فہرست
سیرت ولی کامل (حصہ اول)

حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ مسند ارشاد پر

 

سربراہ چن لو: واضح رہے کہ حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ۱۴۳ خلفاء کرام تھے، مگر آپ کو سب سے پیارے اور فی الواقع سب سے زیادہ اہل بھی حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ ہی تھے کہ حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی رضا کے ہر کام میں آپ پیش پیش نظر آتے تھے۔ چنانچہ ایک بار آپ نے تمام موجود خلفاء کرام کو جمع فرما کر ارشاد فرمایا کہ اپنے میں سے ایک سربراہ چن لو جس کی قیادت میں میرے بعد مل کر دین کا کام کرو۔ حسب فرمان خلفاء کرام نے مل کر باہمی مشورہ کیا۔ ان دنوں امامت کے فرائض محترم مولانا محمد سعید صاحب انجام دیتے تھے جو کہ حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کے رشتہ دار بھی تھے اور داماد بھی۔ اسی مناسبت سے خلفاء کرام نے مولانا محمد سعید صاحب کا نام پیش کیا۔ یہ سن کر ناپسندیدگی کے انداز میں فرمایا ”کیا ہاتھی دا بار چھیلا چاسی، جاؤ دوبارہ مشورہ کرو“۔ دوبارہ جب مشورہ ہوا تو متفقہ طور پر حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کو منتخب کیا گیا جو کہ اس وقت موجود تھے اور اس تجویز سے متفق نہ ہوئے اور کہا میں اس کا اہل نہیں، میں یہ بھاری بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ لیکن خلفاء کرام اپنی تجویز پر مصر (پکے) رہے۔ آخر جب یہ تجویز حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں پیش کی گئی تو خوش ہوکر فرمایا ”میڈا ووٹ بھی اہینکوں ہے“ (میرا ووٹ بھی اسی کو ہے) حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ نے سر سے دستار اتار کر حضور کے قدموں میں رکھی اور اس ذمہ داری سے معذرت چاہی مگر آپ نے انتخاب پر عمل کرنے پر زور دیا۔ (قبلہ لانگری عبدالرحمان صاحب)
آپ بیعت کریں: دوسرے دن صبح نماز فجر پڑھ کر مراقبہ کے لئے بیٹھے ہی تھے کہ تین نئے آدمی بیعت کے لئے حاضر ہوئے۔ آپ نے فرمایا مولوی صاحب کتھن (مولوی صاحب یعنی سوہنا سائیں کہاں ہیں) حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ حاضر ہوئے تو فرمایا آپ ان کو بیعت کریں۔ حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ نے کافی معذرت کی۔ مگر آپ نے فرمایا بیعت کریں۔ آخر مجبور ہوکر حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کی موجودگی میں ان تینوں کو بیعت کیا۔ پھر فرمایا ”مراقبہ بھی توں کرا“ (مراقبہ بھی آپ ہی کرائیں) چنانچہ مراقبہ بھی حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ نے ہی کرایا۔ مراقبہ سے فراغت کے بعد فرمایا ”آئندہ نماز بھی توں پڑھیندا کر“ (آئندہ کے لئے نماز بھی آپ ہی پڑھایا کریں)۔ حسب فرمان چند دن رحمت پور شریف میں نماز بھی حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ پڑھاتے رہے۔ مگر تبلیغ اور لنگر کے کاموں کی وجہ سے مستقل امامت کے فرائض انجام نہ دے سکے۔

(قبلہ لانگری عبدالرحمان صاحب جو کہ رحمت پور شریف میں مراقبہ کرانے پر مامور تھے)

خواب میں بیعت کا حکم: حضرت پیر مٹھا قدس سرہ کے وصال کے وقت جو خلفاء و فقراء رحمت پور شریف میں موجود تھے، حسب فرمان بلا تامل حضرت سوہنا سائیں قدس سرہ سے بیعت ہوئے۔ تاہم جو اس وقت بیعت نہ ہوئے یا موجود نہ تھے ان میں کئی ایک خوش نصیبوں کو خواب میں رسول خدا صلّی اللہ علیہ وسلم اور حضرت پیر مٹھا قدس سرہ نے حضرت سوہنا سائیں قدس سرہ سے بیعت ہونے کاحکم صادر فرمایا، اس قسم کے چند مستند واقعات پیش کئے جاتے ہیں۔

محترم خلیفہ مولانا سید محمد مٹھل صاحب نے بتایا کہ حضرت پیر مٹھا قدس سرہ کے وصال کے بعد ابھی میں حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ سے بیعت نہیں ہوا تھا کہ خواب میں حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے ساتھ حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ اور جناب قبلہ صاحبزادہ خلیل الرحمان صاحب رحمۃ اللہ علیہ بھی نظر آئے۔ میں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ کس کے پاس جاؤں، فوراً حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ نے مجھ سے فرمایا آپ سوہنا سائیں (رحمۃ اللہ علیہ) کے پاس جائیں، آپ کو وہاں سے فیض ملے گا۔ میں عقیدت مند تو پہلے ہی تھا کہ حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ سے بالمشافہ بھی اس قسم کے ارشادات سنے ہوئے تھے۔ اس کے بعد حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ سے آکر بیعت ہوا۔

خلیفہ محترم حاجی عبدالسلام صاحب نے بتایا کہ حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کے وصال کے بعد ڈیڑھ سال تک میں آپ کے کسی خلیفہ سے بیعت نہ ہوا۔ بس متحیر و متردد ہی تھا کہ اسی اثناء میں ایک رات خواب میں حضرت رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی۔ آپ کے ہمراہ کافی صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم بھی حاضر کھڑے تھے۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے مجھے صاف الفاظ میں ارشاد فرمایا کہ آپ سوہنا سائیں کے پاس فقیر پور شریف جاکر بیعت ہوجائیں، اس سے آپ کو غفاری فیض ملے گا۔ لیکن اس کے باوجود میں فقیر پور شریف کی بجائے رحمت پور شریف چلا گیا۔ حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے مزار پر انوار کے پاس مراقبہ کیا۔ مراقبہ میں آپ کی زیارت نصیب ہوئی۔ اپنی پیاری بولی سرائیکی میں فرمایا ”مولوی صاحب ایڈے نہ آ، سوہنے سائیں دے کول ونج“۔ یعنی بیعت ثانیہ کو غیر ضروری سمجھ کر یہاں نہ آیا کریں، بلکہ سوہنے سائیں کے پاس چلے جائیں، ان سے آپ کو فیض ملے گا۔ بس مذکورہ دونوں ارشادات کے پیش نظر میں حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے بیعت ہوا اور واقعۃ وہ فیض پایا جس کی خوشخبری پہلے ملی تھی۔ یہاں یہ وضاحت کرنا بھی ضروری ہے کہ حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے زمانہ سے ہی میری حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ سے عقیدت و محبت تھی، مگر حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کی جدائی سے قلب و جگر میں جو گہرے زخم پیوست ہو چکے تھے انہوں نے ذہن و دماغ کو منتشر و متردد کر دیا تھا۔ دنیا کی کسی چیز سے رغبت نہ رہی، نہ کسی بات کے سوچنے کی ہمت، اپنی پریشان حالی اور بدقسمتی کا افسوس تھا اور بس۔ یہاں تک کہ ان صریح ارشادات کے ذریعے میری رہنمائی کی گئی۔

