فہرست
سیرت ولی کامل (حصہ اول)
جانشین، حضور شمسُ العارفین (حضرت سوہنا سائیں) عُمدۃ الواصلین، قدوۃ الاولیاء حضرت مُحمّد طاہر، مدظلہ العالی (محبوب سجّن سائیں) کا تعارف اور ان کی خدمات کا اجمالی جائزہ ایک نظر میں

سجادہ نشین حضرت قبلہ مرشدی صاحبزادہ سجن سائیں

دامت برکاتہم العالیہ

حضور سوہنا سائیں قدس سرہ کے ظاہری و باطنی وارث و نائب عالم باعمل نورِ نظر لختِ جگر حضرت قبلہ سیدی و مرشدی صاحبزادہ مولانا محمد طاہر صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی ولادت باسعادت مؤرخہ ۲۱ مارچ ۱۹۶۳ء درگاہ رحمت پور شریف لاڑکانہ میں ہوئی۔ اتفاقاً اس وقت حضرت قبلہ سوہنا سائیں قدس سرہ تبلیغی سلسلہ میں میہڑ کی طرف گئے ہوئے تھے۔ باکمال مرید صادق کے گھر صاحبزادہ کی ولادت کی خبر سن کر حضرت قبلہ پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس قدر خوش ہوئے کہ اسی وقت طلب فرما کر اپنی زیارت اور توجہات عالیہ سے مستیفض فرمایا، کان میں اذان خود دی اور نہ معلوم کن کن مستجاب دعاؤں سے نوازا۔ جن کی چند سالہ جھلک نے ایک عالم کو رشد و ہدایت سے منور کر دکھایا۔ رحمت پور شریف ہی میں ایک مرتبہ کھیلتے کودتے دیکھ کر حضرت قبلہ پیر مٹھا قدس سرہ کی اہلیہ محترمہ نے خوش ہوکر فرمایا: یہ بڑا ہوکر اسلام کا شیر ہوگا۔ بفضلہ تعالیٰ ان کی نیک دعاؤں کے عین مطابق وہی معصوم بچہ آگے چل کر دین اسلام کا مثالی جری سپاہی و داعی ثابت ہوا جس نے چند سال کے مختصر عرصہ میں اس انقلابی انداز سے تقریری اور تحریری اور اس سے بڑھ کر کردار و عمل سے مثالی تبلیغی کام کیا کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ شروع ہی سے حضور سوہنا سائیں قدس سرہ نے اپنے اکلوتے صاحبزادہ کو دین اسلام کی خدمت و اشاعت کے لئے وقف فرما دیا تھا،جس کا اظہار بار بار فرمایا کرتے تھے۔ ایک سے زائد بار جلسہ عام میں حضرت صاحبزادہ صاحب مدظلہ کو اپنے پاس بلا کر ہاتھ پکڑ کر اور جماعت کو گواہ بنا کر ارشاد فرمایا الہٰ العالمین اتنے سارے تیرے نیک بندے گواہ ہیں کہ میں نے اس کو دین اسلام کی خدمت کے لئے وقف کر دیا ہے، یہ تیرا ہے تو اسے قبول فرما۔ اور یہی فکر ہمیشہ آپ کو دامنگیر رہی۔ ایک مرتبہ اپنی علالت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ایک بار صحت زیادہ خراب ہوگئی تھی، اور تو کسی قسم کا فکر نہ تھا، البتہ یہ خواہش دل میں ضرور تھی کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس وقت تک زندہ رکھے کہ اپنے فرزند کی خود تربیت کروں، تاکہ بڑا ہوکر دین اسلام کا خادم رہے۔ (مولانا فضل محمد چانڈیو لاڑکانہ)

تعلیم و تربیت: جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا ہے کہ حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ نے اپنا تن، من، دھن، وطن سبھی کچھ دین اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے لئے وقف کر رکھا تھا، عمر بھر یہی اوڑھنا، بچھونا اور محبوب مشغلہ رہا۔ اس لئے آپ نے شروع ہی سے اپنے اکلوتے صاحبزادہ مدظلہ کو بھی اس میدان کے لائق شہسوار بنانے کی ٹھانی اور اس نہج پر عمدہ تعلیم و تربیت کا انتظام فرمایا۔ چنانچہ جیسے ہی صاحبزادہ مدظلہ چلنے پھرنے لگے اپنے ساتھ نماز کیلئے مسجد شریف میں لے آتے تھے۔ دیکھتے دیکھتے صغر سنی ہی میں ازخود باجماعت، عمامہ، مراقبہ، وغیرہ کے پابند بن گئے۔ درگاہ فقیر پور شریف میں ناظرہ قرآن مجید اور پرائمری تعلیم حاصل کی۔ اسی اثناء میں ۶۹،۱۹۷۰ء میں صرف ۷ سال کی عمر میں حضور نے تجوید قرآن سیکھنے کے لئے مدرسہ رکن الاسلام حیدرآباد بھیجا جہاں استاذ القراء مولانا الحاج قاری محمد طفیل نقشبندی صاحب کے یہاں تجوید و قرات سیکھتے رہے۔ پرائمری تعلیم کے ساتھ ساتھ فارسی تعلیم اور اس کے بعد تعلیم مدرسہ جامعہ عربیہ غفاریہ درگاہ اللہ آباد شریف ہی میں حاصل کی جبکہ بالائی عربی کتب کے لئے حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ نے حضرت صاحبزادہ مدظلہ اور ان کے ساتھیوں کو دو سال کے لئے المرکز القادری کراچی بھیجا جہاں تقریری خواہ تحریری امتحانات میں حضرت صاحبزادہ مدظلہ نمایاں پوزیشن حاصل کرتے رہے۔

