فہرست
سیرت ولی کامل (حصہ اول)

بیعت کا طریقہ

 

حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کا مریدین سے بیعت لینے کا طریقہ بھی بالکل سادہ اور ازحد بابرکت تھا، آپ نہ کسی سے نام پوچھتے نہ قومیت اور نہ وطنیت، بلکہ جب کبھی کوئی نیا آدمی بیعت ہونے کے لئے حاضر ہوتا، تو آپ کسی تکلف یا خصوصی اہتمام کے بغیر عام جماعت میں اپنے مشائخ طریقت کے مروجہ اصول کے تحت شریعت و سنت کے عین مطابق اسے دوزانو بیٹھنے کا حکم فرماتے، اور خود بھی دوزانو ہوکر مصافحہ کے طریقہ پر اپنے دونوں ہاتھ اس کے ہاتھ میں دیتے اور ٹھہر ٹھہر کر ایمان مجمل، کلمہ تشہد اور استغفار پڑھتے اور وہ بھی آپ کے ساتھ پڑھتا جاتا تھا، آخر میں دعاء خیر فرماکر مقام قلب پر انگلی رکھ کر دل سے ”اللہ، اللہ، اللہ“ کے تصور کی تلقین فرماتے تھے، جب کہ بعض اوقات صرف قلب پر انگلی رکھنے پر اکتفا کرتے، جب کہ سالانہ جلسہ یا دوسرے اجتماع کے موقعوں پر ہاتھ ملانا خواہ ہر ایک کے قلب پر انگلی رکھنا ازحد دشوار ہوتا تھا، اس لئے ایسی صورت میں حضور اپنے ہاتھ میں کپڑا لے لیتے، قریب بیٹھے ہوئے افراد بھی کپڑا ہاتھ میں لے لیتے، جب کہ ان کے پیچھے بیٹھے ہوئے افراد ان کی پیٹھوں پر ہاتھ رکھتے۔ اسی طرح بیک وقت ہزاروں افراد آپ کے دست حق پرست پر بیعت ہوتے۔ اس کے بعد چند افراد کے قلب پر انگلی رکھ کر ذکر کرنے کا طریقہ سمجھا دیتے تھے۔ ہر ایک ذکر سیکھنے والے کو نماز باجماعت، مسواک، داڑھی، قبضہ برابر رکھنے اور نیک صحبت اختیار کرنے کی خصوصی تاکید فرماتے تھے۔ جب کہ باقاعدگی سے ذکر و شغل جاری رکھنے کے اہل افراد کو دو تسبیح درود شریف، دو تسبیح کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ متوسط آواز سے اور ہر تسبیح کے آخر میں محمد رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم تک پورا کلمہ پڑھنے اور دو تسبیح استغفار پڑھنے کا بھی حکم فرماتے تھے۔
اس کے علاوہ امور شرعیہ کے اہتمام اور پابندی کے لئے سنت رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کے مطابق بعض اوقات خصوصی طور پر بھی بیعت لیتے تھے، جس طرح رسول صلّی اللہ علیہ وسلم نے محبت، اطاعت اور غزوات کے لئے کئی بار صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بیعت لی تھی (کنز العمال صہ ۳۳۶ ج ا)۔ پرانے مخلص مریدین خلفاء اور مدرسہ کے اساتذہ اور طلبہ سے ہی خصوصی طور پر بیعت لیتے تھے۔

