فہرست
سیرت ولی کامل (حصہ اول)

آپ کی نورانی مجالس

 

رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق، متبع کامل سیدی و مرشدی سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی نورانی مجالس کی ظاہری صورت بھی وہی ہوتی تھی جو آقائے دو جہاں صلّی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی مجالس کی ہیئت و صورت۔ چنانچہ کنز العمال صہ ۱۵۲ پر حضرت قرۃ بن ایاس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم مجلس میں تشریف فرما ہوتے تھے تو آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حلقہ بنا لیتے تھے۔

اسی طرح سیدی و مرشدی حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی مجلس ذکر و مراقبہ کے وقت گول دائرہ کی شکل میں بیٹھا جاتا تھا۔ عام مجلس وعظ و نصیحت کے وقت بھی وعظ سننے کے لئے قریب ہونے کے باوجود آپ کے سامنے سے کچھ جگہ خالی چھوڑ کر فقراء بیٹھا کرتے تھے (جیسا کہ فی الوقت بھی دربار عالیہ پر مروج و معمول ہے) چونکہ آپ پرانی قسم کے صوفی بزرگ نہیں تھے، بلکہ آپ قدیم و جدید کا مجموعہ تھے، اس لئے آپ کی مجالس میں صوفی، زاہد اور عالم بھی شریک ہوتے تھے، تو جدید تعلیم یافتہ افراد بھی جن میں افسران، کالجوں، یونیورسٹیوں کے طلبہ لیکچرارز اور پروفیسرز وغیرہ شامل ہوتے تھے اور سبھی یکساں مستفیض ہوتے تھے۔ یہی نہیں بلکہ مختلف قسم کے مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء و فضلا اور عوام الناس عقیدت و محبت سے آپ کی زیارت کرنے اور وعظ سننے، دعا کرانے کی نیت سے یا محض رسمی طور پر آتے تھے وہ بھی آپ کی للّٰہیت اور دینی فکر سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے تھے، جس کے نتیجے میں کئی ایسے افراد جو پہلے دوسرے مکاتب فکر کے سرکردہ کارکن اور مبلغ تھے، آپ کی زیارت اور مختصر وقت صحبت بابرکت میں رہنے سے یکسر بدل گئے، نہ پہلے کی خلاف شرع سیرت رہی نہ باطل عقائد و نظریات۔
عنوان و موضوعات: آپ کی مجالس میں توحید، ذِکر اللہ، عشق و محبت اور اتباع رسول خدا صلّی اللہ علیہ وسلم، صحابہ اور اہل بیت عظام رضی اللہ عنہم اور ماسلف بزرگان دین کے حالات واقعات تصوف و سلوک کے اسرار و رموز، دنیا کی حقیقت، آخرت کا بیان اور مناسبت سے تاریخی واقعات، نصیحت آموز لطیفے بھی پرلطف انداز میں بیان فرماتے تھے، خاص کر یہ کہ ایک مسلمان کی حیثیت سے ہمیں اپنی زندگی کس طرح گزارنی چاہیے، مسلمانوں کا سابقہ عروج اور دور حاضر میں پستی اور حالت زار، اس کے اسباب اور ان کے حل کی اصلاحی اسلامی تدبیروں کا بیان ہوتا تھا۔

ان کے علاوہ ملکی صورت حال، بیرونی حالات اور وقتی تقاضوں کے مطابق دیگر دنیاوی حالات اور معاملات کے متعلق بھی بے تکلف بات چیت فرماتے تھے۔ اور یہ بھی سنت رسول صلّی اللہ علیہ وسلم ہے۔ (دیکھئے شمائل نبوی صہ ۱۹۱)

