں کی ٹھنڈک محبوب سبحانی سے اجازت و خلافت کا شرف حاصل کیا اور اس وقت سلسلہ عالیہ کی اشاعت کے لئے موجود ہے۔

پس اس عاجز لاشی سے برادر طریقت جناب مولانا مولوی اللہ بخش صاحب عباسی سندھی نے علم سلوک، جذب، حالات اور واردات صحیحہ حاصل کئے اور دائرہ لاتعین تک طریقہ عالیہ کی تعلیم کی تکمیل کی۔ میں نے ضرورت کے تحت طالبان مولےٰ کے فائدہ اور اسلام کی خدمت کے لئے ان کو اسم ذات اور علم سلوک کی تعلیم کی اجازت مطلقہ دے دی ہے۔ اس کے علاوہ عرض یہ ہے کہ یہ تبلیغی ادارہ محض رضائے الٰہی کے لئے قائم کیا گیا ہے اور مجھے امید ہے کہ اگر میں (اس دنیا میں) نہ رہا یہ رہیں گے، لہٰذا اس ادارہ کے قائم رکھنے کے لئے تمام حضرات خلفاء کرام میں سے مولانا موصوف کو زیادہ لائق، صاحب نسبت و اطاعت اور صاحب کمالات و برکات جان کر اپنے قائم مقام مقرر کرتا ہوں۔ چاہئے کہ حضرات خلفاء کرام اور جملہ جماعت ان سے بیعت ہوکر طریقت عالیہ کے فیوض و برکات حاصل کریں اور رضائے الٰہی کی خاطر تبلیغ اور طریقہ عالیہ کی اشاعت کے لئے زیادہ سے زیادہ کوشش کریں۔

اگر اسی (بتائے ہوئے) طریقہ کے مطابق عمل پیرا رہے تو انشاء اللہ العزیز طریقہ عالیہ کے فیوض و برکات بارش کی مانند برستے دیکھو گے، اللہ تعالیٰ تمہیں جزائے خیر عطا فرمائے اور ہم پر پیغام رسانی کے سوا کوئی بار نہیں ہے۔

لاشی فقیر محمد عبدالغفار فضلی

 

وضاحت: اجازت مطلقہ دادہ شد کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی خلافت تمام شرائط و قیود سے بالاتر ہے، آپ اپنی صوابدید کے مطابق کسی اور کو بھی خلافت سے مشرف کر سکتے ہیں۔ جبکہ دیگر تمام خلفاء کرام کی خلافت مقید یعنی اپنے تئیں محدود تھی وہ کسی اور کو خلافت دینے کے مجاز نہیں تھے۔

قائم مقام خود کردہ می شود: یعنی جس حیثیت، منصب اور عقیدت سے مجھے دیکھتے سمجھتے ہیں، میرے بعد اسی عقیدت سے سوہنا سائیں کو بھی اپنا قائد سمجھیں، پیر و مرشد تصور کریں۔

ازیں صاحب حضرات خلفاء کرام و تمامی جماعت بیعت کردہ الی آخرہ: یعنی میرے بعد خلفاء کرام سمیت تمام جماعت ان سے تجدید بیعت کرکے روحانی نسبت کو مستحکم اور طریقہ عالیہ کے فیوض و برکات حاصل کرے۔ نیز یہ کہ جو اس حکم کے مطابق عمل کرے گا وہ طریقہ عالیہ کے فیوض و برکات حاصل کرے گا۔

واضح رہے کہ خواجہ خواجگان، سیدنا و مرشدنا حضرت پیر مٹھا قدس سرہ کے ۱۴۳ خلفاء کرام تھے، جن میں سے صرف حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی سند اجازت میں آپ نے مذکورہ قسم کے صریح ارشادات تحریر فرمائے۔ یہی نہیں بلکہ خلفاء کرام کو جمع فرماکر مستقبل میں حضور سوہنا سائیں قدس سرہ کی زیر قیادت رہنے اور تبلیغ کرنے کا حکم فرمایا۔

(تفصیلات خلفاء کرام کے حوالوں سے درج ہیں)

حضرت خواجہ پیر مٹھا قدس سرہ کی علالت اور انتقال پرملال

اتفاقاً حضرت پیر مٹھا قدس سرہ کی آخری بار علالت (جس سے جانبرنہ ہوسکے) کے شروع میں حضرت قبلہ سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ لنگر کے کسی کام کے سلسلے میں دین پور شریف گئے ہوئے تھے۔ آپ ایک ہی رات میں گھنٹہ، آدھ گھنٹہ کے وقفہ سے بار بار حضرت سوہنا سائیں قدس سرہ کے نام پوچھتے رہے کہ ’مولوی صاحب کتھ ہن‘ (مولوی صاحب کہاں ہیں؟) ہر بار بتا دیا جاتا کہ حضور وہ تو اجازت لے کر لنگر کے کام سے دین پور گئے ہیں۔ صبح ہوتے ہی حضور پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی اہلیہ محترمہ نے کرایہ دے کر فقیر محمد عثمان بروہی (جو لنگر کے مال مویشی کی خدمت کرتا تھا) کو دین پور بھیجا۔ اطلاع ملنے پر اسی وقت حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ روانہ ہوکر رحمت پور شریف پہنچے اور آخر تک حضرت پیر مٹھا قدس سرہ کی خدمت و تیمار داری میں رہے اور مؤرخہ ۸ شعبان المعظم ۱۳۸۴ھ اتوار کی رات آپ کی روح پرفتوح عالم فانی سے عالم جادوانی کی طرف منتقل ہوئی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کے انتقال کے بعد حسب فرمان، خلفاء کرام اور دیگر جماعت نے حضرت سوہنا سائیں قدس سرہ سے تجدید بیعت کی۔