دورۂ حدیث ایک بار مدرسہ جامعہ عربیہ غفاریہ اللہ آباد شریف میں اور دوسری بار المرکز القادریہ کراچی میں پڑھا۔ اعلیٰ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ حضور نور اللہ مرقدہ نے اپنے فرزند ارجمند کی باطنی تعلیم و تربیت کی طرف بھی پوری توجہ کی۔ خاص کر درس نظامی کے آخری مراحل اور دورۂ حدیث شریف کے ایام میں مزید باطنی توجہات و عنایات سے سرفراز فرمایا۔ طریقہ عالیہ نقشبندیہ کے اسباق، شرائط اور لطائف میں اضافہ کے ساتھ بکثرت ذکر و مراقبہ اور تصوف و سلوک کی کتابیں پڑھنے کی تاکید فرمائی۔ حسب فرمان حضرت صاحبزادہ مدظلہ نے صرف خود ہی نہیں بلکہ اپنے ہم سبق ساتھیوں کو بھی ساتھ لے کر آگے بڑھنے کی کوشش کی، وہ اس طرح کہ فرصت کے اوقات میں باہمی مل کر ماسلف مشائخ کی کتابیں پڑھتے، تہجد کے وقت مل کر باری باری سے مراقبہ کراتے۔ بعض اوقات حضور نور اللہ مرقدہ حضرت صاحبزادہ صاحب مدظلہ کو جماعت میں احیاء علوم الدین یا کسی اور کتاب کے درس کا حکم فرماتے اور خود بیٹھ کر سنتے رہتے اور کبھی اساتذہ میں سے کسی کو علم کی حقیقت، علم کی اقسام اور ماسلف علماء کے موضوع پر خطاب یا کسی کتاب کے پڑھنے کا حکم فرماتے اور تمام طلبہ کو عموماً اور دورۂ حدیث کے طلبہ کو خصوصاً قریب بیٹھ کر سننے کا ارشاد فرماتے، اگر کوئی غیر حاضر ہوتا تو آدمی بھیج کر اسے طلب فرماتے۔

تعلیم کے آخری مراحل میں حضور کے فرمان سے مدرسہ کے انتظامی امور میں خاص کر طلبہ کے اخلاق و اعمال کی اصلاح کے معاملے میں بڑی حد تک اساتذہ کے ساتھ معاونت فرماتے رہے۔ عملی تربیت کے طور پر چند بار حضور سوہنا سائیں قدس سرہ نے آپ کو کہنہ مشق مبلغین اور اساتذہ کے ہمراہ اندرون سندھ اور بلوچستان کے تبلیغی دورہ پر بھی بھیجا۔ چنانچہ مورخہ ۲ رمضان المبارک ۱۳۹۸ھ حضور سوہنا سائیں قدس سرہ نے حضرت قبلہ مولانا رفیق احمد شاہ صاحب کی قیادت میں حضرت صاحبزادہ مدظلہ اور دوسرے ساتھیوں کو کراچی کے دیہی علاقوں ملیر، کونکر، گڈاپ بھیجتے وقت استاد محترم مولانا رفیق احمد شاہ صاحب کو فرمایا: آپ کے ساتھ ان کو بھیجنے کا اصل مقصد ان کی تربیت ہے۔ دیہی علاقہ کے لوگ نسبتاً سیدھے سادھے ہوتے ہیں۔ وہاں یہ دل کھول کر تقاریر کر سکیں گے۔ باری باری تمام طلبہ تقریر کرتے رہیں، مولوی محمد طاہر صاحب اوروں سے بڑھ کر شوق و ہمت سے شامل رہیں اور تقاریر کرتے رہیں۔ دیہی علاقہ ہے ایک ایک، دو دو میل کہیں جانا ہو تو پیدل چلے جانا تاکہ غیر ضرور نزاکت پیدا نہ ہو۔ اتنے فاصلے کے لئے سواری کا انتظار نہ کرنا۔ یہاں تعلیمی مصروفیات کی وجہ سے نوافل کے لئے زیادہ وقت نہیں ملتا۔ سفر میں اور تو مصروفیت ہوگی نہیں، اس لئے حتی المقدور نفلی عبادات کا اہتمام کرنا۔ خاص کر نماز تہجد، اشراق اور بعد از مغرب تین نوافل صلوۃٰ الاوابین ضرور پڑھا کرنا اور وقتاً فوقتاً صلوۃٰ التسبیح بھی پڑھتے رہیں۔ حسب فرمان طالبعلمی کے زمانہ میں عموماً ہر سال روحانی طلبہ جماعت کی سالانہ کانفرنس میں شرکت کے لئے حیدر آباد تشریف لے جاتے تھے۔

بعض اوقات اگر علالت کے باعث حضور کسی مجوزہ جلسے میں شریک نہیں ہو سکتے تھے تو حضرت قبلہ صاحبزادہ مدظلہ کو اپنا قائم مقام بنا کر بھیجتے تھے۔

ایام طالبعلمی سے حضرت قبلہ صاحبزادہ مدظلہ کے حسن اخلاق علمی اور عملی صلاحیتوں کی بدولت تمام اساتذہ اور طلبہ یکساں طور پر متاثر تھے۔

چنانچہ آپ سے غیر معمولی عقیدت و محبت کی بناء پر احقر مؤلف آپ کے طالبعلمی کے زمانہ کی کئی یاد داشتیں تحریر کرتا رہا اور آپ کے تمام خطوط بطور تبرک محفوظ کرتا رہا جو درگاہ فقیر پور شریف یا کراچی سے بندہ کے نام تحریر کرتے رہے۔

دستار فضیلت: درس نظامی سے فراغت کے بعد مورخہ ۲۹ جمادی الاولیٰ ۱۴۰۲ھ عظیم الشان سالانہ جلسہ کے موقعہ پر آپ کی رسم دستار بندی ہوئی، جس کا پہلا بل آپ کے روحانی و جسمانی والد بزرگوار خواجہ خواجگان حضرت سوہنا سائیں قدس سرہ نے درست فرمایا۔ (مزید تفصیلات مدارس کے احوال میں بیان کئے گئے ہیں)

مدرسہ کی تعلیم سے فراغت کے بعد کوئی دو سال تک مدرسہ جامعہ عربیہ غفاریہ اللہ آباد شریف میں مدرس اور منتظم کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔ اسی اثناء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔

