فہرست
سیرت ولی کامل (حصہ اول)

اخلاق و عادات

 

حضور پرنور شافع یوم النشور صلّی اللہ علیہ وسلم کے حسن اخلاق کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ”انک لعلی خلق عظیم“۔ (بے شک آپ عظیم خُلق والے ہیں) اور آپ کی امت مرحومہ کو ارشاد فرمایا ”ولکم فی رسول اللہ أسوۃ حسنۃ“۔ (تمہارے لئے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کی ہستی بہترین نمونہ ہے) ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے جب حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق عظیمہ کے متعلق دریافت کیا گیا تو فرمایا ”کان خلقہ القران“۔ (قرآن ہی آپ کا خلق تھا) یعنی آپ کی حیات طیبہ قرآن مجید کی عملی آئینہ دار تھی۔

ایک صاحب بصیرت بزرگ نے حضور اکرم شفیع محتشم صلّی اللہ علیہ وسلم کے شمائل شریفہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے:

اخلای ان شط الحبیب ودارہ
وعز تلاقیہ و نائت منازلہ

وفاتکم ان تبصروہ بعینکم
فما فاتکم منہ فھذہ شمائلہ

یعنی اے میرے دوستو! اس وقت رسول عربی فداہ امی و ابی صلّی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس بظاہر ہم سے قریب نہیں، آپ کا ملک اور مرقد منیف بھی کافی دور ہیں، اور ان ظاہر بین آنکھوں سے ہم آپ کی زیارت بھی نہیں کر سکتے، لیکن آپ کے اخلاق و عادات تو اب بھی موجود ہیں۔ یعنی حضور پرنور صلّی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق و اعمال کو اپنا کر ہی کسی حد تک ہم آپ کے قریب ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دور سعید سے لے کر اب تک جملہ مشائخ عظام و علماء ربانی قدم قدم پر رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کی سنتِ سنیہ پر عمل کرتے آئے ہیں، اور سرِمو بھی رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ سے انحراف نہیں کیا۔

بفضلہ تعالیٰ ماضی قریب میں میرے پیر و مرشد ولی کامل، عالم و عامل حضرت قبلہ الحاج اللہ بخش قریشی نقشبندی فضلی غفاری قدس سرہ کی بابرکت شخصیت سراپا قرآن و سنت کی عملی تفسیر تھی۔ بلاشبہ آپ خلق و سیرت رسول عربی صلّی اللہ علیہ وسلم کے نمونہ مجسم تھے۔ قول و فعل، عمل و اخلاص میں اہل بیت عظام اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی مبارک زندگیوں کے آئینہ دار تھے۔ یہ کوئی مبالغہ نہیں بلکہ حقیقت ہے کہ خلاف شریعت تو درکنار، مدتوں آپ کے قریب رہنے والا خواہ آپ کا عقیدت مند نہ بھی ہو، پھر بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ آپ کا فلاں کام شریعت کے خلاف تھا۔ غرضیکہ جملہ اخلاق حمیدہ پر عمل کرنا اور اخلاق رذیلہ سے بچنا آپ کی فطرت ثانیہ بن چکی تھی، حتی المقدور آپ کوئی مستحب بھی ترک نہیں کرتے تھے۔ یہی نہیں بلکہ آپ نے جس اہتمام سے اپنے متعلقین و احباب کو فرائض، واجبات، سنن و مستحبات پر عمل کرایا، کم از کم دور حاضر میں اس کی نظیر ملنا مشکل اور یقین آنا دشوار ہے۔

 

حسن معاشرہ

(لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤ)

شریعت مطہرہ میں حقوق اللہ (اللہ تعالیٰ کے حقوق) سے بھی زیادہ حقوق العباد (انسانوں کے حقوق) کی تاکید کی گئی ہے اور حقوق العباد میں سب سے زیادہ تاکید اپنے رشتہ داروں کے حقوق کی، کی گئی ہے۔ یہاں تک کہ جب رسول خدا صلّی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ تمام لوگوں میں افضل کون ہے؟ ارشاد فرمایا ”جو دوسروں سے زیادہ خدا سے ڈرنے والا ہو، اوروں سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والا ہو، اوروں سے زیادہ نیکی کا حکم کرنے والا ہو، اوروں سے بڑھ کر برائیوں سے روکنے والا ہو“

بفضلہ تعالیٰ سیدی و مرشدی حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی ذات گرامی میں مذکور حدیث شریف میں بیان کردہ تمام علامات فضل و کمال اعلیٰ درجہ الاتم والا کمل موجود تھیں۔

رشتہ داروں سے سلوک: رسول اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ”بھلائی کرو اپنی ماں کے ساتھ اور اپنے باپ کے ساتھ اور اپنی بہن کے ساتھ اور اپنے بھائی کے ساتھ، اس کے بعد جو تجھ سے قریب ہو، اس کے بعد جو تجھ سے قریب ہو۔“

سیدی و مرشدی حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ، حسب مراتب جملہ قریب و بعید رشتہ دار، متعلقین و احباب بلکہ حیوانات کے ساتھ بھی حسن سلوک (اچھا برتاؤ) فرماتے تھے اور متعلقین و احباب کو بھی تاکید فرماتے تھے۔

والدین کے ساتھ سلوک: جیسا کہ شروع میں ذکر کیا گیا ہے کہ ابھی آپ صرف ۵ ماہ کے معصوم بچے ہی تھے کہ والد ماجد کا انتقال ہوگیا۔ (انا للہ وانا الیہ راجعون) اور آپ کو جسمانی خدمت کا موقعہ میسر نہیں ہوا۔ تاہم اس خدمت سے محروم رہنے پر آپ کو جو قلبی خلش، اداسی اور ان کی زیارت کا فطری شوق تھا، بارہا حسرت کے ساتھ اس کا تذکرہ فرماتے تھے اور آپ کی آنکھوں میں آنسو بھر آتے تھے، ان کے لئے ایصال ثواب کرتے تھے اور عیدالضحیٰ کے موقعہ پر ان کی طرف سے قربانی بھی کیا کرتے تھے۔ (حضرت صاحب مدظلہ) البتہ آپ کی والدہ صاحبہ کافی عرصہ بعد تک زندہ رہیں، آپ اپنی پیرسن والدہ ماجدہ کی خدمت خود کیا کرتے، جو کام کرنا ہوتا پہلے ان سے مشورہ لیتے تھے۔ جب پڑھنے کے لئے اور بعد میں تبلیغ کے لئے یا حضرت صاحب پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں جانا چاہتے تھے تو پہلے اپنی والدہ محترمہ سے اجازت لیتے، اس کے بعد جاتے تھے، اور جب واپس تشریف فرما ہوتے تو بھی سب سے پہلے والدہ صاحبہ کی خدمت میں حاضر ہوکر قدم بوسی کی کوشش کرتے۔ لیکن آپ کی رابعہ صفت والدہ ماجدہ کی دوربین نگاہ بھی آپ کی اہلیت، ولایت اور مستقبل کے معمار ہونے سے بے خبر نہ تھیں، اس لئے قدم بوس ہونے اور ہاتھ چومنے نہیں دیتی تھیں، مصافحہ کے بعد آپ دوزانو با ادب بیٹھ جاتے تھے، اور وہ دل کھول کر آپ کو دعائیں دیتی تھیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو طویل عمر عطا فرمائے، اولاد صالح سے نوازے، عالم باعمل کرے وغیرہ۔ یہی وجہ ہے کہ باوجودیکہ حضرت صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اکثر وقت گھر سے باہر پڑھنے میں یا تبلیغ اسلام میں گزارا، لیکن آپ کی والدہ ماجدہ پھر بھی ہمیشہ آپ سے راضی رہیں، اور جب دین پور شریف منتقل ہوئے، تو اپنی والدہ ماجدہ کو بھی دین پور شریف لے آئے تاکہ ان کی خدمت کا موقعہ زیادہ مل سکے۔

والدین کی محبت: ویسے تو ہمیشہ اپنی تقاریر میں والدین کے ساتھ حسن سلوک، ادب اور خدمت کی تاکید کرتے تھے۔ لیکن جب مدرسہ عالیہ کے طلبہ کی چھٹی ہوتی تو اس دن طلبہ کو دیگر نصیحت کے علاوہ والدین کی قدم بوسی، دعا طلبی اور خدمت کے لئے خصوصی تاکید فرماتے تھے، ساتھ ساتھ عموماً اپنے والدین کا ذکر فرماتے ہوئے بڑی حسرت کے ساتھ فرماتے تھے کہ والدین کے برابر دنیا میں کوئی نعمت ہو ہی نہیں سکتی، وہ بڑے خوش قسمت ہیں جن کے ماں، باپ دونوں یا ان میں سے ایک زندہ ہے، آپ کو اس نعمت کی قدر کرنی چاہیے، ان سے دعائیں لینی چاہیں، حقیقت یہ ہے کہ جس کے والدین، خاص کر والدہ صاحبہ اگر دل سے دعا مانگے تو دونوں جہانوں میں کامیابی اس کے قدم چومے گی، افسوس کہ ہم سے یہ نعمت جاتی رہی، ان کی شخصیت کا اب قدر ہے، لیکن اب کیا ہو سکتا ہے، والد صاحب کی وفات کے وقت تو میری عمر کوئی ۵ ماہ کے لگ بھگ تھی، باقی والدہ صاحبہ کافی عرصہ زندہ رہیں، الحمدللہ حسب توفیق ان کی خدمت بھی کرتا رہا۔ مگر وہ زمانہ عموماً سفر میں گزرا اور کماحقہ ان کی خدمت نہیں کر سکا، اب تو دل چاہتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ میری یہ دعا قبول فرمائے اور یہ ارشاد ہو کہ تیرے والدین دونوں یا ان میں سے ایک، زیادہ نہیں صرف اتنی دیر زندہ ہوجائیں کہ تو ان کی زیارت کر لے اور وہ تیرے لئے ہاتھ اٹھا کر دعا فرمائیں اور اس کے بدلے تجھے اپنی تمام جائیداد دینی پڑیگی، پہنے ہوئے کپڑے کے علاوہ تیرے پاس اور کچھ نہ رہے گا، تو میں تہہ دل سے کہتا ہوں کہ ایسا دن میرے لئے عید سے کم نہ ہوگا۔ والدین میرے لئے ہاتھ اٹھا کر دعا کریں تو اور کیا چاہیے۔ الحمدللہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ملکیت کافی کچھ ہے، مگر اس نعمت کے مقابل کچھ نہیں (مذکور ارشادات فرماتے وقت بارہا آپ پر سکتہ و گریہ کی حالت طاری ہو جاتی تھی) واضح رہے کہ حضور اپنے والدین، اہلیہ اور دیگر رشتہ داروں کے مزارات پر ایصال ثواب کے لئے جایا کرتے تھے، مورخہ ۷۹۔۸۔۲۷ کو یہ عاجز بھی حضور کے ہمراہ آپ کے والد ماجد نور اللہ مرقدہ کے مزار پر حاضر ہوا تھا، کافی دیر تک سرہانے بیٹھ کر ختم شریف پڑھ کر واپس آئے۔

دیگر رشتہ داروں سے سلوک: والدہ ماجدہ کے علاوہ اپنی ہمشیراؤں، بہنوئیوں، بھانجوں خواہ دور کے رشتہ داروں کے ساتھ بھی مثالی سلوک فرماتے تھے۔ مسند نشینی کے بعد بھی کوئی رشتہ دار خواہ دور کا ہوتا، جب بھی آ جاتا آپ بلا تکلف پیش آتے، اس کے لئے کھانے پینے کا انتظام اپنے گھر میں کرتے، خصوصی ملاقات کرتے، بعض اوقات ان کے لئے تحفے تحائف بھیجتے۔

تعلیم اور بعد میں بھی کافی عرصہ تک آپ کی مالی حالت کافی کمزور ہی تھی، پھر بھی حسب توفیق مستحق رشتہ داروں اور پڑوسیوں کی مالی مدد کیا کرتے تھے، بالخصوص جب آپ کے چچازاد بھائی اور بہنوئی میاں صاحب ڈنو رحمۃ اللہ علیہ (جو نہایت درجہ خائف خدا، نماز و روزہ کے پابند بزرگ صفت انسان تھے) سارا دن محنت مزدوری یا کھیتی باڑی کا کام کرکے رات کو کافی دیر تک قرآن شریف کی تعلیم حاصل کرتے تھے، جوانی ہی میں فوت ہوگئے، تو آپ ان کی زوجہ محترمہ اور بچوں کا ازحد خیال رکھتے تھے۔ ہر طرح سے دل کھول کر نقدی، کپڑے، اناج وغیرہ کی صورت میں ان کی مدد کیا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ اپنے لئے جب کپڑے سلواتے تو ان کے بچوں میں سے بھی کسی ایک یا زیادہ کے لئے وہی کپڑا لے کر سلا دیتے۔ اپنے کھانے کے لئے جو گھر میں تیار ہوتا مرحوم صاحب ڈنو کے بچوں کے لئے بھی اس میں سے کچھ حصہ ضرور دے دیتے تھے۔

ہمشیراؤں سے سلوک: جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے کہ حضرت محمد مٹھل رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کے وقت ان کے تمام بچے کم سن تھے، آمدنی کا بھی کوئی معقول ذریعہ نہ تھا، حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ ہوش سنبھالتے ہی والدہ ماجدہ کے حکم سے پڑھنے اور بعد میں دین اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں مصروف ہوگئے، اس لئے آپ کا گھریلو سابقہ حال بدستور قائم رہا۔ لیکن پھر بھی چونکہ آپ ہی گھر کے سربراہ تھے، اس لئے حتی المقدور تمام اشیاء ضروریہ فراخدلی سے مہیا کرکے دے جاتے تھے اور آبائی زمین سے بھی جو آمدنی ہوتی تھی وہ بھی آپ کی والدہ ماجدہ کے پاس رہتی تھی اور وہی حسب ضرورت خرچ کیا کرتی تھیں۔ لیکن چونکہ زمین کی آمدنی بھی کوئی زیادہ نہ تھی اور بعض اوقات سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ بھی کافی دیر بعد تشریف لاتے تھے اور بعض ضروریات کے لئے پیشہ بالکل نہ ہوتا پھر بھی تمام افراد خانہ صابر و شاکر رہتے تھے، ہمیشہ یہی محسوس ہوتا کہ ان کے پاس سب کچھ ہے اور یہ ہے بھی حقیقت کہ ”من لہ المولی فلہ الکل“ جس کا ترجمہ آپ ان الفاظ سے فرماتے تھے۔ ”جنھن جو رب تنھن جو سب“ یعنی تو خدا کا ہو کہ ہو جائے خدا تیرے لئے۔ ظاہری مال و اسباب نہ ہونے کی وجہ سے پریشان حالی ظاہر کرنا مسلمان کے شایان شان نہیں ہے۔

