فہرست
سیرت ولی کامل (حصہ اول)

آپ کا محبوب مشغلہ تبلیغ اسلام

 

تبلیغ اسلام کی اس سے بڑھ کر اور کیا اہمیت ہو سکتی ہے کہ قرآن مجید میں امر بالمعروف (نیکی کرنے کا حکم) اور نہی عن المنکر (برائی سے روکنے) کو ہی امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والتسلیم کی وجہ افضلیت قرار دیا گیا ہے۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے ”بلغوا عنی ولو اٰیۃ“ (میری طرف سے پہنچاؤ خواہ ایک آیت ہی کیوں نہ ہو) فرما کر تبلیغ کی اہمیت کو اور بھی واضح کر دیا کہ تبلیغ کے لئے عالم فاضل ہونا شرط نہیں۔ بلکہ جس قدر بھی اسلامی معلومات حاصل ہوں، دوسروں تک پہنچانا ہر ایک مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ بفضلہ تعالیٰ عالم و عامل سیدی و مرشدی حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ نے تبلیغ کی اہمیت و ضرورت کو اسی انداز سے سمجھا اور اس ذمہ داری سے نہ فقط خود سبکدوش ہوئے بلکہ اپنے لاکھوں متعلقین کو بھی اسی راہ حق پر گامزن کرکے دین اسلام کی تبلیغ کی طرف متوجہ کیا کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ ایک دو نہیں ہزاروں ایسے مبلغ تیار کئے جو باقاعدہ عالم فاضل تو نہیں لیکن انہوں نے حضرت صاحب نور اللہ مرقدہ کے حکم سے ضروریات دین کی تعلیم حاصل کی اور اپنی زندگیاں دین اسلام کی خدمت و اشاعت کے لئے وقف کر دیں۔

حقیقت یہ ہے کہ جن حضرات کو آپ کی صحبت با برکت میں بیٹھنے کی سعادت حاصل رہی ہے وہ بخوبی جانتے ہیں کہ آپ کا محبوب مشغلہ تبلیغ دین اور اشاعت اسلام ہی تھا۔ سفر ہو یا حضر، صحت ہو یا علالت ہر حال میں امت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کی اصلاح و فلاح کا فکر دامنگیر رہتا تھا۔

میری زندگی کا مقصد تیرے دیں کی سرفرازی
میں اسی لئے مسلماں میں اسی لئے نمازی

اس دعوتی کام کی راہ میں کوئی بھی عذر و مجبوری کبھی حائل نہ ہو سکی، مدۃ العمر تبلیغی سفر جاری رکھے۔ آخری چند برسوں میں جسمانی صحت اس قدر گر چکی تھی کہ سفر تو بجائے خود ڈاکٹروں نے آپ کو گھر بیٹھے بھی زیادہ بات چیت کرنے سے منع کر دیا تھا، لیکن جس کی روح کی غذا ہی دین اسلام کی اشاعت و سرفرازی ہو وہ جسمانی عوارض سے دعوتی کام سے کیسے رک سکتا ہے۔ آپ ایک ایک فرد سے وعظ و تبلیغ میں گھنٹوں مصروف رہتے تھے۔ اپنی حیات ظاہری کی آخری نماز عصر کے بعد بھی کافی دیر تک تبلیغی خطوط سنتے رہے۔ بعد ازاں بدین سے آئے ہوئے ایک مرد اور عورت کو ذکر کا طریقہ سمجھایا اور اذان مغرب تک وعظ و نصیحت فرماتے رہے۔ آپ کے بے لوث تبلیغی اصلاحی مشن کی صدائے بازگشت بھی تاریخ اسلام کے اوائلی دور کی نشاندہی کرتی ہے۔

کیا نظر تھی جس نے مردوں کو مسیحا کر دیا

بلاشبہ آپ کی زندگی ارشاد رسول صلّی اللہ علیہ وسلم ”ما انا علیہ واصحابی“ (جس راہ پر میں صلّی اللہ علیہ وسلم اور میرے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم ہیں) کی عملی تصویر تھی۔ یوں آپ کے تبلیغی کام کی ابتدا تو طالب علمی کے زمانہ سے گھر اور پڑوس کی سطح سے شروع ہوتی ہے۔ لیکن حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کی اجازت و خلافت کے بعد باقاعدگی اور تسلسل سے زندگی تبلیغ اور اشاعت اسلام کے لئے وقف کر دی، سندھ کے اکثر اضلاع میں بالخصوص دیہی علاقوں میں بڑی جانفشانی سے تبلیغ کی۔ نواب شاہ، لاڑکانہ، دادو کے اضلاع میں تھوڑے ہی عرصہ میں کچھ ایسے افراد بھی تیار ہوگئے، جنہوں نے تبلیغی کام میں آپ کا ہر طرح کا ساتھ دیا۔ آپ اکثر ان اضلاع میں تبلیغ کے لئے جاتے رہے، یہاں تک کہ ۱۳۸۶ھ میں مسند ارشاد پر جلوہ افروز ہونے کے بعد آپ کی تبلیغ کا دائرہ سندھ کے علاوہ پنجاب، بلوچستان، سرحد، بلکہ بیرون پاکستان تک پھیل گیا۔ اور آپ باری باری تمام صوبوں میں تبلیغی دورے فرماتے رہے۔ اور مختلف مقامات پر علاقائی سطح کے سینکڑوں مراکز بھی قائم فرمائے، تاہم مرکزی ادارہ کی حیثیت ضلع نوشہرو فیروز کے مرکز درگاہ اللہ آباد شریف اور ضلع دادو کے مرکز درگاہ فقیر پور شریف کو حاصل رہی۔ سالانہ جلسے ان ہی دو مقامات پر ہوتے رہے جہاں پاکستان کے علاوہ بڑی تعداد میں بیرونی ممالک سے بھی مریدین تشریف فرما ہوتے رہے ہیں۔

اگرچہ آپ کی زندگی کا بیشتر حصہ تبلیغی سفروں میں گزرا ہے، لیکن ان مختصر اوراق میں نہایت اختصار سے مشت از نمونہ خروار صرف چند ایک تبلیغی دوروں کی رپورٹ پیش کی جاتی ہے۔

تبلیغ کا حرص اور سادگی

محترم مولانا محمد نواز صاحب نے بتایا کہ دادو شہر سے سات میل کے فاصلہ پر ہماری بستی فقیر محمد صالح بروہی کے نام سے مشہور ہے، وہاں جانے کے لئے اب بھی کچی سڑک ہی اصل راستہ ہے، مگر پہلے تو یہ سڑک بہت زیادہ خسۃ حال تھی، جگہ جگہ جھاڑیوں سے گزرنا پڑتا تھا۔ حضور اس دور میں بھی اونٹ پر اور کبھی گھوڑے پر سوار ہوکر تبلیغ کے لئے ہمارے یہاں تشریف لاتے تھے۔

ایک بار دیگر فقراء کے ہمراہ میں بھی آپ کے ساتھ تھا، آپ گھوڑے پر سوار تھے، جب ایک جھاڑی کے قریب پہنچے جہاں کئی چرواہے مال مویشی چرا رہے تھے۔ جن میں سے ہمارے ایک پڑوسی لڑکے نے آپ کو پہچان لیا، اور سلام کرنے کے لئے قریب آیا۔ عام طور پر ایسے غریب اور سادہ لوح چرواہوں سے کوئی پوچھتا ہی نہیں۔ خاص کر چلتے راہ جبکہ کئی مرید و خادم بھی ساتھ ہوں اور موسم بھی گرمی کا ہو۔ آپ نے بڑی فراخدلی سے ہاتھ بڑھا کر مصافحہ کیا، خیریت دریافت فرمائی اور وہیں گھوڑے سے نیچے اترے اور زمین پر بیٹھ ہی رہے تھے۔ مگر ہم نے جلدی سے کپڑا بچھا لیا، جس پر آپ بیٹھ گئے۔ اس گنوار لڑکے کو ذکر بتایا، ذکر کرنے کا طریقہ سمجھایا، والدین کے ادب، نماز اور دیگر احکام شرعیہ کے متعلق کافی دیر تک سمجھانے کے بعد آگے روانہ ہوئے۔

کاچھو کا تبلیغی دورہ: محترم مولانا امام علی صاحب نے بتایا کہ کاچھے (دریائی آبادی سے دور پہاڑوں کے قریب واقع بارانی علاقہ کو سندھی میں کاچھو کہتے ہیں) کے علاقہ میں چونکہ زراعت کا دارو مدار بارش کے پانی پر ہوتا ہے، عموماً وہاں کے باسی اندرون سندھ آکر محنت مزدوری کرتے ہیں اور جب بارش ہوتی ہے تو درمیانی پورا علاقہ سیلاب کی زد میں آجاتا ہے اور آمدورفت کے تمام راستے مسدود ہو جاتے ہیں۔ اس کے باوجود لوگ جوق در جوق کشتیوں کے ذریعے وہاں پہنچ کر اپنی زمین خود ہی کاشت کرتے ہیں۔

اسی طرح ۱۹۷۶ء میں سخت قسم کا سیلاب آیا تھا اور ان ہی دنوں درگاہ فقیر پور شریف میں حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کا عرس شریف ہوا۔ کھیتی باڑی کی مصروفیات اور آمدورفت کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے چند فقراء کے علاوہ ہمارے علاقہ کے تمام فقراء غیر حاضر رہے۔ آپ نے محترم خلیفہ مولانا افضل احمد صاحب (جو کہ مذکورہ علاقہ سے آئے ہوئے تھے) سے دریافت فرمایا: کیا وجہ ہے تمہارے علاقہ کے پرانے مخلص فقراء بھی اس بابرکت عرس شریف میں شامل نہ ہوئے؟ مولانا صاحب نے ڈرتے ہوئے مؤدبانہ آمدورفت کی سہولت نہ ہونے کا عذر پیش کیا، جس سے آپ مطمئن نہ ہوئے اور دکھ بھرے لہجہ میں فرمایا:
مولوی صاحب یہ خواہ مخواہ کے عذر ہیں، جو اپنے پیر و مرشد کے عرس میں آکر شامل نہیں ہوتا وہ سچا غفاری نہیں ہے۔

خلیفہ صاحب موصوف حضور کے عتاب سے بڑے شرمسار اور پریشان ہوئے اور دل ہی دل میں حضور کی خوشنودی رضاجوئی کے طریقے سوچتے رہے، حضور کے مزاج سے تو واقف تھے ہی، آخر ایک تجویز ان کے ذہن میں آئی جو کارگر ثابت ہوئی، وہ یہ کہ حضور کو تبلیغ کے سلسلے میں وہاں لے جایا جائے۔ عرض کی یا حضرت! ہمارا علاقہ پسماندہ ہے، مقامی لوگ عموماً سندھ کے دوسرے علاقوں میں رہتے ہیں، مگر بارش کی وجہ سے اب سارے وہاں آکر اکٹھے ہوئے ہیں، اگر حضور مہربانی فرما کر وہاں تشریف لے چلیں تو تبلیغی کام بڑا اچھا ہوگا۔ پرانے فقراء کے علاوہ اور بھی کافی لوگ مستفیض ہوں گے وغیرہ۔ جن لوگوں کو آپ کی صحبت بابرکت میسر ہے وہ بخوبی جانتے ہیں کہ دین اسلام کی تبلیغ و اشاعت سے بڑھ کر آپ کو دنیا میں کوئی چیز پیاری نہ تھی۔ اس لئے خلیفہ صاحب کی مذکورہ گذارش سے نہ فقط آپ کا غصہ فرو ہوا بلکہ الحب للہ والبغض للہ (دوستی بھی اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے اور غصہ بھی اسی کے لئے) کے مطابق آپ کا نورانی چہرہ خوشی سے مہک اٹھا اور فرمایا:

”ضرور چلیں گے انشاء اللہ تعالیٰ، دوستوں سے مل کر پروگرام طے کرو۔“ غرضیکہ پروگرام بنایا گیا، حضور تشریف لے گئے، بارش کی وجہ سے جگہ جگہ راستے خراب تھے، بچاؤ بند سے لے کر میلوں تک سیلاب کا پانی پھیلا ہوا تھا۔ وہاں پہنچ کر حضور بھی فقراء کے ساتھ کشتی پر سوار ہوئے۔

عجیب روح پرور منظر تھا، اعلائے کلمۃ الحق کے لئے امت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کا ایک عالم ربانی و ولی اللہ عاشقان رسول کا ایک مختصر سا قافلہ لے کر فی سبیل اللہ ایک ساتھ بحروبر کے تبلیغی دورے پر جارہا تھا، جس سے صحابی رسول حضرت علاء الخصرمی اور ان کے ساتھیوں (رضی اللہ عنہم) کے بحری سفر کی یاد تازہ ہو رہی تھی۔ ذکر خدا اور عشق رسول صلّی اللہ علیہ وسلم کی باتیں کرتے ہوئے تقریباً پانچ چھ میل کا فاصلہ طے کرنے کے بعد فقیر علی مراد کی بستی پہنچے۔ اس تبلیغی دورے کا پہلا پروگرام اس بستی میں رکھا گیا تھا۔ یہ بستی کیا تھی سر اور لکڑیوں سے بنی ہوئی چند جھونپڑیاں تھیں اور بس۔ حضور کے لئے ایک چھوٹا سا شامیانہ کہیں سے لے آئے تھے، بظاہر صورت حال ایسی تھی کہ چالیس پچاس افراد کا اس جگہ آکر شامل جلسہ ہونا بھی غنیمت تھا، مگر نہ معلوم کہاں کہاں سے جوق در جوق پیدل اور سواریوں پر آنے والوں کا تانتا بندھ گیا، شام گئے تک سینکڑوں افراد کا عظیم الشان مجمع ہوگیا۔ آپ کے ساتھ خلفاء کرام و علماء کرام بھی تشریف لائے تھے، انہوں نے بھی وعظ نصیحتیں کیں، جب حضور وعظ فرمانے اسپیکر پر تشریف لائے تو اللہ اللہ کی صدا بہار صداؤں سے فضاء گونج اٹھی، جیسا کہ فقراء کا معمول ہے کہ حضور کو دیکھتے ہی ذکر الٰہی میں محو ہو جاتے ہیں اور یہی ولی کامل کی نشانی ہے کہ ”الذین اذا رؤا ذکراللہ“ (حدیث) ترجمہ: جب ان کو دیکھا جائے تو اللہ تعالیٰ کی یاد آجائے۔

آپ نے دوران خطاب ارشاد فرمایا: آپ سیلاب کی وجہ سے دربار پر نہیں آئے تھے، یہ کوئی عذر نہیں تھا بلکہ نفس و شیطان کا دھوکہ تھا، ہمارا کشتیوں کے ذریعے یہاں آجانا اس کا ثبوت ہے کہ تمہارا یہ عذر غیر معقول تھا۔ کیا تم لوگوں نے سیلاب کی وجہ سے لاڑکانہ اور دیگر شہروں میں آنا جانا چھوڑ دیا ہے؟ اگر دنیاوی کاموں کے لئے اور کہیں جا سکتے تھے تو نیکی اور دین کے حصول کی خاطر دربار میں آنا چاہیے تھا وغیرہ۔