خلیفہ مولانا محمد داؤد شر صاحب نے بتایا کہ ایک بار حضرت خواجۂ خواجگان، مرشد اہل عرفان محی السنۃ قامع البدعۃ مجدد ملت مرشدنا حضور حضرت محمد عبدالغفار فضلی نقشبندی مجددی نور اللہ مرقدہ نے خلفاء کرام کو تنہائی میں اپنے پاس بلایا اور یہ امر فرمایا کہ آپ باہمی مشورہ کرکے خلفاء کرام میں سے کوئی ایک لائق فرد منتخب کریں جو ہمارے بعد اس طریقہ عالیہ کی خدمت کرے اور آپ تمام دیگر خلفاء کرام ان کو اپنا سربراہ تصور کریں، ان کی فرمانبرداری کریں اور ان ہی کے زیر نظر تبلیغ کا کام بھی کرتے رہیں۔ اس وقت ۴۰ خلفاء کرام موجود تھے جن میں یہ عاجز بھی اس وقت حاضر تھا۔ آپ کا یہ ارشاد گرامی سن کر میں نے تو حضور رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے سامنے ہی کہہ دیا کہ دوسرے خلفاء کی مرضی اپنے لئے کسی خلیفہ صاحب کو سربراہ مقرر کریں یا نہ کریں، میں تو کسی بھی حال میں حضور (حمۃ اللہ علیہ) کے بعد کسی دوسرے کے ہاتھ پر بیعت نہ کروں گا۔ میرے لئے حضور ہی کافی ہیں، مجھے کسی دوسرے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس پر حضرت پیر مٹھا نور اللہ مرقدہ نے فرمایا اس مولوی صاحب (میرے نام فرمایا) کو چھوڑ دیں، آپ حضرات مل کر مشورہ کریں اور اس پر عمل پیرا رہنے کے لئے میرے یہاں وعدہ بھی کریں۔ بہرحال خلفاء کرام علیحدہ جا کر بیٹھے، حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ نے تمام خلفاء کرام سے مولانا محمد سعید صاحب (حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے رشتہ دار اور داماد) کو منتخب کرنے کو کہا۔ جب یہ تجویز حضرت صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں پیش کی گئی تو آپ نے اسے قبول نہ فرمایا، دوبارہ مشورہ کرنے کا حکم فرمایا۔ کافی دیر سوچ بچار کے بعد متفقہ طور پر خلفائے کرام نے حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کو منتخب کیا اور یہ تجویز لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اس پر آپ راضی ہوئے اور تمام خلفاء کرام کو فرمایا وعدہ کرو کہ ان کو دل سے اپنا سربراہ مان کر ان کی بیعت کرو گے۔ جملہ حضرات خلفاء کرام نے یہ عہد بھی کیا، مگر اس عاجز نے اس وقت بھی انکار کر دیا یہاں تک کہ حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے وصال کے بعد بھی پونے دو سال تک اپنی اس ضد پر قائم رہا۔ اس درمیان کئی بار خواب میں حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی طرف رجوع کرنے کا حکم فرماتے رہے۔ مگر پھر بھی میں حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے یہاں آنے سے قاصر رہا۔ یہاں تک کہ

زیارت رسول صلّی اللہ علیہ وسلم: ایک رات خواب میں اپنے آپ کو کسی سفر سے گھر آتے دیکھا کہ جب اپنے گھر کے بیرونی دروازہ سے اندر داخل ہوا تو ایک عجیب نورانی منظر نظر آیا، وہ یہ کہ کثیر تعداد میں جماعت موجود ہے اور سبھی طریقہ عالیہ کے مطابق مراقبہ میں مشغول ہیں۔ شمالی جانب میں حضور اشرف الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ صلّی اللہ علیہ وسلم بھی جلوہ افروز ہیں اور آپ کے بائیں (مشرق کی طرف سے) حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہیں اور ان کے بائیں جانب حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ ہیں۔ مراقبہ کی کیفیت یہ ہے کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارکہ میں موٹے منکوں والی تسبیح ہے، اسے معمول کے مطابق چلاتے ہوئے درج ذیل آیات قرآنیہ کی تلاوت بھی فرما رہے ہیں۔

بِسمِ اللہِ الرّحمٰنِ الرّحِیمِ۔ اِنَّ الَّذِینَ فَتَـنُو الۡمُؤمِنِینَ وَالمُؤمِنَاتِ ثُمَّ لَم یَتُوبُوا فَلَھُم عَذَابُ جَھَنَّمَ وَلَھُم عَذَابُ الحَرِیقِ۔

مگر آواز حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے دہن مبارک سے سنائی دے رہی ہے۔ اس پر میرے دل میں اس راز کی حقیقت جاننے کی تڑپ پیدا ہوئی کہ جب تلاوت رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں تو آواز حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے منہ سے کیسے ظاہر ہو رہی ہے؟ اتنے میں رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے یہ جواب عطا ہوا کہ جو ہمارا امر ہوتا ہے، وہ اس جوان (سوہنا سائیں) کے منہ مبارک سے سنائی دیتا ہے۔ یہ رہنما خواب دیکھتے ہی میں نے اپنا بڑا لڑکا عبدالقادر اور دیگر کچھ متعلقین سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی خدمت میں فقیر پور شریف، بیعت ہونے کے لئے بھیج دیئے اور بعد میں خود بھی حاضر خدمت ہوکر بیعت ہوا، الحمد للہ ثم الحمد للہ۔

(قبلہ خلیفہ مولانا محمد داؤد صاحب)

 

