فہرست
سیرت ولی کامل (حصہ اول)

حسن صورت اور لباس

باطنی روحانی کمالات کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو متناسب و دلکش قد کاٹھ، مردانہ وجاہت، حسین شکل و صورت کی دولت سے بخوبی نوازا تھا۔ قد طول مائل، رنگ سفیدی مائل، با رونق نورانی چہرہ، مہندی سے مزین، کم گنجان ریش مبارک، لبیں مختصر، سر پر لمبی زلفیں کان کی لو تک، نرم و نازک مگر بھرا ہوا جسم، کشادہ سینہ اور ہاتھ ریشم کی مانند ملائم تھے۔ عرسہ سے ہاتھوں میں رعشہ اور خفیف سا لرزہ تھا، مگر تحریر و کتابت خوشخط اور مسلسل ہوتی تھی، خوبصورت آنکھیں، کشادہ پیشانی، آواز نہایت پیاری اور پر تاثیر نہ زیادہ پست نہ زیادہ بلند، کشادہ ہاتھ، کشادہ پاؤں، کبھی سبک رفتار چلتے تھے اور کبھی آہستہ، (آپ کے پیر و مرشد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا بھی یہی معمول تھا)۔ لباس متوسط پہنتے تھے، نہ اتنا عمدہ کہ تکبر کا شائبہ ہو، نہ اس قدر سادہ کہ عالمانہ اور صوفیانہ وقار کے خلاف ہو، ہمیشہ پر وقار صاف ستھرا لباس زیب تن کرتے تھے۔ جو لباس پہنتے بدن پر خوب جچتا تھا۔ بچپن ہی سے آپ کو سفید لباس زیادہ پسند تھا۔ کرتا، شلوار اور کاندھے پر دو شالہ سب سفید ہوتے تھے۔ بعض اوقات انگوشہ (دھاری دار) بھی استعمال کرتے تھے، واضح رہے کہ دو شالہ استعمال کرنا بھی سنت خیر الانام صلیٰ اللہ علیہ والہ وسلم ہے نہ کہ مروجہ رومال۔ گو یہ بھی جائز ہے اور عیدین کے دن حضور حرمین شریفین سے لایا ہوا رومال اور عربی جبہ پہنتے تھے۔ مگر عام اوقات میں سفید دو شالہ ہی کاندھے پر ہوتا تھا، سر پر سفید اور کبھی سبز عمامہ اور اس کے نیچے ہاتھ سے بنی ہوئی ٹوپی پہنتے تھے۔ پہلے گھر میں یا تفریح وغیرہ کے موقعہ پر صرف ٹوپی بھی استعمال فرماتے تھے۔ مگر جب سے فتاویٰ رضویہ میں عمامہ کے فضائل اور اہمیت دیکھی تو ہمیشہ عمامہ سے رہتے تھے۔ سفر، حضر، بیماری خواہ تندرستی کسی حال میں عمامہ ترک نہ کیا۔ شلوار ہمیشہ پنڈلی تک ہوتی تھی۔ آپ گھر میں اور کبھی باہر بھی ریشمی چادر (دھوتی) باندھ کر تشریف لے آتے تھے، ہمیشہ کرتہ استعمال فرماتے تھے، جس پر کف یا کالر نہیں ہوتے تھے۔ مدرسہ کے طلبہ اور اساتذہ کے لئے بھی کف اور کالر دار قمیض پسند نہیں فرماتے تھے۔ چند مرتبہ طلبہ کو تنبیہہ بھی کی، جس پر کئی طلبہ اور فقیروں نے بنے بنائے قمیضوں کے کالر کاٹ کر پھینک دئیے۔ سردیوں میں جرابیں، لمبا کوٹ جو گھٹنوں سے بھی نیچے ہوتا تھا اور اونی شال یا سندھی اجرک زیب تن فرماتے تھے۔ سردیوں میں کبھی عمامہ کے نیچے اون کا بنا ہوا مضبوط ٹوپ پہنتے تھے۔ اگر کھانسی زکام کی شکایت ہوتی تو عموماً ناک صاف کرنے کے لئے انگوشہ ساتھ لاتے تھے۔ عطر استعمال فرماتے تھے، مگر مروجہ سینٹ سے آخر میں احتراز فرماتے تھے کہ کسی نے بتایا کہ اس میں الکحل یا شراب وغیرہ ملی ہوتی ہے۔

نعلین: دیگر لباس کی طرح ذاتی طور پر آپ عمدہ قسم کے نعلین بھی پسند نہیں فرماتے تھے، مگر چونکہ فقراء اپنی محبت کی وجہ سے عموماً زری دار نعلین بنوا کر پیش کرتے تھے، آپ اپنے پیر و مرشد حضرت پیر مٹھا قدس سرہ کی پسند کے پیش نظر قبول فرماتے اور استعمال کرتے تھے۔ بعض اوقات ایسی نعلین لانے پر ناپسندیدگی کا اظہار فرماتے تھے۔ چنانچہ مولانا جان محمد صاحب نے بتایا جب محترم حاجی عطا محمد صاحب زری دار نعلین بنواکر لے آئے تو فرمایا میرے لئے اس کا پہننا پہاڑ سے کم بوجھ نہیں، مگر کیا کروں آپ جیسے نیک لوگوں کو ناراض کرنا بھی پسند نہیں کرتا، پہن لیتا ہوں۔ کبھی کبھی گھر میں یا باہر ہوائی چپل بھی استعمال فرماتے تھے۔ غرضیکہ آپ ظاہری و باطنی حسن و جمال کے حسین امتزاج تھے۔ آپ جدھر بھی جاتے دیکھنے والوں کی نگاہوں کا مرکز بن جاتے، کسی شہر سے گزرتے اور آپ کی گاڑی کسی وجہ سے رک جاتی تو لوگ ایک دوسرے کو دکھاتے اور حضور کے ہمسفر ساتھیوں سے پوچھتے کہ یہ کون بزرگ ہیں، کس طریقہ سے تعلق ہے، وغیرہ۔ ٹریفک پولیس والے ازخود سلام کرکے ہٹ جاتے تھے، اس عاجز نے بارہا دیکھا کہ جب ٹرین (آپ ٹرین کے سفر کو روڈ پر ترجیح دیتے تھے) کسی اسٹیشن پر کھڑی ہو جاتی تو جو لوگ پلیٹ فام پر کھڑے ہوتے آپ کو دیکھ کر دوسروں کو دکھانے لگتے، ڈبے میں موجود کئی آدمی ساتھیوں سے آپ کا تعارف معلوم ہونے پر آپ سے ملاقات کرتے، دعا بھی کراتے، کئی وہیں بیعت بھی ہوتے تھے۔

خورد و نوش: آپ کھانے پینے کے معاملے میں بھی تمام عمر تکلف و اہتمام سے بے نیاز رہے۔ اگر دستر خوان پر عمدہ قسم کا کھانا ہوتا تو بھی بخوشی و رغبت تناول فرماتے تھے، نہ زیادہ خوش ہوتے تھے، نہ ہی تزہد و ریاکاری کے طریقہ پر ناپسندیدگی کا اظہار فرماتے تھے۔ البتہ اگر میزبان کی طرف سے تکلف یا حیثیت سے زیادہ خرچہ معلوم ہوتا تو اسے فرماتے کہ کیا ضرورت تھی کہ آپ نے اتنا سارا خرچ کیا ہے؟ دال روٹی جو مہیا ہوتی بس وہی کافی تھا۔ اسی طرح اگر سیدھا سادہ کھانا پیش ہوتا تو بھی شوق و رغبت سے تناول فرماتے تھے۔ جوانی کے زمانے میں تو سفر، حضر میں کھانے کا اہتمام نہیں فرمایا، بلکہ تبلیغی سفر میں پسے ہوئے مرچ، نمک، ساتھ ہوتے تھے، پانی میں ملا کر سالن کے طور پر استعمال کرکے وقت گزار لیتے تھے۔ مگر بعد میں عوارض جسمانی کے پیش نظر پرہیز کے مطابق اور وقت پر کھانا کھانے کی کوشش کرتے تھے۔ اگر کسی بے تکلف مخلص کے یہاں مہمان ہوتے تو ساتھیوں کو بھی بلا کر ساتھ کھلاتے تھے۔ جبکہ کسی نئی جگہ دعوت ہوتی تو جو کھانا بچ جاتا وہ اہل خانہ کو واپس دیتے تھے۔ چونکہ رسول خدا صلّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اکثر و بیشتر جو کی روٹی ہی تناول فرمائی ہے، (شمائل ترمذی صہ ۸۷) اس لئے آپ آٹا پیستے وقت گندم کے ساتھ قدرے جو ملانے کا حکم فرماتے تھے۔ نیز اتباع سنت اور صحت کے لئے مفید ہونے کی وجہ سے آپ اپنے گھر خواہ مدرسہ کا آٹا چھاننے سے منع فرماتے تھے۔

پانی: جس طرح رسول خدا صلّی اللہ علیہ وسلم میٹھے اور بہتر پانی کا اہتمام فرماتے تھے، اور مدینہ منورہ میں قیام کے دوران آپ کے لئے سقیا سے پانی لایا جاتا تھا (الانوار المحمدیہ) اسی طرح عاشق رسول مرشدی حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ بھی سفر خواہ حضر میں میٹھے پانی کا اہتمام فرماتے تھے، خلاف مزاج پانی پینے سے تکلیف ہوتی تھی۔ چنانچہ درگاہ اللہ آباد شریف میں قیام کے دوران عموماً آپ کے لئے ڈاکٹر محترم حاجی عبدالطیف صاحب کے گھر (کنڈیارو شہر) سے پانی لایا جاتا تھا، اور درگاہ طاہر آباد شریف میں محترم حاجی محمد عرس کے نل سے آپ کے لئے پانی لایا جاتا تھا۔ چونکہ رسول خدا صلّی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مروجہ گلاس وغیرہ نہیں تھے، مٹی، لکڑی وغیرہ کے پیالے میں پانی پیا جاتا تھا۔ اسی لئے ترجیحی طور پر آپ بھی کٹورہ (جسے سندھی میں وٹو کہا جاتا ہے) میں پانی پیتے تھے۔

تواضع، سادگی اور دنیا سے بے رغبتی

طالب علمی کے زمانے سے لے کر آخر عمر تک حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے مزاج میں تواضع سادگی اور درویشی و زہد و تقوے کے اوصاف نمایاں تھے۔ آپ کا معاش اور طرز معیشت ہمیشہ سادہ رہا۔ ساری عمر ایک ہی سا لباس اور ایک ہی سی وضع قطع کے پابند رہے۔ تمام حالات و معاملات زندگی میں یکساں تواضع، سادگی و فقیری کی جھلک نمایاں تھی، درویشوں کے ساتھ چٹائی پر اور کبھی زمین پر بیٹھنے میں عار محسوس نہ کی۔ آپ کی زندگی کا اکثر حصہ تبلیغی سفروں میں گزرا لیکن آخری چند برسوں کے علاوہ ہمیشہ ساتھیوں کے ساتھ بس یا ٹرین کے تھرڈ کلاس (موجودہ سیکنڈ کلاس) میں سفر کیا۔ آخری چند برسوں میں عوارض کی وجہ سے علیحدہ سواری کا انتظام کیا جاتا تھا۔ مسجد کا، مدرسہ کا، لنگر وغیرہ کا کام ہوتا، فقراء کے ساتھ مل کر گھنٹوں کام کرتے۔ اگر کوئی غریب و مسکین فقیر دعوت عرض کرتا تو امیر کی دعوت سے بڑھ کر اس کی دعوت قبول فرماتے تھے اور اس کی حیثیت کے مطابق انتظامات سے خوش ہوتے اور اگر اپنی حیثیت سے بڑھ کر تکلیف سے انتظامات کرتا تو رنجش کا اظہار فرماتے تھے۔

