فہرست
سیرت ولی کامل (حصہ اول)

تقوے کی حقیقت

ارشاد باری تعالیٰ ہے ”اللہ تعالیٰ کے دوست متقی ہی ہیں۔“ لفظ تقوی اور اس سے مشتق صیغے اصطلاح شریعت میں بکثرت استعمال ہوتے ہیں، اور ان کے معنی میں وسعت ہے، عموماً ترک معصیت (گناہ چھوڑ دینے)، عمل صالح، اخلاص، ایمان، پرہیزگاری، خوف خدا کے معانی میں استعمال ہوتے ہیں۔

تقوے کی اہمیت اس سے زیادہ اور کیا ہوسکتی ہے کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ”تم میں سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ معذور و محترم وہ ہے جو زیادہ متقی و خائفِ خدا ہے۔“

حضور اکرم شفیع محتشم صلّی اللہ علیہ وسلم نے تقوے کی حقیقت اس طرح بیان فرمائی ہے کہ یعنی حلال ظاہر ہے اور حرام بھی ظاہر ہے، ان کے درمیان کئی چیزیں ایسی ہیں، جو مشتبہ ہیں، جن کو بہت سے لوگ نہیں جانتے، جو شخص مشتبہ چیزوں سے دور رہے گا وہ اپنے دین اور دنیا دونوں کو محفوظ رکھے گا، اور جو مشتبہات میں پڑے گا وہ کسی وقت حرام میں بھی مبتلا ہوگا۔ جس طرح چرواہا اگر کسی کی محفوظ چراگاہ کے قریب بکریاں چرائے گا تو یہ خطرہ ہوتا ہے کہ کہیں بکریاں چراگاہ کے اندر نہ چلی جائیں۔ خبردار! ہر بادشاہ کے کچھ محفوظ مقامات ہوتے ہیں، اور زمین پر اللہ تعالیٰ کے محفوظ مقامات حرام چیزیں ہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو انکے قریب جانا ناپسند ہے۔

غرضیکہ لفظ تقویٰ جتنا عام ہے اتنا ہی زیادہ اہم اور عند اللہ قابل احترام ہے اور بفضلہ تعالیٰ جن جن معانی میں قرآن مجید اوراحادیث نبویہ صلّی اللہ علیہ وسلم میں لفظ تقویٰ استعمال ہوا ہے وہ تمام اوصاف جمیلہ سیدی و مرشدی سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ میں بتمامہ موجود تھیں۔
مذکور حدیث شریف کے عین مطابق نہ تو خود کبھی مکروہ یا مشتبہ یا مشکوک چیزوں کو ہاتھ لگایا نہ ہی اپنے متعلقین و احباب کے لئے ان چیزوں کو برداشت کیا، مثلاً بازار کا گوشت، مٹھائیاں، شکر، گڑ اور دیگر جملہ وہ اشیاء جو ہاتھ سے بنتی ہیں اور ان میں تقوے کا لحاظ نہیں کیا جاتا، اسی طرح ہوٹل کے کھانوں سے بھی منع فرماتے تھے۔ اور مشین کی بنی ہوئی ایسی چیزیں جن میں مزدور کچھ کام اپنے ہاتھ سے کرتے ہیں، یا جن میں بعض اجزاء بیرون ممالک سے لاکر شامل کئے جاتے ہیں اور ان کی حقیقت معلوم نہیں ہوتی کہ حلال بھی ہیں یا نہیں، ان کے استعمال سے بھی پرہیز کرتے تھے۔ بلا ضرورت چائے پینے سے سختی سے منع فرماتے تھے کہ یہ اسراف بھی ہے اور صحت کے لئے مضر بھی۔ البتہ بیماری یا تھکن کی وجہ سے چائے کے استعمال کی ضرورت ہوتی تو ایسی صورت میں حضرت صاحب ہوٹل کے بجائے گھر میں چائے بنا کر پینے کی اجازت دیتے تھے۔ ایک بار مدرسہ عالیہ کے بعض طلبہ نے ہوٹل میں چائے پی لی۔ آپ کو معلوم ہوا تو بہت ناراض ہوئے اور تنبیہہ کے طور پر اساتذہ کو حکم فرمایا کہ ان طلبہ کے دو چار دن کے لئے اسباق بند کر دیئے جائیں۔ چونکہ بناسپتی گھی کے بارے میں بھی ایک عرصہ تک معلوم نہ ہو سکا کہ یہ گھی کن چیزوں سے تیار ہوتا ہے۔ اس لئے آپ نے اس کے استعمال سے بھی روک دیا تھا۔ چنانچہ ایک عرصہ تک بناسپتی گھی نہ تو لنگر میں استعمال ہوتا تھا اور نہ ہی دربار کے مقیم یا بیرونی فقراء اہل ذکر استعمال کرتے تھے۔ لیکن بعد میں جب تحقیق سے پتہ چلا کہ اس میں مشتبہ یا مشکوک چیز شامل نہیں ہے تو جماعت کے افراد کو اجازت مرحمت فرمادی۔ ذاتی طور پر آپ کی احتیاط پھر بھی جاری رہی۔ نیز آپ فرماتے تھے کہ تقوی محض کھانے پینے کی چیزوں کی حد تک نہ ہو۔ اخلاق و اعمال، لین دین، کلام وغیرہ ہر چیز میں تقوے کا مظاہرہ ہو، یہ چیزیں سبھی قرآن و سنت کے عین مطابق ہوں۔ حضور کی یہ عادت مبارکہ تھی کہ کھانے کی اشتھا کے باوجود آپ کھانا مانگتے نہیں تھے، چاہے آپ کسی مخلص دوست فقیر یا خلیفہ کے ہاں ہی مہمان ہوتے۔ یہی نہیں بلکہ اگر وہ کھانا لا کر حضور کے کمرے میں رکھ جاتے۔ لیکن جب تک وہ زبان سے یہ نہ کہتے کہ یہ کھانا آپ کے لئے لائے ہیں، تب تک آپ اسے استعمال نہ فرماتے تھے، اسی طرح اگر کسی برتن میں آپ کے لئے دودھ لایا جاتا اور خادم مثلاً ایک گلاس دودھ دے کر باقی رکھ دیتا تو آپ یہ نہ فرماتے کہ مزید دودھ دے دو۔ حالانکہ آپ کو معلوم ہوتا کہ دودھ میرے لئے لایا گیا ہے۔ مولانا بخش علی نے بتایا کہ حضرت ایک بار کوٹ لالو (ضلع خیرپور میرس) کے قریب ایک پنجابی فقیر کی دعوت پر تشریف لے گئے، جلسہ منعقد کیا گیا۔ تقریر کے لئے محترم مولانا حاجی بخشل صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور نعت خوان فقیر علی حسن اور باقی کافی احباب بھی ساتھ تھے۔ میں حضور کی خدمت کے لئے حاضر رہتا تھا، آپ نے فرمایا کہ میں جلسہ کے بعد کھانا کھاؤں گا۔ جلسہ کے اختتام کے بعد فقیر حضور کے لئے کھانا لایا، میں نے کھانا رکھ دیا۔ حضرت صاحب جلسہ سے واپسی کے بعد نوافل میں مصروف ہوگئے۔ آپ کافی دیر تک نوافل اور ذکر اذکار میں مشغول رہے۔ میں اس انتظار میں تھا کہ حضور اٹھیں تو کھانا پیش کروں، آپ اٹھ کر بستر پر لیٹنے لگے۔ میں نے عرض کی حضور کھانا حاضر ہے تناول فرمائیں۔ فقیر آپ کے دعا مانگنے کا منتظر تھا۔ حضرت صاحب نے ہنستے ہوئے فرمایا، کھانا آپ کے سپرد کیا گیا ہے۔ اب آپ کی مرضی ہے کہ دیں یا نہ دیں، ہمیں مانگنے کا حق حاصل نہیں۔