مسند نشینی کے بعد

گذشتہ اوراق میں مذکور واقعات سے یہ حقیقت عیاں ہو چکی ہے کہ حضرت حق سبحانہ تعالیٰ نے حضرت قبلہ سوہنا سائیں قدس سرہ کو شروع ہی سے فطرت سلیمہ سے نواز کر صاحب شریعت بزرگ اساتذہ کے یہاں عمدہ تعلیم اور متبع سنت مشائخ طریقت سے بیعت، صحبت، باطنی علوم و معارف اور ان کی اعلی تربیت ارزاں فرما کر تبلیغ و اشاعت اسلام اور اصلاح کے لئے منتخب فرمایا تھا۔ مزید براں اس اہم ذمہ داری کو سنبھالنے سے پہلے حضرت قبلہ پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے زیر سایہ کئی سال تک مسلسل تبلیغ کے ساتھ ساتھ جماعت کے انتظامی امور میں کمال تجربہ اور مہارت سے نواز کر آپ کی اعلی صلاحیتوں کو اجاگر فرمایا۔ یہی وجہ ہے کہ جیسے ہی مسند نشینی کی صورت میں غیر معمولی تبلیغی اصلاحی ذمہ داریاں آپ کے ذمے عائد ہوئیں تو آپ نے نہ فقط یہ کہ حضرت پیر مٹھا قدس سرہ کے جاری کردہ تبلیغی و اصلاحی مشن کو جاری رکھا بلکہ اس قدر حسن و خوبی سے اس میں عمدہ اور مفید اضافے فرمائے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔

خلافت: مسند نشینی کے بعد کافی عرصہ تک تو بعض خلفاء کرام کے کہنے کے باوجود آپ کی تواضع و کسر نفسی کسی کو خلافت دینے سے مانع رہی، مگر بعد میں حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے صحبت یافتہ خلفاء کرام کے متفقہ مشورے بلکہ اصرار کرنے پر تبلیغ و اشاعت اسلام کے پیش نظر بعض شرائط کے تحت صاحب استعداد صالح افراد کو اجازت و خلافت عطا فرماتے تھے۔ پھر بھی کسی ایسے کو اجازت نہیں دیتے تھے جو خلافت کا طالب ہوتا۔

چونکہ آپ کی خلافت مشروط اور محض دینی فائدہ کے پیش نظر ہوتی تھی، اس لیے نہ تو خلفاء کرام کے ناموں کی فہرست رکھتے تھے نہ ہی ان کو کوئی مخصوص شجرہ، اجازت نامہ، ٹوپی یا عمامہ دیتے جس طرح مروج ہے، بلکہ تحریری اجازت نامہ بھی نہیں دیتے تھے۔ اور نہ ہی کسی میں یہ ہمت ہوتی تھی کہ اجازت نامہ طلب کرے۔ البتہ مولانا الحاج محمد ادریس صاحب نے سعودی عرب میں قیام کے دوران مختلف مسلک کے علماء و صلحاء سے رابطہ اور تبلیغی سہولت کی خاطر اجازت نامہ طلب کیا تھا، حسب ارشاد اس عاجز نے تحریر کیا تھا اور حضور نے دستخط ثبت فرماکر مولانا موصوف کو عنایت فرمایا تھا۔

واضح ہو کہ حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے خلفاء کرام میں کافی تعداد ایسے باخدا منکسر المزاج خلفاء کرام کی ہے جنہوں نے خلافت ملنے پر معذرت چاہی کہ ہم اس کے اہل نہیں ہیں، اپنی حیثیت کے مطابق بلا خلافت تبلیغ کا کام کرتے رہیں گے۔ جبکہ کئی ایسے افراد جو باوجود یہ کہ نیک و صالح بھی تھے مگر خلافت کے لئے زبانی عرض کی یا بذریعہ خط اشارۃ و کنایۃ خواہش ظاہر کی، آپ نے اپنی باطنی نورانی نگاہ سے ان کو اس بار گراں کا اہل نہ سمجھا اور خلافت نہ دی۔

چونکہ جملہ خلفاء کرام کسی لالچ، طمع کے بغیر محض رضائے الٰہی کی خاطر شب و روز تبلیغ و اشاعت اسلام کے لیے کوشاں رہتے تھے اس لیے آپ کو ان سے بے حد محبت تھی۔ جو زیادہ تبلیغی محنت کرتا، بار بار تبلیغی احوال کے خطوط بھیجتا خواہ وہ خلیفہ نہ بھی ہوتا، اس کے اور اس کے متعلقین کے دین و دنیا کی کامیابی کے لیے مزید دعائیں فرماتے تھے۔ بلکہ بعض اوقات مبلغ حضرات کے وسیلے سے اپنے لیے اور حاضرین کے لیے دعائیں مانگتے تھے (یہ بھی سنت رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم ہے) اور فرماتے تھے کہ میرے رگ و ریشہ سے بار بار ان کے لیے دعائیں نکلتی ہیں جو کسی سے کرایہ یا کھانا بھی طلب نہیں کرتے، کہیں پیدل اور کہیں سواری پر اپنا کرایہ خرچ کرکے دین کی خدمت کرتے ہیں۔ مزید فرماتے تھے میں روزانہ تہجد کے وقت ان کے لیے دعائیں مانگتا ہوں، آپ بھی تہجد پڑھ کر ان کے لئے دعائیں مانگا کریں۔ صرف دعا ہی نہیں مسکین خلفاء کرام کی مالی امداد بھی فرماتے تھے تاکہ مزید دلجمعی سے تبلیغ کرتے رہیں۔

 

آپ کے اصلاحی مشن کا ایک جائزہ

حضرت سوہنا سائیں قدس سرہ نے تبلیغی فائدے کے پیش نظر اہل علم سے لے کر ایک ان پڑھ تک ہر سطح کے فقراء کو منظّم فرماکر دینی خدمت کے لیے آگے بڑھایا۔ اس سلسلہ میں آپ نے جو اہم اقدام کئے ان کی ایک جھلک درج ذیل ہے۔

۱۔ ادارہ تبلیغ روحانیہ و جماعت اصلاح المسلمین کے نام سے خلفاء و فقراء کی ایک عظیم الشان اصلاحی، تبلیغی تنظیم قائم فرمائی۔

۲۔ ملک بھر میں بلکہ بیرون پاکستان بھی کئی تبلیغی مراکز قائم کئے جہاں ہفتہ وار اور ماہوار جلسے پابندی سے ہوتے رہے۔ ان کے علاوہ اسلامی یادگار ایام عید میلاد ا لنبی صلّی اللہ علیہ وسلم اور بزرگان دین کے عرس وغیرہ بھی اصلاحی جلسوں کی صورت میں منائے جاتے رہے۔

۳۔ ملک بھر میں دینی تعلیم کے کئی مدارس قائم کئے۔

۴۔ جمعیۃ علماء روحانیہ غفاریہ کے نام سے جماعت کے علماء کرام کو منظّم طریقے پر دینی کام کرنے کی تلقین کی۔

۵۔ جمعیۃ طلبہ روحانیہ غفاریہ کے نام سے دینی مدارس کے طلبہ کو منظّم فرمایا۔

۶۔ جمعیۃ اساتذہ روحانیہ کے نام سے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ملازم اساتذہ کی تنظیم قائم فرمائی۔

