فہرست
سیرت ولی کامل (حصہ اول)

جماعت اصلاح المسلمین

 

عملی طور پر بہت پہلے سے حضور کے خلفاء کرام و فقراء تبلیغ و اشاعت اسلام میں مصروف تھے، مگر ۱۹۷۱ء تک تنظیمی شکل نہیں دی گئی تھی۔ بالاخر ۱۹۷۱ء میں جب حضور کے فرمان سے بیرونی ممالک میں تبلیغ کرنے کی غرض سے ایک وفد جانے کے لئے تیار ہوا، اس وقت مروجہ طریقہ پر تنظیم کے ارکان منتخب کئے گئے اور ملکی قانون کے تحت ادارہ تبلیغ روحانیہ و جماعۃ اصلاح المسلمین کے نام سے یہ تنظیم رجسٹرڈ بھی کرائی گئی۔ اور اسی سال بیرونی ممالک بالخصوص متحدہ عرب امارات میں تبلیغ کے لئے محترم حاجی احمد حسن صاحب کی قیادت میں ایک وفد روانہ کیا۔ اندرون ملک وفد کی صورت میں تبلیغ کرنے کی ابتداء بھی اسی سال سے ہوئی اور اس سلسلہ کا پہلا قافلہ حیدرآباد شہر اور سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام کی طرف روانہ ہوا، جس میں اکثریت حضور کے خلفاء کرام کی تھی۔ نئی طرز کا یہ تبلیغی دورہ امید افزا ثابت ہوا۔ جب کہ اس سے پہلے خلفاء کرام تنہا تبلیغ کے لئے جایا کرتے تھے۔ یہ طریقہ آپ نے اس لیے شروع فرمایا کہ خلیفہ صاحب کی بھی ہمت افزائی ہوگی اور جو افراد ان کے ساتھ سفر میں جائیں گے ان کی اخلاقی تربیت بھی ہوگی اور تبلیغ کا سلیقہ بھی آجائے گا اور شامل حضرات واپسی پر اپنے اپنے مقامات پر رہتے ہوئے تبلیغ کر سکیں گے۔ مذکورہ کامیاب تبلیغی دورے کے بعد تربیت کے لیے مدرسہ کے طلبہ کو بھی حضور نے مولانا عبدالغفور صاحب کی قیادت میں روانہ فرمایا۔ اس کے بعد اساتذہ کی قیادت میں بھی طلبہ تبلیغ کرنے جاتے رہے۔ اصلاح المسلمین کے علاقائی اجلاسوں کے علاوہ سالانہ جلسہ کے موقعہ پر خصوصی اجلاس ہوتا تھا، جس میں چاروں صوبوں کے مبلغین حضرات شامل ہوتے تھے۔ مورخہ ۲۳ ربیع الثانی ۱۴۰۲ھ حضور کے فرمان سے سندھ پنجاب کے اہل علم اور تجربہ کار مبلغین کا خصوصی اجلاس بلایا گیا جس میں اصلاح المسلمین کے منشور پر تفصیلی بخث مباحثہ کے بعد متفقہ طور پر جو منشور طے ہوا وہ دستور العمل جماعت اصلاح المسلمین کے نام سے شائع کیا گیا۔

واضح رہے کہ جماعت اصلاح المسلمین اور جمعیۃ علماء روحانیہ غفاریہ کی ملی جلی کوشش اور محنت سے ہی ملک بھر میں اس قدر دینی مدارس قائم ہوئے، مختلف مقامات پر ماہوار اور ہفتہ وار جلسے مقرر ہوئے، اور چھوٹے بڑے شہروں اور دیہاتوں میں تبلیغی مراکز قائم ہوئے۔ ان ہی دو اہم تنظیموں کے تعاون سے نشر و اشاعت کا مستقل سلسلہ جاری ہوا اور روحانی طلبہ جماعت سمیت دیگر مفید تنظیمیں وجود میں آئیں۔

جمعیۃ علماء روحانیہ غفاریہ

بفضلہ تعالیٰ حضور کی جماعت عالیہ میں مستند علماء کرام خاصی تعداد میں موجود ہیں، جو امامت، خطابت، تصنیف و تالیف کے ذریعے خدمت و اشاعت اسلام میں مصروف ہیں۔ آج کی طرح حضور کے حکم کے مطابق وقتاً فوقتاً دربار عالیہ پر علماء کرام کے خصوصی اجلاس ہوتے تھے۔ بظاہر نام تو اجلاس میں شرکت کا ہوتا تھا، مگر مقصد سبھی کا حضور کی زیارت بابرکت اور آپ کے ارشادات عالیہ اور توجھات باطنیہ سے مستفیض ہونا ہوتا تھا۔ حضور بڑی شفقت و محبت سے ہر ایک کی خیریت دریافت فرماتے، مناسبت سے مشغولی اور ذاتی حالات کے بارے میں بھی پوچھتے تھے۔ ہر بار علماء کرام کے چند اجلاس ہوتے تھے۔ اکثر اجلاس تو باہمی ہوتے تھے جن میں حضور کے ارشادات اور تجاویز کی روشنی میں کئی بار نئے فیصلے طے ہوتے تھے اور آخری نشست میں حضور کی خدمت میں پیش کئے جاتے اور آپ سن کر ہمیشہ خوشی کا اظہار فرماتے اور ہمت بندھاتے تھے۔ علماء کرام کی آمد پر تصوف و سلوک کی مختلف کتابوں مثلاً احیاء علوم الدین، علماء ماسلف، عین العلم اور الحدیقۃ الندیہ وغیرہ کے درس کا اہتمام فرماتے تھے۔

عموماً اپنے پرتاثیر ارشادات میں ان الفاظ سے احساس ذمہ داری دلاتے کہ آپ علماء کرام اس امت کے پیشوا ہیں، اگر آپ کی کماحقہ اصلاح ہوگی، نیکی تقوی پرہیزگاری سے رہیں گے تو ہم فقیروں میں بھی کچھ نہ کچھ ہمت پیدا ہوگی، خدانخواستہ اگر آپ کے مزاج میں سستی و غفلت پیدا ہوگئی تو اوروں کا خدا ہی حافظ ہے۔ امت کی اصلاح، دین اسلام کی اشاعت، آپ حضرات کی ذمہ داری ہے۔ آپ اسی لیے پڑھے ہیں۔ کیا آپ نے یہاں پڑھتے وقت یہ عہد وعدے نہیں کئے تھے کہ ہماری زندگی دین اسلام کی اشاعت کے لئے وقف ہے، کیا وہ وعدے یاد ہیں یا نہیں، اگر یاد ہیں تو ان کے مطابق کام کر رہے ہیں یا نہیں؟ ہر ایک اپنے حالات سے بخوبی آگاہ ہے، اگر پہلے کسی قسم کی سستی ہوگئی ہو تو خدارا اب تو سنبھل جائیں، آئندہ سستی نہ ہونے پائے۔ مزید فرماتے تھے اس عاجز کے دل میں تو آپ کی بے حد محبت ہے، دل تو چاہتا ہے کہ آپ سے جلدی جلدی ملاقات ہوتی رہے، مگر نہ معلوم کیوں بعض دوست کافی دیر بعد نظر آتے ہیں۔ یاد رہے کہ حضور جماعت کے مولوی صاحبان اور اماموں کو سختی سے منع فرماتے تھے کہ کہیں بھی آپ پڑھائیں، لڑکیوں کو ہرگز نہ پڑھائیں، اس سے کئی ایسے فتنے بپا ہوتے ہیں کہ ان کا سدباب مشکل ہوجاتا ہے۔ پہلی بار جمعیۃ علماء روحانیہ غفاریہ کا باقاعدگی سے اجلاس اور انتخابات ۲۶ ربیع الثانی ۱۳۹۸ھ کو مورو میں ہوئے تھے، جبکہ حضور کی حیات کا آخری اجلاس ۴ صفر المظفر ۱۴۰۴ھ کو درگاہ اللہ آباد شریف میں منعقد ہوا۔ تمام علماء کرام حضور کی زیارت، خصوصی ارشادات، دعا و ملاقات سے مستفیض ہوکر رخصت ہوئے۔ نہ معلوم جمعیۃ علماء روحانیہ کے بانی، روح رواں شیخ کامل کا یہ آخری دیدار ہوگا۔

واضح رہے کہ حسب سابق حضور کے خلفاء کرام و فقراء کی سرپرستی میں چلنے والے جملہ مدارس کی تعلیمی نگرانی اب بھی جمعیۃ علماء روحانیہ کے اراکین کرتے ہیں۔ مدارس کا موجودہ نصاب تعلیم حضور کے مورو آمد کے موقعہ پر جمعیۃ علماء روحانیہ غفاریہ کے طویل ترین اجلاس میں متفقہ طور پر طے کیا گیا۔

روحانی طلبہ جماعت

حضور سوہنا سائیں قدس سرہ محض پرانی روایات کے حامل صوفی بزرگ ہی نہیں تھے، بلکہ ایک صحیح معنیٰ میں قدیم و جدید کا حسین امتزاج تھے۔ ایک طرف ماسلف مشائخ طریقت و علماء کے نقش قدم پر سختی سے کاربند تھے تو دوسری طرف جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کی اہمیت سے بھی پوری طرح آشنا تھے۔ ایک طرف بڑی دلچسپی سے دینی مدارس قائم کیے، علماء کرام کی ہمت افزائی فرمائی تو دوسری طرف جدید علوم و فنون کے ماہر اساتذہ اور ان کے ہاں پڑھنے والے طلبہ کی دینی بیداری اور اصلاح کے لئے مثالی کاوشیں کیں۔ اس سلسلہ میں آپ نے جماعت کے اساتذہ اور مبلغین حضرات کے ذریعے سکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ کی ذہنی تطہیر و تربیت کی، پسندیدہ فن میں مہارت حاصل کرنے کی ترغیب کے ساتھ ساتھ حسن اخلاق سے احکام شرعیہ اپنانے کی ترغیب بھی دیتے رہے۔جس کے نتیجے میں لیاقت میڈیکل کالج جامشورو کے چند نوجوانوں نے بڑی ہمت و جوانمردی سے طریقہ عالیہ کے اصول کے مطابق پہلے خود عمل کرکے اس کے بعد دوسروں پر تبلیغی محنت کرنے کا عزم کیا۔ اس طریقہ سے اکتوبر ۱۹۷۵ء میں روحانی طلبہ جماعت کے نام سے طلبہ تنظیم قائم ہوئی۔ بفضلہ تعالیٰ طلبہ کی یہ منفرد تنظیم دن دگنی رات چوگنی ترقی کرتی رہی، اور ان کی تبلیغی محنت سے حیدرآباد، کراچی اور نواب شاہ کے تعلیمی اداروں میں خاصی تعداد میں نوجوانوں نے سنت رسول صلّی اللہ علیہ وسلم کے مطابق داڑھیاں رکھ لیں۔ نماز باجماعت، عمامہ اور طریقہ عالیہ کے مطابق ذکر و مراقبہ کی محافل بھی قائم کرنے لگے۔ اور جب یہ میڈیکل اور انجینئرنگ کے طالب علم (جو کہ بظاہر دینی مدارس کے طالب علم نظر آتے تھے) صوبہ بلوچستان، سرحد، اور پنجاب کے تبلیغی تنظیمی دوروں پر گئے، جگہ جگہ ان کو توقع سے بڑھ کر کامیابی حاصل ہوئی۔ کوئٹہ، پشاور، بنوں، لاہور اور راولپنڈی، فیصل آباد کے علاوہ ان صوبوں کے مقامی فقراء کے تعاون سے کئی دوسرے بڑے چھوٹے شہروں اور دیہاتوں میں بھی روحانی طلبہ جماعت کی تنظیمیں قائم کیں، ان کو روحانی طلبہ جماعت کی کتابیں دیں اور حضور کے تبلیغی مشن سے آگاہ کیا۔ بفضلہ تعالیٰ آج چاروں صوبوں میں ہزاروں کی تعداد میں روحانی طلبہ جماعت کے اراکین شریعت مطہرہ کی پابندی کے ساتھ اس کی ترویج و اشاعت کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔ روحانی طلبہ جماعت کی تمام علاقائی تنظیمیں اپنے طور پر ماہوار اور ہفتہ وار جلسے کرتی رہتی ہیں۔ ان باہمت نوجوانوں نے حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے وصال کے بعد آپ کی دیرینہ خواہش (کتابی سلسلہ کی اشاعت) پوری کی اور ”الطاہر“ کے نام سے سہ ماہی کتابی سلسلہ کی اشاعت کا مفید و مقبول سلسلہ شروع کیا اور تاہنوز اس کے سات شمارے ہاتھوں ہاتھ فروخت ہو چکے ہیں۔ جبکہ حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی حیات ہی میں روحانی طلبہ کا دستور العمل کئی ایک پمفلٹ اشتہارات، گیارہویں اور بارہویں جماعت کے حل پرچہ جات بھی مرکزی روحانی طلبہ جماعت کی جانب سے شائع ہوئے تھے۔ روحانی طلبہ جماعت کا مرکزی دفتر درگاہ اللہ آباد شریف کنڈیارو ضلع نوشہرو فیروز میں واقع ہے۔

