فہرست
سیرت ولی کامل (حصہ اول)

حضور شمس العارفین الحاج اللہ بخش حضرت سوہنا سائیں قدس سرہ کے بارے میں ہم عصر عُلماء و مشائخِ عظام کے تاثرات

بارانِ رحمت

از قلم حضرت علامہ مولانا مفتی عبدالرحمٰن صاحب
مدرس جامعہ عربیہ غفاریہ
درگاہ اللہ آباد شریف کنڈ یارو

حضرت قبلہ سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ، حضرت پیر مٹھا قدس سرہ کے باکمال محبوب خلیفہ تھے۔ امیر المومنین سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرح سفر، حضر، خلوت و جلوت میں ہمیشہ حضرت پیر مٹھا قدس سرہ کے ساتھ رہے۔ تقریباً تیرہ برس کی عمر میں جب میں حضرت مولانا فضل اللہ صاحب کے مدرسہ میں زیر تعلیم تھا، استاد محترم کی دعوت پر جب حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ بستی سونو جتوئی تشریف فرما ہوئے۔ حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ بھی ہمرکاب تھے اور تمام جماعت آپ کو حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کا بڑا خلیفہ، نائب حقیقی، معرفت و حقیقت کا امین و وارث سمجھتے اور کہتے تھے۔

ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ حضرت پیر مٹھا قدس سرہ، گیارہ یا بارہ تاریخ کو بعد از نماز ظہر درگاہ رحمت پور شریف کی جامع مسجد کے شمالی حصے میں تشریف فرما ہوئے اور تمام مقیم و مسافر خلفاء کرام کو جمع ہونے کا حکم فرمایا۔ نہ معلوم کسی کوتاہی کی وجہ سے آپ ناراض تھے۔ جب تمام خلفائے کرام جمع ہوکر با ادب بیٹھ گئے تو ارشاد فرمایا ”تیں سندھی بے قدرے ہو، اہیں نعمت دا تساں کوں قدر کوئی نہیں، ذکر دے وچ بھی سست ہو، لہذا تیں مولوی اللہ بخش صاحب کوں آکھو، جیویں میکوں پنجاب وچوں گھن آیا، ایویں اتھے چھوڑ آئے“ حضرت صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے جلال کے پیش نظر خلفاء کرام نے حضرت سوہنا سائیں قدس سرہ کی طرف رجوع کیا، کچھ دیر نصیحت فرمانے کے بعد آپ حویلی مبارک میں تشریف لے گئے۔ (غالباً اس درمیان حضرت سوہنا سائیں قدس سرہ نے کسی طریقے سے منت و سماجت کرکے حضرت پیر مٹھا قدس سرہ کو اہل سندھ پر راضی کرلیا تھا) بعد از نماز عصر مذکور تمام خلفاء کرام کو اپنے تسبیح خانہ میں طلب فرمایا۔ حاضر ہونے پر ہشاش بشاش نظر آرہے تھے۔ ارشاد فرمایا، میرا خیال تو تھا کہ یہاں کے بے قدر لوگوں کو چھوڑ کر پنجاب یا کوئٹہ چلا جاؤں، مگر اب یہ خیال بالکل ترک کر دیا ہے۔ میں آپ حضرات سے راضی اور خوش ہوں۔ اب قیامت تک کے لئے میرے قدم یہاں مضبوط ہو چکے ہیں۔ سورج کی طرف اشارہ کرکے (جو غروب ہونے کے قریب تھا) فرمایا جس طرح اب یہ سورج غروب ہونے والا ہے اسی طرح میری زندگی کا سورج غروب ہونے والا ہے۔ اور جس طرح مال مویشی کے لئے چرواہے کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح جماعت کے لئے رہبر کی ضرورت ہوتی ہے، یہ عاجز آپ کے لئے ان کو (سوہنا سائیں قدس سرہ) قائد و سربراہ مقرر کرتا ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ آئندہ بھی نقشبندی فضلی فیض حاصل کرنے کے لئے بیرونی ممالک کے لوگ بھی سندھ چلے آئیں گے اور یہ سلسلہ تاقیامت جاری رہے گا۔ کہا جاتا ہے کہ باکمال مرشد مریدین کے دل موہ لیتا ہے اور ازلی سعید باکمال مرید بھی اپنی صداقت و محبت کی بدولت اپنے مرشد کا دل موہ لیتا ہے۔ بعینہ اسی طرح حضرت پیر مٹھا قدس سرہ نے حضرت سوہنا سائیں کا دل موہ لیا تھا اور حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ نے حضرت پیر مٹھا قدس سرہ کا دل جیت لیا تھا۔ بعض اوقات بھرے مجمع میں یہاں تک فرماتے تھے کہ اب یہ عاجز بوڑھا ہو چکا ہے، جی چاہتا ہے کہ مولوی اللہ بخش صاحب میری جگہ پر بیٹھ کر میری طرح خلق خدا کی خدمت کریں، ذکر اذکار سمجھائیں اور وعظ اور نصیحت کریں۔ میری نظر میں مرشد کامل کے حضور اس سے بڑھ کر اور کوئی مقام و منصب ہے ہی نہیں جس کا اظہار کیا جائے۔

تواضع اور انکساری: حضرت قبلہ پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کے وصال کے بعد حسب ارشاد جب تمام خلفاء کرام نے آپ سے بیعت ہونے کی خواہش ظاہر کی تو آپ نے انتہائی عاجزی اور انکساری سے سر سے عمامہ اتار کر خلفاء کرام کے سامنے رکھ دیا کہ میں اس بار گراں اٹھانے کے قابل نہیں ہوں۔ کوئی اور خلیفہ آگے بڑھ کر یہ کام سنبھال لے یہ عاجز معاون رہے گا۔ آخر حضرت پیر مٹھا قدس سرہ کے فرمان اور خلفاء کرام کے غیر معمولی اصرار کے بعد آپ نے بیعت فرمایا۔ یقینی طور پر آپ درج ذیل شعر کے مصداق تھے۔

ع: ازاں برملائک شرف داشنتد
کہ خود را ز سگ بد بہ پندا شتد

ترجمہ: اپنے آپ کو کتے سے بھی کمتر سمجھنے کی وجہ سے ان کا مقام فرشتوں سے بھی بڑھ گیا۔

جب کبھی درگاہ اللہ آباد شریف یا فقیر پور شریف میں کسی مشورہ کے لئے خلفاء کرام کو بلاتے تھے تو یہی فرمایا کرتے کہ یہ عاجز نہ تو مسند نشینی کا خواہاں تھا نہ ہی اپنے آپ کو اس کا اہل سمجھتا تھا۔ آپ حضرات نے مجبور کرکے مجھے آگے کیا ہے لہٰذا اس بارے میں جو مشورہ آپ دیں گے اسی کے مطابق عمل کیا جائے گا، میر ی ذاتی رائے کچھ بھی نہیں ہے۔ سیدنا حضرت امام ربانی مجدد منور الف ثانی قدس سرہ نے فرمایا ہے کہ طریق وصول الی اللہ دو اند ثالث نیست، یکے محبت پیر دوم دید قصور۔ بغور دیکھا جائے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو بدرجہ کمال ان دونوں خوبیوں سے نوازا تھا۔

کرامت: ایک مرتبہ مورخہ ۲۳ ربیع الاول شریف بروز بدھ حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ چند خلفاء و فقراء کے ہمراہ تبلیغی سلسلے میں اندرون سندھ کے نہری اور بارانی آبادی کے درمیانی علاقے میں بگ نامی بستی میں تشریف لے گئے۔ سخت گرمی کا موسم تھا، بارش نہ ہونے کی وجہ سے مذکورہ علاقہ میں سفر کا راستہ سخت مشکل تھا۔ مال مویشی کی حالت دیکھی نہیں جاتی تھی۔ جیسے ہی حضور وہاں تشریف لے گئے، قحط اور خشک سالی کے ستائے ہوئے سینکڑوں افراد، جن میں شیعہ مذہب کی بستیوں کے مخالف بھی شامل تھے دعا کے لئے حاضر ہوئے، نماز عصر کے بعد بیک آواز سب نے دست بستہ دعا کے لئے عرض کی۔ گو انبیاء کرام علیہم السلام اور اولیاء رضی اللہ عنہم کا اصل منصب و مقام مخلوق کو خالق سے واصل کرنا اور شریعت مطہرہ کی ترویج و اشاعت کے لئے کام کرنا ہے۔ مگر ایسے قحط کے زمانوں میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا بارگاہ رسالتماب صلّی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوکر باران رحمت کے لئے دعا طلبی ثابت ہے۔ اسی طرح نائب نبی ہونے کے ناطے کئی قحط زدہ یا مشکلات میں پھنسے ہوئے لوگ بھی میرے آقا حضور سوہنا سائیں قدس سرہ کی خدمت میں حاضر ہوکر دعا کرواتے تھے اور اللہ تعالیٰ ان کی جائز حاجات پوری فرما دیتا تھا۔ چنانچہ جب حضور نے بارگاہ لم یزل میں ہاتھ اٹھا کر عاجزانہ دعا فرما کر نئے واردین کو ذکر قلبی کا وظیفہ سمجھایا اور مختصر نصیحت بھی فرمائی، نماز مغرب کے بعد شمال مغرب سے گھنے بادل نظر آئے، نماز عشاء کے بعد تقریباً بارہ بجے تک حضرت قبلہ حاجی بخشیل صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے خطاب فرمایا، حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے بعد جیسے ہی دوسرے مقرر نے تقریر کے لئے خطبہ شروع کیا، سخت آندھی اور زور دار ہوا شروع ہوئی، آخر مقرر نے تقریر یہ کہہ کر ملتوی کر دی کہ آپ حضرات نے حضور سے بارش کے لئے دعا کروائی تھی، حضور بفضلہ تعالیٰ مستجاب الدعوات ہیں، چونکہ حضور کی تشریف آوری کا اصل مقصد تبلیغ تھا اس لئے اب تک وہ مقصد پورا ہو چکا، اس لئے اب برسات کی باری ہے۔ حسب معمول نماز عشاء کے بعد حضور قیام گاہ پر آرام فرما تھے۔ مگر آندھی اور سخت ہوا کی وجہ سے بیدار ہوگئے، وضو کرکے نوافل اور تہجد پڑھنے لگے۔ اس درمیان بارش بھی شروع ہو چکی تھی، مگر جیسے ہی دو بجے تہجد سے فارغ ہوکر حضور نے بارگاہ الٰہی میں دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے (عموماً آ پ تہجد کے وقت بہت طویل دعا مانگتے تھے) اس قدر بارش ہوئی جیسا کہ دریا کے تمام دروازے کھول دیئے جائیں اور پوری قوت سے دریا کا پانی جاری ہو جائے۔ چند ہی منٹوں میں تمام علاقے میں پانی ہی پانی نظر آرہا تھا۔ دوسرے دن خلیفہ محترم حاجی عبدالسلام صاحب کے یہاں جلسہ کا پروگرام تھا، صبح کو حضور نے خلفاء کرام کو مشورہ کے لئے بلایا اور فرمایا کہ حاجی جان محمد صاحب (بگ کے صاحب دعوت) نے ایک رات کے لئے دعوت دی تھی، لہٰذا مزید یہاں ٹھہرنا درست نہیں۔ رہی یہ بات کہ آگے حاجی صاحب کی دعوت پر چلیں، یا واپس درگاہ چلیں اس بارے میں مشورہ کرنا ہے۔ بہرحال مشورہ یہی طے ہوا کہ حاجی صاحب کے جلسے میں جائیں تو بہتر ہے۔ مشورے کے مطابق حضور اور محترم لانگری مولانا عبدالرحمان صاحب کو بعد از نماز ظہر سم بستی (جہاں جمعرات کا جلسہ تھا) پہنچنا تھا، جب کہ دیگر تمام خلفاء اور فقراء کو صبح جانا تھا، لیکن سخت بادل کے پیش نظر صبح جانے والے کترا رہے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ بارش برسے حضور سم بستی تشریف نہ لائیں۔ یہ معلوم ہونے پر حضور اٹھ کھڑے ہوئے اور فرمایا، چلو ہم بھی ابھی چلتے ہیں، یہ پڑھ کر سامعین کو یقیناً حیرت ہوگی کہ جیسے ہی حضور کمرے سے باہر تشریف فرما ہوئے فوراً بادل بکھر گئے، سورج نمودار ہوگیا، بظاہر بارش کا کوئی خطرہ نہ رہا۔ اس پر صبح جانے والے حضرات بھی قدرے مطمئن ہوئے کہ اب موسم بھی خوشگوار ہو چکا ہے، حضور کا بھی آنے کا پختہ ارادہ ہے۔ بہرحال پھر بھی صاحب دعوت کے اصرار پر ظہر تک کے لئے حضور رک گئے۔ دیگر احباب اسی وقت روانہ ہوگئے۔ شام کو حضرت صاحب بھی جلسہ گاہ پہنچ گئے۔ واضح رہے کہ حضرت پیر مٹھا قدس سرہ کے وصال کے بعد اس علاقہ کا یہ پہلا تفصیلی تبلیغی دورہ تھا۔ اس لئے دور دور سے بڑی تعداد میں نئے و پرانے فقراء تشریف لائے تھے، کاچھو اور پہاڑی علاقے کے یہ فقراء بہت صالح عشق و محبت کے میدان میں پیش پیش نظر آرہے تھے۔ رات کو بہت اچھا جلسہ ہوا، نماز جمعہ کا پروگرام بھی اسی سم بستی میں رکھا ہوا تھا۔ نماز جمعہ کے بعد ایک شخص نے اٹھ کر عرض کی کہ یا حضرت کل کی برسات ہمارے بنجر علاقہ کے لئے ناکافی ہے، دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ اس سال اتنی بارش برسائے جتنی حضرت خواجہ پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کی دعا سے اس وقت برسائی تھی، جب میرے سسر نے بارش کے لئے دعا کی گذارش کرتے ہوئے عرض کی تھی کہ یا حضرت اس قدر قحط سالی ہے کہ مال مویشی کے علاوہ انسانوں کے پینے کے لئے بھی پانی ناکافی ہے، یہاں تک کہ ”نصیر جی پٹ“ کے علاقہ میں پانی نہ ملنے کی وجہ سے ایک عورت بالاخر فوت ہو گئی ہے۔ یہ سن کر حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کی آنکھوں میں آنسو گئے اور بارگاہ الٰہی میں دعا فرمائی، جس کے نتیجے میں اس سال ہی نہیں بلکہ بعد میں بھی کئی سال تک اس قدر بارش برستی رہی کہ اسی ”نصیر جی پٹ“ میں ہم نے گندم کاشت کی، آپ بھی پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کے نائب ہیں دعا فرمائیں کہ پھر سے یہ سارا ویران علاقہ پوری طرح آباد ہو جائے۔ آپ نے اسی وقت ہاتھ اٹھا کر دعا فرمائی، ہم فقیر جو آپ کے ساتھ تھے قدرے پریشان ہونے لگے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ بارش برسے اور پہاڑی ندیاں بہہ کر راستے میں حائل ہو جائیں اور کئی دن تک ہمیں اس علاقہ میں ہی رہنا پڑے۔ بہر حال حضور کی واپسی تک بارش نہیں برسی ہفتہ کے بعد حضور درگاہ فقیر پور شریف پہنچے اتوار کی رات کو اس قدر زور دار بارش برسی اور پہاڑی نالوں میں طغیانی آئی کہ بچاؤ بند کے ٹوٹنے کا خطرہ لاحق ہوگیا۔ چنانچہ بگ کے مشہور زمیندار حاجی فیض محمد صاحب نے یہ پیغام دے کر اپنا بھائی حضور کی خدمت میں بھیجا کہ حضور دعا فرمائیں کہ بارش ختم ہو جائے۔ ورنہ بچاؤ بند ٹوٹنے کی صورت میں سینکڑوں ایکڑ نہری آبادی بھی اس کی لپیٹ میں آجائے گی۔ فائدہ سے بڑھ کر نقصان اٹھانا پڑے گا۔ آپ نے دعا فرمائی اور مزید بارش نہ برسی۔ چند دن بعد سم کے علاقہ سے خلیفہ حاجی عبدالسلام صاحب کی جماعت کا ایک فقیر حاضر ہوا، اور عرض کی یا حضرت ہمیں معلوم ہوا ہے کہ علاقہ بگ کے لوگوں نے بارش ختم ہونے کی دعا کرائی تھی۔ اس کے بعد بارش بالکل ختم ہو چکی ہے۔ حالانکہ ہمارے بارانی علاقہ میں ابھی پانی کی ضرورت باقی ہے۔ ان کو چاہیے تھا کہ بچاؤ بند مضبوط کر لیتے جس سے ان کی نہری آبادی محفوظ رہتی۔ یہ سن کر آپ نے تبسم فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا۔ آپ حضرات (سم اور بگ دونوں علاقوں کے فقراء) کو چاہیے تھا کہ باہمی مشورہ کرکے دعا کراتے۔ اس کے بعد تواضع و کسر نفسی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔ میری کیا حیثیت ہے، بس فقیر کا کام ہے کہ بارگاہ رب العزۃ میں ہاتھ اٹھا کر دعا کرے، قبول کرنا یا نہ کرنا اللہ تعالیٰ کے دست قدرت میں ہے، وہی مرضی کا مالک و مختار ہے۔ درگاہ طاہر آباد شریف قیام کے دو سال بعد تک مسافر فقراء اور وہ جو حضور کے ساتھ اللہ آباد شریف سے بمعہ اہل و عیال آئے تھے ان کی رہائش کے لئے مکانات کا خاطر خواہ انتظام نہ تھا، جب کہ حضور کی تشریف آوری بھی برسات کے موسم میں ہوتی تھی۔ اس وقت تائید الٰہی اس طرح شامل حال رہتی کہ درگاہ شریف کے گرد ایک ڈیڑھ میل کے فاصلہ سے چاروں طرف سخت بارش ہوتی تھی۔ مگر درگاہ شریف اور اس کے قریبی علاقے میں معمولی قسم کی بارش ہوتی تھی۔ بعض مخالف افراد یہ کہتے سنے گئے کہ نواب شاہ سے آئے ہوئے ان فقیروں نے ہمیں بارش کی نعمت سے محروم کر دیا ہے، جس وقت بادل قریب آتے ہیں۔ یہ قرآن مجید لے کر میدان میں کھڑے ہو جاتے ہیں اور بادل برسے بغیر چلے جاتے ہیں۔ (حالانکہ قرآن شریف اٹھا کر میدان میں کھڑا ہونا محض الزام تھا) جب کہ موافق عقید تمند یہ کہتے سنے گئے کہ یہ اللہ والے آدمی ہیں بادل ان کے بچوں کے اشارے سے بھی چلتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

