فہرست
سیرت ولی کامل (حصہ اول)

شفقت اور رحمدلی

 

تنبیہہ اور شفقت: فقیر پور شریف میں ایک مرتبہ دوران نماز کچھ لڑکوں نے شور و غل کیا، نماز سے فراغت کے بعد فرمایا کون شور مچا رہا تھا؟ بتانے پر لڑکے عبدالواحد کو بلاکر سخت تنبیہہ کی اور دو طمانچے بھی مارے، مجلس برخاست ہونے پر گھر تشریف لے گئے اور جلدی ہی واپس تشریف لائے۔ لڑکے عبدالواحد کو بلایا، بڑی نرمی سے نصیحت کی اور اس کی دلجوئی کے طور پر اسے گڑ عنایت فرمایا۔ (قاری شاہ محمد صاحب کراچی)

تنبیہہ اور معذرت: ایک مرتبہ چند لڑکوں نے چلتی ٹرین کو پتھر مارے، کسی طریقہ سے آپ تک یہ خبر پہنچ گئی کہ محمد معشوق نامی لڑکے نے پتھر مارے ہیں۔ (یہ دربار شریف کا رہنے والا تھا اور اس معاملہ میں بے قصور تھا) بستی کے مقیم یا مدرسہ کے مسافر لڑکے ہوتے تو اس قسم کی شرارتوں سے آپ کو سخت کوفت ہوتی تھی۔ عموماً اساتذہ یا انتظامیہ کو فیصلے کے لئے فرماتے تھے۔ بعض مرتبہ خود ہی ”مارو کم اور دھمکاؤ زیادہ“ کے تحت سزا دیتے تھے اور آپ کی معمولی سزا کا اثر بھی اچھی خاصی سزا سے کافی زیادہ ہوتا تھا۔ اس شکایت پر آپ نے مذکورہ لڑکے کو بلا کر سخت تنبیہہ کے ساتھ چند طمانچے بھی مارے، مگر بعد میں معلوم ہوا کہ یہ لڑکا بے قصور تھا، نہ معلوم کسی اور لڑکے نے یہ شرارت کی تھی، یہ معلوم ہونے پر آپ نے محمد معشوق کو بلایا اور اس سے معذرت کی کہ تو بے قصور تھا غلطی سے ہم نے تجھے سزا دی تھی۔ (مولوی محمد مطیع اللہ)

جانوروں پر رحم: حضور سیدی و مرشدی حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ جملہ حالات و معاملات میں سلف صالحین کا مثالی نمونہ تو تھے ہی۔ مگر بعض خصوصیات میں منفرد اور یگانہ روزگار تھے، مثلاً یہ کہ آپ کے مزاج میں صفت جمالی و رحمدلی کا اس قدر غلبہ تھا کہ کسی جانور کے دل کو ٹھیس پہنچانا بھی گوارہ نہ تھا، یہاں تک کہ آپ کے گھر میں کتا آ جاتا تو مارنے کے بجائے ایک لاٹھی اٹھا کر اس کے پیچھے پیچھے چلتے رہتے یہاں تک کہ وہ گھر سے نہ نکل جاتا۔ اگر کوئی مچھر جسم پر بیٹھتا تو اسے پھونک سے اڑا دیتے تھے۔ خلیفہ مولانا محمد ایوب صاحب نے بتایا بڈھانی سے غیبی دیرو جاتے ہوئے بیل گاڑیوں کی سواری تھی، میں حضور کے ساتھ بیل گاڑی میں سوار تھا، جسے میرے بھائی امان اللہ چلا رہے تھے، دوسری بیل گاڑی پر دیگر خلفاء کرام سوار تھے، جن میں سے ایک صاحب نے میرے بھائی کو بیل گاڑی تیز چلانے کا اشارہ کیا جسے حضور نے دیکھ لیا۔ پھر فرمایا فرض کرو اگر آپ اس جگہ ہوتے اور آپ کو تیز چلنے کے لئے تنگ کیا جاتا یا مارا جاتا تو آپ کے دل پر کیا گزرتی؟ جانوروں کو مارنا نہ چاہیے، ان پر رحم کرنا چاہیے، اس کے بعد میرے بھائی امان اللہ کی طرف متوجہ ہوئے اور نرمی سے سمجھایا، آج یا اس کے بعد کبھی بلاوجہ محض تیز چلنے کے لئے جانوروں کو ہرگز نہ ماریں۔ حضرت علامہ مفتی کریم بخش صاحب نے بتایا ایک مرتبہ حضور ٹانگے پر سوار تھے، میں بھی آپ کے ساتھ تھا۔ ٹانگے والے نے گھوڑے کو دوچار چابک دے مارے، آپ نے فرمایا کیوں بیچارے گھوڑے کو مار رہے ہو، اسے اپنے حال پر چھوڑ دو۔ ٹانگے والے عموماً بے غور مارنے کے عادی ہوتے ہیں۔ فوراً کہہ دیا جناب یہ گھوڑا ایسے سیدھا نہیں ہوتا۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا بتاؤ ہم اور آپ اپنے مالک سے کس قدر سیدھے ہیں؟ یہ بیچارہ چلتا تو ہے۔ (خلیفہ مولانا استاد کریم بخش صاحب)