غرضیکہ حضرت صاحب مانگنے سے احتراز فرماتے تھے۔ چاہے وہ چیز آپ کے لئے ہی کیوں نہ لائی گئی ہوتی۔ حضرت مولانا حاجی محمد علی بوزدار نے بتایا کہ ایک بار خلیفہ مولانا محمد داؤد صاحب شر بلوچ کے ہاں حضرت صاحب کی دعوت تھی، یہ عاجز بھی ساتھ تھا۔ اس سفر میں بھی حسب معمول خدمت کی سعادت اس عاجز کو حاصل ہوئی۔ میزبان حضرات اکثر کھانا مجھے ہی لاکر دیتے اور میں مناسب وقت پر حضور کی خدمت میں پیش کرتا۔ مذکورہ دعوت میں حضرت صاحب کے ساتھ ہی میرا کھانا بھی لایا گیا تھا۔ برتن علیحدہ تھے، دو پلیٹوں میں سالن تھا، اور دو میں روٹی۔ چونکہ برتن ڈھکے ہوئے تھے، میں نے کھولے بغیر اپنی ناقص رائے کے مطابق جو دو برتن بہتر سمجھے حضور کے سامنے رکھ دیئے۔ (جب کہ ان دونوں میں سالن ہی تھا) حضور کے ہاتھ دھلا کر باہر جا کر بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر بعد جب اندر آیا تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ حاجی صاحب برتن لے جائیں، پھر خوش طبعی کرتے ہوئے فرمایا: آپ نے میری روٹی بھی اپنے پاس رکھ لی، ہمیں بھی چاہئے تھا کہ آپ کا سالن کھالیتے، لیکن ہم ایسا نہیں کرتے، آپ اپنا سالن لے جائیں اور میرا بھی۔ بعد میں میں نے کھانے کے لئے عرض کیا، لیکن آپ نے فرمایا، مجھے ضرورت نہیں ہے، میں کافی شرمسار ہوا کہ غلطی سے حضور کی خدمت میں صرف سالن ہی پیش کیا جس میں سے آپ نے قبول دعوت کے طور پر ایک دو بوٹیاں استعمال فرمائیں۔ یہ بات اب بھی جب کبھی یاد آتی ہے تو بڑا شرمسار ہوتا ہوں، لیکن قربان جاؤں اپنے آقا کے تقوے، پرہیز گاری اور کرم نوازی پر کہ نہ تو کھانا طلب فرمایا اور نہ ہی خفا ہوئے اور نہ آپ نے کبھی میری اس کوتاہی کا کسی سے تذکرہ ہی فرمایا۔

احقر مرتب یہاں یہ عرض کرنا ضروری سمجھتا ہے کہ حضور بعض مخلصین کے ہاں ضرورت کی چیزیں بلا تکلف طلب فرماتے تھے اور یہ بھی شریعت و طریقت کے مطابق ہے۔
مولانا خدا بخش نے بتایا کہ کراچی کے ایک تبلیغی سفر میں میں حضور کے ہمراہ تھا، آپ نے پانی طلب فرمایا، گلاس میں پہلے سے کچھ پانی موجود تھا۔ میں نے یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ پانی کافی دیر سے پڑا ہوا ہوگا، اسے پھینک دیا، حضور دیکھ رہے تھے، مجھے بلا کر فرمایا یہ پانی ویسے ہی کیوں ضائع کردیا، خدا تعالیٰ کے ہاں تم سے اس کے ایک ایک قطرہ کی باز پرس ہوگی، پانی اللہ تعالیٰ کی ایک بیش بہا نعمت ہے، آئندہ اسے احتیاط سے استعمال کیا کریں، اگر پانی صاف اور پاک ہو تو بہتر ہے کہ یا تو اسے خود پی لیں یا کسی دوسرے کو پینے کے لئے دے دیں، یا کسی پودے کی جڑ میں ڈالدیں، یا کسی ایسی جگہ ڈال دیں کہ کسی کیڑے مکوڑے کے کام آجائے پانی ضائع نہ ہو۔