بہرحال تیسرے سال جب کہ مکانات کا مناسب انتظام ہو چکا تو اس قدر سکت بارش آئی کہ نشیبی مکانات گرنے لگے۔ بستی خان محمد بوزدار کے کئی فقیروں کے مکانات گرے بھی تھے۔ چنانچہ مذکورہ بستی کے فقراء نے آکر عرض کی کہ یا حضرت دعا فرمائیں بارش رک جائے، ہمارے مکانات نشیبی جگہ پر واقع ہیں مزید نقصان کا اندیشہ ہے۔ اس پر تبسم فرما کر ارشاد فرمایا: ”نہیں یہاں کے لوگوں کو بارش کی ضرورت ابھی باقی ہے، بلا وجہ فقیروں پر الزام تراشیاں کرتے رہے ہیں، اس لئے کچھ اور برسات برسنی چاہیے۔“ بہرحال آپ نے بارگاہ رب العزت میں ہاتھ اٹھا کر دعا فرمائی اوربارش بالکل ختم ہوگئی۔

عرصہ تک طاہر آباد شریف کی جائے نماز بہت چھوٹی سی تھی، تراویح میں شرکت کے لئے قریب کی بستیوں سے اور بھی فقراء آجاتے تھے عموماً نماز صحن مسجد میں ہوتی تھی۔ برسات کے موسم میں کئی بار ایسے ہوا کہ سخت گھنے بادل گرجتے چمکتے قریب آپہنچتے، بظاہر برسنے کا قوی اندیشہ ہوتا مگر حضور پوری دل جمعی سے نماز میں مشغول ہوتے تھے۔ جب کہ ہم لوگ قدرے پریشان ہوتے تھے۔ مگر حضور کے طفیل اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہمیشہ ساتھ رہا۔ جس سال سخت ترین بارشیں (غالباً ۱۹۷۴ء میں) ہوئی تھیں۔ اس سال بھی تراویح کی نماز پابندی سے باجماعت ہوتی رہی، اور نماز کے بعد بیرونی فقراء آرام سے اپنے اپنے گھروں میں چلے جاتے تھے۔ ایک بار مجھے یاد ہے کہ حضور علاج کے سلسلے میں کراچی تشریف لے گئے تھے، اس رات نماز عشاء کے وقت اس قدر سخت برسات برسی کہ فقراء کو دو تین مقامات پر جماعت کرنی پڑی۔ (جائے نماز ناکافی ہونے کی وجہ سے) تراویح کے بعد بستی خان محمد بوزدار سے آئے ہوئے فقراء واپسی پر بڑے پریشان ہوئے اور کہنے لگے کہ بہتر یہ تھا کہ حضور کو عرض کیا جاتا کہ رمضان المبارک میں کراچی تشریف نہ لے جاتے تاکہ ہم تسلی سے نماز تراویح تو پڑھ لیتے۔ غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے حضور قبلہ سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے وجود باجود میں ظاہری و باطنی غیر معمولی فیوض و برکات و دیعت رکھی تھیں۔

 

محب رسول الثقلین صلّی اللہ علیہ وسلم

از حضرت خلیفہ سید محمد جیئل شاہ جیلانی مدظلہ
رحمت پور شریف ضلع جیکب آباد

نحمدہ نصلی علی رسولہ الکریم

امابعد! میں سیدی و مرشدی ہادی و رہبر حضرت سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ کی بیعت سے پہلے طریقہ عالیہ قادریہ کے مشہور بزرگ حضرت سائیں غلام مرتضیٰ شاہ جیلانی رحمۃ اللہ علیہ گمبٹ والوں سے بیعت تھا، اور بعض جھوٹے مخالفین کی من گھڑت باتیں سن سن کر حضرت سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ کی جماعت غفاریہ سے متنفر تھا۔ حضرت غلام مرتضیٰ شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے انتقال کے بعد مرشد کامل کی تلاش میں سندھ، پنجاب اور بلوچستان کی کئی مشہور خانقاہوں پر محض اس لئے حاضر ہوا کہ راہ حق کا کوئی رہبر و رہنما مرشد کامل ملے۔ ان مسند نشین بزرگوں سے تفصیلی ملاقاتیں کیں، فیض کا منتظر رہا۔ مگر منزل مقصود کا شناسا و رہرو میسر نہ آنے پر سخت پریشان ہوا۔ اس دوران اولیاء کاملین کی کتب کا مطالعہ بھی کرتا رہا۔ مثلاً سیدنا محبوب سبحانی قطب ربانی شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب غنیۃ الطالبین، حضرت فرید الدین عطار رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب تذکرۃ الاولیاء اور حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب کیمیائے سعادت وغیرہ۔

طبیعت میں عشق و محبت کا دریا موجزن تھا، ساتھ ساتھ اپنی محرومی پر شدت سے افسوس بھی، حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے مخلص مرید فقیر رسول بخش سیال صاحب رحمۃ اللہ علیہ اس وقت زندہ تھے اور میرے انتہائی قریبی دوست بھی تھے۔ انہوں نے کئی بار مجھے حضرت سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں چلنے کے لئے کہا، اور خود مذکور فقیر صاحب سے ہم نے کشف و کرامات کے کئی واقعات بھی دیکھے تھے، تاہم سنی سنائی افواہوں کی وجہ سے پھر بھی حضرت سوہنا سائیں رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں حاضر نہ ہوا اور سوچا کہ حجاز مقدس ہی سرچشمہ رشد و ہدایت ہے، وہاں جا کر تلاش کروں، شاید کوئی ایسا کامل مرشد مل جائے جس میں اولیاء کاملین کی جملہ علامات و اوصاف موجود ہوں۔ آخر حجاز مقدس حاضر ہوکر بڑے انہماک سے تلاش کی، تہہ دل سے دعائیں مانگیں مگر بظاہر گنج مطلوب سے بے بہرہ اور سخت پریشان حال ہوکر لوٹا۔ بقول حضرت شاہ عبدالطیف بھٹائی رحمۃ اللہ علیہ

وکر ته ڍيرون ڍير، پر وهائڻ وارا ويسرا

ترجمہ: ”بازار میں ہر چیز موجود ہے، مگر خریداروں کی غفلت ہی محرومی کا باعث ہے“۔ میں بھی بحر و بر کی خاک چھانتا رہا، اور میرا مطلوب تو قریب ملنے والا تھا۔ شاید حرمین شریفین کی نیم شبی دعاؤں اور آہوں کا صدقہ تھا کہ جب حجاز مقدس سے واپس سندھ پہنچا، فقیر رسول بخش صاحب ملاقات کے لئے آئے، جن سے پہلے ہی متاثر تھا۔ میں نے دل کھول کر ان کو اپنی طویل داستان سنائی۔ انہوں نے بلا تامل حجاز مقدس میں پیش آنے والے جملہ حالات، واردات ازبر بتانے شروع کر دیئے، میں حیران ہوگیا کہ یہ واردات و کیفیات ان کو کیسے معلوم ہوگئیں؟ آخر میں پھر بھی انہوں نے حضرت سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ کے یہاں حاضر ہونے کی دعوت دی کہ چل کر ان کی بھی زیارت کریں، ہو سکتا ہے کہ آپ کی قلبی خواہش وہاں سے پوری ہو جائے۔ الغرض اس بار ان کی پرخلوص دعوت نے مجھے اپنے ماضی پر نظر ثانی اور یہ سوچنے پر مجبور کیا، کہ جب پیر صاحب (حضرت سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ) کے ایک مرید کو رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کے دربار اقدس کا اتنا قرب و حضور حاصل ہے کہ وہاں کے پیش آنے والے جملہ حالات و واردات سے مطلع ہیں تو ان کے پیر صاحب کا کیا مقام ہوگا؟ میں نے فقیر صاحب کو کہا، جناب دراصل بات یہ ہے کہ میں طریقہ عالیہ قادریہ سے بیعت ہوں، اب اگر حضرت غوث اعظم سیدنا عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ (جن سے مجھے شرف نسب بھی حاصل ہے) کی اجازت کے بغیر سلسلہ نقشبندیہ کے کسی بزرگ کے پاس چلا جاؤں گا تو وہ مجھ سے ناراض ہو جائیں گے لہٰذا اگر بذریعہ خواب مجھے سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ کے پاس جانے کا حکم فرمائیں گے تو بڑی خوشی سے ان کی خدمت میں حاضر ہوں گا، ورنہ میں نہیں جا سکتا۔ فقیر صاحب یہ کہہ کر اپنے گھر چلے گئے کہ آپ کا کہنا بجا ہے۔ الحمدللہ کہ حضرت سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صریح حکم فرما کر مجھے حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے پاس جانے کا امر فرمایا۔