سفید سانپ یا جن: مولانا امام علی صاحب نے بتایا کہ مغرب اور عشاء کا درمیانی وقت تھا، میں حضور کے خیمے سے کسی کام کے لئے باہر نکلا تھا، اچانک سفید رنگ کا ایک سانپ حضور کے خیمے کی طرف آتے ہوئے نظر آیا۔ قریب ہی محترم مولانا حکیم محمد عظیم صاحب رہڑو شریف والے کھڑے تھے، میں نے ان کو لاٹھی لے آنے کا کہا اور واپس خیمے میں داخل ہوا، جہاں حضور اکیلے تشریف فرما تھے، اتنے میں سانپ بھی خیمے میں داخل ہوا اور نہ معلوم کس طرح آنکھوں سے اوجھل ہوگیا، حضور نے مجھے فرمایا، یہ سانپ نہیں تھا کوئی اور چیز تھی۔ مزید وضاحت فرمائی، اور نہ مجھ میں اتنی ہمت کہ پوچھ لیتا کہ حضور کیا چیز تھی۔ میں نے تو یہی سمجھا کہ یہ کوئی صالح جن تھا جو حضور کی زیارت کے لئے آیا تھا، مگر حضور اس کا اظہار فرمانا نہیں چاہتے۔

واضح ہو کہ حدیث شریف میں جنوں کا سانپ کی شکل میں رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونا ثابت ہے۔ (مدارج النبوۃ صہ ۴۳۱ جلد دوم)

اسی طرح صالح جنوں کا امۃ محمدیہ علے صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کے اولیاء کاملین کی خدمت میں آنا سینکڑوں واقعات و مشاہدات سے ثابت ہے۔

غیبی دیرو کا پروگرام: دوسرے دن چانڈیو قوم کے سردار اور رکن قومی اسمبلی نواب سلطان احمد خان چانڈیو کے گاؤں غیبی دیرو میں جانے کا پروگرام تھا۔ صبح کو نواب مذکور کا فرزند محترم محمد خان حضور کو لے جانے کے لئے جیپ لے کر حاضر ہوا، فقیر نوکر الدین کا گھر غیبی دیرو کے راستے میں واقع ہے۔ فقیر نوکر الدین ایک انتہائی مسکین، ان پڑھ اور ٹھیٹھ دیہاتی آدمی ہے، مگر مخلص، صاف گو، بے طمع اور کمال درجہ کا مخلص انسان ہے۔ ہر وقت تبلیغ کرتا رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کی سیدھی سادی زبان میں اتنی تاثیر رکھی ہے کہ اس کے وعظ سے اچھے بھلے پڑھے لکھے لوگ بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے۔ اس نے اس موقع کو غنیمت سمجھ کر تھوڑی دیر کے لئے اپنے خسخانہ پر رکنے کے لئے عرض کی، حضور نے بخوشی اس کی دعوت قبول فرمائی، حضور کی ویسے بھی یہ عادت مبارکہ تھی کہ امیر کی بہ نسبت مخلص غریبوں سے زیادہ محبت رکھتے تھے اور ہر موقعہ پر ان کی دلجوئی فرماتے تھے۔ فقیر کی خواہش کے مطابق کوئی آدھ گھنٹہ اس کے یہاں ٹھہرے، اس دوران وہ کئی نئے آدمیوں کو لے آیا، جن کو حضور نے نصیحت فرمائی، ذکر کی تلقین کی۔ غیبی دیرو اچھی خاصی بڑی بستی ہے، جہاں کے لوگ کافی تعداد میں حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے زمانے سے جماعت میں داخل ہیں۔ غیبی دیرو کے فقراء نے آپ کا والہانہ استقبال کیا، بڑی تعداد میں لوگ جلسے میں شامل ہوئے اور آخر تک بڑی محبت سے علماء کرام اور حضرت صاحب نور اللہ مرقدہ کے مواعظ حسنہ سے مستفیض ہوتے رہے۔ بڑی تعداد میں لوگوں نے قلبی ذکر کا وظیفہ بھی سیکھا۔

کرامت: اس سال سرسوں کی فصل میں کیڑے کی بیماری پریشانی کی حد تک پھیلی ہوئی تھی۔ کچھ آدمی دعا کے لئے حضور کی خدمت میں پہنچے، آپ نے ریت لانے کا حکم فرمایا۔ کاشتکار بڑی مقدار میں ریت کی گٹھڑیاں باندھ کر لائے جن پر آپ نے دم کیا، اور فصل پر چھڑکنے کا حکم فرمایا اور ساتھ ہی بارگاہ الٰہی میں اس آفت سے محفوظ رہنے کی دعا بھی فرمائی۔ بفضلہ تعالیٰ جن لوگوں نے بھی آپ سے ریت دم کروا کر اپنی فصلوں پر ڈالی ان کی فصلوں میں کیڑے کا نام و نشان تک نہ رہا اور ان کی فصلیں سو فیصد محفوظ و سلامت رہیں، آج بھی جاگیر کے سینکڑوں باشندے آپ کی اس کرامت کے ظہور کے گواہ موجود ہیں۔
واضح ہو کہ صوبہ سندھ میں چانڈیو قبیلہ بڑا سرکش اور طاقتور قبیلہ ہے مگر حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی مخلصانہ محنت اور تبلیغی جدوجہد سے غیبی دیرو، اس کے قرب و جوار اور دوسرے اضلاع کے ہزاروں چانڈیو قبیلہ کے افراد خائف خدا، متقی و پرہیزگار بن گئے ہیں، آج ان میں سے کئی مستند عالم دین اور مبلغ اسلام بھی ہیں۔

(حضرت مولانا فقیر امام علی چانڈیو)

جاگیر کا تبلیغی دورہ: ۱۹۶۵ء میں حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے وصال کے بعد آپ نے ملک گیر سطح پر جماعت کا جو اجمالی دورہ فرمایا تھا، اس دورے میں آپ چند خلفاء کرام کے ہمراہ بڈھانی جاگیر (کاچھو کی ایک بستی) میں بھی تشریف لے گئے تھے۔ بڈھانی بستی میں کچھ لوگ فقراء کے سخت مخالف تھے، مگر آپ کے تنقید و مخالفت، اتار چڑھاؤ سے پاک محض امرونہی پر مشتمل فکر انگیز خطاب، باطنی تصرف اور چند ایک عجیب کرامات کے ظہور سے لوگوں کے قلوب از خود آپ کی طرف اس طرح جھکے کہ بیگانے بھی اپنے معلوم ہونے لگے۔ پوری بستی میں شاید ہی کوئی ہو جو بیعت ہونے سے رہ گیا ہو۔ الحمد للہ آج بھی وہاں آپ کے مریدین کی بڑی تعداد موجود ہے۔

کرامت: عشاء کی نماز سے پہلے ہی وعظ و نصیحت اور حمد و نعت کا سلسلہ شروع ہوا، کئی فقراء بے اختیار جذب و وجد کی حالت میں مرغ بسمل کی طرح تڑپ رہے تھے، کوئی بے ساخۃ بھاگ رہا تھا، کوئی کہیں گر رہا تھا، اللہ اللہ کے پرسوز نعرے فضا میں گونج کر محفل کی رونق کو دوبالا کر رہے تھے کہ کسی مجذوب کے گرنے سے مشہور و معروف ڈاکو بنام محمد قادو چانڈیو کی پگڑی گر پڑی، جس سے وہ برہم ہوگیا۔ فقراء نے بڑی نرمی سے سمجھایا کہ یہ مجذوب تھا، غیر اختیاری اور غیر ارادی اس فعل سے اتنا برہم ہونا درست نہیں۔ مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوا، اور عامیانہ بلوچی نظریہ کے مطابق اسے ناقابل معافی بڑا جرم سمجھتے ہوئے رائفل لے کر لڑنے کے لئے تیار ہوگیا۔ دفاعی طور پر فقراء بھی رائفلیں اور بندوقیں لے کر آن پہنچے۔ اتنے میں حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ، نماز عشاء کے لئے تشریف لے آئے۔ جیسے ہی آپ کے چہرۂ انور پر ڈاکو کی نظر پڑی تو اس کی حالت دگرگوں ہوگئی، اور اس کو اتنا سخت جذبہ ہوگیا کہ رائفل ہاتھ سے چھوٹ گئی، پگڑی گر گئی اور دوسرے مجذوبوں کی طرح اللہ اللہ کا ورد کرتے ہوئے ادھر ادھر بھاگتا پھر رہا تھا۔ کیا ہی سہانی رات تھی وہ کہ مشائخ طریقت کے توسل سے فیوض و برکات کا نزول، سکینۃ و طمانیت کی عجیب کیفیت تھی کہ جو شخص بھی حضور کو دیکھتا جذب و مستی میں سرشار ہو جاتا، فقراء کے جذب و مستی کی یہ حالت نماز عشاء کے بعد بھی کافی دیر تک جاری رہی۔

تواضع اور انکساری: جلسہ گاہ سے کچھ فاصلہ پر کھلے میدان میں آپ کے لئے بستر بچھایا گیا تھا، نماز عشاء کے بعد جب آپ وہاں تشریف لے گئے، ایک ہنس مجھ فقیر نے خوش طبعی کرتے ہوئے کہ: ”حضور اوروں کی نیند خراب کرکے خود آرام کرنے تشریف لائے ہیں۔“ آپ نے سن کر انتہائی انکساری سے فرمایا: ”یہ میرا کمال نہیں ہے، یہ میرے پیر و مرشد حضرت رحمت پوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا فیض و کمال ہے کہ ایسے سرکش لوگ بھی ذکر خدا میں محو ہوکر مدہوش ہوگئے ہیں۔“

کاچھو، ضلع دادو کا تبلیغی دورہ

کاچھو ضلع دادو کا بارانی رقبہ بڑا وسیع و زرخیز ہونے کے باوجود دریائی پانی نہ ہونے کی وجہ سے بڑی حد تک پسماندہ، غریب اور ناخواندہ افراد پر مشتمل ہے۔ اس بارانی علاقے میں بھی حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ، بارہا تشریف لے گئے تھے۔ ایک مرتبہ حاجی جان محمد صاحب کھونہارو اور محترم خلیفہ مولانا عبدالسلام صاحب نے ایک ساتھ تبلیغی دورے کے لئے عرض کیا، آپ نے خوشی سے ان کی دعوت منظور فرمائی۔ پہلے حاجی جان محمد صاحب کے ہاں پروگرام رکھا گیا تھا، اس کے بعد حاجی عبدالسلام صاحب کے ہاں جانا تھا۔
چونکہ یہ علاقہ بارانی تھا اور مسلسل کئی سال سے بارش نہ ہونے کی وجہ سے لوگ سخت قحط سالی میں مبتلا تھے، حضور جیسے ہی جان محمد صاحب کی بستی میں پہنچے، ہر طرف سے آنے والوں کا تانتا بندھ گیا۔ کچھ تو محض حضور کی زیارت اور وعظ و نصیحت سننے کے لئے حاضر ہوئے، کئی بیچارے بارش کے لئے دعا کرانے کے لئے آئے تھے، اور یہ بھی ازروئے شریعت و طریقت جائز ہے کہ کسی مشکل کے وقت صالحین سے دعا کرائی جائے۔ خاص کر جب کہ خود رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ”وبھم تمطرون وبھم ترزقون“۔ ترجمہ: ان صالحین کے طفیل تمہارے لئے بارشیں برستی ہیں اور ان کے صدقے تمہیں رزق ملتا ہے۔

بارش اور کرامت: مذکورہ بستی کے مرد صالح فقیر گل شیر صاحب نے بتایا کہ حضور کی موجودگی اور دعا کی برکت سے اتنی بارش ہوئی کہ پورے علاقے کی زمین سیراب ہوگئی۔ یہاں تک کہ پانی کے دباؤ کی وجہ سے میری زمین سمیت کئی آدمیوں کی زمینوں کے بند ٹوٹ گئے اور پانی بہہ کر ضائع ہوگیا۔ حضور کے واپس تشریف لے جانے کے بعد میں اور فقیر در محمد دونوں دعا کرانے کے لئے دربار فقیر پور شریف گئے، صورت حال بیان کرکے دعا کی درخواست کی، حضور نے بارگاہ الٰہی میں ہاتھ اٹھا کر دعا فرمائی۔

گوٹھ پہنچ کر میں نے اپنی زمین کا بند مضبوط ہی کیا تھا کہ پہاڑوں پر بارش برسی ہوئی تھی جس کا پانی ندی کے ذریعے اتر آیا اور میری زمین سیراب ہوگئی، جب کہ فقیر در محمد نے پہلے ہی بند مضبوط کرلیا تھا، ابھی وہ واپس گھر پہنچا ہی تھا کہ اس کی زمین بھی پانی سے بھر گئی، خدانخواستہ اگر ہمارے علاقے میں بارش برستی تو جن کی زمینیں پہلے سیراب ہوچکی تھیں انکا نقصان ہوتا، مگر اللہ تعالیٰ کا فضل ان کے بھی شامل حال رہا، اور ہماری زمینیں بھی بھر گئیں اور اچھی خاصی پیداوار ہوئی، اور دوسروں کی بھی بہتر پیداوار ہوئی۔

تبلیغ کا شوق اور وعدہ وفائی

حاجی جان محمد صاحب کی بستی میں دو رات کا پروگرام تھا۔ اس کے بعد محترم خلیفہ حاجی عبدالسلام صاحب کے ہاں دعوت تھی۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا، سخت بارش برسی، بڑے بڑے بند سیلاب کا منظر بنے ہوئے تھے۔ آمدورفت کے راستے پانی کی زد میں آچکے تھے۔ مولانا مفتی عبدالرحمان صاحب نے حضور سے عرض کی کہ خلیفہ مولوی عبدالسلام صاحب کی بستی چونکہ کافی فاصلہ پر دور ہے، سخت بارش کی وجہ سے راستے خراب ہوچکے ہیں اور گاڑی بھی نہیں چل سکتی، اس لئے اگر حضور اجازت دیں تو ہم حاجی صاحب کا پروگرام فی الحال ملتوی کردیں، موسم خوشگوار ہونے کے بعد ان کے ہاں پروگرام رکھیں گے۔ حضور نے سنتے ہی فرمایا: مولوی صاحب! ہم نے ان سے وعدہ کرلیا ہے، دین کی تبلیغ کا کام ہے، یہ ٹھیک نہیں ہے کہ لوگ ہماری وجہ سے جمع ہوں اور ہم یہاں سے ہی جلسہ ملتوی کرکے واپس چلے جائیں، اس لئے کچھ بھی ہو ہمیں پروگرام کے مطابق ضرور چلنا چاہیے۔ چنانچہ سواری کے لئے اونٹ لائے گئے، خلفاء و فقراء سمیت حضور حاجی صاحب موصوف کی بستی گئے، جہاں سخت بارش کے باوجود لوگ ہر طرف سے جوق در جوق اونٹوں اور گھوڑوں پر سوار اور پیدل آرہے تھے۔ جلسہ شروع ہونے تک سینکڑوں لوگ آچکے تھے، لوگوں کے خلوص و محبت اور مثالی تبلیغی کام سے حضور بہت خوش ہوئے۔ (حاجی عبدالسلام صاحب)