خصوصیت: آپ کی مجالس کی یہ خصوصیت قابل ذکر ہے کہ نجی محفل ہوتی یا عام مجلس وعظ و نصیحت، چار چار، پانچ پانچ گھنٹوں کی طویل مجالس میں کبھی کسی کی غیبت نہ کی جاتی، اگر کوئی دوسرا آدمی اس قسم کی بات کرتا تو اسے روک کر کوئی دوسری بات کرنے کا حکم فرماتے تھے۔ تاہم بعض اوقات خاص کر پندرہ شعبان المعظم (شب برات) ۲۷ رمضان المبارک (لیلۃ القدر) کی رات اور عیدین کی صبح تمام جماعت سے معذرت خواہ ہوتے تھے کہ احتیاط کے باوجود شاید کبھی میں نے تمہاری غیبت کی ہو یا کسی اور طرح سے تمہیں تکلیف پہنچائی ہو تو معاف فرما دیں اور میرے متعلق اس قسم کی بات اگر کسی نے کی ہے تو میں نے اسے معاف کر دیا۔ (حقوق العباد اور معاملات میں ہمیشہ آپ کھرے رہے، کبھی پیری مریدی اور شیخی آپ کے سامنے نہیں آئی) اگر کسی کی اصلاح کی خاطر اس کے متعلق کوئی بات کرنا ہوتی تو بھی نجی محفل میں متعلقہ افراد سے رازداری کے انداز میں بیان فرماتے، اسی طرح خط و کتابت میں بھی بہت احتیاط سے کام لیتے تھے۔

اوقات مجالس: آپ کی مجالس کے روزانہ تین اوقات مقرر ہوتے تھے، صبح نماز فجر کے بعد ایک دو گھنٹہ، نماز ظہر کے بعد بھی عموماً ایک گھنٹہ، اور نماز عصر سے لے کر مغرب تک۔ روزانہ کے حاضرین میں مقامی فقراء و طلباء کے علاوہ بڑی تعداد میں بیرونی فقراء بھی شامل ہوتے تھے جن کی آمد و رفت کا سلسلہ پورا سال جاری رہتا تھا، ان اوقات میں حسب ضرورت کبھی خود وعظ فرماتے، نئے واردین کو ذکر کی تلقین فرماتے، یا کسی مبلغ کو وعظ یا تبلیغی احوال سنانے کے لئے کھڑا کرتے تھے یا تبلیغی خط سنتے تھے۔

پرتاثیر خطاب: آپ کسی تصنع و تکلف کے بغیر نہایت سلیس سندھی یا اردو میں حقوق اللہ، حقوق العباد اور امر و نہی کے متعلق وعظ فرماتے تھے۔ باوجودیکہ آپ بڑے عالم تھے، لیکن کبھی اپنا سکہ بٹھانے کے لئے علمی نکات چرب زبانی اختیار نہ کی، نہ ہی کسی مسلک و مذہب کو تنقید کا نشانہ بنایا، باوجودیکہ آپ بڑے پیر بھی تھے، لیکن آپ کے وعظ میں تاثیر کے علاوہ شیخی اور بزرگی کا نشان تک نظر نہ آتا تھا۔

دوران تقریر قرآن و حدیث کے علاوہ بزرگان دین کے حالات، تاریخی واقعات اور حکایات اس قدر شوق و ذوق اور پرتاثیر انداز میں بیان فرماتے تھے کہ سامعین کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے تھے، بلکہ بعض اوقات سامعین کے علاوہ خود آپ پر بھی رقت و گریہ کی حالت طاری ہوجاتی۔ خاص کر جب سالانہ اجتماعات کے موقعہ پر امت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کی موجودہ حالت زار بیان فرما کر کبھی باد صبا کے ذریعے بارگاہ رسالت مآب صلّی اللہ علیہ وسلم میں دست بسۃ التجا فرماتے اور کبھی سراپا مجسمۂ ادب و احترام بن کر براہ راست آقا و مولیٰ صلّی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کرتے:

”اے میرے آقا، اے میرے مولیٰ، اے شہنشاہوں کے شہنشاہ یہ عاجز پیر نہیں، فقیر نہیں، بزرگ نہیں، نفسانی خواہشات کا غلبہ ہے، شیطان نے تباہ و برباد کیا ہے، حال یہ ہے کہ آقا! آپ سے دوری ہے، مہجوری ہے، تیرے سوا کوئی نہیں، بس آپ ہی کا سہارا ہے، آپ ہی کی نظر کرم کے خواہاں ہیں۔“