جمعیۃ اساتذہ روحانیہ

تعلیمی اداروں میں ملازم جماعت کے فقراء کی اس تنظیم کے قائم کرنے کا بنیادی مقصد بھی یہی ہے کہ اساتذہ اپنے شاگردوں کی تربیت اس انداز سے کریں کہ مغربی تعلیم حاصل کرنے کے باوجود طلبہ مغربی طرز فکر و عمل کو نہ اپنائیں، بلکہ اپنی مذہبی حیثیت و شخصیت کو صحیح معنوں میں سمجھ کر احکام شریعت کے پابند بنیں۔ بفضلہ تعالیٰ جماعت کے اساتذہ نے دینی تربیت کے علاوہ طلبہ کی بہتر تعلیم پر بھی خصوصی توجہ دی ہے اور ان کے طلبہ، بورڈ کی سطح تک خصوصی پوزیشنیں حاصل کر رہے ہیں۔

جمعیۃ اساتذہ کے مخلص اراکین جن میں حضور کے کئی ایک خلفاء اور علماء بھی شامل ہیں، تحصیل، ضلع اور صوبائی سطح پر جلسے بھی منعقد کرتے ہیں۔ حضور قبلہ سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے وصال کے بعد ”المعلم“ کے نام سے ایک عمدہ کتاب بھی شائع کی گئی۔ کئی ایک پمفلٹ چھپوا کر مفت تقسیم کئے ہیں۔

 

دینی مدارس

مدرسہ جامعہ غفاریہ

واضح ہو کہ مسند ارشاد پر جلوہ افروز ہوتے ہی حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ نے برمحل کئی ایسے تجدیدی کارنامے انجام دیئے جن کا عمدہ ثمر آپ کی حیات مبارکہ ہی میں ظاہر ہوا، اور آج تک بفضلہ تعالیٰ پھلتا پھولتا نظر آتا ہے۔ اللھم زِد فَزِد۔ یہ ایسے کارنامے تھے جن کی اس سے پہلے نہ اتنی ضرورت تھی نہ ہی ہمارے ماسلف علیہم الرحمہ نے اس طرف کوئی خاص توجہ کی۔ جن میں سرفہرست منظم طریقے سے دینی مدارس کا قیام ہے۔

ملک بھر میں دین سے عموماً بیگانگی اور دینی علوم سے ناواقفیت دیکھ کر آپ نے شدت سے دینی علوم پھیلانے کی ضرورت محسوس کی۔ خاص کر اس لئے بھی کہ آپ نے دیکھا کہ اندرون سندھ کئی اچھے خاصے دیندار گھرانوں کے نوجوان (جہاں سے ہزاروں تشنگان آکر فیضیاب ہوتے تھے) جن میں آپ کے متعلقین کی اولاد بھی شامل ہے، دن بدن دین اور دینداروں سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ یا تو سرے سے کوئی علم پڑھتے ہی نہیں، اگر پڑھتے ہیں تو جدید تعلیم (انگریزی) ہی حاصل کرتے ہیں۔ اور جو تھوڑے بہت دینی تعلیم حاصل کرتے ہیں، ان کی بھی پوری طرح تربیت اور اصلاح نہیں ہوتی۔ تعلیم سے فراغت تک وہ بھی ماحول کے خطرناک اثرات سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔

اس سلسلہ میں آپ نے حضرت قبلہ پیر مٹھا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے خلفاء کرام سے انفرادی اور اجتماعی مشورے کئے، تجاویز طلب کیں۔ تمام خلفاء کرام نے اپنی صوابدید اور تجربہ کی روشنی میں تائید کی اور تجاویز بھی پیش کیں۔

سچا خواب: ان ہی دنوں عالم باعمل سید السادات حضرت قبلہ مٹھل شاہ صاحب (قاضی احمد) کو خواب میں حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی زیارت ہوئی۔ دیکھا کہ حضور کے گرد کتابوں کا بہت بڑا ذخیرہ رکھا ہوا ہے، میں ایک کونے میں بیٹھا ہوا ہوں، آگے بڑھ کر حضور سے کتابوں کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا ”شاہ صاحب! یہ قرآن و حدیث کی کتابیں ہیں“۔ اس وقت مجھے معلوم تھا کہ نہ تو دربار عالیہ پر کوئی مدرسہ ہے نہ کبھی حضور کے سامنے کتابوں کا اتنا ذخیرہ کسی وقت نظر آیا۔ چند دن بعد جب دربار عالیہ پر حاضر ہوا تو معلوم ہوا کہ چند ہی دن ہوئے ہیں کہ حضور نے مدرسہ کا افتتاح کیا ہے۔ الحمد للہ پھر تو واقعی طور پر قرآن و حدیث کی کتابوں کے ذخیرے بارہا حضور کے گرد نظر آئے۔ کبھی دورہ حدیث کے طلبہ کو بلاکر مقام درس پوچھتے تو صحاح ستہ کی کتابوں کا خاصہ ذخیرہ جمع ہو جاتا، اسی طرح تفسیر بیضاوی شریف، تفسیر جلالین شریف، ان کے علاوہ فقہ اصول، صرف و نحو کی کتابوں کے حسین ترین ذخیرے بارہا دیکھنے نصیب ہوئے۔

بہرحال خلفاء کرام کے مشورے سے ابتداءً محدود پیمانے پر تعلیم کا آغاز ہوا، وہ اس طرح کہ جز وقتی طور پر پڑھانے کے لئے محترم مولانا رحیم داد صاحب کو کہا گیا جو حضور کے مخلص مرید تھے اور قریب ہی دوسری بستی میں پڑھاتے تھے۔ مولانا صاحب بڑی سعادت سمجھ کر خوشی سے پڑھانے کے لئے آمادہ ہوگئے۔ روزانہ صبح کے وقت کوئی ایک گھنٹہ پڑھانے کے بعد چلے جاتے اور دوبارہ پڑھانے کے لئے مغرب کے وقت آ جاتے، عشاء تک پڑھا کر گھر چلے جاتے تھے۔ پڑھنے والوں میں (مولانا حاجی) محمد رمضان صاحب جو محنت مزدوری یا لنگر کا کام کرتے تھے، (مولانا مولوی) قاری محمد داؤد صاحب جو تجوید و قرات پڑھنے کے بعد حضرت قبلہ نصیر الدین شاہ صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے کہنے پر حضور کی صحبت میں آکر رہے تھے، (مولوی) عبداللہ چنہ صاحب، میاں محمد صادق بروہی صاحب اور مولوی محمد شریف صاحب (بلوچستانی) مسافر تھے۔ جن میں آخر الذکر تینوں تو تکمیل نہ کر سکے، جبکہ اول الذکر دونوں مولوی صاحبان فراغت کے بعد تدریس و تبلیغ میں مصروف ہیں۔ ان کے علاوہ بستی کے فقراء اور ان کے بچے بھی قرآن مجید کا ترجمہ وغیرہ پڑھتے تھے۔ عموماً خود حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ بھی استاد صاحب کے پاس آکر بیٹھتے تھے اور باری باری سے طلبہ کی ٹولیوں میں بھی جاکر بیٹھتے، ان سے ترجمہ وغیرہ سنتے اور غلطی وغیرہ کی اصلاح کرتے رہے۔

کچھ ہی عرصہ بعد خلفاء کرام کے مشورہ سے تعلیم بالغان کے سلسلے میں تعلیمی تربیتی دورہ مقرر فرمایا، جس میں مختلف اضلاع سے فقراء اور نوجوان شامل ہوئے، جن کو منتخب آیات و احادیث کا ترجمہ اور تشریح، ساتھ ساتھ وضو، نماز کے مسائل، تبلیغ کا طریقہ کار سکھایا گیا۔ اور بیرونی فقراء کو مستقل طور پر اپنے بچے مدرسہ میں دینی تعلیم کے لئے بھیجنے کی ترغیب دی گئی، جس کے نتیجے میں کئی فقراء نے اپنے لڑکے بھیج دیئے اور مستقل عربی فارسی پڑھنے والے مسافر طلبہ کے لئے ایک مستقل استاد کی ضرورت تھی جو باقاعدگی سے تعلیمی خدمات انجام دے اور طلبہ کی احسن طریقے سے شریعت و طریقت کے مطابق تربیت بھی کرے۔ اس سلسلہ میں اکثر احباب کی نگاہ انتخاب استاد محترم مولانا نثار احمد صاحب پر پڑی جو اس وقت زیر تعلیم تھے۔ لہٰذا عارضی طور پر حضور کے خلفاء کرام میں سے حضرت علامہ الحاج مولانا کریم بخش صاحب، حضرت علامہ مولانا عبدالرحمن صاحب اور حضرت علامہ مولانا بشیر احمد صاحب پر باری باری کچھ عرصہ پڑھانے کی ذمہ داری عائد کی گئی۔