مسجد شریف آتے جاتے وقت بعض اوقات فقراء اپنی محبت و تعظیم کی بنا پر آپ کی جائے نماز سے لے کر آپ کے دروازہ مبارک تک راستے پر رومال اور چادریں بچھاتے تھے کہ حضور کے قدم میمنت سے بابرکت ہوں۔ لیکن آپ ان کپڑوں پر چلنے کی بجائے معمول کے راستے سے ہٹ کر چلتے تھے۔ بعض مرتبہ اسی وقت کپڑے اٹھا لینے کا حکم فرما کر تنبیہہ کرتے تھے کہ اس غیر ضروری تعظیم کی ضرورت نہیں، آئندہ میرے لئے کپڑے نہ بچھایا کریں۔ پھر بھی بعض مسافر حضرات کبھی کبھی کپڑے بچھا دیتے تھے، لیکن آپ ان پر سے نہیں گزرتے تھے۔ پہلی بار جب حضور چک امرو تحصیل شکر گڑھ (پاک بھارت سرحد پر واقع پاکستان کا آخری اسٹیشن ہے) تشریف لے گئے، ریلوے اسٹیشن سے لے کر آپ کی قیام گاہ تک کوئی ۴، ۵ فرلانگ کا فاصلہ ہوگا، صاحب دعوت حضرات نے آخر تک نئے نئے کپڑوں کے تھان بچھا دیئے تھے۔ شاید وہ یہی سمجھ رہے تھے کہ عام پیروں کی طرح حضور ہماری اس تعظیم پر خوش ہوں گے، چونکہ یہ نئے آدمی تھے حضور نے ان کو تو کچھ نہ کہا مگر خلیفہ صاحب محترم کو بلا کر فرمایا کہ ان کو سمجھائیں کہ آئندہ اس طرح کپڑے نہ بچھایا کریں۔ دراصل آپ کے جملہ حالات اور طرز زندگی اختیاری اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اتباع کی وجہ سے تھے۔ نہ تو ان میں کسی ظاہری مجبوری کا دخل تھا، نہ ریا کا شائبہ۔ حضور سید الثقلین صلّی اللہ علیہ وسلم کے متعلق مروی ہے۔

کان النبی صلّی اللہ علیہ والہ وسلم یجلس علی الارض وبا کل علی الارض و یعتقل الشاۃ و یجیب دعوۃ الملوک علی خبز الشعیر (کنز العمال صہ ۱۵۳ جلد سابع)۔

”رسول خد صلّی اللہ علیہ وسلم کچھ بچھائے بغیر زمین پر بیٹھ جاتے تھے۔ زمین پر بیٹھ کر کھانا کھا لیتے تھے، بکری باندھتے تھے۔ غلام کے جو کی روٹی کی دعوت پر بھی تشریف لے جاتے تھے“۔ اسی طرح متعدد روایات میں متعدد اوقات میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ مل کر رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کا کام کرنا بھی ثابت ہے۔ گو آمدنی کے لحاظ سے آپ مختلف ادوار سے گزرے، اسی طرح عملی زندگی میں ذمہ داریوں کے اعتبار سے بھی بتدریج اضافہ ہو تا رہا۔ لیکن آپ کا طرز معیشت ہمیشہ یکساں ہی رہا۔ گھریلو اخراجات و ضروریات سے لے کر خانقاہ و مدارس کے مصارف تک ایک ہی طرح کا عمدہ انتظام رکھا۔ یعنی نہ کبھی کم آمدنی کے زمانے میں بخل سے کام لیا، نہ فراخی کے دور میں اسراف سے کام لیا۔ البتہ آمدنی و روانگی میں توازن کا ہمیشہ خیال کرتے تھے۔ جس قدر فتوحات میں اضافہ ہوتا تھا اسی قدر ضروریات میں بھی وسعت سے خرچ فرماتے تھے، لیکن قناعت و سادگی کا پہلو پھر بھی غالب رہتا تھا۔ یہ صرف آپ کا ذاتی کردار و عمل ہی نہیں بلکہ اپنے متعلقین و احباب کو بھی بڑی حد تک ان معمولات کا پابند بنا لیا تھا۔ آپ فرماتے تھے، آمدنی کتنی ہی قلیل کیوں نہ ہو، اپنے اخراجات اس کے مطابق رکھیں۔ ایسا نہ ہو کہ ادھار لے کر عیش و عشرت کی زندگی بسر کریں اور کل پھر پریشان ہوں، بلکہ اگر خدانخواستہ قرض چڑھ گیا ہے تو روکھی سوکھی کھائیں، دو، دو، چار آنے جمع کرکے قرض کے بوجھ سے آزاد ہوں۔ قناعت اختیاری چیز ہے اس سے فائدہ اٹھائیں۔ مزید فرمایا کرتے تھے کہ اگر دنیا موجود ہے تو کوئی حرج نہیں، اس کو جیب صندوق یا بینک میں بے شک محفوظ رکھو، مگر تمہارا دل دولت و دنیا کی محبت و حرص سے پاک و صاف ہونا چاہیے۔ دل میں ماسوائے محبت حق تعالیٰ اور کسی دنیاوی چیز کے لئے گنجائش ہی نہیں ہونی چاہیے۔ حدیث شریف میں ہے: من احب دنیا اضر باخرۃ ومن احب اخر ۃ اضربدنیاہ۔

یعنی جو دنیا کو محبوب رکھے گا آخرت کا نقصان اٹھائے گا، اور جو آخرت کو محبوب رکھے گا دنیا کا نقصان برداشت کرے گا۔ چند روزہ دنیاوی عیش وعشرت کے لئے آخرت کا نقصان برداشت کرنا عقلمندوں کا کام نہیں ہے۔ جب کہ ایسا ہونا قطعی بھی نہیں ہے کہ تمہاری دوڑ دھوپ محنت اور جدوجہد کے نتیجہ میں ہر پسندیدہ چیز ملے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ اگر تو دنیا کو پیٹھ دے کر بھاگے گا اور اس کی مطلق پرواہ نہ کرے گا، پھر بھی جو تیرے مقدر میں ہوگا وہ تجھے مل کر ہی رہیگا، اور نہیں تو کم از کم قلبی سکون و راحت تو یقینا حاصل ہوگا۔ چنانچہ سنن نسائی شریف میں یہ حدیث قدسی موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا۔

”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے اولاد آدم علیہ السلام تو میری عبادت کے لے فارغ ہو جا، میں تیرے سینہ کو بے پرواہی سے بھر دوں گا۔ تیری محتاجی کا دروازہ بند کردوں گا۔ اگر تو یہ نہیں کرے گا (نیکی میں کوتاہی کرے گا) تو تیرے دونوں ہاتھوں کو مشغول رکھوں گا۔ اور تیری محتاجی کا دروازہ بند نہیں کروں گا اور تو دنیا میں پھنس کر رہ جائیگا۔ مال و دولت کے باوجود دل کا فقیر ہوگا۔ جتنا ہوگا اس سے بڑھ کر حاصل کرنے کی فکر میں مگن ہوگا۔ (ھذا حدیث حسن، غریب سنن نسائی محشی صہ ۱۲۲، جلد ۷)

گرد و پیش کے حالات کو دیکھ کر اگر جائزہ لیا جائے تو ہمارا معاشرہ قرآن و حدیث کی ان پیشگوئیوں کے بالکل مصداق نظر آئے گا۔

احباب کی تجاویز: مسند نشینی کے بعد لوگوں کی بکثرت آمد و رفت اور غیر اختیاری بڑھتے ہوئے اخراجات اور اس کے بالمقابل آمدنی نہ ہونے کے برابر دیکھ کر آپ کے ایک بہی خواہ بھانجے نے (جو اچھے بھلے سرکاری عہدے پر فائز تھے) آپ کو یہ مشورہ دیا کہ اس وقت بڑے شہروں میں دیسی مرغیوں کی بڑی مانگ ہے، آپ کی رہائش بھی دیہی علاقہ میں ہے، اس لئے آپ چند مریدین کو ملازم رکھ کر مرغیوں کی تجارت کریں، اس جائز کمائی سے آپ کی دینی ضروریات کے لیے مدد ملے گی، اور کسی دوسرے کا احتیاج بھی نہ رہے گا۔ گو ان کی یہ مخلصانہ اور برمحل تجویز پر کئی بار آپ نے شکریہ کے ساتھ ان کا تذکرہ بھی فرمایا، مگر عملی طور پر غیر ضروری دنیاوی الجھن سمجھ کر انکی بات سنی ان سنی کردی، البتہ بعض بیروزگار فقراء کو اس تجارت کی ترغیب دی اور انہوں نے یہ تجارت شروع کی جس سے وہ خوشحال زندگی بسر کرنے کے قابل ہوگئے۔

سنیاسی کی پیشکش: واضح ہو کہ حضور کے استاد محترم مولانا الحاج رضا محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ ایک عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ ایک حکیم اور بہتر سنیاسی تھے، جن کے پاس سونا بنانے کا ایک عمدہ مجرب نسخہ بھی تھا۔ آخر عمر میں ترک وطن کرکے مستقل طور پر رہائش حجاز مقدس میں اختیار کی۔ جب حضور فریضہ حج ادا کرنے حرمین شریفین گئے تو استاد محترم نے وہاں قیام کے دوران آپ کو اپنا مہمان ٹھہرایا۔ آخر میں حضور سے عرض کی کہ میں آپ کی تبلیغی مساعی سے بڑا متاثر ہوا ہوں، میں تہہ دل سے آپ کے لئے دعاگو ہوں، ساتھ ساتھ آپ کو سونا بنانے کا ایک آزمودہ نسخہ بھی بتا دیتا ہوں۔ پاکستان جاکر آپ فقراء کی مدد سے سونا خود بنائیں، جس کے بعد آپ کو کسی کا احتیاج نہ رہے گا۔ تبلیغی ضروریات، مدرسہ اور لنگر خانہ کے اخراجات باسہولت پورے ہو سکیں گے۔ وہ شاید یہی سمجھ رہے تھے کہ رسمی پیروں کی طرح میری اس پیش کش پر بڑے خوش ہوکر بصد شکریہ مجھ سے یہ نسخہ حاصل کریں گے۔ مگر آپ نے شکریہ کے ساتھ نسخہ لینے سے صاف انکار کردیا اور فرمایا مدرسہ، فقراء خواہ تبلیغ اسلام کا کام یہ میرے ذاتی کام نہیں اور نہ ہی میں ان کے اخراجات کا کفیل ہوں، میں تو ایک خادم ہوں، جس کا یہ کام ہے وہی مسبب الاسباب ہے، وہی دیتا ہے اور دیتا رہے گا۔ میں سونے چاندی کے نسخے لے کر کیا کروں گا، جب مجھے ان کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ (ملفوظات)

درگاہ فقیرپور شریف میں فقراء نے لنگر کے لئے متعدد بار تربوز بوئے تھے۔ مگر قریب کی بستیوں کے لوگ چوری چھپے تربوزے توڑ کر لے جاتے تھے۔ بار بار سمجھانے بلکہ پکڑے جانے کے باوجود چوری میں کمی نہیں ہوئی۔ ایک مرتبہ بعد از نماز عشاء جب حضور گھر تشریف لے گئے تھے، منتظمین باہمی مشورہ کے لئے جمع ہوئے، بالاخر یہ مشورہ طے ہوا کہ رات کو ایک دو آدمی پہرہ کے لئے مقرر کئے جائیں، رات بھر باری باری جاگ کر تربوزوں کی حفاظت کریں، احتیاط کے طور پر چوکیداروں کو ایک بندوق بھی دی جائے۔ ابھی منتظمین حضرات مشورہ کے لئے جمع ہی تھے کہ اچانک حضور گھر سے تشریف لے آئے اور پوچھا کہ کس موضوع پر بات چیت ہو رہی تھی۔ انہوں نے صورت حال بیان کی، سن کر فرمایا، معمولی تربوزوں کے لئے کسی کو بندوق دے کر چوکیداری کے لئے بٹھانا عقلمندی کی بات نہیں۔ اگر کوئی دنیاوی نقصان ہوتا ہے تو بڑی بات نہیں اس کے لئے اتنا سخت قدم اٹھانا، جس سے بڑے نقصان کا اندیشہ ہو، ایسے تربوزوں کی لنگر کو کوئی ضرورت نہیں۔ کل یہ سارے تربوز توڑ کر لے آنا، مال مویشیوں کو کھلا دیں گے۔ آخر ایسے ہی کیا گیا، تمام تربوز توڑ کر بھینسوں کو کھلا دیئے گئے۔ (حاجی منظور احمد صاحب)