یہ الفاظ فرما کر پرسوز و گداز انداز میں حضرت جامی قدس سرہ السامی کے یہ روح پرور اشعار پڑھتے تھے:

نسیما جانبِ بطحا گذر کن
ز احوالم محمّد را خبر کن

بسے اندر عذابم یا محمّد
علاجِ غم ندارم یا محمّد

بہ بر ایں جانِ مشتاقم بہ آنجا
فدائے روضۂ خیر البشر کن

توئی سلطانِ عالم یا محمّد
ز روئے لطف سوئے من نظر کن

بروں آور سراز بردِ یمانی
ز روئے تست صبحِ زندگانی

ز مہجوری برآمد جانِ عالم
ترحَّم یا نبی اللہ ترحَّم

سالانہ جلسہ ۱۱ ذی قعدہ ۱۳۹۷ھ میں فقیر پور شریف میں کرسی پر بیٹھے تقریر فرماتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے اور خلاف معمول سامعین کی طرف پیٹھ کرکے قبلہ رو ہوکر جس وارفتگی و کیف و مستی کے عالم میں مذکورہ اشعار پڑھ رہے تھے، یوں محسوس ہو رہا تھا کہ گویا بارگاہ رسالت مآب صلّی اللہ علیہ وسلم میں روبرو حاضر با ادب کھڑے ہونے پر اپنے دل کی ترجمانی کر رہے ہیں۔ جس رقت آمیز اور ولولہ انگیز لہجہ میں دل کی گہرائیوں سے بار بار آپ یہ اشعار دہراتے رہے وہ عجیب و غریب روح پرور لمحہ دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ آج بھی معمولی تصور کرنے پر آپ کے ملفوظات کی یک گونہ لذت و حلاوت کانوں میں محفوظ محسوس ہوتی ہے۔ اور کبھی حالی کے یہ اشعار پڑھ کر تڑپتے اور تڑپاتے تھے:

اے خاصۂ خاصانِ رسل وقت دعا ہے
امت پہ تیری آ کے عجب وقت پڑا ہے

جو دین بڑی شان سے نکلا تھا وطن سے
پردیس میں وہ آج غریب الغربا ہے

جس دین کے مدعو تھے کبھی قیصر و کسریٰ
خود آج وہ مہمان سرائے فقراء ہے

فریاد ہے اے کشتی امت کے نگہبان
بیڑا یہ تباہی کے قریب آن لگا ہے

ہم نیک ہیں یا بد ہیں پھر آخر ہیں تمہارے
نسبت بہت اچھی ہے گر حال بُرا ہے

 

رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے
وہ دل وہ آرزو باقی نہیں ہے

صفیں کج، دل پریشان سجدہ بے ذوق
کہ جذبِ اندروں باقی نہیں ہے

بخدا اس وقت ارشاد رسول صلّی اللہ علیہ وسلم: ”جو لوگ مل بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں ان کو فرشتے گھیر لیتے ہیں، رحمت الٰہی ڈھانپ لیتی ہے، اطمینان نازل ہوتا ہے اور اپنے پاس موجودہ مخلوق میں اللہ تعالیٰ ان کو یاد فرماتا ہے“ (یعنی مقرب فرشتوں یا ارواح انبیاء علیہم السلام میں) کے مطابق راحت و سکون کی صورت میں رحمت خداوندی کا بے پایاں نزول محسوس ہوتا تھا اور بڑی تعداد میں اہل ذکر سامعین پر وجد و جذب کی غیر اختیاری حالت طاری ہو جاتی، کئی مرغ بسمل کی طرح تڑپتے، ادھر ادھر بھاگتے، زمین پر گرتے نظر آتے جس سے عین الیقین کے طور پر ”اذا ذکر اللہ وجلت قلوبھم“ (جب اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں) کا مفہوم سمجھ میں آجاتا تھا۔ کئی مجذوب فقراء پر مشائخ کرام کی ارواح کا نزول ہوتا تھا اور وہ بے ساخۃ کہتے فلاں بزرگ تشریف لائے ہیں، یہ دیکھو فلاں بزرگ تشریف لا رہے ہیں وغیرہ۔