ایک مرتبہ جیسے ہی آپ درگاہ عاشق آباد شریف (ضلع ملتان جہاں آپ کے مرشد حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ قیام پذیر تھے) سے خانواہن گھر تشریف لائے، دیکھا کہ آپ کی ہمشیرہ صاحبہ (جو ابھی تک حیات اور لنگر کی بڑی خدمت کرتی ہیں) کے کپڑے پھٹے ہوئے ہیں۔ آپ نے اسی وقت دس روپے جیب سے نکال کر ان کو دے دیئے کہ اپنے لئے کپڑے خرید لیں، لیکن آپ کی صابرہ شاکرہ ہمشیرہ چونکہ آپ کے حال سے واقف تھیں اس لئے پیسے لینے سے صاف انکار کردیا اور روکر کہنے لگیں بھائی جان! میں گھر ہی رہتی ہوں، میرے لئے یہ پیوند لگے ہوئے پرانے کپڑے کافی ہیں، آپ دین کی خدمت کرتے ہیں، تبلیغی سلسلہ میں دور کے سفر پر جاتے ہیں، یہ پیسے آپ کو سفر میں کام دیں گے، مجھے ان کی ضرورت نہیں ہے۔ تاہم حضور نے ان کو کافی دیر منت و سماجت کے بعد پیسے قبول کرنے پر آمادہ کرلیا۔

دینی ہمدردی: حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ صرف ظاہری اور مالی ہی نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ اپنے رشتہ داروں کی دینی ترقی کے لئے عملی کوششیں کرکے ان کی حقیقی خیر خواہی اور صلہ رحمی کا حق ادا فرماتے رہے۔ آپ کے بعض رشتہ دار خالص دنیادار ذہنیت کے حامل تھے۔ اس کے باوجود بھی آپ زبانی طور پر بھی اور خطوط کے ذریعہ بھی ان تک دینی دعوت پہنچاتے رہتے تھے اور دینی فکر رکھنے والے اہل قلم کی کتابیں بھی ان کو تحفۃ بھیجتے رہتے تھے۔

گھر میں حُسن سلوک اور تربیت

رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اکمل المؤمنین احسنھم خلقا و خیارکم خیارکم لنسائہ“ ایمان والوں میں کامل ایمان والا وہ ہے جس کا خلق دوسروں سے اچھا ہو، اور تم میں سے بہتر وہ ہیں جو اپنی بیویوں کے لئے بہتر ہوں“۔

یعنی جو رہن سہن اور جملہ معاملات میں اپنی بیوی کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتا ہو، وہ مرد بھی اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہتر ہے، اور جس کا گھر میں رویہ اچھا نہیں تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی وہ مرد اچھا نہیں ہے۔ خواہ وہ بظاہر عالم اور صالح، زاہد ہی کیوں نہ ہو۔

سیدی و مرشدی حضرت سوہنا سائیں نوراللہ مرقدہ فرمایا کرتے تھے کہ نیک عورت اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ایک بڑی نعمت ہے، مرد کو اس کی قدر کرنی چاہیے، آدمی گھر جائے تو ہشاش بشاش ہنستا ہوا گھر جائے کہ دیکھ کر بیوی کا دل خوش ہو۔ وہ لوگ بدبخت ہیں جو باہر دوستوں میں تو بڑے بڑے قہقہے مارتے پھریں، لیکن گھر جائیں تو منہ چڑھائے خان صاحب بن کر رعب رکھیں کہ بچاری بیوی بات بھی نہ کر سکے۔ یاد رکھو دوست، احباب سے زیادہ قرب و پیار کے حقدار اپنے اہل خانہ ہیں، اللہ تعالیٰ توفیق دے تو ان کو کھانے اور پہننے کے لئے اچھا دو۔ یہ طریقہ انتہائی غلط اور شریعت کی حدود سے متجاوز ہے کہ دوست یار آجائیں تو مرغے کا گوشت، پلاؤ پکیں، لیکن بیوی بچوں کا فکر ہی نہ ہو۔

بچوں سے پیار: عاشق رسول متبع سنت حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کا گھریلو رہن سہن بھی مثالی تھا۔ اہلیہ اور اولاد کے ساتھ ہمیشہ خوش خلقی، پیار و محبت سے رہے، کبھی بھی ترش روئی یا غصہ کا اظہار نہ فرمایا۔ اہل خانہ اور بچوں کے ساتھ پیار و محبت کا وہی طریقہ اپنایا جو آقائے نامدار صلّی اللہ علیہ وسلم کا تھا۔ چنانچہ جس طرح رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات اپنے نواسوں یا نواسیوں کو مسجد شریف میں لے آتے تھے، اسی طرح حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ بھی صغر سنی میں حضرت صاحبزادہ مدظلہ، صاحبزادیوں نواسیوں اور نواسوں کو کبھی اٹھائے ہوئے اور کبھی ہاتھ میں ہاتھ دیئے ہوئے مسجد شریف میں تشریف لاتے اور وہ مصلے پر بیٹھ جاتے، کبھی سائیں، سائیں کہہ کر اپنی معصومانہ باتیں شروع فرماتے، بعض اوقات وعظ و نصیحت کے درمیان آجاتے اور حضور کے کلام میں خلل انداز ہوتے تو قبلہ سید نصیرالدین شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ (جن کو حضرت کے بچے نانا کہہ کر پکارتے تھے)، سید عبدالخالق شاہ صاحب یا لانگری صاحب لے کر دروازہ پر چھوڑ آتا تھا۔

گھر میں اگر کوئی بات خلاف طبع ہوجاتی تو اس قدر احسن طریقے سے سمجھاتے کہ کسی کی دل آزاری نہ ہوتی تھی۔ جہاں تک ممکن ہوتا اپنے ذاتی کام کے لئے کسی کو تکلیف نہیں دیتے تھے۔ بات چیت سنجیدگی کے ساتھ مگر بے تکلف فرماتے تھے۔ بلکہ موقع کی مناسبت سے ہنستے ہنساتے بھی تھے اور یہ بھی سنت رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم ہے۔ بیوی بچوں کے ساتھ مل کر کھانا کھانے میں بالکل عار محسوس نہیں کرتے تھے۔ اس سلسلہ میں فقراء کو بھی تاکید فرماتے تھے۔ بعض اوقات دربار عالیہ پر مقیم فقراء سے امتحان کے طور پر اچانک پوچھتے بھی تھے کہ آج تم نے بیوی کے ساتھ کھانا کھایا ہے یا نہیں؟ اثبات میں جواب ملنے پر بہت خوش ہوتے تھے۔ اگر اس معاملہ میں سستی و غفلت معلوم ہوتی تو فرماتے کل پھر تم سے پوچھوں گا۔ آپ کی اس حسن تربیت کے نتیجہ میں دوسرے دن جواب اثبات ہی میں ملتا تھا۔ بفضلہ تعالیٰ آج تک آپ کی جماعت عالیہ میں بیوی بچوں کے ساتھ مل کر کھانے کا عام رواج ہے۔ یہاں تک کہ اس عاجز کو ذاتی طور پر معلوم ہے کہ حضور کے فرمان عالیہ سننے کے بعد چچا فقیر عرض محمد صاحب نے بیوی بچوں کے ساتھ مل کر کھانے کا اس قدر اہتمام کیا ہوا ہے کہ شاید ہی کبھی تنہا کھانا کھایا ہو۔ (کئی ایسے اور اہل ذکر بھی ہوں گے) بیوی کے ساتھ مل کر کھانا کھانے کے بارے میں ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی یہ حدیث شریف کثرت سے بیان فرماتے تھے کہ گوشت کی بوٹی جہاں سے میں کھاتی، حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم وہ بوٹی مجھ سے لے کر اسی جگہ سے تناول فرماتے۔ حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے اخلاق حمیدہ بزرگی اور حسن سلوک ہی تھا کہ عام مریدین سے بڑھ کر اہل خانہ کی آپ سے والہانہ عقیدت و محبت تھی اور سارا گھرانہ آپ کے فرمان اور رضا کے طالب رہتے تھے۔

حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی اہلیہ محترمہ (جن سے طالب علمی کے زمانہ میں شادی کی تھی اور جلد ہی ان کا انتقال ہوگیا تھا) کی عقیدت و محبت کا یہ عالم تھا کہ جیسے ہی سفر سے واپس گھر تشریف فرما ہوتے، حضور کو دیکھتے ہی ان پر جذبہ طاری ہو جاتا تھا اور اسی بے خودی و بے اختیاری کے عالم میں اپنی گردن سے ہار اتار کر حضور کی گردن مبارک میں ڈال دیتیں اور حضور تبسم فرماتے ہوئے ہار نیچے رکھ دیتے تھے اور آپ کے بھی حسن سلوک، خلق محمدی صلّی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھ ہمدردی اور دلجوئی کا یہ عالم تھا کہ مرض الموت میں جب بی بی صاحبہ وبائی مرض چیچک میں مبتلا ہوئیں اور تمام بہی خواہوں نے آپ کو زوجہ محترمہ سے دور رہنے کے لئے کہا کہ یہ متعدی مرض ہے کہیں آپ کو بھی تکلیف نہ ہو جائے۔ لیکن آپ نے زوجہ محترمہ کی دلجوئی کی خاطر ان کے منع کرنے کی کوئی پرواہ نہیں کی۔ اور حسب دستور ان کے قریب بیٹھ کر شریعت مطہرہ کے مسائل و احکام سنا سنا کر ان کا دل بہلانے کی کوشش کرتے اور وہ صابرہ و شاکرہ پارسا خاتون بھی آپ کی ان باتوں سے بے حد مانوس و محظوظ ہوتی تھیں، یہاں تک کہ ان کی وفات کی رات بھی حضور اسی چارپائی پر ساتھ لیٹے کہ کہیں ان کے دل میں یہ حسرت نہ رہ جائے کہ اور تو اور اپنے خاوند نے بھی منہ پھیر لیا ہے۔

قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے کہ اپنے اہل خانہ کو نماز کا حکم کرو۔ ”وامر اھلک بالصلوٰۃ“ الایۃ۔ اپنے آپ کو اور اپنے اہل خانہ کو جہنم کی آگ سے بچاؤ۔ ”قوا انفسکم واھلیکم نارا“ الایۃ۔ اسی طرح برے نام اور القاب رکھنے، گالی دینے اور لعنت کرنے سے بھی منع کیا گیا ہے۔ اسی کے مطابق سیدی و مرشدی عامل قرآن اور متبع سنت خیر الانام علیہ الصلوٰۃ والسلام حضرت سوہنا سائیں نوراللہ مرقدہ کو تو صغر سنی سے اللہ تعالیٰ نے ان تمام اخلاق رزیلہ سے محفوظ فرمایا تھا۔

لیکن جیسے ہی آپ بڑے ہوئے، اپنی ذمہ داری سمجھ کر بڑوں کا ادب رکھتے ہوئے پیار و محبت سے گھر میں نیک اخلاق کی تعلیم دینا شروع کی۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں پردہ شرعی اور نماز کی پابندی کی تلقین کرتے تھے اور گالی گلوچ، مال مویشی پر لعنت اور دیگر خلاف شرع باتوں سے منع فرماتے تھے۔ (یہ باتیں اس وقت اور اب بھی دیہاتوں میں عام ہیں) خاص کر سردیوں کے موسم میں جب تمام چھوٹے بڑے چولھے پر بیٹھ کر غیر ضروری بات چیت شروع کرتے تو آپ کوئی دینی کتاب لے آتے یا زبانی نصیحت فرماتے خاص کر نماز کے احکام و مسائل زیادہ بیان فرماتے اور سبھی خاموش ہوکر توجہ سے سنتے اور بڑی حد تک عمل بھی کرتے تھے اور آپ کے بتائے ہوئے مسائل یاد بھی کرتے تھے۔

آپ عورتوں کو گھر سے باہر نہ نکلنے دیتے اور بلند آواز سے بات چیت کرنے سے بھی سختی سے منع فرماتے تھے، تاکہ کسی غیر محرم کے کان تک آواز بھی نہ پہنچے، جس سے شریعت میں سخت منع اور گناہ ہے۔ ایک دفعہ آپ وضو بناکر نماز کے لئے مسجد شریف میں پہنچے ہی تھے کہ گھر میں کسی خاتون کی آواز سنی، فوراً گھر واپس لوٹ آئے اور عورتوں کو کافی دیر تک آہستہ آہستہ بات چیت کرنے کے متعلق احکامات شریعت سنانے کے بعد پھر نماز کے لئے تشریف لے گئے۔

آپ کے سسر مرحوم کا گھر خانواہن ہی میں تھوڑے فاصلہ پر تھا۔ لیکن جب بھی اپنی صاحبزادی لے جانے کے لئے آتے، حضور ان سے فرماتے تھے کہ نماز عشاء کے بعد لے جایا کرو۔ تاکہ بے پردگی کا احتمال نہ رہے۔

ایک مرتبہ آپ اپنے پیارے دوست حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کے پیارے خلیفہ مولانا عبدالواحد صاحب کو دعوت دے کر اپنے ہاں خانواہن لے آئے اور مسجد شریف میں ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ کو کسی طرح پتہ چل گیا کہ گھر میں کسی خاتون نے بچے کو بُجا دے دیا (سندھ کی اصطلاح میں اس انداز سے ہاتھ اٹھا کر کسی کو دکھانا کہ انگلیوں کا رخ اس کے چہرے کی طرف ہو جائے اس کو بُجا کہتے ہیں اور اس کو گالی کے طور پر بُرا سمجھا جاتا ہے) آپ اسی وقت اٹھ کر گھر تشریف لائے اور فرمایا کس نے بچے کو بجا دیا؟ اور کیوں دیا؟ پھر نرمی سے سمجھایا کہ اگر بچے پر غصہ آ جائے تو بھی بُجا نہ دو، اور نہ ہی مارو۔ ان سے بچے کی اصلاح نہیں ہوگی اور تمہارے لئے بھی یہ اچھی عادتیں نہیں ہیں۔ بچے کو زبانی نصیحت کرو اور اچھی دعائیں دو۔ مثلاً یہ کہ اللہ تعالیٰ تجھے نیک صالح کرے تو نے یہ حرکت کیوں کی؟ اللہ تعالیٰ تجھے طویل عمر عطا فرمائے تیرے لئے یہ مناسب نہیں وغیرہ۔ ایسا کرنے سے تمہارا غصہ بھی کم ہو جائے گا اور بیہودہ کلام سے بھی بچ جائیں گے، ساتھ ساتھ بچے کو بھی اپنی غلطی کا احساس ہوگا اور اس میں سرکشی پیدا نہ ہوگی، برخلاف اس کے کہ اگر تم مارو گے، سختی کرو گے تو بچہ ضدی اور سرکش ہوتا جائے گا، وغیرہ۔