حضرت قبلہ استاد مولانا نثار احمد صاحب کی آمد تک کئی ایک اور طلبہ بھی مدرسہ میں داخل ہو چکے تھے۔ بعض طلبہ فارسی تعلیم مکمل کرکے عربی کے اسباق شروع کرنے والے تھے۔ استاد محترم نے آتے ہی بڑی ہمت سے تعلیم کا آغاز کیا، مگر تھوڑے ہی عرصہ بعد ایک دوسرے مدرس کی ضرورت محسوس کی گئی جو درس نظامی کی تعلیم میں استاد محترم سے تعاون کرے۔ انکے علاوہ قرآن مجید کی تعلیم کے لئے مزید ایک استاد کی ضرورت محسوس کی گئی، اس لئے کہ طلبہ میں بعض ایسے بھی تھے جو ناظرہ قرآن مجید بھی پڑھے ہوئے نہ تھے۔ چنانچہ درس نظامی کی تعلیم کے لئے مایہ ناز عالم دین خاص کر صرف نحو اور فقہ کے انتہائی ماہر استاد مولانا محمد اکتڑائی رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد رشید محترم قبلہ استاد مولانا رضا محمد صاحب کے شاگرد رشید محترم استاد قاری و حافظ مولانا عبدالرسول صاحب کا تقرر کیا گیا۔ یہ نیا مدرسہ تھوڑے ہی عرصہ میں اساتذہ کی محنت اور اس سے بڑھ کر حضور کی نظر کرم اور توجہات عالیہ کی بدولت سندھ بھر کے قدیم ترین مدارس سے بھی چند قدم آگے نکل گیا۔ لیکن اندرون سندھ کے دوسرے مدارس کی طرح منطق و فلسفہ کی تعلیم میں کمی رہی جس کو پورا کرنے کی غرض سے حضور نے مدرسہ کے صدر مدرس حضرت علامہ مولانا رضا محمد صاحب کو منطق و فلسفہ کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے استاذ العلماء حضرت علامہ مولانا عطا محمد صاحب کی خدمت میں بندیال شریف بھیجا، جہاں بڑی دلچسپی اور شوق سے منطق و فلسفہ کی بالائی کتابیں پڑھ کر کئی سال تک مسلسل دربار عالیہ پر بالخصوص منطق و فلسفہ کی کتابیں پڑھاتے رہے۔

دورہ حدیث: ان اساتذہ کی محنت کی بدولت مدرسہ کے اوائلی طلبہ نے ۶ برس کے مختصر عرصہ میں درس نظامی مکمل کیا، اور شعبان المعظم ۱۳۹۲ھ کو دورہ حدیث شریف شروع کیا۔ واضح ہو کہ مدرسہ جامعہ غفاریہ میں رمضان المبارک کی چھٹیاں نہیں ہوتیں اور تعلیمی سلسلہ رمضان المبارک میں بھی جاری رہتا ہے۔ اس دورہ حدیث شریف کے مدرسین صرف دو ہی جلیل القدر اساتذہ یعنی جامع العلوم العقلیۃ و النقلیۃ حضرت مولانا رضا محمد صاحب اور استاذ العلماء حضرت علامہ مولانا نثار احمد صاحب تھے۔

طلبہ: مدرسہ جامعہ غفاریہ کے سب سے پہلے دورہ حدیث شریف میں صرف سات خوش نصیب طالب علم شریک تھے۔ یہ تعداد مدرسہ کے اس وقت کے ابتدائی حالات کے پیش نظر کافی زیادہ تھی۔ مولانا محمد بشیر صاحب لاڑکانہ، مولانا غلام حسین صاحب نواب شاہ، مولانا محمد نواز صاحب، دادو، مولانا عزیز الرحمان صاحب نواب شاہ، مولانا غلام حیدر لاکھو صاحب، نواب شاہ، مولانا غلام حیدر بھٹی صاحب، نواب شاہ اور یہ عاجز فقیر حبیب الرحمن گبول (دربار عالیہ فقیر پور شریف)۔ چونکہ مذکورہ دورہ حدیث کے بعد جلد ہی درگاہ اللہ آباد شریف قائم ہوگئی اور مرکزی مدرسہ بھی درگاہ اللہ آباد شریف ہی منتقل ہوگیا، ساتھ ساتھ دوسری بار دورہ حدیث شریف بھی شروع ہوگیا، اس لئے سابقہ طلبہ کی دستار بندی بھی ان کی فراغت تک ملتوی کی دی گئی۔ البتہ حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ نے خلفاء کرام کے مشورے سے ان میں سے بعض کو دربار عالیہ پر ہی بطور مدرس مقرر فرمایا، مولانا محمد نواز صاحب، مولانا غلام حسین صاحب اور یہ عاجز فقیر حبیب الرحمن گبول۔ اور اس بار دورہ حدیث شریف میں درج ذیل طلبہ کرام شامل رہے۔ مولانا محمد سعید صاحب، مولانا محمد رفیق صاحب، مولانا غلام مصطفی بوزدار صاحب، مولانا نور الحق صاحب شیخ، مولانا محمد حسن صاحب گبول، مولانا عبدالباقی صاحب، مولانا عبدالغفور صاحب چانڈیو، مولانا غلام سرور صاحب چانڈیو۔

۲۲ علماء کی دستار فضیلت

بالاخر ۱۱ شوال المکرم ۱۳۹۳ھ کو عظیم الشان سالانہ جلسہ کے موقعہ پر درگاہ فقیر پور شریف میں بعد از نماز عشاء ہر دو دورہ حدیث میں شامل مولوی صاحبان اور ان کے علاوہ مدرسہ عالیہ کے سابق طالب علم جو دورہ حدیث شریف سے پہلے حضور کی اجازت سے کسی دوسرے مدرسہ میں پڑھنے گئے اور وہاں دورہ حدیث شریف پڑھا یا حضور کے فرمان سے تدریس اور تبلیغ کے فرائض انجام دے رہے تھے، ان کی دستار بندی بھی ہوئی جن کے نام یہ ہیں۔ مولانا محمد رمضان صاحب، مولانا رحمت اللہ صاحب، مولانا محمد صالح صاحب، مولانا محمد قاسم گبول صاحب اور مولانا محمد داؤد صاحب۔

نوٹ: ان بائیس علماء کرام میں سے چند ایک بعض مجبوریوں کی بناء پر دستار بندی میں شریک نہیں ہو سکے۔

امتیازی خصوصیت: اس بابرکت پر فیض و پر رحمت نورانی محفل کی اہم اور امتیازی خصوصیت یہ تھی کہ ہر عالم دین کی دستار فضیلت کے پیچ کی ابتداء حضور شمس العارفین امام الاولیاء حضرت الحاج سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ فرما رہے تھے۔ اس کے بعد استاد العلماء مولانا کریم بخش صاحب، حضرت علامہ مولانا نثار احمد صاحب، حضرت علامہ مولانا رضا محمد صاحب، حضرت قبلہ علامہ مولانا عبدالرحمن صاحب اور حضرت علامہ بشیر احمد صاحب باری باری دستار فضیلت کے پیچ دیتے رہے۔ اور اعلانات کے فرائض حضرت مولانا عبدالغفور صاحب مری انجام دیتے رہے۔ جماعت غفاریہ بخشیہ کی تاریخ میں پہلی بار دستار فضیلت کی پر رونق مجلس کا روح پرور منظر دیکھ کر ہر کسی کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔

تیسری بار دورہ حدیث شریف

تیسری بار مدرسہ جامعہ عربیہ غفاریہ میں ۱۴۰۱ھ اور ۱۴۰۲ھ میں دورہ حدیث شریف ہوا، جس کی امتیازی خصوصیت یہ تھی کہ شیخ المشائخ حضرت قبلہ پیر فضل علی قریشی قدس سرہ کے قابل قدر نواسے حضرت علامہ مولانا رفیق احمد شاہ صاحب استاد تھے اور حضور قبلہ شمس العارفین حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے لخت جگر نور نظر سیدی و مرشدی حضرت قبلہ صاحبزادہ مولانا مولوی محمد طاہر صاحب مدظلہ العالی شاگرد رشید تھے۔ دورے میں شامل دیگر طلبہ کے نام درج ذیل ہیں۔

مولانا محمد عاشق صاحب، مولانا عبدالقدیر صاحب، مولانا محمد داؤد صاحب، مولانا حافظ احمد علی صاحب، مولانا حبیب الرحمن صاحب چانڈیو، مولانا عبدالستار بوزدار صاحب، مولانا غلام رسول صاحب اور مولانا حضور احمد صاحب۔

امتحان: اس بار معمول کے خلاف پہلی ہی بار دورہ حدیث کے طلبہ کے امتحانات سیٹ نمبر کی بنیاد پر پرچوں سے ہوئے، ممتحن علمائے کرام کراچی کے مختلف مدارس کے اساتذہ تھے۔ نتیجۃ پہلا نمبر حضرت قبلہ سیدی و مرشدی صاحبزادہ صاحب مدظلہ العالی نے حاصل کیا جو آپ کی خداداد صلاحیت ہی کا ثمرہ تھا۔ دوسرا نمبر محترم مولانا عبدالقدیر صاحب (حال مدرس جامعہ عربیہ غفاریہ اللہ آباد شریف) نے حاصل کیا، جب کہ تیسرا نمبر محترم مولانا محمد داؤد صاحب (حال مدرس سندھ مدرسۃ الاسلام کراچی) نے حاصل کیا۔

دستار فضیلت

ان فارغ التحصیل علمائے کرام کی دستار بندی کے لئے سالانہ جلسہ ۲۹ جمادی الاول ۱۴۰۲ھ کی تاریخ مقرر کی گئی تاکہ اس روح پرور منظر کو دیکھ کر دیگر فقراء بھی اپنے بچوں کو دینی تعلیم کے لئے وقف کریں۔ مذکورہ تاریخ پر کم از کم اندرون سندھ کی تایخ کا سب سے بڑا اسلامی اجتماع درگاہ اللہ آباد شریف میں منعقد ہوا۔ بدھ اور جمعرات کے دن یکے بعد دیگرے ہزاروں کی تعداد میں اہل ذکر فرزندان توحید اور عاشقان رسالتماب صلّی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے قافلے آتے رہے۔ شام گئے تک جامع مسجد، مدرسہ اور لنگر خانے کا وسیع و عریض میدان ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کا منظر پیش کر رہا تھا۔ حسب دستور نماز عشاء کے وقت تمام حضرات نے مل کر نماز باجماعت ادا کی۔ (واضح رہے کہ دربار عالیہ پر اوقات نماز میں کسی کو بھی گھومنے پھرنے یا کسی ہوٹل پر بیٹھنے کی اجازت نہیں ہوتی، ہر ایک کو نماز باجماعت میں شریک ہونا لازمی ہوتا ہے، اس معاملہ میں کسی سے رو رعایت کی گنجائش نہیں ہوتی)۔ نماز عشاء کے بعد پروگرام کے مطابق کسی ظاہری زیب و زینت اور مروجہ سٹیج بنائے بغیر ماسلف علماء و مشائخ کے طریقے کے مطابق فارغ التحصیل علماء کرام، ان کے اساتذہ کرام اور دیگر بزرگ شخصیتوں کو سپیکر کے قریب بلایا گیا، جہاں حضور شمس العارفین امام الاولیاء حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ تشریف فرما تھے۔ اعلانات کے فرائض محترم مولانا محمد رمضان صاحب انجام دے رہے تھے۔ سب سے پہلے حضرت قبلہ سیدی صاحبزادہ مولانا محمد طاہر صاحب مدظلہ العالی کو بلایا گیا اور دستار بندی کی ابتداء حسب معمول حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ نے فرمائی۔ حضور کے بعد محترم سائیں رفیق احمد شاہ صاحب، محترم سید جیئل شاہ صاحب، محترم مولانا الحاج کریم بخش صاحب، محترم مولانا علامہ عبدالرحمان صاحب، محترم مولانا جان محمد صاحب، محترم مولانا غلام حسین صاحب اور اس عاجز فقیر حبیب الرحمان نے باری باری دستار بندی کی تکمیل کی۔ حضرت قبلہ صاحبزادہ صاحب مدظلہ العالی کے بعد دیگر مولوی صاحبان یکے بعد دیگرے تشریف لاتے رہے اور مذکورہ طریقہ کے مطابق ان کی دستار بندی ہوتی رہی۔
پوری جماعت یہ روح پرور منظر دیکھ کر از حد محظوظ ہو رہی تھی، بالخصوص حضرت قبلہ صاحبزادہ صاحب مدظلہ العالی کی دستار بندی کی خوشی تو غیر معمولی انداز میں محسوس کی گئی۔ اس مجلس میں موجود فقراء کو اپنے بچے دینی مدرسے میں داخل کرانے کے لئے کہا گیا۔ نتیجۃ کئی فقراء نے اپنے بچے مدرسہ میں داخل کرائے اور اس کے بعد اس قدر دلچسپی پیدا ہوتی گئی کہ دو سال کے عرصہ میں طلبہ کی تعداد تقریباً دگنی ہوگئی۔ دستار بندی کے وقت طلبہ کے متعلقین و احباب پھولوں کے ہار بکثرت لے آئے جو حضور قبلہ سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ اور اساتذہ اور طلبہ کو پہنائے گئے اور پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں۔ (واضح رہے کہ نوٹوں کے مروجہ ہاروں کو حضور سخت ناپسند فرماتے تھے، اس لئے نوٹ کا کوئی ہار نہ کبھی خود پہنا نہ فقراء و متعلقین کو اس کی اجازت دی، بلکہ اگر کسی اور مجلس میں ایسے ہار پہنے جاتے تو بھی رنجش و ناراضگی کا اظہار فرماتے) اور فقیر نوازل نے ایک منقبت بھی سنائی جس میں فارغ التحصیل علماء کرام کے نام لے کر ان کو اور ان کے والدین کو مبارکباد پیش کی۔