غرضیکہ کم آمدنی سے لے کر وسعت و فراخی کے آخری دور تک یوں محسوس ہوتا تھا کہ اپنی تمام تر رعنائیوں و دلربائیوں کے باوجود دنیا کی محبت آپ کو چھو کر بھی نہ گزری اور نہ کبھی کسی دنیاوی نقصان ہونے کی وجہ سے آپ کو افسردہ غمگین ہوتے دیکھا گیا۔ نہ ہی کسی عظیم منفعت کے موقعہ پر مسرت محسوس کرتے دیکھے گئے۔ اور یہی مومن کامل کی علامت ہے۔ اس لئے بلا مبالغہ کہا جاسکتا ہے کہ آپ آیت قرآنیہ۔ رجال لا تلھیھم تجارۃ ولا بیع عن ذکر اللہ (وہ مردان حق ہیں جن کو خرید و فروخت اللہ جل شانہ کے ذکر سے غافل نہیں کرتے) کی عملی تصویر اور مکمل مصداق تھے۔ ایک طرف دنیا سے بے رغبتی کا یہ عالم تھا تو دوسری طرف حلال اور جائز طریقے سے حاصل ہونے والی ہر چیز کو انعام الٰہی سمجھ کر اس سے فائدہ اٹھاتے اور دوسروں کو بھی یہی تلقین فرماتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ پختہ و عمدہ مکانات کی نسبت خشت و خام مٹی کے مکانات کو زیادہ پسند کرتے تھے، پھر بھی اسباب مہیا ہونے پر احباب کے مشورے کے مطابق نہ فقط آپ نے درگاہ اللہ آباد شریف و فقیرپور شریف کی جامعہ مساجد اور درگاہ طاہر آباد شریف کی جائے نماز پختہ بنانے کی اجازت دے دی بلکہ بذات خود ان میں ہاتھ بٹایا۔ اسی طرح مدرسہ جامعہ غفاریہ اللہ آباد شریف کی موجودہ عمارت اور مستورات کے لئے مسافر خانہ بھی آپ کی اجازت سے بنائے گئے تھے جب کہ ان کے متعلق آپ کی تجویز یہ تھی کہ سیم و تھور کے خطرہ کے پیش نظر ان کا نچلا حصہ پختہ ہو اور اوپر کچی اینٹیں استعمال کی جائیں، جس سے برکت اور سادگی بھی برقرار رہے گی اور خرچہ بھی کم ہوگا، اور مکان زیادہ گرم بھی نہ ہوگا۔ لیکن انتظامیہ کے پیش نظر آپ نے ان کی تجویز برقرار رکھی۔ ان کے علاوہ آپ کی حیات مبارکہ ہی میں آپ کا مکان پختہ بنایا گیا۔ البتہ غیر ضروری تکلفات ساز و سامان اور امیرانہ ٹھاٹھ باٹھ کو نہ تو اپنایا نہ ہی کسی دوسرے کے لئے پسند فرمایا۔ بلکہ ایسی چیزوں سے آپ کی طبیعت اور بھی منقبض ہو جاتی تھی۔ اسی طرح بڑے آدمی بھی چونکہ عموما خود پسند و متکبر ذہنیت کے ہوتے ہیں اور اکثر و بیشتر بزرگوں کے پاس بھی کسی دنیاوی مقصد کے تحت ہی آتے ہیں، اس لئے اس قسم کے آدمیوں کے آنے کی نسبت نہ آنے پر اور بھی خوش ہوتے۔ اور یہی انبیاء و اولیاء کا معمول رہا ہے، چنانچہ حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے یہاں تک لکھا ہے کہ آپ نے فرمایا، مجھے مساکین سے محبت اور مالداروں سے نفرت ہے۔ (مکاشفۃ القلوب صہ ۲۹۲)

اگر کوئی صاحب پہلے ہی عرض کرتا کہ سائیں فلاں رئیس صاحب یا فلاں افسر حضور کی خدمت میں آنا چاہتا ہے، تو آپ منع فرماتے تھے کہ ہم فقیر آدمی ہیں، نہ معلوم وہ کس ذہن کے ہوں، ایسے آدمیوں کا آنا طبیعت پر بوجھ بن جاتا ہے۔ اس لئے کسی حیلے بہانے سے انکو ٹال دینا، ان کا ہم فقیروں میں حسن ظن ہے تو ہم بھی ان کے لئے دعاگو ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو احکام شریعت پر عمل کرنے کی توفیق بخشے، بس یہاں پر آنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اسی طرح بعض مشہور و معروف واعظ یا جید مدرس علماء کرام گو آپ کے معتقد ہوتے، پھر بھی اگر کوئی کہتا حضور وہ آنا چاہتے ہیں، کب اور کہاں ان کو لے آؤں تو فرماتے تھے، ان کو یہاں آنے کی تکلیف نہ دیں وہ دین متین کی جو خدمت کر رہے ہیں، اس سے ہمارا دل از حد خوش ہے، ہم ہمیشہ ایسے صالح علماء کرام کے لئے دعاگو ہوتے ہیں۔ آپ ہماری طرف سے ان کو سلام کہنا اور دعا کے لئے عرض کرنا، وہ عالم دین لائق خدمت و توقیر ہیں۔ ہم سیدھے سادے آدمی ہیں، ہمارے فقراء بھی اپنے خیال کے ہوتے ہیں، نہ معلوم یہاں کے حالات و معاملات رہن سہن ان کو پسند آئے یا نہ آئے، پوری طرح ان کی خدمت ہو سکے یا اس میں کوتاہی ہو جائے وغیرہ۔ البتہ اگر اسی قسم کا آدمی آجاتا تو بڑی فراخدلی و محبت سے حال و احوال دریافت فرماتے اور موقعہ کی مناسبت سے کچھ نہ کچھ نصیحت بھی ضرور فرماتے اور خصوصی برتاؤ کرتے تھے۔ اسی طرح رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کا بھی حکم ہے کہ لوگوں کے ساتھ ان کی حیثیت کے مطابق برتاؤ رکھا کرو۔

عن عائشۃ الصدیقۃ رضی اللہ عنھا قالت امرنا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ان ننزل الناس منازلھم۔

اسی طرح اگر کوئی سیاسی لیڈر، یا امیدوار دعا کرانے آجاتا تو اس کی اصلاح اور ملک و ملت کی خدمت کی توقع رکھتے ہوئے مسنونہ طریقہ کے مطابق اخلاق کریمانہ سے پیش آتے، بالخصوص اگر وہ صاحب اہل بیت میں سے یا کسی بزرگ کے خاندان میں سے ہوتے تو انکی مناسب تعظیم بھی فرماتے تھے۔ ساتھ ساتھ اس انداز سے احساس ذمہ داری دلا کر خدمت خلق کے لئے آمادہ کرتے کہ ان کو مزید کچھ کہنے کی نہ ہمت ہوتی نہ اس کی ضرورت ہی رہتی۔ کافی دیر نصیحت کے بعد اس کے لئے دعا فرماتے اور وہ رخصت ہو جاتا۔ دیندار لوگوں سے تو ویسے ہی آپ کو پرخلوص محبت ہوتی تھی امیر ہوتے خواہ فقیر۔

غریبوں سے محبت: اس کے برخلاف سیدھے سادے بے تکلف مسکین قسم کے آدمیوں سے آپ کو خصوصی انس، شفقت اور محبت تھی، اور یہی لوگ حضور خیر البشر صلّی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے بھی محبوب اور اکثر اہل مجلس تھے، یہی نہیں بلکہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو پھٹے پرانے کپڑے پہنے ہوئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ بیٹھنے کا حکم فرمایا۔ سورہ کہف کا یہ واقعہ بکثرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ بیان فرمایا کرتے تھے کہ جناب حبیب کبریا نور مجسم صلّی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو وصیت فرمائی کہ اگر تم مجھ سے ملنا چاہو تو فقراء جیسی زندگی اختیار کئے رکھنا اور مال داروں کی مجلس سے دور رہنا اور دوپٹہ پیوند لگائے بغیر نہ اتارنا، اور حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عملاً یہی کرکے دکھایا، کہ وسعت و فراوانی کا زمانہ آنے پر ایک ایک لاکھ درہم تک ایک دن میں خیرات کرتی رہی اور اس کے باوجود ان کے دوپٹے میں پیوند لگے ہوتے اور کھانا از حد سادہ ہوتا تھا۔ (مکاشقہ القلوب)