فقیر رسول بخش صاحب تو اپنی بستی محبت دیرو جتوئی جا چکے تھے، میں تنہا حضرت سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں درگاہ فقیر پور شریف حاضر ہوا۔ میں دل ہی دل میں سوچنے لگا کہ حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تو ان کی خدمت میں بھیجا ہے، اب دیکھوں کہ یہ بھی مجھے پہچان لیتے ہیں یا نہیں۔ آپ نے دیکھتے ہی مجھے نور معرفت سے پہچان لیا اور اتنی کرم نوازی فرمائی کہ بیان نہیں کرسکتا۔ اسی وجہ سے حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے یہاں حاضری اور بیعت و غلامی کو میں حضور کی کرامت اور کشش ہی سمجھتا ہوں۔ ساتھ ساتھ یہ بھی عرض کروں کہ میں نے کسی خوش فہمی یا محض کرامت دیکھ کر ہی نہیں بلکہ جس طرح احیاء علوم الدین میں حضرت امام غزالی علیہ الرحمۃ نے فرمایا ہے: ”مرشد ایسا پکڑنا چاہیے جو صاحب شریعت ہو، رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کی ہر ایک سنت پر عمل کرتا ہو، اس کے عقائد ماسلف، اہل سنت و جماعت کے مطابق ہوں، حسد، بخل، تکبر، دنیا کی چاہت، کج فہمی، ریا، بد اخلاقی سے پاک و صاف ہو، اگر ان علامات کا حامل کوئی بزرگ زندگی میں مل جائے تو بلا تاخیر اس کی غلامی و مریدی اختیار کی جائے۔ ایسے ہی پاک طینت صاحب نسبت بزرگوں سے فیض محمد ی صلّی اللہ علیہ وسلم حاصل ہوتا ہے۔“ میں نے بیک وقت تمام کمالات کا جامع پا کر اسی وقت حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ سے بیعت کی۔ یہ ۱۹۷۵ء کا واقعہ ہے۔ اس کے بعد تو الحمدللہ مسلسل آمد و رفت جاری رہی۔ اظہار حقیقت کے لئے میں بجا طور پر کہہ سکتا ہوں کہ میں نے مرشد کامل کی تلاش میں پورا پاکستان چھان مارا۔ اس کے بعد ہندوستان اور اولیاء کرام اور انبیاء علیہم السلام کے مسکن عراق اور نبی آخر الزمان علیہ الصلوۃ والسلام کے مسکن و مرقد حجاز مقدس بھی حاضر ہوا اور بڑی لگن اور بے چینی سے مرشد کامل کی تلاش و تفتیش کی، مگر خدا کی قسم حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ جیسا صاحب شریعت کہیں نظر نہیں آیا۔ اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ”گھوٽ ته گھر ويٺي ملي ويو“ گھر بیٹھے بہ ہمہ، صفت ولایت موصوف مرشد سندھ میں ہی مل گیا۔ جس دن میں حاضر ہوا تھا کوئی خادم یا فقیر میرے ساتھ نہیں تھا۔ اکیلا ہی تھا، پھر بھی میری اصلاح کے لئے آپ نے برابر دو گھنٹے خطاب فرمایا سبحان اللہ والحمدللہ حمداً کثیراً۔

حبیب خدا اشرف انبیاء صلّی اللہ علیہ وسلم سے کمال عشق و محبت کے پیش نظر آپ اہل بیت کی بہت عزت فرماتے تھے، اسی نسبت سے حضور کی شفقت اس عاجز پر اور بھی زیادہ تھی۔ باوجودیکہ میں حضور کا مرید اور خادم تھا، پھر بھی جب کبھی حاضر ہوتا بیٹھنے کے لیے مصلٰے عنایت فرماتے تھے اور کبھی اپنے ہی مصلے پر ساتھ بٹھا لیتے تھے۔ آخری چند سال ضعف و کمزوری اور مختلف عوارض کی وجہ سے آپ کرسی پر ہی تشریف فرما رہتے تھے، پھر بھی جب قدم بوسی کے لئے میں حاضر ہوتا، تو دوسری کرسی منگوا کر اپنے ساتھ بٹھا کر پیار و محبت سے حال احوال دریافت فرماتے تھے۔ گو میں بخوشی عرض کرتا کہ حضور میں نیچے بیٹھ جاتا ہوں، حضور تکلف نہ فرمائیں، پھر بھی ارشاد فرماتے تھے

ابا هي ڪيئن ٿو ٿي سگھي ته مان ڪرسي تي ويهان ۽ آل رسول هيٺ ويهي۔

ترجمہ: یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک صالح اہل بیت نیچے بیٹھے اور میں کرسی پر بیٹھوں۔

یہ تھی آپ کی رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم سے محبت و نسب۔ میں نے بعض بزرگوں سے سنا ہے کہ جو اولیاء فنا فی الرسول کے مقام پر فائز ہوتے ہیں وہ آل رسول صلّی اللہ علیہ وسلم کی بہت تعظیم کرتے ہیں۔ سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی محبوب سبحانی رحمۃ اللہ علیہ سے بھی آپ کو کمال درجہ محبت تھی۔ ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ میں بھی تبلیغی سفر میں حضور کے ساتھ کراچی گیا ہوا تھا۔ ایک جگہ تقریر کرتے ہوئے ایک مولوی صاحب نے ازراہ عقیدت و محبت کہا کہ بلاشبہ حضور سیدنا عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک چور کو ولی بنا دیا تھا، جس کا تذکرہ آج تک کتابوں میں چلا آرہا ہے، لیکن میرے پیر و مرشد مدظلہ العالی نے تو ہزاروں چوروں کو ولی بنا دیا ہے۔ ان کی اس تقریر سے مجھے بڑا صدمہ پہنچا اور میں اپنے تئیں یہی سمجھنے لگا کہ شاید یہ مولوی صاحب اپنے پیر و مرشد کو حضرت محبوب سبحانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے افضل سمجھتے ہیں۔ کافی دکھ کے باوجود میں خاموش رہا۔ ادھر حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ بھی اپنے خداداد کشف سے میرے قلبی حالات سے آگاہ ہوتے جارہے تھے۔ رات گزار کر صبح دوسری جگہ جلسہ میں جانا تھا۔ حضور نے حسب معمول مہربانی فرما کر مجھے اپنے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بٹھایا۔ تھوڑی ہی دور چل کر فرمانے لگے رات جن مولوی صاحب نے تقریر کی اس کو مافی الضمیر سمجھانے کا صحیح طریقہ نہیں آیا، میں تو حضرت محبوب سبحانی علیہ الرحمہ کے ہم پلہ کب ہو سکتا ہوں، میں تو ادنی سا مرید ہوں وہ میرے پیر بلکہ پیروں کے بھی پیر ہیں، وہ ہمارے آقا ہیں، اس جماعت پر ان کی خاص شفقت و مہربانی ہے، میرے لئے تو ان کے دربار کی صفائی کرنے والوں میں سے ہونا بھی غنیمت سے کچھ کم نہیں۔ میں حضرت غوث الاعظم رحمۃ اللہ علیہ کا ادنی غلام ہوں وہ میرے آقا ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ آپ کے ان پر خلوص ارشادات سے نہ فقط میرا قلبی خدشہ و خطرہ زائل ہوا، بلکہ آپ سے عقیدت و محبت میں مزید اضافہ ہوگیا۔ حضرت غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے آپ کو اس قدر محبت تھی کہ تقریباً ہر محفل و مجلس میں آپ کا تذکرہ فرماتے تھے۔ بالخصوص ہر ستائیس کے جلسہ پر محترم خلیفہ مولانا عبدالرحمٰن صاحب کو حضرت غوث اعظم کے پیغام فتح الربانی ملفوظات حضرت محبوب سبحانی علیہ الرحمہ سنانے کا حکم فرماتے تھے، خود بھی متوجہ ہوکر سنتے تھے اور فقراء کو بھی تاکید فرماتے تھے۔ حضرت غوث اعظم سے نسبت کی بنا پر اس عاجز و ناقص کو بھی بہت پیار و محبت سے نوازتے تھے۔

کشف: جب میرے والد ماجد قبلہ رحمۃ اللہ علیہ کا انتقال ہوا، میں دورۂ تعلیم کے سلسلہ میں درگاہ اللہ آباد شریف میں مقیم تھا، اور غلطی سے گھر بتا کر بھی نہیں آیا تھا کہ کہاں جا رہا ہوں۔ اچانک ایک دن حضور نے بلا کر فرمایا شاہ صاحب آپ آج گھر چلے جائیں۔ حسب فرمان میں سیدھا گھر چلا گیا، وہاں پہنچنے پر معلوم ہوا کہ حضرت قبلہ والد صاحب کا انتقال ہو چکا ہے، تمام رشتہ دار اور احباب کو صرف میرا ہی انتظار ہے۔ میں نے جا کر ان کی زیارت کی اور دفن کرایا، ادھر میری تلاش کے لئے کئی آدمی موٹر سائیکلوں اور جیپوں پر دور دور جا چکے تھے (اللہ آباد شریف بھی گئے تھے) جب وہ واپس پہنچے تو کہنے لگے آپ کو کیسے پتہ چلا کہ ازخود آگئے؟ میں نے کہا مجھے تو اپنے پیر و مرشد حضرت سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ نے خبر دے کر بھیجا ہے۔

کرامت: شادی کے بعد عرصہ تک اولاد نہیں ہوئی، میں نے ۱۲ ربیع الاول شریف بروز سوموار ۱۹۸۱ء حاضری کے وقت دعا کے لئے عرض کی، آپ نے نورانی ہاتھ اٹھا کر دعا فرمائی۔ ۱۴ ربیع الاول شریف کی رات خواب میں اپنے آپ کو تبلیغی سفر میں حضور کے ساتھ محسوس کیا۔ نیز یہ کہ مجھے سخت پیاس لگی ہے مگر حضور کی موجودگی کی وجہ سے خاموش ہوں، یہاں تک کہ آپ نے مجھے اپنے سرہانے سے اسٹیل کا ایک کٹورہ دے کر قریب کے نل سے پانی پینے کا حکم فرمایا۔ میں کٹورہ لے کر گیا، لیکن نل سے پانی کے بجائے دودھ نکل رہا ہے جو کہ از حد میٹھا، ٹھنڈا اور خوشبودار ہے، جاگنے پر مجھے یقین ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ نرینہ اولاد سے نوازے گا۔ سبحان اللہ صرف ۹ ماہ کے قلیل وقفہ سے اللہ تعالیٰ نے فرزند عطا فرمایا۔

خواب میں جنت نظر آئی: پنجاب کے تبلیغی سفر میں عموماً یہ عاجز بھی جاتا تھا اور ہر سال سفر کے اختتام میں کسی نہ کسی فقیر کو بشارت آمیز عمدہ خواب نظر آتا تھا۔ ایک سال مجھے یہ خیال ہوا کہ کاش مجھے بھی کوئی عمدہ خواب نظر آجائے جس سے میرا ایمان مزید پختہ ہو، چنانچہ جب اختتام سفر پر حضور محترم حاجی نذر محمد وٹو صاحب کی دعوت پر نزد ہارون آباد ضلع بہاول نگر، ان کی بستی میں تشریف لے گئے، اس رات مجھے خواب میں جنت کی زیارت نصیب ہوئی، جسے دیکھ کر عقل دنگ رہ گئی۔ دنیا کے کسی عمدہ سے عمدہ محل سے بھی تشبیہ نہیں دی جاسکتی۔ حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی جماعت مجھے حضور کے ساتھ ہی نظر آئی، تمام جماعت کے سروں پر نورانی تاج تھے، جن کی خوبصورتی اور نورانی شعاعوں کے سامنے سورج بھی ماند نظر آتا ہے۔ اس عجیب و غریب خواب سے مجھے بے حد قلبی تقویت ملی اور میرے نزدیک اس کی تعبیر یہی ہے کہ اہل اللہ کی خدمت میں رہنے اور ان کے ساتھ اخلاص و محبت سے تبلیغی سفر میں شامل ہونے والوں کو اللہ تعالیٰ بروز قیامت بھی ان کے ساتھ ہی جنت کی نعمتوں سے نوازے گا۔ آمین

