فہرست
سیرت ولی کامل (حصہ اول)

جسمانی امراض اور سفر آخرت

 

جوانی سے بڑھاپے تک مسلسل عبادات ومجاہدات، تبلیغی جدوجہد اور سفر کی وجہ سے سونے اور کھانے پینے میں بے قاعدگی اور بے آرامی نے بڑی حد تک جسمانی نظام صحت کو متزلزل کر دیا تھا۔ خاص کر اس لئے بھی کہ عمر کے ساتھ ساتھ آپ کی جسمانی اور دماغی محنت میں بھی اضافہ ہی ہوتا رہا، جس کی وجہ سے یکے بعد دیگرے کئی عوارض لاحق ہوگئے۔ چنانچہ وصال سے کوئی دو تین سال قبل غالباً کسی حکیم یا ڈاکٹر کی یاد دہانی کے لئے آپ نے عوارض کی جو تفصیل تحریر فرمائی اور اتفاقاً وہ ورقہ آپ کے مطالعہ کی کتابوں میں رہ گیا تھا، اس میں تحریر فرمایا ہے کہ: اس وقت میری عمر ۷۰ سال ہے، جوانی سے کمر میں درد رہتا ہے اور ضعف دماغ کی تکلیف ہے، بزرگان طریقت سے بیعت و نسبت کے بعد لگاتار وجد و جذبہ کی سخت حالت رہی ہے، دونوں آنکھوں کا آپریشن بھی ہوا ہے، جوانی میں بکثرت لسی استعمال کی ہے، اب نہیں پیتا، قبض کی کوئی خاص شکایت نہیں ہے، کھانے کے بعد پیاس زیادہ لگتی ہے، اس لئے پانی زیادہ استعمال ہوتا ہے، تیس پینتیس سال سے ہاتھوں میں لرزہ ہے، تقریباً آٹھ دس سال پہلے ٹانگوں میں سخت درد ہوا، جس سے چلنا پھرنا دشوار ہوگیا، اس وقت مثانہ میں غدود اور پیشاب کی بندش تھی، ہومیو پیتھک علاج سے فائدہ ہوا، درد تو کم ہوا، مگر غدود کے لئے آپریشن کرانا پڑا، اس کے بعد ٹانگوں میں سخت درد، کمر اور نچلے حصے میں بھی سخت درد شروع ہوا اور بڑھتا ہی گیا، کھڑا رہنے اور پیادہ چلنے سے درد اس قدر سخت ہو جاتا ہے، جس طرح گوشت کو کاٹا جاتا ہو، بعض دفعہ تو ایک دو منٹ بھی کھڑا نہیں رہ سکتا۔

مذکورہ عوارض نے آپ کے جسمانی سکون و آرام کو دو بھر کر دیا تھا، پھر بھی آپ کے صبر و شکر کا یہ عالم کہ کبھی حرف شکایت زبان پر نہ لائے، خواہ کتنی ہی تکلیف ہوتی۔ حتی المقدور نئے آنے والوں کو محسوس نہیں ہونے دیتے تھے۔ روزانہ صبح، ظہر کے بعد اور عصر سے مغرب تک فقراء کے ساتھ بیٹھنے کا معمول برقرار رہا۔ البتہ کسی بیماری کی شدت کے پیش نظر ڈاکٹر صاحبان کے مشورے کے مطابق پرہیز کے طور پر چند دن گھر میں آرام فرما ہوتے یا ہسپتال میں، تاہم عیادت کرنے والوں سے مختصر الفاظ میں صحت کا حال بیان فرما کر اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاتے تھے۔ مبلغ حضرات کو تبلیغ کے لئے تاکید فرماتے تھے۔ اور یسئل الناس عما فی الناس (کہ رسول صلّی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے ان کے حالات دریافت فرماتے تھے) کے مطابق بعض فقراء سے ان کے ذاتی امور کے بارے میں بھی دریافت فرمایا کرتے تھے۔ چنانچہ ۱۳۹۳ء میں جب آپ جامشورو میں زیر علاج تھے، مسلسل بیماری اور آپریشن کی وجہ سے نقاہت و کمزوری اس قدر تھی کہ پوری طرح آپ کی آواز بھی سمجھ میں نہیں آرہی تھی۔ پھر جب مدرسہ کے طلباء فقراء اور اساتذہ عیادت کے لئے حاضر ہوئے (یہ عاجز بھی شامل تھا) تو چند الفاظ میں اپنی خیریت سنانے کے بعد دربار کے نظام اور مدرسہ کی تعلیم کے متعلق کافی دیر تک پوچھتے اور ارشادات فرماتے رہے۔ یاد رہے کہ ۱۴ صفر المظفر ۱۳۹۳ء حضور ضلع نواب شاہ اور خیرپور میرس کے بعض تبلیغی جلسوں میں شرکت کرنے تشریف لے گئے تھے، اسی سفر میں بمقام کوٹ لالو شدید تکلیف ہوگئی، قریب ہی کے ایک حکیم صاحب نے جو کہ آپ کے معتقدین میں سے تھے علاج کیا، مگر کوئی خاص فائدہ نہ ہوا۔ آخر مشورہ کے مطابق محترم ڈاکٹر عبداللطیف صاحب رحمۃ اللہ علیہ و دیگر چند احباب کے ہمراہ حیدرآباد تشریف لے گئے۔ وہاں بھی چند روز علاج ہونے کے باوجود کوئی فائدہ نہ ہوا بلکہ

”مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی“

آخر جام شورو کے ہسپتال میں داخل ہوئے، تشخیص کے بعد ڈاکٹر صاحبان نے غدود کا آپریشن کیا، مگر اس سے کوئی فائدہ نہ ہوا، پھر دوسری بار آپریشن کیا، مگر وہ بھی بے فائدہ ثابت ہوا۔ مسلسل دو بار آپریشن اور تقریباً ایک ماہ جامشورہ ہسپتال میں رہنے کے بعد سعید کلینک کراچی میں داخل ہوئے، انہوں نے تیسری بار آپریشن کرنے کی تجویز کی۔ الحمدللہ ان کی تشخیص اور آپریشن ازحد کامیاب ہوئے، ہسپتال سے رخصت ہوکر چند دن حیدر آباد میں قیام فرماکر مؤرخہ ۱۰ جمادی الاخر درگاہ طاہر آباد شریف تشریف لے آئے، جب کہ اس سے ایک دن پہلے آپ کا خاندان، مدرسہ کے طلباء اور اساتذہ طاہرآباد شریف پہنچ چکے تھے۔ آپ کی تشریف آوری کا سن کر ملک بھر سے فقراء دربار شریف پر پہنچنا شروع ہوگئے۔ نقاہت و کمزوری بہت زیادہ تھی۔ وعظ تقریر کرنے گھومنے پھرنے سے ڈاکٹروں نے منع کر دیا تھا، تاہم مورخہ ۹۳،۶،۲۰ ھ بروز اتوار بعد از نماز عصر اپنی صحت کے بارے میں بتاتے ہوئے مختصر الفاظ میں درج ذیل نصیحت بھی فرمائی۔