اصلاح المسلمین کے صدر کی حیثیت سے : جماعت اصلاح المسلمین کے انتخابی اجلاس منعقدہ ۲۷ صفر المظفر ۱۴۰۲ھ میں متفقہ طور پر آپ کو تین سال کے لئے جماعت اصلاح المسلمین کا صدر منتخب کیا گیا۔ اسی طرح جمعیۃ علماء روحانیہ غفاریہ کے بھی آپ صدر منتخب ہوئے اور ان دونوں تنظیموں کے کئی ایک اجتماعات منعقد فرمائے، اور ان تنظیموں کے تحت ہونے والے جلسوں اور تبلیغی دوروں میں بھی تشریف فرما ہوتے رہے۔

شادی خانہ آبادی: مورخہ ۲۳ جمادی الثانی ۱۴۰۲ھ آپ کی شادی محترم ڈاکٹر حاجی عبداللطیف چنہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ (کی وصیت کے مطابق) ان کی دختر نیک اختر سے انجام پائی۔ شادی شریعت مطہرہ کے عین مطابق نہایت سادگی سے ہوئی۔ عام جماعت یا مریدین کو کسی قسم کی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ خواہ حضرت صاحبزادہ مدظلہ العالی کا لباس پہنے ہوئے نماز عصر پر تشریف لائے۔ نماز کے بعد تمام موجودہ فقراء کو بیٹھنے کا کہا گیا۔ حسب ارشاد اس عاجز مؤلف نے نکاح کا اعلان کیا اور مسنونہ خطبہ و دعا پڑھ کر دعا کے لئے حضور کی خدمت میں عرض کی۔ دعا کے بعد حضرت صاحبزادہ مدظلہ نے آگے بڑھ کر حضور نور اللہ مرقدہ کی قدم بوسی کی۔ تمام حاضرین فقراء نے حضور سوہنا سائیں قدس سرہ اور صاحبزادہ مدظلہ کی خدمت میں ہدیہ مبارک باد پیش کی۔ بعض احباب پھولوں کے ہار لے آئے تھے جو اپنے مقتدر بزرگوں کو پہنائے لیکن جیسے ہی حضور نور اللہ مرقدہ کی نظر ان احباب پر پڑی جو نوٹوں کے ہار لے آئے تھے، انتہائی غصہ کے عالم میں تنبیہہ کرتے ہوئے سختی سے نوٹوں کے ہار پہننے پہنانے کی مذمت فرمائی (جس پر ان حضرات نے فورا وہ ہار چھپا لئے) مزید فرمایا، بابرکت شادی وہ ہے جو سادگی سے انجام پائے۔ موجودہ اسراف و خرافات کی کوئی اصلیت نہیں، رسم و رواج چھوڑ کر شریعت مطہرہ کی پابندی کرنے میں ہی برکت و رحمت ہے۔ ایک بزرگ کے سامنے کسی شخص نے جھوٹا پانی زمین پر پھینک دیا۔ پانی کی جو کہ اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے بے قدری دیکھ کر بزرگ بے ہوش ہوگئے۔

اس کے بعد لائے گئے خشک چھوہارے لٹائے گئے، دیگر جماعت کے ساتھ حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ نے بھی جمع فرمائے۔ آخر میں معذرت کرتے ہوئے فرمایا شادی کے موقعہ پر تر کھجوریں لٹانا (کہ آدمی پھینکے اور دوسرے اپنے لئے جمع کریں) ہی مسنون ہے۔ ہم نے کنڈیارو، مورو کے علاوہ سکھر سے بھی پتہ کیا مگر تر کھجوریں نہیں ملیں، اسی مجبوری کے تحت خشک چھوہارے لائے گئے ہیں۔ اس کے بعد فرمایا، مولوی محمد طاہر صاحب (مدظلہ العالی) کے لئے کئی آدمیوں نے رشتہ دینے کی پیش کش کی مگر ہم نے انکار کر دیا۔ حاجی فیض محمد صاحب (ڈاکٹر صاحب مرحوم کے سسر کے والد صاحب جو اس وقت موجود تھے) والوں سے چونکہ ہمارے تعلقات طریقت میں آنے سے بھی پہلے کے ہیں، اس لئے ہم نے یہی سوچا کہ ان کے یہاں سے شادی ہو جائے تو بہتر ہے۔

ولیمہ: ولیمہ بھی نکاح کی طرح کسی عام اعلان کے بغیر مورخہ ۱۲ ذوالحجہ ۱۴۰۳ھ کو اللہ آباد شریف میں شریعت و طریقت کے عین مطابق کیا گیا۔ حسن اتفاق سے اسی تاریخ کو جمعیۃ علماء روحانیہ غفاریہ کا اجلاس بھی اللہ آباد شریف میں بلایا گیا تھا۔ علماء کرام کے لئے تو ایک ساتھ خوشی کے دو پروگرام ثابت ہو رہے تھے مگر حضور نور اللہ مرقدہ (یہ سمجھ کر کہ شاید مروجہ رسم و رواج کے مطابق ولیمہ کی وجہ سے آئے ہیں، جو کہ آپ کے مزاج کے سراسر خلاف تھا) کے مزاج پر اس کا کافی بار گزرا جس کا اظہار بھی فرمایا، مگر جب آپ کو بتایا گیا کہ مدارس اور اسکولوں میں چھٹیوں کی وجہ سے اسی تاریخ کو ہم نے یہاں جمعیۃ علماء روحانیہ غفاریہ کا اجلاس بلایا تھا۔ ساتھ ساتھ حضور کی زیارت و صحبت اور حضرت صاحبزادہ مدظلہ کی ولیمہ میں شرکت بھی حاصل ہوئی ہے۔ اس پر آپ مطمئن ہوئے۔ تاہم شادی کے موقع پر کئے جانے والے رسم و رواج کی مذمت فرمائی اور خصوصی اہتمام سے دور دور سے آکر شریک ہونے کی شرعی حیثیت کے بارے میں تحقیق کے لئے موجود علمائے کرام کو تاکید فرمائی۔