اسی طرح سیدی و مرشدی حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے بھی اکثر اہل مجلس و متعلقین غریب ہی رہے اور یہی حکم رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کا ہے کہ ”تواضعوا و جالسوا لمساکین تکونوا من کبراء اللہ و تخرجون من الکبر عن ابن عمر“ (کنز العمال صہ ۱۱۳ جلد ثالث حدیث نمبر ۵۷۲۵) ”یعنی تواضع اختیار کرو اور مسکینوں کے ساتھ بیٹھو تو اللہ تعالیٰ کے حضور بڑے (محترم) ہوجاؤ گے اور تکبر سے آزاد ہوجاؤ گے“۔ کئی درویش فقراء جن سے بڑے آدمی ہنس کر بات بھی نہ کریں، حضور ایسے درویشوں سے ان کے مزاج و مذاق کے موافق ایسے ہنس مکھ انداز میں باتیں کرتے تھے کہ ان کے ہی نہیں تمام حاضرین کے دل باغ باغ ہو جاتے تھے، ان کی خوشی کی تو انتہا ہوجاتی۔ مثلاً فقیر رسول بخش (عرف مستانہ مورائی) اور فقیر خان محمد دین پوری دونوں عمر رسیدہ ہونے کے باوجود ہمیشہ شادی کی فکر میں لگے رہتے، جب ان میں سے کوئی آجاتا تو بلا کر پوچھتے کہ بتاؤ کیا حال ہے، شادی ہوئی یا ابھی انتظار ہے۔ وہ بیچارے دل کھول کر اپنی داستانیں سناتے، حضور تبسم فرما رہے ہوتے۔ آخر میں حضور حاضرین مجلس کو فرماتے کہ اس بیچارے کو عرصہ ہوگیا ہے کہ شادی نہیں ہوتی، سارے مل کر دعا کریں کہ اس کی شادی ہو جائے، پھر خود ہی ہاتھ اٹھا کر دعا فرماتے۔ بعض اوقات مسکراتے ہوئے فرماتے اب شادی کا خیال دل سے نکال دو، بس اب جنت میں حوریں ملیں گی ان کا انتظار کرو۔ آپ کا آخری ارشاد اگرچہ ان کے مزاج کے موافق نہ ہوتا پھر بھی آپ کا یہ مشفقانہ انداز ایسا ہوتا کہ وہ ازخود پکار اٹھتے ”حضور یہ درست ہے“۔ پنجاب کے ایک درویش (جن کا نام یاد نہیں) جو ہمیشہ ڈنڈا ساتھ لئے رہتے ہیں، نہایت ہی سیدھے سادے مگر مخلص و صالح اور ازحد سمجھدار بھی ہیں، حضور کے تبلیغی فکر کو دیکھ کر اکثر وقت تبلیغ کرتے رہتے ہیں، مگر ان کی تبلیغ کا انداز بھی کچھ اس طرح کا ہے کہ جہاں تبلیغ کرنے گئے، مسجد میں جماعت سے نماز پڑھی، کبھی امام سے اجازت لے کر اور کبھی بلا اجازت ڈنڈا لے کر تقریر کرنے کھڑے ہوجاتے، ٹھیٹھ دیہاتی قسم کے آدمی ہیں، کوئی خاص علمی لیاقت بھی نہیں، نہ ہی زبانی چالاکی و ہوشیاری ہے، لیکن ان کے سیدھے سادے الفاظ میں دربار شریف پر نافذ نظام مصطفیٰ صلّی اللہ علیہ وسلم کی تفصیلات سن کر لوگ ازخود متاثر ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے حسب معمول ایک بار حضور سے اپنی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا: حضور ایک مسجد میں نماز پڑھ کر تبلیغ کرنے کے لئے کھڑا ہوگیا۔ میں نے اجازت نہیں لی تھی، اس لئے مولوی صاحب غصہ میں آکر مجھے تقریر سے روکنے لگا، میں نے کہا جی تقریر کرنی ہے، وہ نہ مانا، آخر مجبور ہوکر میں نے ڈنڈا اٹھایا، مولوی صاحب کو مارتا، لیکن وہ فورا بھاگ کر مسجد سے باہر چلا گیا۔ میں نے اپنی تقریر جاری رکھی۔ حضور اس کے مستانہ وار تبلیغی احوال سے بڑے محظوظ ہو رہے تھے۔ جب وہ احوال سنا کر بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا اس طرح تبلیغ نہیں کی جاتی، علماء واجبِ تعظیم ہیں، اگر آپ کو وعظ کہنا ہو تو ان سے اجازت لے لیا کریں، کسی سے لڑیں نہیں، ہو سکتا ہے کہ کسی موقعہ پر وہ سزا آپ کو ہی بھگتنی پڑے۔ اس لئے علماء سے با ادب و احترام پیش آیا کریں۔ کہنے لگا جی پھر وہ کیوں مجھے منع کرتے ہیں، ان کو سزا دینی چاہیے، میں کسی کی مخالفت تو کرتا نہیں۔ غرضیکہ بعض درویش اپنی ناعلمی کی وجہ سے اگر بے تکلف غیر ذمہ دارانہ کوئی بات کرتے یا ضرورت سے زیادہ کلام کرتے تھے، پھر بھی آپ ان سے تنگ نہیں ہوتے تھے بلکہ بعض اوقات تو اور بھی خوش ہوتے تھے۔ یہی درویش جب دوسری بار دربار شریف پر حاضر ہوا، نماز عصر کے بعد بلا کر فرمایا، فقیرا بتا تو سہی اس مولوی صاحب کو کس طرح ڈنڈا لے کر مسجد سے نکالا تھا؟ واضح ہو کہ اس درویش کے ساتھ عموماً آپ سرائیکی میں بات کرتے تھے اور وہ پنجابی میں بات کرتا تھا۔ بعض لوگ اپنی ذاتی مشکلات کے لئے دعا کرانے آتے اور کافی دیر تک مقدمہ یا بیماری کی تفصیلات سنانا شروع کردیتے کہ اہل مجلس بور ہو جاتے تھے، مگر حضور دلجمعی سے خاموش سنتے رہتے تھے۔ حالانکہ کسی کے ذاتی معاملات میں آپ کو قطعاً دلچسپی نہیں ہوتی تھی، اگر کوئی کسی کی شکایت شروع کردیتا تو منہ پھیر لیتے اور کہتے کہ کوئی اور بات کرو، مجھ سے گلہ کیوں کرتے ہو۔ واذا غضب اعرض (کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی بات پر خفا ہوتے تھے تو منہ پھیر لیتے تھے) شمائل ترمذی صفحہ ۱۲۱۔

بعض زمانے کے ہوشیار آدمی اپنی چالاکی کے بل بوتے پر منہ کھول کر ادھر ادھر کی باتیں بنا کر اپنے مدعی و مقصد کو درست ثابت کرنے کی کوشش کرتے تو آپ مختصر الفاظ میں ان کا ایسا مثبت جواب دیتے کہ اس کے لئے خاموش رہنے کے بغیر کوئی چارہ کار نہیں ہوتا تھا۔

کسر نفسی اور عزت

آپ کو اللہ تعالیٰ جل شانہ نے کشف و کرامت، واردات قلیہ اور فیوض و برکات کا وافر حصہ عطا فرمایا تھا۔ اس کے علاوہ زہد و عبادت، طاعت و تقوی میں بھی اپنی نظیر آپ تھے۔ مگر ان جملہ کمالات ظاہری و باطنی کے باوجود اپنے آپ کو لاشیء فقیر کہتے، لکھتے اور سمجھتے تھے۔ ہمیشہ صفت عبدیت کا غلبہ رہتا تھا۔ کبھی اشارہ یا کنایہ سے بھی اپنی بزرگی و خوبی کا اظہار کرنا بجائے خود، اگر کوئی اور صاحب آپ کے کمالات کا بیان کرکے عقیدت کا اظہار کرتا جو فی الواقع حقیقت بھی ہوتا۔ پھر بھی آپ فرماتے یہ میرا نہیں میرے پیر و مرشد حضرت پیر مٹھا صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی کرامت اور کمال نظر و شفقت ہے کہ اتنا دینی و تبلیغی کام ہو رہا ہے، دور دور سے اتنے سارے احباب آکر جمع ہوتے ہیں۔ ورنہ میں اس لائق کہاں ہوں۔ کیا دال اور کیا بسم اللہ؟ یہ تو بس ایک عرف عام کا مقولہ ہے، ورنہ دال بھی ایک نعمت خداوندی ہے۔ اس کے لئے بسم اللہ شریف پڑھنی ہی چاہے، میری حیثیت تو اتنی بھی نہیں وغیرہ۔ سچ فرمایا ہے حضور رحمت دو عالم صلّی اللہ علیہ والہ وسلم نے۔ من تواضع للہ رفعہ اللہ فھو فی نفسہ ضعیف وفی اعین الناس عظیم ومن تکبر و ضعہ اللہ فھو فی اعین الناس صغیر و فی نفسہ کبیر حتی لھو اھون علیھم من کلب او خنزیر۔ (کنز العمال صہ ۱۱۵ جلد ثالث)

جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے تواضع اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بلند مقام عطا فرماتا ہے۔ اگرچہ وہ اپنے تئیں ضعیف ہی کیوں نہ سمجھتا ہو، مگر لوگوں کی نظروں میں وہ عظیم شخصیت ہوتا ہے۔ اور جو شخص تکبر کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو پست کر دیتا ہے، وہ اپنے تئیں کتنا ہی بڑا کیوں نہ سمجھتا ہو، مگر لوگوں کی نظر میں وہ حقیر ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ اسے کتے اور خنزیر سے بھی کمتر سمجھتے ہیں۔ جب کہ اس کے برعکس بقول بزرگے

ازاں بر ملائک شرف داشتند
کہ خود را بہ از سگ نہ پنداشتند

یعنی اسی لئے تو اولیائے کرام کو فرشتوں سے بڑھ کر بزرگی حاصل ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو کتے سے بہتر نہ سمجھا۔ تواضع کے موضوع پر مذکور شعر کے ساتھ آپ حضرت امام ربانی قدس سرہ کا یہ قول بھی بیان فرماتے تھے: ”جب تک اپنے آپ کو فرنگی کافر سے کمتر نہیں سمجھتا اس وقت تک اس پر معرفت خداوندی حرام ہے“۔ تواضع و کسر نفسی کے ساتھ ساتھ آپ ریا کاری اور دکھلاوے کے بھی سخت مخالف تھے، یہاں تک کہ ریا کے خوف سے مسجد میں نہ تو زیادہ نوافل پڑھتے تھے اور نہ تسبیح لے کر پڑھتے، البتہ گھر میں ہوتے تو نوافل ادا کررہے ہوتے یا تلاوت کلام پاک میں مشغول ہوتے، یا حدیث و فقہ اور تصوف کی کتابوں کا مطالعہ کر رہے ہوتے یا تسبیح ہاتھ میں لئے درود شریف یا اور دیگر وظائف میں مشغول ہوتے۔ آپ کے بستر پر ہمیشہ کتابوں کا اچھا بھلا ذخیرہ موجود رہتا تھا۔ لاکھوں مخلص مریدین کے پیر و مرشد ہونے کے باوجود ذہنی خواہ عملی طور پر مدت العمر آپ منکسر المزاج، سادہ اور سادگی پسند رہے، تبلیغی سلسلے میں صاحب دعوت کی حیثیت کے مطابق آپ نے اعلیٰ سے اعلیٰ سواری سے لے کر اونٹ، تانگے، گھوڑے بلکہ گدھے گاڑی تک کی سواری کی اور اس میں ذرہ بھر بھی نفرت یا ہتک عزت محسوس نہ کی۔ صحت و جوانی کے زمانے میں تو میلوں پیدل چل کر بھی تبلیغ کرنے جاتے تھے۔ بعض مخلصین اپنی صداقت و محبت کے پیش نظر اپنی حیثیت سے زیادہ کھانے کا تکلف کرتے یا سواری کا انتظام کرتے تو آپ بجائے خوش ہونے کے ان پر رنجیدہ ہوتے تھے کہ تم نے کیونکر یہ تکلیف کی ہے۔ مثلاً پہلی بار جب کاچھو کے علاقہ میں خلیفہ محترم حاجی عبدالسلام صاحب نے دعوت کی اس وقت سواری کے لئے اونٹ لے کر آئے، کافی عرصہ بعد دوسری بار جب جانے کا پروگرام ہوا تو انہوں نے سواری کے لئے جیپ کا انتظام کیا، آپ جیپ پر تشریف لے گئے، لیکن وہاں پہنچتے ہی حاجی صاحب کو بلا کر فرمایا آپ غریب آدمی ہیں جیپ کی کیا ضرورت تھی۔ سواری کے لئے اونٹ اچھی سواری ہے، ہم خوشی سے اونٹ کی سواری کرتے ہیں، بلاوجہ آپ نے اتنا خرچہ کیا ہے۔ آپ کا یہ مشفقانہ عتاب سنتے ہی خلیفہ صاحب موصوف کی آنکھوں میں محبت کے آنسو بھر آئے، وجد و جذب کی حالت میں کافی دیر تک اپنی سرائیکی زبان میں عشق و محبت کے اشعار پڑھتے رہے۔