کراچی کا تبلیغی دورہ

کراچی شہر اور گرد و نواح میں حضور کے خلفاء کرام اور علماء حضرات بڑی تعداد میں قیام پذیر ہیں اور تبلیغ و اشاعت اسلام کے لئے اس قدر کوشاں ہیں کہ علاقائی سطح پر روزانہ ایک سے چھ یا سات جلسے منعقد ہوتے ہیں۔ جابجا صبح و شام ذکر کا حلقہ ہوتا ہے۔ آپ کے حکم سے ہر اسلامی ماہ کے پہلے جمعہ کو مرکز روحانی مہاجر کیمپ ساڑھے چار نمبر میں پابندی سے جلسہ عام ہوتا ہے، جس میں شہر بھر سے لوگ شامل ہوتے ہیں۔ کراچی کے مبلغ حضرات کی دعوت پر ہر سال ایک دو بار حضور کراچی میں تشریف فرما ہوتے تھے۔ یہ عاجز سیہ کار بھی بارہا حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے ہمراہ کراچی گیا تھا اور ہر بار پہلے سے کہیں زیادہ تبلیغی فائدہ نظر آیا۔ ان پروگراموں کی طویل فہرست میں سے مشت از نمونہ خروار شعبان المعظم ۱۳۹۷ھ کے چھ روزہ تبلیغی دورے کا احوال ذکر کیا جاتا ہے۔
مورخہ ۲۰ شعبان المعظم ۱۳۹۷ھ اول وقت میں نماز فجر باجماعت پڑھ کر طاہرآباد شریف سے روانہ ہوکر ٹنڈو اللہ یار سے مہران ایکسپریس کے ذریعے کراچی کے لئے روانہ ہوئے۔ حضور کے ہمراہ صرف تین چار خادم تھے۔ جیسے ہی ٹرین حیدرآباد اسٹیشن پر رکی، تو بڑی تعداد میں فقراء اور روحانی طلبہ جماعت کے نوجوان قدم بوسی کے لئے حاضر ہوئے، جو کہ پروگرام معلوم ہونے پر استقبال اور ملاقات کے لئے پہلے سے اسٹیشن پر انتظار کر رہے تھے، اپنے ساتھ کئی نئے افراد کو بھی لے آئے تھے۔ حضور کو پھولوں کے ہار پہنائے، نئے افراد کی ملاقات کرائی۔ حضور نے وقت کی مطابقت سے مختصر نصیحت بھی فرمائی۔
پروگرام کے مطابق اسٹیشن سے سیدھے کھنڈو گوٹھ کراچی تشریف لے گئے۔ سوموار ۲۱ شعبان کی رات یہیں قیام فرمایا۔ ملاقات کے لئے جوق در جوق فقراء آتے رہے۔ جلسے کا پروگرام دوسرے دن نورانی مسجد صالح محمد گوٹھ ہارون آباد میں تھا۔ ہارون آباد پہنچنے کے بعد جوق در جوق نئے اور پرانے احباب تشریف لاتے رہے، یہاں تک کہ مسجد کھچاکھچ بھر گئی۔ معمول کے مطابق جلسہ عصر سے شروع ہوا، حسب دستور حضور نماز مغرب پڑھ کر قیام گاہ پر تشریف لے گئے۔ قدرت الٰہی، اس قدر سخت بارش شروع ہوئی کہ عشاء کے بعد بھی کافی دیر تک جاری رہی، جس کی وجہ سے سامعین از خود مسجد میں بیٹھے رہے۔ انتظامیہ نے موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تقریر کے لئے مولانا مشتاق احمد صاحب کو کھڑا کردیا۔ کوئی ڈیڑھ دو گھنٹہ تک ان کا خطاب بھی جاری رہا۔ اس کے بعد مجلس برخواست ہوئی۔ دور فاصلہ کے فقراء رات یہیں ٹھہر گئے، صبح کو مراقبہ اور مختصر نصیحت کے بعد جلسہ اختتام کو پہنچا۔ اسی دن کراچی سے کوئی ۳۰ میل کے فاصلے پر گڈاپ سے آگے محترم خلیفہ مولانا حاجی محمد آدم صاحب کے یہاں جلسہ رکھا ہوا تھا، سواری کے لئے ویگن لے آئے تھے۔ گڈاپ سے آگے کچی سڑک پر کئی جگہ بارش کا پانی جمع تھا، دو جگہ تو ویگن کیچڑ میں جام ہوگئی، دھکیل کر اسے نکالنا پڑا۔ بہرحال اس قدر بارش اور راستے خراب ہونے کے باوجود توقع سے بڑھ کر چاروں طرف سے پیدل اور گھوڑوں اونٹوں پر سوار ہوکر آدمی آتے رہے۔ مرد ہی نہیں، گرد و نواح سے ایک سو سے زائد خواتین بھی جلسہ میں شرکت کے لئے آئی تھیں۔ شہری لوگوں سے کئی گنا زیادہ محبت و اخلاص ان لوگوں میں دکھائی دے رہا تھا۔ حضور نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ”آج کل فوجی حکومت ہے، ہر معاملہ میں لوگ ان سے ڈرتے ہیں، کیا اپنے خالق و مالک رب العزت کا بھی کچھ خوف دل میں ہے، اس کے یہاں حاضر ہونے کی فکر ہے، اگر کچھ فکر ہے تو اعمال صالحہ کی طرف رغبت بھی ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو خداوند تعالیٰ کا ذکر بتائے ہوئے طریقے کے مطابق کرتے رہو، از خود احکام الٰہی کی تعمیل کا شوق پیدا ہوگا۔ چند ہی دن بعد رمضان المبارک آرہا ہے، اس بابرکت مہمان کے استقبال کی تیاری کرو، جن پر روزے فرض ہیں پابندی سے روزے رکھیں، اپنی زندگی اس طرح بسر کریں جس طرح ماسلف بزرگان دین نے اپنی زندگیاں بسر کی ہیں“۔ الخ
سادگی: چونکہ مذکورہ بستی میں جمعرات اور جمعہ دو رات جلسے کا پروگرام تھا، اور جمعرات کے دن معائنہ کرانے کے لئے حضور کو کراچی جانا تھا، صاحب دعوت حضرات کے پاس موٹر سائیکل اور گدھے گاڑی کے سوا کوئی سواری نہیں تھی۔ بہرحال حضور بخوشی گدھے گاڑی پر سوار ہوکر سڑک پر پہنچے۔ نیز جاتے وقت فرمایا، انشاء اللہ تعالیٰ شام کو پھر یہ عاجز آجائے گا۔ آخر حسب وعدہ آپ شام کو تشریف لے آئے۔ دوسرے دن بھی کوئی ساٹھ ستر نئے افراد ذکر سیکھنے کے لئے آئے، آپ نے ان کو ذکر کا وظیفہ سمجھایا اور نصیحت فرمائی، اور ذکر اللہ کی فضیلت و اہمیت بتا کر احساس دلاتے ہوئے فرمایا: اپنی تعریف کرنا گناہ ہے، یہ عاجز اپنے آپ کو بزرگ سمجھ کر نہیں بلکہ حقیقت حال اور آپ کے فائدے کے لئے عرض کرتا ہے کہ کل ہم جس ویگن پر آئے کئی جگہ پر پھنس کر رہ گئی، اگر ہم نہ آنا چاہتے تو بارش کا عذر معقول اور کافی تھا۔ مگر آپ حضرات کی ملاقات اور دین کی تبلیغ کے پیش نظر ہم چلے آئے۔ آپ سے کچھ لینا بھی نہیں ہے، پھر مجبوراً علاج کے سلسلے میں کراچی جانا تھا تو گدھے گاڑی پر ہی یہ عاجز چلا گیا، کیا دوسرے پیر صاحبان اسی طرح آتے ہیں۔ لہٰذا جب ہم اس قدر تکلیف برداشت کرکے آپ کے پاس آئے ہیں تو تمہیں بھی چاہیے کہ ہمارے پاس آیا کریں، اور ذکر اللہ پر مداومت کریں۔ تمام حاضرین نے بیک آواز لبیک کہا۔ صبح کو پردہ میں مستورات کو خطاب فرمایا اور ذکر کا وظیفہ سمجھایا۔ بستی والوں کے کہنے کے مطابق صبح تین سو کے قریب عورتیں قرب و جوار سے وعظ سننے کے لئے آئی تھیں۔

جمعرات کے دن میمن گوٹھ کا پروگرام تھا، صاحب دعوت حضرات حضور اور جماعت کی سواری کے لئے ٹرک لے آئے تھے، کوئی ڈیڑھ گھنٹہ کا یہ سفر نعت، منقبت پڑھتے طے ہوا۔
ساتھیوں کا خیال: چونکہ میمن گوٹھ کے لوگ نئے تھے، حضور کے ساتھ آنے والے احباب کے لئے بروقت کھانے کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا تھا، جب کہ حضور کے خادم خاص محترم مولوی خدا بخش صاحب حضور کے لئے مولانا محمد آدم صاحب کے یہاں سے سبزی وغیرہ لے آئے تھے، جب حضور کے لئے کھانا تیار ہوا، مولانا خدا بخش صاحب سے فرمایا پتہ کرو ہمارے ساتھیوں کے لئے کھانا آیا ہے کہ نہیں؟ جب بتایا گیا، حضور ابھی ان کے لئے کھانا نہیں آیا، تو فرمایا یہ مروت کے خلاف ہے کہ میں ان سے پہلے کھانا کھالوں، جب ان کے لئے کھانا آئے گا، تو میں بھی کھالوں گا، کوئی بات نہیں۔

الحمدللہ میمن گوٹھ میں بھی بہتر تبلیغی کام ہوا، کافی نئے آدمی طریقہ عالیہ میں داخل ہوئے، حضور نے ان کو ذکر کا وظیفہ سمجھایا اور نصیحت کی، رات کو بھی جلسہ رہا۔ جمعہ کی نماز کے لئے پروگرام کے تحت حضور مرکز روحانی مہاجر کیمپ تشریف لے گئے۔ شام کو جیجاں ہال بہار کالونی میں جلسہ رکھا ہوا تھا، جیجاں ہال میں پہلی ہی بار حضور کا جلسہ رکھا گیا تھا، صاحب دعوت حضرات سمیت سبھی نئے آدمی تھے۔ حضور کے وعظ، ذکر قلبی کی برکت سے گرد و نواح کے کافی افراد پکے فقیر بن گئے، اس کے بعد بھی وہاں حضور کے جلسے ہوتے رہے۔ رات جیجاں ہال قیام کے بعد حضور واپس طاہرآباد تشریف لے گئے۔

کندھ کوٹ کا سفر: حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ مقامی فقراء کی دعوت پر دوبار کندھ کوٹ ضلع جیکب آباد میں تشریف لے گئے تھے، الحمد للہ آپ کے جانے کی برکت سے کافی تبلیغی فائدہ ہوا۔ جس کا تفصیلی احوال مذکورہ علاقہ کے خلیفہ صاحب محترم مولانا مولوی امام علی صاحب نے یوں بیان فرمایا: پہلی بار حضور مسلسل تین راتیں محترم محمد رمضان صاحب سبزوئی بلوچ کے یہاں قیام فرما رہے، روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں نئے نئے آدمی حضور کے فیوض و برکات سے مستفیض ہوتے رہے۔ جماعت اسلامی کے ایک سرگرم کارکن حضور کی پرنور شخصیت جماعت اور حضور کا حسن اخلاق، اتباع سنت کی تعلیم و ترویج دیکھ کر اس قدر متاثر ہوا کہ مسلسل تینوں دن آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا رہا۔

دوسری بار محترم حاجی محمد ابراہیم ملک صاحب کی دعوت پر کندھ کوٹ تشریف لے گئے تھے، جب کہ انہوں نے کئی لاکھ روپے کی لاگت سے ایک مکان تعمیر کرایا تھا اور یہ نذر مانی تھی کہ جب تک میرے پیر و مرشد اپنے خاندان سمیت اس مکان پر تشریف فرما نہ ہوں گے، میں اس میں سکونت اختیار نہ کروں گا، حاجی صاحب موصوف نے عظیم الشان جلسہ کا پروگرام بنایا۔ الحاج مولانا محمد ادریس صاحب، مولانا جان محمد صاحب، مولانا محمد اسلم صاحب اور دیگر جماعت کے علماء کرام کو بھی مدعو کیا، اور حضور سے پروگرام لے کر تاریخ کا اعلان کیا۔

حضور کو گیارہویں شریف کے سلسلے میں فقیر پور شریف جانا تھا، اس لئے حاجی صاحب کو شعبان ۱۴۰۳ھ کی گیارہویں شریف سے پہلے شعبان کی تین راتوں ۴، ۵، ۶ کا پروگرام عنایت فرمایا۔ جیکب آباد، کشمور کے علاقوں سے جماعت حاضر ہوئی، حاجی صاحب کی کوشش سے کندھ کوٹ شہر کے بھی سینکڑوں نئے آدمی جلسہ میں شامل ہوئے، حاجی صاحب نے پر تکلف انتظامات کئے تھے، جبکہ حضور ذاتی طور پر سادگی پسند تھے، غیر ضروری تکلفات کبھی پسند نہ کئے۔ اس لئے صاحب دعوت حضرات کو فرمایا، اتنے تکلف کی ضرورت ہی کیا تھی؟ اگر اسی قسم کے تکلفات کرو گے تو آئندہ یہ عاجز آپ کے یہاں نہیں آئے گا۔ بہرحال مسلسل تین رات جلسے ہوتے رہے اور روزانہ نئے نئے افراد طریقہ عالیہ میں داخل ہوتے رہے۔

صاحبزادہ صاحب ذکر بتائیں : چونکہ شہر کے کاروباری لوگ عشاء تک آتے رہے اور حضور نماز عشاء کے بعد زیادہ دیر نہیں بیٹھ سکتے تھے، اس لئے عاجز (مولانا امام علی صاحب) کو بلا کر فرمایا، اگر نماز عشاء کے بعد لوگ ذکر سیکھنا چاہیں تو مولوی محمد طاہر صاحب کو کہیں کہ وہ ذکر سمجھائیں۔