عطیہ خلافت و اجازت: حضور سوہنا سائیں قدس سرہ نے حسب تربیت و توقع اپنے لائق فرزند ارجمند کو با صلاحیت عمدہ اخلاق و عادات و اعمال اور دینی تبلیغی ذوق و جذبہ کا حامل دیکھ کر ۱۳۹۸ھ میں خلافت و اجازت سے سرفراز فرمایا، جبکہ حضرت صاحبزادہ مدظلہ اس وقت مدرسہ عالیہ میں زیر تعلیم تھے۔ اس کے بعد غالباً ۱۴۰۶ھ میں جب حضرت مولانا صدیق احمد صاحب ناصر (ساؤتھ امریکہ) کو اجازت مرحمت فرمائی، اس وقت بھی حضرت صاحبزادہ سجن سائیں مدظلہ کو بلا کر خلافت کی سعادت بخشی۔ تیسری بار ۱۴۰۳ھ میں پھر مولانا نسیم احمد صاحب (حیدرآباد) کے ہمراہ خلافت عطا فرمائی، ساتھ ہی تبلیغ و ذکر کے لئے مختلف مقامات پر اپنے قائم مقام بھیجا۔ اور درگاہ فقیر پور شریف کے ماہانہ جلسہ میں جب کبھی خود تشریف نہیں لے جاتے، حضرت صاحبزادہ مدظلہ کو بھیج دیتے اور چند بار اپنے طریقہ عالیہ کے مطابق نئے واردین کو طریقہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت بھی کیا اور وعظ و نصیحت بھی کی۔ حضور کی حیات ہی میں حضرت صاحبزادہ مدظلہ نے دین پور شریف اور قمبر علی ضلع لاڑکانہ کے تبلیغی دورے فرمائے اور وہاں نئے واردین کو بیعت کیا۔ مورخہ ۲۷ ربیع الاول ۱۴۰۳ھ کو حضور سوہنا سائیں قدس سرہ کے خصوصی ارشاد سے درگاہ اللہ آباد شریف کے ماہانہ جلسہ میں نماز عشاء کی امامت فرمائی اور بعد از نماز وعظ بھی فرمایا۔
مراقبہ اور بیعت: ۲ جمادی الاول ۱۴۰۳ھ صبح بعد از نماز فجر پہلے حضرت قبلہ صاحبزادہ سجن سائیں مد ظلہ نے مراقبہ کرایا اور ان کے بعد حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ نے مراقبہ کرایا اور اختتامی دعا فرمائی، جبکہ مورخہ ۱۱ جمادی الاول ۱۴۰۳ھ بروز جمعہ جب حضور سوہنا سائیں قدس سرہ درگاہ فقیر پور شریف تشریف لے گئے تھے۔ حضرت صاحبزادہ سجن سائیں مدظلہ نے بعد از نماز فجر مراقبہ کرایا اور حضور نور اللہ مرقدہ کے معمول کے مطابق بعد از مراقبہ نصیحت فرمائی اور آئے ہوئے نئے آدمیوں کو ذکر قلبی کا وظیفہ عنایت کیا اور اس کا طریقہ بھی سمجھایا۔ نماز جمعہ مدرسہ جامعہ عربیہ غفاریہ اللہ آباد شریف کے منتہی طالبعلم حاجی محمد کریم صاحب نے پڑھائی جبکہ بعد از نماز جمعہ آئے ہوئے نئے واردین کو حضرت صاحبزادہ دامت برکاتہم العالیہ نے ذکر قلبی کا وظیفہ عطا کیا۔

مسند ارشاد پر: جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا کہ حضور سوہنا سائیں قدس سرہ نے بیرونی تبلیغ و تلقین ذکر کے علاوہ اپنی دونوں خانقاہوں (درگاہ اللہ آباد شریف اور درگاہ فقیر پور شریف) میں حضرت صاحبزادہ سجن سائیں کو تلقین ذکر کا حکم فرما کر عملی طور پر اپنا قائم مقام مقرر فرمایا تھا۔ نیز مورخہ یکم ربیع الاول ۱۴۰۴ھ بدھ کی رات صریح الفاظ میں ”مجھے جو کچھ اجازات و عنایات اپنے پیر و مرشد حضرت پیر مٹھا نور اللہ مرقدہ سے عطا ہوئیں وہ سبھی آپ کے سپرد کر رہا ہوں“ ارشاد فرماکر ظاہری و باطنی فیوض و برکات، جماعت کی قیادت اور جملہ تبلیغی اور انتظامی امور سپرد فرما کر اپنا جانشین مقرر فرمایا۔ چنانچہ ۷ ربیع الاول ۱۴۰۴ھ حضور نور اللہ مرقدہ کے جملہ خلفاء، علماء اور فقراء نے کمال اتحاد و اتفاق سے آپ کی قیادت پر اعتماد کرتے ہوئے تجدید بیعت کی۔

خواب میں راہنمائی: بعد از وصال بھی حضور نور اللہ مرقدہ نے کشف، حال اور خواب میں کئی فقراء کو حضرت صاحبزادہ سجن سائیں مدظلہ سے فیض حاصل کرنے کی تلقین فرمائی، یہی نہیں بلکہ بعض خوش نصیب فقراء کو آقائے نامدار سیدنا و مولانا حضرت سرور کائنات محمد مصطفیٰ صلّی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں حضرت صاحبزادہ مدظلہ سے فیض حاصل کرنے کی تاکید کی۔ اس سلسلہ میں نامعلوم کتنے فقراء نے خواب دیکھے ہیں۔ سردست چند خواب تحریر کئے جاتے ہیں۔