عموماً تفریح کے لئے حضور دربار عالیہ سے ملحق لیموں کے باغ یا سبزی میں سیر کیا کرتے تھے۔ ساتھ ساتھ موجودہ فصل کی نگہداشت بھی کرتے تھے اور کارکنوں کو ہدایات بھی دیتے تھے۔ اگر کوئی معمولی چیز پڑی ہوئی نظر آتی، مثلا پیاز، مرچ، لہسن وغیرہ تو خود اٹھا کر لے آتے۔ مرچیں جمع کرتے وقت طلباء و فقراء کے ساتھ خود بھی جمع کرتے تھے، بلکہ گری ہوئی مرچیں یا جو چوہوں نے اپنے بلوں کے پاس جمع کی ہوتی تھیں خود جمع کرتے اور فقراء کو بھی اس کے جمع کرنے کا حکم فرماتے تھے تاکہ یہ معمولی چیزیں ضائع ہونے نہ پائیں۔ شلغم کے پتے عموماً بے کار سمجھ کر مال مویشی کو دیئے جاتے ہیں، مگر حضور شلغم کے ساگ کو پسند فرما کر لنگر میں پکواتے تھے، خود بھی اسی میں سے کھاتے، طلبہ اور مسافروں کو بھی یہی ساگ دیا جاتا (اور اب بھی یہی معمول ہے)۔ اس سلسلے میں محترم خلیفہ مولانا محمد ایوب صاحب چانڈیو نے بتایا کہ ایک مرتبہ میں باغ کے قریب کھڑا تھا کہ حضور ایک بڑا ٹوکرا لئے باغ کی طرف جا رہے تھے، میں نے جاکر آپ سے ٹوکرا پکڑ لیا، آپ نے فرمایا کہ گوگڑو (شلغم) کے پتے بیکار پڑے ہوئے ہیں، سالن کے لئے لے جانے ہیں، وہاں پہنچ کر دونوں نے شلغم کے پتے جمع کرکے ٹوکرے میں ڈالے، ٹوکرا میں نے دروازہ تک لاکر آپ کو دیدیا اور آپ گھر لے گئے۔ بعض اوقات کھیتی باڑی میں تفریح کے دوران کسی صلاح مشورے کے لئے کسی خلیفہ صاحب یا مدرسہ کے استاد کو بلاتے اور کچھ دیر کے لئے بیٹھنا ہوتا تو بلا تکلف زمین پر بیٹھ جاتے تھے، البتہ اگر کوئی جلدی سے رومال یا کپڑا بچھا دیتا تو اس کو رد نہیں فرماتے تھے۔ پاؤں چومنا اگرچہ حدیث رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، حدیث وفد عبدالقیس رضی اللہ عنہم خود بیان فرماتے تھے اور جائز سمجھتے تھے یہاں تک کہ ایک مرتبہ محکمہ تعلیم پنجاب کے ایک افسر کے خط کے جواب میں، جس میں دیگر اعتراضات کے علاوہ اس نے پاؤں چومنے کو ناجائز اور حرام لکھا تھا احقر اور مفتی محترم مولانا عبدالرحمٰن صاحب کو کافی مواد عنایت فرما کر مزید دلائل جمع کرکے جواب تحریر کرنے کا حکم فرمایا۔ ہم نے تفصیل سے جواب لکھ کر حضور کی خدمت میں پیش کیا اور پسند فرمانے پر اس کے نام بھیج دیا مگر صورۃ چونکہ اس سے بڑائی معلوم ہوتی ہے، اس لئے اپنے پاؤں چومنے خواہ پاؤں پر ہاتھ رکھنے سے ہمیشہ منع فرماتے تھے، خاص کر اس وقت اور بھی برا مناتے تھے جب آپ وعظ بیان فرما رہے ہوتے یا وعظ سنتے یا کسی خاص مشورہ میں بیٹھے ہوتے اور کوئی قدم بوس ہوتا۔

محترم محمد ایوب اور چند دیگر احباب حضور کے بڑے مخلص اور پرانے مرید و خادم ہیں، عرصہ سے جامع مسجد الفتح کھنڈو گوٹھ، کراچی سے متصل ایک کمرہ پر مشتمل مختصر سے ذاتی مکان میں رہائش پذیر ہیں۔ انہوں نے بتایا غالباً ۱۹۷۲ء میں حضور تبلیغی سلسلے میں کراچی تشریف فرما ہوئے۔ میری خواہش اور احباب کے مشورے کے مطابق میرے خسخانہ پر قیام فرمایا۔ شہر میں جہاں کہیں بھی جلسہ ہوتا، آپ یہاں ہی واپس آکر آرام فرما ہوتے تھے۔ ان دنوں موجودہ مدرسہ نور الاسلام (جہاں فی الوقت سینکڑوں طلبہ زیر تعلیم ہیں، حفظ و ناظرہ کے علاوہ درس نظامی کی تعلیم کا بھی خاصہ انتظام ہے ) کے بھی غالباً دو ہی خستہ حال کمرے تھے اور بس۔ ایک مرتبہ میں ڈیوٹی پر چلا گیا، آپ نے محترم جناب خلیفہ قاری شاہ محمد صاحب (مہتمم مدرسہ و خطیب مسجد الفتح) کو بلا کر فرمایا یہ کمرہ تنگ ہے، ہوا کا گزر بھی نہیں، اس لئے میں مدرسہ میں ہی رہوں گا۔ گو مدرسے کے کمرے کیسے ہی سیدھے سادے ہیں، اس کی کوئی پروا نہیں، میں خود سیدھا سادا فقیر آدمی ہوں، بہر حال آپ مدرسے میں منتقل ہوگئے۔ واپسی پر مجھے بڑا افسوس ہوا کہ نہ معلوم کیوں حضور میرے یہاں نہیں ٹھہرے۔ آپ نے از خود مجھے بلا کر فرمایا ہم آپ سے خوش ہیں آپ مطمئن رہیں، آپ کا مکان بھی ہمیں پسند ہے، لیکن مدرسہ ذرا کشادہ اور ہوا دار ہے اور ہو سکتا ہے کہ ہمارے مدرسہ میں رہنے سے ان کو مدرسہ کی تعمیر میں زیادہ دلچسپی پیدا ہو اور جلدی یہ مدرسہ تیار ہوکر دینی خدمات انجام دے۔ دوسری بار جب بسلسلہ علاج حضور کراچی تشریف لائے تو محترم قاری صاحب اور دیگر خلفاء کرام نے باہمی مشورہ سے محترم عرفان صاحب کے مکان پر آپ کی رہائش کا انتظام کیا۔ جب حضور تشریف لے آئے، سفر کی وجہ سے تھکے ہوئے تھے آتے ہی چارپائی پر لیٹ گئے، میں آپ کے پاؤں مبارک دبانے لگا، فرمایا مجھے عمدہ مکانات پسند نہیں۔ رہائش کا انتظام یہاں نہ ہوتا تو بہتر تھا۔ میرے لئے مدرسہ زیادہ موزوں تھا، سیدھے سادے مکانات میں برکت اور رحمت زیادہ ہوتی ہے۔ میں نے عرض کی حضور عرفان صاحب محبت والے ہیں انہوں نے خود عرض کی تھی کہ حضور میرے مکان میں ٹھہریں۔ فرمایا چلو ٹھیک ہے، یہیں رہتے ہیں، مگر یہاں دل نہیں لگتا۔ راقم الحروف بھی اس سفر میں آپ کے ساتھ تھا کئی بار آپ نے اس مکان میں ٹھہرنے کی دقت محسوس کرنے کا ذکر فرمایا۔ مگر صاحب مکان کی محبت و خلوص کی وجہ سے تقریبا دس دن اس مکان میں ٹھہرے، اس کے بعد بھی کراچی آمد کے موقعہ پر ان کے یہاں قیام فرماتے رہے۔ محترم قاری شاہ محمد صاحب نے بتایا کہ ایک بار آپ نے فرمایا: چونکہ بڑے آدمی عموما متکبر ہوتے ہیں، اس لئے ان کے آنے سے ہمیں بوجھ محسوس ہوتا ہے، وہ اپنے خیالات کے ہوتے نہیں، اور ہم سیدھے سادے فقیر آدمی ہیں۔

شہرت سے نفرت: آپ نامداری و شہرت کے نہ تو کبھی طالب ہوئے نہ ہی اسباب شہرت کو پسند فرمایا، یہاں تک کہ اگر صاحب دعوت حضرات آپ کے جلسوں کے اشتہارات اخبارات میں چھپواتے یا مروجہ طریقہ کے مطابق عام اشتہارات چھپوا کر تقسیم کرتے اور دیواروں پر چسپاں کرتے، عرصہ تک تو آپ صاف الفاظ میں اس سے منع فرماتے تھے، مگر بعد میں تبلیغی فائدے کے پیش نظر منع نہیں فرماتے تھے۔ راقم الحروف نے اپنی کتاب ہدایت السالکین چھپوانے سے پہلے آپ کی خدمت میں پیش کی، فرصت کے اوقات میں آپ مسجد شریف میں تشریف فرما ہوتے اور یہ عاجز پڑھ کر سناتا تھا، جستہ جستہ مقامات پر آپ اصلاح فرماتے رہے کہ یہ عبارت اس طرح ہونی چاہئے۔ یا فلاں کتاب سے یہ عبارت لے کر یہاں شامل کریں وغیرہ وغیرہ۔ اسی کتاب میں میں نے اپنی عقیدت و محبت بلکہ حقیقت کے پیش نظر دربار عالیہ اور آپ کے تبلیغی، اصلاحی، مساعی کے تعارف کراتے وقت آپ کے نام کے ساتھ غوث الاعظم، حضور قبلہ، عالم، مجدد مۃ حاضرہ القاب لکھے تھے، آپ نے سن کر فرمایا یہ القاب مٹادیں، میں ایک فقیر آدمی ہوں، یہ القاب بہت بڑے ہیں، میں ان کا اہل نہیں ہوں، جن کے نام کے ساتھ جچتے ہیں ان کے لئے لکھے جائیں۔ اس پر میں نے عرض کی کہ حضور یہ تو میں نے لکھے ہیں، حضور نے خود تو نہیں لکھے کہ اس سے تکبر و نامداری سمجھی جاتی۔ فرمایا گو آپ نے لکھے ہیں، آپ کی عقیدت و محبت اپنی جگہ مسلم، مگر میں اپنے لئے یہ القاب پسند نہیں کرسکتا۔ (آخر میں نے اسی وقت ان القاب پر لکیر کھینچ کر آگے سنانا شروع کیا) پھر بھی کتاب کی ترتیب کے بعد جب جی چاہا کہ اگر حضور اپنے دست مبارک سے تقریظ کے چند کلمات تحریر فرما کر عنایت فرمائیں تو میرے لئے دارین کی سعادت اور عید سے بڑھ کر خوشی کا موقعہ ہاتھ آجائے گا۔ اور کتاب کی برکت و افادیت بھی دگنی ہو جائے گی۔ آخر ڈرتے ڈرتے بڑی مشکل سے اس گزارش کی جسارت کی، جس پر فرمایا ”آپ نے تو اس کتاب میں میری تعریف کی ہے، اس صورت میں میں کیسے آپ کو تقریظ دے سکتا ہوں۔ اگر آپ نے کتاب میں میرے متعلق کچھ نہ لکھا ہوتا تو میں خوشی سے تقریظ لکھ دیتا“۔ یہ تھی آپ کی منکسر المزاجی اور تواضع، جہاں آج کل کے دور میں کسی کے ذہن کی رسائی بھی مشکل ہے۔ اسی شہرت اور غیر ضروری الجھاؤ کے پیش نظر ہمیشہ ملکی سیاست سے دور رہے اور اپنے متعلقین کو بھی کبھی سیاست میں آنے کی ترغیب نہ دی، یہاں تک کہ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ۱۹۷۰ء کے الیکشن کے دوران سندھ کے بعض مشہور علماء اور گدی نشینوں نے بڑے اصرار سے آپ کو آگے آنے کے لئے کہا مگر آپ نے معذرت کی۔ یہ حقیقت کسی کی سمجھ میں آئے یا نہ آئے، مگر آپ کی عملی زندگی، تبلیغی و اصلاحی کاوشوں سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ آپ نے بوریئے پر بیٹھ کر ملک و ملت کی جو خدمت کی، مغربی ماحول سے متاثر ذہنوں کی تربیت کی، ایسے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں دین اسلام کے شیدائی بنائے جو پہلے نام کے تو مسلمان تھے مگر اعمال و عقائد کے لحاظ سے یورپ سے زیادہ قریب تھے۔ کم از کم پاکستان کی تاریخ میں کسی نے اقتدار اسمبلی میں رہ کر اس کا عشر عشیر بھی ذہنی تطہیر نہیں کی۔ حضور کو لوگوں کے ہجوم و کثرت سے بھی کوئی دلچسپی نہیں تھی کہ میرے مریدین زیادہ بنیں، بلکہ ذاتی طور پر آپ تنہائی پسند تھے، مسند ارشاد پر جلوہ افروز ہونے سے پہلے بچپن، طالب علمی کے زمانے میں اور اس کے بعد عموما گوشہ نشین نظر آئے، کسی کے بات چیت کرنے پر مختصر جواب دے کر خاموش ہوجاتے۔ حضرت پیر مٹھا صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے مقرب ترین خلیفہ اور عالم ہونے کے باوجود مجلس میں غیر نمایاں طور پر جماعت کے پیچھے بیٹھے رہتے تھے، اور رحمت پور شریف میں وعظ نہیں فرماتے تھے، شاذ و نادر ہی کسی دوسری جگہ عام اجتماع میں خطاب فرمایا ہوگا۔ تبلیغی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد محض تبلیغ الاسلام کے پیش نظر جلسہ عام میں مسند پر جلوہ فرما ہوتے اور وعظ فرماتے تھے۔ پھر بھی دین سے عدم دلچسپی اور ناقدری دیکھ کر بار بار یہ شعر پڑھتے تھے