آخر تک یہ آپ کی عادت مبارکہ رہی کہ کسی بھی غلطی پر بچہ کو مارتے نہیں تھے بلکہ زبانی تنبیہہ فرماتے تھے اور نتیجتاً بچے بھی نرم دل فرمانبردار اور صالح ہو جاتے۔
نماز کا وقت ہوتے ہی آپ خود عموماً اذان سے بھی پہلے وضو کر لیتے، دوسرے اہل خانہ کو بھی اذان کی آواز آتے ہی اٹھ کر آرام سے وضو بنا کر اول وقت میں خشوع و خضوع اور اطمینان قلب سے نماز پڑھنے کا حکم فرماتے تھے۔ اتفاقاً اگر کسی کو تیزی سے نماز پڑھتے دیکھتے، یا نماز کے لئے اٹھنے میں کوئی سستی کرتا تو بڑے پیار و محبت سے اور کبھی تنبیہہ سے اٹھ کر نماز پڑھنے کا حکم فرماتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ کی ہمشیرہ صاحب برآمدہ میں تیزی سے نماز پڑھ رہی تھیں، جلدی کی وجہ سے تعدیل ارکان کا پورا پورا لحاظ نہیں کر رہی تھیں، جیسے ہی نماز سے فارغ ہوئیں تو ان کو پاس بلا کر فرمایا۔ تو نماز پڑھتی ہے، یا مرغ کی طرح ٹھونگیں مار رہی تھی؟ نماز اس طرح پڑھی جاتی ہے؟ یہ فرمانے کے بعد نماز کے بارے میں ایک کتاب لے آئے۔ گھر کے تمام افراد جمع کرکے نماز کے فرائض، واجبات، سنتیں اور مستحبات تفصیل سے سمجھائے اور ان کے یاد کرنے کی تاکید فرمائی۔ (حضرت صاحبزادہ مدظلہ)

واضح ہو کہ اس طرح جلدی جلدی نماز پڑھتے دیکھ کر کسی کو نماز کی تربیت دینا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے، اس قسم کی کافی روایات احادیث نبویہ صلّی اللہ علیہ وسلم میں ملتی ہیں۔ حضرت عبدالرحمان بن شبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں نقرۃ الغراب (کوّے کی طرح ٹھونگیں مارنا) کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ (سنن نسائی)

پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک اور ان کی عمدہ تربیت

حضور رحمت دو عالم صلّی اللہ علیہ وسلم نے پڑوسیوں کے حقوق تفصیل سے بیان فرمائے، خود عمل کیا اور امت کو بہت زیادہ تاکید سے ان کے حقوق کی رعایت کا حکم فرمایا ہے۔ یہاں تک فرمایا کہ ”جبریل علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے پڑوسیوں کے متعلق وصیت کرتے رہے، یہاں تک کہ میں نے گمان کیا کہ ان کو وارث بنا دیں گے“۔

نائب نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم، سیدی و مرشدی حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ بھی پڑوسیوں کے حقوق کا بہت خیال کرتے تھے۔ آپ کے جتنے بھی پڑوسی ہوئے سب کے ساتھ آپ کا حسن سلوک، لین دین مثالی رہا۔ اس سلسلہ میں وقتاً فوقتاً جب ضرورت محسوس کرتے تھے تو احیاء علوم الدین یا کسی اور کتاب سے درس دینے کا اہتمام فرمایا کرتے تھے۔ زبانی نصیحت بھی فرماتے تھے، کبھی کسی مبلغ کو اس موضوع پر تقریر کا حکم فرماتے تھے۔
آپ احیاء العلوم میں بیان کردہ درج ذیل حدیث نبوی صلّی اللہ علیہ وسلم کو بکثرت بیان فرماتے تھے کہ پڑوسی تین قسم کے ہیں، ایک قسم وہ جس کا صرف ایک حق ہے، دوسرا وہ جس کے دو حق ہیں اور تیسرا وہ جس کے تین حق ہیں، تین حق والا پڑوسی مسلمان رشتہ دار ہے۔ جس کا ایک حق پڑوسی ہونے کی وجہ سے، دوسرا حق رشتہ دار ہونے کا اور تیسرا حق مسلمان بھائی ہونے کا ہے۔ اور دو حق اس مسلمان پڑوسی کے ہیں جو رشتہ دار نہیں ہے۔ ایک حق پڑوسی ہونے کا ہے اور دوسرا حق مسلمان بھائی ہونے کا ہے۔ اور ایک حق اس پڑوسی کا ہے جو صرف پڑوسی ہے نہ رشتہ دار نہ مسلمان۔

حقیقت یہ ہے کہ آپ کی مبارک زندگی اس حدیث شریف کی عملی تفسیر و تشریح تھی۔ خانواہن میں آپ کے رشتہ دار بھی بکثرت آباد تھے، دیگر مسلمان قومیں بھی آباد تھیں اور کافی ہندو بھی رہتے تھے۔ رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کا یہ مختصر سا بیان پہلے کیا گیا۔ عام مسلمانوں کے ساتھ حسن سلوک کا یہ عالم تھا کہ تمام مسلم برادریوں میں آپ یکساں مقبول تھے، کبھی بھی کسی سے شکر رنجی نہیں ہوئی، یہاں تک کہ جن پڑوسیوں نے آپ کے دادا جان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی زمینوں پر ناجائز قبضے کر رکھے تھے، پڑوسی ہونے کی وجہ سے ان سے بھی آخر تک اچھا سلوک رکھا، باوجود قدرت رکھنے کے بھی کبھی زمین واپس لینے کی کوشش تک نہیں کی۔

خانواہن میں قاضی دین محمد صاحب آپ کے ہمسایہ، دوست اور پیر بھائی بھی تھے، چونکہ قاضی صاحب غریب آدمی تھے، حضرت صاحب نور اللہ مرقدہ سے ادھار لے کر تجارت کرتے تھے، بقول قاضی صاحب موصوف میں نے کافی عرصہ تک حضور کے پیسوں سے تجارت کی، لیکن آپ نے کبھی مجھ سے آمدنی میں سے کوئی حصہ نہیں لیا۔ ان کے علاوہ بھی درگاہ رحمت پور شریف، درگاہ فقیر پور شریف اور درگاہ اللہ آباد شریف میں بھی بارہا بستی کے ضرورت مند آپ سے پیسے ادھار مانگتے تھے اور آپ بخوشی عنایت فرماتے تھے، بلکہ بارہا ایسا بھی ہوا کہ کسی غریب نے ادھار پیسے لئے اور جب واپس دینے آیا تو آپ نے یہ کہہ کر لینے سے انکار کر دیا کہ میں نے پیسے آپ کو فی سبیل اللہ دیئے تھے، اسی وقت واپس نہ لینے کا ارادہ کر لیا تھا۔

غرضیکہ مسلمان پڑوسیوں کے ساتھ تو آپ کا حسن سلوک تھا ہی، لیکن خانواہن کے ہندو پڑوسی بھی آپ کے حسن اخلاق سے نہ فقط متاثر بلکہ انتہائی عقیدت مند بھی تھے، یہاں تک کہ جب حضرت صاحب نور اللہ مرقدہ جلسہ کرواتے تھے اور وعظ کے لئے اپنے مخلص دوست اور پیر بھائی مولانا غلام جعفر صاحب کو دعوت دے کر لے آتے تھے تو مسلمانوں کے علاوہ کافی تعداد میں ہندو بھی آکر وعظ شریف سنتے تھے۔

ہندو بھی روئے: جب دین پور کے فقراء کی محبت اور دینی تبلیغی فائدہ کے پیش نظر آپ نے خانواہن کو چھوڑ کر دین پور جانے کا فیصلہ کرلیا، اور سامان اٹھانے کے لئے دین پور سے حضرت قبلہ سید نصیرالدین شاہ صاحب بیل گاڑیاں لے آئے تو بڑی تعداد میں خانواہن کے مسلمان اور ہندو اکٹھے ہوگئے، یک آواز ہوکر والہانہ محبت سے خانواہن ہی میں رہنے کی عرض کر رہے تھے کہ براہ کرم آپ ہمیں چھوڑ کر نہ جائیں آپ بیشک تبلیغ کریں، خواہ زیادہ عرصہ باہر ہی رہیں، لیکن آپ کا گھر ہمارے پڑوس میں ہو، مستقل چلے جانے کے بعد نہ معلوم کب آپ کی زیارت دوبارہ نصیب ہو۔ وغیرہ۔ ان کی یہ گذارشات رسمی نہیں تھیں، بلکہ کئی بے اختیار رو بھی رہے تھے۔ کئی ہندو زار و قطار روتے ہوئے یہ کہہ رہے تھے کہ ”ایسا مسلمان بچہ کوئی عورت نہ جنے گی، ایسا مسلمان شہر چھوڑ کر جا رہا ہے، کیا کوئی ایسا مسلمان یہاں نہیں جو اس مسلمان کو یہاں رہنے کے لئے مجبور کرے وغیرہ۔“

یہ چند واقعات تو آپ کے اوائل دور کے تھے، اس کے بعد تو (بقول کسے: سالک وہی ہے جس کا ہر قدم پچھلے دن سے آگے ہو) پڑوسیوں کے ساتھ قرب، محبت ظاہری خواہ باطنی عطیات کی تو کوئی حد ہی نہیں تھی۔

مالی اور اخلاقی ہمدردی: حضور پرنور سرور کائنات صلّی اللہ علیہ وسلم کی ایک طویل حدیث شریف میں یہ مروی ہے کہ ترجمہ: ”کیا تم جانتے ہو کہ پڑوسی کا حق کیا ہے؟ (پھر خودہی فرمایا) اگر وہ تعاون چاہے تو اس سے تعاون کرو، اگر وہ مدد چاہے تو اس کی مدد کرو، اگر وہ قرض مانگے تو قرض دو، اگر فقیر ہوجائے تو اس پر احسان کرو، اگر وہ بیمار ہوجائے تو اس کی عیادت کرو، اگر مر جائے تو اس کے جنازہ کے ساتھ جاؤ، اگر اسے کوئی خوشی پہنچے تو مبارک دو، اگر تکلیف پہنچے تو اسے تسلی دو۔ الیٰ آخرہ۔“

اس حدیث شریف کے علاوہ اور بھی احادیث نبویہ صلّی اللہ علیہ وسلم میں پڑوسیوں کے حقوق بیان کئے گئے ہیں۔ حضرت سوہنا سائیں نوراللہ مرقدہ حتی المقدور (ان تمام حقوق کی کماحقہ رعایت فرماتے تھے) مدد طلب کرنے پر تو مدد کرتے ہی تھے، لیکن بارہا کہے بغیر معلوم ہوجانے پر از خود مالی خواہ اخلاقی مدد فرماتے تھے۔ آپ فقراء کو قرضہ لینے سے منع فرماتے تھے کہ اس سے باہمی محبت و الفت ہی ختم ہو جاتی ہے۔ لیکن اپنے لئے فرماتے تھے کہ جب بھی ضرورت ہو مجھ سے لے لیا کرو۔ ان شاء اللہ تعالیٰ اپنی بساط کے مطابق ضرور تعاون کروں گا۔ مسکین فقراء اور طلبہ کو کپڑے نقدی اور سردیوں کے موسم میں گرم سوئیٹر، اجرک شالیں، دیا کرتے تھے۔ اگر کوئی بیمار ہو جاتا تو جماعت سمیت اس کی عیادت کے لئے تشریف لے جاتے تھے اور اس انداز سے اس کی ہمت افزائی کرتے اور علاج کے لئے پیسے دیتے تھے، کہ آج تک کسی کو ایسی ہمت و ہمدردی کرتے نہیں دیکھا گیا۔ نماز جنازہ خود پڑھاتے، یا کوئی اور صاحب نماز جنازہ پڑھاتے، مگر چارپائی کو کندھا دے کر ضرور ساتھ چلتے تھے۔

حاجی محمد علی صاحب نے بتایا کہ دربار رحمت پور شریف قیام کے دوران ایک مرتبہ مجھے اپنے آبائی گاؤں جارکی ضلع حیدرآباد جانا تھا، میرے پاس پیسے نہیں تھے، اس وقت کرایہ کے لئے بیس روپے کافی تھے۔ حضرت سوہنا سائیں (حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کے زمانہ مبارکہ میں) پوری بستی میں سخاوت و ہمدردی میں یکتا تھے۔ اکثر حاجت مند آپ سے ادھار لیتے تھے، میں بھی آپ کے پاس گیا اور صورت حال عرض کی، فوراً بیس روپے گھر سے لاکر مجھے دیئے اور ساتھ ساتھ یہ بھی فرمایا کہ یہ ادھار نہیں بلکہ عطیہ کے طور پر دے رہا ہوں، تاہم گاؤں سے واپسی پر میں نے بیس روپے پیش کئے، لیکن آپ نے یہ کہہ کر لینے سے انکار کیا کہ ہم نے تو آپ کو عطیہ کے طور پر دیئے تھے۔ (خلیفہ حاجی محمد علی صاحب بوزدار)

یہی نہیں بلکہ آپ بن مانگے بھی پڑوسیوں کو بہت کچھ عنایت فرماتے تھے۔ چونکہ احقر کا ملک بھر کے کتب خانوں سے واسطہ تھا، مدرسہ عالیہ کے طلبہ فقراء اور خود حضرت صاحب قبلہ نور اللہ مرقدہ کے لئے بھی مطلوبہ کتابیں ڈاک کے ذریعے اور کبھی خود جا کر لے آتا تھا۔ آپ نے چند بار مجھے فرمایا کہ درسی کتابیں اور دیگر تبلیغی اصلاحی کتابیں اپنے پیسوں سے منگوا کر رکھیں، اس سے طلبہ فقراء کو بھی سہولت ہوگی۔ آپ کے لئے دنیوی فائدہ بھی ہوگا اور ثواب بھی۔ حسب فرمان میں نے اس کام کی ابتداء تو کی، لیکن زیادہ پیسے نہ ہونے کی وجہ سے محدود کتابیں ہی رکھتا تھا۔ تو آپ نے از خود عاریۃ سات سو روپے مولانا جان محمد صاحب کے ہاتھ بھیج دیئے کہ مولوی صاحب سے کہیں زیادہ کتابیں منگوائیں۔
الحمد للہ حضرت کی دعا اور عطیہ کی بدولت آج کتب خانہ غفاریہ کی صورت میں متعدد کتابوں کا ذخیرہ ہر وقت موجود رہتا ہے۔ حضرت صاحب نور اللہ مرقدہ کے وصال کے بعد مذکورہ پیسے احقر نے جناب قبلہ حضرت صاحبزادہ مدظلہ العالی کو پیش کئے لیکن آپ نے لے کر دوبارہ مولانا جان محمد صاحب ہی کی معرفت عنایت فرمائے۔