اے غلاموں کا لہو گرمانے والے الوداع
آگ سی الفاظ میں برسانے والے الوداع

خود تڑپ کر بزم کو تڑپانے والے الوداع
اے جگا کر ملک کو سو جانے والے الوداع

الحمدللہ آج بھی حضرت قبلہ صاحبزادہ مدظلہ کی بابرکت مجالس سے وہی سکون وہی تاثیر حاصل ہوتی ہے۔ آپ عام واعظ حضرات سے ہٹ کر از حد محتاط رہتے تھے، جو بات بھی بیان فرماتے وہ کسی مستند کتاب یا کسی مستند عالم کے حوالے سے بیان فرماتے یہاں تک کہ اگر کوئی واقعہ تو یاد ہوتا مگر واقعہ نگار کا نام یاد نہ ہوتا تو اس کی بھی تصریح فرما دیتے اور کبھی ماسلف کے دینی خدمات اور موجودہ غفلت و سستی بیان فرما کر حاضرین سے اشاعت اسلام کے لئے اٹھ کھڑے ہونے کا عہد لیتے اور اس کے لئے ہاتھ اٹھانے کا فرماتے، تو چاروں طرف سے حاضر سائیں، وعدہ سائیں کی گونج کے ساتھ بیک وقت ہزاروں ہاتھ بلند ہو جاتے۔ کئی مرتبہ فرمایا صرف ہاتھ اٹھانے اور جی حضور کرنے سے تو کچھ نہیں بنتا، جو دین اسلام کے لئے نکلنا چاہتے ہیں اپنے نام لکھوائیں، اس وقت چند دن، چند ماہ و سال سے لے کر بعض فقراء تو اپنی پوری زندگی اشاعت اسلام کے لئے وقف کرنے کا اعلان کرتے تھے۔ آج بفضلہ تعالیٰ جماعت اصلاح المسلمین کی جملہ برانچیں جس ہمت و جوانمردی اور جانفشانی مصروف عمل ہیں، یہ سبھی حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی حسن تربیت اور نظر کرم کا کرشمہ اور جیتی جاگتی تصویر ہے۔ اللہم زد فزد۔

محویت: وعظ و نصیحت میں بعض اوقات اس قدر محو ہو جاتے تھے کہ اپنے جسم و جان بلکہ دنیا و مافیہا سے بع تعلق ہوجاتے۔ کئی عوارض اور ڈاکٹروں کے منع کرنے کے باوجود مسلسل کئی کئی گھنٹے تقریر فرماتے تھے۔ ۱۹۷۳ء کی بیماری اور مسلسل تین بار آپریشن کے بعد تقریر کرنے سے دماغ پر منفی اثر پڑتا تھا اور عموماً جب بھی آپ باہر تشریف لاتے کوئی نہ کوئی نیا آدمی ذکر پوچھنے آیا ہوتا یا ویسے ہی آپ فقراء کو وعظ و نصیحت فرماتے رہتے تھے، جس کی وجہ سے آپ کے مخلص دوست اور معالج خصوصی ڈاکٹر عبداللہ فاضلی کشمیری (جناح ہسپتال کراچی) نے یہ تجویز پیش کی کہ حضور گھر پر ہی چند فقیروں کو بلا کر نماز باجماعت ادا کریں، مسجد شریف میں آنا ترک کر دیں، آپ کی طبیعت مزید تکلیف کی متحمل نہیں ہے۔ مگر جس کے روح کی غذا ذکر خدا اور اوڑھنا بچھونا تبلیغ و اشاعت اسلام ہو، وہ کہاں پابند رہ سکتے ہیں۔