تمنا ہے کہ اب کوئی جگہ ایسی کہیں ہوتی
اکیلے بیٹھے رہتے یاد ان کی دلنشیں ہوتی

آخری چند برسوں میں تو دل کی ترجمانی کرنے والا یہ شعر بکثرت پڑھا کرتے تھے۔

پیدل سفر: سید علی حیدر شاہ صاحب نے بتایا کہ ایک مرتبہ رادھن اسٹیشن سے دین پور شریف جانا تھا، سواری کے لئے کسی کو اونٹ یا بیل گاڑی لے آنے کے لئے بھی نہیں کہا تھا، فاصلہ بھی کافی زیادہ تھا، اس لئے میں نے اپنے شوق سے کرایہ پر ٹانگہ لے جانے کے لئے عرض کی، فرمایا کہ پیسے تو میرے پاس بھی ہیں، لیکن جب اتنا فاصلہ پیدل سفر کرسکتے ہیں تو یہ پیسے کسی اور کام میں لائے جاسکتے ہیں، یہ فرما کر پیدل ہی دین پور شریف تک میرے ساتھ چلے۔

حسن تربیت اور تاثیر

حضور اکرم شفیع محتشم صلّی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی بعثت باعث سعادت سے قبل اکثر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ظاہری علوم و فنون سے نا آشنا سیدھے سادے دیہات کے رہنے والے سخت مزاج بت پرست اور مسکین تھے، مگر آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کی باطنی توجہات عالیہ اور ظاہری اعلیٰ تربیت نے ان سادہ لوح گنواروں میں ایسا عظیم انقلاب برپا کیا کہ وہی نرم دل خدا پرست، سنجیدہ مزاج صاحب علم و بصیرت یہاں تک کہ اعلیٰ عملدار، عامل و گورنر کے عہدوں تک جا پہنچے۔ کسی نے خوب کہا ہے

بن گئے اونٹوں کے چرواہے زمانے کے امام

اسی طرح مرشدی و مربی نائب نبی حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ نے بھی اپنے معتقدین و مریدین کی ظاہری و باطنی تربیت اس اعلیٰ پیمانے پر فرمائی کہ ایک طرف تو ملک بھر میں بکثرت دینی مدارس قائم فرما کر علم دین کی ابدی روشنی پھیلائی، مردوں اور عورتوں کے لئے جداگانہ تعلیم بالغاں کا موثر و مناسب انتظام فرمایا، جس سے سینکڑوں نوجوان اور عمر رسیدہ افراد عالم، فاضل اور مبلغ اسلام بنے، دوسری طرف خلفائے کرام کے ذریعے سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، دیہاتوں، شہروں اور جیلوں میں دعوت و اصلاح کا ایسا منظم و مفید پروگرام شروع کیا کہ ہزاروں کی تعداد میں تارک صلواۃ، ظالم، فاسق و فاجر جو اپنی زندگیوں کا ایک معددبہ حصہ ضائع کر چکے تھے، تائب ہوکر متقی و پرہیزگار بن گئے۔ بلکہ آگے چل کر ان میں سے کئی ایک مبلغ اسلام، خطیب و امام بنے اور آج بھی دین اسلام کی اشاعت میں مصروف ہیں۔ ویسے تو آپ کی ہر مجلس و محفل بلکہ چلنا پھرنا، سفر خواہ حضر تربیت ہی تربیت تھے، تاہم یہاں دربار عالیہ پر وقتاً فوقتاً ہونے والا خصوصی تربیتی پروگراموں کا ذکر کرنا مقصود ہے۔ عموماً سرما وگرما کی سرکاری تعطیلات کے دنوں میں یہ پروگرام رکھا جاتا تھا۔ جس میں ایک مزارع سے لے کر اعلیٰ تعلیم یافتہ، آپ کے خلفاء اور فقراء بکثرت شامل ہوتے تھے۔ جن میں آپ کے خصوصی ارشادات و توجہات عالیہ کے علاوہ، قرآن مجید کی صحت تلفظ، قرات، ترجمہ، تفسیر، منتخب احادیث نبویہ صلّی اللہ علیہ وسلم کا ترجمہ و تشریح، فقہ کے ضروری مسائل، تصوف و سلوک سے مناسبت اور تبلیغی صلاحیت اجاگر کرنے کے لئے فتح الربانی ملفوظات سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی محبوب سبحانی رضی اللہ عنہ، مکتوبات حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، مثنوی مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ، الوابل الصیب، الحدیقۃ الندیۃ فی آداب الطریقہ النقشبندیۃ، احیاء علوم الدین (حضرت امام محمد غزالی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) اور ان ہی کی کتاب المنقذ من الضلال میں سے بعض منتخب حصے پڑھے جاتے تھے۔ مسائل نماز ازبر یاد کرائے جاتے تھے، تربیتی پروگرام میں شامل اکثر احباب درس کے ضروری ضروری فوائد خاص کر آیات و احادیث کے ترجمے تشریح و تفسیر لکھ کر یاد کرتے اور حضور کے فرمان کے مطابق پہلے تنہائی میں پھر اسپیکر پر تقریریں کرتے تھے۔ اساتذہ اور دیگر اہل علم ان کی اصلاح کرتے تھے۔

خود حضرت صاحب نور اللہ مرقدہ بھی ان کی طالب علمانہ تقاریر سن کر خوشی کا اظہار فرما کر مزید ہمت افزائی فرماتے تھے۔ بعض اوقات اپنی مجلس میں کھڑا کرکے وعظ کرنے کا حکم فرماتے یا ان سے تلاوت کلام پاک سنتے۔ گو نئی تقریر سیکھنے والے بعض ناخواندہ فقراء بہت سی غلطیاں کرتے اور کئی سیدھے سادے فقراء تو چند کلمات کے بعد و آخر دعوانا کہہ دیتے، جن پر کبھی طالب علم ہنستے بھی تھے، مگر ان طلبہ کو سخت تنبیہہ فرما کر اس متعلقہ فرد کو تسلی دیتے کہ ابھی آپ نئے ہیں، ہمت نہ ہارنا، چند دن میں آپ اچھی تقریر کرلیں گے۔ آج پھر تقریر یاد کرنا، کل پھر آپ کی تقریر سنیں گے، اس طرح سے ان کی دلجوئی بھی ہو جاتی اور مزید شوق سے تقریر سیکھتے تھے۔ غرضیکہ آپ کے ان تربیتی پروگراموں سے اس قدر فائدہ ہوتا تھا کہ بیچارے ان پڑھ دیہاتی لوگ جن کو الحمد شریف اور التحیات تک یاد نہ ہوتے تھے وہ کئی کئی سورتیں یاد کرنے کے علاوہ نماز کے مسائل بھی سیکھ جاتے تھے، اور جو پہلے سے پڑھے ہوتے تھے وہ تربیتی و تبلیغی درس لکھ کر یاد کرتے اور عمدہ تقاریر کرنے لگتے تھے۔ ان عمدہ تربیتی و اصلاحی پروگراموں سے کئی ایک ایسے صالح مبلغ و واعظ تیار ہوئے کہ ان کی موجودہ سیرت و صورت کو دیکھ کر سابقہ حالات کا یقین ہی نہیں آتا۔ محترم مولانا غلام نبی صاحب پہلی بار جب حضور کی خدمت میں آئے تو داڑھی مونڈھ، سوٹ پینٹ میں ملبوس تھے، مگر حضور کی توجہات عالیہ اور چند تربیتی پروگراموں کے بعد نہ فقط خود نیک و صالح بنے بلکہ آج ایک مثالی مبلغ کی حیثیت سے کراچی سے لے کر لاہور، راولپندی تک تقاریر کے لئے ان کو دعوتیں دی جاتی ہیں۔ محترم میاں عبدالغفار شر صاحب (خیرپور میرس) جو پہلے چرواہے تھے، ساتھ ساتھ چوری بھی کیا کرتے تھے، مگر حضور سے بیعت ہونے کے بعد دل و جان سے تائب ہوئے، چوری کے مال و اسباب مالکان کو لوٹا دیئے اور معافی طلب کی۔ ان کا کہنا ہے کہ جب میں تربیتی پروگرام میں شامل ہوا تو چند دن بعد حضور نے محترم استاد قاری عبدالرسول صاحب سے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا یہ تو کند ذہن ہے سمجھانے کے باوجود اسے زیر، زبر کا بھی پتہ نہیں چلتا۔ یہ سن کر حضور نے بارگاہ رب العزت میں ہاتھ اٹھائے، بعد از دعا استاد صاحب سے فرمایا یہ قرآن شریف سیکھ کر اوروں کو بھی پڑھائے گا اور تبلیغ بھی کرے گا۔ میری اہلیت تو وہی تھی، جو استاد صاحب نے بتائی، اس وقت قرآن مجید ناظرہ سیکھ لینا بھی میرے لئے بے حد مشکل کام تھا۔ مگر حضور کی نگاہ کرم اور دعا کا صدقہ ہے کہ قرآن سیکھ سمجھ کر کئی مقامات پر قرآن مجید کی تعلیم دی، وعظ و تقریر کے لئے دور دور تک لوگ مجھے لے جاتے ہیں، کاٹھوڑ کراچی میں شیخ زید بن سلطان النہیان کی جامع مسجد میں عرصہ تک درس اور امامت و خطابت کے فرائض انجام دیتا رہا۔ محترم میاں غلام قادر صاحب (کراچی) جو پہلے کراچی میں جیب کترے کا کام کرتے تھے۔ اس کے علاوہ جو ان کے اس وقت عادات و حالات ہوں گے ان کا اندازہ لگانا بھی کچھ دشوار نہیں۔ وہ بھی حضور سے بیعت ہونے کے بعد صدق دل سے تائب ہوگئے۔ تھوڑی بہت تعلیم کراچی میں حاصل کرنے کے بعد کچھ عرصہ دربار عالیہ پر رہ کر تعلیم و تربیت حاصل کی، بفضلہ تعالیٰ ان کی آواز تو پہلے سے بہت پیاری تھی۔ مختصر عرصہ میں بہترین واعظ و مقرر بن گئے۔ فی الوقت کراچی میں ایک مسجد کے خطیب و امام ہیں۔ اگر کسی نئے تقریر سیکھنے والے سے لفظی یا معنوی کوئی غلطی ہو جاتی تو اصلاح کا طریقہ نہایت نرم اور ناصحانہ ہوتا، جس سے وہ کسی قسم کا بوجھ یا شرمساری محسوس نہ کرتا، حاجی منظور احمد شر جو سیدھا سادا درویش صفت دیہاتی آدمی ہے تربیتی دورے کے دنوں میں ایک مرتبہ آپ نے اس کو بلا کر اپنے سامنے تقریر کرنے کا حکم فرمایا۔ اس نے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں مگر بے دھڑک چند منٹ تقریر کی۔ بقول اس کے نہ معلوم مجھ سے کیا غلطی سرزد ہوگئی تھی کہ کچھ لڑکے میری طرف دیکھ کر ہنس رہے تھے۔ جب کہ حضرت صاحب قبلہ رحمۃ اللہ علیہ بغور سن کر محظوظ ہو رہے تھے۔ تقریر ختم کرنے پر میری ہمت افزائی فرمائی اور طلبہ کو ہنسنے پر بہت ڈانٹا اور تنبیہہ کرتے ہوئے فرمایا: تمہیں ان کی ہمت افزائی اور دلجوئی کرنی چاہئے تاکہ دلچسپی اور محنت سے پڑھیں اور تقریر کریں۔ تمہاری اس حرکت سے تو الٹا سست ہو جائیں گے۔ وغیرہ وغیرہ۔