فرمایا: دوستو عزیزو کوشش کرو، یہ عجیب قیمتی وقت ہے، فراغت اور صحت جیسی نعمتیں بھی میسر ہیں، اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں بھی چل رہی ہیں، کسی قسم کی تکلیف نہیں ہے، آپ دوستوں کی دعاؤں سے انشاء اللہ، اللہ تعالیٰ پیر کی یہ تکلیف (جسے سندھی میں کن رگ کہتے ہیں ) دور ہو جائے گی۔ بہر حال عرق النساء کی شدت میں اضافہ ہی ہوتا گیا، مجبور ہوکر پھر حیدرآباد تشریف لے گئے۔ چند دن علاج سے افاقہ ہوا، اور مؤرخہ ۲ رجب المرجب واپس طاہر آباد شریف تشریف لے گئے۔ کوئی اڑھائی ماہ طاہر آباد شریف میں قیام کے بعد ۲۵ شعبان ۱۳۹۳ھ درگاہ فقیر پور شریف تشریف لے گئے۔ کوئی تین سو کے قریب فقراء آپ کے استقبال کے لئے رادھن اسٹیشن پر موجود تھے، اسپیکر لگا کر حمد و نعمت کے علاوہ حضور کی تعریف میں فراق و وصال کی منقیتیں پڑھ رہے تھے، اسٹیشن سے دربار فقیر پور شریف تک کے لئے جیپ کا انتظام کیا گیا تھا، مگر بدقسمتی سے عین وقت پر جیپ کسی وجہ سے نہ آئی اور فقراء نے آپ کو کرسی پر بیٹھا کر کندھوں پر اٹھا لیا، عجیب سوز و گداز کے لمحات تھے، فقراء کے غیر محدود جذبات میں اضافہ ہو رہا تھا، اللہ اللہ، کرتے ہوئے دربار شریف پر پہنچے، یہ مغرب اور عشاء کے مابین کا وقت تھا، نماز عشاء با جماعت ادا کی گئی، صبح کو حضور نے اپنی صحت کے متعلق جماعت کو بتایا، اور مختصر نصیحت کی تقریباً پانچ سو سامعین موجود تھے۔ اس کے بعد مسلسل کئی دن تک فقراء کی آمد و رفت کا تانتا بندھا رہا۔ مؤرخہ ۲۷ شعبان المعظم بروز بدھ آپ نے تفصیلی خطاب فرمایا۔ خاص کر دنیا کی بے ثباتی، مرض، موت اور آخرت کے بارے میں قرآن و حدیث اور بزرگان دین کے بکثرت واقعات بیان فرمائے اور عام مجمع میں وصیت بھی فرمائی (جو بلفظہ ٹیپ ریکارڈ میں محفوظ ہے)۔

فرمایا: نہ معلوم حیاتی کتنی ہو، اللہ تعالیٰ نے جس قدر جس کی حیاتی مقرر فرمائی ہے، بالاخر ہر ایک کو آگے جانا ہے، میری تمام حضرات کو یہ وصیت ہے کہ جس طرح رسول خدا صلّی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ قبر اونٹ کے کوہان جتنی ہو (زیادہ اونچی نہ ہو) میری قبر اس حدیث شریف کے عین مطابق ہو، نہ ہی چونا یا سیمنٹ استعمال ہو، نہ کسی اور طرح کی زیب و زینت ہو جس کا آج کل رواج ہے۔ جس نے میری اس وصیت کی خلاف ورزی کی وہ بے فرمان ہے۔ یہ عاجز بروز قیامت اس کے خلاف مدعی ہوگا، تمام دوست سن لیں۔
گو اس کے بعد بفضلہ تعالیٰ آپ کی صحت کافی بہتر ہوگئی، سندھ کے علاوہ پنجاب سرحد اور بلوچستان تک کے طویل ترین تبلیغی سفر بھی فرمائے، مگر مختلف نوعیت کے عوارض مسلسل لاحق رہے، جن کی وجہ سے پہلے کی نسبت وعظ بھی کم فرماتے تھے، دشوار گذار سفر سے بھی احتیاط فرماتے تھے اور نماز کی امامت بھی مجبوراً ترک کر دی۔ حالانکہ شروع میں پانچوں نمازوں کی امامت خود ہی فرماتے تھے۔ جمعہ کا خطبہ بھی خود پڑھتے تھے۔ اس کے بعد راستے میں کھڑے کھڑے مصافحہ یا عرض و معروض کرنے سے بھی منع فرماتے تھے۔ حالانکہ شروع میں کافی دیر تک دروازہ معلے پر فقراء سے بات چیت فرماتے تھے۔

آنکھوں کا آپریشن: مسلسل مجاہدات اور کتابوں کے مطالعے کی وجہ سے آپ کی نظر مبارک پر کافی اثر ہوگیا، خاص کر ۹۶، ۱۳۹۷ھ میں اور بھی زیادہ نظر کم ہوگئی، جس کی وجہ سے یکم ربیع الثانی ۱۳۹۷ھ شجاع آباد میں داہنی آنکھ کا آپریشن کرایا جو الحمدللہ سو فیصدی کامیاب ہوا۔ صرف آٹھ دن ہسپتال میں رہنے کے بعد ۹ ربیع الثانی کو درگاہ شریف واپس ہوئے۔ واضح رہے کہ اس سفر میں محترم ڈاکٹر حاجی عبداللطیف صاحب رحمۃ اللہ علیہ، محترم حاجی محمد علی بوزدار صاحب، محترم قاری غلام حسین صاحب، محترم حافظ نور محمد صاحب بھی حضور کے ہمراہ گئے تھے۔ حضور کے شجاع آباد قیام کے دوران ساتھ مبلغ حضرات نے خوب تبلیغ بھی کی تھی، تقریباً ایک سال بعد ۹ ربیع الاول ۱۳۹۸ھ شجاع آباد ہی میں جا کر دوسری آنکھ مبارک کا آپریشن کرایا، الحمد للہ یہ آپریشن بھی پہلے کی طرح کامیاب رہا۔ حضور شجاع آباد کے چھیران والے ڈاکٹر صاحب کی جن سے خود علاج کرایا تھا، بہت تعریف فرماتے تھے اور ضرورت مند احباب کو آنکھ کے آپریشن کے سلسلے میں ان کے یہاں جانے کی ترغیب دیا کرتے تھے۔

کمال درجہ خوف خدا: واضح رہے کہ جب آپ کی نظر زیادہ کمزور ہوگئی، ڈاکٹر صاحبان نے آپریشن کا مشورہ دیا، مگر آپ بایں وجہ راضی نہ ہوئے کہ آپریشن کی وجہ سے کئی دن تک بستر پر لیٹے رہنا ہوگا، نماز کے لئے اٹھنا بھی مضر ہوگا، صرف اشاروں سے نماز پڑھی جائے گی وغیرہ۔ اس درمیان ایک یونانی کہنہ مشق حکیم نے جو آپ کے مریدین میں سے تھے ایک بیش قیمت بقولہ آزمودہ سرمہ کی تجویز پیش کی، جس کے بعد بقول حکیم صاحب کے آپریشن کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ نظر خود بخود ٹھیک ہو جائے گی۔ بہرحال بڑی مشکل سے مطلوبہ اجزاء حاصل کئے گئے، کافی محنت کے بعد جب سرمہ تیار ہوا اور ایک حاجتمند نے استعمال کیا، مگر فائدہ نہ ہوا۔ جس کے بعد مدرسہ کے اساتذہ سے مسئلہ کی نوعیت کے پیش نظر فتویٰ طلب کیا، سبھی نے متفقہ طور پر جواز کا فتویٰ دے دیا، مگر آپ مطمئن نہ ہوئے اور اس عاجز سیہ کار کو کہنہ مشق مفتی صاحبان سے استفتاء کے لئے فرمایا، اس عاجز نے دو مقامات سے فتوے حاصل کئے۔ اس کے بعد آپ آپریشن کے لئے آمادہ ہوئے۔ شجاع آباد کا انتخاب محض اس لئے فرمایا کہ وہاں مریض کو زیادہ عرصہ لیٹے رہنے کی پابندی نہیں کرائی جاتی۔

حسن اتفاق: سوانح ہذا تحریر کے دوران حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے جد امجد حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما (جن سے آپ کی بے حد عقیدت و محبت تھی) کا اسی طرح کا واقعہ نظر آیا کہ آپ نے پانچ دن نماز کے لئے احتیاط کا سن کر آنکھ بنوانے سے انکار کر دیا۔ تفسیر درمنثور (حکایات صحابہ صہ ۸۷)