کرامت: کندھ کوٹ شہر سے کوئی تین میل کے فاصلہ پر رئیس خیر محمد خان سہریانی کی بستی ہے، جہاں سے رئیس عبدالوحید حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی یا حضرت! ہمارا آپس میں قومی جھگڑا ہے، ہر وقت جانی و مالی نقصان کا اندیشہ رہتا ہے۔ صلح مصالحت کے لئے بارہا کوششیں کی ہیں، مگر ہر بار ناکام ہوئے ہیں۔ براہ کرم ایک آدھ گھنٹہ کے لئے حضور ہمارے خسخانہ پر تشریف لے چلیں، ہو سکتا ہے حضور کی تشریف آوری اور دعا کی برکت سے ہماری جان اس مصیبت سے آزاد ہو۔ بہرحال اس کی پریشانی اور اصرار کی بنا پر حضور تشریف لے گئے، جاتے ہوئے راستے کے کنارے دیہاتی مزارعین کو چاول بوتے ہوئے دیکھ کر فرمایا: دیکھو یہ جسمانی خوراک کے لئے کس قدر تکلیف برداشت کرتے ہیں، اور یہ جائز محنت کرنی بھی چاہیے، لیکن مومن کے روح کی غذا ذکر اللہ اور عشق رسول صلّی اللہ علیہ وسلم ہیں، چاہیے کہ ظاہری جسمانی غذا سے بڑھ کر باطنی قلبی غذا کی فراہمی کی کوشش کی جائے۔ حضور کے استقبال اور زیارت کے لئے کافی تعداد میں بلوچ صاحبان منتظر کھڑے تھے، گو وقت بہت ہی کم تھا، تاہم حضور نے ان کو نصیحت کی، استغفار اور رجوع الی اللہ کی تلقین کی، اور دعا فرما کر واپس تشریف لائے۔ حضور کی تشریف آوری اور دعا کے چند ہی دن بعد سہریانی حضرات کی باہمی مصالحت ہوگئی۔ جو مخالف فریق دو لاکھ روپے جرمانہ لے کر بھی صلح کے لئے آمادہ نہ تھے صرف چالیس ہزار روپے جرمانہ لے کر بخوشی مصالحت کی۔ بقول رئیس صاحب حضور کی دعا کے صدقے اللہ تعالیٰ نے اس قدر مہربانی فرمائی کہ ایک طرف صلح ہو گئی، جس کے بظاہر امکان کم تھے، اور دوسری طرف جرمانہ بھی معمولی دینا پڑا۔ (از مولانا امام علی صاحب)

سفر کا سامان: سفر میں آپ کپڑوں کے چند جوڑے، تہبند کے لئے چادر، وضو کے لئے لوٹا، مسواک، سرمہ، کنگھی، شیشہ اپنے ساتھ رکھتے تھے، رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم سے بھی دوران سفر آخر الذکر چار اشیاء کا ساتھ رکھنا حدیث شریف سے ثابت ہے۔ چونکہ دوران سفر بھی کسی سے کھانا مانگ کر کھانا آپ کے مزاج و مذاق کے خلاف تھا، جس سے فقراء و خلفاء کرام کو بھی منع فرماتے تھے، اور خالی ہاتھوں سفر میں نکلنا بعض اوقات پریشانی کا سبب بن سکتا تھا۔ اس لئے اوائلی زمانے میں جب آپ تبلیغی سفر میں نکلتے، فقراء کے ہاتھ کا بنا ہوا گڑ، ستو، چنے، سیاہ مرچ اور نمک پیس کر یا میٹھی پکی ہوئی روٹی جو کئی دن تک خراب نہ ہوتی، اپنے ساتھ لے جاتے تھے، حسب ضرورت سیاہ مرچ اور نمک میں پانی ڈال کر ان سے روٹی کھاتے، اسی طرح ضرورت کے وقت گڑ اور ستو پانی میں بھگو کر کھا لیتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صوبہ پنجاب کا تبلیغی دورہ

یوں تو حضور ہر سال کم از کم ایک بار ضرور دس سے بیس دن تک کے لئے پنجاب کے تبلیغی دورے پر تشریف لے جاتے تھے، اور پنجاب کے خلفاء کرام سال بھر بڑی جانفشانی سے تبلیغ کا کام کرتے رہتے تھے، اس لئے حضور کی آمد کے موقع پر مختلف مقامات پر جلسوں کا اہتمام کیا جاتا تھا اور ہر سال سامعین اور زیارت کرنے والوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوتا تھا۔۔۔۔!

یہاں پنجاب کے ان دوروں میں سے صرف ایک دورے کے تفصیلی حالات تحریر کئے جاتے ہیں، جس میں یہ سیہ کار بھی آپ کے ہم رکاب تھا۔ ۱۲ جمادی الثانی ۱۳۹۹ھ جمعہ کی رات بذریعہ سپر ایکسپریس روہڑی اسٹیشن سے روانہ ہونا تھا۔ جمعرات کو ظہر کے وقت سندھ کے تمام اضلاع سے فقراء روہڑی سٹیشن پر جمع ہونا شروع ہوگئے تھے۔ تقریباً ساڑھے دس بجے میر کارواں حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ دربار فقیر پور شریف سے ضلع دادو اور لاڑکانہ کے فقراء کے ہمراہ تشریف فرما ہوئے۔ پلیٹ فارم پر نماز عشاء باجماعت ادا کی گئی۔ محدود ریزرویشن کی وجہ سے نشستوں کی بکنگ بہت کم ہوئی، جب کہ اس تبلیغی و تربیتی پروگرام میں شامل حضرات کی تعداد ستر افراد کے لگ بھگ تھی۔ کراچی اور حیدرآباد سے شامل ہونے والے احباب پروگرام کے مطابق اسی ٹرین پر سوار تھے۔ چونکہ سالار قافلہ حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ بھی جماعت کے ساتھ تھرڈ کلاس (موجودہ سیکنڈ) میں سفر کر رہے تھے۔ اس لئے اکثر فقراء بھی اسی ڈبے میں سوار ہوگئے۔ نتیجۃ اس ڈبہ میں غیر معمولی رش ہوگیا، نشستیں نہ ہونے کی وجہ سے اکثر فقراء کو نیچے کپڑا بچھا کر گذارہ کرنا پڑا، تاہم اس وقت حضور کی اعلیٰ تربیت و باہمی اخوت و ایثار کا جذبہ قابل دید تھا کہ بلا امتیاز ہر ایک دوسرے کو سیٹ پر بٹھا کر خود نیچے بیٹھنے کی کوشش کر رہا تھا، جسے دیکھ کر پہلے سے ٹرین پر سوار شیعہ مسلک کا ایک بڑا ہوشیار فرد از حد متاثر ہوا۔ صبح دس بجکر چالیس منٹ پر ٹرین جونہی لاہور اسٹیشن پر رکی، تو پورا پلیٹ فارم اللہ، اللہ کی پرکیف صداؤں سے گونج اٹھا۔ استقبال کے لئے لاہور کے علاوہ شیخوپورہ اور فیصل آباد کے خلفاء کرام اور سینکڑوں فقراء موجود و منتظر تھے۔ حضور ٹرین سے اتر کر پلیٹ فارم کی ایک بنچ پر تشریف فرما ہوئے۔ پنجاب کے فقراء نے زیارت کی، مصافحہ کیا، بعض فقراء پر وجد و جذب کی کیفیت طاری ہوگئی، اتنے میں ایک قسم کے اسلامی لباس میں ملبوس باریش نورانی چہروں والوں کی اتنی کثیر تعداد دیکھ کر پلیٹ فارم پر موجود ہزاروں افراد دیکھنے کے لئے جمع ہوگئے، تعارف کے بعد وہ بھی مصافحہ کرنے اور دعا منگوانے شروع ہوگئے۔ مجمعہ بڑھتا جا رہا تھا کہ خلفاء کرام نے حضور کو تشریف لے چلنے کی گذارش کی۔ پروگرام کے مطابق یہ روحانی تبلیغی قافلہ پیکو مسجد بادامی باغ لاہور پہنچا۔ حضور کا قیام محترم محمد اشرف بٹ صاحب کے مکان پر تھا۔ حضور جب نماز جمعہ کے لئے مذکورہ مسجد میں تشریف فرما ہوئے تو اس وقت مسجد کے خطیب حضرت علامہ مولانا غلام رسول صاحب تقریر فرما رہے تھے، آپ درمیان میں ایک جگہ پر بیٹھ رہے تھے، کہ مولانا موصوف نے آپ کو دیکھ کر پہلی صف میں تشریف لانے کی باادب اپیل کی۔ مگر آپ معذرت کرتے ہوئے بلا امتیاز وہیں صف میں بیٹھ رہے۔ مولانا موصوف نے حضور کا مختصر تعارف کرایا، آپ کے تبلیغی اصلاحی مشن کا ذکر کیا۔ نماز جمعہ کے بعد جماعت سے مل کر صلوٰۃ و سلام پڑھنے کے بعد آپ قیام گاہ پر تشریف لے گئے، جبکہ مسجد میں کافی دیر تک وعظ و نصیحت ہوتی رہی۔

اگلے دن صبح سویرے بذریعہ ٹرین لاہور سے چک نمبر ۵۶۲ ظفر وال ضلع فیصل آباد جانا تھا۔ اس لئے نماز فجر اور مراقبہ کے بعد اکثر جماعت ریلوے اسٹیشن کی جانب روانہ ہوگئی، جبکہ آپ بمع چند احباب دربار حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ تشریف لے گئے۔ (عموماً جب بھی آپ لاہور تشریف لے جاتے تھے تو داتا دربار کے علاوہ تبرکات کی زیارت کرنے شاہی مسجد شریف اور حضرت امام ربانی مجدد و منور الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ اعظم اور آپ کے فرزندان گرامی کے استاد محترم حضرت خواجہ محمد طاہر بندگی رحمۃ اللہ علیہ کے ایصال ثواب کے لئے میانی تشریف لے جاتے تھے) جاتے وقت ساتھیوں سے فرمایا: دربار شریف کی حدود میں میرے پیچھے چل کر یا اسی قسم کا کوئی ادب بجا نہ لانا جس سے امتیازی حیثیت معلوم ہو۔ الغرض مسجد شریف کی طرف بیٹھ کر ختم شریف پڑھ کر ایصال ثواب کیا، اس کے بعد پھر ہاتھ اٹھا کر دوبارہ دعا مانگ کر کھڑے ہوگئے، جالی سے مزار اقدس کی زیارت کی، پھر پائنتی کی طرف آکر کھلی ہوئی کھڑکی سے دوبارہ زیارت کی۔ اس کے بعد حضرت معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کے چلہ کے مقام پر تشریف لے گئے، زیارت کی، تعارفی تختی (جس پر حضرت اجمیری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے چلے کے متعلق مختصر معلومات درج ہے) پر ہاتھ پھیر کر اپنے بدن مبارک پر ہاتھ پھیرے، اس کے بعد ریلوے اسٹیشن تشریف لے گئے جہاں جملہ فقراء پہلے ہی منتظر تھے۔ اس ٹرین میں بھی دیگر فقراء کے ہمراہ آپ نے تھرڈ کلاس ہی میں سفر کیا۔

ساتھیوں سے حسن سلوک: حضرت صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا یہ معمول تھا کہ اگر ٹرین میں زیادہ رش نہ ہوتا تو بہ سہولت سیٹ پر لیٹ کر سفر فرماتے تھے اور اگر رش ہوتا تو بھی فقراء یہ چاہتے اور عرض بھی کرتے کہ حضور آرام سے تشریف رکھیں، ہمیں کھڑا ہوکر سفر کرنے میں کوئی دقت نہیں ہوتی، پھر بھی باوجود عوارض کے ساتھیوں کا کھڑا رہنا آپ کو گوارہ نہ ہوتا تھا، کئی ایک فقیروں کو بلا کر اپنے ساتھ سیٹ پر بٹھاتے تھے۔ اس کے علاوہ کھانے کے لئے جو کچھ پیش کیا جاتا، ا گر وہ آپ کا ذاتی ہوتا یا کسی بے تکلف نے دیا ہوتا تو عموماً وہاں موجود ساتھیوں کو بھی اپنے ساتھ شامل کر لیتے یا بچا کر عنایت فرماتے۔
چونکہ اس بار محترم حاجی محمد حسین اور یہ عاجز آپ کے ساتھ سیٹ پر بیٹھے ہوئے تھے، اس لئے دوران سفر پینے کے لئے سیون اپ کی بوتل پیش کی گئی، آپ نے بمشکل نصف پی کر بقیہ ہمیں عنایت فرمائی۔ گو بظاہر یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے، مگر ان معمولی باتوں میں اتباع سنت کا لحاظ کرنا غیر معمولی شخصیتوں ہی کا کام ہے۔ ۹۶ کلو میٹر کا فاصلہ طے ہونے پر جب ٹرین اسٹیشن ظفر وال پر رکی تو دیکھا سخت دھوپ کے باوجود فقراء بڑی تعداد میں اپنے پیر و مرشد حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی زیارت کے لئے بیتاب کھڑے ہیں۔ سخت گرمی کی وجہ سے حضور سے مصافحہ کے لئے نماز ظہر تک انتظار کرنے کا کہا گیا۔ یہ قافلہ اللہ اللہ کا ورد کرتا ہوا چند فرلانگ کے فاصلے پر دربار پیر مٹھا نامی مرکز پر پہنچا، نماز ظہر کے بعد فقراء نے مصافحہ کیا، خلیفہ حافظ محمد حبیب اللہ صاحب اور دیگر مقامی احباب کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ نعت خواں حضرات عشق و مستی کے عالم میں حضور کی تعریف میں نئی نئی منقبتیں پڑھ رہے تھے جن میں ایک منقبت کا عنوان یہ تھا۔