مستورات کی بیعت کا طریقہ

جیسا کہ گذشۃ اوراق میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے کہ حضور شمس العارفین سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ مروجہ رسمی پیری مریدی سے ہٹ کر متبع شریعت قرآن و سنت کے تابع بزرگ تھے۔ اس لئے آپ کے یہاں مستورات کی بیعت کا طریقہ بھی وہی مروج تھا جو آج سے چودہ سو برس پہلے بانی اسلام حضرت محمّد مصطفیٰ صلّی اللہ علیہ وسلم نے رائج فرمایا تھا۔ یعنی مردوں کو ہاتھ میں ہاتھ دے کر بیعت کرنا اور عورتوں کو زبانی طور پر احکام بتا دینا۔
چنانچہ امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم سے اپنی بیعت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ”میں دوسری عورتوں کے ساتھ حضور پرنور صلّی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیعت ہونے کے لئے حاضر ہوئی، عورتوں نے عرض کی یا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم اپنا ہاتھ مبارک آگے بڑھائیں، ہم آپ سے بیعت کرلیں، پس فرمایا میں (بیعت لیتے وقت) عورتوں سے ہاتھ نہیں ملاتا، لیکن تم سے (شرعی احکام پر عمل کرنے کا) عہد لیتا ہوں، پس آپ نے عہد لیا، یہاں تک کہ ولا یعصینک الایۃ (اور آپ کی نافرمانی نہیں کریں گی) تک آیت مبارک پڑھی اور حضرت عقیلہ بنت عبید رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت میں ولا اسس ایدی النساء (کہ میں عورتوں کے ہاتھ نہیں چھوتا) کے الفاظ درج ہیں۔

حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ ہمیشہ پس پردہ عورتوں کو ذکر کی تلقین کیا کرتے تھے اور اپنے جملہ خلفاء کرام کو بھی اس بات کا پابند بنا لیا تھا (جو اب بھی سختی سے اس پر کاربند ہیں) کہ کسی عورت کو بالمشافہ نہ بیعت کریں نہ نصیحت بلکہ لاؤڈ اسپیکر پر یا اگر اسپیکر نہ ہو تو بھی درمیان میں کوئی دیوار وغیرہ حائل ہو تب غیر محرم عورتوں کو بیعت یا نصیحت کریں۔ الحمد للہ آپ کے اتباع شریعت و طریقت کے صدقے مردوں کی طرح لاکھوں عورتوں کی بھی اصلاح ہوئی ہے۔

ذکر کا حلقہ اور مراقبہ

حضرت رسول مقبول صلّی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ جب تم جنت کے باغوں کے قریب سے گزرو تو ان سے سیر ہوکر کھایا کرو۔ حلقہ کے لغوی معنی ہیں گول دائرہ بنانا، اور مراقبہ کے معنی ہیں گردن جھکا کر انتظار کرنا، صوفیاء کرام کی اصطلاح میں گول دائرہ کی شکل میں مل بیٹھ کر فیضان الٰہی کے انتظار کرنے کو حلقہ و مراقبہ کہا جاتا ہے۔

مراقبہ کی ہیئت: مختلف زمانوں میں طریقت کے مجتہدین و مجددین بزرگان دین نے اپنے اپنے زمانے میں لوگوں کے مزاج و مذاق کی رعایت رکھتے ہوئے اپنے صوابدید کے مطابق ذکر الٰہی کے لئے نئے نئے مفید طریقے اپنائے ہیں، اسی مناسبت سے کہیں ذکر بالجہر (بلند آواز سے ذکر کرنے) کا رواج ہوگیا، اور کہیں ذکر قلبی و خفی کی ترویج ہوئی، یہ سبھی وصول الی اللہ (اللہ تعالیٰ تک پہنچنے) کے لئے برحق طریقے ہیں اور ان کی بنیاد للٰہیت پر رکھی گئی ہے۔

ہمارے مشائخ طریقہ عالیہ نقشبندیہ قدس اللہ اسرارھم کے یہاں ذکر قلبی کا طریقہ معمول و مروج ہے۔ الحمد للہ ہر دور میں اس کی مقبولیت و افادیت میں اضافہ ہوتا رہا ہے۔ عرصہ تک تو صرف گول دائرہ کی شکل میں باہمی مل کر بیٹھ جاتے اور خاموشی سے ہر کوئی ذکر الٰہی کی طرف متوجہ ہوکر بیٹھ جاتا تھا۔ مگر چونکہ قرب قیامت کی وجہ سے دن بدن دنیاوی خیالات و تفکرات بڑھتے ہی جا رہے تھے، خاموشی کی صورت میں نئے حلقے میں شامل ہونے والوں اور پرانے مگر سست اور دنیاوی حالات و معاملات میں الجھے ہوئے فقیروں کے دل بھی اپنے ذاتی خیالات و تفکرات میں محو ہو جاتے تھے۔ ذکر کی طرف کم ہی خیال رہتا تھا، اس لئے توجہ الی اللہ مستقل ہونے کے لئے طریقہ عالیہ نقشبندیہ کے بعض مشائخ کبار رضی اللہ عنہم نے دوران حلقہ و مراقبہ، تلاوت کلام پاک، حمد باری تعالیٰ، نعت رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم اور اپنے پیر و مرشد کی تعریف میں منقبت پڑھنے کو رواج دیا۔ ساتھ ساتھ موٹی منکوں والی تسبیح بھی بجاتے ہیں، جس کے ٹھک ٹھک کی آواز سے دل سے ”اللہ، اللہ“ کی آواز تصور کرنے سے دل میں یکسوئی پیدا ہوتی ہے۔