فالحمدللہ علی ذالک۔

آپ کے لنگر خانہ کا یہ مستقل دستور تھا کہ مدرسہ کے طلبہ اور مسافر فقراء کے علاوہ دربار شریف پر مقیم فقراء کو بھی روزانہ لنگر سے سالن ملتا تھا (اب بھی یہی دستور ہے) یہی نہیں بلکہ اگر لسی بھی طلبہ اور مسافروں کی ضرورت سے زائد ہوتی تو وہ بستی کے مقیم فقیروں کو دی جاتی تھی۔ واضح ہو کہ آپ کا یہ عمل اور بستی کے فقراء اور بیرونی متعلقین کو کشادگی سے سالن پکا کر پڑوسیوں کو دینے کی ترغیب دینا رسول خدا صلّی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد مبارک کے عین مطابق ہے۔ جب آپ نے اپنے پیارے صحابی حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرمایا، جب تم ہنڈیا پکاؤ تو پانی زیادہ ڈال دو، پھر اپنے پڑوسیوں میں سے گھر گھر کو دیکھو (ان کی خبر گیری کرو) ان کے لئے ایک چمچہ بھر کر دو (یعنی اگر زیادہ نہ دے سکو تو تھوڑا ہی سہی مگر دیا کرو) ”مکاشفۃ القلوب“ اس سلسلہ میں آپ فرمایا کرتے تھے یہ ضروری نہیں کہ جب عمدہ سالن گھر میں پکے تب کسی کو دو، بلکہ اپنی بساط کے مطابق جو بھی سالن گھر میں پکے بلا حجاب دے دیا کرو۔

دین کی خاطر دوستی: واضح ہو کہ دربار عالیہ اللہ آباد شریف خواہ فقیر پور شریف میں مختلف قبیلوں اور مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والی کئی قومیں آباد ہیں، جن میں اکثریت ایسے افراد کی ہے، جن کا کوئی رشتہ دار نہ تو دربار عالیہ پر رہتا ہے اور نہ ہی قرب و جوار میں کہ عند الضرورت کام آسکیں، نہ ہی کوئی دنیاوی مفاد حاصل ہے، بلکہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب صلّی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور رضا جوئی کے لئے دربار عالیہ پر آکر اکٹھے ہوئے ہیں اور ان پر پوری درج ذیل حدیث قدسی سچی آتی ہے۔
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری محبت ان لوگوں کے لئے واجب ہے (ضرور میں ان کو دوست رکھوں گا) جو میری وجہ سے ایک دوسرے سے محبت کریں، اور میرے تعلق کی وجہ سے آپس میں مل کر بیٹھیں اور میری وجہ سے باہمی ملاقات کریں اور میری ہی وجہ سے ایک دوسرے پر خرچ کریں۔ (مؤطا امام مالک رحمۃ اللہ علیہ) غرضیکہ پیر بھائی ہونے کے ناطے تمام فقراء آپس میں شیر و شکر رہتے ہیں۔ کوئی بھی اپنے آپ کو اجنبی یا اکیلا محسوس نہیں کرتا۔ بالخصوص حضور کی نظر کرم بلا تفریق رنج و راحت میں سبھی پر یکساں رہتی ہے۔

عیادت: اگر کوئی مدرسہ کا طالب علم یا بستی کا فقیر چند دن نظر نہ آتا، یا دور رہنے والا کوئی مخلص زیادہ عرصہ نہ آیا ہوتا تو معلوم کرتے تھے کہ کیا وجہ ہے کہ فلاں نظر نہیں آ رہے۔ اگر بتادیا جاتا کہ بیمار ہیں تو اس کی صحت کے لئے دعا فرماتے، مریض دربار شریف میں یا قریب کی بستی میں ہوتا تو جماعت سمیت اس کی عیادت کے لئے تشریف لے جاتے تھے اور یہی سنت رسول مقبول صلّی اللہ علیہ وسلم ہے۔

جب حضور شہنشاہ عرب و عجم صلّی اللہ علیہ وسلم، تین دن تک اپنے کسی بھائی (صحابی) کو موجود نہ پاتے تھے، اس کے متعلق پوچھتے تھے، اگر وہ غائب (دور) ہوتا تو اس کے لئے دعا فرماتے تھے، اور اگر حاضر (قریب) ہوتا تو اس کو ملنے جاتے تھے، اور اگر بیمار ہوتا تو اس کی عیادت کے لئے تشریف لے جاتے تھے۔ آخری چند برسوں میں حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کو کافی عوارض لاحق تھے، چلنا پھرنا از حد دشوار ہوتا تھا، تاہم عصا مبارک کے سہارے خوش قسمت مریض کے گھر تشریف لے جا کر سنت نبویہ صلّی اللہ علیہ وسلم کی تعمیل کرتے تھے، ایسے وقت میں گھر بیٹھے شرف زیارت سے مشرف ہونے والے مرید صادق کے دل میں جو خوشی کی لہر دوڑ رہی ہوگی اس کا صحیح اندازہ تو اسی کو ہوگا، لیکن جو ظاہری کیفیت احقر نے ہر بار دیکھی، وہ یہ کہ آپ کے چہرہ انور پر نظر پڑتے ہی مریض کا جسم و جان باغ باغ ہو جاتا تھا۔

خوش است زیادِ تو پیوسۃ جامی
ولے اکنوں بدیدارِ تو خوشتر

گر برسرِ بیمار خود آئی بعیادت
صد سال بامید تو بیمار تواں بود

عموماً نحیف و ناتواں مریض بھی خوشی کے عالم میں استقبال کے لئے اٹھنے کی کوشش کرتے تھے، لیکن آپ ایک شفیق والد کی طرح فوراً فرماتے تھے کہ بیٹھے رہو، اٹھنے کی کوئی ضرورت نہیں، اور اگر مریض لیٹا ہوا ہوتا تو اسے اٹھ کر بیٹھنے سے بھی منع فرماتے تھے اور قریب بیٹھ کر خیریت دریافت فرماتے، ہاتھ پکڑ کر اور کبھی سر پر ہاتھ رکھ کر دیکھتے اور تسلی دیتے۔ طبع پرسی کرتے وقت آپ مریض کے مزاج کے مطابق ہمت افزائی کے کلمات ارشاد فرما کر ہمت بندھاتے تھے، مثلاً یہ کہ آپ تو کوئی بڑے زور آور آدمی ہیں، بلاوجہ سست ہو رہے ہیں۔ آپ تو بالکل خوش ہیں۔ پرواہ نہ کریں، فکر کرنے کی کوئی بات نہیں، وغیرہ۔ اس کے بعد تمام فقراء سے مخاطب ہوکر مریض کا نام لے کر فرماتے، ان کے لئے دعا کرو اللہ تعالیٰ ان کو شفاء کاملہ عاجلہ عطا فرمائے۔ اور اگر کوئی ڈاکٹر یا حکیم ہوتا تو اسے طبیعت دیکھنے اور علاج تجویز کرنے کا فرماتے تھے۔ غرضیکہ چند منٹ مریض کے پاس بیٹھنے کے بعد دعا فرما کر واپس ہوتے وقت مریض کو اٹھنے سے منع کرتے ہوئے روانہ ہوتے تھے اور عیادت کا مسنون طریقہ بھی یہی ہے۔ یاد رہے کہ مریض کے پاس بلا ضرورت زیادہ بیٹھنا سنت کے خلاف ہے اور بعض اوقات اہل خانہ اور مریض کے لئے باعث ملال بھی۔ خود رسول اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم جب کسی مریض کی عیادت کے لئے تشریف لے جاتے تو فرماتے، لا بأس طھور ان شاء اللہ تعالیٰ ”کوئی پریشان ہونے کی بات نہیں، اللہ تعالیٰ نے چاہا تو خیریت ہی ہے“۔ اس سلسلہ میں آپ فقراء کو فرماتے تھے کہ مریض کی عیادت کے وقت ہمت افزائی کرتے ہوئے اس انداز سے کلام کریں کہ مریض بیمار ہوتے ہوئے بھی اپنے آپکو صحت مند محسوس کرے۔ سویا ہوا مریض اٹھ کر بیٹھے اور بیٹھا ہوا اٹھ کھڑا ہو، نہ اس انداز سے کہ مریض الٹا اور بھی سست ہو جائے مثلاًیہ کہ واقعی تجھے تکلیف ہے۔ آپ کی بیماری کو کافی عرصہ ہوچکا ہے وغیرہ وغیرہ۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی صحت یا بیماری پر نفسیاتی اثر زیادہ اور جلدی ہو جاتا ہے۔ خود آپ کے عیادت کرنے کا کچھ انداز ہی ایسا تھا کہ مریض بڑی حد تک اپنے آپ کو صحت مند تصور کرنے لگتا تھا۔ چنانچہ ایک مرتبہ میاں عبدالرسول صاحب فقیر پوری اس قدر بیمار تھے کہ کسی کے علاج سے فائدہ نہیں ہو رہا تھا، لانگری صاحب نے اسے فرمایا کہ جن کا اثر معلوم ہوتا ہے، لہٰذا جب تک تیرے گھر میں پیپل کا درخت موجود رہے گا صحت مشکل ہے۔ اس سے تو مریض کی پریشانی میں اور اضافہ ہوگیا۔ خوش قسمتی سے جلد ہی حضور گیارہویں شریف کے لئے فقیر پور تشریف لائے۔ فقیر صاحب بمشکل مسجد شریف لے گئے اور حضور سے دعا کی درخواست کی۔ پوچھنے پر جن کا تذکرہ بھی کیا، جس پر آپ نے پرجوش انداز میں ارشاد فرمایا کہ کون کہتا ہے کہ تجھے جن کا اثر ہے۔ لانگری صاحب نے غلط کہا ہے۔ تو رسول خدا صلّی اللہ علیہ وسلم اور اپنے مرشد کامل کا مدح خوان اور تجھے جن کا اثر ہو؟ تو بالکل تندرست ہے، تجھے صرف وہم ہے اور کچھ نہیں ہے، جاؤ کوئی کام کرو فارغ نہ بیٹھو۔ میاں صاحب نے عرض کی یا حضرت دعا تو فرمائیں، فرمایا بس یہی دعا ہے کہ تو کسی کام سے لگ جا۔ بہرحال بقول فقیر میاں عبدالرسول صاحب جیسے ہی میں مسجد شریف سے باہر نکلا اپنے جسم میں اس قدر توانائی محسوس کرنے لگا کہ خود حیران ہوگیا کہ چند لمحات میں اس قدر فائدہ کیسے ہوگیا؟ اس کے بعد نہ تو کسی قسم کی تکلیف محسوس ہوئی نہ علاج کرایا اور جب لانگری صاحب آپ سے ملے، ان کو فرمایا کہ تم انصار ہو مہاجرین کی دل شکنی کرتے ہو۔ (ان دنوں یہ صاحب نئے نئے فقیر پور شریف میں مقیم ہوئے تھے)

نماز کے وقت مریض کے کسی رشتہ دار کو بلا کر خیریت دریافت فرماتے تھے، اگر کوئی اچھا حکیم یا ڈاکٹر معلوم ہوتا تو اس کے پاس جانے کا حکم فرماتے تھے، پرہیز کے لئے زیادہ تاکید فرماتے تھے، علاج کے لئے ہدیتاً نقدی بھی عطا کرتے تھے۔ اگر کوئی علاج میں سستی کرتا تو اس پر سخت رنجیدہ ہوتے تھے اور عموماً فرماتے تھے کہ بہت سے سیدھے سادے فقیر علاج میں غفلت کرتے ہیں۔ اگر کوئی دوسرا خیر خواہی کرکے علاج کا کہتا ہے تو کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت صاحب سے نمک پانی دم کروا لیا ہے، وہی کافی و شافی ہے، کسی اور علاج کی کیا ضرورت؟ ایسا کرنا غلطی اور جہالت ہے۔ شریعت خواہ طریقت علاج سے منع نہیں کرتے، ہاں واقعی کسی اہل دل کا دم کردہ نمک یا پانی اچھی چیز ہے اس میں بڑی تاثیر ہے، اس سے منع نہیں لیکن علاج کرنا بھی سنت خیر الانام صلّی اللہ علیہ وسلم ہے اس میں سستی کیوں ہو۔ اگر پیسے نہیں ہیں تو بلاحجاب اس عاجز کو بتا دیں، انشاء اللہ تعالیٰ جو حال ہوگا یہ عاجز بخوشی تعاون کرے گا۔ ہماری ایک دوسرے سے ہمدردی کرنا اپنی ذمہ داری کی ادائیگی ہے کہ آپس میں پڑوسی ہیں، پڑوسی کا بڑا حق ہوتا ہے، وغیرہ وغیرہ۔

اگر کوئی طالب علم یا مسافر بیمار ہوتا تو لانگری صاحب سے فرماتے اسے ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق پرہیزی کھانا دلیہ وغیرہ بناکر دیں، بارہا اپنے گھر سے دلیہ یا کھچڑی بنا کر مریض طلبہ کے لئے بھیجتے تھے۔ اس کے علاوہ بخار، سر درد، کھانسی و دیگر عمومی امراض کے لئے مختصر دوائیں انجکشن و ٹیبلیٹ وغیرہ ہمیشہ آپ کے گھر میں موجود رہتی تھیں اور حسب ضرورت طلبہ اور بستی کے فقیروں کو مفت دی جاتی تھیں۔

طالب علمی کا زمانہ لاپرواہی کا ہوتا ہے، عموماً لڑکے سردی گرمی سے بچنے کی فکر کم ہی کرتے ہیں۔ اس لئے آپ سردی، گرمی سے بچنے کے لئے احتیاط سے رہنے کی تاکید فرماتے تھے۔ خاص کر سردیوں میں جس رات زیادہ سردی کا اندیشہ ہوتا، نماز عشاء پڑھ کر گھر جانے سے پہلے فقراء اور طلبہ سے تاکیداً فرماتے تھے کہ آج رات سخت سردی کا اندیشہ ہے، تہجد یا نماز فجر کے وقت خاص خیال رکھیں، بلا ضرورت باہر نہ نکلیں۔ اگر کسی کام کے لئے باہر نکلنا ہو تو احتیاط سے نکلیں، وغیرہ۔