چمن دا آ گیا مالی بہاراں مسکرا پیاں

ان کے محبت بھرے اشعار سن کر پنجاب اور سندھ کے فقراء پر وجد و گریہ کی عجیب کیفیت طاری ہوگئی۔ کافی دیر بیٹھنے کے بعد حضور قیام گاہ پر تشریف لے گئے۔ اس مرکز پر دو دن اور دو رات کا پروگرام تھا۔ یہ پورا عرصہ ذکر و فکر، وعظ و نصیحت میں گذرا، اوقات نماز پر نئے آدمی طریقہ عالیہ میں داخل ہوتے رہے۔ مؤرخہ ۲۴ جمادی الثانی ضلع سیالکوٹ پاک بھارت سرحد پر واقع اسٹیشن چک امرو میں جلسہ کا پروگرام تھا۔ چونکہ سفر بہت طویل تھا، اس لئے صبح سویرے نماز فجر پڑھ کر پہلی ٹرین پر لاہور کے لئے روانہ ہوئے۔ لاہور سے ٹرین تبدیل کرکے نارووال، شکر گڑھ، چک امرو جانے والی ٹرین پر سوار ہوئے، اس سفر میں سندھ سے جانے والوں کے علاوہ پنجاب کے بھی کافی فقراء قافلہ میں شامل ہوگئے، جو آخر تک شامل رہے۔ عصر کے وقت ٹرین چک امرو اسٹیشن پر پہنچی، جہاں ایک سو سے زائد فقراء حضور کے استقبال کے لئے کھڑے تھے۔ گو وہاں کے اکثر لوگ غریب و مسکین ہیں، مگر محبت و خلوص والے ہیں۔ انتظامات بھی بڑی فراخدلی سے کئے تھے۔ یہاں مقامی فقراء نے ایک بڑی اور شاندار مسجد تعمیر کرائی ہے، جہاں حضور کے پیارے خلیفہ مولانا سردار احمد صاحب بکثرت تبلیغ کے لئے جاتے رہتے ہیں۔ حضور بھی اس سے پہلے ایک بار وہاں جا چکے تھے، اس بار پہلے سے کہیں زیادہ لوگ دور دور سے آئے تھے، جلسہ عصر کی نماز کے بعد شروع ہوا اور رات گئے تک جاری رہا۔ صبح کو مراقبہ وعظ و نصیحت ہوئی۔ حضور نے نئے واردین کو طریقہ عالیہ میں داخل کیا۔ جلسہ ختم ہونے کے بعد بستی سینگیال کے لئے روانہ ہوئے جہاں ۲۶ جمادی الثانی کی رات جلسہ ہونا تھا۔ یہ جلسہ ایک فوجی افسر کی خواہش پر منعقد کیا گیا، جو پہلے ہی سے طریقہ عالیہ میں داخل تھا۔ جلسہ کے انتظامات بہت اچھے تھے، یہ بستی کافی بڑی تھی جس میں پہلے بھی حضور کے خلیفہ محترم تشریف لاتے رہے اور کافی آدمی ان سے بیعت ہوچکے تھے۔ اس بستی کے علاوہ قریب کی بستیوں سے بھی بڑی تعداد میں مرد اور عورتیں آکر جلسے میں شامل ہوئے۔ جلسہ رات کافی دیر تک جاری رہا۔ تلاوت کلام پاک، حمد و نعت کے بعد باری باری سے مقررین نے خطاب کیا، اور لوگوں نے بڑی تعداد میں حضور سے ذکر کا طریقہ سیکھا۔ طریقہ عالیہ کے مطابق شرعی پردے کا لحاظ رکھتے ہوئے مسجد شریف سے ہی اسپیکر کے ذریعے عورتوں کو ذکر کا طریقہ سمجھایا۔ کچھ دیر مراقبہ وعظ و نصیحت کے بعد مجلس برخواست ہوئی۔ اس کے بعد پروگرام کے تحت یہ روحانی تبلیغی قافلہ اپنے ظاہری اور باطنی قائد و رہنما کی قیادت میں نونار بستی پہنچا، جہاں پہلے ہی سے جلسہ کا پروگرام شروع تھا۔ جلسے کے اشتہارات بھی چھپوائے گئے تھے۔ اس بستی میں بھی بہتر تبلیغی کام ہوا۔ حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے خطاب کے علاوہ وفد میں شامل کئی علماء کرام نے بھی خطاب کیا، حضور نے ذکر کا طریقہ سمجھایا، اتباع شریعت و سنت کے موضوع پر نصیحت فرمائی۔

فیصل آباد: چونکہ جمعرات ۲۷ جمادی الثانی کے دن فیصل آباد سے کوئی ۱۰ کلومیٹر کے فاصلہ پر نتھوچک نامی بستی میں جلسہ مقرر ہوچکا تھا، سفر بہت طویل اور سواری کا بھی عام جماعت کے لئے کوئی معقول انتظام نہ تھا، اس لئے صبح سویرے سے تیاری کی، بس پر سوار ہوکر لاہور پہنچے۔ یہاں تک تو اسپیشل بس تھی، تمام فقراء ذکر و فکر کرتے نعتیں، غزلیں، منقبتیں پڑھتے ہوئے بڑے سکون سے لاہور پہنچے، جہاں سے روٹ کی متعدد بسوں پر سوار ہوکر فیصل آباد آئے، وہاں کافی دیر انتظار کے بعد روٹ کی بسوں کے ذریعے مغرب کے وقت نتھوچک پہنچے۔ الحمد للہ حضور لاہور سے بذریعہ کار پہلے ہی پہنچ چکے تھے۔ جلسے کی کاروائی شروع تھی۔ یہ جلسہ ایک گھر میں رکھا گیا تھا، صاحب دعوت حضور کے پرانے مخلص مرید ہیں، جب بھی نتھوچک حضور کا پروگرام ہوتا تھا تو جلسہ ان ہی کے گھر میں ہوتا تھا، اور بڑی فراخدلی سے جلسہ کے جملہ انتظامات کیا کرتے تھے۔ یہاں بھی حسب معمول تلاوت، حمد و نعت کے بعد محترم مولانا مشتاق احمد صاحب کراچی والوں نے تفصیلی خطاب فرمایا، جس کے بعد نئے واردین کو حضور نے ذکر کا طریقہ سمجھایا۔ قریب ہی دوسرے گھر میں باپردہ عورتیں جمع تھیں، حضور نے لاؤڈ اسپیکر پر ہی ان کو ذکر کا طریقہ سمجھایا، حضور نے توکل اور رضائے الٰہی کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔ ”آپ سے کوئی سوال و چندہ نہیں کیا جائے گا، آپ مطمئن رہیں ہم نذرانہ لینے والے پیر نہیں ہیں، یہ قافلہ صرف اور صرف رضائے الٰہی کی خاطر آپ کے یہاں آیا ہے۔ ہم کو اللہ تعالیٰ نے بہت کچھ دے رکھا ہے، ہمیں کسی چیز کی ضرورت نہیں۔ یہ ذکر جو آپ کو بتایا گیا ہے، اس پر عمل کرنے سے آپ کا اپنا فائدہ ہوگا۔ دنیاوی عزت اور دولت میں بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت و برکت شامل ہوگی اور آخرت میں بھی فائدہ ہوگا۔“

ڈجکوٹ: جمعہ کی شام کو محترم حکیم عبدالستار صاحب کے ہاں ڈجکوٹ میں جلسہ کا پروگرام تھا، شام ہوتے ہی ہوا اور باران رحمت (بارش) کا نزول ہوگیا، بارش اتنی زیادہ نہ تھی تاہم طوفانی قسم کی سخت ہوا اور متوقع بارش کے پیش نظر منتظمین نے ڈجکوٹ کا پروگرام ملتوی کرنا چاہا۔ خاص کر اس لئے بھی کہ حضور کی طبیعت اتنے سفر اور مسلسل تقاریر کی وجہ سے مزید تکلیف کی متحمل نہیں تھی۔ مگر عین وقت پر حکیم صاحب آن پہنچے اور چلنے کے لئے گذارش کی، حضور تو ویسے بھی پروگرام طے ہونے کے بعد ایسی رکاوٹوں سے کم ہی رکا کرتے تھے۔ خاص کر جب کہ صاحب دعوت لینے بھی آگئے۔ اس لئے آپ اسی وقت روانہ ہوگئے، اور آپ کے تشریف لے جانے کے بعد فقراء بھی اپنا اپنا سامان لے کر بس اسٹاپ پر پہنچنے کی تیاری میں مصروف تھے کہ سخت آندھی اور بارش آپہنچی، صاحب دعوت اور محترم خلیفہ مولانا محمد رمضان صاحب (جن کی کوشش سے یہاں روحانی تبلیغ کا کام شروع ہوا اور اسی بستی میں عرصہ سے مسلسل گیارہویں شریف کا جلسہ بھی کراتے ہیں) تو پہلے سے ہی جانے سے منع کر رہے تھے کہ ایسی صورت حال میں جانا مناسب نہیں۔

غرضیکہ فقراء نے اللہ اللہ کرکے دوسری رات بھی یہاں گذاری۔ اس رات بھی حسب معمول وعظ، تبلیغ، طریقہ عالیہ کے مطابق ذکر اذکار کا حلقہ وغیرہ ہوتے رہے۔ ادھر حضرت قبلہ ابھی چند میل ہی یہاں سے دور گئے ہوں گے کہ آندھی اور بارش نے گھیر لیا۔ پھر بھی تبلیغی فائدے کے پیش نظر اپنی صحت کا خیال کئے بغیر آگے بڑھتے گئے۔ ڈجکوٹ میں روحانی تبلیغ کا یہ کام ابتدائی مراحل ہی میں تھا لیکن حکیم صاحب کی دعوت، محنت و کوشش کی وجہ سے بڑی تعداد میں ہر طبقہ کے لوگ شدت سے آپ کی آمد کے منتظر تھے، جن میں علماء اہل سنت کے علاوہ مقامی خلفاء کرام اور مبلغین حضرات جو پورے سفر میں دست راست کی حیثیت میں ممد و معاون تھے، ڈجکوت نہیں پہنچ سکے۔ جب کہ سرد ہوا لگنے کی وجہ سے آپ کی طبیعت اور بھی خراب ہوچکی تھی۔ تاہم جس کا اوڑھنا اور بچھونا دین اسلام کی تبلیغ و اشاعت ہو وہ ظاہری اسباب و عوارض سے قطع نظر کرکے وہ کچھ اصلاحی کام کرسکتا ہے، جتنا ایک بڑی جماعت سے بھی متوقع نہ ہو۔ الغرض آپ نے ذکر اللہ کے فضائل و فوائد اور اتباع سنت کے موضوع پر مختصر مگر جامع و جاذب خطاب فرمایا کہ لوگ حیران رہ گئے، اپنی زندگی میں پہلی بار ایسا عامل قرآن و متبع سنت رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم مرشد کامل دیکھ کر اوروں کے علاوہ علماء اہل حدیث بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ حضور کے تشریف لے جانے کے بعد بھی وہ حکیم صاحب مذکور سے رابطہ میں رہے۔

بچیکی ضلع شیخوپورہ

ہفتہ کی شام محترم خلیفہ مولانا سردار احمد صاحب کے یہاں دربار رحمت پور شریف نزد بچیکی میں بڑے پیمانے پر جلسے کا پروگرام تھا۔ ننکانہ صاحب کے فقراء نے بھی موقع کو غنیمت جان کر نماز عصر ان کے ہاں ادا کرنے کی گذارش کی، ساتھ ساتھ مختصر وقت کے لئے مسجد اہل سنت ننکانہ صاحب میں جلسہ کا پروگرام بھی رکھا۔ نماز عصر سے پہلے حضور ننکانہ صاحب تشریف لائے۔ تھوڑی دیر بعد دوسرے احباب بھی نتھوچک سے ننکانہ صاحب آ پہنچے۔ نماز سے پہلے ہی جلسہ کی کاروائی شروع ہو چکی تھی۔ نماز عصر کے بعد نئے واردین کو آپ نے طریقہ عالیہ کے مطابق ذکر قلبی کا وظیفہ سمجھایا، مختصر نصیحت کی، جس کے بعد یہ پورا روحانی قافلہ نماز مغرب سے پہلے دربار رحمت پور نزد بچیکی پہنچا۔

رحمت پور شریف ”بچیکی“: چونکہ مولانا موصوف اپنے پیر و مرشد حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی آمد سے پہلے بڑے بڑے اشتہارات چھپواکر چاروں طرف شہروں اور دیہاتیوں میں پھیلانے کے ساتھ ساتھ خود بھی جماعت کا تفصیلی دورہ کرکے حضور کی آمد کے سلسلے میں رحمت پور آنے کی دعوت دے آئے تھے، اس لئے کئی اضلاع سے سینکڑوں نئے اور پرانے فقراء پہلے سے جمع ہو چکے تھے، جلسہ کی کاروائی شروع تھی، ننکانہ صاحب سے حضور کی آمد کا سن کر پورا مجمعہ آپ کے استقبال کے لئے اٹھ کھڑا ہوگیا۔ ایک ساتھ اللہ اللہ اور حق سوہنا سائیں کے پرفیض نعروں کا شور بلند ہوگیا، اسپیکر پر عشق و محبت سے پر استقبالیہ منقبتیں پڑھی جا رہی تھیں۔ حضور کی زیارت و مصافحہ کے بعد سندھی پنجابی پیر بھائی آپس میں گلے مل کر خیریت دریافت کرنے لگے۔ گو اکثر پنجابی فقراء سندھی نہیں سمجھتے مگر پھر بھی پیر کی مادری زبان ہونے کی وجہ سے سندھی زبان کو بہت پسند کرتے ہیں، اور بعض فقراء تو سندھی سمجھنے کے علاوہ سندھی بول بھی سکتے ہیں، جبکہ سندھی سمجھنے والوں کی تعداد تو کافی زیادہ ہے، اس لئے پنجابی فقراء نے سندھی میں نعتیں سننے کی خواہش ظاہر کی، نعت خواں فقیر نوازل اور غلام سرور نے سندھی نعت

دنيا دغا باز بي انداز برملا
مهل اٿئي اڄ هتي آيو ولي الله

پڑھی، اس کے علاوہ اپنی سندھی نعت کا پنجابی منظوم ترجمہ بھی سنایا، جس کا عنوان تھا۔ اٹھ اٹھ جلدی مرد مجاہد، سوہنے محمد دا اے غلام۔

باوجودیکہ یہاں کے اکثر فقراء پرانے صحبت یافتہ تھے، پھر بھی وہ اپنے اپنے ساتھ بڑی تعداد میں بالکل نئے آدمیوں کو لے آئے تھے جن کو حضور نے ذکر کا طریقہ سمجھایا، کافی نصیحت کی. اگرچہ یہاں کی مسجد شریف بھی کافی کشادہ تھی، پھر بھی اتنی ساری جماعت کے لئے ناکافی ثابت ہوئی (بفضلہ تعالیٰ اب اس جگہ شاندار بڑی مسجد شریف تعمیر ہو چکی ہے اور ۱۴۰۷ھ میں حضرت صاحبزادہ صاحب مدظلہ العالی کا پروگرام اسی نئی مسجد شریف میں ہوا)