ہاکو خان گوٹھ میں جلسہ تھا، قیام گاہ پر چیونٹے کافی زیادہ تھے، ایک چیونٹا حضور کی قمیض کے بازو تک پہنچ گیا، فرمایا دیکھو کوئی کیڑا قمیض میں داخل ہوگیا ہے، لیکن احتیاط سے نکالیں اسے کوئی گزند نہ پہنچے۔ بہرحال میں نے اسے پکڑے رکھا۔ حضور نے گلے کی جانب سے نکال کر آرام سے باہر رکھ دیا اور فرمایا، حدیث شریف میں ہے کہ جو زمین والوں پر رحم کرے گا، اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے گا۔ اس لئے کھٹمل ہو، چیونٹی ہو یا کچھ اور ان کو تکلیف نہ دینی چاہیے۔ (مولانا خدا بخش صاحب کراچی)

گیڈر کی خوش قسمتی: درگاہ فقیر پور شریف میں جب نیا نیا مدرسہ شروع ہوا تھا تو اکثر لڑکے سیدھے سادے اور دیہات کے آزاد ماحول میں رہنے والے تھے، ایک مرتبہ حضرت جناب سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ تبلیغی سفر میں گئے ہوئے تھے، بدقسمتی سے دن دہاڑے قریبی قبرستان کے گھنے جنگل سے ایک گیڈر جو غالباً دیوانہ بھی تھا نکل کر مسجد شریف کے سامنے والے میدان میں آگیا۔ لڑکوں نے اسے پکڑ لیا، کوئی کچھ مارتا، یہاں تک کہ وہ بیچارہ زخمی ہوگیا، اتنے میں حضرت سوہنا سائیں قلبی و روحی فداہ بھی جماعت سمیت اسٹیشن کی جانب سے آتے نظر آئے، لڑکے ادھر ادھر بھاگ گئے۔ نہ معلوم حضرت صاحب بھی دور سے لڑکوں کو مارتے اور پھر بھاگتے دیکھ رہے تھے، گیڈر آپ کے دروازہ کے قریب پڑا ہوا تھا، اس کی قابل رحم حالت دیکھ کر آپ کو سخت صدمہ پہنچا۔ پھر خلیفہ حاجی محمد علی صاحب بوزدار کو (جو تھوڑا بہت حکمت کا کام بھی جانتے ہیں) بلاکر فرمایا کہ اس بیچارے کو ہمارے مدرسہ کے طلبہ نے اتنی اذیت پہنچائی ہے۔ لہٰذا ہمارے اوپر لازم ہے کہ اس کی خدمت کریں۔ اس کی مرہم پٹی آپ کے ذمہ ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ حضور کے دروازہ کے قریب ہی اینٹوں کا معمولی سا حصار بنایا گیا، حاجی محمد علی صاحب کو اللہ تعالیٰ جزائے خیر سے نوازے، بڑی خوشی سے اس کی مرہم پٹی کرتے رہے اور حضور، حاجی صاحب سے گیڈر کی خیریت دریافت فرماتے رہے، یہاں تک کہ وہ تندرست ہوکر بھاگتا ہوا اسی جنگل میں چلا گیا۔ (مؤلف)

گدھے پر شفقت: ایک مرتبہ ٹنڈو اللہ یار سے گزر رہے تھے کہ سامنے سے اینٹیں لدے ہوئے کافی گدھے آرہے تھے، میں نے اسپیڈ کم کردی اور سست رفتاری سے جیپ چلانے لگا، حضور میرے ساتھ اگلی سیٹ پر رونق افروز تھے، ایک گدھا از خود آکر ٹکرایا اور اسے معمولی ٹھوکر آئی، پھر بھی حضور نے دیکھتے ہی فرمایا مولوی صاحب احتیاط کریں یہ تو ناسمجھ جانور ہیں، لیکن آپ تو سمجھدار ہیں۔ جب بھی کوئی جانور سامنے آجائے تو خیال کیا کریں۔ (خلیفہ مولانا محمد قاسم صاحب اللہ آبادی)