واضح ہو کہ موٹے منکے والی تسبیح کو رواج دیئے تقریباً سو سال کا عرصہ ہو چکا ہے۔ جہاں تک میری یادداشت کا تعلق ہے، حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ اس تسبیح کی ترویج کے سلسلے میں غالب گمان کے ساتھ حضرت حاجی دوست محمد قندھاری قدس سرہ کا نام لیتے تھے، مزید فرماتے تھے کہ حضرت سید محمد بقادارشاہ، پیر صاحب پاگارہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس بھی ذکر کے لئے موٹے منکوں والی تسبیح ہوتی تھی جو کہ آج تک خاندانی تبرکات میں موجود و محفوظ ہے۔

(خطاب مؤرخہ ۵ صفر المظفر ۱۴۰۳ھ)

غرضیکہ یہ سہل طریقہ نہایت کامیاب ثابت ہوا۔ حلقہ و مراقبہ میں شامل ہونے والوں کے دل مستقل طور پر متوجہ الی اللہ ہونے لگے۔ کئی اہل ذکر فقراء کو اس سے اس قدر مناسبت پیدا ہوئی کہ جس وقت بھی فرصت ہوتی، تسبیح لے کر بیٹھ جاتے۔ مرشدنا حضرت پیر فضل علی قریشی مسکین پوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو تو اس تسبیح سے اس قدر محبت تھی کہ بعض اوقات اپنے گلے میں ڈال کر چلتے تھے۔ الحمد للہ آج بھی سینکڑوں مقامات پر روزانہ پابندی سے اس طریقہ سے مراقبہ ہو رہا ہے۔

حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کو ذکر کے حلقہ و مراقبہ سے بڑی دلچسپی تھی۔ صبح نماز فجر کے فوراً بعد تمام جماعت ذکر الٰہی کے لئے گول دائرہ کی شکل میں بیٹھ جاتی تھی، اس کے بعد پابندی سے مسواک کی حاضری ہوتی تھی، اس کے بعد ایک سو مرتبہ درود شریف، اس کے بعد حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ایصال ثواب کے لئے پانچ سو مرتبہ آیت شریفہ ”و انی لغفار لمن تاب و امن و عمل صالحا ثم اھتدی“، اس کے بعد پھر ایک سو مرتبہ درود شریف تمام فقراء ملکر پڑھتے تھے، بعد ازاں ایک مرتبہ سورہ فاتحہ پڑھ کر گیارہ مرتبہ سورہ اخلاص اور گیارہ مرتبہ سورہ قریش ہر ایک پڑھتا تھا۔ (خطاب مورخہ ۲۲ رمضان المبارک ۱۳۹۹ ھ)

آخر میں تمام حضرات با آواز بلند ختم شریف کا ثواب آپ کے سپرد کرتے اور آپ حضور پرنور صلّی اللہ علیہ وسلم، جملہ انبیاء کرام علیہم السلام، صحابہ و اہل بیت عظام رضی اللہ عنہم و جملہ مشائخ کبار رحمہم اللہ تعالیٰ کو ایصال فرماتے تھے، اس کے بعد تمام احباب کو منہ پر کپڑا ڈال کر آنکھیں بند کرکے دنیا ومافیہا کے خیالات و تفکرات سے فارغ و آزاد ہوکر تسبیح کی ٹھک ٹھک کو دل سے لفظ ”اللہ، اللہ“ تصور کرکے بارگاہ الٰہی سے رحمت و فیوض و برکات کے لئے منتظر رہنے کا حکم فرماتے تھے، اور حصول فیض کے لئے فرماتے تھے کہ یہ تصور کرو کہ رسول الثقلین صلّی اللہ علیہ وسلم کے سینہ اطہر کا فیض پیران کبار طریقہ عالیہ کے سینوں سے ہوتا ہوا میرے پیر و مرشد کے سینے سے میرے دل میں پہنچ رہا ہے۔ اس طریقہ پر روزانہ پندرہ سے تیس منٹ تک مراقبہ کیا جاتا تھا۔ مراقبہ کے شروع میں سید نصیرالدین شاہ صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ یا کوئی اور خلیفہ صاحب مراقبہ کراتے۔ اس کے بعد حضور مراقبہ کراتے تھے، مراقبہ ختم ہونے پر کبھی طویل اور کبھی مختصر دعا مانگتے تھے۔