رسول خدا صلّی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں: نواب شاہ سے محترم مولانا انوار المصطفیٰ صاحب لکھتے ہیں کہ شب جمعہ ۱۰ ربیع الاول ۱۴۰۴ھ کو یہاں نانا جان فقیر عبدالرحمان صاحب، ان کے علاوہ دو اور فقیروں نے ایک ہی خواب ملاحظہ کیا ہے وہ یہ کہ حضور سوہنا سائیں قدس سرہ چند اونٹنیاں لے کر درگاہ اللہ آباد شریف آئے اور فقیر عبدالرحمان صاحب (نہایت ہی نیک عاشق رسول فقیر ہیں) سے حضرت صاحبزادہ سجن سائیں مدظلہ العالی کو بلانے کا فرمایا۔ مزید یہ فرمایا کہ بارگاہ نبوی سے فرمان ہوا ہے کہ انہیں قدم بوسی کے لئے پیش کیا جائے۔ پیغام ملنے پر حضرت صاحبزادہ مدظلہ فوراً حاضر ہوگئے۔ مزید حضور کے گھر کے چند اور افراد نیز چند مخصوص فقراء بھی اسی قافلہ کے ساتھ دربار نبویہ میں پہنچے، جہاں حضور صلّی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صاحبزادہ صاحب مدظلہ کے گلے میں پھولوں کا ہار ڈالا پھر یکے بعد دیگرے وہاں موجود اولیاء اللہ نے ہار ڈالے یہاں تک کہ حضرت صاحبزادہ مدظلہ کا گلا مبارک اور چہرہ مبارک پھولوں سے نظر نہیں آرہا تھا۔ اس وقت حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم نے زبان درافشاں سے ارشاد فرمایا، اب اس فیض کے چلانے اور پھیلانے والا یہی جوان ہوگا۔ ان ہی فقیر عبدالرحمان صاحب نے بتایا کہ تبلیغ پر جاتے وقت کئی بار بیداری کی حالت میں، میں نے حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کو اپنے ساتھ چلتے دیکھا۔ کسی بات چیت کے بغیر غائب ہو جاتے تھے۔ ایک بار تشریف فرما ہوکر چند فقیروں کے نام لے کر یہ نصیحت ارشاد فرمائی کہ ان کو کہو کہ روئیں نہیں، صبر کریں، اصل چیز شریعت مطہرہ پر عمل کرنا ہے۔ ازروئے شرع رونا درست نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں رسول اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کے لخت جگر حضرت ابراہیم کے وصال اور آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کے صبر کا واقعہ بھی بتایا۔ کوئی پونے گھنٹہ تک حضور کی یہ ملاقات رہی اس کے بعد غائب ہوئے۔ (یہ سب کچھ بیداری کے عالم میں نظر آیا)

حضرت مولانا خلیفہ حاجی عبدالسلام صاحب نے بتایا کہ مجھے ۶ ربیع الاول کو بعد از نماز عصر حضور کے وصال کا پتہ چلا۔ یہ وحشت ناک خبر سنتے ہی میں بے ہوش ہوگیا۔ اسی بے خودی کے عالم میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے دل میں القا ہوا کہ پرواہ نہ کر، اس طریقہ عالیہ کو چلانے اور پھیلانے کے لئے حضرت صاحبزادہ مدظلہ موجود ہیں۔ اس کے بعد جب درگاہ شریف پر حاضر ہوا تو یہ معلوم کرکے میری خوشی کی انتہا نہ رہی کہ تمام خلفاء و فقراء آپ سے بیعت ہو چکے ہیں۔ مولانا موصوف نے مزید بتایا کہ جس طرح قحط اور دیگر مشکل اوقات میں ہم دعا کے لئے حضور سوہنا سائیں قدس سرہ کے حضور حاضر ہوکر دعا کراتے اور آپ کے طفیل اللہ تعالیٰ ہماری مشکلات حل فرماتا تھا اسی طرح اب حضرت صاحبزادہ سجن سائیں مد ظلہ کی خدمت میں حاضر ہوکر دعا کراتے ہیں اور اسی طرح اللہ تعالیٰ مہربانیاں فرماتا ہے۔ چنانچہ اس سال جب ہم نے آپ سے بارش کے لئے دعا کرائی تو علاقہ بھر میں غیر معمولی بارش اور پیداوار ہوئی اور ایک قبائلی جھگڑا جس میں ۱۳ افراد ہلاک ہو چکے تھے، صلح کی کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی، حضرت سجن سائیں دامت برکاتہ سے دعا کرائی گئی۔ الحمد للہ فوراً صلح ہوگئی۔ اب دونوں فریق ایک دوسرے کے ساتھ شیر و شکر ہوکر رہ رہے ہیں۔

فقیر گل شیر (بگ بستی) نے بتایا کہ حضور سوہنا سائیں قدس سرہ کے سانحہ ارتحال کا سن کر میں پریشان و مذبذب تھا کہ خواب میں حضور نور اللہ مرقدہ کی زیارت ہوئی۔ حضرت قبلہ صاحبزادہ مدظلہ بھی ساتھ نظر آئے جن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا، اب میری بجائے یہی ذکر سمجھایا کریں گے، جس سے مجھے یقین ہوگیا کہ حضور سوہنا سائیں قدس سرہ کا روحانی فیض آپ کے صاحبزادہ مدظلہ کے وسیلہ سے ہی پھیلتا پھولتا رہے گا۔

ان کے پیچھے چلیں: محترم خلیفہ مولانا حاجی محمد آدم صاحب نے بتایا کہ حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے وصال کے بعد ایک بار خواب میں ایک محفل نظر آئی جس میں حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ اور حضرت قبلہ صاحبزادہ سجن سائیں مدظلہ بھی موجود تھے۔ مجلس برخاست ہونے پر ہم حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے پیچھے روانہ ہوئے۔ آپ نے مڑکر فرمایا، اب میرے پیچھے آنے کی ضرور نہیں (حضرت صاحبزادہ مدظلہ کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا) اب آپ ان کے پیچھے چلیں، جو ہمارے پاس تھا ہم نے ان کو دے دیا ہے۔