چیونٹیوں پر شفقت: خلیفہ مولانا ریاست علی صاحب سیالکوٹی نے بتایا کہ ایک مرتبہ درگاہ اللہ آباد شریف کی مسجد شریف میں ایک چھپکلی مری ہوئی پڑی تھی، جس پر بے شمار چیونٹیاں جمع تھیں، میں بڑی احتیاط سے چھپکلی اٹھا کر باہر پھینکنے جا رہا تھا کہ حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ نماز ظہر کے لئے تشریف لائے۔ دیکھ کر فرمایا سایہ میں رکھنا، دھوپ میں نہ پھینکنا تاکہ چیونٹیوں کو تکلیف نہ ہو۔

عفو و درگذر: شمائل ترمذی میں حضور سرور دو جہاں صلّی اللہ علیہ وسلم کے فضائل میں ایک وصف، عفو و درگذر بھی بیان کی گئی ہے۔ خادمِ رسول حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں دس سال مسلسل حضور نبی کریم رؤف الرحیم صلّی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا رہا۔ اس پورے عرصہ میں آپ نے مجھے کبھی بھی اف تک نہ کہا۔ اور نہ ہی کسی کام کرنے پر فرمایا کیوں کیا ہے؟ اور نہ ہی کسی کام نہ کرنے پر فرمایا کہ کیوں نہیں کیا؟ اللہ تعالیٰ نے عاشق رسول ولی کامل سیدی و مرشدی حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کو دیگر اوصاف حمیدہ کے ساتھ ساتھ اس وصف خاص سے بھی وافر حصہ عطا فرمایا تھا۔ بیس تیس سال تک آپ کی خدمت میں رہنے والوں کا کہنا ہے کہ آپ نے دنیاوی معاملات میں کوتاہی کرنے پر ہم سے کبھی مواخذہ نہیں کیا۔ البتہ دینی معاملات میں شامل نہ ہونے پر بلا تاخیر سختی سے محاسبہ فرماتے تھے اور یہی سنت خیرالانام صلّی اللہ علیہ وسلم ہے۔

اگر اللہ تعالیٰ کی حرام کی ہوئی چیزوں میں سے کسی کی ہتک ہوتی (کسی نے حقوق اللہ یا حقوق العباد کی خلاف ورزی کی ہوتی) تو اس معاملہ میں حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ غصہ والا کوئی دوسرا شخص نہ ہوتا تھا۔

اسی طرح سیدی و مرشدی حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ بھی امور شریعت و طریقت میں غفلت برداشت نہیں کرتے تھے، ویسے آپ کی بات ماننے سے کوئی انکار یا ضد تو کرتا ہی نہیں تھا، البتہ غفلت اور سستی کی وجہ سے نماز باجماعت، تہجد یا کسی اور انتظامی معاملہ میں کوئی کوتاہی کرتا تو خوش اسلوبی، پیار و محبت سے سمجھاتے تھے، پھر بھی اگر کوئی باز نہ آتا تو اس کے دوست و احباب کو، یا خلفاء کرام کو سمجھانے کا حکم فرماتے تھے، اس کے باوجود اگر کوئی باز نہ آتا تو دربار عالیہ سے نکال دینے کا حکم فرماتے تھے۔ یہ بھی سنت رسول صلّی اللہ علیہ وسلم ہے، دیکھئے شمائل ترمذی شریف بروایت خادم رسول صلّی اللہ علیہ وسلم حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ آپ کے ذاتی کسی کام میں سستی یا لاپرواہی ہو جاتی تو آپ ناراض نہ ہوتے، نہ ہی کسی سے اس کا تذکرہ فرماتے تھے۔ البتہ ہر معاملہ میں احتیاط برتنے کی تاکید فرماتے تھے، اور اصلاح و تربیت کے انداز میں غفلت ہونے پر سمجھاتے بھی تھے اور ایک مصلح و مربی کے لئے ان چیزوں کا ہونا نہایت ضروری ہے۔ چنانچہ حضور رحمۃ اللعالمین صلّی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے ”کسی کو پچھاڑ دینا پہلوانی نہیں ہے، پہلوان اور طاقتور وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس پر قابو پا لے۔“
حضرت سوہنا سائیں نور للہ مرقدہ کی زندگی کا ایک بہت بڑا حصہ تبلیغی سفر میں گزرا ہے، اس دوران بارہا خادمین سے ایسی کوتاہیاں سرزد ہوئیں جن پر فطرۃً انسان کو غصہ آہی جاتا ہے۔ آپ نے ایسے موقعوں پر بھی انتہائی صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا۔ یہاں تک کہ ایک دو مرتبہ خادم خاص کی غفلت کی وجہ سے آپ کا قیمتی سامان ٹرین میں رہ گیا، اور گم ہوگیا، چند مرتبہ آپ کو کھانا نہ ملا، لیکن آپ نے محسوس بھی ہونے نہ دیا کہ ہم فاقہ سے ہیں البتہ معلوم ہونے پر متعلقہ افراد اپنے طور پر بہت شرمندہ ہوئے۔