مراقبہ میں اضافہ

واضح ہو کہ حضرت قبلہ پیر مٹھا صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے زمانے میں مسجد شریف میں صرف ایک مرتبہ ہی مراقبہ کیا جاتا تھا، مگر حضور پیر سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ نے بعد نماز عشاء مراقبہ کا اضافہ فرمایا۔ تمام بستی کے فقراء اور مسافر حضرات مل کر مراقبہ کرتے تھے۔ بلاعذر اگر بستی کے فقراء میں سے کوئی مراقبہ میں سستی کرتا تو اس پر سخت ناراض ہوتے تھے، البتہ مدرسہ کے اساتذہ اور طلبہ کو مطالعہ اور کافی دیر تک جاگنے کی وجہ سے عشاء کے مراقبہ سے مستثنیٰ قرار دیا تھا۔

مراقبہ کی پابندی: مؤرخہ ۳۰ رجب اور یکم شعبان ۱۴۰۳ھ بعد از نماز فجر لنگر کے کام کی وجہ سے مراقبہ نہ ہوسکا، بعد از نماز ظہر صبح کے معمول کے مطابق ختم شریف اور مراقبہ کرایا۔

مراقبہ کی برکت: محترم مولوی عبدالرسول صاحب نے بتایا کہ ہمارے میہڑ کے علاقے میں مولانا قاضی امان اللہ چانڈیو صاحب بہت بڑے عالم اور بااثر شخصیت تھے، ایک دو مرتبہ جاڑا نامی بستی میں حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی صحبت میں بھی آئے تھے، مگر ذکر نہیں سیکھا۔ کہتے تھے کہ جب تک خود مجھے فقیروں کی طرح وجد و جذب نہیں ہوگا میں ذکر نہیں سیکھوں گا، یہاں تک کہ ایک مرتبہ جب حضور کھوندی نامی بستی میں تبلیغ کے لئے تشریف فرما ہوئے، مولانا موصوف بھی مراقبہ میں شامل ہوگئے، دوران مراقبہ ان پر جذب و مستی کی ایسی حالت طاری ہوگئی کہ بے ساختہ ادھر ادھر بھاگتے پھر رہے تھے۔ اسی حالت میں ان کی پگڑی بھی کہیں گر گئی، مگر ان کو مطلق خبر نہ ہوئی، مراقبہ ختم ہوتے ہی از خود آگے بڑھے اور حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ سے ذکر سیکھا، بعد میں خود ہی کہنے لگے نہ معلوم آج مجھے کیا ہوگیا تھا، بے اختیار دیوانہ وار دوڑتا پھر رہا تھا، مگر اپنے جذب پر کنٹرول نہ کرسکا۔ حضور کی توجہ اور مراقبہ کی برکت سے مولانا موصوف کی حضور سے عقیدت و محبت اور بھی بڑھ گئی، حضور کو دعوت دے کر اپنی بستی لے گیا، اور اپنی بیوی بچوں کو بھی طریقہ عالیہ کے مطابق بیعت کروایا۔