۷۔ مذکورہ تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے طلبہ کی تنظیم ”روحانی طلبہ جماعت“ قائم فرمائی، جس کے اراکین مغربی ماحول میں رہ کر بھی نیکی و تقویٰ میں دینی مدارس کے طلبہ سے کسی طرح کم نہیں۔

۸۔ صغر سنی ہی میں دینی ماحول سے محبت و دلچسپی پیدا کرنے کے لئے نونہال روحانی طلبہ جماعت کے نام سے پرائمری سکولوں کے ننھے منے بچوں کی بھی تنظیم قائم کی جن کی نگرانی والدین اور اساتذہ کرتے رہے۔

۹۔ جماعت کے نوجوان جو کسی ادارہ میں تعلیم حاصل نہیں کرتے، اصلاح نوجوانان کے نام سے ان کی بھی تنظیم قائم کی۔

۱۰۔ دینی کتابوں کی نشر و اشاعت کا وسیع سلسلہ شروع کیا۔

 

درگاہ فقیر پور شریف

حضرت پیر مٹھا صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے وصال کے بعد آپ نے دریائے سندھ کے مشرقی اور مغربی دونوں کناروں کی جماعت کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس دورہ میں حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کے اعظم خلفاء کرام اور کچھ فقراء بھی ساتھ تھے جن میں سید سائیں نصیر الدین شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ، مولانا جان محمد صاحب، علامہ مولانا الحاج کریم بخش صاحب، مولانا فضل محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ، مولانا بشیر احمد صاحب، مولانا محمد ابراہیم صاحب (واعظ الاسلام واچوڑو رحمۃ اللہ علیہ) مولانا قاضی نصیر الدین صاحب رحمۃ اللہ علیہ، اور مولانا بخش علی صاحب کے نام قابل ذکر ہیں۔ اس تفصیلی دورے کا ایک مقصد جماعت کے لئے نئے تبلیغی مراکز کا انتخاب بھی تھا۔ اس سلسلہ میں موجودہ فقیر پور شریف کے علاوہ رادھن اسٹیشن سے ایک میل مغرب میں (مولانا بشیر احمد صاحب کی بستی کے قریب) تحصیل کنڈیارو کے دو مقامات (۱) محراب پور (۲) ثواب پور نیز مورو، انـڑ پور، پپری کراچی کے مقامات زیر غور آئے۔ ہر علاقہ کے احباب مرکز کے قیام میں بڑھ چڑھ کر تعاون کی بھی پیشکش کرتے رہے۔ الغرض مذکورہ دورے کے آخر میں بستی ثواب پور میں کوندر برادری کے یہاں حضور کی دعوت تھی، چند ایک کے علاوہ مذکورہ بالا جملہ احباب بھی موجود تھے، جن کو حضور نے بلا کر فرمایا

”یہ مرکز کسی کے ذاتی مفاد و مقصد کے لئے نہیں بلکہ خالص رضائے الٰہی کے لئے بنانا ہے، لہٰذا ہر ایک کو چاہئے کہ دینی تبلیغی مفاد کے پیش نظر آزادی سے اپنی آراء کا اظہار کرے۔“

اس وقت کوندر فقراء کی محبت بھی دیکھنے کے قابل تھی، لہٰذا ان کی پُرخلوص محبت، منت و سماجت اور اس سے بڑھ کر حضرت پیر فضل علی قریشی اور حضرت پیر مٹھا رحمھم االلہ تعالیٰ کی اس بستی میں آمد اور کچھ عرصہ سکونت کے پیش نظر بڑی اکثریت سے ثواب پور کے قریب مرکز بنانے کا فیصلہ ہوا۔ غالباً اسی رات قطب ستارہ پر مسجد کے لیے صحیح نشانات بھی قائم کئے گئے اور صبح ہوتے ہی حضور کا سامان ثواب پور لانے کے لئے دین پور شریف اونٹ بھیجے گئے اور حضرت صاحب خود بھی دین پور شریف تشریف لے گئے۔

(مولانا بخش علی صاحب حیدرآباد)

حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کا انتخاب: مولانا عبدالرحمان لانگری صاحب نے بتایا کہ جس وقت حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ اکثر خلفاء کرام سمیت دین پور شریف تشریف لے گئے تھے، مجھے قبلہ پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے خاندان کی خدمت کے لئے رحمت پور شریف میں قیام کا حکم فرمایا۔ میں رحمت پور شریف ہی میں تھا کہ ایک رات خواب میں حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت ہوئی، مجھے فرمایا مولوی صاحب (حضرت سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ) کو میرا یہ پیغام پہنچائیں کہ رادھن میں قیام کریں، ہمارے پاس آنے جانے میں سہولت رہے گی۔

خوش قسمتی سے فقیر سائیں دتہ رحمۃ اللہ علیہ موجود تھا، میں نے اس کو پیغام دے کر دین پور شریف بھیجا۔ پیغام ملتے ہی حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ نے رادھن کے قریب موجودہ مکان کو مرکز کے لئے منتخب فرمایا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ مرکز کے لئے ثواب پور کا انتخاب ہو چکا تھا اور سامان لینے کے لئے سواریاں بھی آچکی تھیں۔

نگاہ انتخاب: ظاہری طور پر تو آپ نے خلفاء کرام کے مشورہ سے ۱۳۸۴ھ کے آخر میں درگاہ فقیر پور شریف کا سنگ بنیاد رکھا اور عملی طور پر عید الضحیٰ ۱۳۸۴ھ سے نئے مرکز میں مستقل سکونت اختیار کی، مگر حقیقت یہ ہے کہ آپ کی باطن بین نگاہ برسوں پہلے اس جگہ کا انتخاب کر چکی تھی۔ جب حضرت پیر مٹھا سائیں نور اللہ مرقدہ دین پور جا رہے تھے اور مولانا بخش علی صاحب آپ کے ساتھ تھا، فقیر رسول بخش سواری کے لئے رادھن اسٹیشن پر اونٹ لے آیا۔ جب موجودہ فقیر پور شریف کی جگہ پہنچے، کافی آدمی جمع ہوکر مرغ لڑا رہے تھے۔ مولانا بخش علی صاحب نے ترس کھاتے ہوئے کہا پرانے زمانے میں یہاں کوئی بستی آباد تھی، مگر آج تو لوگ جانداروں کو لڑا کر ظلم ڈھا رہے ہیں۔ یہ سن کر فرمایا مولوی صاحب! مرغوں میں از خود اپنی قوم سے لڑنے جھگڑنے کی عادت ہے، اس لئے ہر ایک تکلیف میں ہے۔ اگر اس زمین کی قسمت اچھی ہے تو انشاء اللہ تعالیٰ پھر سے یہ آباد ہو جائے گی۔