واضح ہو کہ حضور پیر مٹھا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے زمانہ میں، حضور قبلہ سیدی و مرشدی حضرت سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ کی ترغیب و کوشش سے دین پور شریف کے فقراء دربار عالیہ رحمت پور شریف کے لنگر کے لئے کھیتی باڑی کرتے تھے، گنا، گندم، کپاس، چنے وغیرہ بوتے تھے، حضور سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ بذات خود اس کی نگرانی فرماتے تھے، بلکہ فقراء کے ساتھ خود بھی کام کرتے تھے، اور اس میں سے جو آمدنی ہوتی تھی، وہ دربار عالیہ رحمت پور شریف میں لا کر حضور پیر مٹھا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں پیش کرتے تھے، لاڑکانہ سے دین پور شریف آمد و رفت کا کرایہ اپنا خرچ کرتے تھے، اور دین پور شریف میں قیام کے دوران کھانا بھی اپنا کھاتے تھے، اور دوسرے کام کرنے والے فقراء کے لئے لنگر کا انتظام بھی آپ ہی فرمایا کرتے تھے۔ مولانا بخش علی نے فرمایا کہ ایک مرتبہ فقراء کے ساتھ یہ عاجز بھی کپاس چن رہا تھا، حضور سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ بھی کچھ دیر کپاس چنتے رہے، قریب ہی لنگر کے ٹینڈے بوئے ہوئے تھے، سید علی حیدر شاہ صاحب کو لے کر حضور وہاں تشریف لے گئے، اور ٹینڈے جمع کرنے لگے۔ اچانک شاہ صاحب نے مجھے بلایا، میں حاضر ہوا۔ حضور نے فرمایا، مولوی صاحب یہ لنگر کے ٹینڈے ہیں، فقراء کے سالن پکانے کے لئے لے جاتا ہوں اور روٹی اپنی طرف سے فقراء کے لئے پکوا کر خدمت کرتا ہوں، تو کیا ایسی صورت میں یہ سالن میں خود کھا سکتا ہوں؟ میں نے عرض کی حضور بالکل جائز ہے، آپ ہمارے ساتھ کپاس بھی جمع کرتے ہیں، ہم خود اس کار خیر میں آپ ہی کے مرہون منت ہیں، نیز آپ فقیروں کی اتنی ساری خدمت کرتے ہیں۔ لہٰذا آپ کے لئے اس سالن کا استعمال بطریقہ اولیٰ، ازروئے شریعت درست ہے۔ لیکن جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے، پھر بھی آپ نے فرمایا کہ جائز تو ہے لیکن احتیاط کے طور پر ہم اس کا استعمال نہیں کریں گے۔ حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی ان دنوں ایک بھینس فقیر عبداللہ کے پاس تھی۔ گنے کے سرے پر جو سبز پتے چارہ کے طور پر استعمال ہوتے ہیں وہ عموماً گنا چھیلنے والے مفت لے جاتے ہیں۔ لیکن حضور سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ کی عزیمت ملاحظہ ہو کہ آپ لنگر کے اس بے قیمت چارہ کو بھی قیمتاً خرید کرکے فقیر عبداللہ صاحب کو دیتے اور پیسے لنگر میں جمع فرما دیتے تھے۔ حالانکہ یہ ایسی عام چیز تھی کہ اس کے استعمال سے کسی کو اعتراض کا گمان بھی نہ تھا، لیکن حضور کی پاکیزہ صفت فطرت سلیمہ نے اس کو بھی گوارہ نہ کیا۔ (از سید علی حیدر شاہ صاحب دین پوری)

حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے مخلص دوست جناب حاجی خیر محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ بھی اپنے گوٹھ چنیہانی تحصیل کنڈیارو میں لنگر کے لئے گنا کاشت کرتے تھے، گنے کی کاشت، چھیل اور گڑ یا شکر بنانے کے وقت یا تو خود وہاں تشریف لایا کرتے تھے، اور کبھی سید عبدالخالق شاہ صاحب مدظلہ کو بھیجتے تھے۔ (جو حضور نور اللہ مرقدہ کے مخلص وفادار اور ان کاموں میں آپ کے دست راست تھے اور اب تک یہ خدمت سرانجام دے رہے ہیں) غرضیکہ گڑ، شکر وغیرہ نہایت احتیاط، تقوی سے بنتے تھے، استعمال کی جانے والی مشین، برتن پورے احتیاط سے دھوئے جاتے، گڑ بناتے وقت کام کرنے والے بڑی احتیاط سے ہاتھ دھو کر گڑ وغیرہ بناتے اور رس کی نگرانی خود سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے، اگر کسی وجہ سے آپ تشریف نہ لاسکتے تو جناب حاجی خیر محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ (جو نہایت صالح متقی انسان تھے) اور سید حاجی عبدالخالق شاہ صاحب کو نگرانی پر مامور فرماتے۔ ایک مرتبہ آپ نے رحمت پور شریف لاڑکانہ سے ان دونوں حضرات کو خط لکھا (جو ابھی تک موجود ہے) کہ چنیہانی کا پنجابی مستری شکر بنانے کا ماہر ہے اس لئے شکر سازی کے سلسلہ میں آپ ان سے مشورہ کریں اور طریقہ کار معلوم کریں، لیکن ان کو چیزوں کو ہاتھ لگانے نہ دیں اس لئے کہ وہ تقوے اور پاکیزگی کا خیال نہیں رکھتے، جب کہ ہم چاہتے ہیں کہ اس کام میں پاکیزگی ہو۔

ایک بار حضور قبلہ باڈھ، وارھ (ضلع لاڑکانہ) کے علاقہ میں خلیفہ مولانہ فضل محمد بروہی رحمۃ اللہ علیہ اور متعلقین کی دعوت پر تبلیغی دورے پر تشریف لے گئے۔ غالباً دو دن اور دو راتیں مختلف مقامات پر جلسے ہوتے رہے۔ حضور ہر جگہ ذکر اذکار کا درس دیتے رہے اور معمول کے مطابق وعظ و نصیحت کرتے رہے۔ مگر صاحب دعوت حضرات کی سادگی اور آپ کے مزاج سے ان کی عدم واقفیت کی وجہ سے حضور کو آخر تک کھانا نہیں ملا۔ آپ نے گھر آکر ہی کھانا کھایا۔ ہوا یہ کہ وہ سیدھے سادے لوگ کھانے کے موقعہ پر کھانا تیار کرکے پیش کرنے کی بجائے حضور سے آکر پوچھتے کہ حضور کھانا پکا کر لایا جائے؟ آپ فرماتے کہ ضرورت نہیں، اگرچہ ایسی صورت میں کھانا طلب کرنے میں کوئی حرج نہیں تھا۔ لیکن چونکہ آپ کے مزاج میں استغنا کی کیفیت اعلیٰ درجہ کی موجود تھی، آپ کسی کے سامنے سوال نہیں فرماتے تھے۔ اس لئے آپ نے ان کو کھانے کے لئے نہیں کہا۔ پھر اخلاق کی بلندی دیکھیے کہ حضرت صاحب نے کسی کو آخر تک احساس نہیں ہونے دیا کہ ہم نے کھانا نہیں کھایا۔ اور نہ ہی کسی سے اس کا تذکرہ فرمایا۔ (از حاجی محمد علی صاحب طاہر آبادی)