جب سید علی حیدر شاہ صاحب (جو دربار عاشق آباد شریف کے زمانے سے لے کر آپ کا مخلص مرید اور خادم رہا) کے بھائی محترم غوث محمد شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی صاحب زادی سے حضور سوہنا سائیں نور للہ مرقدہ کا عقد ہوا تو اس کے بعد جہاں کہیں بھی کچے کے علاقہ میں باعیال جانا ہوتا تو شاہ صاحب موصوف کی بیل گاڑی پر سوار ہوکر جاتے تھے۔ شاہ صاحب موصوف کا کہنا ہے کہ اتنے طویل عرصہ میں مجھے یاد نہیں کہ کسی ذاتی معاملہ کی وجہ سے حضرت صاحب موصوف میرے اوپر یا کسی اور پر ناراض ہوئے ہوں۔ خود مجھ سے بارہا ایسی نادانستہ غلطیاں سرزد ہوگئیں کہ ایسے مواقع پر ناراضگی فطری ہوتی ہے اور صبر اور کنٹرول کرنا بہت مشکل ہوتا ہے، لیکن آپ نے مجھے کچھ بھی نہیں کہا، حالانکہ میں آپ کا خادم اور مرید تھا، آپ جو کچھ بھی کہتے،میں سر تسلیم خم کئے رہتا۔ چنانچہ ایک مرتبہ کچے (دریا کے قریب کا وہ خشک علاقہ جہاں موسم برسات میں دریا کا پانی چڑھ جاتا ہے) کے علاقہ میں حضور باعیال میری بیل گاڑی پر سوار تھے۔ ایک جگہ ڈھلوان سے گزرتے ہوئے بیل گاڑی الٹ گئی، حضرت صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور میں چھلانگ لگا کر جلدی سے اتر گئے۔ خواتین ایک جانب گر گئیں، بھوسے سے بھرا ہوا بڑا جوال (بورا) ان کے اوپر گر گیا، شروع میں تو میں ڈر گیا کہ کہیں حضرت ناراض نہ ہوں، مگر حضرت صاحب کی شفقت دیکھ کر مطمئن ہوگیا کہ آپ نے میرے ساتھ جوال اٹھوا کر خواتین کو باہر نکالا، پھر جوال بیل گاڑی پر رکھوایا۔ اسی قسم کا ایک اور واقعہ دوسری بار بھی پیش آیا، جب سخت گرمی کے وقت آبڑی گاؤں سے لوٹے تو بیل گاڑی الٹ گئی، مگر آپ نے صبر و تحمل سے کام لیتے ہوئے مجھے کچھ نہیں کہا۔

صوبہ پنجاب کے تبلیغی سفر میں محترم خلیفہ مولانا سردار احمد صاحب کی جماعت میں جلسہ کا پروگرام تھا۔ دیہات کی کچی بستی ہونے کی وجہ سے کچھ فاصلہ تک راستہ خراب تھا۔ وہاں بائیسکل کے سوا کوئی سواری نہیں چل سکتی تھی۔ حضرت صاحب جماعت سمیت پیدل مسافت طے کر رہے تھے کہ ایک صاحب نے عرض کی حضور سائیکل حاضر ہے آپ سائیکل پر سوار ہوں۔ میں سائیکل ہاتھ میں لے کر چلتا ہوں۔ فرمایا کوئی خاص فاصلہ نہیں، ہم فقیروں کے ساتھ پیدل چلتے ہیں۔ اس نے پھر عرض کی۔ غرضیکہ چند بار آپ نے انکار کیا، مگر وہ نہ مانا، آخر آپ سائیکل پر بیٹھے، چند قدم کے فاصلہ پر ہی وہ سائیکل پر کنٹرول نہ کر سکا، سائیکل الٹ گئی، حضور زمین پر گر گئے۔ کم و بیش ایک سو مریدین کا قافلہ بھی ساتھ تھا، ایسی صورت میں فطرۃ ایک نیک آدمی کو بھی غصہ آہی جاتا ہے، مگر آپ انتہائی صبرو تحمل سے ”کوئی بات نہیں“ کہہ کر ساتھیوں کے ساتھ پیدل روانہ ہوگئے۔ (خادم خاص خلیفہ محمد حسین صاحب)