اس وقت تو یہ حکمت آمیز کلام سمجھ میں نہ آیا، مگر بعد میں عملی طور پر معلوم ہوا کہ واقعی یہ زمین خوش قسمت ہے۔ (مولانا بخش علی صاحب حیدرآباد)

نوٹ: واضح رہے کہ کسی مرکز کے لئے مقام کے انتخاب کے وقت حضور تین باتوں کا خصوصی خیال رکھتے تھے۔

  1. جماعت کے لئے آمد و رفت کی مناسب سہولت ریلوے، روڈ وغیرہ ہو۔
  2. پانی میٹھا ہو۔
  3. فقراء کی رہائش کے لئے مناسب سہولت ہو، یعنی سردی، گرمی سے محفوظ رہنے کا خاطر خواہ انتظام ہو، خواہ سیدھے سادے کچے مکانات ہی ہوں۔

آزمائشیں: واضح ہو کہ جہاں اس وقت درگاہ فقیر پور شریف واقع ہے، نہ معلوم کتنا عرصہ پہلے بھی اسی جگہ ایک بستی آباد تھی، پھر ویران ہوکر کھنڈرات کی شکل میں تبدیل ہو گئی جس کے کئی آثار درگاہ شریف کی تعمیر کے وقت بھی ملے۔ اور عموماً ایسے غیر آباد مقامات پر جنوں کا قبضہ رہتا ہے۔ خاص کر اس لئے بھی یہاں جن زیادہ تھے کہ قریب ہی قبرستان اور گھنا جنگل بھی تھا۔ شروع میں یہاں طرح طرح سے جنات نے تنگ کرنا شروع کر دیا۔ بعض فقراء کو ڈراؤنی صورت میں نظر بھی آئے، کبھی چھوٹے بچے کی صورت میں نظر آئے، کبھی آگ جلتی نظر آتی، کہیں سے بچے کے رونے کی آواز آتی مگر قریب جانے پر کچھ نہ ہوتا۔ کئی ایک مقیم اور مسافر طلبہ کو آسیب کے دورے بھی پڑے مگر حضور کی نگاہ کرم سے نہ کسی کا کچھ نقصان ہوا اور نہ ہی کسی کے پائے استقامت میں لغزش آئی۔ حضور کے فرمان سے ہر گھر میں کثرت سے اذانیں کہی جانے لگیں۔ ذکر اللہ کی کثرت اور رجوع الی اللہ کے طفیل کچھ عرصہ بعد یہ آزمائشیں ختم ہو گئیں۔

دوسری طرف قریبی قبرستان (جو کہ حضرت عارف شہید رحمۃ اللہ علیہ کے نام سے مشہور ہے) کے قادینہ نامی مجاور نے بھی اجنبی لوگوں کو قریب بستی بناتے دیکھ کر تنگ کرنا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ مسجد شریف (از حد چھوٹی سی مسجد شریف جو موجودہ مسجد شریف کے صحن کی جگہ واقع تھی) میں نماز پڑھنے سے منع کرنے لگا۔ سخت بدکلامی کرتا تھا۔ لیکن حضرت صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے فرمان سے جملہ فقراء اس کی بدکلامیاں بھی برداشت کرتے رہے، یہاں تک کہ

تائید الہٰی: ایک رات جیسے ہی یہ مجاور سویا دو بزرگوں کی خواب میں زیارت ہوئی جن میں سے ایک بزرگ نے ڈنڈا لے کر خوب اس کو مارا، اور دوسرا بزرگ چھڑا رہا تھا۔ مارنے والے بزرگ نے فرمایا میں ہی عارف شہید ہوں اور دوسرے (چھڑانے والے) بزرگ میرے پڑوسی بزرگ ہیں جو حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے میرے پڑوس میں آکر آباد ہوئے ہیں اور آپ ان کو تنگ کرتے ہیں۔ مزید یہ بھی فرمایا کہ اگر آپ اس حرکت سے باز نہیں آئیں گے تو آپ کو مزید اور سزا بھی دی جائے گی۔ بیدار ہونے کے بعد بھی رات کی سزا کا درد باقی تھا۔ اتفاق سے اسی دن حضرت صاحب نور اللہ مرقدہ بھی تبلیغ کے سلسلے میں میہڑ سے آگے کھوندی نامی بستی گئے ہوئے تھے۔ مرہم پٹی کے بعد قادینہ دربار پر حاضر ہوا، معلوم ہونے پر حضرت صاحب نور اللہ مرقدہ کی خدمت میں کھوندی گیا، آپ کی زیارت کرتے ہی بتایا ان ہی بزرگوں نے میری جان چھڑائی تھی۔ حضرت صاحب سے اپنی غلطی کی معافی طلب کی، صدق دل سے تائب ہو، اور پوری روئیداد سنائی۔ مجاور قادینہ اس سے پہلے داڑھی مونڈ تھا، بھنگ، شراب، چرس پیتا تھا، مگر مذکورہ واقعہ اور حضور کے دست حق پرست پر بیعت کے صدقے سے یہ ساری بری عادتیں چھوڑ دیں، داڑھی سنت کے مطابق رکھ لی، نماز پابندی سے پڑھنے لگا۔ چند سال پہلے فوت ہو چکا ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

(لانگری صاحب)

فقیر پور شریف کے قیام کے ساتھ ساتھ آپ نے یہاں گیارہویں شریف کا جلسہ بھی مقرر فرمایا جو ابھی تک پابندی سے ہو رہا ہے۔

شروع میں چونکہ مسجد شریف ازحد چھوٹی اور جماعت کافی زیادہ تھی خاص کر گیارہویں شریف کے موقعہ پر تو اور بھی زیادہ تکلیف ہوتی تھی، اس لئے فوری طور پر سرکنڈے، لکڑی وغیرہ کا ایک سیدھا سادہ مگر کافی بڑا چھاپرہ بنایا گیا، جس سے ہجرت نبوی صلے اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے وقت کی مسجد نبوی صلے اللہ علیہ والہ وسلم کی یاد تازہ ہو رہی تھی۔ اس کے بعد مسجد شریف کے لئے کچی اینٹیں خود فقراء نے تیار کیں، شہتیر سرکنڈے اور بالے کچے کے علاقہ سے لائے گئے۔ اکثر شہتیر بھی کھجور کے درخت کے پتے تھے اور یہی درخت نمایاں طور پر مسجد نبوی صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم میں استعمال ہوا تھا۔ مسجد شریف کے علاوہ دربار شریف کے دیگر تعمیراتی کام بھی فقراء نے خود کئے۔ حضرت صاحب نور اللہ مرقدہ بذات خود صبح و شام کئی گھنٹوں تک تغاری سر پر لئے مٹی اٹھاتے تھے۔ بارہا خلفاء اور فقراء عرض کرتے تھے کہ اب حضور تشریف رکھیں، ہم کام کر رہے ہیں۔ مگر آپ فرماتے تھے کیا آپ کو ثواب کی زیادہ ضرورت ہے، مجھے نہیں؟ حضرت صاحب نور اللہ مرقدہ کا مکان بھی کچا ہی بنایا گیا، جو ابھی تک اسی صورت میں موجود ہے۔ کافی عرصہ بعد اللہ تعالیٰ نے بسہولت پختہ مسجد شریف بنانے کے اسباب مہیا فرمائے۔ اگرچہ ابھی تک مسجد کا کام نامکمل ہے اور بڑے جلسوں کے لئے ناکافی بھی، تاہم ماہوار جلسوں کے لئے کافی اور مضبوط کام ہو چکا ہے۔ امید واثق اور دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس روحانی مرکز، مسجد اور مدرسہ کو مزید استحکام بخشے اور ترقی عطا فرمائے آمین۔