فیض کی بارانی: بروقت مجھے حضور کے وصال کی خبر نہیں پہنچی تھی، مگر وصال کے دن میں نے اس قدر فیض کی بارانی محسوس کی کہ زندگی بھر کبھی اتنی مہربانی نہیں ہوئی تھی، مگر اس کے سمجھنے سے قاصر رہا۔ جب معلوم ہونے پر دربار عالیہ پر حاضر ہوا، بے اختیار گریہ طاری تھا، مزار اقدس پر مراقب ہوا تو آپ کی زیارت ہوئی، آپ بڑے مطمئن اور خوش نظر آئے، مجھے روتے دیکھ کر فرمایا، روتے کیوں ہو؟ ذرا قریب آجاؤ تاکہ تمہاری پیشانی کو بوسہ دیدوں۔ (والئ کوثر سردار دو جہاں صلّی اللہ علیہ وسلم اور حضرت سیدنا عبدالقادر جیلانی قدس سرہ سے نسبت کی بدولت دنیا میں بھی غیر معمولی عنایات فرماتے تھے) حضور کے وصال کے بعد پہلی بار خواب میں حضور ہماری بستی میں نظر آئے، لاکھوں کی تعداد میں مریدین زیارت کے لئے مشتاق کھڑے نظر آئے، یہ عاجز اور مولانا عبدالغفور صاحب حضور کی کرسی کے قریب سامنے با ادب کھڑے تھے کہ آپ نے متوجہ ہوکر ارشاد فرمایا: آپ کو جو یہ نعمت (ذکر اللہ) عطا ہوئی ہے اس کی قدر کریں۔ سبحان اللہ، بعد از وصال بھی اللہ تعالیٰ کے ذکر و یاد کی تلقین فرما کر ہماری رہبری فرما رہے ہیں۔

 

میرے ماموں جان نور اللہ مرقدہ

از محترم غلام مرتضیٰ عباسی صاحب۔ ایم۔اے، ایچ۔ایس۔ٹی گورنمنٹ ہائی اسکول کنڈیارو

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مدت سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

میری یہ حیثیت کب تھی کہ حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ ایسی بزرگ شخصیت کے بارے میں کچھ لکھتا جو رشتہ کے لحاظ سے تو میرے ماموں جان تھے، ساتھ ہی میری خوش قسمتی یہ کہ میرے مرشد اور آقا، اور ہر قدم پر میرے محسن و مہربان تھے۔ بس حضرت صاحبزادہ سجن سائیں مدظلہ کے ارشاد کے مطابق اپنے مشاہدات پیش کرتا ہوں۔ میں حضرت جی رحمۃ اللہ علیہ سے عمر میں پچیس برس چھوٹا اور اسی طرح آپ کے سات بھانجوں میں بھی سب سے چھوٹا ہوں۔ حضرت جی کے والد ماجد حضرت محمد مٹھل رحمۃ اللہ علیہ تھے تو روحانی مربی حضرت پیر مٹھل رحمۃ اللہ علیہ تھے، اس طرح آپ دو مٹھل کی مٹھاس کا مجموعہ اور پیدائشی ولی تھے۔ میں نے تو جیسے ہی ہوش سنبھالا آپ کو پابند صوم و صلوۃ اور رشتہ داروں کو دین کی تبلیغ کرتے پایا، ہم بھانجوں کو تو ڈانٹ کر بھی نماز کے لئے مسجد شریف لے جاتے تھے۔ حضرت سوہنا سائیں قدس سرہ کے والد ماجد تو پہلے فوت ہو چکے تھے، اور آپ اپنی والدہ ماجدہ کے اکلوتے فرزند اور دو بہنوں سے چھوٹے تھے، خدا کی شان کہ ہماری والدہ اور خالہ اب تک بھی، صحت مند اور صوم و صلوۃ کی پابند ہیں۔ حضرت صاحب کو اپنی والدہ ماجدہ سے بے انتہا محبت تھی اور اپنے ہاتھوں سے ان کی خدمت کرنا بڑی سعادت سمجھا کرتے تھے، چنانچہ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ آپ سفید لباس میں ملبوس لکڑیوں کا گٹھا سر مبارک پر لئے اپنی والدہ ماجدہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ یاد رہے کہ حضور کسی اور آدمی سے بھی لکڑیاں منگوا سکتے تھے لیکن والدہ کی خدمت کا جذبہ کار فرما تھا جسے دیکھ کر آپ کی والدہ ماجدہ دل کھول کر آپ کو دعائیں دیتی تھیں۔ شروع ہی سے آپ شریف النفس انسان تھے۔ ہمیشہ دستار میں رہتے تھے۔ یہی نہیں بلکہ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ چادر اوڑھتے تھے اور گلیوں سے چلتے وقت چادر کا گھونگھٹ لگا لیتے تھے۔ آپ کو دنیا سے رغبت مطلق نہ تھی۔ یہاں تک کہ اپنی آبائی جائیداد جو کافی زمین کی صورت میں موجود تھی کماحقہ کبھی اس کی طرف توجہ نہ کی۔ میرے والد بزرگوار حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے چچا زاد بھائی اور بہنوئی تھے۔ عمر کے اعتبار سے تو وہ بڑے تھے، لیکن روحانی مرتبت کے لحاظ سے حضرت سوہنا سائیں ہی بڑے تھے جسے ملحوظ رکھ کر حضور کے نا چاہنے کے باوجود قبلہ والد صاحب حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کو چارپائی کے سرہانے بٹھاتے اور خود پائینتی کی طرف بیٹھ جاتے تھے۔ حضرت سوہنا سائیں اپنے رشتہ داروں کی خبر گیری فرماتے تھے، جو غریب ہوتے ان کی مالی اعانت فرماتے۔ خاص کر مجھ نالائق عاجز فقیر پر اور بھی زیادہ مہربان اور محسن رہے، ہر طرح سے مجھے نوازا، میری دونوں شادیاں حضور ہی نے کرائیں۔ حضور اپنے فوت شدہ رشتہ داروں کے مزارات پر تشریف لے جاتے تھے (جو کہ ابیانی بستی کے قریب واقع ہیں) ایصال ثواب فرماتے اور مزارات کی مرمت کی تاکید فرماتے تھے۔ ایک دفعہ جب میں بھی ساتھ تھا، میرے والد بزرگوار کے مزار پر تین بار ختم شریف پڑھ کر دعا فرمائی۔

آپ نے اپنے مرشد حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں بھی کوئی کسر نہ اٹھا رکھی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کی پوری جماعت میں آپ ممتاز سمجھے جاتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ خانواہن تشریف لائے، نہاتے وقت حضرت سوہنا سائیں قدس سرہ پانی کے لوٹے بھر بھر کر ڈالتے جا رہے تھے۔ گرمیوں کی وجہ سے رات کو آپ کی چارپائی کھلے میدان میں رکھی گئی اور حضرت سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ پہرہ دے رہے تھے، گاہے بگاہے چکر لگاتے ہوئے اللہ اللہ کی بابرکت ضربیں بھی مارتے جاتے تھے۔ حضرت پیر مٹھا قدس سرہ سے بیعت کے بعد عموماً تبلیغ میں یا پیر و مرشد کی خدمت و صحبت میں رہتے تھے، اپنے گھر بہت کم رہا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ جب آپ خانواہن تشریف لائے اور معمول کے مطابق ملاؤں کی مسجد میں جماعت کرائی اور آخر میں تین دعائیں مانگیں، جبکہ آپ کی عادت مبارکہ ایک دعا مانگنے کی تھی، نماز کے بعد میاں نور محمد ملاح نے مجھے بلا کر کہا کہ آپ کے ماموں ولی ہیں یہ اس لئے کہ میں نے آج دل ہی دل میں یہ شرط لگائی تھی کہ اگر یہ واقعی خدا کے ولی ہیں تو تین بار دعا مانگیں گے اور ایسا ہی ہوا۔ اسی طرح غالباً میں نے انٹر سائنس کا امتحان دیا تھا، ابھی نتائج کا اعلان نہیں ہوا تھا۔ میں رزلٹ کے لئے منتظر اور قدرے پریشان تھا کہ رات کو خواب میں حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ نے تسلی دے دی کہ بھائی فکر نہ کرو تم پاس ہو چکے ہو۔ الحمدللہ ایسا ہی ہوا جیسا کہ حضور نے ارشاد فرمایا تھا۔

حضرت پیر سوہنا سائیں قدس سرہ حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کے معتمد علیہ اور مقرب ترین خادم و خلیفہ تھے۔ لنگر کی اس قدر اخلاص سے خدمت کی کہ اپنے متعلقین فقراء کو کہتے تھے کہ اگر حضرت پیر مٹھا قدس سرہ کے لنگر کے لئے جھاڑوؤں کی ضرورت پڑے تو وہ بھی دین پور سے لے آئیں لاڑکانہ سے خریدنے کی ضرورت نہ ہو، بعض خلفاء کرام آپ سے حضرت پیر مٹھا قدس سرہ کی غیر معمولی ترجیحی محبت و تعلق کو ناپسند کرتے تھے۔ ایسے ایک موقعہ پر حضرت پیر مٹھا علیہ الرحمہ نے فرمایا ہم جو ان کو پیر بناتے ہیں تو اس سے دوسرے خلفاء کیوں ناراض ہوتے ہیں۔ دین پور شریف قیام کے دوران ایک خلیفہ صاحب حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کو ہنسانے خوش کرنے کے لئے مسخروں کا انداز بنا کر سامنے آئے (حضرت سوہنا سائیں قدس سرہ حسب معمول با ادب بیٹھے ہوئے تھے) اسے دیکھ کر حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا ”یہ نازیبا حرکتیں چھوڑ کر مولوی اللہ بخش صاحب کی طرح باوقار اور با ادب رہنے کی کوشش کر“۔

حضور کی شخصیت میں خود داری کا پہلو بھی نمایاں تھا۔ چنانچہ ۱۹۵۸ء میں جب ہم کراچی میں زیر تعلیم تھے اور حضور زوجہ محترمہ کے علاج کے سلسلہ میں کراچی تشریف لائے اور ہمارے یہاں قیام فرمایا۔ ہمارے اجنبی نہ ہونے کے باوجود اپنے کھانے پکانے کا انتظام تو خود کیا لیکن ہم دو بھائیوں کے کھانے کا انتظام بھی خود فرمایا۔ ظاہری مہربانی کے علاوہ اصلاحی تربیتی مہربانی بھی فرماتے رہے جس کے نتیجے میں میری قسمت بھی جاگ اٹھی اور آپ کی ترغیب پر رحمت پور شریف جا کر حضرت پیر مٹھا علیہ الرحمہ سے بیعت ہوا۔ ان چند دنوں کی صحبت کا صدقہ ہے کہ ناکارہ کو مسلسل اللہ والوں کے دامن سے وابستگی نصیب ہوتی آرہی ہے۔ دینی معاملات میں آپ رو رعایت اور چشم پوشی کے قائل نہ تھے۔ چنانچہ آپ کے ایک قریبی رشتہ دار جو مغربی ماحول سے غیر معمولی متاثر ہیں اس کے اسلامی احکام کی توہین سن کر اسلامی غیرت کے تحت اسے اس قدر ڈانٹا کہ بجائے اس کے کہ کچھ جواب دیتا انتہائی شرمسار و ششدر ہوکر رہ گیا۔

والدین اور پیر و مرشد کے علاوہ اپنے اساتذہ کے حقوق بھی کماحقہ ادا فرمائے۔ غالباً ۱۹۷۵ء کا واقعہ ہے کہ حضرت جی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پرائمری کے استاد حاجی علی نواز صاحب درگاہ اللہ آباد شریف ملاقات کے لئے تشریف لائے، حضور انتہائی تواضع سے ملے اور دو زانو ہوکر ان کے سامنے با ادب بیٹھ گئے اور تمام جماعت کو استاد محترم کا تعارف کروایا کہ یہ میرے استاد محترم ہیں، اس پر حاجی صاحب موصوف ہاتھ جوڑ کر کہنے لگے کہ نہیں جناب اب آپ استاد ہیں اور میں شاگرد۔ اسی طرح مورو میں اپنے ضعیف العمر استاد محترم علی بخش صاحب پیرزادہ کی بھی بے حد تعظیم فرمائی۔