نماز عشاء اور نماز فجر کے وقت کافی فقراء حضرت کی زیارت و استقبال کے لئے دروازے پر جاتے تو آپ ان کو منع فرماتے تھے۔ مورخہ ۲۱ دسمبر ۱۹۸۱ء کو یہ عاجز بھی دیگر فقراء کے ہمراہ استقبال کے لئے دروازہ مبارک پر کھڑا تھا، باہر آتے ہی السلام علیکم کہہ کر فرمایا کتنی سردی ہے، یہاں کھڑے ہونے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ اندر مسجد میں بیٹھ جاتے میں خود آرہا تھا، اپنے آپ کو خواہ مخواہ تکلیف میں کیوں ڈالتے ہو۔

ہر سال سردیوں کی ابتداء ہی میں مسجد شریف کے تمام بیرونی دروازے اینٹوں سے یا سرکنڈے کی کٹریوں سے بند کرواتے تھے۔ بعض اوقات خود کھڑے ہوکر اس کام کی نگرانی فرماتے تھے۔ وبائی امراض کے دنوں میں کم عمر طلبہ کے لئے ٹیکوں کا بھی اہتمام فرماتے تھے، عرصہ تک یہ خدمت محترم محمد عیسیٰ صاحب میمن اور محترم مولانا محمد عظیم صاحب انجام دیتے رہے۔ ۱۹۶۹ء میں جب آپ نے حضرت قبلہ صاحبزادہ صاحب مدظلہ العالی کو صرف سات برس کی عمر میں تجوید و قرأت قرآن کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے حیدرآباد محترم قاری محمد طفیل صاحب کی خدمت میں بھیجا تھا، ان دنوں چیچک کی بیماری وبائی صورت اختیار کر چکی تھی۔ آپ نے خادم خاص حضرت قبلہ سید حاجی عبدالخالق شاہ صاحب کو خط لکھا کہ یہ خط پہنچتے ہی (حضرت قبلہ سیدی و مرشدی) محمد طاہر اور دیگر طلبہ کو چیچک کے ٹیکے ضرور لگوائیں، تاکید، تاکید۔

عیادت اور کرامت: حضرت قبلہ خلیفہ مولانا عبدالرحمن صاحب لانگری نے بتایا کہ ایک مرتبہ درگاہ فقیر پور شریف کے مقیم فقیر محمد پناہ (حال مقیم دبئی) کو سخت بخار ہوا، ایک مقامی حکیم نے اسے ٹائیفائیڈ کا بخار بتا کر اور سست کر دیا، یہاں تک کہ بخار کی شدت، پریشانی اور بے سمجھی کے عالم میں کبھی کبھی کپڑے بھی اتار پھینکتا تھا، اس کی بیوی بے چاری بڑی پریشان ہوئی اور مجبور ہوکر حضرت سوہنا سائیں نوراللہ مرقدہ کو اطلاع بھیج دی۔ نماز عشاء کے بعد کا وقت تھا۔ حضور نے مجھے بلایا اور فرمایا، چلو فقیر محمد پناہ کی عیادت کر آئیں، اگر کوئی دوائی ہو تو ساتھ لے چلیں۔ میں نے تھوڑا سیا خمیرہ لے لیا، اس کے گھر گئے، حضور نے دعا فرمائی، تسلی دے دی اور دیکھ کر فرمایا، خواہ مخواہ سست ہوئے ہو، کہاں ہے ٹائیفائیڈ؟ معمولی سا بخار ہے، کوئی فکر نہ کریں۔ میں نے خمیرہ کے دو وزن دے دیئے۔ صبح کو دیکھا کہ نماز باجماعت میں شامل ہے۔ پوچھنے پر بتایا کہ حضور کی دعا اور تشریف آوری کی برکت سے اسی وقت سے صحت اچھی ہونے لگی، اور نماز صبح تک بالکل تندرست ہوگیا، اب کوئی تکلیف نہیں ہے۔

میں خود کئی بار بیمار ہوا تھا، آدھی آدھی رات کو حضور عیادت کے لئے تشریف فرما ہوتے تھے، یہی نہیں بلکہ آپ یقین مانیں کہ اب بیمار ہوتا ہوں تو خواب میں حضرت سوہنا سائیں اور حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہما عیادت کرتے نظر آتے ہیں۔ جب میرے لڑکے کا پوتا فیض محمد پیدا ہوا تھا تو حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ خواب میں تشریف لائے اور مجھے پوتے کی مبارکباد دی۔ اس لئے مجھے یقین ہے کہ میرا یہ پوتا بابرکت ہوگا، اب بھی اپنے بڑے بھائی سے کافی ہوشیار ہے۔

(محترم لانگری عبدالرحمان صاحب)

عیادت اور خدمت

فقیر غلام محمد کلہوڑو دین پوری (حال مقیم کنڈیارو) سے جب احقر نے حضرت سوہنا سائیں رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے قیام دین پور شریف کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے چند اہم واقعات اور کرامات بتائے ان کی زبانی درج ذیل ہیں۔

نمبر ۱۔ میری والدہ صاحبہ حضرت صاحب نور اللہ مرقدہ کے گھریلو کام کاج میں ہاتھ بٹاتی تھی، چونکہ اس وقت دودھ نہ حضرت صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس تھا نہ ہمارے پاس، اس لئے قریب ہی ایک رشتہ دار کے گھر سے میری والدہ صاحبہ جا کر حضرت نور اللہ مرقدہ کے معصوم فرزند حضرت محمد مطیع اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے لئے دودھ لے آتی تھی، دین پور کی پوری بستی جنگل ہی میں واقع تھی۔ ایک مرتبہ مغرب کے بعد اندھیرے میں دودھ لینے جا رہی تھی کہ کسی بڑے سانپ نے ڈس لیا، ان کو گھر لے آئے، جیسے ہی حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کو پتہ چلا اسی وقت اندھیری رات میں عیادت کے لئے ہمارے گھر تشریف لے آئے، اس زمانے میں کچے کے علاقہ میں علاج معالجہ کا خاطر خواہ انتظام نہیں تھا، سانپ ڈسنے کا علاج فصد (نشتر لگا کر خون نکالنے) کے ذریعے کیا جاتا تھا، حضرت صاحب قبلہ قلبی و روحی فداہ نور اللہ مرقدہ نے اپنے ہاتھ مبارک سے فصد کے ذریعے خون نکالا، لیکن مقدر کی بات آخر ہوکر ہی رہتی ہے، اس بچاری کی زندگی ہی اتنی تھی، فوت ہو گئی، (انا للہ وانا الیہ راجعون) بہرحال جب حضرت مخدوم سعیدی موسانی رحمۃ اللہ علیہ کے قبرستان میں دفن کرکے لوٹ آئے، تو تین دن تک مسلسل قبر سے اللہ، اللہ کی آواز سنائی دیتی رہی، بقول مجاور پہلے تو میں اس وہم میں مبتلا ہوگیا کہ کہیں یہ فقیر زندہ عورت کو دفن کرکے تو نہیں گئے، لیکن بعد میں پتہ چلا کہ یہ تو زندہ دل ذاکرہ بندی تھی، بعد مرگ قبر میں بھی اس کو ذکر خدا کی نعمت حاصل ہوئی ہے،

۲، جون ۱۹۷۲ء میں مجھ پر فالج کا اتنا شدید حملہ ہوا کہ سخت گرمی کے باوجود گرم کمبل اوڑھے ہوئے ایک کمرے میں پڑا ہوا تھا، کنڈیارو ہیلتھ سینٹر کے ڈاکٹر غلام سرور مستوئی نے کافی کوشش کے بعد میرے رشتہ داروں کو بلا کر کہا کہ اب اس کا بچنا مشکل ہے، اس سے پریشانی مزید بڑھ گئی، بس اسی امید و یاس (ناامیدی) کی کشمکش میں مبتلا تھے کہ خوش قسمتی سے حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ محترم ڈاکٹر حاجی عبداللطیف چنہ کی دعوت پر کنڈیارو تشریف لائے، کسی فقیر نے میری بیماری کے متعلق آپ کو بتایا، صبح سویرے آپ ڈاکٹر عبداللطیف چنہ، حضرت سائیں نصیرالدین شاہ رحمھمااللہ تعالیٰ اور سید عبدالخالق شاہ صاحب کے ہمراہ میری عیادت کے لئے تشریف لائے، میرے قریب بیٹھ کر کافی دلجوئی کی اور میرے رشتہ داروں کو فرمایا، فکر نہ کریں عنقریب خوش ہو جائے گا، مختصراً یہ کہ میری صحت کے لئے دعا فرما کر آپ تشریف لے گئے، تھوڑی ہی دیر بعد ڈاکٹر مستوئی نے آکر معائنہ کیا اور حیرت سے کہنے لگا کہ آپ بڑے خوش قسمت ہیں کہ کل تو آپ کے بچنے کی کوئی خاص امید نہ تھی، آج تو آپ کی صحت کافی اچھی ہے خون کی گردش بھی معمول کے مطابق ہے، اب تو کسی قسم کا خطرہ نہیں ہے، اس پر میں نے بتایا کہ آج صبح خوش قسمتی سے میرے پیر و مرشد قدم رنجہ فرما کر میری عیادت کے لئے تشریف لائے تھے، یہ ان کی نظر کرم اور دعا کا صدقہ ہے کہ اتنی جلدی مجھے فائدہ ہوا ہے، جہاں تک مجھے یاد ہے، اس کے بعد صرف پانج دن ہسپتال میں رہ کر بالکل تندرست ہوکر دین پور چلا گیا۔ (فقیر غلام محمد صاحب)

صحت کے زمانہ میں تو آپ مریضوں کی عیادت کے لئے جاتے ہی تھے، لیکن خود بیمار ہوتے ہوئے بھی کئی مریضوں کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے، چنانچہ جب فقیر عبداللہ چانڈیو کا ٹریفک کے حادثہ میں پاؤں ٹوٹ گیا، ان دنوں حضرت صاحب نور اللہ مرقدہ عوارض کی وجہ سے کھڑے ہوکر نماز بھی نہیں پڑھ سکتے تھے، چلنا پھرنا ازحد دشوار تھا، پھر بھی ازراہ شفقت عصا مبارک کے سہارے بنفس نفیس جماعت سمیت اس کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے، آپ کے چہرہ انور پر نظر پڑتے ہی فقیر صاحب کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے، دھیمی دھیمی آواز میں قربان قربان، صدقے صدقے کہتے ہوئے اٹھنے کی کوشش کی، مگر حضور نے اٹھنے سے روکتے ہوئے، بیٹھنے کا حکم فرمایا، طبع پرسی کے بعد ان کی صحت کے لئے دعا فرما کر واپس تشریف لائے۔

عیادت اور قدر دانی: غالباً ۱۴۰۱ھ میں حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ اپنے علاج کے سلسلے میں کراچی تشریف لائے تھے، آپ کا قیام مرکز روحانی مہاجر کیمپ میں تھا۔ ان دنوں مولانا سائیں رفیق احمد شاہ صاحب مسکین پوری (جو کہ حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے مخلص مرید، ساتھ ساتھ آپ کے مرشد کامل حضرت فضل علی قریشی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے نواسے اور عالم باعمل ہیں) بھی کراچی میں زیر علاج اور کھنڈو گوٹھ میں مقیم تھے، معلوم ہونے پر اچانک حضور ان کی عیادت کے لئے تشریف لے آئے اور ان کے علاج کے سلسلے میں ہر طرح تعاون فرمایا۔ (مولانا قاری شاہ محمد صاحب کھنڈو گوٹھ کراچی)
حضور جامشورو ہسپتال میں زیر علاج تھے، قریب ہی دوسرے کمرے میں کوئی دوسرا مریض تھا، اچانک ایک رات اس کمرے سے رونے کی آواز سنائی دی، تھوڑی دیر میں وہاں سے ایک آدمی آیا، اور عرض کی یا حضرت مریض سخت تکلیف میں مبتلا ہے، ڈیوٹی پر کوئی ڈاکٹر بھی نہیں ہے، ازراہ کرم آپ تشریف لے چلیں اس کے لئے دعا فرمائیں۔ یہ سن کر فرمایا، مجھے سہارا دے کر اٹھائیں، نہ معلوم کتنی دیر سے وہ بیچارہ تکلیف میں ہے، ہم اس کے پاس جائیں گے۔ حالانکہ خود حضرت صاحب نور اللہ مرقدہ کا آپریشن ہو چکا تھا، ابھی زخم مندمل نہیں ہوئے تھے، حضرت صاحب کے خادم خاص جناب ڈاکٹر عبداللطیف صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اس آدمی کو سمجھانا شروع کر دیا کہ حضرت صاحب کا آپریشن ہو چکا ہے، ڈاکٹروں نے اٹھنے سے منع کر دیا، لہٰذا آپ حضرت صاحب کو چلنے کی تکلیف نہ دیں وغیرہ، غرضیکہ حضرت صاحب قبلہ نور اللہ مرقدہ دو آدمیوں (ڈاکٹر عبداللطیف رحمۃ اللہ علیہ اور محترم فتح محمد صاحب عرف بیدار مورائی) کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر ان کے سہارے مریض کے پاس پہنچے، حالانکہ اس وقت خود آپ کی حالت قابل رحم تھی، پاؤں زمین سے گھسٹتے آرہے تھے، جسم پر لرزہ طاری تھا لیکن پھر بھی ایک مسلمان بھائی کی تکلیف برداشت نہ کر سکے، مریض کے پاس پہنچ کر دعا فرمائی اور واپس اپنے کمرے میں تشریف فرما ہوئے، تھوڑی دیر بعد وہی آدمی حاضر ہوا اور عرض کی حضور آپ کی نظر کرم اور دعا سے اب مریض کی حالت کافی حد تک ٹھیک ہے۔ (بیدار مورائی)

ہمدردی اور عیادت: خلیفہ مولانا حاجی عبدالسلام صاحب نے بتایا کہ جب حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ آنکھ کے آپریشن کے لئے شجاع آباد تشریف لے گئے تھے، تو میں بھی اپنی آنکھ کے آپریشن کے لئے آپ کے ساتھ گیا تھا، آپ کے لئے خادمین نے کرایہ پر پرائیویٹ کمرہ لے لیا تھا، مجھے بلا کر فرمایا، مولوی صاحب آپ غریب آدمی ہیں، ہمارے ساتھ اسی کمرہ میں رہیں، دوسرا کمرہ لینے کی ضرورت نہیں، تاہم ساتھیوں کے مشورہ سے ہم نے دوسرا کمرہ لے لیا کہ کہیں حضور کے ساتھ رہنے میں بے ادبی نہ ہو، جب میری آنکھ کا آپریشن ہوا، حضور عیادت کے لئے میرے پاس تشریف لے آئے، حالانکہ حضور کی آنکھ کا آپریشن ہوا تھا، اور ابھی تکلیف باقی تھی۔