بہرحال اس کے بعد عموماً احتیاط کرتے ہوئے پہلے سے بہت کم وعظ فرماتے تھے۔ تاہم بعض اوقات ایک گھنٹہ سے بھی زیادہ وعظ فرماتے تھے۔ (اس سے قبل کبھی تین تین گھنٹہ تک مسلسل وعظ فرماتے تھے) جس کی وجہ سے خلفاء کرام جاکر ادب سے عرض کرتے:

”حضور نصیحت کافی ہو چکی ہے“۔ تاہم مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ”جی ہاں“ فرما کر پھر وعظ کرنے شروع ہو جاتے۔

پانی پینا: دوران تقریر اگر پانی پینے کی حاجت ہوتی تو پانی ہاتھ میں لے کر پانی پینے کا مسنون طریقہ سمجھاتے، اس کے بعد مسنون طریقہ کے مطابق تین سانس میں پانی پیتے اور ہر بار پانی کا برتن منہ سے کافی دور کرتے اور سمجھاتے کہ پانی کا برتن دونوں ہاتھ میں لیں یا کم از کم دائیں ہاتھ میں لے کر پانی پیو۔ ہر بار برتن منہ سے دور کرو مسنون دعا پڑھو، اس سے تمہاری پیاس بھی ختم ہوگی، اور عنداللہ اجر و ثواب کے مستحق بھی بن جاؤ گے۔

درس: آپ کی مجالس میں مستقل طور پر تو کسی درس کا اہتمام نہیں ہوتا تھا، البتہ اگر زیادہ آدمی آجاتے تو صبح کی مجلس میں حسب فرمان یہ عاجز صحبت صالحین، ذکر اللہ یا کسی اور موضوع پر درس قرآن مجید بیان کرتا اور محترم مولانا محمد سعید صاحب درس حدیث اور محترم مولانا عبدالرحمن صاحب فتح الربانی یا مکتوبات امام ربانی رحمۃ اللہ علیہ سے درس بیان فرماتے تھے، اسی طرح ماہانہ اور سالانہ جلسوں کے موقعوں پر بھی حضرت صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے نورانی خطاب کے بعد عموماً مذکورہ درس ہو تے تھے۔

آپ ان میں سے ہر ایک درس کو بغور سنتے تھے، خواہ کتنی بار پہلے بھی وہی درس بیان کیا جا چکا ہوتا، خاص کر درس قرآن کے وقت تو دو زانو ہوکر انتہائی ادب سے متوجہ ہوکر بیٹھتے تھے اور دوسروں کو بھی باادب متوجہ ہوکر بیٹھنے کا فرماتے تھے، اور مدرس کے لئے مصلیٰ یا کپڑا وغیرہ بچھایا جاتا تھا۔ آخر میں ہر درس کی مناسبت سے تائیدی تبصرہ اور مزید وضاحت بھی بیان فرماتے تھے۔ آپ کی حیات ظاہری کے آخری ۲۷ صفر کے ماہانہ جلسہ پر بھی آپ کے فرمان سے اس عاجز سیہ کار نے حضور کے نورانی خطاب کے بعد درس قرآن مجید بیان کیا تھا۔

تمام اہل مجلس آپ کی نظر میں یکساں ہوتے تھے، عملی طور پر آپ کے یہاں امیر و غریب، خلیفہ و فقیر، مقیم و مسافر کی کوئی اصطلاح نہ تھی۔