مولانا خدا بخش صاحب نے بتایا: تبلیغی سفر کے دوران ایک بار میں حضور کے لئے کھانا پکا رہا تھا، اچانک آپ تشریف لائے، مجھے روٹی پکاتے دیکھ کر مسکرائے، پھر فرمایا مولوی صاحب کھانا حسب ضرورت تھوڑا پکانا، خیر آٹا تو ہمارا اپنا ہے، اگر روٹی زیادہ پک جائے تو کوئی حرج نہیں، لیکن دوسرا سامان صاحب دعوت کا ہے۔ انہوں نے جو یہ سامان دیا ہے، اس میں سے ضرورت سے زائد معمولی چیز بھی استعمال نہ ہو، اگر کچھ بچ جائے تو وہ بھی ان کے حوالے کر دینا۔ ہم یہاں دعوتیں کھانے نہیں آئے۔ دوسروں پر بوجھ نہیں ڈالنا چاہتے۔ پھر فرمایا اگر انہوں نے مرغی دی ہے تو اس کے دو حصے کئے جائیں۔ آدھی مرغی صبح پکائیں، آدھی شام کو، ایسا نہ ہو کہ ایک ہی وقت میں آپ ساری مرغی پکالیں، شام کے لئے ان کو مزید سالن کا انتظام کرنا پڑے۔

شمس العارفین حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ تبلیغی سفر میں عموماً آٹا، گھی، مرچ، نمک گھر سے اپنے ہمراہ رکھتے تھے۔ میزبان اگر حضور کے پرانے صحبت یافتہ ہوتے اور حضور کو ان کے تقوے و پرہیزگاری کا ذاتی طور پر علم ہوتا تو وہ اپنے گھر سے کھانا پکا کر لے آتے، جہاں ایسی صورت حال نہ ہوتی وہاں کوئی خادم کھانا پکاتا۔ یہ احتیاط آپ پھر بھی رکھتے تھے کہ اگر کھانا بچ جاتا تو خادم کو حکم فرماتے کہ کھانے سمیت برتن صاحب دعوت کے ہاں پہنچا دیں، اگر وہ خود ہی خادم سے کہتے کہ کھالیں تو پھر دوسری بات ہے۔ البتہ حضور بے تکلف مخلصین کے ہاں قیام فرماتے تو خادمین کو بقایا طعام کھانے کی اجازت ہوتی بلکہ بسا اوقات آپ خود ہی بلا کر کھانے کے لئے دے دیتے۔ مثلاً ایک بار حضور حاکو خان بروہی (ضلع کراچی) کے گوٹھ تبلیغ کے سلسلے میں تشریف فرما تھے، حضور کے لئے کھانے پکانے کی سعادت مولانا خدا بخش صاحب کو حاصل رہی، آپ دو دن تک وہاں قیام پذیر رہے۔ تیسرے دن میمن گوٹھ جانے کا پروگرام تھا۔ یہاں کچھ انڈے وغیرہ بچ رہے۔ جاتے وقت حضور نے فرمایا، مولوی آدم صاحب (میزبان) اپنے ہیں، اس لئے ان کی چیزیں تو ہماری اپنی چیزیں ہیں، جہاں جانا ہے وہ نئی جگہ ہے، اس لئے یہ انڈے ساتھ ہی لے چلیں، تاکہ نئے آدمیوں پر بوجھ نہ ہو۔ (مولانا خدا بخش صاحب کراچی)

جیسا عرض کیا گیا کہ حضور ہر جگہ کوشش فرماتے تھے کہ ہماری وجہ سے کسی پر بوجھ نہ ہو۔ خواہ وہ حضور کے مخلص خادم فقیر یا خلیفہ ہی کیوں نہ ہوتے۔ جس بات میں تکلیف اور بوجھ کا احتمال ہوتا آپ اس سے دور رہتے۔ سید علی حیدر نے بتایا کہ حضور کی مسند نشینی سے پہلے کی بات ہے کہ ایک مرتبہ آپ اہل خانہ سمیت آبڑی گاؤں سے دین پور شریف جا رہے تھے، سواری کے لئے میں بیل گاڑی لایا تھا، دوپہر کا وقت تھا، سخت لو چل رہی تھی، جب ساہڑ قوم کے فقیروں کے گاؤں کے قریب پہنچے تو میں نے عرض کیا کہ حضور بہتر ہے کہ گرمی کے چند گھنٹے ان کے پاس گزار کر پھر آگے چلیں۔ ساہڑ قوم کے یہ فقیر بڑی محبت اور اخلاص والے تھے، لیکن حضور نے فرمایا، شاہ صاحب آپ کی بات تو ٹھیک ہے، لیکن اچانک کسی کا مہمان بننا اچھا نہیں ہوتا، خاس کر جب کہ مستورات بھی ساتھ ہوں۔ (از سید علی حیدر شاہ صاحب)

خلیفہ مولانا محمد رمضان صاحب نے بتایا کہ حضور آخری بار کثیر جماعت کے ساتھ تبلیغی سلسلہ میں نتھوچک (ضلع فیصل آباد) تشریف لائے تھے، آپ پہلے بھی وہاں تشریف فرما رہے ہیں۔ گرمیوں کا موسم تھا ہم نے حضور کے لئے رات کو مکان کی چھت پر چارپائی بچھا دی تھی تاکہ کھلی ہوا پہنچتی رہے۔ حضور کو جب اوپر تشریف لے جانے کے لئے عرض کیا گیا تو آپ نے فرمایا ہم نیچے ہی رہیں گے۔ میں نے عرض کی یہ وہی مکان ہے جس کی چھت پر حضور پہلے بھی آرام فرما ہوئے تھے، فرمایا مولوی صاحب اس وقت مکان کے قریب دوسرا مکان موجود نہیں تھا، اب قریب میں اور مکانات بن گئے ہیں، لہٰذا شرعی پردہ کے پیش نظر چھت پر رہنا مناسب نہیں، چنانچہ آپ نیچے آرام فرما ہوئے، گو ہم اس طرح کی چیزوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ لیکن حضور کی فطرت سلیمہ نے اس کو روا نہ رکھا۔

(از خلفیہ مولانا محمد رمضان صاحب)