چوتھی بار دورہ حدیث شریف

افتتاح: چوتھے اور حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے حیات مبارکہ کے آخری دورہ حدیث شریف کے افتتاح کا عجیب و غریب منظر دیکھنے ہی سے تعلق رکھتا تھا۔ ماہانہ جلسہ ۲۷ ذوالحجہ ۱۴۰۳ھ کی صبح کی مجلس میں حضور کے فرمان سے یہ اعلان کیا گیا کہ آج بعد از نماز ظہر حضور کی موجودگی میں دورہ حدیث شریف کا افتتاح ہوگا۔ افتتاحی درس کے لئے حضور نور اللہ مرقدہ نے اس عاجز سیہ کار کو یاد فرمایا جو میری حیثیت سے بدرجہا بڑھ کر تھا، مگر حضور کی ذرہ نوازی اور میری خوش قسمتی تھی کہ آپ نے اس عاجز کو اس اہم کام کے لئے منتخب فرمایا۔

عوارض جسمانی کی وجہ سے حسب معمول آپ نے نماز ظہر کرسی پر ہی ادا فرمائی کہ زمین پر بیٹھ کر رکوع و سجود سے نماز نہیں پڑھ سکتے تھے۔ نماز پڑھ کر بہ تکلف نیچے چٹائی پر بیٹھ گئے۔ دورہ حدیث شروع کرنے کے لئے تیرہ طلبہ صحیح بخاری شریف کے چند نسخے لے کر آئے۔ اس عاجز نے معمول کے مطابق حضرت امام بخاری اور صحیح بخاری کے علاوہ حدیث کی اہمیت پر بھی مختصر روشنی ڈالی۔ انتہائی تکلیف کے باوجود آخر تک (تقریباً بیس منٹ) آپ حدیث رسول مقبول صلّی اللہ علیہ وسلم کے ادب کے پیش نظر دوزانو انتہائی متوجہ ہوکر سنتے رہے۔ کئی بار آپ پر گریہ طاری ہوا۔ آپ کی پرخلوص و بابرکت دعا اور مصافحہ کے بعد یہ بابرکت محفل برخواست ہوئی۔

طلبہ کے نام: اس بار دورہ حدیث شریف میں درج ذیل طلبہ شامل تھے۔ مولانا محمد عثمان صاحب جلبانی، حاجی محمد کریم صاحب، صوفی مختار احمد صاحب، مولانا محمد نواز میمن، مولانا مطیع اللہ صاحب، مولانا محمد ایوب عباسی صاحب، مولانا محمد علی صاحب، مولانا محمد عثمان عمرانی صاحب، مولانا محمد عالم صاحب، مولانا عبدالستار صاحب بروہی، مولانا محمد حیات صاحب، مولانا علی حسن صاحب، مولانا عبدالرحمن چانڈیو صاحب۔

ان حضرات کی دستار بندی حضور نور اللہ مرقدہ کے وصال شریف کے بعد مورخہ ۲۰ رجب المرجب ۱۴۰۵ھ کے سالانہ جلسے کے موقعہ پر اللہ آباد شریف میں ہوئی اور حضور سجن سائیں مدظلہ العالی و دیگر علماء و اساتذہ نے ان کو شرف دستار بندی سے نوازا۔

تقویٰ پر مبنی مدرسہ: حضور شمس العارفین حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ وعظ و نصیحت کے دوران اپنے قائم کردہ اصلاحی و دینی مدرسہ کو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم کی تعمیر کردہ مسجد قبا سے تمثیل دیتے ہوئے فرماتے تھے ”اللہ تعالیٰ نے مسجد قبا بنانے والوں اور اس مسجد میں نماز پڑھنے والوں کی تعریف کرتے ہوئے ان کی امتیازی خصوصیت تقوی بیان فرمائی ہے۔ ’لمسجد اسس علے التقوی‘۔ اسی طرح اس مدرسہ کے قائم کرنے سے ہمارا مقصد بھی یہی ہے کہ یہاں سے فارغ ہونے والے علماء کرام علماء ماسلف کی سچی تصویر ہوں۔ ان میں تقویٰ، توکل، صدق، اخلاص، بے طمعی، للھیت، توسط اور اعتدال کی ہمہ گیر خصلتیں موجود ہوں“۔ آپ نے مدرسہ شروع ہوتے ہی اسے ایک خاص مفید مزاج میں ڈھالنے کے لئے غیر معمولی کوششیں کیں تاکہ اس اصلاحی ادارہ سے عام رسمی واعظ یا سرکاری ملازم پیدا ہونے کی بجائے دین اسلام کے صحیح داعی اور مخلص مبلغ تیار ہوں جو نہ کسی کے دست نگر بنیں، نہ جاہ و حشم کے طالب بنیں۔ بلکہ اپنے ماسلف مشائخ کے طریقہ پر چل کر سلامت فکر اور خلوص دل کے ساتھ دین اسلام کی خدمت کا صحیح حق ادا کریں۔
اصول و ضوابط: مذکورہ بالا مقاصد کے پیش نظر آپ نے مدرسے کے لئے اصول و ضوابط بھی ایسے تجویز فرمائے جو مدرسے کے مطلوبہ مقاصد سے پوری طرح ہم آہنگ تھے۔ خواہ دوسرے مدارس سے بڑی حد تک مختلف اور نئے معلوم ہوتے تھے۔ مثلاً یہ کہ تمام طلبہ کے لئے نماز باجماعت کو لازمی شرط قرار دیا، نماز تہجد اور تمام نمازوں کے وقت عمامہ اور مسواک بھی لازم قرار دیا اور عملی طور پر ان کی پابندی کرائی گئی جو بفضلہ تعالے روبہ عمل رہی۔ اور آج بھی حضرت صاحبزادہ صاحب مدظلہ کے زیر نظر اسی نہج پر قائم ہے۔
غالباً شیخ محقق حضرت عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے حوالے سے بیان فرماتے تھے کہ انہوں نے لکھا ہے کہ مجھے بچپن سے ہی والد ماجد نے یہ وصیت فرمائی تھی کہ خشک ملا نہ بننا، بلکہ ظاہری تعلیم کے علاوہ اپنے آپ کو شب بیداری و عبادت کا عادی بنانا۔ اس لئے میں بچپن ہی سے کافی رات جاگ کر ذکر و فکر اور یاد الٰہی میں مصروف رہتا تھا۔

آپ فرماتے تھے کہ جس نے بھی کچھ حاصل کیا ہے جاگ کر ہی کیا ہے۔ اس لئے آپ ابھی سے حتی المقدور اپنے آپ کو شب خیزی اور ذکر و فکر کا عادی بنائیں۔ گو مطالعہ کی وجہ سے سونے سے پہلے تمہیں تہجد پڑھنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ تاہم اگر ہمت کرکے ڈھائی تین بجے اٹھ کر تہجد پڑھیں تو بہتر ہے۔ دورہ حدیث شریف کے طلبہ کے لئے تو یہ حکم فرماتے تھے کہ ڈھائی تین بجے اٹھ کر تہجد پڑھیں۔ اس کے بعد باہمی مل کر طریقہ عالیہ کے مطابق مراقبہ کریں۔ کسی وقت دن کی تحصیص کئے بغیر صلوٰۃ التسبیح پڑھنے کی ترغیب بھی دیا کرتے تھے۔ خاص کر ۲۷ رجب، ۱۵ شعبان خاص کر ۲۷ رمضان کو صلوٰۃ التسبیح اور رات جاگنے کی تاکید فرماتے تھے۔

باوجودیکہ مدرسے کے اخراجات آمدن سے کہیں زیادہ تھے۔ پھر بھی اشارۃ یا کنایۃ کبھی کسی کو چندہ، صدقہ خیرات دینے کے لئے نہ کہا نہ ترغیب دی، بلکہ برسر عام اعلان فرماتے تھے کہ ہمارا کام لوجہ اللہ تعالیٰ ہے، آپ اپنے بچے مدرسے میں داخل کرائیں، یہاں نہ کبھی آپ سے چندہ یا سوال ہوگا نہ آپ کے گھر زکوٰۃ و خیرات کے لئے ہمارا آدمی آئے گا۔ اگر کوئی آدمی ہمارے مدرسہ یا خانقاہ کے نام پر آپ سے کچھ مانگے تو وہ جھوٹا اور مکار ہے اور اسے پکڑ کر یہاں لے آؤ۔ البتہ اگر کوئی صاحب اخلاص کے ساتھ خدمت دین کے لئے از خود کچھ دینا چاہتا تو اسے رد نہیں فرماتے تھے۔

لیکن اگر کسی نے اعانت کرتے وقت احسان جتلانے کا انداز اختیار کیا یا ریاکاری کاشائبہ معلوم ہوا تو آپ نے صاف طور پر لینے سے انکار کر دیا، یہاں تک کہ ایک مرتبہ سکھر کے ایک سیٹھ نے تنہائی میں غالباً پندرہ ہزار روپے پیش کئے مگر آپ نے اسی دینی مصلحت کے پیش نظر واپس کردیئے اور فرمایا کسی اور دینی مدرسے میں دے دینا ہمیں ضرورت نہیں ہے۔