تبلیغی خط: خلفاء کرام و دیگر مبلغین حضرات اور دعا کرانے والوں کی طرف سے پانچ، سات سے لے کر پندرہ، سولہ تک خط روزانہ آتے تھے۔ شاید ہی کوئی ایسا دن ہو جس میں کوئی نیا تبلیغی خط نہ آیا ہوتا، اور تمام کے تمام تبلیغی خط بڑی دلچسپی اور شوق سے متوجہ ہوکر سنتے تھے۔ اگرچہ ان میں سے دور سے آئے ہوئے خط اکثر و بیشتر آپ پہلے خود پڑھتے، دوبارہ جماعت کو سنانے کے لئے مجلس میں لے آتے تھے، تبلیغ و اشاعت اسلام کے سلسلے میں کوئی نئی بات تحریر ہوتی۔ مثلاً یہ کہ اتنے بے نمازی ہماری کوشش سے نماز روزہ کے پابند ہوگئے، یا منشیات کے عادی آدمیوں نے توبہ کی وغیرہ۔ تو اس پر اور خوش ہوکر مناسبت سے سبحان اللہ، الحمد للہ، بیشک وغیرہ فرماتے۔ بعض اوقات دوبارہ سہ بارہ وہی جملہ دہرانے کا حکم فرماتے اور کبھی خود ہی وہ جملہ دہرا کر سامعین کو احساس دلاتے، شام کی مجلس میں عموماً روزانہ تبلیغی خط پڑھے جاتے جب کہ کسی سفر یا عذر کی وجہ سے بکثرت تبلیغی خط رہ جاتے یا مثلاً رمضان المبارک میں بیس پچیس تک روزانہ خط آتے تو صبح کی مجلس میں اور ظہر کی مجلس میں بھی تبلیغی خط سماعت فرماتے تھے۔ اگر آپ کی پسند کے مطابق بہتر تبلیغی مواد کا کوئی خط ہوتا اور اس وقت سامعین کم ہوتے تو دو تین مجالس میں وہی خط پڑھنے کا ارشاد فرماتے، اور اس کے سننے کے لئے فقراء و طلبہ کے علاوہ خواتین کو بھی سننے کا حکم فرماتے تھے۔ اگر مدرسہ یا طلبہ کے مناسب حال کوئی خاص بات ہوتی تو وہ خط اساتذہ کو دیتے تاکہ اسمبلی میں تمام طلبہ کو سنایا جائے۔ محترم خلیفہ حاجی محمد صدیق صاحب بروہی کا جب حیران کن حد تک کامیاب تبلیغی احوال پر مشتمل خط دوبئی سے آیا تو ایک دو مرتبہ جماعت میں سنانے کے بعد اس عاجز کو فرمایا، اس کا فوٹو اسٹیٹ بنواکر رکھیں تاکہ اگر خدانخواستہ اصل گم ہو جائے تو عکس موجود رہے۔
بعض حریص مبلغ حضرات پچیس چھبیس صفحات پر مشتمل طویل تبلیغی خط بھی بھیجتے تھے، پھر بھی آپ بیزار ہونے کی بجائے بڑی محبت اور لگن سے سنتے تھے بلکہ جن کے تبلیغی احوال کے خط زیادہ آتے ان پر اور بھی زیادہ خوش ہوتے اور ہر خط سننے کے بعد عموماً اس مبلغ کی محنت و کوشش کی تعریف فرما کر اس کے لئے دعا فرماتے تھے اور ان ہی دعاؤں کے متعلق رسول خدا صلّی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دعوۃ المرء المسلم لاخیہ بظھر الغیب مستجابۃ عند رأسہ ملک موکل کلما دعا لاخیہ بخیر قال الملک الموکل بہ اسین ولک بمثل (رواہ مسلم، مشکوٰۃ المصابیح صہ ۱۹۴)

اور جو خط لکھنے میں سستی و کوتاہی کرتا اس کو خط لکھنے کے لئے تاکید فرماتے، بعض اوقات خلفاء و فقراء کو احساس دلاتے ہوئے فرماتے کہ جو کچھ آپ تبلیغی کام کریں اگر بالمشافہ آکر احوال سنانے کا موقع نہیں ملتا، بلکہ جو روبرو آتے ہوں وہ بھی تحریری طور پر تبلیغی احوال بھیجتے رہیں، تمہاری یہ محنت رائیگاں نہیں جائے گی، بلکہ یہ خط محفوظ رکھے جائیں گے، تمام اہل ذکر سن کر آپ کے دین و دنیا کی بھلائی کے لئے دعا مانگیں گے، کتنا بڑا فائدہ ہے، اس کے مقابلے میں چالیس پیسے کا لفافہ کوئی بڑی بات نہیں، ویسے بھی خط کو نصف ملاقات کہا جاتا ہے، اس سے ایک دوسرے کی یاد تازہ ہوتی ہے۔