حضور شگفۃ مزاج بھی تھے۔ جس طرح آقائے نامدار صلّی اللہ علیہ وسلم سے بھی شگفتہ مزاجی کے کئی واقعات منسوب ہیں۔ چنانچہ درگاہ فقیر پور شریف قیام کے دوران جناب حضرت قبلہ صاحبزادہ سجن سائیں مدظلہ اپنا جوتا پالش کرانے میرے پاس لے آئے، جب میں جوتا پالش کرچکا تو مذاقاً کہا جناب آپ کو مزدوری دینا ہوگی (اس وقت حضرت صاحبزادہ مدظلہ کمسن تھے) آپ جوتا لے گئے، لیکن جلد ہی واپس آئے اور کہنے لگے حضرت سوہنا سائیں فرماتے ہیں اس کے پیسے اپنے یہاں لکھ رکھو۔ اس طرح ایک رات میں اللہ آباد شریف میں بعد از نماز عشاء حضور کے پاؤں دبا رہا تھا تو باہر مولانا مشتاق احمد صاحب پنجابی مراقبہ کرا رہے تھے، آپ نے مسکرا کر فرمایا یہ مولوی صاحب تسبیح اٹھاتے ہیں تو ہمیں (کافی دیر تک مراقبہ کرانے اور بکثرت اشعار پڑھنے کی وجہ سے) یہ خوف ہوتا ہے کہ ہمارے پڑھنے کے تمام اشعار پڑھ جائیں گے اور ہمارے لئے کوئی شعر نہیں رہے گا۔ آپ کا صبر و تحمل بھی قابل اقتداء تھا۔ چنانچہ ۱۹۶۵ء میں جب حضور سوہنا سائیں قدس سرہ اونٹ پر سوار دین پور شریف سے فقیر پور شریف جا رہے تھے۔ یہ عاجز اور سید نصیر الدین شاہ صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بھی ساتھ ہی سوار تھے۔ اچانک اونٹ کا پاؤں ایک گڑھے میں چلا گیا اور ہم سب زمین پر آگئے۔ سچ تو یہ ہے کہ عاجز (صاحب مضمون) تو ڈر کے مارے بدحواس ہوکر رہ گیا۔ مگر یہ دیکھ کر ہمت بندھی کہ حضور سوہنا سائیں قدس سرہ بڑے اطیمنان سے کھڑے ہوکر دونوں کی خیریت پوچھ رہے تھے، شاہ صاحب علیہ الرحمہ کو جو اونٹ چلا رہے تھے یہ تک نہ کہا کہ ذرا دیکھ بھال کر چلا کریں۔ اخلاق و عادات اور دینی خدمات کے علاوہ مجاھدات و ریاضات میں بھی حضور ہمیشہ پیش پیش رہے۔ یہاں تک کہ عمر عزیز کے آخری ایام میں اکثر و بیشتر عوارضات رہے تھے پھر بھی نماز با جماعت ادا کرتے رہے اور وظائف اور تہجد پابندی سے پڑھتے۔ تبلیغ و اشاعت کے معاملہ میں آخر تک مستعد رہے۔ ایک رات اچانک آپ کی طبیعت خراب ہوگئی، یہ عاجز حاضر ہوا، رات کے تین بجے کا وقت تھا اور آپ حضرت قبلہ صاحبزادہ سجن سائیں مدظلہ کو وصیتیں فرما رہے تھے کہ فلاں فلاں باتوں کا خصوصی خیال رکھنا ہمارے ان بھانجوں کا خیال رکھنا۔ کچھ دیر بعد قدرے افاقہ ہونے پر مجھے فرمایا آپ جا کر تہجد کے نوافل پڑھیں، میں نے پڑھ لئے ہیں (اس قدر شدت تکلیف کے باوجود بھی نوافل پڑھے تھے)

نماز ادا کرتے تھے شہ تیغوں کے سایہ میں
شمر بھی دل میں کہتا تھا امامت اسکو کہتے ہیں

منہ چھوٹا اور بات بڑی۔ کہاوت کے مطابق میری حیثیت ہی کیا ہے کہ حضرت سوہنا سائیں علیہ الرحمہ کے متعلق کچھ لکھتا، بس یہ ان ہی کا کرم ہے جو بہت ہی زیادہ شفیق اور پیارے رفیق تھے جو ہمیشہ ذکر خدا میں محو رہے اور مریدین کو اس دنیا میں عابر سبیل (دنیا میں راہ گذار ہوکر رہنا) کی حیثیت میں ہمیشہ ذکر اللہ کی تاکید فرماتے رہے۔

 

حضرت محبوب سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ

از محترم قاری غلام حسین صاحب درگاہ اللہ آباد شریف

آج سے کم از کم تیس برس پہلے جب ہماری بستی ثواب پور (سابقہ عباس کوندر جو ۵۰۔ ۷۰ گھروں پر مشتمل تھی) اور تقریباً تمام باشندے کسی نہ کسی بزرگ سے بیعت تھے، میرے دادا جان رحمۃ اللہ علیہ تو مشائخ گمبٹ شریف کے خلیفہ بھی تھے، مذکورہ بستی میں اکثریت گمبٹ شریف کے متوسلین کی تھی جو کہ طریقہ عالیہ قادریہ کے مشہور بزرگ تھے، بعض افراد حضرت قبلہ پیر فضل علی قریشی مسکین پوری قدس سرہ کے مرید بھی تھے جن کی دعوت پر حضرت قریشی علیہ الرحمہ ثواب پور تشریف فرما ہوئے اور آپ کی صحبت بابرکت سے لوگوں کو کافی فائدہ ہوا۔ اسی قیام کے دوران آپ نے ثواب پور بستی اور قرب و جوار کے لئے حضرت خواجہ محمد عبدالغفار صاحب (پیر مٹھا) رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو خلیفہ مقرر فرمایا اور آپ بارہا تشریف لاتے رہے۔ لیکن پھر بھی جزوی تبلیغی فائدہ ہوا۔ صحیح معنوں میں نماز کے پابند بھی چند لوگ ہی تھے، نماز جمعہ پر کوئی ۲۰ آدمی جمع ہوتے تھے اور بس۔ مسند نشینی کے بعد حضرت پیر مٹھا علیہ الرحمہ نے مذکورہ علاقہ کے لئے مولانا مولوی حاجی محمد عاشق سیال صاحب کو خلیفہ مقرر فرمایا۔ مولانا موصوف نے بھی محنت سے تبلیغ کی اسی اثناء میں حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کے صاحبزادہ محترم مولانا خلیل الرحمان صاحب بھی چند بار اجتماعات میں شریک ہوئے، تاہم کوئی تسلی بخش نتیجہ سامنے نہ آیا، جس سے پرانے مخلص فقراء اور مستورات کو کافی پریشانی لاحق ہوئی کہ اب کیا کیا جائے۔ ”رحمت خدا بہانہ مے جوید بہا نمی جوید“ کے مطابق جب میری والدہ ماجدہ (اللہ تعالیٰ ان کی قبر پر رحمتیں نازل فرمائے) حضرت پیر مٹھا قدس سرہ کے دربار رحمت پور شریف لاڑکانہ حاضر ہوئیں تو بڑی الحاح و زاری سے یہ التجا کی کہ کچے کے خلیفہ (یعنی حضرت سوہنا سائیں قدس سرہ جن کی کوششوں سے کچے کے علاقہ کے سینکڑوں آدمی نیک پرہیزگار بن چکے تھے) کو ہمارا علاقہ کا خلیفہ مقرر کیا جائے۔ حضرت پیر مٹھا علیہ الرحمہ نے از راہ شفقت ان کی التجا پر مہربانی فرمائی اور حضرت سوہنا سائیں علیہ الرحمہ کو خلیفہ مقرر فرمایا۔ اس وقت میری عمر کوئی دس سال ہوگی کہ آپ کے دست حق پرست پر بیعت کا شرف حاصل کیا۔

بعینہ آج بھی وہ منظر میری آنکھوں کے سامنے ہے جب آپ ثواب پور تشریف لائے۔ اس زمانہ میں آپ پر وجد و جذب کی حالت زیادہ طاری رہتی تھی خاص کر مراقبہ کی حالت میں تو دنیا و مافیھا سے بالکل بے نیاز بلکہ دیوانہ محسوس ہوتے تھے۔ تھوڑے ہی عرصہ میں آپ کے ان قابل تقلید حالات کا عکس جماعت میں بھی نظر آنے لگا کہ کئی فقراء کی ساری ساری راتیں جذبہ میں بسر ہوتیں۔ جس وقت بیداری ہوتی کسی نہ کسی طرف سے اللہ اللہ کی بابرکت صدا ضرور سنائی دیتی۔ وہ بھی کوئی عجیب روح پرور منظر تھا، جب بچے بوڑھے، مرد عورتیں سبھی ذکر خدا میں محو نظر آتے تھے، چھوٹے بچے کھیلتے کودتے بلکہ روتے وقت بھی اللہ اللہ کرتے تھے، جن لوگوں کو منت و سماجت کرکے مسجد میں لے جایا جاتا تھا وہ از خود نماز کے پابند بن گئے، باقاعدگی سے نماز باجماعت کی حاضری ہوتی، یہ عاجز نگران ہوتا تھا، ڈاڑھی مسواک تہجد اور عمامہ کی پابندی ہونے لگی، جو منشیات کے عادی یا چور تھے تہہ دل سے تائب ہوئے، یہاں تک کہ چوری کی ہوئی چیزیں مالکان کو واپس کردیں اور ان سے معافی طلب کی، باہمی تنازعات جو طویل عرصہ سے سوہان روح بنے ہوئے تھے حضور کی کوششوں سے فوری انکا تصفیہ ہوگیا، یہی نہیں بلکہ پیر بھائی ہونے کے ناطے ایک دوسرے پر جان نثار کرنے کو تیار ہوتے۔ نشست و برخواست، لین دین کے معاملات جماعت کے فقراء تک محدود ہونے لگے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر کام کا کوئی نہ کوئی وقت ہوتا ہے، شاید ہمارے علاقہ کی اصلاح کے لئے یہی وقت اور دست حق پرست کا پہلے سے انتخاب ہو چکا تھا جن کی آمد سے ظاہری خواہ باطنی عظیم انقلاب رونما ہوا، جس مسجد میں پہلے چند بوڑھے بابا آکر نماز ادا کرتے تھے، وہ مقتدیوں کو سما نہ سکتی تھی، اس عاجز سیہ کار کو حضرت پیر مٹھا قدس سرہ کا سعید زمانہ بھی میسر ہوا جن کی للّٰہیت دینی تبلیغ و محنت شکوک و شبہات سے بالا تر ہے۔ لیکن حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ نے ہی دینی خواہ دنیاوی راہ میں اس عاجز کی راہنمائی فرمائی اور اپنے قرب و محبت کی کمند میں مقید کیا کہ اللہ آباد شریف قائم ہوتے ہی مستقل طور پر آکر آپ کے قدموں میں رہا۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ آجکل پہلے کی نسبت باطنی ترقی اس لئے کم ہو رہی ہے کہ لوگ لنگر کے کام سے کتراتے ہیں۔ فرماتے تھے اگر تصوف و سلوک میں ترقی چاہتے ہو تو شوق سے لنگر کا کام کرو اسی سے اصلاح کی راہیں کھلیں گی نفس کی سرکشی سے نجات حاصل ہوگی۔ صرف دینی ہی نہیں دنیاوی طور پر بھی میں نے آزما کر دیکھا آپ کے ارشادات سو فیصدی درست ثابت ہوئے۔ چنانچہ حضور سوہنا سائیں کی ترغیب پر یہ عاجز اور میرے دوسرے بھائی سبھی شوق سے لنگر کا کام کرتے تھے۔ ایک مرتبہ حضرت پیر مٹھا علیہ الرحمہ نے تمام بھائیوں کو (جنکی مجموعی آبائی ملکیت صرف دس ایکڑ زمین تھی) بلا کر ارشاد فرمایا اگر تم زمیندار ہونا چاہتے ہو تو ایسے زمیندار نہیں بنو گے ہم آپ کو اس کا آسان طریقہ بتا دیتے ہیں، ایک یہ کہ اپنے پیر و مرشد سے قلبی رابطہ و محبت مضبوط رکھو دربار شریف پر آمد و رفت میں سستی نہ کرو، دوسرا یہ کہ پیر کے لنگر کا کام شوق سے کرو ان کے طفیل اللہ تعالیٰ تمہاری آمدنی میں اس قدر برکت عطا فرمائے گا کہ اگر ہاتھ مٹی کو لگاؤ گے تو وہ بھی سونا بن جائے گی، واللہ آپ کا یہ ارشاد بعینہ سچا ثابت ہوا، ہمیں خود حیرت ہوتی ہے کہ یہ جائیداد اور یہ زمینیں ہم نے کیسے حاصل کیں۔ بس یہ ان ہی کے کرم کا ادنی کرشمہ ہے۔

بفضلہ تعالیٰ تیس سال سے اس عاجز کو حضور کی صحبت و خدمت کے مواقع عطا ہوئے ہیں، جن میں جسمانی امراض کے ایسے اوقات بھی شامل ہیں جب آپ کو وضو یا تیمم بھی کوئی دوسرا کراتا۔ سعید کلینک کراچی، جامشور و حیدرآباد اور دو بار شجاع آباد کا سفر بھی ان میں شامل ہے، ان تمام اوقات و حالات کی روشنی میں یہ عاجز حلفیہ کہتا ہے کہ فرائض تو کجا خود آپ کو ایک مستحب ترک کرتے ہوے بھی نہ دیکھا گیا، ایسے حالات میں بھی مسواک کرتے، عمامہ باندھتے (اگر خود نہ باندھ سکتے تو کسی فقیر کو عمامہ بندھوانے کے لئے ارشاد فرماتے) پابندی سے نماز تہجد پڑھتے رہے۔ غرضیکہ احکام الٰہی کی تعمیل، ارشادات نبی صلّی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری آ پ کی فطرت ثانیہ بن چکی تھی، قرآن و حدیث کے مظہر اور عملی نمونہ محسوس ہوتے تھے۔ حضور کی ذرہ نوازی کا یہ عالم تھا کہ تقریباً ہر ماہ رحمت پور شریف لاڑکانہ سے ثواب پور تشریف لاتے تھے، ہم تمام فقراء آپ کے مرحون منت تھے اور ہمیشہ عرض کرتے تھے کہ تشریف فرما ہونے سے پہلے ہمیں پروگرام سے مطلع کریں تاکہ سواری لے کر ہالانی پہنچیں جہاں سے کوئی ۷۔ ۸ میل کے فاصلہ پر ثواب پور واقع ہے، مگر قربان جاؤں حضور کے استغناء پر کہ بارہا کسی اطلاع و پروگرام کے بغیر چلے آتے اور مذکورہ فاصلہ پیدل ہی طے فرماتے تھے۔ اس زمانہ میں اس عاجز کو آپ کی خدمت کا قریب سے موقعہ ملتا رہا، آپ ہمیشہ فقراء کے ساتھ چٹائی پر رونق افروز ہوتے تھے۔ کبھی بھی ایسا نہ ہوا کہ آپ کرسی یا چارپائی پر بیٹھے ہوں اور فقراء نیچے چٹائی پر ہوں۔ بخدا ایسا خلوص اور للّٰہیت آج تک کسی بنی بشر میں نظر نہیں آیا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضور کی قبر انور پر اپنی رحمتوں کی بارش نازل فرمائے، عاجز اور جملہ احباب اہل ذکر کو آپ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آ مین والسلام