بگے دا چک: اتوار کی شام نماز عصر کے بعد پروگرام کے تحت جڑانوالہ سے کچھ فاصلہ پر محترم جناب خلیفہ ریاست علی صاحب کی بستی بگے دا چک کے لئے روانہ ہوئے۔ بگے دا چک میں غالباً حضور کا یہ پہلا ہی پروگرام تھا، چند آدمیوں کے علاوہ بستی کے تمام احباب نے پہلی بار حضور کی زیارت کی اور طریقہ عالیہ میں داخل ہوئے۔ مگر محترم مولوی ریاست علی صاحب کی نیکی اور محنت سے اس قدر متاثر تھے اور حضور کی آمد سے خوش ہوئے کہ عقیدت و محبت میں پرانے فقراء سے کسی طرح کم نظر نہ آئے۔ مہمان فقراء کی خاطر و مدارات میں بھی کوئی کسر روا نہ رکھی، جلسہ سننے کے لئے بھی چھوٹے بڑے بے تاب نظر آئے، قریب کے مکانات میں جلسہ سننے کے لئے بڑی تعداد میں عورتیں جمع ہوگئیں، رات کو بعد نماز عشاء مولوی مشتاق احمد صاحب نے خطاب فرمایا جو کہ کافی دیر تک جاری رہا، صبح کو حضور نے نئے واردین کو طریقہ عالیہ کے مطابق ذکر بتا کر، ذکر کرنے کا طریقہ سمجھایا اور کافی دیر نصیحت کی۔

کرامت: محترم مولانا ریاست علی صاحب نے بتایا کہ شروع میں جب میں حضور سے بیعت ہوا، آپ سے بے حد محبت اور عقیدت پیدا ہوئی تو آپ کے حکم کے مطابق دوسری بستیوں میں تبلیغ کے لئے جاتا تھا، مگر دیگر بستی والوں کی طرح میرے گھر میں بھی پردہ نہ تھا۔ ایک مرتبہ جیسے ہی گھر آیا تو دروازہ پر پردہ لٹکا ہوا نظر آیا، میں سمجھا شاید کوئی اجنبی عورت میرے گھر آئی ہے، اس لئے میں باہر ہی کھڑا ہوگیا، معلوم ہونے پر جب گھر گیا، جاتے ہی بیوی نے کہا، اگر پردہ کرنا ہے تو پھر پردہ اتارنا نہیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ چار دن بعد پھر گھر سے بے پردہ باہر نکلو، اس سے بہتر ہے کہ شروع سے پردہ نہ کرو۔ اس پر کہنے لگی کہ میں نے از خود پردہ نہیں کیا، مجھے پردہ کا حکم دیا گیا ہے، انشاء اللہ تعالیٰ مرتے دم تک پردہ میں رہوں گی۔ اصل واقعہ یہ ہے کہ خواب میں حضور سوہنا سائیں نظر آئے آپ نے مجھے فرمایا، کیا یہ مناسب ہے کہ ہمارا فقیر ریاست علی تبلیغ کرتا پھرے اور اس کے گھر میں پردہ نہ ہو۔ بس میں نے حضور کے حکم سے پردہ کی ابتداء کی ہے، انشاء اللہ تعالیٰ ان کے طفیل انتہا تک پردہ رہے گا، بگے دا چک کے بعد

سچا سودا ضلع شیخوپورہ: میں چیئرمین فقیر عبدالرحیم صاحب کی دعوت پر سچا سودا جانا تھا (جہاں پچھلے سال بھی حضور تشریف فرما ہوئے تھے، اور کافی اصلاحی تبلیغی فائدہ ہوا تھا) جس کے لئے طفیل شہید اسٹیشن سے بذریعہ ٹرین جانا تھا۔ سواری کا معقول انتظام نہ ہونے کی وجہ سے حضور کے لئے ایک گھوڑا لے آئے۔ طفیل شہید اسٹیشن سے ٹرین میں بیٹھ کر شیخوپورہ اسٹیشن پر اترے، جہاں پرگرام کے مطابق صاحب دعوت حضرات بس لے آئے۔ حضور بھی جماعت کے ساتھ بس پر سوار ہوئے، نماز عصر کے وقت سچا سودا پہنچتے ہی جلسہ کی کاروائی شروع کی گئی، (سچا سودا میں حضور کے کافی محبت والے مریدین رہتے ہیں جن میں صاحب دعوت فقیر عبدالرحیم صاحب سابق چیئرمین ٹاؤن کمیٹی سچا سودا کی محبت کا یہ عالم ہے کہ سابقہ دعوت کے موقعہ پر حضور کی رہائش کے لئے پسند کے مطابق مکان نہ ہونے کی وجہ سے اس سال مسجد کے قریب ایک بہتر مکان تعمیر کرایا تھا تاکہ جب بھی حضور تشریف لے آئیں تو اس پر سکون مکان میں ٹھہریں)

رات کو تلاوت کلام پاک کے بعد وفد میں شامل نعت خوان حضرات نے نعتیں پڑھیں، علماء کرام نے باری باری سے تقاریر کیں، صبح کو مراقبہ سے قبل حضور نے نئے آدمیوں کو ذکر کا وظیفہ سمجھایا، ذکر کا طریقہ، نماز باجماعت مسواک اور داڑھی کے بارے میں کافی نصیحت فرمائی، اس کے بعد مراقبہ کرایا۔ نماز ظہر تک یہاں قیام رہا۔ نماز ظہر کے وقت دوسری مسجد شریف میں مختصر جلسہ کا پروگرام رکھا گیا تھا، وہاں بھی کچھ دیر تک وعظ و نصیحت فرمایا۔ اس کے بعد

دسہرہ گراؤنڈ شیخوپورہ: میں مقررہ جلسہ کے لئے بذریعہ بس روانہ ہوئے، جہاں محترم خلیفہ مولانا ڈاکٹر محمد یوسف صاحب کی خواہش کے مطابق جلسہ منعقد کیا گیا تھا۔ اس جلسہ میں عوام الناس کے علاوہ شہر کے چند علماء کرام بھی شریک ہوئے۔ یہاں بھی محترم مولانا مشتاق احمد صاحب نے عقائد اور طریقہ عالیہ کے اصول و ضوابط کے موضوع پر خطاب کیا۔ دوران تقریر کافی فقراء کو وجد و جذبہ ہوگیا، خاص کر محترم ڈاکٹر محمد یوسف صاحب تو بے ساخۃ کھڑے ہوکر حضرات پیران کبار رحمہم اللہ تعالیٰ کے نام لے کر پکارنے لگے کہ آگئے فلاں بزرگ، ابھی فلاں بزرگ تشریف لا رہے ہیں۔ کافی دیر تک ان پر بے اختیار جذب و نزول ارواح کی حالت طاری رہی۔ صبح نماز فجر کے بعد حضور نے نئے آدمیوں کو ذکر سمجھایا، جو رات بعد نماز مغرب ذکر سیکھنے سے رہ گئے تھے یا بعد میں تشریف لائے تھے، صبح بھی کافی دیر تک حضور نے ذکر کا طریقہ سمجھایا، نصیحت کی اور مراقبہ بھی کرایا، جس کے بعد لاہور کے لئے روانہ ہوئے۔ لاہور میں پورے قافلہ کے قیام کا انتظام محترم عبدالرشید صاحب کے مکان پر تھا، جہاں سے کچھ دیر کے لئے حضرت مولانا محمد داؤد صاحب کے متعلقین کے پاس باغبانپورہ بھی تشریف لے گئے۔

تبرکات کی زیارت: یہ عاجز حاجی محمد حسین صاحب اور فقیر غلام حسین بوٹ ہاؤس والے حضور کے ذاتی مطالعہ اور مدرسہ کیلئے کتابیں خریدنے کے بعد تبرکات کی زیارت کے لئے شاہی مسجد گئے، ہم ابھی مسجد شریف میں داخل ہو ہی رہے تھے کہ حضور تبرکات کی زیارت سے فارغ ہوکر نیچے اترے، ہم بھی ادباً کھڑے ہوگئے، اتفاقاً اس دن سکھوں کا بھی کوئی مذہبی تہوار تھا۔ ہندوستان سے بھی حسب معمول بڑی تعداد میں سکھ لاہور آئے ہوئے تھے۔

شاہی مسجد کے قریب والے گوردوارے سے کافی سکھ نکل کر شاہی مسجد کے سامنے سے گزر رہے تھے۔ جیسے ہی حضور کے پرکشش نورانی چہرہ پر نظر پڑی باادب کھڑے ہوگئے، کئی جھک کر سلام کرنے لگے، یہاں تک کہ حضور کار میں بیٹھ کر روانہ ہوگئے، وہ با ادب کھڑے رہے، حالانکہ اس وقت حضور کے ساتھ صرف چند فقراء ہی تھے، اور وہ بھی خاموش۔ اس وقت اگر کوئی متاثر و متوجہ کرنے والی شخصیت تھی تو صرف اور صرف آپ کی ذات گرامی ہی تھی، جسے دیکھ کر بن پوچھے بن بتلائے دل گواہی دے رہے تھے کہ بلاشبہ یہ ایک عالم ربانی اور ولی کامل ہیں۔ جن کے متعلق رسول کریم صلّی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ”جب اللہ تعالیٰ کسی کو اپنا محبوب بنا لیتا ہے تو آسمان اور زمین والوں کو حکم دیتا ہے کہ تم بھی اس سے محبت رکھو، جس کی وجہ سے تمام اہل آسمان اور اہل زمین اس سے محبت رکھتے ہیں۔“ تفسیر مظہری صہ ۱۶۲ جلد ۲۔

اس قسم کے اور بھی کئی واقعات ملتے ہیں کہ کئی ہندو اور عیسائی آپ کو دیکھ کر اتنے متاثر ہوئے کہ مجبور ہوکر ان کو کہنا پڑا کہ ان کو دیکھ کر پتہ چلتا ہے کہ واقعی مذہب اسلام برحق ہے، یہاں تک کہ کئی اپنا باطل مذہب چھوڑ کر مسلمان ہوگئے۔

جماعت کا اہتمام: اسی دن یعنی مورخہ ۴ رجب المرجب ۱۳۹۹ھ صوبہ پنجاب کا مختصر دورہ مکمل ہوا اور ۵ رجب المرجب جمعہ کی رات بذریعہ تیزرو یہ روحانی تبلیغی قافلہ واپس ہوا۔ دوران سفر بھی حتی المقدور حضور نماز باجماعت کا اہتمام فرماتے تھے۔ اگر چند منٹ کے لئے ہی ٹرین کا اسٹاپ ہوتا تو پہلے سے فقراء کو وضو بناکر تیار رہنے کا حکم فرماتے تھے، جب ٹرین اسٹیشن پر رکتی فوراً پلیٹ فارم پر جماعت کھڑی ہوجاتی تھی۔ اس مرتبہ نماز فجر کے وقت چونکہ کوئی اسٹاپ نہیں تھا اور ٹرین میں اتنی جگہ بھی نہ تھی کہ تمام جماعت سے مل کر نماز پڑھتے، اس لئے سفر کے خادم خاص حاجی محمد حسین شیخ صاحب کو اپنے ساتھ کھڑا کرکے خود امامت فرمائی تاکہ زیادہ آدمی نہ سہی پھر بھی جماعت کا ثواب رہ نہ جائے۔

تبلیغی سفر سے واپسی کے موقعہ پر عموماً آپ سفر میں شامل تمام فقراء کے لطائف و اسباق طریقت کی تجدید فرماتے تھے بلکہ بیشتر فقراء کو اضافی لطیفہ بھی عنایت فرماتے تھے۔ البتہ کوئی شریعت و سنت کے مطابق عمل کرنے مین سستی کرتا تو اس کو سابقہ لطیفہ پر محنت اور اتباع شریعت و طریقت کی تاکید فرماتے تھے۔ روہڑی سے چونکہ حضور کو لاڑکانہ جانا تھا، جب کہ بیشتر فقراء وہیں سے اپنے اپنے مقامات کی طرف روانہ ہونے والے تھے، اس لئے چلتی ٹرین ہی میں آپ نے تمام فقراء کے لطائف و اسباق کی تجدید فرمائی، کچھ دیر نصیحت کی اور سب کو اپنی مستجاب دعاؤں سے رخصت فرمایا۔

ٹریکٹر اور بائیسکل پر سفر: پنجاب کے ایک اور تبلیغی سفر کے متعلق محترم حاجی محمد علی صاحب نے بتایا جو خود اس سفر میں حضور کے ساتھ تھے کہ محترم مولانا خلیفہ سردار احمد صاحب کی جماعت میں دیہات کی ایک بستی میں جلسہ رکھا گیا تھا، جماعت کے ساتھ حضور بھی بس پر سوار تھے۔ ابھی تین چار میل کا فاصلہ باقی تھا کہ اتفاقاً جس سڑک سے جا رہے تھے واٹر کورس ٹوٹنے سے اس پر پانی آنے سے راستہ بالکل خراب ہو چکا تھا۔ جس کی وجہ سے بس والوں نے آگے جانے سے صاف انکار کر دیا۔ آخر کار حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ تمام جماعت کے ساتھ پیدل روانہ ہوئے، گو صحت کے زمانے میں تین چار میل کا فاصلہ پیدل جانا آپ کے لئے کوئی بڑی بات نہ تھی، بلکہ پیدل چلنا فطرۃً آپ کو پسند تھا، لیکن اس وقت بڑھاپے اور کثیر عوارض کی وجہ سے اس کے متحمل نہیں تھے، پھر بھی ہم خادمین اس معاملہ میں ذرا پریشان ہوئے، لیکن آپ بخوشی منزل کی طرف روانہ ہوئے، تھوڑے ہی فاصلہ پر ایک مقامی باشندے سے ایک فقیر نے بائیسکل لے لی، اور حضور کو اس پر بیٹھنے کی عرض کی، حضور نے پہلے تو انکار کر دیا کہ ساتھیوں کے ساتھ پیدل چلتے ہیں سائیکل کی ضرورت نہیں۔ لیکن اس کے زیادہ اصرار کرنے پر سوار ہوئے اور وہ ہاتھ میں سائیکل لے کر چل رہا تھا، مگر وہ کنٹرول نہیں کر سکا۔ اس لئے آپ پھر بھی فقراء کے ساتھ پیدل چلتے رہے۔ تھوڑی ہی دیر بعد سورج غروب ہوا، قریب ہی چند خوش قسمت پنجابیوں کے گھر تھے، وضو کے لئے وہ پانی لے آئے، مسجد نہ ہونے کی وجہ سے ان کے کہنے کے مطابق گھر کے صحن میں باجماعت نماز ادا کی گئی، صاحب مکان کی باہمت صالحہ بیوی نے خاوند سے کہا کہ ایسے بزرگ ازخود جماعت سمیت ہمارے یہاں تشریف فرما ہوئے، ان سے عرض کریں کہ براہ کرم رات یہاں آرام کریں، ہم خوشی سے لنگر کا انتظام ابھی کرلیتے ہیں، مائی صاحبہ اور اس کے خاوند کے اخلاص اور خوشی کو دیکھ کر میں نے بن پوچھے کھڑے ہوکر اعلان کیا کہ رات ہو چکی ہے، ابھی کوئی دو میل کا فاصلہ باقی ہے، اس وقت حضور کو آگے چلنے کی تکلیف نہیں دی جاسکتی، تمام جماعت جلسے کے لئے مقررہ بستی جائے گی، حضور رات یہاں قیام کے بعد واپس جائیں گے۔ میرا یہ کہنا ہی تھا کہ حضور نے غصہ کے عالم میں فرمایا ”حاجی صاحب خاموش رہو، کچھ بھی ہو ہم ضرور جائیں گے، ہماری وجہ سے وہاں آدمی جمع ہوئے ہوں گے، ان بیچاروں نے جلسے کے انتظامات کئے ہوں گے“ بہرحال بعد میں صاحب دعوت حضرات ایک ٹریکٹر لے آئے جس پر سوار ہوکر حضور جلسہ گاہ تک پہنچے۔ واقعی ان فقیروں نے جلسے کے کافی انتظامات کئے ہوئے تھے، اور کافی آدمی وہاں پر منتظر تھے۔