حضور ایک مرتبہ کراچی تشریف فرما تھے۔ ہم فقراء بھی خدمت میں حاضر تھے کہ ایک نحیف بڑھیا عورت آئی اور کہنے لگی، بیٹے آپ کو اللہ تعالیٰ نے بزرگی دی ہے آپ اللہ تعالیٰ کے ولی ہیں، میرے لئے دعا فرمائیں۔ جیسے حضور کے کان تک اس کی آوز پہنچی فوراً مڑ کر رخ دوسری طرف کرلیا اور اس کے لئے ہاتھ اٹھا کر دعا فرمائی، اس طرح وہ واپس ہوگئی۔ ایک مرتبہ رادھن اسٹیشن کے قریب سے گنے کا ایک ٹرک جا رہا تھا، بعض راہگیروں نے چلتے ٹرک سے چند چھڑیاں نکال لیں، قریب ہی مدرسہ (فقیر پور شریف) کے کم عمر طلبہ نے لوگوں سے گنے لے کر کھائے۔ کسی فقیر نے دیکھ لیا اور حضور کو جاکر بتایا کہ طلبہ نے ٹرک سے گنے نکال کر کھائے ہیں، آپ بہت رنجیدہ ہوئے۔ آپ نماز کے لئے مسجد شریف میں تشریف لائے تو اس وقت طالب علم نذیر احمد نعت پڑھ رہا تھا۔ آپ نے ناراضگی کے عالم میں فرمایا تمہاری نعتوں کی کوئی ضرورت نہیں، تم طالب علم ہو یا ڈاکو، ایک طرف تو عاشق رسول صلّی اللہ علیہ وسلم اور پیر و مرشد کے پروانے بن کر نعت خوانی کرتے ہو اور دوسری طرف دوسروں کی چیزیں چرا کر کھاتے ہو۔ آج سے کوئی طالب علم نہ تو نعت پڑھے اور نہ ہی اساتذہ ان کو اسباق دیں، جو حلال و حرام کی تمیز نہ کریں، ان کو تعلیم دینے سے کیا فائدہ، جب تک صحیح معنوں میں تائب نہ ہوں، ان کی تعلیم اور نعت خوانی دونوں بند رہیں گی۔ الغرض حضور کی اس رنجش و رقت آمیز خطاب سے چھوٹے بڑے طلبہ اور فقیروں کے رونگٹے کھڑے ہوگئے، تمام حاضرین سراپا ندامت و توبہ کے مجسمے بن کر رو رہے تھے، کسی کو کچھ عرض کرنے کی جرات نہیں ہو رہی تھی، کچھ دیر بعد خلیفہ مولوی صاحب ڈنہ صاحب نے آگے بڑھ کر صورت حال عرض کی کہ حضور ان میں کوئی بڑا طالب علم نہیں تھا، سارے چھوٹے بچے تھے اور ان کو گنے بھی دوسرے لوگوں نے نکال کر دیئے تھے، حضور معاف فرمائیں، آئندہ انشاء اللہ تعالیٰ ایسی غلطی نہ ہوگی۔ یہ سن کر آپ کی رنجیدگی میں قدرے کمی آئی، اور فرمایا اس سے معلوم ہوا کہ بچوں کی صحیح تربیت نہیں ہو رہی ہے، اگر بڑے ان کو دوسروں کی چیزوں سے دور رہنے کی تلقین کرتے رہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ ایسی غلطی کریں۔ فقیر کا یہ کام نہیں کہ بلا اجازت کسی کی معمولی چیز بھی اٹھالے۔ مولانا نثار احمد صاحب نے بتایا، حضرت مسند نشینی سے پہلے بھی دعوت و تبلیغ کے سلسلہ میں ہمارے علاقہ میہڑ میں تشریف لایا کرتے تھے، اس وقت بھی نہ کسی غیر محرم عورت سے بات چیت کرتے نہ ہی اپنے روبرو آنے دیتے تھے۔ بلکہ غیر محرم عورتوں کے ساتھ ایک سواری پر بیٹھنے سے احتراز فرماتے تھے۔ چنانچہ ایک مرتبہ حضور ہمارے یہاں رات ٹھہرے، دوسرے دن نور پور جانے کے لئے میھڑ پہنچے، میرے ساتھ میری بیوی بھی تھی، سفر دور کا تھا، اس لئے میں کرایہ کا تانگہ لے آیا، اور حضور کو تانگہ پر سوار ہونے کے لئے عرض کی، لیکن میرے ساتھ بیوی بھی تھی آپ نے صاف انکار کردیا، آخر کافی منت و سماجت کے بعد اگلی سیٹ پر تانگہ والے کے ساتھ بیٹھنے پر راضی ہوئے اور فرمایا میاں نثار احمد آج آپ کے مجبور کرنے پر میں اس تانگہ پر سوار ہوا ہوں ورنہ ہم کبھی بھی غیر محرم عورتوں کے ساتھ ایک سواری پر نہیں بیٹھے۔

مولانا بخش علی نے بتایا ایک مرتبہ حضور میہٹر تشریف فرما ہوئے، میں بھی ساتھ تھا، فقیر ولی محمد صاحب اور دیگر احباب بھی بس اسٹینڈ پر ملنے آئے، ہم سارے کھڑے تھے کہ ایک شیعہ عورت جو سیاہ لباس میں ملبوس تھی (اس کا خیال تھا کہ دوسرے رسمی پیروں کی طرح آپ بھی قدم بوسی سے منع نہیں کریں گے) وہ قدم بوسی کے لئے قریب آئی، جونہی حضور کی نظر اس پر پڑی آپ یکایک آگے دور جاکر کھڑے ہوگئے۔ آپ کا یہ عمل بھی شریعت مطہرہ کے مطابق تھا: رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کا بھی یہی معمول تھا کہ آپ بیعت لیتے وقت بھی عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتے تھے۔ (کنز العمال صہ ۱۵۶جلد ۷)

گوبر سے پرہیز: عام طور پر گھروں میں کھانا پکانے کے لئے گوبر استعمال کی جاتی ہے۔ یا پھر مٹی کے گارے میں گوبر ملا کر چھتوں دیواروں کا پلستر کیا جاتا ہے، لیکن آپ اس سے سختی سے منع کرتے تھے کہ یہ جائز نہیں ہے، اس لئے آپ کی مخلص جماعت اس چیز سے پرہیز کرتی ہے۔ مئی ۱۹۷۹ء میں حضور بمع جماعت تبلیغی سلسلہ میں چک نمبر ۵۶۲ ظفر وال میں تشریف لے گئے، وہاں آپ کو جس مکان میں ٹھہرایا گیا، اس کے گارے میں گوبر شامل تھی، آپ نے فرمایا ہم اس مکان میں نہیں ٹھہریں گے، بالاخر آپ دوسرے مکان میں منتقل ہوگئے۔ (مؤلف)