 

۱۸ ہزار جن مسلمان ہوگئے

از مولانا سید محمد اسماعیل شاہ صاحب
خلیفہ حضرت صاحب نور اللہ مرقدہ، درگاہ طاہری راولپنڈی

جس وقت غفاری جوان حضرت پیر مٹھا علیہ الرحمہ اس دنیا سے پردہ فرما گئے میں اپنے آبائی گاؤں چارسدہ ضلع پشاور میں رہتا تھا۔ چند دن بعد محترم خلیفہ حاجی محمد سلام صاحب (بنوں صوبہ سرحد) کا خط آیا جس میں انہوں نے تفصیلی حالات لکھے جن کی راہنمائی سے میں حضور سوہنا سائیں قدس سرہ کی خدمت میں پہنچا، اس وقت آپ دین پور شریف تشریف فرما تھے۔ جہاں بعد از نماز عصر میری آپ سے پہلی ملاقات ہوئی، آپ بڑے پیار و شفقت سے پیش آئے، آپ کے خلوص و للّٰہیت کو دیکھ کر میں نے عرض کیا یا حضرت اللہ تعالیٰ کا ہم پر یہ احسان ہے کہ حضرت پیر مٹھا قدس سرہ ہمیں آپ کے سپرد فرما گئے، یتیم بنا کر نہیں گئے، اس پر ارشاد فرمایا حقیقت یہ ہے کہ جی چاہتا ہے کہ خلوت نشین ہو جاؤں۔ لیکن کوئی مجبور کر رہا ہے کہ اس تبلیغی کام کو آگے بڑھاؤ تنہائی سے یہ بہتر ہے۔ چند دن بعد جب حضور فقیر پور شریف کے لئے روانہ ہوئے یہ عاجز بھی فقراء کے ساتھ اس قافلہ میں شامل تھا، اس کے بعد تو بفضلہ تعالیٰ مسلسل آمد و رفت جاری رہی، اکثر و بیشتر جب بھی یہ عاجز پشاور سے حاضر ہوتا حضور کسی تبلیغی دورہ پر تیار ہوتے تھے اور ازراہ شفقت و عنایت اس عاجز کو بھی ساتھ لے کر جاتے تھے اور جب پنجاب کے تبلیغی دورہ کا پروگرام ہوتا تو بھی شفقت فرما کر بذریعہ مکتوب مطلع فرماتے تھے۔ اس طریقہ سے سندھ اور پنجاب کے دور دراز کے تبلیغی سفر حضور کے ہمراہ نصیب ہوئے۔ حضور نے اس عاجز کو جو خصوصی نصیحت چند بار فرمائی وہ یہ تھی کہ شاہ صاحب یہ وقت فراغت کا جوانی کا ہے، یہ کام کرنے کا وقت ہے ابھی کچھ کرو، بڑھاپے میں تو کچھ نہیں ہو سکے گا۔ بلاشبہ حضور کا فرمان برمحل تھا مگر اس عاجز سے کچھ بھی نہ ہو سکا۔ اب بڑھاپا آگیا اور کچھ نہیں ہو سکتا۔

حضور سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ نے ہر قدم پر اس عاجز سیہ کار پر مہربانی فرمائی۔ جس طرح حضرت امام ربانی مجدد منور الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ پیر مرید کی مدد کرتا ہے، کبھی پیر کو پتہ ہوتا ہے اور کبھی نہیں ہوتا کہ مرید کی امداد کے لئے اللہ تعالیٰ پیر کے لطیفہ کو بھیجتا ہے، بہرحال اس طرح کے بھی کئی واقعات ہیں جن میں حضور نے میری مدد فرمائی۔ چنانچہ ایک مرتبہ چار دن سے میرے گھر میں وضع حمل کی تکلیف تھی۔ مسلسل درد زہ کی تکلیف سے زوجہ محترمہ بڑی پریشان ہوئی۔ دائی نے بھی کہا کہ کسی ہسپتال میں داخل کروائیں۔ گو میں نے دائی کو تو کوئی جواب نہ دیا، مگر ذاتی طور پر ہسپتال جانے کے حق میں نہ تھا۔ اس پریشانی کے عالم میں گھر کے برآمدہ میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا، سامنے دوسری کرسی بھی پڑی ہوئی تھی، اسی اثناء میں جذبے کی کیفیت طاری ہوئی اور عالم خیال میں سامنے والی کرسی پر حضور سوہنا سائیں قدس سرہ بیٹھے ہوئے محسوس ہوئے، میں فوراً ادب سے سیدھا ہوکر بیٹھ گیا (پہلے ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر سوچ رہا تھا) اور دیکھا کہ حضور کا دست مبارک ہوا میں اونچا ہوا اور میری زوجہ کے سر سے پاؤں کی طرف لہراتا ہوا چلا گیا۔ جب آپ کا ہاتھ پاؤں تک پہنچا تو بچے کے رونے کی آواز آئی تو دائی صاحبہ نے مبارک دی کہ شاہ جی مبارک ہو، اللہ تعالیٰ نے بچہ عنایت فرمایا ہے۔ کچھ ہی دن بعد اپنے علاقہ کے خلیفہ مولانا محمد مشتاق صاحب کے ہمراہ مرشد خانہ حاضری ہوئی، ملاقات ہونے پر حضور نور اللہ مرقدہ نے فرمایا شاہ صاحب بچہ کا کیا نام رکھا ہے؟ میں نے نام تو بتا دیا مگر بڑا حیران تھا کہ میں نے تو کسی کو بتایا ہی نہیں حضور نے کیسے بچے کا نام پوچھا ہے۔ پھر از خود یہ حدیث شریف القا ہوئی کہ ”اتقوا فراستہ المومن فانہ ینظر بنور اللہ“ کہ مومن کی فراست سے ڈرو کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نور سے دیکھتا ہے۔ الغرض حضور نے بچہ کے لئے، اس کی والدہ اور اس عاجز کے لئے بھی دعا فرمائی۔ جب یہ عاجز چار سدہ سے منتقل ہوکر بنوں آگیا تو ایک بار کاروبار کے لئے پیسے کی ضرورت تھی، میں نے یہی مناسب سمجھا کہ اپنے آقا سے خیر و برکت کی دعا کرالوں بس میں نے خط لکھ کر روانہ کیا لیکن ابھی خط لیٹر بکس میں ہی ہوگا کہ ایک دوست نے آکر رقم دے دی اور کہا میں باہر جا رہا ہوں، یہ پیسے لے لیں کسی کام میں لگا لیں واپسی پر آکر لوں گا، میں نے واپسی پر اسے پیسے لوٹا دیئے۔
اٹھارہ ہزار جن مسلمان ہوئے: جب حضور سوہنا سائیں قدس سرہ نے اس عاجز کو تبلیغ کا حکم فرمایا تو میں نے چار سدہ میں بھی تبلیغ کی، کافی تعداد میں لوگ ذکر کے حلقہ میں شامل ہونے شروع ہوگئے۔ اتفاقاً ایک رات مراقبہ کے دوران ایک آدمی کو جن نے پکڑ لیا۔ کافی شور مچانے لگا آخر مسجد شریف سے باہر نکل کر بھاگنے لگا، مراقبہ ختم ہونے پر میں نے چند آدمی بھیجے وہ اسے پکڑ کر میرے پاس لے آئے۔ میں نے کہا اس کو گھر لے جاؤ میں ابھی آتا ہوں، میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ میں جن ہوں میرا نام سہیل ہے، اس لڑکے کے باپ نے میرے بچے کو مارا۔ اس لئے میں اس کو قتل کئے بغیر نہیں چھوڑوں گا۔ میں نے کہا میں اللہ والے کا غلام ہوں یہ لڑکا ہمارے حلقے میں آتا ہے، اللہ اللہ کرتا ہے، تم اسے نہیں مار سکتے، اس کو چھوڑ کر چلے جاؤ ورنہ میں تمہیں ایسا سبق سکھاؤں گا کہ تمہاری قوم یاد رکھے گی۔ اس پر بڑی سرکشی سے کہنے لگا جعفر نامی میرا ایک بھائی اس قدر طاقت ور ہے کہ وہ دیوؤں سے بھی مقابلہ کرتا ہے۔ اس لئے تم ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے کل اس کے آنے کی باری ہے، ہم اسے پکڑ کر دریا میں پھینک دیں گے۔ دوبارہ وہاں موجود لوگوں کو میں نے کہا اس کو پکڑو میں گھر سے ہوکر آتا ہوں میں نے کچھ عمل پڑھا اور چند تعویذ لے کر واپس گیا تو لوگوں نے بتایا اس نے چیخ ماری اور بھاگ گیا۔ بہرحال اس کے بعد رات کو جن لڑکے کو تنگ کرتا تھا جب مجھے بلاتے، میں جاتا وہ بھاگ جاتا۔ کئی مرتبہ ایسا ہوا۔ آخر کار میں نے اس کے والد کو عامل لے آنے کا کہا جس پر کہنے لگا، مراقبہ سے پہلے بھی اس پر جن حملہ کرتا تھا۔ میں کئی عاملوں کو لے کر آیا لیکن کسی سے فائدہ نہ ہوا۔ اب تو عامل بھی اس کے پاس آنے سے گھبراتے ہیں۔ بالاخر جب میں نے ذمہ لے لیا کہ اگر عامل کو کسی قسم کا نقصان پہنچا تو میں ذمہ دار ہوں، تو ایک عامل تیار ہوگیا اور آخرکار کافی دیر تک پڑھتا رہا مگر جن حاضر نہیں ہو رہا تھا اس پر میں نے کہا حاضر ہو جاؤ تمہیں کچھ نہیں کہا جائے گا۔ تب سہیل کا بڑا بھائی جعفر قہقہہ لگا کر بولا اے غفاری! خدا کی قسم اگر آج تم نہ ہوتے تو میں اس عامل کو جلا کر خاکستر کر دیتا۔ عامل سن کر گھبرایا مگر میں نے اس کو تسلی دی اور جن کو نصیحت شروع کی اور اللہ والوں کی باتیں بتائیں۔ جب حضور سوہنا سائیں کی شان میں یہ منقبت پڑھی ”آ دیکھ میرا پیر جو محبوب خدا ہے، جن انس ملک حور بھی قدموں پہ فدا ہے“ تو وجد میں آگیا اور کہنے لگا مجھے ذکر بتائیں اور سوہنے سائیں کا غلام بنائیں۔ میں نے طریقہ عالیہ کے مطابق ذکر سمجھایا۔ اس کے بعد کہنے لگا اب میں نے اس لڑکے کو معافی دے دی اور بھائی کو بھی سمجھاؤں گا۔ میں نے کہا اس کو بھی بلاؤ۔ آنے پر اس کو بھی نصیحت کی اور ذکر سمجھایا۔ دونوں بھائی جعفر اور سہیل پابندی سے ذکر کرتے رہے جس کی بنا پر ان کے سردار جن نے ان کو ستانا شروع کیا۔ بقول سہیل جن نے ہم کو زنجیروں سے جکڑ کر دیو نگران مقرر کئے مگر جب میں نے مراقبہ کی آواز سنی جذبہ ہوگیا اور اسم ذات اللہ کی ضرب سے زنجیر ٹوٹ گئی اور نگران دیو بھاگ گئے۔ سردار نے پوچھا کیا بات ہے کہ تم نے اتنے مضبوط لوہے کی زنجیر کو بھی توڑ دیا ہے۔ میں نے کہا یہ اللہ تعالیٰ کے اسم کی برکت ہے جو مجھے ایک اللہ والے سے حاصل ہوا۔ غرضیکہ آخر کار وہ سردار جن بھی ان دونوں بھائیوں کا عقیدت مند ہوگیا اور ان کی ملی جلی تبلیغی کوشش سے تقریباً اٹھارہ ہزار جن مسلمان ہوئے، حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی غلامی میں آنے کے بعد پابندی سے ذکر اور مراقبہ کرتے رہتے ہیں۔ خاص کر ”آ دیکھ میرا پیر جو محبوب خدا ہے جن، انس، ملک، حور بھی قدموں پر فدا ہے“ منقبت سن کر جنوں کو جذبہ ہو جاتا ہے اور خود بھی یہ منقبت پڑھتے رہتے ہیں۔

 