غالباً اسی سال مسنون طریقے کے مطابق سجدہ نہ کرسکنے کی وجہ سے ایک کرسی پر بیٹھ کر دوسری کرسی پر سجدہ کرکے نماز ادا فرمانے لگے (البتہ قیام و رکوع معمول کے مطابق فرماتے رہے اور اسی طریقہ پر نماز پڑھنے کے سلسلہ میں علمائے کرام سے فتویٰ حاصل کیا تھا) مگر پھر بھی نماز با جماعت کا اس قدر اہتمام کہ پابندی سے پانچوں وقت عصا مبارک کے سہارے مسجد شریف میں تشریف فرما ہوکر جماعت سے نماز ادا فرماتے تھے۔ شاذ و نادر ہی شرعی عذر کے تحت گھر میں نماز پڑھی اور وہ بھی با جماعت، آخر تک معمول کے مطابق نماز فجر، ظہر اور عصر کے بعد مسجد شریف میں تشریف رکھتے۔ وعظ، تقریر، ذکر، اذکار اور صبح کا مراقبہ بھی کرسی پر بیٹھے خود کراتے تھے۔ گو حضور ہر نماز کے وقت باہر تشریف لے آتے تھے مگر آپ کو غیر معمولی تکلیف ہوتی تھی۔ جس کی وجہ سے مورخہ ۱۸ رمضان المبارک ۱۴۰۳ھ آپ کے لئے وہیل چیئر (پہیوں والی کرسی جو مریضوں کے لانے اور لے جانے کے کام آتی ہے) لائی گئی۔ اسی دن بعد نماز مغرب اسی کے ذریعے حویلی مبارک تشریف لے گئے۔ اس کے بعد آخر تک اسی پر نماز کے لئے باہر تشریف فرما ہوتے رہے۔ تاہم فرض، واجب اور مؤکدہ سنتوں کے وقت قیام فرماتے تھے جبکہ غیر مؤکدہ سنتیں اور تراویح بیٹھ کر پڑھتے تھے۔

فکر آخرت: حضور شمس العارفین سوہنا سائیں قدس سرہ، حیات ظاہری کے آخری چند برسوں میں آخرت کا بکثرت ذکر فرماتے۔ تقریباً ہر تقریر میں دنیا کی نا پائیداری اور آخرت کے لئے توشہ جمع کرنے کی ہدایت فرماتے تھے۔ بزرگان دین کی وصیتوں پر مشتمل کتاب ”وصایا“ مطالعہ میں رکھتے تھے۔ دن بدن آپ کے کمالات و کرامت، فیوض و برکات اور نئے واردین کی آمد و رفت میں بھی اس قدر اضافہ ہوتا رہا کہ دیکھتے ہی دل گواہی دیتا تھا کہ آج کل حضور غیر معمولی سبک رفتاری سے باطنی روحانی منازل طے کر رہے ہیں۔

آخری سالانہ جلسہ: مورخہ یکم رجب المرجب ۱۴۰۳ھ برات جمعہ کے سالانہ جلسہ میں شرکت کے لئے ۲۵ جمادی الاخر ۱۴۰۳ھ سے فقراء پہنچنا شروع ہوگئے تھے ۔ جماعت عالیہ غفاریہ بخشیہ کے اس تاریخی سالانہ اجتماع میں بیس ہزار سے زائد فقراء شامل ہوئے۔ باطنی رحمتوں کے نزول کے ساتھ ساتھ تھوڑی دیر کے لئے باران رحمت کا ظاہری نزول بھی ہوا۔ تاہم عاشقان خدا و رسول صلّی اللہ علیہ وسلم اور مرشد مربی نور اللہ مرقدہ کے پروانے اطمینان و سکون سے تمام پروگراموں میں شامل رہے۔ بعد از مغرب محترم مولانا جان محمد صاحب نے سالانہ تبلیغی احوال بیان فرمایا۔ بعد از عشاء حضرت مولانا حاجی محمد ادریس صاحب نے وعظ فرمایا۔ صبح بعد از نماز فجر حسب دستور قرآن مجید کے کئی ختم پڑھے گئے۔ سینکڑوں فقراء اپنے مشائخ کے ایصال ثواب کے لئے پہلے سے قرآن مجید کے ختم درود شریف، سورہ فاتحہ، سورہ یاسین، سورہ ملک، سورہ مزمل اور مختلف پارے پڑھ کر آئے تھے۔ حضور کی موجودگی میں قراء حضرات نے مختلف مقامات سے قرآن مجید کی تلاوت کی۔ آخر میں جماعت عالیہ کے روح رواں مرشد کامل نور اللہ مرقدہ نے ایصال ثواب کے لئے ہاتھ اٹھائے اور طویل ترین پرکیف دعا فرمائی۔ تمام جماعت پر بے اختیار جذب و گریہ کی حالت طاری تھی۔ خود حضور پر بھی مسلسل گریہ کی حالت طاری تھی۔ دعا کے بعد حسب فرمان مولانا محمد رمضان صاحب نے تمام جماعت اور امت مسلمہ کے اتحاد و اتفاق کے لئے بلند آواز سے دعا کی۔ ان کے بعد حسب معمول بندہ نے درس قرآن، مولانا محمد رمضان صاحب نے درس حدیث، مولانا محمد سعید صاحب نے الوابل الصیب سے فضائل ذکر اور مولانا عبدالرحمان صاحب نے درس فتح الربانی اور درس متکوبات امام ربانی قدس سرہ بیان کئے۔ ان کے بعد حضور کے فرمان سے روحانی طلبہ جماعت کے مختلف کارکن اسٹیج پر آئے اور اپنی جماعت کی کارکردگی تفصیل سے بیان کی۔ وقت کافی گزر چکا تھا۔ حضور کی طبیعت بھی ناساز تھی۔ اس لئے نئے واردین کو ذکر سیکھنے کے لئے نماز جمعہ تک انتظار کا کہا گیا۔ نماز جمعہ کے فوراً بعد حضور شمس العارفین نور اللہ مرقدہ نے نئے آدمیوں کو ذکر کی تلقین فرمائی اور علالت کے باوجود تقریباً دو گھنٹے مسلسل خطاب فرمایا۔ آپ کے پر تاثیر خطاب کے دوران پوری جماعت پر گریہ و جذب کی حالت طاری تھی۔ مختلف جسمانی عوارض اور ان میں اضافہ کے باوجود آپ کا تبلیغی ذوق و شوق ہمیشہ جوان ہی رہا۔ یہاں تک کہ ۱۴۰۰ھ میں ۲۸ جمادی الثانی سے ۲۶ رجب المرجب تک مسلسل ۲۸ دن صوبہ پنجاب اور صوبہ سرحد کا تفصیلی تبلیغی دورہ فرمایا۔ جبکہ اس کے بعد کبھی اتنا طویل سفر نہیں کر سکے اور وصال سے چند ماہ قبل صوبہ بلوچستان کے دیہی علاقوں کا تبلیغی سفر اس حال میں کیا کہ معمولی فاصلہ تک بھی چل کر جانے کی سکت نہ تھی یہاں تک کہ جب ان قحط زدہ لوگوں کے اصرار پر آپ نے بارش کے لئے دعا فرمائی تو اسی رات اس قدر سخت بارش برسی کہ گاڑی کا راستہ بند ہو چکا تھا۔ آخر کار فقراء نے بصد مسرت آپ کو چارپائی پر بٹھا کر مطلوب مقام تک پہنچایا، جہاں جلسہ رکھا گیا تھا۔ اس طریقہ سے بھی آپ نے اپنا تبلیغی سفر جاری رکھ کر میزبان مصطفیٰ صحابی رسول حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی یاد تازہ کی جو اپنے آپ کو چارپائی پر اٹھوا کر بھی مجاہدین کے ساتھ رہے۔ بیرون سندھ کا حضور کا یہ آخری تبلیغی دورہ ثابت ہوا۔ علالت اور سردی کے باوجود (گرمی کی نسبت آپ کو سردی زیادہ نقصان دیتی تھی) صفر المظفر کی گیارہویں شریف میں شرکت کے لئے درگاہ فقیر پور تشریف لے گئے اور درگاہ اللہ آباد شریف کے ماہانہ جلسہ ۱۴۰۴ھ میں وعظ اور ذکر سمجھانے کے لئے حضرت صاحبزادہ مدظلہ کو ارشاد فرمایا مگر ان کے معذرت کرنے پر ذکر خود ہی سمجھایا وعظ بھی کیا جبکہ حسب ارشاد صاحبزادہ مدظلہ نے بھی وعظ فرمایا۔ ان کے بعد اس عاجز سیہ کار کو درس قرآن کے لئے یاد فرمایا اور درس کے بعد دعائے خیر فرما کر گھر تشریف لے گئے۔ بدقسمتی سے ماہانہ جلسہ کے صرف تین دن بعد مؤرخہ یکم ربیع الاول بدھ کی رات کوئی گیارہ بجے معمول سے زیادہ آپ کی طبعیت ناساز ہوگئی۔ نیم خوابی کے عالم میں اردو میں تقریر کرنا شروع کردی۔ دوران تقریر فرمایا: اب ہم جاتے ہیں مولوی محمد طاہر صاحب سے ذکر سیکھ لو۔ اس کے بعد سندھی میں ارشاد فرمایا، چھا بھلا گھر کون ھلنداسیں؟ (کیا گھر نہیں چلیں گے؟) چار مرتبہ یہی الفاظ دہرائے، ہر بار حضرت قبلہ صاحبزادہ سجن سائیں دامت برکاتہم العالیہ، عرض کرتے رہے کہ حضور اپنے گھر میں ہیں۔ نہ معلوم آپ کا یہ اشارہ وطن آخرت کی طرف (جو مومنوں کا اصلی گھر ہے) تھا۔ غرضیکہ تکلیف بڑھ جانے پر محترم ڈاکٹر عبدالرحیم صاحب کو اطلاع دی گئی جو کہ حضور کے خادم و معالج خاص تھے اور وہ اپنے ساتھ کنڈیارو کے ایک اور ڈاکٹر کیپٹن سید برکت علی شاہ کو بھی لے آئے۔ بروقت علاج سے قدرے فائدہ ہوگیا۔ تاہم نماز فجر کے لئے باہر تشریف نہ لا سکے جس کی وجہ سے فقراء میں غیر معمولی بے چینی پھیل گئی۔ جنگل کی آگ کی طرح آپ کی علالت کی خبر بیرونی فقراء تک پہنچ گئی اور یکے بعد دیگرے فقراء آنا شروع ہوگئے، مگر نماز ظہر پر آپ کو رونق محفل دیکھ کر موجود فقراء کے حوصلے بلند ہوگئے، پھر بھی بیرونی فقراء کی آمد کا سلسلہ بدستور جاری رہا، عیادت کرنے والوں سے خداوند تعالیٰ کا شکر بجا لانے کے بعد مختصر الفاظ میں صحت کا حال سنا کر دعا کے لئے ارشاد فرماتے رہے۔