علاقہ ڈگھڑی کی ایک بستی میں حضور تشریف لائے، وہاں اکثر پنجابی لوگ آباد ہیں۔ اور وہاں اکثر مکانات کے گارے میں گوبر شامل کرنے کا رواج ہے۔ وہاں تقریر میں حضور نے تنبیہہ کرتے ہوئے فرمایا کیا آپ کو معلوم نہیں کہ گوبر پلید ہے، تم لوگ مکانات میں یہ چیز استعمال کرتے ہو۔ بارش کے وقت گوبر والے مکان کی مٹی یا بارش کی چھینٹیں تمہارے بدن اور کپڑوں پر پڑیں گی، تو تمہارے بدن اور کپڑے بھی پلید ہو جائیں گے۔ اگر پہلے معلوم نہیں تھا تو اب علم ہوجانے کے بعد آئندہ اس چیز کا کبھی استعمال نہ کرنا۔ (از خلیفہ مولاا محمد ایوب صاحب)

محترم مولانا محمد بلال صاحب نے بتایا کہ ملیر کراچی میں حاجی گل حسن صاحب کے یہاں آپ کی دعوت تھی، کھانا کھانے کے بعد آپ نے دانت صاف کرنے کی تیلی دریافت فرمائی، دانت صاف کرنے کے لئے تیلی آپ کے ساتھ موجود ہوتی تھی۔ آپ کا سامان تلاش کرنے کے باوجود مجھے تیلی نہیں ملی، آپ نے خود بھی تلاش فرمائی، مگر نہ ملی۔ صاحب عوت حاجی صاحب آپ کے مخلصین میں سے ہیں، قریب ہی ان کی کافی ساری لکڑیاں رکھی ہوئی تھیں، میں نے عرض کی ان لکڑیوں سے دانت صاف کرنے کیلئے تیلی میں لے آتا ہوں، آپ نے فرمایا نہیں یہ ہماری چیز تو ہے نہیں کہ بلا اجازت استعمال کی جائے۔ چنانچہ میں نے صاحب دعوت حاجی صاحب سے آپ کے دانت صاف کرنے کے لئے تیلی کی اجازت لی، تب آپ نے اس سے دانت صاف کئے۔ اسی موقعہ پر نماز جمعہ کا پروگرام تھوڑے فاصلہ پر دنبہ گوٹھ میں تھا، خادموں کی کوتاہی کی وجہ سے آپ کا مسواک رہ گیا تھا، نماز عصر سے پہلے آپ حاجی گل حسن صاحب کے یہاں تشریف لائے، وضو بناتے وقت مسواک طلب فرمایا، نہ ملنے پر میں نے قریب کھڑے (غالباً) نیم کے درخت سے آپ کے لئے مسواک توڑنا چاہا، لیکن آپ نے سختی سے منع کیا۔ فرمایا یہ نیم پرائے ہیں، اگر آپ کے پاس اپنا مسواک ہو تو فی الحال مجھے دے دو۔ میں نے عرض کی حضور وہ تو میرا استعمال شدہ ہے، فرمایا پرواہ نہیں، مستعمل ہے تو کوئی حرج نہیں، اتنے میں مجھے یاد آیا کہ ایک نیا مسواک بھی میرے سامان میں موجود ہے، میں وہ لے آیا، آپ نے استعمال فرمایا، اور بعد میں مجھے واپس دینے لگے، اس پر میں نے عرض کی یہ مسواک حضور قبول فرمالیں، میرے پاس اور مسواک ہے، چنانچہ آپ نے وہ رکھ لیا۔

تصویر سے پرہیز: سیدی و مرشدی حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ ہر قسم کے جاندار کی غیر ضروری تصویر رکھنے سے سختی سے منع فرماتے تھے، یہاں تک کہ اخبار کے جس صفحہ پر تصویر نظر آتی اسے الٹا کر تصویر نیچے کر دیتے تھے کہ اس پر نظر نہ پڑے، اس کے علاوہ بچوں کو کھیلنے کے لئے پلاسٹک یا المونیم کے بنے ہوئے گڑیئے، گھوڑے، ہاتھی، اونٹ، آدمی اور اسی قسم کے دوسرے کھلونے دینے سے منع فرماتے۔ چنانچہ والدہ صاحبہ نے بتایا کہ درگاہ فقیر پور شریف میں لنگر خانہ میں کسی بچی کے ہاتھ میں گڑیا دیکھ کر حضور کی کمسن سات سالہ صاحبزادی نے اسے میوہ دے کر گڑیا لے لی، اور اسی وقت جلتی بھٹی میں ڈال دی، چھ سات سالہ معصومہ کی یہ سمجھ اور اعلی تعلیم دیکھ کر تمام مستورات حیران رہ گئیں، اور یہی معمول تھا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کا بروایت ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، اگر گھر میں حضور محسن عالم صلّی اللہ علیہ وسلم کو تصویر والی کوئی چیز نظر آتی تو اسے توڑے بغیر نہیں چھوڑتے تھے۔ چنانچہ ایک بار باتصویر تکیہ گھر میں دیکھ کر آپ صلّی اللہ علیہ وسلم دروازہ پر ہی رک گئے تھے اندر داخل نہ ہوئے۔
ایک مرتبہ غیبی دیرو (ضلع لاڑکانہ) میں حضور تشریف لائے، جلسہ مقرر تھا، کافی خلفاء کرام بھی آپ کے ساتھ تھے، جس مکان میں آپ کا قیام تھا، وہاں تبت پاؤڈر کی ایک ڈبیہ ظاہر تھی جس پر تصویر نمایاں تھی، آپ نے دیکھتے ہی فرمایا یہ اٹھاکر مالک مکان کو دے دو یا کسی صندوق میں ڈال دو تاکہ ظاہر نہ ہونے پائے۔ اور مالک مکان کو سمجھا دو کہ جس جگہ تصویر ہوتی ہے وہاں رحمت کے فرشتے نہیں آتے۔ اس لئے احتیاط کریں اور آئندہ اس قسم کی کوئی تصویر باہر نہ رہنے دیں۔ (از خلیفہ محمد ایوب صاحب)

