فہرست
سیرت ولی کامل (حصہ اول)

ختمِ خواجگان

مورخہ ۲۲ رمضان المبارک ۱۳۹۹ھ نماز فجر کے بعد حلقہ مراقبہ سے پہلے کنکریوں پر روزانہ پڑھے جانے والے ختم شریف کے متعلق ارشاد فرمایا۔ نہ معلوم بعض فقراء مقررہ آیت مبارکہ ”و انّی لغفّار لمن تاب و امن و عمل صالحا ثمّ اھتدی“ پڑھتے بھی ہیں یا نہیں کہ ایصال ثواب کے وقت خاموش بیٹھے رہتے ہیں۔ ختم شریف کی اصل صورت یہ ہے کہ شروع میں ایک سو بار درود شریف، اس کے بعد پانچ سو بار مذکورہ آیت، آخر میں پھر ایک سو بار درود شریف پڑھ کر ایصال ثواب کرنے کے لئے بلند آواز سے ختم شریف کا ثواب مراقبہ کرانے والے کے سپرد کیا جائے، اس معاملہ میں سستی نہ ہونی چاہئے، کنکریوں پر مذکورہ آیت کے علاوہ درود شریف بھی ضرور پڑھا کریں۔ روزانہ معمول کے ختم شریف میں درود شریف اور مذکورہ آیت کے علاوہ ذکر کے حلقہ میں شامل ہونے والا ہر ایک فرد ایک بار سورہ فاتحہ (الحمد شریف مع بسم اللہ)، گیارہ بار سورہ اخلاص مع بسم اللہ، اور گیارہ بار سورہ قریش مع بسم اللہ پڑھتا۔ آخر میں حضور ایصال فرماتے تھے۔ اگر کسی وجہ سے نماز فجر کے بعد مراقبہ کا موقع نہ ملتا تو ظہر کے وقت مراقبہ سے پہلے مذکورہ ختم شریف پڑھا جاتا تھا۔ واضح رہے کہ طریقہ عالیہ نقشبندیہ و دیگر سلاسل طریق کے صوفیاء کرام کے یہاں کسی نہ کسی مناسبت سے بعض مشائخ طریقت کے ایصال ثواب کے لئے قرآن مجید کی آیات مخصوصہ پڑھنے کا معمول رہا ہے۔ اسی مطابقت سے حضرت پیر مٹھا قدس سرہ کے ختم شریف کے لئے مذکورہ آیت پڑھی جاتی تھی۔ جبکہ حضرت قبلہ سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے ختم شریف کے لئے آیت مبارکہ ”ان رحمۃ اللہ قریب من المحسنین“ مقرر کی گئی ہے، لہٰذا آپ کے جملہ متوسلین کو مذکورہ بالا طریقہ کے مطابق درود شریف کے بعد یہی آیت شریف پڑھنی چاہئے۔

قضائے حاجات کے لئے ختم خواجگان نقشبندیہ قدس اللہ اسرار ہم العلیہ

دیگر سلاسل کے مشائخ کی طرح مشائخ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ رحمھم اللہ تعالیٰ میں بھی قضائے حاجات و حل مشکلات کے لئے ختم پڑھنا مروج رہا ہے۔ سیدی و مرشدی سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ بھی ملکی مشکل و پریشان کن حالات اور بوقت ضرورت اپنے مشائخ طریقت حضرت پیر قریشی مسکین پوری اور حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہما کے خاندان کے مشکل حل ہونے کے لئے درج ذیل طریقہ پر ختم شریف کا اہتمام فرماتے تھے۔ حضور کے ساتھ ختم شریف پڑھتے وقت چند خلفاء علماء اور فقراء بھی شامل ہوتے تھے۔

ختم شریف شروع کرتے وقت درپیش مشکل بیان فرما کر ختم پڑھتے وقت اس کے حل ہونے کی نیت رکھنے کا حکم فرماتے تھے۔

  • سورہ فاتحہ مع بسم اللہ سات بار
  • درود شریف ایک سو بار
  • سورہ الم نشرح مع بسم اللہ اناسی بار
  • سورہ فاتحہ مع بسم اللہ سات بار
  • درود شریف ایک سو بار
  • یا قاضی الحاجات ایک سو بار
  • یا کافی المھمات ایک سو بار
  • یا مجیب الدعوات ایک سو بار
  • یا حل المشکلات ایک سو بار
  • یا دافع البلیات ایک سو بار
  • یا رافع الدرجات ایک سو بار
  • یا شافی الامراض ایک سو بار
  • یا ارحم الراحمین ایک سو بار