آخری جمعہ: مورخہ ۳ ربیع الاول کو بعد نماز جمعہ معمول کے مطابق وعظ فرمایا۔ خصوصی طور پر داڑھی رکھنے کے فضائل، اور منڈھوانے کے متعلق وعیدیں سنائیں۔ اس سلسلہ میں صوبیدار مرحوم کا واقعہ بھی بیان فرمایا جو عموماً بیان فرمایا کرتے تھے کہ ان کو خواب میں رسول صلّی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی کہ آپ نے اس کی طرف منہ تک نہ کیا اور اس کی وجہ داڑھی مونڈھنا ارشاد فرمائی۔ (تفصیل ملفوظات میں بیان کی جائے گی۔ انشاء اللہ)
آخری دن: بروز اتوار بعد نماز فجر مراقبہ بھی خود کرایا اور بعد از نماز ظہر مولانا مشتاق احمد شر صاحب اور ان کے رشتہ داروں کو رشتہ داری کے حقوق اور رشتہ کن سے کرنا چاہیے کہ موضوع پر کوئی ایک گھنٹہ نصیحت فرماتے رہے۔

آخری مجلس: اسی دن معمول کے مطابق از نماز عصر تا مغرب مسجد شریف ہی میں جلوہ افروز رہے۔ شروع میں اس عاجز سے تبلیغی خط سنتے رہے۔ اس کے بعد آئے ہوئے نئے واردین کو طریقہ عالیہ میں داخل کیا اور اذان مغرب تک نصیحت فرماتے رہے۔ نماز عشاء بھی مسجد شریف ہی میں جماعت سے ادا فرمائی اور واپس جاتے ہوئے لانگری صاحب کو بلا کر مسافر فقراء (درگاہ فقیر پور شریف اور میہڑ کے علاقہ سے بہت سے فقراء عیادت کے لے آئے ہوئے تھے) کو بستر دینے کی تاکید فرمائی اور حویلی مبارک تشریف لے گئے۔ رات کو معمول کے مطابق تہجد پڑھنے کے لئے اٹھے مگر شدید تکلیف محسوس کرکے اہل خانہ کو بتایا۔ اسی وقت حضرت قبلہ صاحبزادہ سجن سائیں مدظلہ نے بذریعہ ٹیلیفون ڈاکٹر عبدالرحیم صاحب کو اطلاع دی۔ ان کی آمد تک آپ وضو بنا کر تہجد پڑھنے میں مشغول ہوگئے تھے، گو تکلیف بہت زیادہ تھی پھر بھی اس اطیمنان قلبی اور سکون سے نماز ادا فرماتے رہے کہ ”جعلت قرۃ عینی فی الصلوۃ“ (الحدیث) کا نقشہ نظر آرہا تھا۔ ابھی آپ دو نفل پڑھ پائے تھے کہ ڈاکٹر صاحب انجکشن تیار کرکے آگے بڑھے مگر آپ ”چھوڑیں، اب اس کا وقت نہیں رہا“ فرماتے ہوئے اپنے روحانی و جسمانی کعبہ کی طرف متوجہ ہوکر لیٹ گئے اور ذکر بتانے کے طریق پر ہاتھ اٹھا کر اللہ، اللہ فرماتے ہوئے سوموار چھ ربیع الاول ۱۴۰۴ھ بمطابق ۱۲ دسمبر ۱۹۸۳ء رات دو بج کر چالیس منٹ پر اپنے محبوب و معبود مذکور خالق و مالک عزوجل کے ذکر کی محویت کے عالم میں اس کے حضور جا پہنچے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

ع اللہ یا محمد ہووے زبان پہ جاری
جب یہ روح میری چرخ کہن سے نکلے

یہ شعر آپ کا پسندیدہ شعر تھا، الحمدللہ اسی کے مصداق بھی ثابت ہوئے

ع حیف درچشمِ زدن صحبتِ یار آخر شد
روئے گل سیر ندیدیم و بہار آخر شد

اہل عالم آج یوں چھوٹے بڑے ہیں اشکبار
مرشدِ کامل ولی و رہنما جاتا ہے آج

جن کے دم سے کل تلک گلزار تھا اپنا وطن
چھوڑ کر بستی سوئے صحرا چلا جاتا ہے آج

محفلِ ساقی میں کل شب کو سماں کچھ اور تھا
روح بخشِ میکشاں جامِ صبوح کا دور تھا

غمزۂ ساقی میں تھا موجود وصفِ جاندہی
جامِ صحت بہرِ مستاں ساغر بلور تھا

صیقلِ دل کے لئے تھیں وقف ساری کوششیں
فلسفہ زیست مدام زیر غور تھا

اور تھے اسباب اپنے افتخار و ناز کے
یہ جہاں کچھ اور تھا ہم اور تھے دل اور تھا

ابھی رات ہی تھی کہ نواب شاہ کے فقراء کو بذریعہ ٹیلیفون اطلاع دی گئی جہاں سے وہ دوسرے مقامات کے احباب کو اطلاعات دیتے رہے۔ صبح سویرے ریڈیو پاکستان سے بھی اعلان ہوا۔ ایسے صدمات کے موقعوں پر اہل خانہ و متعلقین کی غمزدگی و پریشاں حالی کا اندازہ کرنا کچھ آسان نہیں۔ جو جہاں تھا اسے تاریکی ہی تاریکی نظر آئی۔ کسی کی آہ سرد نکلی، کوئی سر پکڑ کر بیٹھ گیا، کوئی اندر ہی اندر دم بخود ہوکر رو رہا تھا۔