موت سعید: محترم خلیفہ ڈاکٹر حاجی عبداللطیف چنہ صاحب حضور کے مخلص مرید خدمت گار اور خصوصی معالج تھے، درگاہ اللہ آباد شریف کی تعمیر ان کی کوشش محبت اور اخلاص کا واضح ثبوت اور ثمرہ ہے، رمضان المبارک ۱۳۹۸ھ میں جب علاج کے لئے حیدرآباد لائے گئے ان کے خدمت گار رشتہ داروں نے غفلت کی، بروقت حضور کو اطلاع نہ کی، جب اطلاع پہنچی تو حضرت عیادت کے لئے تشریف لے گئے، یوں محسوس ہو رہا تھا کہ حاجی صاحب موصوف آپ ہی کے منتظر تھے، خوش قسمت حاجی صاحب نے مصافحہ کیا، ہاتھ مبارک چومے، اپنی کوتاہیوں کی معذرت چاہی اور کافی دیر تک اللہ، اللہ کرتے ہوئے جان، جان آفرین کے سپرد کردی۔

انا للہ وانا الیہ راجعون۔

خدا کا شکر ہے تم آگئے ہو میری بالیں پر
میری قسمت میں تھا یہ آخری دیدار ہو جانا

نکل جائے دم تیرے قدموں کے آگے
یہی دل کی حسرت یہی آرزو ہے

حاجی صاحب مرحوم کی جدائی کا حضور کو بہت دکھ ہوا، واپسی پر طاہر آباد شریف آکر فرمایا، آج ایک ولی اللہ کا انتقال ہوا ہے۔ دوسرے دن بعد از نماز فجر و مراقبہ آپ کے حکم سے آپ کی موجودگی میں قرآن مجید کا ختم شریف پڑھا گیا، آپ نے ایصال ثواب کیا اور کافی دیر تک ان کی تعریف کی اور حاجی احمد حسن صاحب نے، حاجی صاحب موصوف کی نیکی، دینی خدمات کی روشنی میں ایک مرثیہ تیار کیا جو غالباً تیسرے دن حضور کی موجودگی میں پڑھ کر سنایا، حضور توجہ سے سنتے رہے اور آخر تک آپ پر گریہ طاری رہا۔

مورخہ ۲۶ اپریل ۱۹۷۹ء کو حضور چند فقراء کے ہمراہ حاجی صاحب کی آبائی بستی خالصہ تشریف لے گئے، ان کے مزار پر کافی دیر تک ختم شریف پڑھ کر ایصال ثواب کیا، چونکہ حضور کی وجہ سے نئے و پرانے احباب کافی تعداد میں وہاں آئے ہوئے تھے، آپ نے نئے لوگوں کو ذکر کا وظیفہ سمجھایا، عام نصیحت کے علاوہ حاجی صاحب موصوف کی بہت تعریف کی اور اس کے رشتہ داروں کو ان کے نقش قدم پر چلنے کی ترغیب دی۔ (راقم الحروف بھی اس سفر میں آپکے ساتھ تھا)

نماز جنازہ: سنت رسول صلّی اللہ علیہ وسلم کے مطابق نماز جنازہ میں شریک ہوتے تھے، جنازہ کو کندھا دے کر ساتھ چلتے تھے، میت کے اعمال صالحہ کا جماعت میں بیان فرماتے اور ایصال ثواب کے لئے ختم شریف خود بھی پڑھتے اور فقراء کو بھی فرماتے اور آخر میں خود ایصال ثواب کرتے تھے۔ دور ہونے کی صورت میں ختم شریف پڑھ کر بخشتے اور رشتہ داروں کے نام تعزیتی خط ارسال فرماتے اور بالمشافہ آنے پر ختم پڑھ کر ایصال ثواب بھی کرتے تھے اور تعزیت بھی۔

یہی نہیں بلکہ کئی بار کافی دور چل کر بھی نماز جنازہ میں شریک ہوئے۔ فقیر عبداللہ کا والد فوت ہوگیا، اگرچہ اس کا گھر اللہ آباد شریف سے (بستی سومر چنـڑ میں) کافی فاصلہ پر تھا، لیکن جب وہ لینے کے لئے آیا تو آپ تشریف لے گئے، نماز جنازہ اور ایصال ثواب کے بعد واپس آئے۔ آپ کے پرانے ساتھی مخلص دوست مرید اور خلیفہ حضرت حاجی بخشل صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کی اطلاع اللہ آباد شریف پہنچی، ۲۰ دسمبر ۱۹۸۲ء کا دن تھا، سرد ہوائیں چل رہی تھیں، آپ کو کافی نزلہ زکام بھی تھا، پھر بھی جنازہ میں شرکت کے لئے فقیر پور شریف تشریف لے گئے۔ (واضح ہو کہ حاجی صاحب کا انتقال تبلیغی سفر میں ڈیپر فقیروں کی بستی میں ہوا، وفات کی رات بھی وعظ کیا تھا، تدفین کے لئے فقیر پور شریف لائے گئے، بلکہ ورثاء کی گزارش پر خود نماز جنازہ پڑھائی، چارپائی کو کندھا دے کر چلے، اس دن آپ پر سخت گریہ کی حالت طاری تھی، حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی تعریف میں کافی دیر تک تقریر فرماتے رہے، بار بار گریہ طاری ہو جاتا تھا اور آواز دھیمی پڑ جاتی تھی جس کا ریکارڈ احقر راقم الحروف کے پاس محفوظ ہے)۔

اسی طرح مؤرخہ یکم ذیقعد ۱۴۰۳ھ جمعرات کی رات کو آپ کے سب سے پرانے وفادار مخلص مرید خلیفۂ اجل سید سادات حضرت سائیں نصیرالدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے جناح ہسپتال کراچی میں انتقال ہو جانے کے بعد جب طاہر آباد شریف (جہاں حضور سوہنا سائیں نوراللہ مرقدہ قیام فرما تھے) لائے گئے، آپ پر سخت گریہ کی حالت طاری تھی، پچاس سالہ سفر و حضر کے ساتھی کی جدائی سے جو بار آپ کے نازک مزاج پر پڑا اس کا صحیح اندازہ کرنا بڑا مشکل ہے، تجہیز کے وقت حضور نے اپنی اوڑھنے کی نورانی سفید چادر مبارک بھیجی جو کفن میں شامل کی گئی، نماز جنازہ پرنم آنکھوں سے خود پڑھائی، خود اتنے بیمار تھے کہ چلنا پھرنا دوبھر ہوگیا تھا، پھر بھی تھوڑے فاصلہ تک چارپائی کو کندھا دے کر چلے اس کے بعد کھڑے ہوکر دیکھتے رہے جب تک کہ نظر پہنچی، بعد میں گھر تشریف لے گئے، قرآن مجید کے ختم شریف میں خود شامل ہوئے اور ایصال ثواب کیا، کئی دن تک تقاریر میں ان کی خداداد صلاحیت، تقویٰ، لنگر کی خدمت وغیرہ کا ذکر فرماتے رہے، مزید فرمایا کہ اگر شاہ صاحب پر کسی کا قرضہ ہو تو یا معاف کردیں یا مجھے اطلاع کریں، میں ان کا قرضہ ادا کروں گا۔ آپ کا یہ ارشاد دوستی اور پڑوسی کی حق ادائی بھی ہے تو اتباع رسول صلّی اللہ علیہ وسلم کی عملی تصویر بھی، چنانچہ سنن نسائی شریف میں ہے ”جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم پر فتوحات ارزاں فرمائیں تو فرمایا میں مومنوں کے لئے ان کی جانوں سے عزیز تر ہوں، لہٰذا جو وفات پا جائے اور اس پر قرضہ ہو تو وہ میں ادا کروں گا اور جو مال چھوڑ جائے وہ اس کے اہل خانہ کو ملے“

انتقال پرملال سے چند ماہ قبل جب بیماری اور کمزوری کی وجہ سے خود نہیں جا سکتے تھے، کئی مقامات پر تعزیت اور عیادت کے لئے حضور قبلہ صاحبزادہ سجن سائیں مدظلہ کو بھیجا۔ چنانچہ مورخہ ۱۵ ذوالحجہ ۱۴۰۳ھ کو محترم خلیفہ حاجی خیر محمد صاحب کلہوڑو (بستی چنیھانی تحصیل کنڈیارو) کے انتقال پر نماز جنازہ میں شرکت کے لئے حضرت صاحبزادہ صاحب مدظلہ کو بھیجا، اسی طرح فقیر غلام رسول منگی ولد حاجی فقیر محمد منگی اور فقیر محمد حیات کی تعزیت کے لئے بھی حضرت صاحبزادہ مدظلہ کو بھیجا، جب کہ عیادت کے لئے بھی اپنی طرف سے ان کو کئی مقامات پر بھیجا۔

آپ مخلصین، صالحین کے مزارات پر بھی تشریف لے جاتے تھے۔ چنانچہ خلیفہ حضرت مولانا فضل محمد صاحب بروہی رحمۃ اللہ علیہ (جن کا ریلوے حادثہ میں انتقال ہوا تھا اور نواب شاہ میں ان کا مزار ہے) کے مزار پر فقراء کے ہمراہ گئے، ختم شریف پڑھا، کافی دیر تک مزار کے قریب بیٹھے رہے۔ محترم خلیفہ عبدالکریم صاحب منگی رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر تشریف لے گئے، ختم شریف پڑھا، کچھ دیر بیٹھنے کے بعد فرمایا، یہاں جنت کی خوشبو آتی ہے اٹھنے کو جی نہیں چاہتا۔ (حاجی محمد حسین صاحب لاڑکانہ)

دین پور شریف میں حضرت صاحب نور اللہ مرقدہ کی قیام گاہ کے قریب ہی فقیروں کا قبرستان تھا، کئی صالح بزرگ صفت اہل ذکر وہاں مدفون تھے، کئی بار صبح کو بعد نماز و مراقبہ آپ وہاں تشریف لے گئے، اسی طرح فقیر پور شریف سے متصل قبرستان جو حضرت عارف شہید رحمۃ اللہ علیہ کے نام سے مشہور ہے، کئی بار آپ اس قبرستان میں تشریف لے گئے، کافی جماعت بھی ساتھ تھی، ختم شریف بخش کر واپس تشریف لے آئے۔

قبرستان سے اللہ اللہ کی آواز

مولوی محمد ایوب کے والد فقیر محمد صالح صاحب رحمۃ اللہ علیہ فی الواقع صالح اور بزرگ تھے، ان کی وفات کے وقت خوش قسمتی سے حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ درگاہ فقیرپور شریف ہی میں موجود تھے، حسب معمول نماز جنازہ میں شرکت کے بعد فقراء کے ساتھ کندھا دے کر چلے، جب فقراء قبرستان کی حدود میں اللہ اللہ کرتے ہوئے داخل ہوئے تو پورے قبرستان سے اللہ اللہ کی آواز سنائی دی، ایک قسم کے ذکر اللہ کا شور مچ گیا، کچھ لوگ حضرت عارف شہید رحمۃ اللہ علیہ کے مزار کا کام کر رہے تھے، انہوں نے حضرت عارف شہید رحمۃ اللہ علیہ کے مزار سے اللہ اللہ کی آواز سنی، اسی طرح پورے قبرستان میں ذکر اللہ کی دھوم مچ گئی۔ حضرت سوہنا سائیں نوراللہ مرقدہ سمیت پوری جماعت نے ذکر اللہ کی صدائیں سنیں، یہاں تک کہ دربار شریف کی مسجد شریف کے کام کرنے والوں میں کچھ مخالف ذہنیت کے آدمی بھی تھے، جن کے حضرت سوہنا سائیں نوراللہ مرقدہ سے کوئی عقیدت نہ تھی، الٹا مخالف تھے، قبروں سے ذکر کی آواز سن کر وہ بھی حیرت و تعجب کے علاوہ حضرت سوہنا سائیں نوراللہ مرقدہ کے عقیدت مند بن گئے۔ (محترم لانگری عبدالرحمٰن صاحب، محترم مولوی رب نواز و دیگر احباب)

سخاوت و ہمدردی: مناقب و شمائل میں رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کے کمالات ظاہرہ میں ایک ”اجود الناس صدرا“ (دل کی سخاوت میں اوروں سے بڑھ کر تھے) بیان کیا گیا ہے۔ نائب نبی عاشق رسول سیدی و مرشدی حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ میں وصف سخاوت بھی کمال درجہ کی موجود تھی۔ درگاہ اللہ آباد شریف اور فقیر پور شریف میں ایک سو پچاس کے قریب مدرسہ کے طلبہ و دیگر مقیم و مسافر آپ کے لنگر خانہ کے مستقل مہمان ہوتے تھے (اور اب بھی وہی دستور ہے۔) ہر ماہ باقاعدگی سے گیارہویں شریف کا جلسہ فقیر پور شریف میں اور ستائیسویں کا اللہ آباد شریف میں ہوتا تھا (اور اب بھی پابندی سے ہوتے ہیں) جن میں ہزاروں افراد شامل ہوتے تھے، ان کے علاوہ دو عظیم الشان جلسے جن میں بیس سے پچیس ہزار کا جم غفیر شریک ہوتا تھا، ان کی رہائش اور خورد و نوش کا مکمل انتظام آپ کی دریا دلی کا واضح ثبوت ہے۔ سوال و چندہ کو از حد ناپسند کرتے تھے، جب کہ ازخود اگر کوئی تعاون کرتا تو بھی اگر دینے والا غریب ہوتا تو اس سے نہیں لیتے تھے بلکہ بعض اوقات اپنی طرف سے مزید پیسے ملا کر دیتے تھے، البتہ اگر دینے والا خوشحال ہوتا تو اتباع سنت خیر الانام صلّی اللہ علیہ وسلم کرتے ہوئے لے لیتے تھے، اور مدرسہ یا جماعت کی کسی ضرورت میں صرف کرتے تھے۔ آپ کے استغناء اور توکل علی اللہ کا اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ تقریباً ہر تقریر میں برسر منبر اعلان فرماتے تھے کہ ہم چندہ لینے اور سوال کرنے والے نہیں ہیں، نہ ہی رسمی پیری مریدی ہے، بلکہ آپ جن بزرگوں کے مرید ہوں انکے مرید رہیں، جو کچھ صدقات، خیرات یا زکوٰۃ دینا ہو ان کو ہی دے دیں یا کسی دوسرے مذہبی دینی ادارہ میں دے دیں، ہم فی سبیل اللہ خدمت کرنے والے ہیں، ہمیں اپنے خالق و مالک آقا نے اتنا کچھ دے رکھا ہے کہ کسی سے کچھ لینے کی حاجت ہی نہیں رہی۔ بعض اوقات بھری مجلس میں خطاب کرتے ہوئے فرماتے تھے، تمہیں جانے کی اجازت نہیں ہے، یہاں ٹھہرو دین کے احکام سیکھو اور واپس جاکر اپنے شہر، بستی بلکہ علاقہ بھر میں دین کی تبلیغ اور شریعت و طریقت کی اشاعت کرو، اتنی زندگی دنیاوی کام کاج میں صرف کردی، کچھ دن تو یہاں بھی ٹھہر کر دیکھو، جو کچھ ساگ بھت سیدھا سادا لنگر ہوگا مل کر کھائیں گے، اس میں انشاء اللہ تعالیٰ کبھی بھی کمی نہیں آئے گی۔