تربیت اور تقویٰ: مذکور حاجی صاحب کا کہنا ہے کہ تعلیم و تربیت میں شامل ہوتے ہوئے بھی میں غربت و مسکینی کی وجہ سے میاں دوست محمد نامی ایک غیر فقیر کے پاس مزدوری کیا کرتا تھا، میرے لئے کھانا بھی وہی لے آتے تھے۔ ایک مرتبہ میرے لئے ان کے ہاں سے کھانا آتے ہوئے دیکھ کر لانگری صاحب کو بلا کر پوچھا کہ تم اس کو کھانا نہیں دیتے کہ یہ غیر فقیروں کے یہاں کھانا کھاتا ہے۔ انہوں نے پوری صورت حال عرض کی، اس پر فرمایا مزدوری تو بے شک ان کے پاس کرتا رہے، لیکن کھانا لنگر سے کھائے۔ اگر یہاں رہ کر بھی بے نمازیوں کے گھر کی روٹی کھاتا رہے گا تو اس کے دل میں کیا نور پیدا ہوگا۔ تربیت کا پورا فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔ اس لئے جب فقیروں کے پاس آیا ہے تو جتنا عرصہ رہے اس کو تقویٰ کی روٹی ملنی چاہئے۔ اس کے بعد جتنے دن بھی میں نے مزدوری کی روٹی لنگر سے ہی کھاتا رہا۔ مذکورہ جز وقتی تربیتی پروگراموں کے علاوہ بھی کئی عمر رسیدہ اور نوجوان جو مستقل طور پر مدرسہ میں داخل ہوکر تعلیم حاصل نہیں کرسکتے تھے، جتنے دن بھی دربار عالیہ پر ٹھہرتے ان کو صلاحیت اور وقت کے لحاظ سے قرآن و حدیث کا انتخاب اور ضروری فقہی مسائل سکھائے جاتے تھے۔ اس سلسلہ میں آپ خلفاء اور فقراء کو ترغیب دیا کرتے تھے کہ اگر مستقل نہ سہی، صرف ایک ماہ یا پندرہ دن کے لئے کوئی سمجھ دار ذہین آدمی ہمارے پاس بھیج دیں ہم اسے نماز روزہ و دیگر ضروری مسائل کی تعلیم دیں گے، اس کے بعد اگر وہ جانا چاہے تو بے شک کچھ عرصہ گھر جا کر اپنے کام کاج کرے چند ماہ بعد پھر کچھ دن کے لئے آجائے، گو وہ باقاعدہ عالم تو نہیں ہوگا، پھر بھی بڑی حد تک ضروری فقہی مسائل سیکھ لے گا اور کچھ نہ کچھ تقریر بھی کر لے گا، اس سے پوری بستی والوں کا فائدہ ہوگا۔ اس لئے جو بھی آدمی کچھ عرصہ پڑھنے کے لئے آجائے، بستی کے دوسرے فقیروں کو چاہیے کہ اس کے ضروری کاموں میں تعاون کریں تاکہ وہ بے فکر ہوکر کچھ دن ٹھہر کر پڑھ سکے۔ دراصل آپ کا یہ ارشاد بعینہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی تعمیل ہے جو جامع ترمذی میں خادم رسول حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ:

کان اخوان علی عھد رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم احدھما یحترف والا خربلزم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و یتعلم منہ فشکی المحترف اخاہ الی رسول اللہ فقال لعلک ترزق بہ۔

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ حضور اقدس صلّی اللہ علیہ والہ وسلم کے زمانہ میں دو بھائی تھے، ایک تو کوئی دھندا کرتا تھا اور دوسرا حضور ساقی کوثر خیر البشر صلّی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہتا اور دین سیکھتا تھا، کام کرنے والے نے حضور پرنور سے اپنے بھائی کی شکایت کی، تو حضور اکرم صلّی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا شاید تمہیں بھی اس کی وجہ سے رزق ملتا ہو۔

عملی تربیت: حضرت صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ صرف زبانی کلامی تعلیم و تربیت کے قائل نہ تھے۔ بلکہ جب تک عملی صورت سامنے نہ آتی اس تعلیم و تربیت کو ناقص ہی سمجھتے تھے۔ اس لئے آپ نماز و دیگر مسائل و احکامات کی علمی تربیت تو دربار عالیہ پر ہی کرتے تھے، جب کہ عملی طور پر طریقہ تبلیغ سیکھنے کے لئے مولانا محترم عبدالغفور صاحب کی قیادت میں کسی نئی جگہ تبلیغ سیکھنے کے لئے بھیجتے تھے۔ چونکہ اس معاملہ میں مولانا صاحب کہنہ مشق تھے، ان کی قیادت میں بہت سے خلفاء کرام کو بھی سینکڑوں میل کے تبلیغی سفر میں ان کے ساتھ بھیج دیا۔ ان دنوں ہم حیدرآباد میں زیر تعلیم تھے۔ جب خلفاء کرام کا مذکورہ قافلہ حیدرآباد پہنچا، ہم بھی زیارت و ملاقات کے لئے ان کے پاس گئے تو دیکھا کہ حضرت قبلہ سید نصیر الدین شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ (جن کے ہزاروں مریدین و معتقدین بھی تھے) سمیت کئی خلفاء کرام امیر کے فرمان سے لنگر پکانے میں مصروف ہیں۔ جس سے حضرت اسامہ بن زید کی قیادت میں حضرت صدیق و حضرت فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی یاد تازہ ہوتی ہے۔ اس قسم کی تربیتی و تبلیغی دوروں میں آپ نے چند بار اپنے نور نظر لخت جگر حضرت قبلہ سجادہ نشین مدظلہ العالی کو بھی قافلہ کے ساتھ بھیجا۔ حسب ارشاد حضرت قبلہ صاحبزادہ صاحب مدظلہ نے چند طلباء سمیت مولانا عبدالغفور صاحب کی قیادت میں ایک مرتبہ کراچی کے نواحی علاقوں ملیر اور گڈاپ کا تبلیغی دورہ کیا، ایک بار ٹنڈو جام سے قریب کھیسانہ موری اور چند دیگر بستیوں میں تبلیغ کی اور ایک بار کوئٹہ بھی گئے، کئی دن تبلیغ کے بعد واپس تشریف لائے۔ نماز و وضو کی تربیت آپ کی موجودگی میں اس طرح دی جاتی کہ ایک معلم یا شاگرد اٹھ کر وضو کے فرائض، واجبات بتانے کے ساتھ ساتھ عملی طور پر بھی وضو بنانے کا طریقہ سمجھاتا، اس طرح کہ ہاتھ پاؤں پر ہاتھ پھیر کر دھونے کا طریقہ سمجھاتا، داڑھی کا خلال کرکے دکھاتا، عمامہ (پگڑی) اتار کر سر کے مسح کا طریقہ سمجھاتا۔

اسی طرح نماز کے مسائل بتاتے وقت تمام احکامات بجا لاکر دکھاتا، مثلاً نیت، رکوع، سجدہ، قومہ، جلسہ کرکے دکھاتا کہ اس طرح رکوع کیا جائے، اس طریقہ سے سجدہ کرنا چاہئے۔ ساتھ ساتھ عورتوں کے سجدہ کا فرق بھی سمجھا دیا جاتا تاکہ گھر میں جا کر عورتوں کو بھی صحیح طریقہ پر نماز پڑھنے کی تعلیم دیں۔ اس کے علاوہ مسجد شریف میں داخل ہونے اور نکلنے کا مسنون طریقہ حضور خود سمجھاتے۔ کئی بار ایسے بھی ہوا کہ آپ تمام جماعت کو مسجد سے نکل کر دوبارہ داخل ہونے کا حکم فرماتے کہ دیکھوں کون مسنونہ طریقہ کے مطابق مسجد شریف سے نکلا یا داخل ہوا اور کس نے غلطی کی۔ اس طرح بعض اوقات اچانک خود پوچھتے تھے کہ کون مسجد شریف میں مسنون طریقہ کے مطابق داخل ہوا اور ماثور دعا پڑھی؟ یا یہ پوچھتے کہ کس نے وضو کے فلاں سنت یا مستحب کو ادا کیا اور کس نے کوتاہی کی۔ یا کسی کا نام لے کر پوچھتے کہ مسجد شریف میں داخل ہوتے وقت کونسی دعا پڑھی جاتی ہے اور نکلتے وقت کونسی، یا سورہ فاتحہ، التحیات، دعا قنوت پڑھ کر سناؤ وغیرہ۔ الحمد للہ حضور کی اس اعلیٰ تربیت و تعلیم کی بدولت آپ کی جماعت بڑی حد تک وضو و نماز ہی نہیں زندگی کے تمام معاملات میں سنت خیر الانام صلّی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی بجا آوری کرتی ہے۔ جمعہ کی رات، دن یا کسی اور وقت زیادہ تعداد میں آدمی آجاتے تو آپ ان کے لئے درس کا اہتمام فرماتے تھے۔ صبح کے وقت حلقہ ذکر و مراقبہ کے بعد حسب ارشاد یہ عاجز درس قرآن بیان کرتا۔ محترم قبلہ سائیں رفیق احمد شاہ صاحب یا مولانا عبدالرحمٰن صاحب، فتح الربانی، یا مکتوبات امام ربانی میں سے ایک یا دونوں کا درس دیتے اور عصر کے بعد محترم جناب مولانا محمد اسماعیل صاحب یا محترم جناب مولانا محمد سعید صاحب اگر وہ نہ ہوتے تو کوئی اور حضور کے فرمان سے معارف مثنوی میں سے کوئی خاص حکایت بیان فرماتے، آخر میں حضور اس کی مزید توضیح و تشریح فرماتے تھے۔ اگر زیادہ تعداد میں علماء کرام تشریف فرما ہوتے تو مناسبت سے احیاء علوم الدین حصہ اول، عین العلم، الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقہ المحمدیۃ، یا کتاب علماء سلف میں سے علماء کرام کے فضائل اور ان کی ذمہ داریاں بیان کی جاتی تھیں۔

آخری تربیتی دورہ: چونکہ خلفاء کرام داعی و مبلغ ہیں اور ایک مبلغ کی تقریر و تبلیغ موثر ہونے کے لئے اس کی ذاتی اصلاح، نیکی و تقوی بہت ضروری ہے۔ اس لئے آپ عموما گیارہویں شریف اور ستائیس شریف خاص کر سالانہ جلسہ کے موقعہ پر خلفاء کرام کو خصوصی نشست میں جمع فرما کر تبلیغ کی اہمیت، توکل و تقویٰ اور اتباع شریعت کی خصوصی نصیحت فرماتے تھے، اور کبھی محترم مولانا جان محمد صاحب یا کسی اور خلیفہ صاحب کو بھی نصیحت کے لئے فرمایا کرتے تھے۔ اسی تربیتی سلسلہ میں مورخہ ۱۷ ستمبر ۱۹۸۲ء حضور کے خصوصی حکم سے خلفاء کرام اور جماعت کے پرانے فقراء کا سہ روزہ تربیتی پروگرام رکھا گیا، جو آپ کی حیات مبارکہ کا آخری خصوصی تربیتی دورہ ثابت ہوا۔ جس میں بڑی تعداد میں خلفاء و اساتذہ کے علاوہ حسب ارشاد بیرونی خلفاء کرام بھی مختلف موضوعات پر خطاب فرماتے رہے۔ پروگرام کے اختتام پر بعد نماز مغرب آپ مسجد شریف میں تشریف فرما رہے، اور باری باری سے مسافر خلفاء کرام سے تربیتی دورہ کے تاثرات سن کر محظوظ ہوتے رہے۔ آخر میں تھوڑی دیر نصیحت کرنے کے بعد شرکاء کے لئے خصوصی دعا فرمائی۔