حضور مہاجر کیمپ کراچی میں حکیم محمد ابراہیم صاحب مرحوم کے یہاں قیام پزیر تھے۔ (جس کی محبت کا یہ عالم تھا کہ ایک مرتبہ رمضان المبارک میں حضور کراچی تشریف لے گئے، تو یہ اعتکاف میں تھے، حضور کی آمد کا سن کر اعتکاف سے نکل کر سیدھے حضور کے پاس چلے آئے۔ معلوم ہونے پر حضور نے فرمایا، تم نے ہماری وجہ سے اعتکاف کیوں ترک کیا، وغیرہ) حاجی محمد حسین صاحب ہی نے بتایا کہ ایک مرتبہ سخت سردی تھی، ساتھ ساتھ تیز ہوا بھی چل رہی تھی۔ غلطی سے حکیم صاحب اوڑھنے کے لئے رضائی کمبل وغیرہ دینا بھول گئے۔ حضور کی یہ عادت مبارک تھی کہ کوئی چیز میزبان سے مانگنا گوارہ نہیں کرتے تھے۔ میرے پاس ایک کمبل تھا جو میں گھر سے لے گیا تھا۔ میرے ساتھی مولوی مولا بخش صاحب کے پاس ایک شال تھی، ہم نے وہ حضور کی خدمت میں پیش کئے اور خود آگ جلا کر سینکنے بیٹھ گئے، حضور نے صاف انکار کردیا کہ ہم آپ کے کمبل اور شال نہیں لیں گے، آپ بھی ہمارے ساتھی ہیں، اگر ہم یہ لے لیں تو آپ کیا اوڑھیں گے، بہرحال ہمارے کافی اصرار کے بعد آپ نے قبول فرما لئے۔ اور ہم دونوں نے آگ جلا کر ساری رات اسی طرح گزاری، صبح کو میزبان کے آنے سے پہلے ہمیں فرمایا کہ اس سلسلہ میں میزبان سے کوئی بات نہ کریں، وہ بستر دنیا بھول گیا اور رات گزر گئی۔ اب اگر ہماری طرف سے اس سلسلہ میں کوئی بات نکلی تو خواہ مخواہ اس کی سبکی ہوگی۔ حاجی منظور احمد شر نے بتایا کہ ایک مرتبہ ایک گستاخ و بے ادب مولوی نے حضور سوہنا سائیں نوراللہ مرقدہ، آپ کی جماعت اور آپ کے مرشد کامل حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے خلاف سخت بدکلامی کی، یہاں تک کہ پیٹھ پیچھے گالیاں دیں۔ ہم مریدوں کو سخت دکھ ہوا، چند دوستوں سے مل کر میں نے مذکورہ مولوی صاحب سے انتقام لینے کا پروگرام بنایا۔ دربار حاضری کے دوران حضور سے حقیقت حال عرض کی، آپ نے سنتے ہی فرمایا۔ حاجی صاحب، آپ نے غلط سوچا ہے اس نے تمہیں تو کچھ نہیں کہا، اس نے اگر مجھے گالیاں دیں ہیں تو آخر میرا کیا بگاڑا ہے؟ ہو سکتا ہے، اس کی یہ گالیاں میرے گناہوں کا کفارہ بن جائیں۔ اور اگر بقول اس کے میرے اندر کوئی کوتاہی ہے تو اس سے سنبھل جاؤں، بہرحال میں نے تو اس کو معاف کر دیا ہے۔ اب میری وجہ سے تمہیں انتقام لینے کا حق نہیں پہنچتا۔ باقی اگر اس نے میرے پیر و مرشد رحمۃ اللہ علیہ کی بلاوجہ اتنی گستاخی کی ہے، جیسا کہ پہلے بھی سن چکا ہوں تو بھی تمہاری اس غلط حرکت سے آخر کیا فائدہ ہوگا؟ اللہ تعالیٰ واحد القہار ہے، اپنے اولیاء کی اتنی گستاخی برداشت نہیں کرتا، وہ جب چاہے گا اس سے مواخذہ کر لے گا، لہٰذا آپ خاموشی سے ذکر و فکر میں لگے رہیں۔ دل میں دوسرے خیالات کو جگہ ہی نہ دیں۔