بزرگی و مسند نشینی کے بعد ہی نہیں بلکہ شروع سے ہی اللہ تعالیٰ نے آپ کو بے پناہ خدمت خلق، سخاوت اور ہمدردی کا جذبہ عطا فرمایا تھا۔ پرانے زمانے کے مخلصین بتاتے ہیں کہ عالم شباب میں بھی آپ کبھی دنیا کی طرف متوجہ نہ ہوئے تھے، آبائی زمین بھی مزارع آباد کرتے تھے اور ان سے حساب کتاب بعض دوسرے رشتہ دار یا آپ کے دوست کیا کرتے تھے۔
فقیر محمد الیاس رحمۃ اللہ علیہ جن کا چند سال قبل انتقال ہو چکا ہے، وہ بتاتے تھے کہ درگاہ رحمت پور شریف کے قیام کے زمانہ میں کافی عرصہ تک حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے گھر میں پانی پینے کے لئے نل بھی نہیں تھا، پہننے کے لئے صرف ایک جوڑا کپڑوں کا تھا، اور اشیاء ضروریہ رکھنے کے لئے ایک چھوٹی سی پیٹی آپ کے گھر کا جملہ اثاثہ تھا۔ (از حضرت قبلہ صاحبزادہ سجن سائیں مدظلہ)

مسند نشینی کے بعد آمدن میں اللہ تعالیٰ نے کافی برکت عطا فرمائی، لیکن ذاتی موروثی زمین کی آمدن سمیت سبھی کچھ اہل ذکر فقراء، مدرسہ اور تبلیغ اسلام کے لئے وقف تھا۔ مدرسہ کے طلبہ اور بستی کے فقیروں کو وقتاً فوقتاً نقدی اور کپڑے بھی دیا کرتے تھے، اگر مدرسہ کے طلبہ کے لئے زکوٰۃ کے پیسے ملتے تھے تو اہل بیت کو اپنی طرف سے ان کے حصے کے برابر پیسے دیا کرتے تھے (اس لئے کہ اہل بیت کو زکوٰۃ لینا جائز نہیں ہے) ہر سال گرمیوں میں طاہر آباد شریف (ضلع حیدرآباد) جاتے اور آتے وقت طلبہ کا مکمل کرایہ ادا کرتے تھے، مکمل نہیں تو تعاون ضرور کرتے تھے۔

آپ کے خلفاء کرام اکثر مسکین تھے، ملازمت یا تجارت اور محنت و مزدوری کرکے اپنا گزارہ کرتے تھے، اور اسی سے تبلیغ کا کرایہ وغیرہ بھی۔ ایسے خلفاء کرام کو وقتاً فوقتاً کرایہ کے لئے نقدی اور کپڑے بھی دیا کرتے تھے، تاکہ کسی طرح کا احتیاج نہ رہے اور دل جمعی سے تبلیغی کام کرتے رہیں، جب کہ خلافت کی شرائط میں یہ بھی تھا کہ کسی سے صراحۃ یا کنایۃ کوئی سوال چندہ نہیں کریں گے، اسی قسم کے چند واقعات بعض خلفاء اور فقراء کی زبانی پیش خدمت ہیں۔

ایک مرتبہ فقیر پور شریف میں آپ نے جملہ خلفاء کرام کو بلاکر کافی دیر تک تقوی، تواضع اور تبلیغ کے سلسلہ میں تفصیلی نصیحت فرمائی، ہر ایک کے اسباق و لطائف تازہ کئے، اور آخر میں ہر ایک خلیفہ کو پانچ پانچ روپے عنایت فرمائے۔ (خلیفہ مولانا عبدالغفور صاحب)
رحمت پور شریف میں رمضان المبارک میں تجوید و قرأت کا تعلیمی دورہ تھا، میں بھی شامل تھا، ان دنوں میں نے نئی شادی کی تھی، استاد صاحب سے اجازت لے لی، انہوں نے حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کو جانے کی وجہ بتائی آپ گھر تشریف لے گئے اور کافی ضروری اشیاء لا کر مجھے عنایت فرمائیں کہ یہ بطور تحفہ آپ کے لئے لے آیا ہوں گھر لے جائیں، جب حضور نے خلافت عنایت فرما کر تبلیغ کی ڈیوٹی لگادی، غربت کا زمانہ تھا، عموماً جب بھی تبلیغ کے لئے اجازت لے کر کراچی آتا تو آپ کرایہ عنایت فرماتے تھے، ایک مرتبہ گڑ اور روٹی لا کر دے دیئے کہ سفر میں لے جائیں۔ (خلیفہ مولانا قاری شاہ محمد صاحب کراچی)

فقیر پور شریف میں حضور سے اجازت لے کر تبلیغ کے لئے روانہ ہوا، ابھی رادھن اسٹیشن تک پہنچا بھی نہیں تھا کہ فقیر عبداللہ دوڑتا ہوا آیا اور کہا کہ حضور سوہنا سائیں نوراللہ مرقدہ نے یہ پیسے (۶ چھ روپے اس وقت کے لحاظ سے کافی زیادہ تھے) عنایت فرمائے کہ نہ معلوم آپ کے پاس کرایہ ہے یا نہیں، یہ کرایہ میں استعمال کرنا۔ (خلیفہ قبلہ محمد بخش صاحب اللہ آبادی والد ماجد احقر مؤلف)

تبرک میں برکت: رحمت پور شریف میں ایک مرتبہ آپ نے بلا کر مجھے ایک روپیہ دیا جو کہ اس وقت کے لحاظ سے کافی رقم تھی، ساتھ یہ بھی فرمایا کہ اس کو تبلیغی کرایہ میں صرف کرنا۔ چونکہ حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کے زمانہ میں بھی آپ سے ہماری انتہائی عقیدت ہوتی تھی میں نے وہ روپیہ تبرک کے طور پر اپنے پاس رکھ لیا، تقریباً تین چار سال تک وہ روپیہ میرے پاس محفوظ رہا، اور اس کی وجہ سے میری پیسوں کی تھیلی کبھی خالی نہ ہوئی، حالانکہ اس وقت میں بہت پیسے خرچ کرتا تھا، لیکن جب غلطی سے وہ روپیہ صرف ہوگیا وہ برکت بھی جاتی رہی۔ (محترم مولانا بخش علی صاحب حیدرآباد)

ایک مرتبہ حضور کے فرمان سے میر پور خاص کے علاقہ میں رمضان المبارک کی تبلیغ کی، ۲۷ کی رات کو حضور کی خدمت میں طاہر آباد شریف حاضر ہوا، صبح کو حسب معمول حضور تفریح کے لئے باہر آئے، اکیلے کھیت میں گھوم رہے تھے میں نے جا کر دس روپے خدمت میں پیش کئے اور عرض کی کہ حضرت ۶ روپے فطرہ اور ۴ روپے میری طرف سے خیرات کے ہیں، آپ نے خوشی سے قبول فرما لئے۔ نماز ظہر کے بعد دروازہ مبارک پر پہنچ کر مجھے بلایا، میں حاضر ہوا تو آپ نے تنہائی میں میرا ہاتھ پکڑ کر کچھ روپے تھما دیئے، اور فرمایا صبح آپ کا دل محبت سے بھرا ہوا تھا، ہم نے آپ سے پیسے لے لیے، آئندہ آپ کچھ دینے کی فکر نہ کریں، آپ خود غریب آدمی ہیں، یہ روپے لے کر عید کے لئے گھر جائیں، والدین اور بچوں کے ساتھ جاکر عید کریں، میں نے باہر جا کر دیکھا تو کافی اور پیسے ملا کر آپ نے دیئے تھے۔ (فقیر عبدالغفار شر بلوچ)

میرے بیعت ہونے کے بعد دوسری مرتبہ جب حضور کراچی تشریف لے آئے میں نے حسب توفیق تھوڑے سے پیسے ہدیۃ آپ کی خدمت میں پیش کیے، لینے سے انکار کرتے ہوئے فرمایا ہم پیسے لینے والے نہیں ہیں، اپنی کسی ضرورت میں صرف کرو، الغرض میرے اصرار کرنے پر قبول فرمائے۔ (فقیر عبدالحمید کھنڈو گوٹھ کراچی)

ہمدردی کا ایک اور واقعہ: دربار شریف پر قیام کے دوران چونکہ میں مال مویشی کی تھوڑی بہت تجارت کرتا تھا، ایک مرتبہ لنگر سے چند بکریاں خریدنے کے لئے بات کی تو کسی نے جاکر حضور سے شکایت کی کہ یہ تو پہلے سے فلاں، فلاں آدمی کا اتنا مقروض ہے، غریب آدمی ہے، بہتر یہ ہے کہ اس کو بکریاں نہ دی جائیں وغیرہ، حضور نے مجھے بلا کر فرمایا یہ بکریاں لے لیں اور بیچ کر اپنا قرضہ ادا کریں۔ (البتہ لین دین کے معاملہ میں آپ عموماً درمیان میں نہیں آتے تھے) اس لئے ایک منتظم دربار (نام لکھنا مناسب نہیں) کے نام فرمایا قیمت وغیرہ کے بارے میں ان سے بات چیت کریں۔ جب میں ان سے ملا قیمت کی بات تو خیر طے ہوگئی، البتہ ادائیگی کے طریقہ کار میں اختلاف ہوگیا، اس نے کہا کہ فلاں تاریخ کو کسی بھی صورت میں پیسے لاکر دینا، میں نے حضور سے جاکر اس کی شکایت کئے بغیر عرض کی کہ ہو سکتا ہے میں غریب آدمی ہوں بروقت پیسے ادا نہ کر سکوں، اس لئے یہ بکریاں نہیں لینا چاہتا۔ آپ حقیقت حال سمجھ گئے، بڑی شفقت سے فرمایا، آپ بکریاں لے جائیں، ان کی ملکیت تو نہیں ہیں، پھر اس کو بلاکر تنبیہہ فرمائی کہ تمہیں سختی کرنے کا کیا حق ہے، جب ایک غریب کا کوئی کام ہوتا ہے، میں اسے دیتا ہوں تو تم کیوں ان کو تنگ کرتے ہو۔ خیر بکریاں تو میں نے لے لیں، کچھ عرصہ کے بعد میں نے قیمت میں سے کچھ پیسے اس کو لاکر دیئے، مجھ سے لے کر جب حضور کو دینے لگا تو کہا حضور کچھ پیسے یہ دیئے ہیں، باقی اتنے رہتے ہیں، تو فرمایا کیا ہم نے آپ سے پیسے نہ ملنے کی شکایت کی ہے، یا پوچھا ہے کہ کتنے پیسے باقی رہتے ہیں۔ (حاجی منظور احمد)

واضح رہے کہ حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کا یہ معمول تھا کہ حتی المقدور کسی کی شکایت سننا ہی نہیں چاہتے تھے، تاہم اگر کسی کے خلاف شکایت پہنچی تو شکایت کرنے والا خواہ کتنا ہی چرب زبان، یا صالح ہوتا آپ اس کی بات پر اعتبار کرکے کسی پر رنجیدہ نہیں ہوتے تھے، نہ ہی شکایت کرنے والے کو غلط قرار دے کر اس کی دل شکنی کرتے، یا جس کی شکایت کی گئی اس کے متعلق دل میں کدورت رکھ کر سپرد خدا کہہ کر خاموش ہو جاتے (کہ غلط شکایت ہونے کی صورت میں بلاوجہ کینہ و کدورت رکھنا لازم آئے گا اور شکایت صحیح ہونے کی صورت میں اس کی اصلاح نہیں ہوگی) بلکہ حسن تدبیر سے اس بات کی تحقیق فرماتے تھے، شکایت صحیح ثابت ہونے پر عموماً علیحدگی میں بلاکر تنبیہہ یا نصیحت فرماتے، البتہ بعض اوقات ضرورت اور مصلحت کے تحت جماعت میں (جب کوئی مسافر یا نیا آدمی نہ ہوتا) بلاکر تنبیہہ فرماتے، بعض اوقات مناسب سزا بھی دلاتے تھے۔

میرا دل صاف ہے: ذاتی معاملات اور اختلافی امور سے آپ دور رہتے تھے، بیرونی فقراء کے مسائل خواہ درگاہ شریف کے انتظامی حل طلب مسائل کے متعلق فرماتے تھے کہ مجھ تک نہ پہنچائیں، مجھے اپنے مسائل میں الجھا کر دل میں خواہ مخواہ کی کدورت اور میرے لئے پریشانی پیدا نہ کریں، آپس میں بیٹھ کر طے کرلیں۔ دراصل یہ بھی سنت حضور پرنور صلّی اللہ علیہ وسلم کے عین مطابق ہے، چنانچہ ابو داؤد شریف کی حدیث ہے، کان رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم یقول لا یبلغنی احد منکم عن احد من اصحابی شیئا فانی احب ان اخرج الیکم وانا سلیم الصدر (احیاء علوم الدین صہ ۳۷۸ ج ۲)

نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے ”تم میں سے کوئی دوسرے میرے صحابی کی بات (شکایت) مجھ تک نہ پہنچائے، میں یہی چاہتا ہوں کہ جب تمہاری طرف آؤں تو (ہر ایک کے لئے) میرا دل صاف ہو“ البتہ اگر کوئی انتظامی مسئلہ حل طلب ہوتا اور منتظمین سے حل نہ ہو پاتا تو آپ مختصر سے وقت میں طرفین کو رواداری کا احساس دلاکر خوشی خوشی میں صلح کرادیتے کہ عقل دنگ رہ جاتی۔