سیدی و مرشدی

مولانا غلام قادر صاحب، ایچ ایس، ٹی گ۔ھ۔ اسکول مورو

جنوری ۱۹۵۲ء میں پہلی بار محترم ڈاکٹر حاجی عبداللطیف صاحب چنہ رحمۃ اللہ علیہ کی معرفت حضرت پیر مٹھا قدس سرہ کی خدمت میں درگاہ رحمت پور شریف حاضر ہوا تھا، جہاں سب سے پہلے میری ملاقات حضرت قبلہ سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ سے ہوئی، اور آپ ہی کی معرفت سے حضرت پیر مٹھا غریب نواز قدس سرہ سے دست بیعت ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ آپ کی پہلی ہی پرخلوص ملاقات، حسن اخلاق اور نصیحت آمیز کلام سے میں گرویدگی کی حد تک متاثر ہوا، اور بعد میں معلوم ہوا کہ نو واردین سے خصوصی ملاقات، دلجوئی اور حضرت پیر مٹھا قدس سرہ کے فیوض و برکات سے آگاہ کرنا آپ کے روز مرہ کے معمولات میں سے ہے۔ حضرت پیر مٹھا قدس سرہ کی نورانی مجالس میں ہمیشہ با ادب و محبت آخر تک بیٹھے نظر آتے تھے، تبلیغ اور لنگر کے کسی کام کے علاوہ، سفر خواہ حضر میں حضرت پیر مٹھا قدس سرہ کی خدمت میں رہتے تھے۔ آپ کی یہ معیت و رفاقت یک طرفہ نہیں بلکہ حضرت پیر مٹھا قدس سرہ کی محبت و شفقت کا بھی اس میں بڑا داخل رہا۔ چنانچہ ایک مرتبہ جب حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ تبلیغی سلسلہ میں محترم حاجی محمد مشتاق احمد صاحب کی دعوت پر ان کے یہاں علی بحر نزد رانی پور پہنچے تو حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کو وہاں موجود نہ پاکر دربار رحمت پور شریف کے منتظم مولانا امیر الدین صاحب سے دریافت فرمایا کیا وجہ ہے مولوی صاحب نظر نہیں آرہے؟ انہوں نے بتایا کہ دربار شریف کے انتظامات سنبھالنے کے لئے میں نے ان کو وہیں رہنے کے لئے کہا تھا، اسی لئے وہ نہیں آئے۔ تو فرمایا آج ہی آدمی بھیج کر مولوی صاحب (سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ) کو بلا لیں۔

ادب: غالباً ۱۹۵۴ء یا ۱۹۵۵ء کا واقعہ ہے حسب معمول حضرت پیر مٹھا قدس سرہ با عیال رمضان المبارک کے روزے رکھنے کوئٹہ تشریف لے گئے۔ حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ بھی با عیال رفیق سفر تھے، اس بار اس عاجز گہنگار کو بھی آپ کی رفاقت کا شرف حاصل رہا۔ چنانچہ وہیں ایک دن محترم قبلہ صاحبزادہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ، حضور پیر مٹھا قدس سرہ کے چند روزہ استعمال شدہ نعلین لے آئے اور تمام ساتھیوں سے فرمایا کہ چونکہ یہ نعلین حضور کے قدم مبارک سے قدرے کشادہ ہیں اس لئے جو صاحب خریدنا چاہیں خرید کر سکتے ہیں۔ چنانچہ باری باری سے خلفاء اور فقراء پہنتے گئے تاکہ جسے پورے آجائیں وہ خرید لے، جب حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی باری آئی تو آپ نے مرشد کامل کی مستعمل نعلین پہننے کو بے ادبی سمجھتے ہوئے صاف انکار کر دیا کہ میں نہیں پہن سکتا۔

حسن معاملہ: اس مرتبہ جو فقراء تنہا کوئٹہ آئے تھے وہ باعیال فقراء کو خرچہ دیتے تھے اور وہ کھانا تیار کرکے ان کو دیتے تھے۔ چنانچہ میرے کھانے کا انتظام ازراہ شفقت حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ نے اپنے ذمہ لے لیا، اور میں آپ کو خرچہ دیتا رہا، مگر چھ آنے دینے بھول گیا، جب کہ دوسرے ساتھی مکمل حساب دیتے رہے۔ عموماً خورد و نوش کے معاملے میں چھ، آٹھ آنے کا حساب نہیں کیا جاتا جب کہ حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ جیسے سخی مزاج اور مہمان نواز آدمی کے لئے تو یہ کوئی بڑی بات نہیں تھی، مگر آپ نے امتیازی سلوک سے بچتے ہوئے ایک فقیر کی معرفت مجھے یاد دہانی کرائی، مطلوبہ پیسے ادا کرنے کے ساتھ ساتھ میں آپ کے حسن معاملہ اور مساوات سے اور بھی متاثر ہوا۔

ایک اہم واقعہ: تقریباً ۱۹۶۰ء یا ۱۹۶۱ء کا واقعہ ہے کہ دربار عالیہ کے انتظامی امور میں کوتاہی پر حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ خلفاء کرام پر اس قدر رنجیدہ ہوئے کہ درج ذیل عنوان سے ایک قلمی اشتہار لکھوا کر مسجد شریف میں لٹکا دیا، جس پر اپنے دستخط بھی ثبت فرمائے تھے۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مولوی صاحب (حضرت سوہنا سائیں قدس سرہ) کے علاوہ رحمت پور شریف کے جملہ خلفاء کرام کی خلافت سلب ہے۔

(دستخط حضرت پیر مٹھا قدس سرہ)

اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آپ سے حضر ت پیر مٹھا قدس سرہ کو کس قدر محبت تھی (بعد میں راضی ہوکر دیگر خلفاء کی خلافت بھی بحال فرمائی تھی) ایک مرتبہ حضر ت پیر مٹھا قدس سرہ کے حکم سے رحمت پور شریف میں مقیم جملہ خلفاء و فقراء کے مکانات منہدم کرکے منصوبہ کے تحت پلاٹ تقسیم کر دیئے گئے۔ چونکہ حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کا گھر حضرت پیر مٹھا قدس سرہ کے تسبیح خانہ سے متصل آپ کے گھر اور مسجد شریف سے بھی قریب تھا، اس لئے حضرت پیر مٹھا قدس سرہ نے ارشاد فرمایا کہ مولوی صاحب سے کوئی ریس نہ کرے، آخر کار وہی مکان برقرار رکھا گیا۔ میں کراچی میں حیدر آباد کے لسانی فسادات کے دنوں میں گھریلو علاج کے سلسلے میں حیدرآباد ٹھہرا ہوا تھا۔ اچانک ایک دن حضور کا پیغام ملا کہ آپ ہمارے یہاں طاہر آباد آجائیں یا گھر چلے جائیں، حیدرآباد نہ رہیں، حسب فرمان اسی شام بیوی بچے لے کر میں طاہر آباد شریف پہنچا، دوسرے ہی دن حیدر آباد میں لسانی فسادات شروع ہوگئے، خاص کر لطیف آباد میں تو اور بھی زیادہ نقصانات ہوئے جہاں میں ٹھہرا ہوا تھا، مگر حضور نے نور بصیرت سے معلوم کرکے بروقت مجھے اپنے حضور بلا لیا ورنہ کم از کم پریشان تو ہم بھی ہوتے۔

تقویٰ: طاہر آباد شریف جاتے ہوئے ایک رات حضور میرے خسخانہ پر قیام فرما رہے۔ بکرا ذبح کرنے والے فقیر سے ذبح کرنے میں کچھ غلطی ہوگئی۔ جب آپ کو بتایاگیا تو فرمایا علماء کرام سے مسئلہ دریافت کریں، اور اسی کے مطابق عمل کریں۔ جب علماء کرام نے بکرے کے حلال ہونے کا فتویٰ دے دیا تو ہم نے آپ کے لئے اسی کا سالن بنا کر پیش کیا، فتویٰ کی رو سے جائز سمجھتے ہوئے بھی شبہے کی بناء پر نہ تو خود وہ سالن استعمال فرمایا اور نہ ہی اپنے بچوں کے لئے روا رکھا۔

 

چن نورانی

از: مشہور نعت خوان محترم مولانا ریاست علی صاحب
بگے دا چک، تحصیل جڑانوالہ ضلع فیصل آباد
(حال مقیم چکری ضلع نارووال)

ع۔ چھپ گیا اوہ چن نورانی، خلقت جہیندی ہوئی دیوانی
پیر سوہنا سائیں یار، جہیندا پر انوار مزار، اللہ آباد اندر دربار

میرے آقا حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ حد درجہ خائف خدا، عابد و زاہد، عاشق حضور صاحب لولاک صلّی اللہ علیہ وسلم، متبع قرآن و سنت، اپنے پیر و مرشد کے محبوب پروانے اور ماسلف بزرگان دین رحمہم اللہ تعالیٰ کے مثالی نمونہ تھے۔ آپ کی تبلیغی محنت سے میرے جیسے ہزاروں نام کے مسلمان سچے پکے متبع قرآن و سنت بن گئے۔ کئی غیر مسلم حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ حضور کو یاد الٰہی سے اس قدر شغف تھا کہ جب مجھے تین راتیں سفر میں ساتھ رہنے کی سعادت حاصل ہوئی تھی، مسلسل حضور کی خدمت میں رہا۔ تینوں ہی راتیں ان گہنگار آنکھوں نے آپ کو عبادت الٰہی میں مشغول پایا۔ حضور کو دیکھ کر یہ عاجز بھی جاگنے کی کوشش کرتا مگر بے اختیار نیند کا غلبہ ہو جاتا تھا، اور آپ محسوس کرکے فرماتے میاں ریاست علی آپ آرام کریں۔ حضور کا صبر و شکر بھی مثالی تھا۔ چنانچہ کوٹ لالو کے مذکورہ سفر سے واپسی پر جب میں نے پنجاب کے تبلیغی سفر کی دعوت عرض کی تو فرمایا، کچھ عوارضات تو ہیں تاہم آپ خلفاء کرام سے مشورہ کریں جو طے ہوگا اس پر عمل کریں گے۔ اس پر میں نے (یہ خیال کرکے کہ عوارضات معلوم کرکے علاج کے لئے پنجاب کے کسی اچھے حکیم یا ڈاکٹر سے رابطہ قائم کروں گا) عرض کی کہ حضور کیا عوارضات ہیں؟ جواباً ارشاد فرمایا، آپ اس بات کو رہنے دیں، بلا ضرورت عوارضات بتانے سے اللہ تعالیٰ کا شکوہ ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ حضور کسی معالج ڈاکٹر یا حکیم کے علاوہ کسی سے بھی اپنے عوارضات بیان کرنا گوارہ نہیں کرتے تھے۔ الحمدللہ اس سال بھی پنجاب کے تبلیغی دورہ پر تشریف لائے تھے۔ آپ کو رسول خدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے والہانہ عشق و محبت تھی، چنانچہ جس دن نتھوچک ضلع فیصل آباد سے سندھ روانہ ہونا تھا، اس عاجز نے یہ غزل پڑھی:

ع۔ سوہنا سائیں اجے نہ جا، ساڈے دل دا نہیں لتھڑا چاہ سوہنا۔۔۔

آپ قریب ہی ایک کمرہ میں جلوہ افروز تھے، اس عاجز کو بلا کر خاص مہربانی فرمائی اور فرمایا آپ کو حضور پرنور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں یہ نظم یاد ہے

”نسیما جانب بطحا گذر کن ز احوالم محمد راخبر کن“

میں نے کہا کہ حضور یاد نہیں۔ اس پر فرمایا، آپ لکھتے جائیں، یہ عاجز آپ کو سناتا جاتا ہے۔ جیسے ہی حضور نے نسیما۔۔۔ فرما کر لکھوانا شروع کیا میری آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب امڈ آیا۔ لکھنے کہ ہمت نہ رہی، چنانچہ حضور نے ازراہ شفقت حضرت جامی قدس سرہ کا یہ شعر اپنے دست مبارک سے لکھ کر مجھے عنایت فرمایا جو ابھی تک بطور تبرک میرے پاس موجود ہے۔ جب فیصل آباد اسٹیشن پر پہنچے تو اس عاجز نے یہ شعر پڑھا۔ تو پلیٹ فارم پر موجود جملہ فقراء کے علاوہ عام مسافر بھی زار و قطار رونے لگے۔ عین اسی وقت غالباً محترم مولانا جان محمد صاحب مجھے بلا کر حضور کے پاس لے گئے۔ جہاں پھر میں نے وہی نعت پڑھی، تو حضور کی نوری آنکھوں سے عشق و محبت بھرے اشک جاری ہوگئے۔ حضور کی روانگی کے بعد میں نے یہ شعر بنا کر سنائے۔

اکھیں لائلپور دے وچ رنیاں نی، جدوں گڈی سوہنے دی چل گئی اے

اپنے پیر و مرشد حضرت پیر مٹھا اور پیر قریشی مسکین پوری قدس سرھما سے بھی آپ کو غیر معمولی محبت تھی۔ اس عاجز سیہ کار سے ان کی تعریف میں منقبتیں سن کر بہت خوش ہوتے تھے۔ چنانچہ ایک مرتبہ جب حضور حافظ حبیب اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی دعوت پر بدھوپور جا رہے تھے۔ حضور بھی عام جماعت کے ساتھ بس میں سفر فرما رہے تھے، اس عاجز کو بلا کر اپنے ساتھ سیٹ پر بٹھایا اور فرمایا۔ یہ غزل پڑھو

اے باد صبا مسکین پور جا، جا اکھیں میرے پیر نوں، ہن سن لوو فریاد میری

حسب فرمان میں نے غزل پڑھی۔ حضور وجد کی حالت میں جھوم رہے تھے اور پوری بس کی سواریوں میں گریہ زاری شروع ہوگئی، دربار مسکین پور شریف حاضری کے موقعہ پر ان گنہگار آنکھوں نے دیکھا کہ حضور ادب کی وجہ سے اپنی نعلین مبارک خود ہی اٹھا رہے تھے، کسی فقیر کو جوتا اٹھانے نہیں دے رہے تھے۔ وہاں بھی اس عاجز کو غزل سنانے کا ارشاد فرمایا تھا، اور میں نے یہ غزل پڑھی تھی۔