آپ نے فقیر پورشریف کا سنگ بنیاد درگاہ رحمت پور شریف کے قوانین و ضوابط کے تحت رکھا، جس کے قائم ہوتے ہی کچھ فقراء مورو، دین پور، غیبی دیرو سے آکر مستقل طور پر فقیر پور شریف میں آباد ہوئے۔ جبکہ تیرہ، چودہ خلفاء فقراء وہ تھے جو رحمت پور شریف سے حضور کے ساتھ نقل مکانی کرکے آئے تھے۔

درگاہ اللہ آباد شریف بننے کے بعد بھی پابندی سے (اگر کوئی عذر نہ ہوتا) گیارہویں شریف کے لئے فقیر پور شریف جاتے تھے۔ عید الضحٰے آخر تک فقیر پور شریف میں ادا فرماتے رہے۔ سالانہ دوسرا جلسہ چند آخری سال سے پہلے تک فقیر پور شریف میں ہوتا رہا۔

 

طاہر آباد شریف کا قیام

تحصیل ٹنڈو الہیار سے ۹ کلومیٹر دور چمبڑ روڈ پر واقع خان محمد بوزدار نامی فقراء کی بستی میں حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بھی مختصر عرصہ قیام فرما ہوئے تھے اور آپ نے اس علاقہ کو پسند فرمایا تھا، جس کے تحت مقامی فقراء نے مل کر آپ کے لئے علیحدہ مکان بھی بنوایا تھا۔ مگر مشیت الٰہی اور اتفاق ایسا ہوا کہ اس کے بعد کبھی تشریف فرما نہ ہو سکے۔ چونکہ یہ علاقہ حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کا پسند فرمودہ اور موسمی لحاظ سے نہایت خوشگوار تھا (یہاں سردیوں میں سردی کم ہوتی ہے اور گرمیوں میں سرد و خشک ہوائیں عام ہوتی ہیں) جب کہ درگاہ فقیر پور شریف گرم علاقہ میں واقع ہے، اس لئے مذکورہ بستی کے بوزدار اور قرب و جوار کے دیگر فقراء نے مل کر کئی بار حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ سے عرض کی کہ حضور مہربانی فرما کر ہمارے یہاں تبلیغی مرکز قائم کریں، تاکہ علاقہ کے غریب عوام بھی مستفیض ہو سکیں جو فقیر پور شریف نہیں پہنچ سکتے۔ آخر ان کے اخلاص اور محبت کے پیش نظر جو اس وقت بھی قابل رشک تھا اور اب بھی، آپ نے یہ تجویز پسند کی۔ خاص کر اس لئے بھی کہ کراچی، حیدرآباد، میرپور خاص کے علاقوں میں باقاعدگی سے طریقہ عالیہ کی اشاعت کا کام ہو سکے۔ جب کہ اس سے پہلے مذکورہ علاقوں میں تبلیغی کام محدود نوعیت کا تھا، پھر بھی ۱۳۹۰ھ تک وہاں جانے کا اتفاق نہ ہوا۔

اس درمیان آپ کے پیارے اور مقرب خلیفہ سید نصیر الدین شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ آپ کے فرمان سے مذکورہ علاقے میں مرکز کے لئے جگہ منتخب کرنے کے لئے مختلف مقامات دیکھ کر آئے تھے۔ بالآخر ۲۰ جمادی الاولی ۱۳۹۰ھ کو پہلی بار مدرسہ کے اساتذہ، طلبہ اور چند فقرا کے ہمراہ بستی خان محمد بوزدار میں تشریف لے گئے۔ ساتھ آئے ہوئے فقراء و خلفاء نے علاقہ بھر میں بڑی ہمت سے تبلیغ کی۔ دو ڈھائی ماہ قیام کے دوران کئی ایک تبلیغی جلسے بھی ہوئے۔ ویسے بھی حیدر آباد، کراچی، میرپور خاص اور دیگر قرب و جوار سے لوگوں کی آمد و رفت مسلسل رہی، جس کی وجہ سے آپ کو تبلیغی اعتبار سے یہ علاقہ پسند آگیا اور مستقل مرکز قائم کرنے کے لئے خلفاء کرام سے صلاح و مشورے کیے گئے۔ مشورے کے مطابق بستی سے ذرا فاصلہ پر مین روڈ پر واقع پلاٹ منتخب کیا گیا جو اس بستی کے مخلص فقراء کا تھا۔ تاہم نئے مرکز کے تیار نہ ہونے کی وجہ سے ۱۳۹۱ھ میں بھی آپ کا قیام مذکورہ بستی میں فقیر حاجی ولی محمد صاحب کے مکان پر ہوا (واضح رہے کہ اس بستی میں قیام کے دوران حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ بھی حاجی ولی محمد صاحب کے مکان پر قیام فرما رہے تھے)۔ اور ۱۳۹۲ھ سے لے کر آخر عمر تک ہر سال دو ڈھائی ماہ اسی نئے مرکز میں تشریف فرما ہوتے رہے۔ عموماً ہر پندرہ دن بعد جمعرات کی شام کو جلسہ ہوتا تھا، جس میں علاقہ بھر کے لوگوں کے علاوہ بالائی سندھ اور پنجاب و بلوچستان سے بھی پرانے احباب شامل ہوتے رہے۔ چونکہ ضلع حیدرآباد، سانگھڑ، میرپور خاص اور بدین کے دیہی علاقوں میں ہندو قومیں بکثرت آباد ہیں۔ اور بدقسمتی سے ان علاقوں کے اکثر مسلمان بھی بڑی حد تک اپنے مذہب سے ناواقف ہیں۔ اور آپ کو یہ بھی معلوم تھا کہ دیہی علاقوں کے ان پست اقوام کے یہاں ہمارے علماء کرام واعظ حضرات بھی تبلیغ کرنے کے لئے بہت ہی کم جاتے ہیں۔ جب کہ بد مذہب قادیانی اور عیسائی مبلغین بڑی چالاکی سے ان سادہ لوح ہندو بلکہ مسلمان عوام کو بھی حسن اخلاق اور تبلیغ کے ذریعے متاثر کرکے دین اسلام سے برگشتہ کر رہے ہیں۔
خاص کر تھر کے پس افتادہ بنجر علاقوں میں جہاں کے عوام بنیادی سہولتوں سے بھی محروم ہیں وہاں قادیانی اور عیسائی مشنریوں نے اپنے تبلیغی مراکز اور کئی ایک پرائیویٹ ہسپتال قائم کرلیے ہیں، جہاں علاج کے لئے آنے والوں کو بہتر سہولتیں مہیا کی جاتی ہیں، مذہبی لٹریچر مفت دیا جاتا ہے، ساتھ ساتھ زبانی تبلیغ بھی کی جاتی ہے جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد ان کے چنگل میں پھنس چکے ہیں۔ اس سلسلہ میں آپ کے پاس ایک چھوٹی سی کتاب بھی تھی جس میں عیسائی مشینری کے تھر میں تبلیغی کام کا تفصیلی جائزہ درج تھا۔ کبھی آپ خود اس کے منتخب نوٹس پڑھ کر سناتے اور کبھی مولانا جان محمد صاحب یا اس عاجز سے پڑھوا کر اس پر سیر حاصل تبصرہ فرماتے اور اپنے ولولہ انگیز خطاب کے ذریعے دین اسلام کی موجودہ پستی اور مسلمانان عالم کی غفلت اور سستی کا بیان فرماکر تبلیغ اسلام کے لئے اٹھ کھڑا ہونے کے لئے ہاتھ اٹھا کر وعدہ کرنے کا ارشاد فرماتے اور خود بھی ہاتھ اٹھاتے تو چاروں طرف سے لبیک! لبیک! حاضر سائیں! حاضر سائیں! کی صداؤں سے فضا گونج اٹھتی اور بیک وقت ہزاروں ہاتھ بے اختیار اٹھ کر اپنی مذہبی بیداری کا ثبوت پیش کرتے تھے۔