مراقبہ میں کئی اہل ذکر فقراء کو حضور پرنور والی کوثر صلّی اللہ علیہ وسلم، کئی صحابہ کرام و اہل بیت عظام رضی اللہ عنہم اور دیگر کئی مشہور مشائخ طریقت کی زیارتیں ہوئیں، ان سے ہدایات ملیں، یہ سب کچھ حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی نسبت اور اتباع شریعت و طریقت کا صدقہ تھا۔ حضور کے پیارے خلیفہ حضرت محمد حبیب اللہ صاحب جن کا حال ہی میں انتقال ہوا ہے (اناللہ و انا الیہ راجعون) باقاعدہ مستند عالم نہیں تھے، مگر تبلیغی دینی خدمات میں کئی مستند علماء کرام سے بھی آگے تھے، تبلیغی سلسلے میں عموماً وہ دینی مدارس یا علماء کرام کے بڑے بڑے اجتماعات میں بے خوف و خطر چلے جاتے تھے (جن کے متعلق حضور سوہنا سائیں نوراللہ مرقدہ فرمایا کرتے تھے کہ حافظ حبیب اللہ صاحب بڑے دلیر آدمی ہیں، بڑی بڑی شخصیتوں کے سامنے تقریر کرنے سے نہیں گھبراتے) کئی بار علماء کرام نے ان سے ایسے ایسے تصفیہ طلب مسائل پوچھے جن کے متعلق ان کو کوئی خبر نہیں ہوتی تھی، تو فوراً گردن جھکا کر مراقب ہوتے، پس حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی طرف متوجہ ہونے کی دیر ہوتی فوراً حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی زیارت ہوجاتی اور آپ اس کو تفصیل کے ساتھ مسئلہ سمجھا دیتے، اور حافظ صاحب مراقبہ سے سر اٹھا کر اسی وقت ایسا مدلل جواب دیتے کہ بڑے علماء کرام بھی دنگ رہ جاتے۔

(حافظ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے تحریر کردہ خط سے مأخوذ)

ہمیشہ مراقبہ کے وقت اپنے مشائخ طریقت کے طریقہ پر موٹے منکوں والی تسبیح استعمال فرماتے تھے۔ ایک مرتبہ موسیٰ گوٹھ کراچی میں مولانا عبدالغفور صاحب کے یہاں تشریف فرما ہوئے، ان کے پاس چھوٹے منکوں والی تسبیح تھی، مراقبہ تو آپ نے اس کے ساتھ کرالیا، لیکن بعد میں فرمایا کہ ہمارے مشائخ ہمیشہ بڑے منکوں والی تسبیح استعمال کرتے تھے اس لئے آپ بھی بڑے منکوں والی تسبیح ہی رکھا کریں، اور مراقبہ سے پہلے کنکریوں پر آیت ختم ”وانی لغفار لمن تاب وامن وعمل صالحا ثم اھتدی“ پڑھا کریں۔ مولانا موصوف نے حسب فرمان دونوں باتوں کا اہتمام فرمایا۔ خلیفہ مولانا ریاست علی صاحب نے بتایا کہ حضور کے وصال کے بعد ایک مرتبہ اتفاقیہ طور پر راستے میں چلتے چلتے آرمی کے چند نوجوانوں سے ملاقات ہوگئی۔ حضور کے فیوض و برکات کی باتیں سن کر از حد متاثر ہوئے اور مجھے دعوت دے کر اپنے پاس لے گئے، جہاں وعظ و نصیحت سننے کے لئے ادنیٰ سے اعلیٰ افسر تک اکٹھے ہوئے، وعظ کے آخر میں طریقہ عالیہ کے مطابق موٹے منکوں والی تسبیح سے میں نے مراقبہ کرایا، مراقبہ کے دوران مجھے یہ فکر لاحق ہوگئی کہ یہ تسبیح تو صرف ہمارے مشائخ کے یہاں مروج ہے، دوسرے سلسلوں کے کئی بزرگ اور عالم بھی اس پر اعتراض کرتے ہیں، یہ تو فوجی آدمی ہیں کہیں اس سے متنفر نہ ہو جائیں۔ بہتر یہ تھا کہ بغیر تسبیح مراقبہ کرا لیتا۔

بس یہ خیال آنا تھا کہ شامیانے کے باہر سے حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی آواز سنائی دی، فرمایا: ریاست فکر نہ کرو، تسبیح کی وجہ سے کوئی بھی متنفر نہیں ہو سکتا، جس سے میری ہمت بندھ گئی، اور واقعی ایسا ہوا کسی نے اعتراض نہیں کیا، سبھی متاثر ہوئے۔