پڑھ کر اس کا ثواب سلطان العارفین حضرت بایزید بسطامی اور حضرت خواجہ ابوالحسن خرقانی اور حضرت خواجہ عبدالخالق غجدوانی اور حضرت خواجہ ابو یوسف ہمدانی اور حضرت خواجہ عارف ریوگری اور حضرت خواجہ عزیزان علی رامیتنی اور حضرت خواجہ بابا سماسی اور حضرت خواجہ امیر کلال اور حضرت پیر پیران خواجہ بہاء الدین نقشبند بخاری اور حضرت خواجہ ابو منصور ماتریدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی ارواح پاک کو بخش دیا جاتا۔

سالانہ عرس مبارک کے موقع پر یہ معمول تھا کہ بعد از نماز فجر قرآن مجید کے سپارے تقسیم کئے جاتے۔ چند خلفاء کرام قلم کاغذ لے کر جماعت سے پوچھتے کہ مشائخ طریقہ عالیہ قدس اللہ اسرارہم کے ایصال ثواب کے لئے کتنے ختم شریف پڑھ کر آئے ہو؟ سینکڑوں کی تعداد میں ختم قرآن مجید، سورہ یاسین، سورہ ملک، درود شریف، سورہ اخلاص، فاتحہ جو فقراء پہلے سے پڑھ کر آئے ہوتے وہ لکھواتے اور ان کا ثواب بھی ان کے حوالے کرتے۔ حضور کی تشریف آوری سے پہلے آپ کی نشست گاہ کے قریب خلفاء کرام، علماء کرام اور قراء حضرات گول دائرہ کی شکل میں بیٹھ جاتے تھے اور ان کے پیچھے دیگر جماعت (جو کہ بیس سے پچیس ہزار کے لگ بھگ ہوتی تھی) بیٹھ جاتی تھی۔ حضور کی آمد کے ساتھ ہی قراء حضرات باری باری تلاوت قرآن مجید فرماتے تھے۔ حافظ نور محمد صاحب معمول کے مطابق ختم شریف پڑھتے تھے۔ تقریباً ایک گھنٹہ کے اس پورے پروگرام میں عموماً حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ پر وجد و گریہ کی حالت طاری رہتی تھی۔ اور یوں محسوس ہوتا تھا کہ اس بابرکت محفل میں آپ کے وجود مسعود کے طفیل تمام جماعت پر رحمت الٰہی کا خصوصی نزول ہو رہا ہے۔ صاحب حال بزرگوں کو مشائخ طریقت کی ارواح کا نزول محسوس ہوتا تھا۔ اس موقع پر جو مفصل ختم شریف محترم حافظ نور محمد صاحب پڑھتے تھے اور حضور نور اللہ مرقدہ کے حکم سے مورخہ ۱۔ ۹۔ ۹۸ء اس عاجز نے ان سے لکھوایا بالترتیب درج ہے۔ ایک بار سورہ ملک (تبارک الذی) تین بار سورہ اخلاص، ایک بار سورہ فلق، ایک بار سورہ ناس، ایک بار سورہ فاتحہ، سورہ بقرہ الم سے مفلحون تک، سورہ بقرہ کی آخری آیات لقد جاء کم رسول تا آخر سورہ، اس کے بعد سورہ انفال کی آیت دعواہم فیھا سبحانک الھم و تحیتھم فیھا سلام و اخر دعواھم ان الحمد للہ رب العلمین، اس کے بعد سورہ احزاب کی آیت ماکان محمد۔۔۔۔۔۔ الیما تک، اس کے بعد سورہ احزاب ہی کی آیت ان اللہ و ملئکتہ سے تسلیما تک، اس کے بعد اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد پڑھ کر سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون و سلام علی المرسلین والحمد للہ رب العلمین پڑھتے۔ اس کے بعد قرآن مجید کے ختم جو فقراء یا مستورات پہلے سے پڑھ کر آئے ہوتے انکی تفصیل حضور کی خدمت میں پیش کی جاتی اور ثواب سپرد کیا جاتا۔ اسی طرح اس وقت جو ۵۔ ۷ ختم قرآن شریف درود وغیرہ پڑھے جاتے ان کا ثواب بھی آپ کے سپرد کیا جاتا، اور آپ پرنم آنکھوں سے ایصال ثواب کے لئے ہاتھ اٹھا کر دعا مانگتے تھے۔ پوری جماعت پر اور خود حضور پر بھی جذب و گریہ کی حالت طاری ہو جاتی تھی۔ تقریباً پندرہ منٹ پُر فیض و برکت دعا جاری رہتی تھی۔