آپ کو مدرسے کے اساتذہ خواہ طلبہ کی عزت نفس کا از حد پاس ہوتا تھا۔ کسی شخص سے ان کی ہتک و توہین آپ کے نزدیک غیر معمولی جرم تھا۔ طاہر آباد شریف میں قیام کے دوران ایک بار قریبی بستی کے کچھ لوگوں نے چند طلبہ کو جلانے کی لکڑیوں کی وجہ سے پیٹا تھا، معلوم ہونے پر آپ کو سخت صدمہ پہنچا۔ آپ کے حکم سے ایک نمائندہ مقرر ہوا، اور ان کی طرف سے بھی نمائندہ مقرر ہوا۔ فیصلے میں قصور ثابت ہوا، انہوں نے معافی طلب کی، تب جاکر آپ کے دل سے بوجھ ہلکا ہوا۔ اور اگر کسی صاحب کے بارے میں کبھی یہ معلوم ہو جاتا کہ اس نے مدرسہ کے کسی استاد، شاگرد یا درگاہ کے کسی فقیر سے اہانت آمیز رویہ اختیار کیا ہے تو خواہ وہ کتنا ہی مخلص اور قریب کا آدمی ہوتا آپ کے لئے اس کی یہ حرکت قطعاً ناقابل برداشت ہوتی تھی اور حاضر ہونے پر ان صاحب کا ٹھیک ٹھیک علاج فرماتے تھے۔ خواہ وہ کتنی ہی ندامت و معذرت کا اظہار کرتا، مگر جب تک مدعی کو راضی نہ کرتا آپ اسے معافی نہیں دیتے تھے، بلکہ حضور تک عموماً معاملہ پہنچتا ہی نہیں تھا، پہلے ہی مدعا علیہ تدارک کر لیتا تھا۔ تاہم جب کبھی کوئی ایسا معاملہ پیش آتا، کبھی کسی بڑے سے بڑے ذی وجاہت شخص کو بھی خاطر میں نہیں لاتے تھے۔ اس سلسلہ میں آپ کا یہ پختہ نظریہ تھا، جس کا بارہا اظہار بھی فرمایا کرتے تھے کہ صحیح اصولوں پر قائم دینی مدارس اور خانقاہیں کسی فرد کے محتاج نہیں ہوتے۔ جب تک یہ ادارے اخلاص، توکل، تقویٰ اور للھیت پر کاربند رہیں گے، ان کے کام میں برکت رہے گی اور ان کا کام دن بدن بڑھتا رہے گا، اور ان سے اپنے خواہ بیگانے مستفیض ہوتے رہیں گے۔

اگر خدانخواستہ یہ ادارے بھی تقویٰ و توکل اور للھیت سے محروم ہوجائیں اور ان کا مطمع نظر دنیا کا حصول اور دنیا داروں کی رضا جوئی رہ جائے، تو پھر ان کی تعلیم و تبلیغ، سطح تائید الٰہی اور انوار و برکات سے یکسر خالی، دینداری کی صورت میں دکانداری رہ جائے گی اور چونکہ آپ

صوفی کی طریقت میں فقط مستی احوال
ملا کی شریعت میں فقط مستی گفتار

کے قائل نہیں تھے، بلکہ

وہ مرد مجاہد نظر آتا نہیں مجھ کو
ہو جس کے رگ و پے میں فقط مستی کردار

کے شکوہ کو برمحل سمجھتے ہوئے مستی کردار کے قائل اور طالب تھے، خود بھی شریعت و طریقت کے مجمع البحرین تھے، قول کے ساتھ فعل وعمل کے داعی تھے، اور آپ کی حسن تربیت کا محور بھی یہی تھا کہ یہاں سے لوجہ اللہ خدمت دین کرنے والے گفتار کے ساتھ صاحب کردار علماء ربانی پیدا ہوں۔

اس سلسلہ میں اخلاقی نشوونما کے ساتھ ساتھ معاشی مشکلات سے بچنے کے لئے آپ اساتذہ اور طلبہ کو توکل علی اللہ، قناعت اور سادہ زندگی بسر کرنے کے علاوہ کسی مناسب ہنر سیکھنے کی ترغیب دیا کرتے تھے تاکہ کوئی دین کو محض معاش کا ذریعہ نہ بنائے۔ گو آپ کو پسند تو یہ بات تھی کہ ماسلف متوکل بزرگوں کی طرح ہمارے علماء کرام بھی کسی قسم کا معاوضہ لئے بغیر فی سبیل اللہ امامت، خطابت، تدریس اور تبلیغ کے ذریعے دین کی خدمت سر انجام دیں۔ لیکن معاشرہ اور زندگی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر آپ بلا معاوضہ تدریس و امامت کے لئے کسی کو مجبور یا پابند بنانا بھی پسند نہیں فرماتے تھے۔ بلکہ حدیث ”اعقلھا و توکل علی اللہ“ کے مطابق (جس کا ترجمہ آپ ان الفاظ میں بیان فرماتے تھے کہ ’بر توکل زانوئے اشتر ببند‘) کہ (بھروسہ تو ذات باری تعالیٰ پر رکھیں مگر اونٹ کو باندھیں ضرور) علماء و مبلغین حضرات کے لئے اسباب معاش مثلاً ملازمت، تجارت یا کوئی اور ہنر سیکھنا بھی ضروری سمجھتے تھے، تاکہ عند الضرورت اسی سے کام چلائے اور توکل علی اللہ میں فرق نہ آنے پائے۔ ابتداءً تجرباتی طور پر کراچی کے ایک فقیر کو جو بہت اچھے ازاربند بناتا تھا، آپ نے فرمایا ”طلبہ کو ازاربند بنانا سکھاؤ“، لیکن جب طلبہ نے ازاربند بنانا سیکھے تو تعلیم کی طرف توجہ کم ہونے لگی۔ کئی ایک تو شوقیہ طور پر رات گئے تک ازاربند بنانے لگے، جس کی وجہ سے فوراً اس پر پابندی عائد کردی۔ پھر بھی جلد سازی اور خطاطی کی ترغیب دیا کرتے تھے کہ ان کی علم سے مناسبت بھی ہے، اور باوقار ذریعہ آمدنی بھی۔ پھر بھی واعظ خواہ نعت خوان حضرات کے لئے مقررہ معاوضہ لینا اچھا نہیں سمجھتے تھے۔ معلوم ہونے پر چند نعت خوانوں کو تنبیہ بھی فرمائی۔ البتہ عام جماعت کو علماء کرام کی تعظیم اور مالی خدمت کی بھی ترغیب دیا کرتے تھے تاکہ وہ دلجمعی سے دین کا کام کر سکیں اور ان کو معاشی پریشانی لاحق نہ ہو۔

خوشخطی: حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ خود بھی خوشخط تھے اور دینی مدارس کے طلبہ و علماء کے لئے اس کو ضروری بھی سمجھتے تھے۔ اس سلسلہ میں سرحد، پنجاب اور بلوچستان کے لوگوں کی تعریف فرماتے تھے کہ وہ طلبہ کو خطاطی کی خاص مشق کراتے ہیں۔ جتنے ان کے خطوط آتے ہیں، عموماً ان کا خط اچھا ہوتا ہے۔ جب کہ ہمارے سندھ میں اس طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی، نتیجۃ یہاں پرائمری سے لے کر اعلے تعلیم تک کئی طلبہ کا خط بالکل نکما رہتا ہے۔ مختصر وقت کے لئے آپ نے کاتب محمد صادق اور مولانا مشتاق احمد صاحب کو مدرسہ میں متعین فرمایا تاکہ طلبہ کو خوشخطی سکھا دیں۔ گو تھوڑا عرصہ ہی خوشخطی کی تربیت رہی، مگر محنتی طلبہ کو اس سے کافی فائدہ حاصل ہوا۔

ورزش: کافی عرصہ تک مدرسہ میں ورزش و تفریح کا کوئی انتظام نہ تھا، مگر بعد میں صحت کی گرتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر خلفاء کرام کے مشورہ سے طلبہ و اساتذہ کو مختصر وقت کے لئے والی بال، بیڈ منٹن وغیرہ کی اجازت دی گئی۔ چونکہ مدرسہ ایک قسم کی تربیت گاہ ہے اور اس میں ہر قسم کی مفید تربیت دی جانی چاہیے۔ چنانچہ گذشتہ زمانوں میں گھوڑا سواری، تیر اندازی وغیرہ کی تربیت کا اہتمام کیا جاتا تھا۔ اس سلسلہ میں آپ نے محترم اورنگزیب خان کو (جو حضور کے مرید اور مورو گورنمنٹ کالج میں طلبہ کو فوجی ٹریننگ دیا کرتے تھے) فرمایا ”ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے مدرسہ سے طلبہ ہرفن مولا ہوکر نکلیں، لہٰذا آپ کسی فرصت کے دن آکر ان کو فوجی تربیت دیا کریں“۔ حسب فرمان وہ آکر اپنے طریقہ کار کے مطابق پی ٹی وغیرہ سکھلاتے تھے۔ حضور بھی اکثر و بیشتر قریب کھڑے ہوکر محظوظ ہوتے تھے، مگر ان کا تبادلہ کچھ ہی عرصہ کے بعد صوبہ سرحد ہوگیا، اور اس طرح یہ سلسلہ منقطع ہوگیا۔

آپ نے کبھی مدرسہ کی شہرت یا محض طلبہ کی تعداد بڑھانے کے لئے کوئی اقدام نہیں کیا، بلکہ جو اقدام بھی کیا بڑی دیانتداری سے یہ دیکھ کر کیا کہ وہ مدرسہ کے مقاصد اور مشائخ طریقت کے مقررہ اصول و ضوابط سے کس قدر ہم آہنگ ہے۔ نیز مدرسہ کی ظاہری زیب زینت اور عمدہ تعمیرات کی طرف بالکل توجہ نہ کی، بلکہ اس کو پسند ہی نہیں کرتے تھے اور برملا فرمایا کرتے تھے کہ دینی مدارس اور خانقاہوں میں جتنی سادگی اور فقیری نمایاں ہوگی اسی قدر برکت و رحمت بھی زیادہ ہوگی۔ ہم چاہتے ہیں کہ مدرسے کے کمرے سیدھے سادے اور کچے ہوں، البتہ موسم کی موافقت سے سردی و گرمی کا پورا لحاظ رکھا جائے۔ سیم اور تھور کی وجہ سے چند فٹ تک دیوار پختہ ہو، مزید دیوار اور چھت کچی ہونی چاہئے، ایسے کمرے موسمی لحاظ سے مناسب رہتے ہیں، سردیوں میں گرم اور گرمیوں میں سرد رہتے ہیں۔ پکی عمارات میں ایک تو یہ فائدے نہ ہوں گے، دوسرا یہ کہ طلبہ میں سادگی و فقیری کی بجائے شوقیہ پن اور آزادی بڑھ جائے گی، تعلیم میں کمزوری ہوگی، اور پہلی سی برکت بھی نہ رہے گی۔