ع۔ بے کسی دیکھی نہیں جاتی تیرے خدام کی
بے قراری سے کلیجہ شق ہوا جاتا ہے آج

قریب کے فقراء تو نماز فجر سے بھی پہلے پہنچنا شروع ہوگئے۔ نماز فجر حضرت قبلہ صاحبزادہ مدظلہ العالی نے پڑھائی مگر اس حالت میں کہ انتہائی صبر و ضبط کے با وصف بار بار گریہ سے آواز دھیمی پڑتی جاتی تھی۔ جب تجہیز و تکفین کے لئے جسد اطہر لینے کے لئے خواب گاہ پہنچے تو آپ کے نورانی چہرہ کی نورانیت و کشش پہلے سے کہیں زیادہ نظر آرہی تھی۔ سر پر عمامہ بندھا ہوا تھا۔ مسواک اور تسبیح سرھانے رکھے ہوئے تھے۔ جسد خاکی پسینہ سے تر تھا۔ (بڑی کثرت سے شہداء اور صالحین کا وصال کے بعد پسینہ پسینہ ہونا ثابت ہے) چنانچہ اسی وقت احقر مرتب کے دل میں بعض ماسلف بزرگان دین کے واقعات پھرنے لگے جن کے وصال کے ساتھ ہی آسمان پر بادل چھانے لگے۔ بس یہ خیال آتے ہی جیسے نظر اٹھائی، شمال مغرب سے آسمان پر بادل اٹھتے نظر آئے، اور آپ کی تدفین بلکہ حضرت قبلہ صاحبزادہ صاحب مدظلہ العالی سے تجدید بیعت تک بادلوں میں اضافہ ہوتا رہا۔

نماز جنازہ

نماز جنازہ کے لئے ظہر کا وقت مقرر کیا گیا تاکہ دور دراز سے آنے والے سوگواران بھی اپنے آقا کی آخری زیارت کر سکیں۔ چنانچہ تقریباً دو بجے جب آفتاب رشد و ہدایت کا جسد خاکی باہر لایا گیا تو دروازے کے سامنے ہزاروں مشتاق زائرین کا غیر معمولی ہجوم کندھا دینے کی تمنا لئے کھڑا تھا مگر اس وقت تو چارپائی تک پہنچنا بھی کوئی آسان نہ تھا۔ اس وقت بے تاب فقراء کی حالت دیکھی نہیں جاتی تھی۔ بے اختیار ایک دوسرے پر گرے جارہے تھے۔ غمگین قلب و جگر سے نکلی ہوئی اللہ، اللہ کی صداؤں سے دل ہل جاتے تھے۔ اس طرح مدرسہ جامع عربیہ غفاریہ کے صدر دروازے کے سامنے بانی مدرسہ نور اللہ مرقدہ کا جنازہ رکھ دیا گیا اور خلفاء کرام کے اصرار پر حضرت قبلہ صاحبزادہ سجن سائیں مدظلہ نے نماز جنازہ کی امامت اور دعا فرمائی، اس کے بعد زیارت کی عام اجازت دی گئی۔ عجیب رقت آمیز منظر تھا۔ ہر آنکھ اشکبار تھی۔ عموماً ایسے جانکاہ حادثات کے موقعہ پر آہ بکا، نالہ و فغاں ایک معمولی بات ہوتی ہے۔ مگر یہاں آپ ہی کا فیض صحبت کام آیا۔ رضا بالقضاء کی حقیقی اور عملی صورت نظر آئی کہ صدمے سے بیہوش تو کئی دکھائی دیئے مگر کوئی بلند آواز سے روتے نظر نہ آیا۔ کسی کے منہ سے بے صبری و ناشکری کا کلمہ سننے میں نہ آیا۔ بس رقت آمیز لہجہ سے اللہ، اللہ کی پرکیف صدائیں سنائی دیتی رہیں اور منتظمین حضرات بار بار اسپیکر پر آکر صبر سے رہنے کی تلقین فرماتے رہے۔ اس وقت آپ کا پرسکون بارونق نورانی چہرہ اپنے ہزاروں سوگواروں کو زبان حال سے یہ کہہ رہا تھا کہ اگر دنیا میں عزت و شہرت اور آخرت میں نجات و فلاح چاہتے ہو تو اپنے خالق و مالک کے فرماں بردار بندے، رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کے سچے عاشق اور اسلام کے بے طمع مبلغ و خادم ہوکر زندگی بسر کرو۔ اس کے بعد آخر تدفین کا رقت آمیز منظر بھی سامنے آیا، جب ہر کوئی اندر ہی اندر خون کے آنسو رو رہا تھا۔ نماز عصر سے پہلے پہلے تدفین کا عمل مکمل ہوا۔ گو اس دن کھانے پینے کی یاد کسی کو نہ تھی، تاہم حضور کے ارشاد کی روشنی میں (کہ میت کے ایصال ثواب کے لئے جس قدر جلدی ممکن ہو، صدقہ و خیرات کیا جائے) آپ کے اہل خانہ کی طرف سے میٹھا کھانا پکوا کر تقسیم کیا گیا۔

ع۔ کیا کریں شکوہ کسی سے اپنی ویرانی کا ہم
اٹھ گیا سر سے ہمارے دوستو ظل ہما

جنت الفردوس میں ان کو ملا اعلیٰ مقام
روح پر مرحوم کے ہو فضل ربِ ذوالمنن

طلبہ و فقراء کئی دن تک مسلسل دن رات، مزار شریف، جامع مسجد اور مدرسہ عالیہ میں ایصال ثواب کے لئے تلاوت قرآن مجید کرتے رہے۔ مدرسہ عالیہ کے طلبہ اور اساتذہ نے کئی ماہ تک روزانہ ایک دو ختم شریف پڑھنے کا اہتمام کیا دربار عالیہ کے علاوہ ملک بھر میں جہاں کہیں فقراء موجود تھے۔ ایصال ثواب کے لئے تلاوت اور طعام کا انتظام کیا۔ پاکستان کے علاوہ حرمین شریف زادھما اللہ شرفاً و تعظیما اور متحدہ عرب امارات میں مقیم فقراء نے بھی کئی مقامات پر ایصال ثواب کے لئے ختم قرآن شریف اور لنگر کا اہتمام کیا۔

تجدید بیعت: حضور شمس العارفین امام الاولیاء حضرت قبلہ سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے ارشادات عالیہ کی روشنی میں آپ کے تمام خلفاء کرام، علماء کرام اور دیگر فقراء نے متفقہ طور پر بعد از نماز فجر حضرت قبلہ صاحبزادہ مولانا محمد طاہر صاحب (عرف سجن سائیں) دامت برکاتہم العالیہ سے تجدید بیعت کا فیصلہ کیا۔ اذان فجر اور نماز کے درمیان حضرت پیر مٹھا اور حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدھما کے پیارے خلیفہ محترم مولانا محمد داؤد شر صاحب نے حضرت قبلہ صاحبزادہ مدظلہ سے بیعت، اتحاد و اتفاق اور حضور نور اللہ مرقدہ کے نقش قدم پر چلنے کے موضوع پر فکر انگیز خطاب فرمایا۔ نماز فجر کے بعد تمام خلفاء، علماء، اور فقراء تجدید بیعت کے لئے آگے بڑھے جبکہ حضرت قبلہ صاحبزادہ مدظلہ العالی بہ مشکل گریہ پر ضبط کرتے ہوئے بیعت لینے سے معذرت کر رہے تھے، تاہم جلیل القدر خلفائے کرام کے اصرار پر ہاتھ آگے بڑھا کر بیعت لے لیا۔ معمول کے مطابق دعائیں پڑھاتے وقت بار بار آواز مدہم پڑتی جارہی تھی۔ سب سے پہلے آگے بڑھ کر بیعت کرنے والوں میں اکثریت خلفاء کرام اور علماء حضرات کی تھی۔ اسی وقت حضرت قبلہ سیدی و مرشدی صاحبزادہ سجن سائیں دامت برکاتہم العالیہ نے جو پر تاثیر تاریخی خطاب فرمایا اس کے اقتباسات درج ذیل ہیں۔

منهنجي مداين جي جڏهن ڪل پريان پيئي
ڪڏهن ڪوسا ڪونه ٿيا ڏوراپو ڏيئي
ساڄن سڀيئي ڍڪيم ڍول ڍلائيون.