السلام علیکم: سلام میں آپ پہل کی کوشش کرتے تھے، اگر سامنے چھوٹا مگر سمجھدار بچہ ہوتا تو اس کو بھی السلام علیکم فرماتے تھے، واضح رہے کہ بچوں پر سلام کرنا اور سلام میں پہل کرنا دونوں سنت رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ”یبدأ بالسلام“ (شمائل) کہ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم سلام کی ابتدا کیا کرتے تھے۔ مدرسہ یا مسجد شریف تک آتے وقت اگر کئی جگہ آدمی کھڑے ہوتے تو ہر جگہ سلام فرماتے تھے، یہی نہیں بلکہ، درگاہ فقیر پور شریف میں جب آپ کی صحت درست تھی مسجد شریف کا کام ہوتا تھا، گھنٹوں تک آپ جماعت سے مل کر مٹی اٹھاتے تھے، تقریباً ڈیڑھ دو ایکڑ کے فاصلے سے، کبھی اور بھی دور سے مٹی لائی جاتی، جگہ جگہ سامنے سے فقراء آجاتے، آپ ایک ایک چکر میں نہ معلوم کتنی بار السلام علیکم فرماتے تھے، اس سلسلہ میں آپ احادیث نبویہ صلّی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں کثرت سے سلام کہنے کی ترغیب بھی دیتے تھے، کہ سلام کہنے سے دل میں ایک دوسرے کی محبت پیدا ہوتی ہے، دل میں اگر کوئی کدورت ہوگی تو وہ بھی اس کے صدقہ سے نکل جائے گی۔ واپس جاتے وقت بھی آپ ضرور السلام علیکم فرما کر گھر تشریف لے جاتے تھے، اور یہ بھی سنت رسول کریم صلّی اللہ علیہ وسلم ہے۔ (سنن ابی داؤد)

آپ کو اگر کسی کے سلام پہنچادیئے جاتے تو وعلیکم السلام فرماتے، اسی طرح جوابی خط کے شروع میں وعلیکم السلام لکھتے، راقم الحروف نے ایک بار آپ کی طرف سے جوابی خط میں السلام علیکم لکھا تھا، فرمایا، یہ غلط ہے، آئندہ جوابی خط میں وعلیکم السلام لکھا کریں۔
ہاتھ پھیرنا: حضرت سائب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ”میں ابھی چھوٹا ہی تھا کہ بیمار پڑ گیا، میری خالہ مجھے حضرت شہنشاہ دو عالم شافع روز جزا صلّی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دعا کرانے لے گئی، تو رسول کریم صلّی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور برکت کی دعا کی“۔ اسی طرح سیدی و مرشدی حضرت سوہنا سائیں نوراللہ مرقدہ کی خدمت میں جب کوئی بیمار یا ویسے ہی دعا کے لئے کوئی بچہ لایا جاتا تو آپ اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر اس کی صحت اور دینداری کے لئے دعا فرماتے، اگر کوئی شرارتی سمجھدار بچہ دعا کے لئے لایا جاتا تو آپ اس کے لئے بھی دعا فرماتے تھے، اور اس کی سمجھ کے مطابق کچھ نصیحت بھی فرماتے تھے۔

پھونک مارنا: نعت خوان محمد رفیق فیصل آبادی نے بتایا کہ حضور چوہڑکانہ ضلع شیخوپورہ تشریف فرما تھے، میں بھی اس تبلیغی سفر میں آپ کے ساتھ تھا، چونکہ اکثر احباب سفر کی وجہ سے تھکے ہوئے تھے، نماز ظہر پڑھ کر سوگئے، میں بھی سوگیا، نماز عصر سے پہلے پہلے تمام احباب کو اٹھایا گیا، مجھے حاجی محمد حسین صاحب (جو سندھ سے اس سفر میں شامل تھے) نے کہا رفیق بھائی میں نے ابھی ابھی خواب میں دیکھا کہ سیدی و مرشدی حضرت سوہنا سائیں فقیروں کو فرما رہے ہیں کہ رفیق کے لئے دعا کرو، یہ سن کر میں بڑا خوش ہوا، نماز عصر کے لئے وضو بنایا، جس حویلی میں حضور تشریف فرما تھے وہاں چلا گیا، دیکھتے ہی حضور نے بلایا اور فقیروں سے فرمایا کہ آؤ مل کر رفیق کے لئے دعا کریں، اس سے تو اور بھی میری خوشی کی حد ہوگئی کہ از خود آقا نے یاد فرما کر دعا کی ہے، پھر مجھے قریب بلا کر میری گردن پر ہاتھ پھیرا اور تین بار میرے منہ پر پھونک ماری اور اپنے پاس پڑے ہوئے نمک میں سے تھوڑا سا نمک اٹھا کر مجھے دے دیا، میں نے خوشی خوشی لے کر اپنے پاس محفوظ کرلیا، ابھی تک تبرک کے طور پر وہ نمک میرے پاس محفوظ ہے، آپ کا دیا ہوا نمک اور پھونک کی تاثیر ابھی تک محسوس کرتا ہوں کہ اس دن سے میرا گلا اس قدر صاف ہے کہ مسلسل کئی کئی گھنٹے نعتیں پڑھتا رہتا ہوں پھر بھی گلا نہیں بیٹھتا، یہ محض حضور کی کرم نوازی تھی کہ آپ مجھے قریب بلا کر پیار سے فرماتے تھے کہ رفیق آؤ نعت شریف سناؤ۔

معاملات کی صفائی: آپ فرماتے تھے کہ بزرگی، فقیری، محض زہد عبادت، وجد و جذب کا نام نہیں ہے، بلکہ اس سے بڑھ کر معاملات میں صفائی کی ضرورت ہے، اگر کوئی کتنا ہی عابد و زاہد کیوں نہ ہو، مگر جب تک اپنے اہل خانہ، پڑوسی، دوست احباب اور دیگر مستحقین کے حقوق ادا نہیں کرتا، تو وہ فقیر نہیں ہے، کئی لوگ زہد و عبادت کی وجہ سے تو بزرگ نظر آتے ہیں، مگر ان کے عام معاملات کو دیکھا جائے تو بقول حضرت پیر محمد زمان لنواری رحمۃ اللہ علیہ

چارئي پلو چڪ ۾، پڇين پاريهر وٺ،
اهڙي احتياط سين، ڦٽ پڄاڻان ڦٽ.

(کپڑے پر کبوتر کی بیٹ لگ جائے تجھے اس سے تو نفرت ہے، مگر اسی کپڑے کے چاروں کنارے غلاظت سے بھرے پڑے ہیں، ان کی تجھے کوئی پرواہ نہیں) کے قول کے مصداق نظر آئیں گے، اپنے گھر والوں سے حسن سلوک نہیں، خندہ پیشانی سے بات نہیں کرتے، دوست احباب کے لئے تو گوشت حلوے، زردے اور پلاؤ کا انتظام کریں گے مگر اس دن بھی اہل خانہ کی یاد نہیں، پڑوسیوں کی معمولی تکلیف بھی برداشت نہیں کرتا، معمولی سی بات پر بھی ان سے لڑائی جھگڑا ہوتا ہے، ان کی کوئی چیز ہاتھ لگ جائے تو اس کے واپس کرنے کی فکر نہیں، یہ بھی کوئی فقیری ہے؟ فقیر تو وہی ہے جو معاملات میں متوازن ہو، بعض کہتے ہیں کہ سائیں فلاں آدمی سے جو ہمارا جھگڑا ہے، اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں، اس نے ہمیں ستایا، پہل اس نے کی، ہم نے جوابی طور پر مقدمہ دائر کردیا، یا اس کے ساتھ لڑے ہیں وغیرہ وغیرہ، میں کہتا ہوں کہ اگر تو نے پہل نہیں کی تو یہ ایک اچھی خصلت ہے، مگر یہ دوست یا پڑوسی کی حق ادائیگی نہیں ہے، اس سے تو تو اپنی ایک ذمہ داری سے سبکدوش ہوا ہے، اس کا حق تو یہ ہے کہ اگر وہ تجھے تکلیف دے، اذیت پہنچائے تو بھی تو صبر کرے۔

قرضہ: فرمایا کچھ لوگ قرضہ لینے کے معاملہ میں تو بہت تیز ہوتے ہیں، لیکن واپسی کی فکر نہیں کرتے، پس ان کا نقطہ نظر یہی ہوتا ہے کہ قرضہ اٹھائیں عیش و عشرت کریں۔ پھر دیکھا جائے گا۔ یہ عاجز تو بارہا تاکید کرتا رہتا ہے کہ قناعت کرو قرضہ سے بچو، اگر کسی وجہ سے عند الضرورت قرضہ لے لیا ہے تو اس کی واپسی کی فکر کرو، روکھی سوکھی کھا کر بھی قرضہ ادا کرو، یہ نہیں ہو سکتا کہ خرچہ وہی رہے اور قرضہ بھی ادا ہو جائے، خواہ چار چار آنہ ہی بچا سکیں، بچا کر قرض ادا کریں۔

بعض فقیر جب کسی سے قرضہ مانگتے ہیں تو وہ فقیر سمجھ کر دیتے ہیں، تحریری صورت میں کوئی ثبوت کسی کے پاس نہیں ہوتا، یہ بھی ایک قسم کی بڑی غلطی اور شریعت مطہرہ کی خلاف ورزی ہے کہ خود اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں لین دین کے وقت لکھنے کا حکم فرمایا ہے، غرضیکہ ادھار لینے دینے کے بعد بروقت واپسی ہوتی نہیں، پھر دوستی اور محبت ختم بلکہ بعض اوقات فقیری میں بھی فرق آجاتا ہے، اس سلسلہ میں آپ یہ ایک لطیفہ بکثرت بیان فرماتے تھے جو کہ عجیب لطیفہ بھی ہے اور عمدہ درس نصیحت بھی، آپ بھی ملاحظہ کریں۔

لطیفہ: ایک مزاحیہ شخص نے یہ لطیفہ سنایا، کہ چھنگلی انگلی ساتھ والی انگلی سے کہتے ہے کہ کھاؤ پیو عیش کرو، تو وہ پوچھتی ہے کہ کہاں سے لائیں کہ عیش کریں، تو درمیانی انگلی کہتی ہے کہ قرضہ اٹھائیں اس سے عیش و عشرت کی زندگی گزاریں، اس پر تشہد والی انگلی کہتی ہے کہ قرض اٹھاؤ گے تو سہی لیکن واپسی کس طرح ہوگی؟ قرض کون ادا کرے گا؟ اس پر انگوٹھا پکار اٹھتا ہے کہ میں جو ہوں، تم بے فکر رہو (اصطلاح عام میں انگوٹھا دکھانے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کسی قسم کی امید نہ رکھو، کچھ نہیں لے سکتے)

آپ فرماتے تھے کہ بعض اوقات قرض کی وجہ سے آدمی اس حد تک بھی پہنچ جاتا ہے کہ قرضہ لیتے وقت آپس میں بڑی دوستی اور محبت تھی، پھر ادائیگی کے وقت جب پیسے طلب کئے گئے تو لینے والے نے کہہ دیا جناب دے دوں گا، معاف کرنا، اس وقت موجود نہیں، دوبارہ جب مانگے گئے تو جواب میں کہا، جناب آپ کے پیسے کھا جاؤں گا؟ نہیں ہیں اس وقت تو کیا کروں؟ فلاں تاریخ کو دے دوں گا، جب پروگرام کے تحت پھر مانگے گئے تو کہا جناب آپ تنگ کیوں کرتے ہیں؟ میرے پاس جب پیسے ہوں گے از خود ادا کر دوں گا، اسی طرح بعض اوقات ثبوت نہ ہونے کی صورت میں تو کئی افراد بالکل انکار کر بیٹھتے ہیں، کہ تمہارے پیسے تھے ہی نہیں اگر کوئی ثبوت ہے تو کہہ دیتے ہیں چلو مقدمہ دائر کردو، یہی سمجھو کہ میں نہیں دیتا وغیرہ،

اس لئے میں یہی کہتا ہوں کہ آپ کے پاس کوئی فقیر قرضہ لینے آئے اور واقعی اس کو پیسوں کی ضرورت بھی ہے تو ایسی صورت میں بہتر یہ ہے کہ چار پیسے مفت دے کر اس کی مدد کی جائے کہ جناب یہ لے لیں مجھ سے زیادہ نہیں ہو سکتا، ایسا نہ ہو کہ کل آپس میں دوستی بھی ختم ہو جائے، لہٰذا ہماری طرف سے یہ عام اعلان ہوتا ہے کہ ہم کسی کے ذمہ دار نہیں، اگر قرضہ دیتے ہو تو اپنی ذمہ داری پر دے دو ہمارے پاس شکایات لے کر نہ آؤ۔ آپ خود اس قدر احتیاط برتتے تھے کہ حضرت پیر مٹھا صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے زمانہ اقدس میں لنگر کے لئے جو نقدی یا سامان، صدقہ، خیرات، زکوٰۃ ملتی، یا لنگر کے مختلف کاموں میں خرچ ہوتا تو اس کی پوری تفصیل لکھ کر حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں پیش کرکے آپ سے اس کاپی پر تصدیق کے لئے دستخط بھی کرواتے تھے تاکہ دینے والوں کے ذہن میں کسی قسم کا خدشہ باقی نہ رہے۔ اگر کسی ذاتی کام یا لنگر کے کسی کام کے لئے کسی کو کہیں بھیجنا ہوتا تو اسے بلاکر کرایہ دیتے تھے، اسی طرح کوئی چیز خریدنا ہوتی تو بھی پورے پیسے دیا کرتے تھے، حالانکہ خریدنے والے مخلصین یہی چاہتے تھے کہ بطور نذرانہ اپنی طرف سے ہم وہ چیز خرید کر دیں، مگر آپ اس کو پسند نہیں فرماتے تھے، یہاں تک کہ راقم الحروف کو کسی کے نام خط لکھنے کا حکم فرماتے تھے تو لفافہ یا کارڈ گھر سے لاکر دیتے تھے یا پیسے دیتے تھے، اور اگر کسی کے یہاں مہمان ہوتے تو رسمی پیروں بلکہ عام مہمانوں کی طرح فرمائشیں نہیں کرتے تھے بلکہ اپنی مطلوبہ چیز کے لئے چپکے سے کسی کو پیسے دیتے تھے کہ فلاں چیز خرید کر لاؤ، مگر یہ خیال رہے کہ کسی طرح صاحب دعوت کو پتہ نہ چلے۔ بظاہر یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں مگر غور سے دیکھا جائے تو ایک ولی کامل، عالم و عامل، مومن کامل کی علامات ہی یہی ہیں۔

سید علی حیدر شاہ صاحب نے بتایا کہ دین پور شریف قیام کے دوران حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ بطور امانت میرے پاس پیسے رکھتے تھے، یہ آپ کی عادت مبارک تھی کہ پیسے رکھتے وقت اور واپس لیتے وقت کسی کو بلاکر گواہ کر لیتے اور مجھے فرماتے تھے کہ شاہ صاحب یہ آپ کے لئے بار خاطر نہ ہو، یہ شریعت مطہرہ کا حکم ہے، اس کی بجا آوری میں آپ کا بھی بچاؤ ہے اور میرا بھی۔