کسی بزرگ سے ایک مرید نے جاتے وقت عرض کی یا حضرت مجھے اپنی دعاؤں میں یاد رکھا کریں۔ انہوں نے فرمایا کوئی ایسی چیز رکھ کر جائیں جس کو دیکھنے سے تمہاری یاد آتی رہے۔ وہ مرید گیا اور لوٹا خرید کر لے آیا، بزرگ کی خدمت میں پیش کیا، اگرچہ اس بزرگ کو اس کے لوٹے کی کوئی ضرورت نہ تھی، مگر یاد دہانی کے لئے لوٹا رکھ لیا، ہم تو لوٹا دے جانے کا بھی نہیں کہتے، پھر بھی خط لکھنے میں سستی کرتے ہو۔

محترم خلیفہ مولانا محمد رمضان صاحب (فیصل آباد) جو پنجاب کے علاوہ آزاد کشمیر تک تبلیغی سلسلے میں جاتے رہے ہیں، بڑے مخلص اور متوکل آدمی ہیں، وہ خط کے آخر میں عموماً لکھتے تھے کہ خط کافی لمبا ہوگیا ہے، ممکن ہے پڑھتے وقت حضور کو تکلیف ہو، اس لئے معافی کا خواستگار ہوں وغیرہ۔ بالمشافہ دربار عالیہ پر حاضر ہونے پر ان کو فرمایا ”زیادہ سے زیادہ خط لکھا کرو، یہ بھی نہ لکھو کہ خط اتنا طویل ہوگیا ہے وغیرہ۔ خط خواہ کتنا ہی طویل ہو، ہمیں خوشی ہوگی“ اسی طرح ایک مرتبہ آپ دربار سے متصل باغ سے سیر و تفریح کے بعد واپس ہوئے، پنجاب سے آئے ہوئے خلفاء کرام مولانا ریاست علی صاحب اور محترم مولانا اللہ یار صاحب کو دیکھ کر ان کے پاس گئے، اور مولانا اللہ یار صاحب سے فرمایا: آپ خط لکھنے میں کیوں سستی کرتے ہیں، تبلیغ کا احوال ضرور لکھا کریں۔ جس پر انہوں نے کہا، حضور ان پڑھ آدمی ہوں، ڈرتا ہوں کہ خط لکھنے میں کوئی غلطی یا بے ادبی نہ ہو جائے، ورنہ تبلیغ تو بہت کرتا ہوں، سن کر فرمایا: ”آپ کی غلطی معاف، بے ادبی معاف، خط ضرور لکھا کریں۔“