یہ عاجز نا اہل ہے ناکارہ اور بدکار ہے، میری تمام عمر غفلت میں گزری بس حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ عیب پوشی فرماتے رہے، ورنہ میرا کوئی عمل نہیں، کوئی حال نہیں، دوستوں نے جو یہ بارگراں میرے سر پر رکھا ہے، مجھ میں اس کے اٹھانے کی ہمت نہیں ہے۔ یہ عاجز آپ حضرات کی غلامی و خادمی کے لئے وقف ہے۔ یہاں کوئی پیری مریدی نہیں سبھی حضرت سوہنا سائیں کے مرید ہیں، بس یہی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں حضور کے طریقے پر چلائے۔ بلاشبہ ہمارے آقا حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ نے اپنی پوری زندگی سنت رسول صلّی اللہ علیہ وسلم کے مطابق گزاری اور ہمیں صحیح معنیٰ میں صراط مستقیم پر گامزن کیا اور آپ اپنی زندگی میں ایک ایسی جماعت تیار کر گئے جو صحیح معنی میں رسول خدا صلّی اللہ علیہ وسلم کی پیرو ہے۔

آپ ہی نے ہمیں صحیح معنی میں روزہ و نماز کا پابند بنایا، اسلام کی پیروی دی، عشق رسول صلّی اللہ علیہ وسلم دیا اور خوف خدا دیا۔

آپ نے ہمیں سنت رسول صلّی اللہ علیہ وسلم کے اسلحہ سے لیس کیا، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو یہی اسلحہ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم سے ملا تھا، اور وہ خاموش نہیں بیٹھے تھے اسلام کو عالم میں پھیلایا تھا۔

خدارا ناکارہ بن کر نہ بیٹھنا۔ اپنی زندگی دین کے لئے وقف کریں، اس عاجز کی زندگی دین اسلام کے لئے وقف ہے۔ آپ حضرات بھی وعدہ کریں کہ زندگی بھر دین کی خدمت کرتے رہیں گے، وہی طریقہ اپنائیں گے جو ہمارے مرشد و مربی کا تھا۔

آخری وقت میں بھی آپ نے یہی ارشاد فرمایا تھا کہ تبلیغ اسلام کو کسی قیمت پر ترک نہ کرنا۔
اس طریقہ عالیہ کو جاری رہنا ہے۔ ہمارے مشائخ کی محنت کبھی رائیگاں نہیں جائے گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ خلفاء کرام ناکارہ بن کر نہیں بیٹھیں گے۔ یہ نہ سمجھو کہ اب حضور ہم میں نہیں ہیں۔ نہیں، نہیں، بلکہ وہ آج بھی زندہ ہیں، ہمارے ساتھ ہیں، دنیا میں ساتھ تھے۔ اب بھی ساتھ ہیں اور آخرت میں بھی آپ ہی کے دامن میں ہاتھ ہوں گے۔ واقعی دنیاوی ظاہری جسمانی باپ تو جدا ہوجاتے ہیں مگر سوہنا سائیں ہمارے روحانی باپ ہیں، وہ ہمیشہ ہمارے ساتھ ہیں۔ ہم لاوارث نہیں ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ ان کے بتائے ہوئے طریقے کو ہم نہ چھوڑیں۔ صحیح معنی میں آپ کے فرمانوں پر عمل کریں۔ اپنی زندگی تبلیغ اسلام کے لئے وقف کریں۔ (انتہائی جذب و گریہ میں آکر کافی دیر تک زبان پر صرف اللہ، اللہ، اللہ جاری رہا۔ پوری جماعت پر بے اختیار گریہ کی حالت طاری تھی اس کے بعد پھر فرمایا)

یہ عاجز سر سے لے کر پاؤں تک عیوب میں بھرا ہوا ہے۔ حضور کا ادنیٰ غلام ہوں، تمہارا غلام ہوں، مجھ میں کوئی اہلیت نہیں ہے۔

لیکن سوہنے سائیں کے طریقے کو ہر قیمت پر چلانا ہے، خواہ دنیا دولت چلی جائے پرواہ نہیں لیکن طریقت کو نہیں چھوڑوں گا، طریقت کو داغدار نہیں کروں گا، آخری دم تک خدمت کرتا رہوں گا۔

انشاء اللہ تعالیٰ حضور کے شیدائی اور پروردہ شہباز جن کی عرشی پرواز ہے، ان کی پرواز میں کمی واقع نہیں ہوگی۔ کسی قیمت پر حضور کے طریقہ عالیہ کو نہیں چھوڑیں گے، حضور کے فرمانوں کو نہیں بھلائیں گے۔ صحیح معنوں میں عاشق صادق بھی وہ ہے جو آزمائش کے وقت سچا ثابت ہو۔ تمہارا ہمارا یہ رونا کسی کام کا نہیں۔ یہ تب ہی کارگر ہیں جب ہم ان کے طریقے پر چلیں گے ورنہ عاشق صادق کہلانے کے حق دار نہیں ہیں۔ سچا عاشق وہ ہے جو حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم اور حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے طریقے کو مستحکم پکڑے، جو حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم اور حضرت سوہنا سائیں کے بتائے ہوئے طریقے پر چلے وہی صحیح معنوں میں عاشق ہے، محب ہے۔ اس کی پیروی کرنا، اس کے پیچھے چلنا، کسی رسمی آدمی کے پیچھے ہرگز نہ چلنا، خواہ میں ہوں یا کوئی اور ہو۔ جو طریقت کو چھوڑ دے تم اس کا دامن چھوڑ دینا، اس سے دور بھاگ جانا، رسمی پیری مریدی کے پھندے میں ہرگز نہ جانا۔ ہمارے مشائخ کا یہ طریقہ رسمی نہیں ہے، نہ پہلے کبھی رسم شامل ہوئی ہے، نہ آئندہ شامل ہوگی انشاء اللہ تعالیٰ۔ یہاں وہی طریقہ چلے گا جو ہمیں مشائخ نے سمجھایا، بتایا، اسی کے مطابق کام چلے گا۔

اے روحانی طلبہ جماعت کے نوجوانو! تم میرے پیر و مرشد کے پیارے ہو۔ ساری جماعت میں حضور کی محبت آپ کے ساتھ زیادہ تھی، آپ حضرات نے ان کے دل کو خوش رکھا۔ خدارا، اب فارغ بیٹھ کر ان کی روح کو دکھ نہ پہنچانا۔ طریقت کو ہاتھ سے جانے نہ دینا، اگر چاہتے ہو کہ حضور کی روح کو راحت پہنچے تو فارغ نہ بیٹھنا۔ ان کے طریقہ کو مستحکم پکڑنا، حسب سابق تبلیغ کرتے رہنا، کہیں ایسا نہ ہو کہ غفلت میں وقت ضائع کریں جس کی وجہ سے آخرت میں افسوس کرنا پڑے۔

یہ عاجز گہنگار ہے۔ جو مجھ پر بوجھ آیا ہے قطعاً اس کے اٹھانے کے قابل نہیں ہے۔ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ یہ بار اٹھانے کی توفیق بخشے۔ میرے دل میں سوہنے سائیں کی محبت پیدا ہو، رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کا عشق پیدا ہو اور خداوند تعالیٰ کا خوف پیدا ہو تاکہ صحیح معنوں میں یہ بار اٹھا سکوں۔ آج بھی کسی کوتاہی پر آپ میرا گریبان پکڑ سکتے ہیں، زبانی کہہ سکتے ہیں، اسی طریقہ پر میری مدد کرنا تمہاری ذمہ داری ہے۔ آپ حضرات حضور کے عاشق صادق ہیں۔ یہ عاجز گہنگار ہے۔ میری کوئی حیثیت نہیں ہے۔