اعتدال

شروع سے ہی اللہ تعالیٰ نے آپ کو مزاج سرور کونین رسول اللہ صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے مطابق ہر معاملے میں اعتدال کے ساتھ جادۂ حق پر چلنے کی توفیق سے نوازا تھا۔ زمانے کے بیسیوں نشیب و فراز سے تو گزرے، مگر اپنے ماسلف مشائخ کی طرح کبھی کوئی چٹان آپ کو صراط مستقیم سے نہ ہٹا سکی اور نہ ہلا سکی۔ ہر معاملے میں آپ کے سامنے سنت خیر الانام صلّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم صحابہ و اہل بیت و بزرگان دین رضی اللہ تعالیٰ عنہم مشعلِ راہ ہوتے تھے۔ اس لئے حقیقی دینی تقاضوں کے سوا آپ کو ہر قسم کے تنازعات و اختلافات سے طبعاً نفرت تھی۔ نہ جانے زندگی میں کتنی بار تنازعات سے بچنے کے لئے اپنے ذاتی جائز حقوق سے دستبردار ہوئے۔ یہاں تک کہ کئی بار فتنہ بڑھنے یا کسی کی دل آزاری کے خوف سے باوجود قدرت کے مدافعت تک نہیں کی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد و اتفاق کے پرمسرت تذکروں سے بے حد خوش ہوتے تھے اور نفاق و اختلاف کے ہر معاملے سے ذاتی طور پر کوفت محسوس کرتے تھے اور طرفین سے بیگانہ رہتے ہوئے حتی المقدور مصالحت کی کوشش کرتے تھے۔ سندھ میں رونما ہونے والے لسانی فسادات کے زمانے میں آپ کی ہر تقریر اصلاح اور اخوت و محبت کا پیغام اور خطبہ حجۃ الوداع کی ترجمانی معلوم ہوتی تھی۔ باوجودیکہ آپ سندھی تھے مگر زبان و مکان کے تفرقہ سے بالاتر رہ کر ”المسلم اخو المسلم“ کے مطابق اخوتِ اسلامی کے علمبردار کی حیثیت سے آپ نے حیدرآباد کے مختلف علاقوں میں کئی جلسے منعقد کرائے۔ مقررین میں سندھی بھی شامل ہوتے تھے اور مہاجر بھی، اسی طرح سامعین میں بھی دونوں لسانی گروہ یکساں طور پر شامل ہوتے تھے۔ ان جلسوں میں آپ نے اسلام کی حقیقت اور اسلامی اخوت و برادری کے موضوع پر اصلاحی تقاریر فرمائیں۔ اسی طرح سیاسی اور مذہبی معاملات میں بھی آپ حسنِ سلوک اور رواداری کے قائل تھے۔ آپ مسلکِ حقہ پر پختگی سے عمل پیرا رہتے تھے، اس کی ترویج و اشاعت کے لئے جدوجہد کرنا ایک مسلمان کا دینی فریضہ سمجھتے تھے، مگر اس راہ میں اختلاف برائے اختلاف کو برا سمجھتے تھے۔ مسلک کے معاملے میں اختلافات کا ہونا بھی ناگریز ہے۔ لیکن اس صورت میں آپ کے نزدیک افراط و تفریط سے ہٹ کر خیر الامور او ساطھم (تمام چیزوں میں ان کا اوسط بہتر ہوتا ہے ) حدیث کنز العمال صہ ۳۵ کے مطابق ”ما انا علیہ واصحابی“ (جس راہ پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔ الحدیث) والے صراط مستقیم پر مستحکم رہتے ہوئے اس کو دلائل سے برحق ثابت کرنا مفید و مثبت طریقہ سمجھتے تھے۔ نہ یہ کہ غلو کی حد تک اپنے مسلک کو ثابت کرنے کے لئے آیات و احادیث کی تاویل و تحریف سے بھی گریز نہ کرے اور جو روایت اپنے مسلک کے خلاف نظر آئے خواہ ان کی اسانید صحیح ہوں، پھر بھی ان کو مجروح گردانے۔ ایسے ہی لوگوں کو ماسلف کی اصطلاح میں ”اہل ہوا“ (خواہشات والے) کہا جاتا تھا۔ دینی عبادات و احکام میں غلو سے منع کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے صاف الفاظ میں فرمایا ہے۔

ایا کم و الغلو فی الدین فانما ھلک من کان قبلکم بالغلو فی الدین عن ابن عباس۔ کنز العمال صہ ۳۷ جلد ثالث

(دین کے معاملات) میں حد سے تجاوز کرنے سے اپنے آپ کو بچاؤ، یقینا تم سے پہلے لوگ دین میں حد سے زیادہ بڑھ جانے کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔

بلاشبہ ایسے جارحانہ طریقوں سے مذہبی اختلافات کم نہیں ہوتے، بلکہ ان کو فروغ ملتا ہے۔ اس سلسلے میں آپ فرمایا کرتے تھے کہ چوٹی کے علماء کرام پر لازم ہے کہ تعصب سے بالاتر ہوکر، باہمی مل کر ٹھنڈے دل سے ایک دوسرے کے دلائل و براہین سنیں، اس افہام و تفہیم کے ذریعے بہت سے اختلافات جو باہمی نفرت و عداوت کی حد تک پہنچ چکے ہیں، ختم ہو سکتے ہیں۔ بعض چوٹی کے علماء کرام کے نام لے کر فرماتے تھے کہ انہوں نے اس قسم کی مصالحت کی کوششیں کیں، مگر متوسط طبقے کے علماء اور واعظ حضرات نے عملاً ان کا ساتھ نہ دیا، جس کی وجہ سے ان کی مصالحانہ کوششیں بار آور ثابت نہ ہوسکیں۔ اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خان صاحب فاضل بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے یہاں تک فرمایا ہے کہ کسی بد مذہب کے رد کرنے کا حق بھی عوام تو کجا ہر ایک عالم دین کو بھی حاصل نہیں ہے۔ سیدنا حضرت بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بد مذہب سے اعراض کرکے بات تک نہ کرنے کا ایک واقعہ بیان کرکے فرمایا، اکابر کی تو یہ حالت ہے اور اب یہ حالت ہے کہ جاہل سے جاہل چٹا پڑتا ہے، آریوں سے وہابیوں سے اور کچھ خوف نہیں کرتا، جو تمام فنون کا ماہر ہو، تمام پیچ جانتا ہو، پوری طاقت رکھتا ہو، تمام ہتھیار پاس ہوں، اس کو بھی کیا ضرورت کہ خواہ مخواہ بھیڑیوں کے جنگل میں جائے، ہاں اگر ضرورت ہی آ پڑے تو مجبوری ہے۔ اللہ تعالیٰ پر توکل کرکے ہتھیاروں سے کام لے (ملفوظات اعلیٰ حضرت صہ ۴ جلد ۴)

حضور جناب سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ بلا ضرورت غیر اہم مسائل کو چھیڑنے کے متعلق خلیفہ مامون الرشید علیہ الرحمہ کے زمانے کا ایک قابل قدر واقعہ بیان فرماتے تھے کہ ان کے زمانے میں خلق قرآن کا مسئلہ زوروں پر تھا۔ (کہ قرآن مخلوق ہے یا غیر مخلوق) طرفین کے علمائے کرام قرآن مجید سے ہی اپنا مدعا ثابت کرتے تھے۔ بدقسمتی سے خلیفہ وقت بھی قرآن کے موقف کا قائل تھا اور وہ اپنی مجلس میں اسی موضوع پر بحث و مباحثے کا اہتمام بھی کرتا تھا۔ اور جو علماء حق ان کے مسلک کے خلاف کچھ بولتے ان کو ہر طرح کی تکلیفیں دی جاتیں اور پریشان کیا جاتا تھا۔ چنانچہ ایک مرتبہ خلیفہ کی موجودگی میں جیسے ہی خلق قرآن کا مسئلہ چھیڑا گیا تو ایک بزرگ عالم دین کھڑے ہوگئے اور فرمایا: کیا یہ مسئلہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں چھیڑا گیا تھا؟ معتزلی عالم نے جواب میں کہا کہ نہیں، پھر پوچھا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں اس پر بحث ہوئی تھی؟ معتزلی نے کہا نہیں، تمام مجلس بادشاہ وقت سمیت پوری توجہ سے سن رہے تھے۔ بزرگ نے فرمایا جب یہ مسئلہ حضرت صدیق اکبر کے زمانے میں نہ اٹھایا گیا، فاروق اعظم، عثمان غنی اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم، غرضیکہ خلفاء راشدین رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں سے کسی کے زمانے میں نہ چھیڑا گیا، تو اب یہ یکایک کہاں سے آگیا۔ اب آخر اس کی ضرورت ہی کیا ہے کہ اس پر اتنا زور صرف کیا جائے۔ حق گو، نڈر عالم دین کے تصرف اور ہیبت کا خلیفے پر اتنا گہرا اثر ہوا کہ خود بار بار کہنے لگا۔ جب یہ مسئلہ نہ تو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں تھا نہ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ کے دور میں تھا نہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ اور نہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں تھا۔ تو اب یکایک کہاں سے یہ مسئلہ نکل آیا۔ الحمد للہ حضور کا مثبت زبانی خواہ تحریری تبلیغ کا یہ طریقہ کار اندرون و بیرون ملک بے حد پسند کیا گیا۔ تمام مکتب ہائے فکر کا امن پسند طبقہ اصلاح معاشرہ خواہ اشاعت اسلام کے لئے اسی طریقہ کار کو کار آمد سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی اصلاحی تبلیغ سے متاثر ہوکر کئی دہریت، سوشلسٹ اور کمیونسٹ نظریات رکھنے والے اور غیر مقلد وہابی اور اثناء عشری حضرات بھی مستفیض ہوئے ہیں۔ یقینا تنقید و مخالفت کی صورت میں وہ ایک بات سننے کو تیار نہ ہوتے۔ محترم مولانا محمد ایوب صاحب نے بتایا کہ جب مہاجر مسجد ڈگھڑی میں حضور کا جلسہ رکھا گیا، مختلف مکاتب فکر کے علماء اور عوام الناس بڑی تعداد میں جلسہ سننے کے لئے جمع ہوئے، مسجد کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔ جب حضرت صاحب اسٹیج پر تشریف لائے اور تضع و تکلف اور رسمی اتار چڑھاؤ سے پاک محض قال اللہ و قال الرسول صلّی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں امرونہی کے موضوع پر نورانی خطاب فرمایا، عوام کے ساتھ مختلف مسلک کے حامل علماء کرام بھی از خود آگے بڑھ کر بیعت کرنے لگے۔ یہ دیکھ کر مسجد کمیٹی کا صدر جو داڑھی مونڈھ تھا کہنے لگا کہ زندگی میں پہلی بار اس مسجد میں دوسرے مسلک کے علماء کرام کو دیکھا ہے۔ یہ ان بزرگوں کی پرخلوص دعوت کا نتیجہ ہے کہ سبھی ایک ساتھ بیٹھے اور پیر صاحب سے بیعت بھی کی ہے، نتیجۃ وہ داڑھی مونڈھ مسجد کمیٹی کا صدر بھی حضور سے بیعت ہوا اور داڑھی بھی رکھ لی۔