نورانی مرکز نورانی روڈ بلوچستان سے محترم مولانا ولی محمد صاحب لکھتے ہیں کہ مدرسہ کے طالبعلم عبدالحکیم نے ایک مرتبہ خواب میں حضور سوہنا سائیں قدس سرہ اور قبلہ صاحبزادہ سجن سائیں مدظلہ کو مرکز نورانی میں تشریف فرما دیکھا۔ جماعت بڑی تعداد میں موجود تھی۔ حضور سوہنا سائیں قدس سرہ نے حضرت صاحبزادہ مدظلہ کو ارشاد فرمایا، جماعت کافی آچکی ہے آپ ان کو ذکر سمجھائیں۔ اس کے بعد آپ میرے (مولانا ولی محمد صاحب کے) مکان پر تشریف فرما ہوئے، پھر اوطاق میں آکر آرام فرما ہوئے جہاں الحاج خلیفہ مولانا محمد ادریس صاحب بھی موجود نظر آئے۔

نیز مولانا ولی محمد صاحب نے مذکورہ مدرسہ کے ایک اور طالبعلم نور الدین صاحب کا خواب تحریر کیا ہے کہ ان کو حضور سوہنا سائیں قدس سرہ اور حضرت صاحبزادہ دامت برکاتہم دونوں مرکز نورانی پر تشریف فرما نظر آئے۔ حضور سوہنا سائیں قدس سرہ نے مخاطب ہوکر (مولوی ولی محمد صاحب کو) فرمایا: روحانی طور پر تو ہم تمام فقیروں کے یہاں تشریف لے جاتے ہیں مگر مرکز نورانی کے ماہوار جلسے میں یوں سمجھو کہ جسمانی طور پر بھی موجود ہوتے تھے۔ اس کے بعد صاحبزادہ مدظلہ کی طرف اشارہ کرکے فرمایا، آج کل یہی ہمارے گدی نشین ہیں یہی آپ کو فیض یاب کریں گے۔

اوتھل بلوچستان سے محترم محمد جنید صاحب لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ خواب میں دیکھا کہ حضرت قبلہ سوہنا سائیں رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک بہت بڑے نورانی پلنگ پر آرام فرما ہیں اور آپ کے بازو میں حضرت قبلہ سجن سائیں مدظلہ العالی کرسی پر تشریف فرما ہیں۔ یہ عاجز وہاں گیا اور حضرت صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے پاؤں مبارک کو ہاتھ سے مالش کرنے لگا۔ اسی اثنا میں آپ کی آنکھ مبارک اچانک کھل گئی اور فرمانے لگے کہ آپ محمد جنید ہیں۔ میں نے کہا، جی ہاں اور آپ کے ہاتھ مبارک کو چومنا چاہا مگر آپ نے فرمایا، اس طرح نہیں بلکہ میں آپ سے گلے ملوں گا۔ چنانچہ ازراہ شفقت و عنایت اس عاجز گہنگار کو گلے سے لگایا اور کافی نصیحتیں بھی فرمائیں۔

میرا مہمان آرہا ہے: کراچی سے منشی عبدالحسیب فاروقی لکھتے ہیں کہ مسند نشینی کے بعد پہلی بار جب حضرت قبلہ سجن سائیں مد ظلہ کراچی تشریف فرما ہوئے تو ہم نے قصبہ کالونی میں آپ کا پروگرام رکھا تھا۔ رات کو حضور سرور کائنات صلّی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی، وہ اس طرح کہ دیکھتا ہوں حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت ابوبکر صدیق، حضر عمر فاروق، حضرت عثمان غنی، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم، دیگر کافی صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ بھی تشریف فرما ہیں۔ حضور پرنور صلّی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مخاطب ہوکر فرمایا، تمہارے یہاں میرا مہمان آنے والا ہے، ہم ان کی وجہ سے یہاں آئے ہیں۔ تم بھی ان کی مہمان نوازی میں کمی نہ رکھنا۔ الحمدللہ حضرت سجن سائیں مدظلہ تشریف لائے اور ان کی آمد کی برکت سے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم اور مشائخ کرام رضی اللہ عنہم کی زیارت ہوئی اور آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے اپنے پیر و مرشد کی ولایت کی تصدیق سن کر اور بھی زیادہ خوشی ہوئی۔

حضرت سجن سائیں مد ظلہ کی تبلیغی سرگرمیاں

الحمد للہ حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ اور جملہ خلفاء اور علماء کی نیک خواہشات کے عین مطابق حضرت قبلہ صاحبزادہ سجن سائیں مدظلہ نے اپنے مشائخ طریقت کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تبلیغ خواہ تحریر کے میدان میں شریعت و طریقت کی نشر و اشاعت کے لئے مثالی کردار ادا کیا ہے۔ حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی لاکھوں کی تعداد میں موجود جملہ جماعت کو موتیوں کے ہار کی مانند اتفاق و اتحاد کی لڑی میں پروئے رکھا۔ اور پہلے سے موجود تبلیغی و اصلاحی تنظیموں جمعیۃ علماء روحانیہ غفاریہ، روحانی طلبہ جماعت، جماعت اصلاح المسلمین، جمعیۃ طلبہ روحانیہ عربیہ، جمعیۃ اساتذہ روحانیہ، اصلاح نوجوانان اور نونہال روحانی طلبہ جماعت کو پہلے سے زیادہ سرگرمی سے کام کرنے کی تلقین فرمائی اور بعض فعال کارکنوں کو آگے لے آئے۔ نتیجۃ اکثر تنظیموں نے عملی تبلیغی کام کے علاوہ اپنی تنظیموں کی جانب سے معیاری کتب، رسائل اور پمفلٹ چھاپے۔ روحانی طلبہ جماعت کے مخلص کارکنوں بالخصوص محترم ڈاکٹر کیپٹن غلام یاسین سیال اور محترم ڈاکٹر منور حسین صاحب بھرگڑی کی کاوشوں سے سہ ماہی رسالہ ”الطاہر“ کا اجراء ہوا جس کے معیار کی بلندی کے لئے یہی دلیل کافی ہے کہ بڑھتی ہوئی مانگ کے پیش نظر بتدریج اشاعت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اب تک اس کے سات شمارے ہاتھوں ہاتھ فروخت ہو چکے ہیں جبکہ مجموعی طور پر الطاہر کے علاوہ بھی ۲۰، ۲۲ کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ جماعت اصلاح المسلین خواہ جمعیۃ علماء کا قافلہ آج بھی حضرت صاحبزادہ مدظلہ کی قیادت میں رواں دواں ہے۔ رمضان المبارک کے احترام کے سلسلہ میں ہونے والی سرگرمیاں بدستور جاری ہیں۔ ماہوار اور ہفتہ وار جلسے پابندی سے ہو رہے ہیں۔ بذات خود حضرت صاحب مدظلہ العالی بھی سندھ، پنجاب اور بلوچستان کے کئی تبلیغی دورے کر چکے ہیں جبکہ حضور سوہنا سائیں قدس سرہ کے مجوزہ پروگرام کے تحت دو بار ۱۵، ۱۵ روز کا متحدہ عرب امارات کا بھی دورہ کر چکے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے اصلاحی پروگرام، تصیفہ قلب، تزکیہ نفس اور دعوتی نقطۂ نگاہ سے بڑے کامیاب ثابت ہوئے جہاں ہزاروں عجمیوں کے علاوہ کئی عرب حضرات بھی آپ کے دست حق پرست پر طریقہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت ہوئے اور وہاں سے لوگوں کی آمد و رفت کا سلسلہ جاری ہے۔