میرے پیارے عزیزو، دوستو! حضور نے پوری طرح اپنا حق ادا کیا، اب ہماری باری ہے کہ ان کا حق ادا کریں۔ وہ اس طرح کہ ان سے ذکر اللہ کا درس ملا، عشق رسول صلّی اللہ علیہ وسلم کا درس ملا، خوف خدا کا درس ملا، اس سے غافل نہ ہوں۔ ہر حالت میں طریقت کو مستحکم پکڑیں۔ خدارا، کوئی فارغ گھر بیٹھ نہ جائے۔ تبلیغ کرو، تبلیغ کرو، تبلیغ کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ اپنے آپ کو آزاد سمجھو، قطعاً ایسا نہ ہو۔ تم سے باز پرس ضرور ہوگی۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ کسی خلیفہ صاحب کو کوتاہی کی اجازت نہیں ہے سستی اور کوتاہی قطعاً گوارہ نہیں کی جائے گی۔ اپنی جماعتوں کو پہلے کی طرح سنبھالو تبلیغ کرو، حضور کے جاری کردہ مشن کے عامل بنو اور بناؤ۔ خلاف شرع رسم و رواج سے دور بھاگو، خدانخواستہ اگر رسمیت داخل ہوگئی تو سمجھو کہ طریقت کا خاتمہ ہے۔ حضور کا یہ زور دار حکم ہوتا تھا کہ یاد رکھو یہ طریقہ رسمی پیری مریدی کا نہیں ہے، نذر و نیاز، چندہ وصولی کا طریقہ نہیں ہے، خالص رضائے الٰہی والا طریقہ ہے۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام اور اولیاء اللہ کے طریقے کے عین مطابق یہ طریقہ ہے۔ حضور ہمارے روحانی باپ ہیں، انہوں نے ہی ہمیں اسلام کی حقیقت سے روشناس کرایا، حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ سے واقف کیا۔ حضور نور اللہ مرقدہ سے وابستگی سے پہلے ہم میں روزہ نہ تھا، نماز نہ تھی، شرعی پردے کا اہتمام نہ تھا (انتہائی گریہ کے عالم میں فرمایا) کچھ نہ تھا۔ آپ نے کماحقہ ہمیں شریعت و طریقت کی تعلیم دی۔ کھانے پینے تک کے تمام دینی امور ہمیں سکھائے، آپ نے ہی ہمیں غفلت و گمراہی کی اندھیریوں سے نکالا۔ خبردار، ایسا نہ ہو کہ پھر کوئی اندھیری کی طرف لوٹ جائے۔ ہمارے سورج و چاند وہی تھے، آج بھی ان کی روشنی و تابانی برقرار ہے، کل بھی برقرار رہے گی انشاء اللہ تعالیٰ۔ آپ کے اصلاحی مشن کا دارومدار شریعت و طریقت پر ہے اگر شریعت و طریقت کی پیروی ہے تو مریدی بھی ہے ورنہ وہ آدمی حضور کا مرید نہیں ہے۔ طریقت کو صحیح معنوں میں مستحکم اپنی زندگی اسی کے مطابق ڈھالیں۔ یاد رکھو، حضور نور اللہ مرقدہ نے جو اتنی محنت کی وہ کبھی رائیگاں نہیں جائے گی۔ آ پ کے تمام دینی منصوبے، عزائم و ارادے ضرور پایہ تکمیل تک پہنچیں گے۔ آپ کا پسندیدہ عمل تبلیغ و اشاعت اسلام تھا۔ ہمیشہ فرمایا کرتے تھے تبلیغ، تبلیغ، تبلیغ۔ اس لئے تمام احباب خلفاء و فقراء بدستور تبلیغ کرتے رہیں، تبلیغ میں غفلت ہرگز نہ کریں، اگر ایک آدمی بھی ناکارہ بن کر بیٹھ گیا تو آپ کو دکھ پہنچے گا۔ کون ہے جو اپنے آقا کو دکھ پہنچانا گوارہ کرے گا؟ خبردار، فارغ بیٹھ کر تبلیغ اسلام میں غفلت نہ کرنا۔ پہلے کی طرح تبلیغی احوال کے خط ارسال کرتے رہنا، ہم سنا کر پیش کرتے رہیں گے۔ انشاء اللہ تعالیٰ آپ حضرات کو معلوم ہے کہ آپ کس قدر شوق و رغبت سے تبلیغی خط سنا کرتے تھے، کتنے خوش ہوکر آخر میں دعا فرماتے تھے، آج بھی اگر آپ حضور کو راضی کرنا چاہتے ہیں تو ضرور تبلیغ کریں اور خط بھی لکھیں، انشاء اللہ تعالیٰ ان کی طرف سے مہربانی ہوتی رہے گی۔

اس عاجز گہنگار کے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ صحیح معنوں میں اپنے مرشد مربی نور اللہ مرقدہ کے طریقہ عالیہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ صحیح معنی میں طریقت چلانے کی توفیق عطا فرمائے۔ حضور کی محبت اور عشق دل میں پیدا کرے، ذکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ حقیقی معنوں میں اہل بنائے، عشق مصطفیٰ صلّی اللہ علیہ وسلم سے دل کو معمور کرے، خوف خدا پیدا کرے۔

آج بھی وہی فیض جاری ہے، اس لئے دربار عالیہ کے ان جلسوں میں آمدورفت بدستور جاری رہے۔ میری طرف، میرے گناہوں کی طرف نہ دیکھنا، میرے عیوب کو نہ دیکھنا، میں تمہارے سامنے کرسی پر بیٹھنے کا یا نماز پڑھانے کا اہل نہیں ہوں، نہ اس کا کہ تمہیں ذکر کی تلقین کروں۔

بہر صورت طریقت کو چلانا ہے۔ یہ طریقہ ہمیشہ جاری و ساری رہے، انشاء اللہ تعالیٰ جاری و ساری رہے گا۔

خبردار، فارغ ہوکر بیٹھ نہ جانا (وجد کی حالت میں کافی دیر تک اللہ اللہ کرتے رہنے کے بعد ان بابرکت ارشادات پر خطبہ پورا فرمایا) ذکر اللہ کو مستحکم پکڑیں، کسی صورت میں بھی ذکر سے غفلت نہ برتیں۔

اخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین

اسی دن تجدید بیعت سے پہلے اور بعد میں حضرت قبلہ صاحبزادہ مدظلہ العالی کی اہلیت و صلاحیت اور تجدید بیعت کے موضوع پر حضور نور اللہ مرقدہ کے جلیل القدر خلفائے کرام نے پر تاثیر تقاریر کیں۔ جن میں استاد العلماء حضرت علامہ الحاج مولانا کریم بخش صاحب، حضرت مولانا مفتی عبدالرحمٰن صاحب، حضرت مولانا جان محمد صاحب، حضرت مولانا محمد رمضان صاحب، مولانا حاجی محمد علی صاحب اور حضرت مولانا حاجی محمد ادریس صاحب کے نام قابل ذکر ہیں۔

اسی دن موقعہ کی مناسبت سے نعت خواں فقیر نوازیل صاحب نے ایک شاندار منقبت بنا کر سنائی جس کا عنوان تھا۔

ويو ڏيئي سهڻو سائين لخت جگر
نڌڻڪو نه آهين ادا غم نه ڪر

(تو لاوارث نہیں ہے، پریشان ہونے کی ضرورت نہیں جبکہ حضرت سوہنا سائیں قدس سرہ اپنے لخت جگر لائق فرزند کو ہماری قیادت کے لئے منتخب فرما گئے ہیں)

حقیقت نما خواب: روحانی طلبہ جماعت مورو کے سرگرم کارکن محترم غلام اکبر میمن نے بتایا کہ سوموار چھ ربیع الاول کی رات (تقریباً اسی وقت جس وقت حضور سوہنا سائیں قدس سرہ کا وصال ہوا تھا) خواب میں دیکھا کہ حضور شمس العارفین سوہنا سائیں قدس سرہ بڑے پیار و محبت کے انداز میں اپنے پیارے جگر گوشہ خلف رشید حضرت صاحبزادہ سجن سائیں دامت برکتاہم العالیہ کو گلے لگا کر اپنے منہ سے ان کے منہ میں کوئی چیز ڈال رہے ہیں۔ چند بار یہی عجیب و غریب منظر نظر آیا، ابھی میں سویا ہوا ہی تھا کہ گھر کا دروازہ کھٹکا، باہر آنے پر بلانے والے طلبہ نے بتایا کہ ابھی ابھی درگاہ اللہ آباد شریف سے ٹیلی فون آیا ہے کہ حضور سوہنا سائیں (نور اللہ مرقدہ) کا وصال ہو چکا ہے۔

ایک اور خواب: کورنگی کراچی کے فقیر محمد قاسم صاحب نے بتایا کہ ایک رات خواب میں دیکھا کہ سورج غروب ہو رہا ہے، کوئی تعبیر سمجھ نہ آنے پر چند احباب سے خواب بیان کیا مگر کسی نے تعبیر نہیں بتائی۔ چند دن بعد ازخود خواب کی تعبیر اس وقت سمجھ آگئی جب پتہ چلا کہ چند ہی دن پہلے حضرت سوہنا سائیں (نور اللہ مرقدہ) کا انتقال ہو چکا ہے۔