دیگر مذاہب کے پیروں کو تبلیغ

فرمایا: ڈاکٹر محمد ابرہیم صاحب مرحوم نے بتایا تھا کہ آج کل پاکستان میں عیسائی مشینری بہت کام کر رہی ہے، انہوں نے اپنے مذاہب کی تبلیغ کے مقصد سے پاکستان میں کئی پرائیویٹ aسکول، کالج اور ہسپتال قائم کر رکھے ہیں، جہاں معمولی فیس لے کر بہتر تعلیم دی جاتی ہے۔ بڑی سوسائٹی کے لوگ شوق سے اپنے بچے ان کے یہاں داخل کراتے ہیں، اسی طرح ہسپتالوں میں مریضوں سے غیر معمولی ہمدردی کا اظہار کیا جاتا ہے، جس سے ان کا واحد مقصد یہ ہوتا ہے کہ طالب علم یا مریض اور ان کے متعلقین یا تو ہمارے حسن اخلاق سے متاثر ہوکر ہمارا مذہب اپنالیں گے، اگر اتنا اثر نہ ہوا پھر بھی کم از کم پکے سچے مسلمان تو نہ رہیں گے۔
خدارا ہم اور آپ بھی پانچ منٹ کے لئے عادل و منصف ہوکر سوچیں کہ غیر مذاہب کے پیرو اپنا گھر وطن چھوڑ کر ہمارے ملک میں آکر ہمیں گمراہ کرنے کی کوشش کریں اور ہم خاموش تماشائی بن کر بیٹھے رہیں، ہم نے اپنے مذہب کے لئے کیا قربانی دی ہے؟ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کے تبلیغی حرص کا ذکر کرتے ہوئے یہاں تک اللہ تعالیٰ نے فرمایا: باخع نفسک علی ان لا یکونوا مؤمنین۔ (شعرا۔ ۳) (شاید تو گھونٹ مارے اپنی جان اس بات پر کہ وہ یقین نہیں کرتے) ہم برحق نبی کے پیروکار، محمدی کہلانے والے گھر بیٹھ گئے۔ ہندو، عیسائی قادیانی، بہائی باطل فرقے ہمارے ملک میں تبلیغ کریں، کیا یہ ہماری کمزوری نہیں؟ کیا غیر مسلم اقوام میں جاکر مذہب حق کی تبلیغ کرنا ہمارا ذمہ نہیں ہے؟ کیا یہ بیٹھنے کا وقت ہے؟ یہ تھے پرتاثیر اور فکر انگیز ارشادات حضور شمس العارفین سوہنا سائیں نوراللہ مرقدہ کے، جن کی پوری زندگی اشاعت اسلام میں صرف ہوئی۔

گو حضور کے خلفاء کرام نے اندرون ملک نہایت جانفشانی سے غیر مسلم قوموں میں تبلیغی کام کیا، جس کے نتیجے میں کئی غیر مسلم حلقہ بگوش اسلام ہوئے، تاہم وسائل اور فعال کارکنوں کی کمی کے باعث آپ کی خواہش کے مطابق شریعت و طریقت کا یہ پیغام غیر مسلم ممالک میں کماحقہ نہ پہنچا (جزوی طور پر برطانیہ، امریکہ، کینیڈا وغیرہ میں حضور کے مریدین نے تبلیغی کام کیا جو ملازمت وغیرہ کے سلسلے میں وہاں گئے ہوئے تھے) البتہ اس عرصہ میں آپ نے فعال کارکنوں اور مخلص مبلغین کی جو معتدد بہ تعداد تیار کی ہے ان سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ حضرت قبلہ صاحبزادہ سجن سائیں مدظلہ کے فرمان سے ماضی قریب میں غیر مسلم ممالک میں بھی ملازمت، تجارت یا کسی اور طریقے سے جاکر وہاں کاروبار کے ساتھ تبلیغی کام بھی کریں گے، انشاء اللہ تعالیٰ۔

البتہ آپ کی بے لوث تبلیغی محنت اور آپ کے یہاں عملی طور پر دین اسلام کا صحیح نقشہ دیکھ کر خاصی تعداد میں اندرون ملک کے غیر مسلم، ہندو، عیسائی، کوکھی، بھیل، ماکھی، اور قادیانی حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ چنانچہ ضلع لاڑکانہ کے کاچھو کے علاقہ میں حضور کے پیارے خلفاء محترم مولانا فضل احمد صاحب اور مولانا مولوی امام علی صاحب و دیگر فقراء کی کوشش سے کئی قادیانی، جن میں ان کے سرگرم کارکن شامل ہیں تائب ہوکر دوبارہ دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے، سپر ہائی وے کے قریب محترم حاجی محمد رمضان گبول صاحب کی کوشش سے عیسائیوں کا ایک پورا خاندان حضرت الحاج مولانا محمد ادریس صاحب کے ہاتھ مسلمان ہوا، ضلع بدین کے دیہی علاقوں کے کئی غیر مسلم، کولھی، بھیل گھرانے محترم فقیر رحمۃ اللہ صاحب لیکچرار گورنمنٹ کالج بدین کی تبلیغی کوشش سے اپنے مذاہب چھوڑ کر حلقہ بگوش اسلام ہوئے، اسی طرح محترم خلیفہ مولانا عبدالغفور صاحب نے بتایا کہ میری کوشش سے ضلع سانگھڑ اور ضلع تھرپارکر کے آٹھ غیر مسلم (مالھی بھیل کرسچن وغیرہ) دین اسلام کی دولت سے سرفراز ہوئے، جبکہ اسلام کے زریں اصولوں سے متاثر ہونے والوں میں سے کھائی ضلع سانگھڑ کا کرشن نامی ایک ہندو مہاراجہ حضور سوہنا سائیں نوراللہ مرقدہ کی خدمت میں درگاہ طاہر آباد شریف حاضر ہوا، گو بدقسمتی سے مسلمان تو نہ ہوا مگر حضور کے یہاں دین اسلام کی عملی تصویر دیکھ کر اس قدر متاثر ہوا کہ حضور سے ذکر قلبی کا وظیفہ سیکھ کر رخصت ہوا۔

واضح رہے کہ حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ تبلیغ یا اشاعت اسلام کے سلسلہ میں اس قدر حریص تھے کہ جب محترم قبلہ خلیفہ سید جیئل شاہ صاحب جیلانی مدظلہ (جیکب آباد) نے بذریعہ خط حضور سے دریافت کیا کہ حضور بعض غیر مسلم افراد، دین اسلام کے احکام سے متاثر تو ہوتے ہیں، مگر اپنے مذہب کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہوتے، جب کہ وہ ذکر قلبی کا وظیفہ سیکھنے پر آمادہ ہیں، تو کیا اسلام لائے بغیر ان کو قلبی ذکر کا وظیفہ بتا دیا جائے؟ جواباً ارشاد فرمایا ”ایسی صورت میں ان کو ذکر سکھا دیا کریں، انشاء اللہ تعالیٰ، اللہ تعالیٰ کے ذکر کا یہ بابرکت وظیفہ اپنی تاثیر دکھا کر رہے گا۔“

اسی طرح چارسدہ پشاور سے آئے ہوئے خلیفہ قبلہ سید محمد اسماعیل شاہ صاحب کو بھی مورخہ ۷ صفر المظفر ۱۴۰۴ء ارشاد فرمایا: ”شاہ صاحب! اگر کوئی ہندو غیر مذہب کا آدمی بھی ذکر سیکھنا چاہے تو اس کو بھی محروم نہ لوٹانا چاہیے، اللہ تعالیٰ کو وہ بھی مانتے ہیں، اس لئے اس کے قلب پر انگلی کے اشارے سے اللہ، اللہ کے وظیفہ کی تعلیم دی جائے۔“

بعض خلفاء کرام اور مبلغین حضرات تبلیغ کرنے کے بعد ایسے افراد کو حضور کی خدمت میں لے آتے تھے تاکہ دین اسلام کی عملی صورت حال دیکھ کر اسے اسلام سے مزید لگاؤ اور محبت پیدا ہو، اور حضور کی دعا سے استقامت بھی نصیب ہو۔ چنانچہ ایک کرسچن، جس کا نام حضور نے مشورہ سے محمد علی تجویز فرمایا تھا اور مسلمان ہونے کے ساتھ اسی وقت حضور کے ہاتھ پر طریقہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت ہوا، واپسی پر اپنے رشتہ داروں کی ملامتوں اور طرح طرح کی سختیوں کے باوجود استقامت سے رہا اور فقراء کے مشورہ سے فوج میں بھرتی ہوگیا، فی الوقت راولپنڈی میں فوج میں ملازم ہے۔ اسی طرح حضور کے وصال سے صرف دو ماہ قبل ۶ محرم الحرام ۱۴۰۴ محترم مولانا دھنی بخش سکندری صاحب، مشتاق مسیح نامی ایک عیسائی کو تبلیغ و ترغیب کے بعد مسلمان ہونے کے لئے حضور کی خدمت میں لے آئے۔ کلمہ طیبہ پڑھانے اور اسلام کے احکام مجمل طور پر سمجھانے کے بعد حضور نے اور تمام جماعت نے اسے مبارکباد دی، حضور نے شریعت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام پر استقامت سے رہنے کی تلقین فرمائی، ذکر قلبی کا وظیفہ سمجھایا اور اس کا نام محمد مشتاق رکھا۔

بیرونی ممالک میں تبلیغ

حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کو شروع ہی سے یہ فکر اور شوق تھا کہ شریعت و طریقت کا یہ پیغام (یعنی حضور شافع یوم النشور صلّی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام، اہل بیت عظام رضی اللہ عنہم اور ماسلف علماء و مشائخ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم کے نقش قدم پر چلنا اور دوسروں کو یہی تعلیم دینا) پورے عالم میں پھیل جائے، اسی مقصد سے مبلغین کو انگریزی، عربی، فارسی، فرانسیسی و دیگر غیر ملکی زبانیں سیکھنے کی ترغیب دیا کرتے تھے۔ چونکہ بیرونی ممالک میں جاکر تبلیغ کرنا ایک بہت مشکل کام ہے، خاص کر ایک بے لوث غریب ادارہ و جماعت کے کسی فرد کے لئے جس میں سوال و چندہ کی بھی سختی سے ممانعت ہو، اس لئے آپ کے نزدیک اس کا واحد طریقہ یہی تھا کہ مبلغ حضرات تجارت یا ملازمت کے سلسلے میں کسی ملک چلے جائیں اور وہاں دنیاوی کاروبار کے ساتھ ساتھ فرصت کے اوقات میں دین اسلام کی اشاعت کے لئے کام کریں۔

چنانچہ اسی طریقہ کے مطابق کوئی ۱۶ برس پہلے مبلغین کا ایک مختصر سا قافلہ محترم جناب حاجی احمد حسن صاحب کی قیادت میں محض تبلیغ کے لئے متحدہ عرب امارات پہنچا۔ ظاہری مادی وسائل نہ ہونے کے برابر تھے، اس لئے اپنی حیثیت کے مطابق ہر ایک محنت مزدوری بھی کرتا اور موقعہ پاکر انفرادی تبلیغ بھی کرتا۔ کچھ عرصہ بعد محترم الحاج احمد حسن صاحب منتقل ہوکر مدینہ عالیہ زادھا اللہ شرفاً میں قیام پذیر ہوگئے (جن کا حجاز مقدس میں قیام کا اصل مقصد بیرونی لوگوں سے رابطہ قائم کرنا تھا اور حتی المقدور تبلیغ و اشاعت اسلام کرنا تھا، اسی وجہ سے حجاز مقدس جانے سے پہلے تبلیغ اسلام کے حوالہ سے حضور ان کی زیارت کے لئے فرماتے تھے) اور بقیہ ساتھی پاکستان چلے آئے، لیکن محترم حاجی رب نواز صاحب بڑی ہمت و جوانمردی سے اکیلے رہ کر تبلیغ کرتے رہے۔ جب کہ دیگر احباب کے ہوتے ہوئے مرکز بنانے کے لئے ایک پلاٹ حاصل کیا تھا اور سارے ساتھی مل کر رات کو مرکز میں کام کرتے رہے۔