چند تبلیغی خطوط کے اقتباسات

بفضلہ تعالیٰ آج بھی حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے مقتدر خلفاء و علماء کرام، فقراء اور طلبا حضرات سینکڑوں نئے ساتھیوں کے اضافہ کے ساتھ حسب سابق جانفشانی اور محنت سے شریعت و طریقت کی اشاعت اور تبلیغ میں مصروف ہیں اور روزانہ کافی تعداد میں تبلیغی احوال پر مشتمل خطوط حضرت سجن سائیں مدظلہ کی خدمت میں ارسال کرتے رہتے ہیں جن کی قیادت و صلاحیت ہی کی بدولت مریدین و متعلقین میں دعوتی کام کا اس قدر شوق و جذبہ ہے کہ تقریباً روزانہ پڑھے جانے کے باوجود خطوط ختم نہیں ہو پاتے۔ ان ہزاروں تبلیغی خطوط میں سے مشت از نمونہ خروار چند ایک تبلیغی خطوط کے اقتباسات پیش خدمت ہیں۔

پہلا تبلیغی خط

۷۸۶

۹۲

از فقیر ولی محمد مہتمم دارالعلوم نورانی بمقام حسن آباد نورانی روڈ بلوچستان حضرت قبلہ صاحبزادہ سائیں محمد طاہر صاحب دامت برکاتہ

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

بعد از صد آداب و احترام و قدم بوسی معروض باد کہ حسب سابق مورخہ ۱۲ جمادی الاول کا ماہوار جلسہ پوری کامیابی سے منایا گیا۔ حضور کی نگاہ کرم سے بکثرت جماعت شامل ہوئی۔ حسب دستور بعد از نماز عشاء جلسے کی پہلی نشست کا آغاز ہوا، جس میں مدرسہ کے طلباء نے نعتیں اور منقبتیں سنائیں۔ فقیر گل محمد نے بھی منقبتیں سنائیں اس کے بعد مولوی قادر بخش صاحب عرف مستانہ نے تقریباً گیارہ بجے تک تقریر کی اور اسی پر رات کی مجلس کا اختتام ہوا۔ صبح بعد از نماز فجر مولانا قائم الدین صاحب نے فقہی مسائل بیان فرمائے جس کے بعد فقراء کو ناشتہ کھلایا گیا ٹھیک نو بجے کے بعد تلاوت کلام پاک سے دوبارہ جلسہ کا آغاز ہوا۔ تلاوت کلام مجید کے بعد مدرسہ کے طالبعلم عبدالحکیم اور مراد علی نے بارگاہ رسالتماب صلّی اللہ علیہ وسلم میں منظوم نذرانہ عقیدت پیش کئے، اس کے بعد مدرسہ کے سات طلباء نے ”شمع رسالت کے پروانے“ کے موضوع پر پرتاثیر تقاریر کیں۔ سامعین محظوظ ہوکر بار بار نعرۂ تکبیر و نعرۂ رسالت لگاتے رہے۔ طلباء کی تقاریر کے بعد اس عاجز نے آدھ گھنٹہ تقریر کی۔ آخر میں مولانا قادر بخش صاحب نے خطاب فرمایا۔ ان کے بعد دریجی بلوچستان سے آئے ہوئے محترم مولانا گل محمد صاحب نے ایک عجیب و غریب خواب سنایا جو پیش خدمت ہے۔