”بلاشبہ میرے آقا سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ ایک روشن سورج تھے، جن کی ضیاء پاشیوں سے ایک عالم منور ہوگیا۔ گو آپ کا وصال آسمانی سورج کے غروب سے کچھ کم نہیں مگر خوشی کی بات یہ ہے کہ حضور کے منور کردہ ماہ تابان (حضرت صاحبزادہ دامت برکاتہم العالیہ) کے توسط سے آپ کی نورانیت پہلے کی طرح تابان و فروزان ہے جبکہ دنیاوی سورج غروب ہونے سے اندھیرا چھا جاتا ہے۔

ایک اور خواب: مولانا خلیفہ محمد قاسم گبول صاحب نے بتایا کہ حضور کے وصال سے چند ہی دن پہلے میں تبلیغ کے لئے اجازت لے کر پھلھڈیوں بھائٹی، کھائی کے لئے روانہ ہوا۔ جہاں چند جلسوں میں بھی شریک ہونا تھا۔ جس رات فقیر محمد عیسیٰ مری صاحب کی بستی میں جلسہ تھا خواب میں ایک دربار نظر آیا جس کے دوسرے کنارے پر ایک بزرگ کھڑے نظر آئے، ایک اور بزرگ دریا عبور کر رہے تھے۔ جب دوسرے بزرگ بھی پہلے کے پاس جا پہنچے تو دونوں نے میری طرف رخ کیا، تب میں نے پہچانا کہ پہلے بزرگ خلیفہ حضرت سید نصیر الدین شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ تھے، جن کا چار ماہ قبل وصال ہو چکا تھا اور دوسرے میرے مرشد و مربی حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ تھے۔ اپنے مذکورہ دونوں محسنوں کو ایک ساتھ دیکھ کر میں نے بھی دریا عبور کرنا چاہا مگر انہوں نے پہلے اشارہ سے اور بعد میں صاف الفاظ میں ارشاد فرمایا: تو جلدی نہ کر، ابھی تیرے آنے میں دیر ہے۔ بیدار ہونے پر خواب کی حقیقی تعبیر سے بے خبر دونوں حضرات کی ایک ساتھ زیارت ہونے پر میں بڑا خوش تھا۔ اس کے تین دن بعد ایک آدمی نے دریافت کیا کہ ہم نے سنا ہے، حضور سوہنا سائیں (قدس سرہ) کا انتقال ہو چکا ہے۔ یہ بات کہاں تک صحیح ہے؟ میں نے لاعلمی کا اظہار کیا اور تصدیق کے لئے حضور کے پرانے مخلص خادم حاجی محمد ہاشم صاحب کی بستی پہنچا، جہاں گیارہ سال تک مسلسل میرا قیام رہا تھا۔ وہاں پہنچنے پر حاجی محمد ہاشم صاحب کو تنہا مسجد کے کونے میں بیٹھے روتے دیکھ کر دل کو بڑا دھچکا لگا۔ حاجی صاحب مجھے دیکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ ان کے تصدیق کرنے پر اپنے خواب کی تعبیر سمجھ آئی، معاً یہ بھی کہ: الموت جسر یوصل الحبیب الی الحبیب (موت ایک پل کی مانند ہے جس کے ذریعے ایک دوست اپنے دوست سے جا ملتا ہے) میں نے اسی وقت قرب و جوار کے احباب کو اطلاع دی اور دوسرے دن مل کر دربار علیہ اللہ آباد شریف پہنچے۔

سورج غروب ہوا پھر طلوع: سائٹ کراچی کے مولانا خدا بخش صاحب نے بتایا کہ حضور کے وصال سے چند ماہ پہلے میں نے یہ خواب دیکھا کہ سورج انتہائی زیادہ روشن ہے مگر تھوڑی ہی دیر بعد یکایک غروب ہوگیا اور پورا عالم اندھیرے میں ڈوب گیا، کچھ ہی دیر بعد پھر سورج طلوع ہوا مگر گرد و غبار کی وجہ سے پہلے کی نسبت اس کی روشنی کم ہے جسے دیکھ کر بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ وہی سورج ہے جو پہلے سے طلوع ہو تا رہا ہے جبکہ اکثر لوگ یہی کہہ رہے تھے کہ یہ سورج بالکل ہی نیا سورج ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کی روشنی میں اضافہ ہوتا جائے گا۔

اولاد امجاد

عند الوفات لاکھوں روحانی سوگواروں کے علاوہ حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ نے نسبی قریبی سوگواروں میں اہلیہ محترمہ (اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور صحت کاملہ کے ساتھ ان کا سایہ نسبی و روحانی اولاد پر دیرپا رکھے، آمین) ایک صاحبزادہ (خلف رشید حضرت قبلہ سجن سائیں دامت برکاتہم العالیہ) چار صاحبزادیاں اور دو ہمشیرائیں سوگوار چھوڑیں۔ حضور نور اللہ مرقدہ کے وصال کے بعد حضرت صاحبزادہ مدظلہ کو اللہ تعالیٰ نے دو صاحبزادے حضرت محمد اطہر و حضرت محمد یاسر عطا فرمائے (اللہ تعالیٰ صحت کاملہ کے ساتھ ان کو طویل عمر عطا فرمائے اور اپنے ماسلف کے نقش قدم پر چلائے آمین)۔ سب سے بڑی صاحبزادی (جو کہ عمر میں حضرت صاحبزادہ مدظلہ سے بھی بڑی ہیں اور حضور نور اللہ مرقدہ کے بھانجے محترم مولانا غلام مرتضیٰ عباسی صاحب کے حبالہ عقد میں ہیں) کے دو صاحبزادے حضرت محمد جمیل و حضرت محمد طارق اور ایک صاحبزادی حضور کی حیات میں تولد ہوئے اور دو صاحبزادیاں حضور کے وصال کے بعد تولد ہوئیں۔ اور دوسری صاحبزادی (جو کہ محترم قاری غلام حسین صاحب کے عقد میں ہیں) کے بطن سے ایک صاحبزادہ محمد طیب اور ایک صاحبزادی، دونوں حضور نور اللہ مرقدہ کے وصال کے بعد تولد ہوئے۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بابرکت گھرانہ کو مزید دینی و دنیاوی کرامات و عنایات سے نوازے اور اپنے حضور قرب و منزلت مرحمت فرمائے۔

امین یا رب العلمین بحرمۃ سید المرسلین صلی اللہ علیہ و علی اٰلہ و اصحابہ وسلم

حسن اتفاق

شمائل ترمذی شریف کی پہلی روایت کے مطابق رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد و تبلیغ کا عرصہ بیس برس بیان کیا گیا ہے۔

فاقامہ بمکۃ عشر سنین و بالمدینۃ عشر سنین

(دس برس مکہ مکرمہ میں قیام فرمایا اور دس برس مدینہ منورہ میں) حسنِ اتفاق سے حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ بھی ۱۳۸۴ھ سے ۱۴۰۴ ھ تک تقریباً بیس برس مسندِ ارشاد و تبلیغ پر فائز رہے۔

سیدنا حضرت امام مجدد و منور الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کو صرف تین مرتبہ پیر کامل حضرت باقی باللہ احراری رحمۃ اللہ علیہ کی صحبت و زیارت نصیب ہوئی۔ اسی طرح سیدی سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کو بھی مرشد اول حضرت پیر فضل علی قریشی رحمۃ اللہ علیہ تعالیٰ کی صرف تین مرتبہ زیارت و صحبت کا موقع میسر ہوا۔

اکثر روایات کے مطابق رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کے ان ظاہر بین آنکھوں سے اوجھل ہونے کا ماہ ربیع الاول اور دن سوموار تھا اور یہی مبارک ماہ اور دن سیدی سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے حصے میں آئے۔

آپ کے مرشد کامل حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ ۱۲ دسمبر کی رات اس دارالنفاء سے دارالبقاء کو راہی ہوگئے اور یہی ۱۲ دسمبر کی رات تھی کہ حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ (انا للہ انا الیہ راجعون)