نماز کا اہتمام: حضور نبی کریم رؤف رحیم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نماز کے متعلق حضور سیدی و مرشدی حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ، سیدہ ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی یہ روایت بکثرت بیان فرماتے تھے کہ حضور اکرم ساقی کوثر صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر میں تشریف فرما ہوتے تو بڑی دلجمعی سے ہمارے ساتھ بات چیت کر رہے ہوتے، لیکن جونہی آپ کے کانوں میں اذان کی آواز پہنچتی آپ کا رخ ہم سے یوں بدل جاتا گویا کہ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم ہمیں جانتے ہی نہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے جب سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کے نماز رمضان کی کیفیت دریافت کی تو سیدہ رضی اللہ عنہا نے تعداد رکعات کی تفصیل بیان کرتے ہوئے چند بار فرمایا لا تسأل عن حسنھن و طولھن (شمائل النبی) کہ آپ کی رکعات نماز کی طوالت (لمبائی) اور حسن و خوبی کا پوچھو نہیں۔ یعنی آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کی پرخلوص خشوع و خصوع والی نماز کا ہم بیان ہی کیا کرسکتے ہیں۔

حدیث: عن عائشۃ کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یحدثنا و نحدثہ فاذا حضرۃ الصلوۃ کانۃ لم یعرفنا ولم نعرفہ (الازدی فی الضعفاء) من حدیث سوید بن غفلۃ مرسلا کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم اذا سمع الاذان کانہ لم یعرف احدا من الناس۔ (احیاء علوم الدین صفحہ ۱۵۶ جلد اول)
یہ حقیت ہے کہ ہم پہلے بھی جانتے تھے کہ نماز فرض ہے، کفر اور ایمان کے مابین فرق یہی نماز ہے، قیامت میں سب سے پہلے اس کی پرسش ہوگی، مگر اس عملی تشریح و تفسیر، صحیح قدر و قیمت کا مشاہدہ اور احساس حضور سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ کی عملی زندگی اور آپ کی مجالس و محافل سے ہی ہوا۔

بارہا ایسا ہوا کہ مجلس ذکر و فکر سے گرم ہوتی، علماء، خلفاء اور فقراء کی کثیر جماعت سراپا گوش ہوکر آپ کا وعظ و نصیحت سن رہی ہوتی، لیکن جونہی آپ کے کانوں میں اذان کی آواز پہنچتی، آپ یک لخت جماعت سے توجہ ہٹاکر دو زانو ہوکر پوری توجہ سے اذان سننے لگتے۔ اور مسنون طریقہ کے تحت مؤذن کے ساتھ ساتھ اذان کے الفاظ دہراتے۔ اگر اذان کے دوران کوئی آدمی عرض و معروض شروع کر دیتا تو آپ خفا ہوتے تھے۔ اگر جماعت کا کوئی پرانا آدمی یہ حرکت کرتا تو اس کو جھڑکتے کہ کیا اذان نہیں سنتا اور جماعت کو بھی یہی تعلیم فرماتے کہ مؤذن کی اذان توجہ سے سنا کرو اور اس کے ساتھ وہی الفاظ اذان اور اقامت کے وقت دہرایا کرو، ماسوائے حیّ علی الصلوۃ اور حیّ علی الفلاح کے بجائے ان الفاظ کے ”لاحول ولا قوۃ الا باللہ“ اور قد قامتِ الصلوۃ کے وقت ”اقامہا اللہ و ادامہا“ اور صبح کی اذان کے وقت ”الصلوۃ خیر من النوم“ سن کر ”صدقت و برکت“ کہنا چاہئے۔ یہاں البتہ اگر کوئی ضروری دینی بات پہلے سے بیان ہو رہی ہوتی تو اسے مختصر الفاظ میں مکمل فرما لیتے تھے اور یہی مسنون طریقہ ہے۔

اذان کے بعد بلا ضرورت گھومنا پھرنا آپ کو ناگوار ہوتا تھا، مدرسہ کے طلبہ کو عموماً عصر کی اذان سے کچھ پہلے کھیلنے کی چھٹی ملتی تھی۔ چند بار ایسا ہوا کہ وہ کھیلنے میں اتنے مصروف ہوگئے کہ ان کی تکبیر اولیٰ رہ گئی، اور بعض کی ایک دو رکعات بھی جماعت سے رہ گئیں۔ آپ نے ایسے مواقع پر ہر بار ان کو بلا کر سخت تنبیہ کی کہ تم نے اتنی غفلت کیوں کر کی، اذان کے بعد بھی کھیلا جاتا ہے؟ تم پر کوئی پابندی نہیں ہے؟ کھیلنا صحت کے لئے مفید ہے، مگر کھیلنے میں اتنا استغراق نہ ہونا چاہیے کہ جماعت ہی چلی جائے۔ مزید اگر ورزش کے لئے کھیلنے کی ضرورت ہو تو نماز پڑھ کر کھیلو۔ کوئی ایک استاد یا بڑا طالب علم یہ کوشش کرے کہ جب جماعت کا وقت قریب ہو ان کو اطلاع کرے۔ پھر بھی جو کوتاہی کرے اس کو سخت سزا دی جائے۔ اگر آپ عین نماز کے وقت یا تھوڑی دیر پہلے کھیلنا چھوڑ کر آئیں گے تو آپ پورے اطمینان سے جماعت میں شریک نہیں ہو سکیں گے۔ جماعت سے اتنی دیر پہلے کھیلنا ترک کرکے نماز کی تیاری شروع کریں کہ تکبیر اولیٰ میں آکر شریک ہوں۔ اور اگر کسی کو قضائے حاجت کی ضرورت ہو تو پورے اطمینان سے ڈھیلے لے کر استنجاء کرسکے کہ یقین ہو جائے کہ اب قطرہ خارج نہیں ہوگا۔ پیشاب کرکے جلدی پانی سے طہارت کرنا یا معمولی دیر ڈھیلا استعمال کرنا کافی نہیں ہوگا، کیونکہ قطرہ خارج ہونے کا امکان رہتا ہے، آج کل ایسی صحت کہاں ہے کہ پیشاب کے فوراً بعد قطرہ آنا بند ہوجائے۔ یہ ضروری باتیں ہیں، لیکن اکثر پڑھے لکھے لوگ بھی اس طرف توجہ نہیں کرتے۔ اگر استنجا صحیح طریقہ سے نہیں ہوا تو نہ وضو درست ہوگا اور نہ نماز، اسی طرح وضو بھی پورے اطمینان سے کرو اور یہ بات تجربہ اور مشاہدہ سے ثابت ہے کہ جتنی حضور قلبی اور دلجمعی کے ساتھ وضو کیا جائے گا، نماز میں بھی اتنا زیادہ سکون اور حضور قلبی حاصل ہوگا۔ وضو کرتے وقت دنیاوی باتیں کرنا بھی منع ہے۔ اس کے لئے بھی کوئی نگران مقرر کیا جائے (چنانچہ نگران مقرر کئے گئے) خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دی جائے۔ اسی طرح نماز باجماعت کے لئے بھی نگران مقرر کئے جائیں جو یہ دیکھیں کہ جماعت سے کوئی رہ تو نہیں گیا، اگر کوئی رہ جائے تو اساتذہ کو اطلاع دی جائے وہ اس کو سزا دے دیں۔