گنبد خضرا اور کعبۃ اللہ المشرفہ کی زیارت: فقیر صاحب نے جو کہ مسجد شریف کے امام، متقی و صالح آدمی ہیں، نے بتایا کہ ایک رات تہجد پڑھ کر میں جامع مسجد دریجی میں مراقب ہوا، مراقبہ میں نیند کا غلبہ ہوگیا۔ جس دوران حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ، ایک اور بزرگ اور حضور سوہنا سائیں قدس سرہ کی کافی ساری جماعت نظر آئی، حضور نے مجھے آنکھیں بند کرنے کا حکم فرمایا، معمولی وقفہ سے پھر دیکھنے کا حکم فرمایا۔ جیسے ہی میں نے آنکھیں کھولیں سامنے کعبۃ اللہ شریف اور اس کے قریب ہی گنبد خضرا نظر آئے حضور سوہنا سائیں قدس سرہ اور دوسرے بزرگ ان دونوں مقدس مقامات کی طرف جا رہے تھے۔ میں نے بھی موقعہ غنیمت جان کر حضور سے کعبۃ اللہ شریف کے طواف کی اجازت چاہی اس پر آپ نے فرمایا، جماعت کے فقراء ابھی آنے والے ہیں، ان کی آمد تک انتظار کریں، اتنے میں ہوائی جہاز سے قدرے مختلف ایک قسم کی سواری فضا میں اڑتی ہوئی حرم کعبہ کے قریب منزل انداز ہوئی جس میں سوار تمام لوگ حضور سوہنا سائیں قدس سرہ کے مریدین، فقراء، خلفاء اور علماء کرام تھے سبھی نے مل کر کعبۃ اللہ شریف کا طواف کیا۔ آخر میں نے حضور نور اللہ مرقدہ کی خدمت میں عرض کی کہ یا حضرت آپ کے ساتھ یہ دوسرے بزرگ کون ہیں؟ فرمایا، یہ حضرت قلندر شہباز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہیں۔ اس عظیم منظر کے اختتام پر پھر مجھے آنکھیں بند کرنے کا حکم فرمایا۔ مختصر وقفہ سے پھر آنکھیں کھولنے کا ارشاد فرمایا۔ آنکھیں کھولتے ہی میں نے اپنے آپ کو مسجد شریف میں محسوس کیا۔ اس عجیب خواب کے فوراً بعد مجھ پر جذب کی حالت طاری ہوگئی۔ بس حضور یہ آپ کی نگاہ کرم کا اثر اور فیض کا واضح ثبوت ہے۔ فقط، حضور کا غلام بندہ ناچیز فقیر ولی محمد

دوسرا تبلیغی خط

۷۸۶

۹۲

راجہ محمد شفیق پوسٹ بکس نمبر ۲۸۰۵ ابوظہبی

بحضور جناب قبلہ پیر و مرشد صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

بندہ عاجز اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور حضور نبی کریم رؤف رحیم صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل اور حضور قبلہ مرشد پاک کی نظر کرم سے بخیریت ہے اور حضور کی خیریت خداوند کریم سے نیک چاہتا ہوں۔ حضور قبلہ کے فرمان کے مطابق یہ عاجز دبئی میں خلیفہ حضرت محمد صدیق صاحب اور حاجی محمد اکرم صاحب کے پاس جاتا رہتا ہے۔ خاص کر جمعہ وہاں جاکر پڑھتا ہوں۔ یہاں فوج میں اس عاجز نے تبلیغ کا سلسلہ شروع کیا ہے اور حضور قبلہ کی نظر کرم سے اس عاجز کے ساتھ دو پکے فقیر بن گئے ہیں جنہوں نے حضرت خلیفہ صاحب سے ذکر بھی سیکھا ہے اور داڑھی مبارک بھی رکھ لی ہے۔ مورخہ ۲۵۔۱۔۱۹۸۵ء کو یہ عاجز نماز جمعہ پڑھنے کے لے دبئی گیا، وہاں پر کچھ آدمی کام کر رہے تھے۔ اس عاجز نے ان کو تبلیغ کی۔ ان میں ایک پاکستانی تھا جس کو یہاں رہتے ہوئے پندرہ سال ہوگئے ہیں اور وہ بزرگوں کو نہیں مانتا تھا۔ پیری مریدی کو شرک، بدعت کہتا تھا۔ جب اس عاجز نے اس کو حضور کے پیارے خلیفہ صاحب کا تعارف کرایا اور ان کے یہاں چل کر جمعہ پڑھنے اور ذکر اسم اعظم حاصل کرنے کے لیے کہا کہ اس سے تیرا دل بھی اللہ، اللہ کرنے لگ جائے گا تو وہ تیار ہوگیا۔ ایک اور آدمی بھی ساتھ چلا۔ اس عاجز نے دونوں کو خلیفہ صاحب سے ذکر دلایا۔ جب جمعہ پڑھ کر واپس آئے تو جو پہلے بزرگوں کے پاس جانے کو بدعت اور شرک کہتا تھا بڑا متاثر ہوا۔ واپس آتے ہی داڑھی مبارک رکھنے کا اعلان کیا جسے دیکھ کر اس کے ساتھ رہنے والے حیران ہوکر مجھے کہنے لگے کہ کیا بات ہے کہ اس قدر مخالف ذہنیت کا آدمی تھوڑی دیر میں بزرگوں کو برحق ماننے لگ گیا ہے۔ میں نے کہا یہ میرے مرشد پاک کا فیض ہے جن کی نظر کرم کے طفیل لوگ خائف خدا اور حضور نبی اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کے تحت زندگی گزارنے والے بن جاتے ہیں۔ یہ عاجز کافی دوستوں کو ذکر کے لئے خلیفہ صاحب کے پاس لے جاتا ہے۔ چنانچہ اس سے پہلے یہ عاجز جمعہ پڑھنے کے لئے گیا۔ نماز کے بعد سب دوست بیٹھ گئے تو ایک امریکی ڈاکٹر صاحب جن کے ساتھ اور بھی چار آدمی تھے جمعہ پڑھنے کے لئے آئے تھے۔ یہاں دبئی میں حضور کے کچھ ایسے مریدین بھی ہیں جن کے قلب سے ذکر کی آواز زور زور سے باہر سنائی دیتی ہے تو جب ڈاکٹر صاحب نے اس طرح ذکر کرتے دیکھا تو اس پر لرزہ طاری ہوگیا اور آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ کہنے لگے ہم تو یہاں دیکھنے کے لئے آئے تھے کہ دل کیسے ذکر کرتے ہیں اب تو عملی طور پر دیکھ لیا ہے کہ واقعی دل ذکر کرتے ہیں اس کے بعد ڈاکٹر صاحب اور اس کے ساتھیوں نے خلیفہ صاحب سے ذکر سیکھا اور ڈاکٹر نے امریکہ کا پتہ دے دیا اور جناب خلیفہ صاحب کو دعوت دی کہ امریکہ تبلیغ کے لئے تشریف لے آئیں۔ میں بڑی خوشی سے آپ کے ساتھ تعاون کروں گا۔ فقط، فقیر محمد شفیق از ابو ظہبی