غرضیکہ حاجی صاحب موصوف مسلسل دس سال تک دبئی، قصیص، عجمان وغیرہ میں تبلیغ کرتے رہے۔ حضور کی توجہات عالیہ اور نیم شبی دعاؤں کے صدقے عربی خواہ عجمی بڑی تعداد میں حاجی صاحب سے متاثر ہوئے، کئی ان کے ساتھ حضور کی زیارت کے لئے پاکستان بھی آئے۔ حاجی صاحب نسوار اور سگریٹ کے عادی لوگوں کو ادرک اور چھوٹی الائچی دم کرکے دیتے تھے۔ دیگر مریضوں کو تعویذ، دیتے یا دم کرتے، جس سے فوری فائدہ ہو جاتا، اور ان کی عقیدت و محبت میں بھی اضافہ ہوتا، غرضیکہ حاجی صاحب موصوف کے پاکستان منتقل ہوجانے کے بعد بھی ان کی محبت اور حضور سے تعلق بڑھتا ہی گیا۔ تبلیغی فائدہ اور غیر معمولی مقبولیت کے پیش نظر حضور نے محترم حاجی محمد صدیق صاحب اور محترم حاجی محمد اکرم صاحب کو عرب امارات میں تبلیغ کے لئے مامور فرمایا۔ الحمد للہ ان دونوں حضرات کی محنت اور کوشش بھی حاجی رب نواز صاحب سے کچھ کم نہ تھی، ان کی رات دن کی تبلیغی کوششوں سے حضور کی حیات مبارکہ میں ہی ہزاروں کی تعداد میں وہاں کے باشندے طریقہ عالیہ میں داخل ہوکر متقی و پرہیزگار بنے اور خاصی تعداد میں حضور کی خدمت میں بھی حاضر ہوتے رہے اور بڑے اصرار سے مذکور خلفاء کرام اور ان کے متعلقین نے عرب امارات کے تبلیغی دورہ کے لئے حضور کو عرض کی، یہاں تک کہ غالباً دسمبر ۱۹۸۲ء میں محترم محمد اقبال صاحب حضور اور آپ کے تین ساتھیوں (حضرت قبلہ صاحبزادہ مدظلہ، مولانا جان محمد صاحب اور مولانا محمد رمضان صاحب) کے لئے ویزے بھی لے آئے مگر اس وقت حضور کی صحت اتنے طویل سفر کی متحمل نہ تھی، آپ نے معذرت کرتے ہوئے ان کو فرمایا: آپ کی محبت اور تبلیغی مفاد کا اس عاجز کو بہت احساس اور قدر ہے، یہی نہیں بلکہ یہ میری دلی خواہش ہے کہ چار دن دین کی تبلیغ میں گزریں تو بہتر ہے، نہ معلوم زندگی کس قدر وفا کرے، مگر کیا کروں کافی عوارض ہیں جو سنانا دل گوارہ نہیں کرتا کہ کہیں بے صبری میں شمار نہ ہو۔ لہٰذا آپ مجھے معذور سمجھ کر چلنے کے لئے مجبور نہ کریں، میاں محمد طاہر (حضرت قبلہ صاحبزادہ سجن سائیں مدظلہ) اور دوسرے ساتھیوں (مولانا جان محمد صاحب اور مولانا محمد رمضان صاحب) کو لے جائیں، اصل مقصد دین کی تبلیغ ہے، جو بخوبی یہ حضرات انجام دے سکتے ہیں۔ بہرحال اس بار اقبال صاحب نے ویزے منسوخ کرائے تاکہ حضور کی صحت اچھی ہونے پر دوبارہ دعوت کے لئے حاضر ہوں گے۔ ۱۹۸۳ء میں پھر غالباً محترم محمد اقبال صاحب پروگرام لے کر حاضر ہوئے، مگر اس بار بھی کافی عوراض جسمانی کے پیش نظر آپ نے معذرت چاہی اور مذکور ساتھیوں کو ساتھ لے جانے کے لئے فرمایا۔ مزید فرمایا کہ مولوی محمد طاہر صاحب فارغ التحصیل عالم ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کو کافی صلاحیتیں عطا فرمائی ہیں، ان کو تبلیغ اور ذکر سمجھانے کی بھی اجازت ہے، حال ہی میں تبلیغ کے سلسلے میں ایک دو جگہ گئے تھے، اور کافی فائدہ ہوا، تاہم وہ اپنے عشق و مستی کی بنا پر پھر بھی بضد رہے کہ حضور تشریف لے چلیں۔ ہم ہر طرح کی سہولت کا انتظام کر سکتے ہیں۔ بیشک حضور تقریر وعظ نہ بھی فرمائیں، ہمارے لئے حضور کی زیارت ہی کافی ہے وغیرہ۔ بہرحال اس بار بھی اپنی محبت، صداقت اور حضور کی زیارت بابرکت کی امید رکھتے ہوئے انہوں نے پروگرام ملتوی کردیا۔ آخر حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے وصال کے بعد مورخہ ۶ شوال ۱۴۰۵ھ کو حضرت صاحبزادہ صاحب مدظلہ متحدہ عرب امارات کے تبلیغی دورے پر تشریف لے گئے اور مثالی تبلیغی فائدہ ہوا جس کا تفصیلی احوال ”الطاہر“ کی چند قسطوں میں شائع ہوچکا ہے۔ اسی طرح محترم خلیفہ حاجی محمد علی مری صاحب نے کئی سال تک شام اور عمان میں تبلیغ کی، اور فی الوقت مکہ مکرمہ میں قیام پذیر ہیں۔ انجینئر فقیر عبدالحمید منگی صاحب کئی سال تک عراق میں ملازمت کے ساتھ ساتھ انفرادی طور پر تبلیغ بھی کرتے رہے اور وہاں حضور کی کئی ایک کرامات کا بھی ظہور ہوا۔

عمرہ اور حج کے لئے حجاز مقدس جانے والے فقراء و خلفاء کو حرمین شریفین کے متعلق دیگر اہم نصائح کے علاوہ یہ بھی فرماتے تھے کہ حجاز مقدس میں پوری دنیا کے مسلمان آتے رہتے ہیں، آپ ان سے ملاقاتیں کرکے ان کے ممالک کے حالات اور وہاں جانے کے ذرائع اور طریقہ کار بھی معلوم کریں۔ ہو سکتا ہے کہ جس طرح شریعت و سنت کے اہم پیغام کی ابتداء حرمین شریفین سے ہوئی تھی اسی طرح اب بھی وہاں سے عالمگیر سطح پر تبلیغ اسلام کی راہیں کھلیں۔ اسی نوعیت کا خواب مؤرخہ ۱۷ جمادی الثانی ۱۴۰۲ھ کو تہجد کے وقت اس عاجز نے دیکھا اور محترم قبلہ جان محمد صاحب سے بیان بھی کیا تھا، وہ یہ کہ حضور شمس العارفین سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ سمیت بڑی تعداد میں جماعت کے خلفاء و فقراء کو روضۂ رسول مقبول صلّی اللہ علیہ وسلم کی حاضری نصیب ہوئی ہے۔ جبکہ ہزاروں کی تعداد میں پوری دنیا سے آئے ہوئے حاضرین بھی حضور کے گرد جمع ہیں، اور آپ گنبذ خضرا کی طرف رخ کئے ہوئے کچھ فاصلہ پر بڑے ادب سے آہستہ آہستہ وعظ فرما رہے ہیں، جسے حاضرین پوری توجہ اور انہماک سے سن رہے ہیں۔ اس کے علاوہ پوری دنیا کے ریڈیو اسٹیشن براہ راست مدینہ منورہ سے حضور کا خطاب نشر کر رہے ہیں۔

الحمدللہ حضور کی مستجاب و مقبول دعاؤں کے صدقے، حجاز مقدس میں بھی حضور کے پیارے خلیفہ عالم باعمل حضرت الحاج مولانا محمد ادریس صاحب کو اس قدر مقبولیت عامہ حاصل ہے کہ ہر سال دو سے چار ماہ تک حرمین شریفین قیام کے دوران روزانہ ایک دو مقامات پر خطاب کے لئے بلائے جاتے ہیں۔ سندھی اردو بولنے والے ایشیائی لوگوں کے علاوہ کئی عربی ترکی وغیرہ بھی آپ کی شخصیت، خطاب اور اس سے بڑھ کر عشق رسول صلّی اللہ علیہ وسلم کی بدولت بے حد متاثر ہیں۔ کئی غیر ملکیوں نے آپ سے قلبی ذکر کا وظیفہ بھی حاصل کیا ہے۔ بفضلہ تعالیٰ مولانا موصوف کو عربی میں تقریر و تحریر کا خاصہ عبور حاصل ہے۔ گو غیر مسلم ممالک میں حضور کی منشاء کے مطابق مستقل طور پر تبلیغ کے لئے آپ کے خلفاء کرام نہ جا سکے تاہم جزوی طور پر کچھ نہ کچھ کام ضرور ہوا ہے۔ چنانچہ بزرگان دین کے مزارات کی حاضری اورعرس میں شرکت کے سلسلے میں محترم خلیفہ مولانا عبدالغفور صاحب اور محترم قبلہ خلیفہ سید جیئل شاہ صاحب بھارت تشریف لے گئے اور وہاں کے مقامی لوگوں کو طریقہ عالیہ اور حضور کے درباروں کا تعارف کرایا تو وہ حیران ہوگئے کہ دور حاضر میں بھی کہیں ایسے اللہ والے موجود ہیں، جن کے یہاں شریعت مطہرہ کی پوری پابندی کی جاتی ہے۔ ان میں سے کئی افراد نے اپنے پتے دیئے اور پر زور اپیل کی کہ ہمارے یہاں آکر اس قسم کی تبلیغ کریں۔ اس کے علاوہ مختلف اوقات میں بیرون ممالک کے کئی اہل علم حضور کی خدمت میں آتے رہے۔ خاص کر اسلامک سینٹر کراچی میں زیر تعلیم مغربی ممالک کے طلبہ اور بعض فضلاء حضور کی زیارت بابرکت اور عملی طور پر اسلامی شریعت کا نفاذ دیکھ کر اس قدر متاثر ہوئے کہ وقفے وقفے سے اپنے دوسرے ساتھیوں کو بھی لے آتے تھے۔ ان میں سے محترم محمد عباس قاسم جو ڈربن جنوبی افریقہ کے باشندے تھے، مذکورہ ادارہ سے فراغت کے بعد جب اپنے وطن پہنچے تو وہاں سے حضور کی خدمت میں خط لکھا کہ میں حضور کے اصلاحی تبلیغی مشن سے اس قدر متاثر ہوا ہوں کہ آئندہ جب بھی پاکستان آنے کا پروگرام بنا سب سے پہلے حضور کے دربار عالیہ پر حاضر ہوں گا۔ یہ صاحب پہلے طریقہ عالیہ قادریہ کے کسی بزرگ سے بیعت تھے اور بعد میں حضور سے طریقہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت ہوئے تھے۔ دوسرے محترم صدیق احمد ناصر صاحب (گیانا ساؤتھ امریکہ کے) جن کو حضور سے والہانہ عقیدت و محبت تھی، جلدی جلدی حضور کی خدمت میں آتے اور کئی کئی دن صحبت میں رہتے۔ ان کی نیکی، تقویٰ، علمی لیاقت دین اسلام کی تبلیغ و اشاعت کا فکر دیکھ کر حضور نے ان کو خلافت بھی عطا فرمائی تاکہ امریکہ میں جاکر شریعت مطہرہ کے ساتھ ساتھ طریقہ عالیہ کی بھی اشاعت کا کام کر سکیں۔ اجازت طریقہ عالیہ کے وقت انہوں نے اپنے علاقہ کے ماحول کے مطابق حضور سے چند سوالات بھی کئے جو ہدیہ ناظرین کئے جاتے ہیں۔

س: حضور اگر کوئی شخص مثلاً ہندو ہے، وہ اسلامی تبلیغ اور طریقہ عالیہ سے متاثر ہوکر ذکر سیکھنا چاہتا ہے، مگر وہ مسلمان نہیں ہوتا تو اس کو ذکر سمجھایا جائے؟

ج: کیوں نہیں بالکل سمجھائیں۔

س: ذکر سیکھنے والے اگر قمیص اوپر کرنے میں عار محسوس کریں تو ان کو کس طرح سے ذکر سمجھایا جائے؟

ج: پہلے ان کو سمجھائیں کہ ذکر سیکھنے کا اصل طریقہ یہ ہے کہ قمیص اوپر کرکے قلب کے مقام پر انگلی کے اشارے سے ذکر کی تلقین کی جائے، پھر بھی اگر کوئی نہ مانے تو قمیص کے اوپر ہی انگلی رکھ کر ذکر سمجھائیں۔ بہرحال بہتر صورت تو پہلی ہے۔ البتہ مجبوری (مثلاً کثرت کے وقت) کے تحت تو زبانی طور پر بھی مردوں کو ذکر سمجھایا جاسکتا ہے، جس طرح عورتوں کو پردہ میں زبانی طور پر ذکر سمجھایا جاتا ہے۔ (مولانا جان محمد صاحب)

ان کے علاوہ ساؤتھ امریکہ کے علی مرتضیٰ صاحب، ماریشس جنوبی افریقہ کے عبداللہ ابراہیم صاحب، گھانا کے اسحاق عبداللہ صاحب بھی کئی ایک بار حضور کی خدمت میں درگاہ طاہر آباد شریف اور درگاہ اللہ آباد شریف حاضر ہوتے رہے۔ دربار عالیہ کا طریقہ کار دیکھ کر ازخود عمامہ خرید کر باندھنے لگے، مراقبہ میں بڑے شوق سے بیٹھتے تھے۔ حضور کے وعظ یا علماء کی تقاریر اور درس کے وقت مولانا انوار المصطفیٰ یا کوئی دوسرا ترجمانی کے فرائض انجام دیتا تھا، جب کہ محترم عباس قاسم صاحب اور محترم صدیق احمد ناصر صاحب اردو سمجھ اور بول سکتے تھے۔ وطن جانے کے بعد بھی ایک بار حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے، اللہ تعالیٰ ان کو مزید استقامت اور شریعت و طریقت کی اشاعت کی توفیق بخشے۔ آمین۔

محترم محمد عبداللہ کا ”بی بی سی“ لندن سے انٹرویو

حضور کی حیات مبارکہ میں جمعرات کے پروگرام میزان میں پروڈیوسر محمد غیور صاحب نے ان کا تفصیلی انٹرویو نشر کیا جو بہت سے پاکستانیوں نے سن کر دربار عالیہ سے محترم محمد عبداللہ کا تعارف چاہا۔

تفصیلی انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ میرا آبائی مذہب تو عیسائیت تھا مگر میں مذاہب عالم کے مطالعہ کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا کہ اسلام ہی برحق مذہب ہے، اس لئے میں مصر کے ایک حنفی بزرگ کے دست حق پرست پر مسلمان ہوا، اس کے بعد پاکستان میں ایک بزرگ کے ہاتھ پر طریقہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت کی، ان بزرگوں کے یہاں سختی سے شرعی احکام کی پابندی کرائی جاتی ہے۔ ان بزرگوں سے میں نے ذکر کا وظیفہ سیکھا اور ان کے حکم کے مطابق مراقبہ بھی کرتا ہوں، دوسرے لوگوں کو بھی ان کے فرمان کے مطابق تبلیغ کرتا ہوں، جس کے نتیجے میں بفضلہ تعالیٰ ایک سو تیس افراد آج تک حلقہ بگوش اسلام ہوئے ہیں، غیور صاحب کے پوچھنے پر انہوں نے بڑے منکے والی تسبیح (جیسا کہ دربار عالیہ پر مروج ہے) بجاکر سمجھایا کہ ہم چہرے پر کپڑا ڈال کر تسبیح کی کھٹ کھٹ کو دل سے لفظ ”اللہ، اللہ“ کا تصور کرتے ہیں، وغیرہ۔ اس کے بعد غیور صاحب نے عبداللہ صاحب کے ہاتھ پر مسلمان ہونے والے ایک مرد اور خاتون سے بھی انٹرویو کیا، جنہوں نے اسلام سے والہانہ محبت کا اظہار کیا۔

حضور کے وصال کے بعد بھی بیرونی ممالک بالخصوص امارات عربیہ متحدہ میں شریعت و طریقت کی تبلیغ و اشاعت کا مثالی کام ہوا ہے۔ حضرت قبلہ صاحبزادہ سجادہ نشین مدظلہ العالی بنفس نفیس دو بار عرب امارات کے دورے پر تشریف لے گئے اور ہر بار ہزاروں کی تعداد میں لوگ آپ کے دست حق پرست پر طریقہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت ہوئے۔