اس سلسلہ میں بعض مبلغین حضرات کو تاکیدی حکم فرما کر ان علاقوں میں تبلیغ کے لئے بھیجا، جب کہ چند مبلغین اس سے پیشتر بھی ان علاقوں میں تبلیغ کے لئے جایا کرتے تھے۔ الحمد للہ آپ کی اس دینی فکر کے تحت آپ کے خلفاء کرام نے کاچھیلو، ڈگھڑی، مِٹھی، کُنری، چھاچھرو، پھلھڈیوں، کھائی، گِرہوڑ شریف، جُھڈو، سامارو کے علاقوں میں بڑی محنت سے تبلیغ کی، جس سے ہزاروں غافل مسلمان، نماز، روزہ، دیگر نیکی کے کاموں کے پابند بن گئے۔ ان میں سے اکثر مقامات پر تبلیغی سلسلے میں خود حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ بھی جا چکے ہیں۔ میرپور خاص اور بدین کے اضلاع میں کئی بھیل کولھی وغیرہ اپنا باطل مذہب چھوڑ کر دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے۔ مزید تفصیلات، دیگر مذاہب کے پیرووں کو تبلیغ کے عنوان میں ملاحظہ فرمائیں۔

 

مرکزی درگاہ اللہ آباد شریف

جیسا کہ درگاہ فقیر پور شریف کے احوال میں بیان کیا گیا کہ حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے وصال کے بعد کئی خلفاء کرام نے ثواب پور بستی تحصیل کنڈیارو میں مستقل مرکز قائم کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ اس لئے فقیر پور شریف کے مستقل مرکز بننے کے بعد گو آپ کی مستقل رہائش اور گیارہویں شریف کا ماہانہ جلسہ فقیر پور شریف ہی میں ہوتا تھا، مگر تحصیل کنڈیارو اور تحصیل مورو کے پرانے اور مخلص فقراء کی دلجوئی اور ہمت افزائی کی خاطر آپ تبلیغی سلسلے میں بکثرت ان کے یہاں جایا کرتے تھے۔ کچھ عرصہ بعد تو آپ کی رضا و اجازت سے مورو شہر اور محراب پور (تحصیل کنڈیارو) میں بترتیب چودہ اور سولہ کی رات ماہوار جلسے مقرر کئے گئے، جن میں پابندی سے بنفس نفیس حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ تشریف فرما ہوتے تھے اور آپ کے ساتھ چند ایک خلفاء کرام اور نعت خواں بھی ہوتے تھے۔

واضح رہے کہ ان دنوں دادو، مورو کے درمیان یہ پل نہیں تھا، نہ روڈ کی مناسب سہولت تھی۔ اکثر و بیشتر روڈ خسۃ حال ہوتا تھا۔ اس لئے بعض اوقات آپ دادو مورو سے، بعض اوقات لاڑکانہ سکھر کے راستے مذکورہ ماہانہ جلسوں میں شرکت کرنے جاتے تھے۔

اس عرصہ کے درمیان کئی بار مورو اور کنڈیارو کے فقراء نے ان کے یہاں دوسرا مرکز قائم کرنے کی پیشکش کی، مگر ۱۳۹۳ھ تک ان کی یہ نیک خواہش تشنہ تکمیل رہی۔ بالاخر محترم ڈاکٹر عبد اللطیف صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی استدعا اور خلفاء کرام کے مشورہ سے شہر کنڈیارو سے متصل شاہراہ پر مرکز قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اسی سال حضرت صاحب نور اللہ مرقدہ کی رہائش کے لئے دو کمروں پر مشتمل چھوٹا سا کچا مکان، نماز پڑھنے اور مسافر فقراء کی رہائش کے لئے ایک ہال، اس کے علاوہ مسافر مستورات کی رہائش کے لئے بھی ایک ہال بنایا گیا۔ اور محرم الحرام ۱۳۹۴ھ میں حضرت صاحب نور اللہ مرقدہ اپنے اس نئے مرکز میں تشریف فرما ہوئے اور درگاہ فقیر پور شریف سے خلفاء و فقراء کے ۱۲ گھر بھی مستقل طور پر منتقل ہوکر اس نئے مرکز درگاہ اللہ آباد شریف آئے۔ ہر ماہ کی ۲۷ کی رات جلسہ مقرر کیا گیا۔ ساتھ ساتھ مدرسہ کے عربی خواں طلبہ اور اساتذہ بھی اللہ آباد شریف آگئے۔ جب کہ ابتدائی عربی اور فارسی کے طلبہ فقیر پور شریف میں ہی رہے۔