انا لِلہ: اگر کسی نماز کے وقت قدرے زیادہ فقراء جماعت سے رہ جاتے یا دوسری تیسری رکعت میں شامل ہوتے تو آپ نماز با جماعت کے موضوع پر تفصیل سے نصیحت فرماتے تھے۔ کبھی کبھار نام لے کر بلاتے اور فرماتے، انا لہ وانا الیہ راجعون کہ آپ کی نماز جماعت سے رہ گئی ہے۔ آپ کا بہت بڑا نقصان ہوا ہے۔ یہی نہیں بلکہ دوسرے فقراء کو بھی فرماتے تھے کہ آپ بھی ان سے تعزیت کریں۔ اور اس سلسلہ میں حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ کا واقعہ بیان فرماتے تھے کہ ایک بار آپ سے ایک جماعت فوت ہوگئی تو آپ کو بہت افسوس ہوا، اور فرمایا، اگر آج بایزید کا کوئی لڑکا فوت ہو جاتا تو بسطام کا پورا شہر تعزیت کے لئے جمع ہو جاتا، لیکن افسوس کہ میری نماز جماعت سے رہی گئی ہے تو کوئی آدمی تعزیت کے لئے میرے پاس نہیں آیا۔ اب آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ حضرت بایزید رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک نماز باجماعت کی کتنی اہمیت تھی۔

الحمد للہ حضور کی حیات مبارکہ ہی میں نگران مقرر کئے گئے، یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ متعدد بار حضرت صاحب نے مدرسہ کے طلبہ کو اور بستی کے چھوٹے لڑکوں کو نماز باجماعت میں سستی کرنے پر خود سزا دی۔ آپ ان کو سزا کم دیتے تھے اور زبانی نصیحت کے ساتھ ڈراتے دھمکاتے زیادہ تھے جس کے نتیجہ میں وہ پابند جماعت ہو جاتے۔ آپ جس قدر حضور قلبی، خشوع و خضوع، دل جمعی اور یکسوئی سے متوجہ الی اللہ ہوکر نماز ادا کرتے تو قرآنی آیت ”وھم فی صلٰوتھم خاشعون“ کی عملی تفسیر معلوم ہوتے تھے۔ حقیقت صلوۃ (نماز) اور حقیقت قرآن میں بہ یک وقت اس قدر مستغرق ہوجاتے کہ یوں محسوس ہوتا تھا کہ آپ اپنے خالق و مالک حقیقی کے حضور سراپا عجز و انکسار ادب و احترام بن کر عاجزانہ عبادت و اطاعت کا نذرانہ پیش کرتے ہیں اور ادھر سے قبولیت خاصہ کی صدائے باز گشت سن کر اپنے وجود اور دنیا و مافیہا سے بے تعلق ہو چکے ہیں۔ یہ جز وقتی نہیں بلکہ آپ کا ہمیشہ کا معمول تھا۔

نماز باجماعت: آپ نماز باجماعت کا اتنا اہتمام فرماتے تھے کہ بکثرت جسمانی عوارض کے باوجود سخت سردی یا سخت گرمی یا بارش کے اوقات میں بھی آپ مسجد میں چل کر جماعت سے نماز ادا کرتے۔ بعض سخت عوارض کی وجہ سے اگر ڈاکٹروں نے گھر سے باہر نکلنے سے منع کر دیا ہوتا کہ باہر کی ہوا لگنے سے تکلیف کے بڑھنے کا اندیشہ ہے تو آپ ایسی صورت میں انفرادی نماز پڑھنے کی بجائے چند خلفاء مدرسہ کے اساتذہ یا بستی کے فقیروں کو گھر بلا لیتے تھے اور وہیں جماعت سے نماز ادا فرماتے۔ بعض مرتبہ کھڑے ہونے یا بیٹھنے کی سکت نہ ہوتی تو بھی جماعت سے نماز ترک نہ کرتے بلکہ چند احباب چارپائی کے ساتھ کھڑے ہوکر صف بنا لیتے، حضرت قبلہ صاحبزادہ مدظلہ العالی یا کوئی اور صاحب آگے بڑھ کر امامت کے فرائض انجام دیتا۔

۱۳۹۳ھ میں مسلسل کئی ماہ تک حضور پہلے جامشورو اور پھر کراچی میں زیر علاج رہے، تین مرتبہ آپریشن ہوا، نقاہت و کمزوری کا یہ عالم تھا کہ آپ کی آواز بمشکل سمجھ میں آتی تھی لیکن اس کے باوجود آپ کی ایک نماز بھی جماعت سے فوت نہ ہوئی تھی۔ آپ ہر سال عموماً ایک مرتبہ دس سے بیس دن تک پنجاب کے تبلیغی دورے پر تشریف لے جاتے تھے، اور آپ کے ہمراہ ستر اسی فقراء اور مبلغین کا قافلہ ساتھ ہوتا تھا، لمبا سفر ہونے کی وجہ سے کئی نمازوں کا وقت ٹرین میں ہو جاتا تھا۔ اگر نماز کا وقت کسی بڑے اسٹیشن پر ہوتا جہاں کچھ دیر ٹرین رکتی تھی تو پلیت فارم پر ہی باجماعت نماز ادا کی جاتی، لیکن اگر چلتی ٹرین میں نماز کا وقت ہوجاتا اور قریب میں ٹرین کا کوئی اسٹاپ بھی نہ ہوتا اور ہجوم کی وجہ سے صف بناکر جماعت کرنا دشوار ہوتا تو آپ کسی فرد کو ساتھ ملا کر خود ہی امامت کرکے جماعت سے نماز ادا فرماتے تھے اور علماء کرام کے فتوے کی بناء پر بعد میں قضا پڑھتے تھے۔