بالخصوص اس بات پر آپ اور بھی کبیدہ خاطر ہوتے تھے کہ دینی مدرسہ، مسافر خانہ یا مسجد کا کام ہو اور فقراء آرام سے گھر بیٹھے رہیں اور مزدور آکر کام کریں۔ مزید فرماتے تھے کہ مزدور اور مستری حضرات کا خرچہ بھی تقریباً اتنا ہی آجاتا ہے، جتنی تعمیری سامان کی قیمت ہوتی ہے۔ نیز فقراء اس ثواب سے محروم رہ جائیں گے جو گھر بیٹھے حاصل کر سکتے ہیں۔

نظر داری: ظاہر ہے کہ آپ عیال دار بھی تھے۔ ذاتی زمین، گھریلو مسائل اور ذمہ داریاں بھی دوسروں سے کچھ کم نہ تھیں۔ ملک گیر تبلیغ کی ذمہ داریاں اس کے علاوہ تھیں۔ پھر بھی مدرسہ کی تعلیم و اخلاقی تربیت سے لے کر کھانے پینے تک تمام امور کی نگرانی خود ہی کیا کرتے تھے۔ کبھی ایسا نہ ہوا کہ مدرسہ کو انتظامیہ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہو۔ کبھی بتا کر اور کبھی اچانک درسگاہ یا قیامگاہ میں تشریف لے جاتے، خود بیٹھ کر درس سنتے، ہر ایک طالب علم کا نام لے کر اساتذہ سے اس کی تعلیم و اخلاق کا پوچھتے۔ اسی طرح طلبہ کو کبھی جماعت میں اور کبھی انفرادی طور پر بلاکر اس کی ذاتی ضروریات یا تعلیم کے متعلق پوچھتے، کوئی شکایت یا کوئی کوتاہی معلوم ہوتی تو اس کا تدارک فرماتے۔ بعض اوقات مسجد شریف میں زیر تعلیم کتابیں لانے کا حکم فرماتے اور مقام درس دیکھتے اور کبھی امتحان کے طور پر کسی مقام سے پوچھ بھی لیتے۔ وقفہ وقفہ سے کسی خاص فن کی کتاب کے تکرار کا حکم فرماتے تھے، باری باری ایک طالب علم کتاب لے کر عبارت پڑھتا، دوسرے طلبا صرف و نحو کے سوالات کرتے اور وہ جوابات دیتا تھا۔ حضور خود بیٹھے سنتے رہتے تھے اور اساتذہ بھی بیٹھے سنتے رہتے۔ آپ مناسبت سے ہمت افزائی بھی کرتے اور ضرورت ہوتی تو تنبیہ اور فہمائش بھی کرتے تھے۔

خورد و نوش کے سلسلے میں بھی آپ طلبہ کی خواہش کو مدنظر رکھتے تھے، مگر اس میں بھی قناعت، سادگی اور ماسلف کا طریقہ نمایاں ہوتا تھا۔ مدرسہ قائم ہونے کے بعد شام کے لنگر میں یہ تبدیلی کی گئی کہ شام کے وقت جو چاول پکتے تھے ان میں پانی پہلے سے کم ڈالا جانے لگا۔ آخری چند سال تو سردیوں کے موسم میں طلبہ کے لئے اکثر ایام روٹی پکائی جاتی تھی۔ جبکہ دیگر مسافروں کے لئے پہلے کی طرح چاول پکتے تھے۔

نیز لنگر کے بارے میں طلبہ کی جائز شکایات بھی غور سے سنتے تھے اور بروقت تدارک فرماتے تھے۔ چند ایک بار سالن غیر مناسب ہونے کی وجہ سے معائنہ کے لئے طلبہ نے حضور کی خدمت میں بھیجا، اور آپ نے بروقت اس کا تدارک اس طرح فرمایا کہ دوبارہ سالن بنوا کر طلبہ کو دیا گیا۔ مورخہ ۷ جمادی الاول ۱۴۰۳ھ طلبہ کی سالن کے بارے میں شکایات پر بعد از مراقبہ فجر طلبہ، لانگری صاحب اور مقامی فقراء سے جو مختصر خطاب فرمایا، اس کے اقتباسات درج ذیل ہیں۔

فرمایا: یہاں آنا، رہنا، دوستی، رفاقت محض دین کے لئے ہے۔ اس لئے طلباء کو بھی چاہئے کہ سالن وغیرہ کی معمولی باتوں پر لانگری صاحب سے زیادہ نہ الجھیں، کچھ صبر بھی اختیار کریں، اپنے گھر میں بھی تو سالن وغیرہ میں کمی بیشی ہوجاتی ہے۔ اسی طرح اتفاقیہ کمی بیشی ہونے پر یہاں جو کچھ بھی ملے اسی پر گزارہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اور لانگری صاحب کو بھی طلبہ کی قدر کرنی چاہئے، جو محض دین کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے والدین، بہن بھائیوں کو چھوڑ کر یہاں آئے ہیں۔ جس طرح ماں باپ کو اولاد کے ناز برداشت کرنا پڑتے ہیں اسی طرح لانگری صاحب بھی ان کی تھوڑی بہت زیادتی برداشت کرلیں، بلکہ چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اس نے ان طلبہ کی خدمت کا موقعہ عطا فرمایا ہے۔ اگر یہ طلبہ نہ آتے تو لانگری صاحب کو اور ہم کو یہ سعادت کیسے حاصل ہوتی۔ ویسے بھی طلبہ کے لئے یہ مشہور ہے کہ انہوں نے مسجد پر اونٹ چڑھایا تھا (اڈیرو لعل ضلع حیدرآباد کی ایک مسجد پر) ان کی یہ عمر ہی ایسی ہے کہ کچھ نہ کچھ کرتے ہی رہتے ہیں۔ جو بڑے ہوتے ہیں وہ بوجھ بھی بھاری اٹھاتے ہیں، اس لئے لانگری صاحب صبر اور شکر کریں۔

ناغہ: اسباق میں ناغہ (کسی دن سبق نہ ہونا) آپ کو از حد ناگوار ہوتا تھا۔ بعض اوقات اچانک پوچھتے کہ کون کون سے اسباق پڑھائے گئے، کوئی سبق رہ تو نہیں گیا؟ چھٹی پر جانے والے طلبہ کو مقرر وقت پر پہنچنے کی تاکید فرماتے تھے، پھر بھی اگر کوئی بلا عذر دیر سے آتا تو خود ہی اس کو تنبیہ فرماتے تھے۔ مزید فیصلہ کرنے کے لئے اساتذہ کو ارشاد فرماتے۔ حضرت قبلہ صاحبزادہ مدظلہ العالی جب کبھی گیارہویں شریف کے لئے درگاہ فقیر پور شریف جاتے تو وہاں کے اساتذہ کو فرماتے تھے کہ ان کو پابندی سے بٹھا کر اسباق پڑھائیں، کوئی سبق رہنے نہ پائے۔ یہی نہیں بلکہ ایک مرتبہ جب محترم حاجی جان محمد صاحب کھونہارو کی دعوت اور جلسہ پر حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کاچھو تشریف لے جارہے تھے، صاحب دعوت حاجی صاحب نے حضرت قبلہ صاحبزادہ صاحب مدظلہ کو ساتھ لے چلنے کی عرض کی، اس پر آپ نے فرمایا ان کو رہنے دیں، جلسہ میں جانے کی وجہ سے ان کی تعلیم میں رخنہ پڑے گا۔ پھر بھی وہ اپنے اصرار پر قائم رہے تو آپ نے فرمایا ”یہ اس صورت میں ہو سکتا ہے کہ ان کے تمام ہم سبق ساتھی اور استاد صاحب بھی ساتھ چلیں تاکہ وہاں بھی تعلیم کا سلسلہ جاری رہے“۔ آخر ایسے ہی ہوا، لیکن جاتے وقت اتفاقاً جیپ راستے میں خراب ہوگئی، جیپ سے اترتے ہی حضور نے استاد محترم علامہ مولانا محمد نواز صاحب کو فرمایا نہ معلوم یہاں کتنی دیر لگے اور مقام جلسہ پر پہنچنے کے بعد وقت ملے یا نہ ملے، اس لئے آپ کسی درخت کے نیچے طلبہ کو بٹھا کر تعلیم شروع کریں۔ حسب فرمان ایک کریر کے درخت کے نیچے بیٹھ کر مولانا صاحب نے اسباق پڑھائے۔ حاجی جان محمد صاحب کے یہاں دو رات جلسہ مقررتھا، دوسرے دن بھی باقاعدگی سے تعلیم جاری رہی۔

مختلف فنون میں مہارت: حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کمال درجہ انسان شناس اور بے انتہا مشفق مربی تھے۔ جس آدمی میں جس قسم کی صلاحیت اور لگن دیکھتے اسی نہج پر اس کی تعلیم و تربیت کا بھی انتظام فرماتے تھے۔ چنانچہ مدرسہ میں داخل ہونے والے طلبہ میں سے کسی میں تدریسی صلاحیت دیکھتے تو اس کو مستقل درس نظامی پڑھنے کا ارشاد فرماتے تھے، بشرطیکہ والدین بھی یہی چاہتے۔ اور اگر ذہن کم ہوتا یا زیادہ عرصہ رہنا نہ چاہتا تو اس کو وقت اور استعداد کی مطابقت سے منتخب آیات قرآنیہ اور احادیث کا ترجمہ اور صرف و نحو، ادب کی چھوٹی سی کتابیں اور تھوڑی بہت تقریر سکھانے کا حکم فرماتے اور اگر طالب علم کو تجوید و قراۃ کا شوق ہوتا اور آواز بھی اچھی ہوتی تو اس کے لئے تجوید و قرآت سیکھنے کا حکم فرماتے تھے۔ اس سلسلے میں مختلف مذہبی اور ادبی فنون میں مہارت حاصل کرنے کے لئے مدرسے کے باصلاحیت ذہین طلبہ کو سندھ و پنجاب کے معیاری مدارس میں پڑھنے کے لئے بھیجا۔

۱۔ مدرسہ امداد العلوم بندیال شریف ضلع سرگودھا۔ منطق کبریٰ کی تعلیم کے لئے مدرسہ جامعہ غفاریہ کے استاد محترم مولانا علامہ رضا محمد صاحب کو استاد العلماء حضرت مولانا عطا محمد صاحب چشتی بندیالوی مدظلہ کی خدمت میں بھیجا۔

۲۔ مدرسہ رکن الاسلام جامعہ مجددیہ حیدرآباد میں۔ تفسیر بیضاوی شریف، منطق و فلسفہ کی کتابیں پڑھنے کے لئے استاد العلماء شیخ الحدیث و التفسیر مناظر اسلام مولانا محمد اشرف سیالوی کی خدمت میں حضرت علامہ مولانا رضا محمد صاحب، مولانا محمد رمضان صاحب، مولانا محمد داؤد صاحب، مولانا محمد نواز صاحب، مولانا محمد بشیر صاحب، مولانا عزیز الرحمٰن صاحب، مولانا غلام حسین صاحب، مولانا غلام حیدر صاحب اور اس عاجز فقیر حبیب الرحمان کو بھیجا۔