کافی عرصہ تک تبلیغی خط بذات خود جماعت میں پڑھ کر سنایا کرتے تھے اور جواب بھی خود ہی تحریر کیا کرتے تھے بلکہ خط آئے بغیر رشتہ داروں، دوستوں اور فقیروں کے نام پند و نصیحت کے خط خود ہی بھیجا کرتے تھے اور بعض اوقات محترم مولانا جان محمد صاحب، مولانا عبدالرحمن صاحب یا کسی دوسرے کو خط پڑھنے یا جواب لکھنے کا امر فرماتے تھے۔
البتہ صحت کمزور پڑ جانے پر، بالخصوص آنکھ کے آپریشن کے بعد اکثر و بیشتر خط پڑھنے اور آپ کی طرف سے جواب دینے کی سعادت اس عاجز و گنہگار کو حاصل رہی، جسے میں اپنی بے مایہ زندگی کا عظیم سرمایہ سمجھتے ہوئے بارگاہ الٰہی میں سربسجود ہوں، الحمد للہ والمنۃ (جب کہ ان برسوں میں بھی کبھی محترم مولانا جان محمد صاحب و محترم مولانا عبدالرحمن صاحب، مولانا محمد اسماعیل صاحب، مولانا مشتاق احمد صاحب شر، مولانا مشتاق احمد صاحب پنجابی، مولانا محمد سعید صاحب و مولانا رحمت اللہ صاحب اور دیگر احباب کو بھی یہ سعادت حاصل ہوئی ہے) عموماً آپ اس عاجز کو زبانی جواب سمجھا دیتے تھے۔ یہ عاجز خط لکھ کر بھیج دیتا اور اگر کوئی ضروری احوال ہوتا تو لکھ کر آپ کی خدمت میں پیش کرتا، پسند فرما کر دستخط کرتے، بعض اوقات مختصر نوٹ لکھتے، کبھی کبھی تو میرے مضمون کے مساوی بلکہ اس سے بھی زیادہ خود تحریر فرماتے تھے۔ آخری ایام میں خطوں کی بھی بہتات تھی، روزانہ کئی ایک جواب طلب خط بھی ہوتے تھے، یہاں تک کہ ایک ہی دن میں اس عاجز نے حسب حکم ۲۰، ۲۲ خط بھی ارسال کئے تھے۔

رمضان المبارک میں دوسرے مہینوں کی بہ نسبت تبلیغی کام بہت زیادہ ہوتا تھا اور تبلیغی خط بھی اتنے ہی زیادہ آتے تھے۔ ۱۴۰۲ھ کے رمضان المبارک کے بعد میں نے اپنے پاس موجودہ تبلیغی خط لفافوں کے بغیر وزن کئے تو ان کا وزن گیارہ سو چالیس گرام بنا، جب کہ حضور کے پاس نہ معلوم کتنے خط ابھی باقی تھے جو بعد میں بتدریج باہر لے آئے اور جماعت میں پڑھے گئے۔

آج بھی آپ کے زمانہ اقدس کے اصلاحی تبلیغی احوال پر مشتمل کئی ہزار خطوط کا وافر ذخیرہ موجود ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان میں سے اہم تبلیغی خط منتخب کرکے علاقہ وار ترتیب دے کر شائع کئے جائیں۔

آخری خط: گو آخری چند برسوں میں آپ نہ تو زیادہ خط لکھتے تھے، نہ ہی مجلس میں پڑھ کر سنانے کا معمول تھا تاہم بعض مبلغین کی دلجوئی کے پیش نظر کبھی کبھی خود ہی جواب تحریر فرماتے تھے، اسی طرح تبلیغی احوال سے دلچسپی اور حرص کی وجہ سے بعض اوقات خط پڑھ کر سناتے بھی تھے۔ اسی قسم کا ایک خط ۱۹۸۲ء میں آپ نے صبح کی مجلس میں پڑھ کر سنایا، جسے اس عاجز نے یادگار کے طور پر ٹیپ ریکارڈ میں محفوظ کر لیا۔
آپ اپنی حیات ظاہری کی آخری مجلس بعد از نماز عصر ۵ ربیع الاول شریف ۱۴۰۴ھ میں بھی تبلیغی احوال کے خط سنتے رہے۔ آخر میں یہ عاجز محترم ماسٹر ذوالفقار علی صاحب کا طویل خط پڑھ رہا تھا کہ آپ نے فرمایا، بقیہ خط بعد میں سنیں گے، فی الحال یہ آدمی (ایک مرد ایک عورت) ذکر سیکھ لیں۔ بالاخر چند دن کے وقفہ سے حضرت قبلہ سیدی سجن سائیں مدظلہ کے روبرو پرنم آنکھوں سے خط کا بقیہ حصہ پڑھ کر پورا کیا۔ بفضلہ تعالیٰ خط و کتابت کا وہی دستور العمل آج بھی جاری و ساری ہے۔