تقریباً ساڑھے تین سال تک اسی ہال میں نماز باجماعت اور ماہوار جلسے ہوتے رہے (جہاں فی الوقت حضرت صاحب نور اللہ مرقدہ کا مزار شریف ہے اور اس کے شمال کا کافی حصہ) یہاں تک کہ ۱۳۹۷ھ میں حضور کے پرانے اور مخلص دوست خصوصی معالج جناب ڈاکٹر حاجی عبداللطیف چنہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی زیر نگرانی موجودہ مسجد شریف (دونوں کناروں کے برآمدوں کے سوا جو بعد میں بنائے گئے) کی تعمیر تکمیل کو پہنچی اور مورخہ ۱۷ رجب المرجب ۱۳۹۷ھ حضور کی موجودگی میں تعلیم و تربیت کا دورہ شروع ہوا اور اسی روز نماز عصر موجودہ مسجد میں باجماعت ادا کی گئی۔ آپ کے حین حیات ہی میں مدرسہ کی موجودہ عمارات، مستورات کے لئے ایک پختہ اور ایک کچا بڑا ہال اور خود آپ کی رہائش کے لئے موجودہ پختہ مکان تعمیر کئے گئے تھے۔

درگاہ اللہ آباد شریف قائم ہونے، فقراء اور مستورات کے لئے مناسب رہائش گاہیں بننے کے بعد اللہ آباد شریف کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگئی۔ آپ اکثر و بیشتر یہیں قیام فرما رہتے تھے۔ البتہ عموماً ہر ماہ گیارہویں شریف کے لئے فقیر پور شریف تشریف لے جاتے تھے، اور ۲۷ سے پہلے واپس اللہ آباد شریف آجاتے تھے۔ اور سب سے بڑا سالانہ جلسہ بھی مارچ یا اپریل میں اللہ آباد شریف میں ہوتا تھا جو آج تک جاری و ساری ہے۔

نظام مصطفےٰ صلے اللہ علیہ والہ وسلم

حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ نے مذکورہ تینوں بستیوں میں عملی طور پر نظام مصطفےٰ صلّی اللہ علیہ وسلم نافذ کرکے عالم اسلام کے سامنے ایک قابل تقلید مثال قائم کردی کہ آج کے دور میں بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی نہج پر شریعت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام پر عمل کرنا زیادہ دشوار نہیں ہے۔

تفصیلات

دربار عالیہ پر مقیم جملہ حضرات بلا عذر شرعی نماز باجماعت پڑھتے ہیں۔ نماز ختم ہوتے ہی جمعدار یہ دیکھتا ہے کہ کون حاضر ہے اور کون غیر حاضر۔ ارشاد نبوی صلّی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ۱۰ سالہ بچے کو مار کر بھی نماز پڑھائی جاتی ہے۔ جبکہ اس سے کم عمر بچوں کو ترغیب دے کر پیار سے نماز کا عادی بنایا جاتا ہے۔ جب کہ عورتوں اور دس سال عمر کی بچیوں کے لئے گھروں میں نماز پڑھنا لازمی ہے۔ نماز فجر کے بعد پابندی سے مسواک کی حاضری ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ جمعدار کسی اور نماز کے وقت بھی اچانک مسواک پوچھتا ہے۔ تمام خواتین و حضرات پابندی سے نماز تہجد پڑھتے ہیں، جس کے لئے ۲ بجے سے ۴ بجے تک جمعدار مسجد میں بیٹھتا ہے، جو فقیر تہجد پڑھنے آتا ہے جمعدار کو اطلاع دیتا ہے۔

پردہ: پردہ شرعی کا اہتمام ہے۔ ۶ سالہ بچہ بھی نہ کسی پڑوسی کے گھر جاتا ہے، نہ خواتین کی مخصوص حویلی (عرف درگاہ) میں جا سکتا ہے۔ یہاں تک کہ اپنے کسی رشتہ دار غیر محرم کو بھی اپنے گھر لے جانے کی اجازت نہیں۔ ہاں پردہ شرعی کا لحاظ کرتے ہوئے لے جانے کی اجازت ہے۔ پوری بستی میں کوئی داڑھی مونڈھ، حقہ، بیڑی، سگریٹ پینے والا نہیں ہے، نہ ہی کسی گھر میں وی سی آر یا ٹی وی ہے۔

باہمی کسی قسم کی شکر رنجی یا اختلاف پیدا ہونے کی صورت میں انتظامیہ شریعت مطہرہ کے مطابق فیصلہ کرتی ہے، جسے ہر ایک بخوشی قبول کرتا ہے۔ مردوں کے علاوہ بستی کی مستورات کو بھی نماز روزہ کے مسائل بر زبان یاد کرائے جاتے ہیں۔ اسی طرح مستورات کے مخصوص حیض و نفاس کے مسائل بھی یاد کرائے جاتے ہیں اور وقتاً فوقتاً مستورات ہی ان کا امتحان بھی لیا کرتی ہیں۔

وضاحت: واضح رہے ان تینوں تبلیغی اصلاحی مرکزوں کا قیام کسی قرابت اور رشتہ داری یا آپس میں پہلے کی جان پہچان، یا کسی حرفت و صنعت کی بنا پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی، محبت و معرفت حاصل کرنے کی خاطر، تمام دنیاوی مفاد و مقاصد سے ہٹ کر محض اسلامی اخوت و برادری کے تحت مختلف علاقوں اور مختلف قبیلوں سے تعلق رکھنے والے فقراء آکر جمع ہوئے ہیں۔ جن میں بڑی اکثریت ان ہی لوگوں کی ہے جو انبیاء کرام علیہم السلام اور اولیائے کاملین کے ہم نشین ہوتے آئے ہیں، یعنی غریب و مسکین لوگ۔

اسی خالص دینی مفاد کے پیش نظر مل کر بیٹھنے والوں کے متعلق رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے ”عن معاذ بن جبل قال سمعت رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم بقول قال اللہ تعالی وجبت محبتیی للمتحابین فیی والمتجالسین فیی والمتزاورین فیی والمتبا ذلین فیی“ (مؤطا امام مالک)۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میری محبت واجب ہے (ضرور حاصل ہوگی) ان لوگوں کے لئے جو میری وجہ سے ایک دوسرے سے محبت کریں، اور میری وجہ سے کہیں مل کر بیٹھیں، اور میری ہی وجہ سے ایک دوسرے سے آپس میں ملاقات کریں، اور میری ہی وجہ سے ایک دوسرے پر خرچ کریں۔

یقینا مسلمانان عالم کے لئے حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کا یہ انقلابی، اصلاحی اقدام ایک مشعل راہ ہے اور اسلامی احکام و قوانین سے پہلو بچانے والوں کے تمام حیلے بہانے ختم کرنے کے لئے کافی دلیل و ثبوت ہے۔