واضح رہے کہ مدرسہ رکن الاسلام (اسی طرح کئی دوسرے مدارس) میں بھیجتے وقت حضور کے فرمان سے منتظمین حضرات نے نماز باجماعت، تہجد، مراقبہ، مسواک، عمامہ، مطالعہ اور اسباق کی پابندی، اساتذہ کے احترام اور غیر ضروری گھومنے پھرنے سے پرہیز وغیرہ کے شرائط لکھ کر ان پر تمام طلبہ سے دستخط کروائے تھے۔ اور اس کی ایک کاپی یادداشت کے طور پر دے دی تاکہ بار بار مطالعہ کرکے شرائط پر عمل کرتے رہیں۔ نیز زبانی طور پر نہ معلوم کتنی بار بلاکر حضور نے تعلیم کی اہمیت، اساتذہ کے احترام کے بارے میں سمجھایا اور فرمایا کہ بچہ روتا ہے تو والدین کی شفقت اس پر اور زیادہ ہوتی ہے۔ اسی طرح جس قدر اساتذہ کی خدمت اور ادب کرو گے، شوق سے پڑھو گے، اساتذہ کی شفقت بھی اسی قدر زیادہ ہوگی۔

چونکہ اکثر طلبا غریب تھے اور اپنی طرف سے اساتذہ کی مالی خدمت نہیں کر سکتے تھے، اس لئے اپنی طرف سے آپ نے کئی بار شہد اور کئی دیگر تحفے بھیجے اور نقد پیسے بھی دیئے تاکہ فروٹ وغیرہ لے کر اساتذہ کو پیش کرتے رہیں۔ اس کے علاوہ تعلیم کے لئے جانے والے طلبہ کو خواہ خوشحال بھی ہوتے پھر بھی نقد پیسے اور دیگر ضروریات کی چیزیں دیتے تھے تاکہ شوق سے پڑھتے رہیں۔

۳۔ مدرسہ جامعہ نظامیہ لاہور۔ میں مختلف فنون میں مہارت حاصل کرنے کے لئے مدرسے کے ذہین طالب علم مولانا غلام حسین صاحب کو بھیجا۔

۴۔ دار العلوم کورنگی کراچی۔ میں مختلف فنون کی کتابیں پڑھنے کے لئے مولانا عبدالرحیم صاحب، مولانا حافظ شبیر احمد صاحب، مولانا رشید احمد صاحب، مولانا محمد حسن محراب پوری، مولانا غلام رسول صاحب کو بھیجا۔ مولانا حافظ شبیر احمد صاحب نے دورہ حدیث شریف بھی اسی مدرسہ میں پڑھا۔

۵۔ ۱۳۹۶ھ دارالعلوم ضیاء شمس الاسلام سیال شریف ضلع سرگودھا۔ میں مختلف فنون کی تعلیم کے لئے حضرت شیخ الحدیث و التفسیر مناظر اسلام حضرت علامہ مولانا محمد اشرف صاحب سیالوی کی خدمت میں مولانا محمد سعید صاحب، مولانا عبدالرحیم صاحب رحمۃ اللہ علیہ، مولانا قائم الدین صاحب، مولانا قاری خادم حسین اور اس عاجز فقیر حبیب الرحمان کو بھیجا۔

۶۔ دار العلوم نعیمیہ کراچی۔ میں مختلف فنون کی تعلیم کے لئے مولانا عبدالغفور صاحب، مولانا ارشاد اللہ صاحب کو بھیجا۔

۷۔ قمر الاسلام سلیمانیہ پنجاب کالونی کراچی۔ میں مختلف فنون خاص کر شیخ الادب، شیخ جواد مصری کے یہاں علم ادب و لغت عربی حاصل کرنے کے لئے مولانا ارشاد اللہ صاحب، مولانا عبدالغفور صاحب، مولانا قائم الدین صاحب اور مولانا قاری خادم حسین صاحب کو بھیجا۔

۸۔ جامعہ رضویہ فیصل آباد۔ مدرسہ جامعہ غفاریہ سے فارغ تحصیل مولانا عزیز الرحمٰن صاحب نے دورہ حدیث شریف مذکورہ مدرسہ میں پڑھنے کے بعد جب تنظیم المدارس پاکستان کے زیر نگرانی امتحان دیا تو صوبہ پنجاب کی بنیاد پر پہلا نمبر (فرسٹ کلاس فرسٹ ڈویژن) حاصل کیا، جب کہ مرکزی بنیاد پر دوسرا نمبر (فرسٹ کلاس سیکنڈ پوزیشن) حاصل کیا۔

۹۔ المرکز القادریہ کراچی۔ حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے خصوصی فرمان سے حضرت سائیں مولانا رفیق احمد صاحب کی رفاقت میں حضرت قبلہ صاحبزادہ سجن سائیں مدظلہ اور ان کے ساتھیوں مولانا محمد سعید صاحب، مولانا محمد شفیع صاحب، مولانا محمد سلیمان صاحب نے بالائی کتب کے علاوہ دورہ حدیث شریف بھی مذکورہ مدرسہ میں حضرت علامہ مولانا منتخب الحق صاحب کے پاس پڑھا۔ گو مذکورہ مدرسہ میں پاکستانی طلبہ کے علاوہ بیرونی ممالک افریقہ، انڈونیشیا، گھانا، برما اور افغانستان کے بھی کئی طالب علم زیر تعلیم تھے، مگر مدرسہ کے منتظمین اور اساتذہ حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے بھیجے ہوئے طلبہ کے اخلاق، تعلیم، تقوے اور نیکی سے اس قدر متاثر تھے کہ بقول مولانا عبدالرحیم صاحب، دستار بندی کے موقع پر مذکورہ مدرسے کے مہتمم ڈاکٹر علوی صاحب کہنے لگے افسوس کہ آج ہمارے مدرسہ سے بہتر سے بہتر طلبہ رخصت ہو رہے ہیں۔ اس پر شیخ الحدیث مولانا منتخب الحق صاحب نے فرمایا یہ آپ حضرات کی خوش قسمتی ہے کہ مدرسہ کی ابتداء ان ذہین اور با صلاحیت طلبہ سے ہوئی ہے۔ شیخ الحدیث مولانا منتخب الحق صاحب ایک معمر و مسلم مشہور عالم دین ہیں، حضور کے بھیجے ہوئے طلبہ بالخصوص حضرت قبلہ صاحبزادہ مدظلہ سے اس قدر متاثر تھے کہ کراچی میں ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا سینکڑوں طلبہ میرے پاس تعلیم حاصل کرتے رہے، لیکن میں اپنے تقریباً پچاس سالہ تجربہ اور مشاہدہ کی بناء پر یہ کہتے ہوئے فخر و خوشی محسوس کرتا ہوں کہ اتنے عرصہ بعد سہی، مگر میرے پاس ایک طالب علم ایسے بھی پڑھے ہیں جو صحیح معنوں میں صاحب تقوی بزرگ صفت عالم دین ہیں اور وہ حضرت سوہنا سائیں اللہ آباد شریف والوں کے صاحبزادے مولوی محمد طاہر صاحب ہیں۔ واضح رہے کہ بالائی کتب کے سالانہ امتحان میں پہلی پوزیشن (فرسٹ کلاس، فرسٹ پوزیشن) بھی حضرت قبلہ صاحبزادہ صاحب مدظلہ ہی نے حاصل کی۔ دوسرے اور تیسرے سال بھی امتحانات میں عموماً پہلے دو یا تین نمبر حضور کے غلام طلبہ ہی حاصل کرتے رہے۔

۱۰۔ مدرسہ رکن الاسلام جامعہ مجددیہ حیدرآباد میں۔ دورہ حدیث شریف مولانا رحمت اللہ صاحب اور محترم مولانا محمد صالح صاحب نے پڑھا۔

۱۱۔ مدرسہ احسن البرکات حیدرآباد۔ میں مولانا محمد رمضان صاحب، مولانا محمد داؤد صاحب نے دورہ حدیث پڑھا۔ ان دونوں مولوی صاحبان اور مولانا رحمت اللہ صاحب اور مولانا محمد صالح صاحب نے بھی بالائی کتب کی تعلیم اسی مدرسہ میں حاصل کی۔

۱۲۔ جامعہ اویسیہ رضویہ ملتان روڈ بہاولپور۔ ۱۳۹۴ھ میں حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ نے حضرت قبلہ شیخ التفسیر الحاج مولانا فیض احمد اویسی مدظلہ العالی کی خدمت میں دورہ تفسیر کے لئے مولانا غلام حسین صاحب، مولانا محمد سعید صاحب، مولانا نور الحق صاحب، مولانا محمد رفیق صاحب، مولانا غلام سرور صاحب اور اس عاجز حبیب الرحمن کو بھیجا۔ چونکہ مناظر الاسلام شیخ الحدیث حضرت علامہ اویسی صاحب مدظلہ اولیاء اللہ کے سچے پکے خادم ہیں۔ حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے بھیجے ہوئے طلبہ کی نیکی، تقویٰ، تعلیمی محنت اور ان سے حضور قلبی و روحی فداہ کی دینی خدمات اور فیوض و برکات کا سن کر اس قدر متاثر ہوئے کہ جب میرپور خاص میں جلسہ عام میں شرکت کرنے تشریف لائے اور وہاں آپ کو معلوم ہوا کہ پندرہ بیس میل کے فاصلہ پر کمبھار بستی نزد ہنگورنہ میں حضور تشریف فرما ہوئے ہیں، تو جلسہ سے فارغ ہوکر دوست و احباب کی ایک بس بھر کر حضور کی خدمت میں کمبھار بستی تشریف لے گئے۔ حضور کو بھی پس غائبانہ ان کا تعارف تھا، آپ نے بھی احترام اور از حد محبت سے گلے لگایا اور جلسہ میں خطاب کے لئے ارشاد فرمایا۔ اس کے بعد تو استاد موصوف اور بھی زیادہ معتقد بن گئے، اور آج تک فقراء سے اس یادگار ملاقات کا تذکرہ فرماتے رہتے ہیں۔

۱۳۔ جامعہ عربیہ بخشیہ نوڈیرو (لاڑکانہ)۔ بہاولپور میں ہونے والے تفسیری دورہ سے حضور خوش ہوئے اور فرمایا اس قسم کے پروگرام ہم بھی اپنے حلقہ احباب میں رکھیں تاکہ طلبہ اور فقراء صحیح معنوں میں قرآن مجید کا ترجمہ اور تفسیر سیکھ سکیں۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلے حضور کے خلیفہ محترم حاجی محمد عیسیٰ صاحب نے مذکورہ مدرسہ میں دورہ تفسیر القرآن کا اہتمام کیا اور مدرسہ کے مدرس مولانا محمد رمضان صاحب کی معرفت دورہ تفسیر پڑھانے کے لئے شیخ التفسیر حضرت علامہ مولانا سید محمد ہاشم فاضل شمسی (خطیب جامع مسجد و عیدگاہ رانی باغ حیدرآباد) تشریف لائے اور رمضان المبارک ۱۳۹۶ھ میں تفسیر القرآن کا یہ بابرکت دورہ ہوا، جس میں شیخ التفسیر مدظلہ کے معاون مولانا الحاج محمد ادریس صاحب تھے اور صوبہ بھر کے تیس سے زائد علماء کرام اور طلباء اس میں شریک ہوئے جن میں حضور کے مریدین کے علاوہ کئی اور علماء کرام بھی شامل تھے۔

۱۴۔ رکن الاسلام جامعہ مجددیہ حیدرآباد۔ چونکہ حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کو قرآن مجید سے محبت کے پیش نظر اس کے ترجمہ و تفسیر اور قراۃ و تجوید سے بھی خاص انس و الفت تھی، اور خود بھی محترم قاری و حافظ استاذ القراء قاری خان محمد صاحب کے پاس مختصر وقت تجوید و قراۃ سیکھی تھی، مگر فرماتے تھے کہ چونکہ بچپن کے زمانے میں قرآت سیکھنے کا اتفاق نہ ہوسکا، رحمت پور شریف کے زمانے میں قراۃ سیکھنے کی کوشش تو کافی کی مگر عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے کماحقہ تجوید سے فائدہ حاصل نہ ہو سکا، اسی وجہ سے محض سات برس کی معصومانہ عمر میں حضرت قبلہ سجن سائیں مدظلہ کو قراۃ سیکھنے کے لئے شیخ القراء حافظ و حاجی و قاری محمد طفیل نقشبندی کے پاس بھیجا، جن کے ساتھ حضرت سید حاجی عبدالخالق شاہ صاحب، قاری خادم حسین صاحب، مولانا جلال الدین صاحب، مولانا امام علی صاحب اور مولانا یار محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ بھی قرآت سیکھنے گئے۔

قاری صاحب موصوف فن قرآت کے ماہر معمر استاد ہیں۔ چند سال مدینہ منورہ میں بھی تجوید و قراۃ کے استاد رہ چکے ہیں۔ حضرت صاحبزادہ صاحب مدظلہ کی تعلیم کے دوران ایک مرتبہ سالانہ جلسہ میں شرکت کرنے درگاہ فقیر پور شریف بھی تشریف لائے تھے۔ صبح کی مجلس میں جب تلاوت فرمائی تو تمام جماعت پر گریہ کی حالت طاری تھی۔ استاد محترم مولانا الحاج کریم بخش صاحب نے تو یہاں تک تاثر کا اظہار فرمایا کہ ان کی تلاوت کے وقت میں یہ سمجھ رہا تھا گویا کہ ابھی ابھی قرآن مجید کا نزول ہو رہا ہے۔ قاری صاحب موصوف کے ساتھ مدرسہ رکن الاسلام کے مدرس محترم علامہ محمد رفیق صاحب بھی تشریف لائے تھے اور خطاب بھی کیا تھا۔اس کے بعد بھی حضور کی خدمت میں تشریف لاتے رہے۔
واضح ہو کہ مدرسہ رکن الاسلام جامعہ مجددیہ میں مسلسل کئی سال تک حضور کے غلام طلبہ پڑھتے رہے، جن کے اعلیٰ اخلاق اور تعلیمی محنت سے مدرسہ کے اساتذہ اور منتظمین بے حد متاثر تھے۔ یہاں تک کہ مذکورہ مدرسہ کے بانی اور سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کے مشہور بزرگ قبلہ مولانا مفتی محمود الوری صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ایک بار دوسرے طلباء کو حضور کے غلاموں کا طرز عمل اپنانے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا۔

”اللہ تعالیٰ کا لاکھ بار شکر ہے کہ اس نے دور ضلالت میں اپنے فضل و کرم سے ہمیں ذاکر و شاکر اور تہجد گزار طلبہ عطا کئے ہیں“۔

۱۵۔ دار العلوم امجدیہ کراچی اور تجوید القرآن لاہور۔ چونکہ محترم مولانا محمد داؤد صاحب و محترم مولانا قاری خادم حسین صاحب کی آوازیں بھی عمدہ تھیں اور قرآت سیکھنے کا شوق بھی تھا، اس لئے آپ نے قاری مولانا محمد داؤد صاحب کو تجوید و قرآت سیکھنے کے لئے مدرسہ امجدیہ کراچی اور محترم قادی خادم حسین صاحب کو تجوید القرآن لاہور بھیجا۔
واضح رہے کہ اس سے پہلے حضور نے یہ کوشش بھی فرمائی تھی کہ تجوید و قرآۃ سیکھنے کے لئے محترم قاری محمد داؤد صاحب کو جامعہ ازہر مصر بھیجا جائے اور اعلیٰ عربی تعلیم کے لئے مولانا محمد رمضان صاحب کو بھی جامعہ ازہر بھیجا جائے، مگر بعض رکاوٹوں کے پیش نظر آپ کا وہ مدعا پورا نہ ہوسکا اور ان دونوں حضرات کو پاکستان کے معیاری مدارس میں قرآۃ سیکھنے کے لئے بھیجا۔

جدید علوم

۱۶۔ المرکز الاسلامی، ”اسلامک سینٹر“ نارتھ نارظم آباد کراچی۔ میں عربی، انگریزی تعلیم اور تبلیغی تربیت کے لئے مولانا انوار المصطفیٰ صاحب، مولانا محمد حسن صاحب، مولانا غلام محمد شر صاحب، مولانا نور علی نوری صاحب، مولانا محمد صادق بلوچ صاحب، مولانا محمد صادق نوید صاحب اور شیخ محمد اقبال صاحب کو بھیجا۔ آپ کو پاکستان کا یہ معیاری تعلیمی ادارہ اس لحاظ سے اور بھی زیادہ پسند تھا، کہ اس ادارہ کا قیام ہی اسلامی تبلیغ و اشاعت کی بنیاد پر ہوا تھا اور اس مقصد کے لئے اس ادارہ سے استفادہ کے لئے دنیا بھر کے ممالک سے طلباء آتے ہیں، اور یہاں تعلیم بھی صرف عربی یا انگریزی زبان میں ہوتی ہے جس وجہ سے پاکستانی طلبہ کے اندر بھی مختصر وقت میں انگریزی بولنے کی استعداد پیدا ہو جاتی ہے۔ چونکہ حضور کا تبلیغی پروگرام عالمگیر نوعیت کا تھا، اس کے لئے دیگر ممالک کی زبانوں میں مہارت کی ضرورت تھی اسی لئے آپ وقتاً فوقتاً مذکورہ مرکز میں طلبہ بھیجتے رہے۔ جن کی نیکی اور محنت کو دیکھ کر مرکز کے مدرسین بھی متاثر ہوئے اور پاکستانی خواہ بیرونی ممالک کے طلبہ بھی قریب ہونے لگے۔ پانچ سالہ کورس پڑھنے کے دوران اکثر امتحانات میں مولانا انوار المصطفیٰ صاحب نے خصوصی پوزیشن حاصل کی۔ اساتذہ اور منتظمین اس قدر متاثر ہوئے کہ مولانا انوار المصطفیٰ صاحب اور مولانا غلام محمد صاحب دونوں کو بطور مدرس مقرر کیا۔ دوران تعلیم جب بھی دربار عالیہ پر حاضر ہوئے عموماً کوئی نہ کوئی بیرونی ممالک کا ساتھی شامل ہوتا تھا۔ ساؤتھ امریکہ، گھانا، جنوبی افریقہ، آسٹریلیا، سوڈان اور افغانستان کے کئے مولوی صاحبان ان کی معرفت دربار عالیہ پر حاضر ہوئے، جن کی وجہ سے حضور درس و وعظ کا خصوصی اہتمام فرماتے تھے اور مولانا انوار المصطفیٰ صاحب یا کوئی اور ترجمانی کے فرائض انجام دیتا تھا۔ یادگار کے طور پر اس عاجز نے اس وقت کا ایک درس ٹیپ ریکارڈر میں محفوظ کر لیا تھا۔

دینی مدارس

حضور کے ذاتی اخراجات یا خلفاء کرام اور فقیروں کی کوششوں سے ویسے تو ناظرہ قرآن کریم کی تعلیم سمیت مجموعی طور پر سینکڑوں مدارس جاری ہوئے، متحدہ عرب امارات میں بھی اس قسم کے ایک دو مدرسے قائم ہوئے۔ یہاں اختصار سے صرف ان مدارس کے نام اور پتے درج کئے جاتے ہیں جہاں درس نظامی کی تعلیم دی جاتی رہی اور حضرت سوہنا سائیں قدس سرہ کے زمانہ میں قائم ہوئے، جبکہ بعد میں کافی اور مدارس بھی قائم ہوئے۔

۱۔ مدرسہ جامعہ عربیہ غفاریہ درگاہ اللہ آباد شریف کنڈیارو۔ فی الوقت مرکزی حیثیت اسی مدرسہ کو حاصل ہے۔ دیگر مدارس کے طلبہ بالائی کتب اور دورہ حدیث کے لئے یہاں داخل ہوتے ہیں۔ یہاں دورہ حدیث سمیت ایک سو کے لگ بھگ طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ یہ مدرسہ حضرت صاحب مدظلہ کے براہ راست زیر نگرانی چلتا ہے جس کے جملہ اخراجات بھی حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی طرح حضرت صاحبزادہ صاحب مدظلہ برداشت کرتے ہیں۔ مدرسہ کے لئے نہ تو سوال و چندہ کیا جاتا ہے نہ ہی گورنمنٹ سے کوئی امداد لی جاتی ہے۔

۲۔ مدرسہ جامعہ غفاریہ درگاہ فقیر پور شریف نزد اسٹیشن رادھن (ضلع دادو)۔ اس مدرسہ کے جملہ اخراجات بھی حضرت صاحب مدظلہ ہی برداشت کرتے ہیں۔

۳۔ جامعہ عربیہ طاہریہ درگاہ طاہر آباد شریف متصل جارکی تحصیل ٹنڈو الہیار ضلع حیدرآباد۔ اس مدرسہ کے مہتمم بھی حضرت صاحب مدظلہ ہی ہیں۔

۴۔ جامعہ محمدیہ شاہ پور جہانیاں تحصیل مورو (مہتمم خلیفہ مولانا حاجی محمد ادریس صاحب۔)

۵۔ جامعہ بخشیہ نوڈیرو ضلع لاڑکانہ (مہتمم خلیفہ حاجی محمد عیسیٰ صاحب)

۶۔ کنز العلوم بخشیہ نزد بس اسٹینڈ دادو (مہتمم مولانا مولوی محمد نواز صاحب)

۷۔ دارلفیوض مہاجر کیمپ (مہتمم حضرت صاحب قبلہ مدظلہ)

۸۔ نور الاسلام بخشیہ مجددیہ نارتھ ناظم آباد کراچی (مہتمم خلیفہ قاری شاہ محمد صاحب)

۹۔ مدرسہ تعلیم الاسلام اوتھل بلوچستان (مہتمم صوفی عبدالعزیز چنہ)

۱۰۔ مدرسہ روح الاسلام جامع مسجد عثمانی موسیٰ گوٹھ کراچی (مہتمم خلیفہ مولانا عبدالغفور صاحب)

۱۱۔ روح القرآن لوہار مسجد ہالا ضلع حیدر آباد (مہتمم خلیفہ حاجی عبدالحکیم صاحب)

۱۲۔ دار العلوم نورانی بخشی شاہ نورانی روڈ بلوچستان (مہتمم مولانا ولی محمد صاحب)

۱۳۔ مدرسہ بخشیہ طاہریہ، صوبھو دیرو ضلع خیرپور میرس (مہتمم خلیفہ حاجی محمد صالح صاحب)

۱۴۔ مدرسہ امانیہ گوٹھ مولوی عبداللہ صاحب (مہتمم مولانا حاجی محمد ھاشم مری صاحب)