ع: سن پیر فضل میرے سائیاں میں بن کے سوالن آئیاں

اس وقت بھی اپنے پیر و مرشد کی محبت میں سرشار حضور سوہنا سائیں قدس سرہ پر جذبہ طاری تھا۔ حضور کی شفقت و ذرہ نوازی بھی قابل دید تھی، چنانچہ ایک بار ہم سندھی اور پنجابی فقراء مل کر لیموں کے باغ (اللہ آباد شریف میں) کی گوڈی کر رہے تھے، حضور نے اس عاجز کو جمعدار مقرر فرمایا، تھوڑی دیر بعد جب حضور حویلی مبارک سے باغ میں تشریف لائے، تمام فقیروں کی نظریں آپ کے چہرہ انور کی طرف تھیں، حضور اس عاجز اور مولوی اللہ یار صاحب کے پاس تشریف لے آئے۔ بڑی دلجمعی سے ہمارے ساتھ خوش خلقی پیار و محبت کے انداز میں بات چیت فرماتے رہے، خود بھی مسکراتے رہے اور ہم غمزدوں کو بھی ہنساتے رہے۔ ایک مرتبہ جب میرے لجپال حضرت پیر سوہنا سائیں قدس سرہ کو کسی طرح معلوم ہوا کہ فقیر ریاست علی کے پاس سندھ آنے کے لئے کرایہ نہیں تھا اس لئے حاضر نہیں ہوا تو آپ نے محترم ڈاکٹر محمد یوسف صاحب کے ہاتھ میرے لئے کرایہ بھیجا۔ قربان جاؤں حضور نے ہمیں دیا بہت کچھ، ہم سے لیا کچھ بھی نہیں، بس آپ کی زیارت و محبت کی پرکیف باتیں اور جدائی کے صدمے جب یاد آتے ہیں تو غمزدہ دل سے یہ آواز آتی ہے۔

ع۔ ٹرگیا سوہنا کیہڑے راہ، ٹر گیا سوہنا کیہڑے راہ
سانوں وچ خیالاں پا، ٹر گیا۔۔۔

لاشئی فقیر ریاست علی بخشی طاہری بگے دا چک جڑانوالہ۔

 

حرمین شریفین میں با ادب رہیں

از خلیفہ مولانا محمد صالح چنہ صوبھو دیرو ضلع خیر پور میرس سندھ

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ۱۹۷۶ء میں حجاز مقدس کی حاضری نصیب ہوئی، حضور سے اجازت لے کر جب وہاں پہنچا تو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ زادھما اللہ شرفاً و تعظیما دونوں مقامات پر حضور کے غلام فقیر ملے ان سے مل کر طریقہ عالیہ کے مطابق حلقہ مراقبہ کا بھی اہتمام کیا تھا اور بذریعہ عریضہ حضور کو اطلاع کی۔ آپ نے جواب میں تحریر فرمایا

۱۔ جملہ فقراء کو تاکید کی جاتی ہے کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ عالیہ بلکہ عرب شریف کے ہر ایک فرد اور ہر ایک چیز کا ادب و احترام کریں۔ خاص کر مسجد الحرام اور مسجد نبویہ علیٰ صاحبہا الصلوۃ والسلام کا بے حد احترام کریں، سارا وقت باوضو نہایت ادب و انکساری سے حرم شریف میں رہیں۔

۲۔ جس فیکٹری وغیرہ میں فقراء ملازمت کریں، پوری دیانت داری، سچائی اور محنت سے کام کریں، وہاں ایثار، اخلاق، حسن اعمال کا مظاہرہ کریں۔

۳۔ اہل ذکر فقراء آپس میں جمع ہو تے رہیں، دوسرے خط میں ان کے نام تحریر کرنا۔

۴۔ باہمی تنظیم قائم کریں، ہر ہفتہ ایک یا دو دفعہ آپس میں مل کر مراقبہ بھی کریں، طریقہ عالیہ کے اصول و ضوابط سے دوسرے فقراء کو مطلع کرتے رہیں۔

۵۔ ہر ایک فقیر عمامہ کی پابندی کرے، وضو میں مسواک کی بھی پابندی ہو۔ حتیٰ المقدور اشراق اور اوابین کے نوافل بھی ادا کرتے رہیں۔ نماز پانچوں وقت (مکہ مکرمہ کے قیام کے دوران) بیت اللہ شریف میں باجماعت ادا کریں۔ تہجد ضرور پڑھیں، ہر ہفتہ ایک دو مرتبہ صلوۃ التسبیح بھی پڑھتے رہیں، طواف بکثرت کریں، جس وقت بھی فرصت ملے طواف کعبۃ اللہ شریف، ذکر، مراقبہ، تلاوت قرآن مجید، دو صد بار درود شریف، دو صد بار ذکر کلمہ طیبہ لا الہ اللہ بلا جہر، ہر صد کے آخر میں محمد رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم، دو صد بار استغفار، نماز عشاء اور تہجد کے بعد سلسلہ عالیہ پڑھتے رہیں۔ وضو اور نماز کے مسائل جن کو یاد نہ ہوں یاد کریں۔

۶۔ پاکستانی خواہ بیرونی فقراء احتیاط سے رہ کر تبلیغ کریں، اور اپنے حنفی مسلک پر قائم رہیں۔

۷۔ عرب حضرات کو ذکر اللہ کی طرف متوجہ کرتے رہیں، ذکر کے متعلق قرآن مجید میں بہت سی آیات وارد ہیں، چند آیات درج ذیل تحریر کی جاتی ہیں۔

۸۔ آپ یہاں سے پڑھانے کا مقصد لے کر نہیں گئے تھے۔ آپ کا اصل مقصد حج بیت اللہ شریف اور تبلیغ ہے، اس لئے بیرون ممالک میں تبلیغ اسلام کے لئے جانے کے ذرائع اور وسائل معلوم کرتے رہیں، اور ان ذرائع سے استفادہ کی بھی کوشش کریں۔

چند ملفوظات: ۱۸ جولائی ۱۹۷۵ء کو درگاہ طاہر آباد شریف میں ذکر اللہ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔ انسان کا دل مولیٰ تبارک و تعالیٰ کی محبت و معرفت کا مکان ہے لہٰذا اسے ذکر اللہ تعالیٰ ہی سے آباد رکھنا چاہیے۔ آج کل وعظ، تقاریر اور بڑے بڑے جلسے تو بہت ہوتے ہیں اور ہونے بھی چاہئیں، مگر دل کی صفائی کے لئے جو اہم ذریعہ ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کا ذکر، اس طرف توجہ نہیں کی جاتی۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ”وما خلقت الجن ولانس الا لیعبدون“

(میں نے جنوں اور انسانوں کو نہیں پیدا کیا، مگر اپنی عبادت اور بندگی کے لئے) اس کا مقصد یہ نہیں کہ دنیاوی کاروبار بالکل ترک کر دیئے جائیں جائز اور حلال طریقے سے کاروبار کرنے سے شریعت مانع نہیں ہے۔ لیکن دنیا اور کاروبار ہی کو مقصد سمجھ کر اسی کے درپے ہونا منع ہے۔ دیکھا جائے تو وہ دنیا جو انسان کو اپنے حقیقی خالق و مالک سے دور کرے، وہ کسی کام کی نہیں ہے، جن کے پاس مال و دولت ہے مگر یاد الٰہی سے غافل ہیں، ان کو کبھی قرار، فرحت و جمعیت میسر نہیں ہوئی۔ حال ہی کی بات ہے کہ سندھ کے ایک بہت بڑے امیر مخدوم تعزیت کے لئے سیکھاٹ گئے۔ وہاں کچہری کرتے ہوئے ساتھیوں سے کہنے لگے کہ بلڈ پریشر کا اس قدر مریض ہوں کہ کھانے پینے کا لطف ہی ختم ہو چکا ہے۔ ایک مرتبہ حضور کی خدمت میں محترم محمد اشرف پاٹولی نے (جو غالباً حیدرآباد کے کسی ٹیکنیکل کالج کے لیکچرار تھے) گیس ٹربل (پیٹ میں ریح) کی شکایت کی تو آپ نے اسے لاہوری نمک استعال کرنے کا حکم فرمایا۔ مزید فرمایا سیدنا حضرت علی کرم اللہ وجہہ، کھانا کھانے سے پہلے اور آخر میں نمک استعمال فرماتے تھے نمک استعمال کرنا ستر بیماریوں کے لئے مفید ہے۔ نماز کے بارے میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔ آج کل بہت سے نیک صالح آدمیوں میں بھی یہ غفلت بہت زیادہ ہے کہ خود تو نماز پڑھتے ہیں، لیکن بیوی بچوں کو تاکید نہیں کرتے۔ زیادہ سے زیادہ ایک دو بار زبانی کہہ دیا، وہ نہ مانے، پھر کہتے ہیں ہم کیا کریں خود جانیں، ایسے آدمی دراصل بیوی بچوں کے حقیقی خیر خواہ نہیں۔ اگر کسی کے اہل خانہ میں سے کوئی بیمار پڑجاتا ہے تو اس وقت تو یہ نہیں کہتے کہ ہم کیا کریں، وہ خود جانیں، حالانکہ صریح ارشاد ہے کہ وامر اھلک بالصلوۃ (اپنے اہل و عیال کو نماز کا حکم کریں) حدیث شریف میں ہے من ترک الصلوۃ متعمد افقد کفر۔

جس نے جان بوجھ کر نماز ترک کی (گویا کہ) اس نے کفر کیا۔ شرک کے بعد تمام گناہوں سے بڑھ کر گناہ نماز چھوڑ دینا ہے۔ متوکل علماء کرام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ بہاولپور کے علاقہ میں ایک مولوی صاحب تھے جو فی سبیل اللہ دین کی تعلیم دیا کرتے تھے اور ان کا کاروبار تھا گدھوں کی تجارت کرنا، بڑے بیباک جری عالم تھے۔ گدھے کی سواری کرنا بھی سنت رسول اللہ ہے، علمائے کرام کو بے طمع ہوکر دین کی خدمت کرنی چاہیے۔ ایسے ہی علماء کرام انبیاء علیہم السلام کے وارث ہیں۔ کیا عالم ربانی ہونے کی ڈگری موجودہ ڈگریوں سے کم ہے جن کے لئے طرح طرح کی تکلیفیں برداشت کرتے ہو، گھر وطن چھوڑتے ہو۔ میں اس کا مخالف نہیں ہوں۔ مقصد یہ ہے کہ جب ظاہری (انگریزی) تعلیم کے لئے اتنی محنت کرسکتے ہو تو معرفت الٰہی حاصل کرنے کے لئے، نائب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بننے کے لئے بھی کچھ تو محنت کرنی چاہیے۔ جن کے بارے میں رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: من زار عالما فکانما زارنی۔ (جس نے عالم کی زیارت کی اس نے میری زیارت کی) فرمایا۔ حضرت شیخ شبلی رحمۃ اللہ علیہ کہیں سے گزر رہے تھے، جہاں ایک شخص کو کسی عورت سے عشق و محبت کے الزام میں درے مارے جا رہے تھے، اور وہ کسی پریشانی یا تکلیف کا اظہار کئے بغیر خوشی کے انداز میں ہنس رہا تھا، آگے بڑھ کر حضرت شیخ علیہ الرحمہ نے ملزم سے ہنسنے کی وجہ پوچھی، جس پر وہ کہنے لگا جس محبوبہ سے میری محبت ہے وہ بالا خانہ سے مجھے دیکھ رہی ہے، اسے دیکھتے ہوئے میں کیسے رو سکتا ہوں۔ واقعہ بیان کرکے فرمایا، جب ظاہری عشق و محبت والے کی اتنی استقامت ہو تو ہم اپنے حقیقی خالق و مالک سے محبت کے دعویدار ہیں ہم کیوں کر سست پڑے رہیں۔ فرمایا آج کل ملک بھر میں اسلامی قوانین کے نفاذ کی باتیں ہو رہی ہیں، کاش قانون نافذ کرنے والے ادارے، سب سے پہلے خود شریعت کے عامل بن جائیں، اس کے بعد دوسروں کو کہیں تو کچھ نتیجہ بھی ظاہر ہو۔ صرف کہنے سے کچھ نہیں بنتا۔


 

میری اصلاح کیسے ہوئی؟

عزیز القدر مولانا خلیفہ مقصود الٰہی صاحب نوابشاہ
حال لیکچرار گورنمنٹ بدایوانی کالج کراچی

میں بارہویں کلاس کا طالب علم جوانی کی بدمستیوں میں گرفتار سینماؤں کا از حد دلدادہ تھا، خاندانی شرافت آڑے نہ آتی تو نہ معلوم میں کہاں سے کہاں پہنچ چکا ہوتا۔ اسی عالم میں اپنے ایک صالح پڑوسی کی دعوت پر حضور کی خدمت میں مورو پہنچا، مورو آمد کے وقت بھی میرا اصل مقصد قبلہ والد صاحب سے ملاقات تھی جو مورو کے قریب ہی زمین پر رہا کرتے تھے۔ سب سے پہلے جس چیز نے مجھے متاثر کیا وہ فقراء کا خلوص اور محبت تھی، جو بڑے خلوص اور پیار سے آگے بڑھ کر بغلگیر ہوئے، میں اپنے خاندانی پیروں کی بارہا زیارت کر چکا تھا، مگر خدا شاہد ہے کہ حضور کے نورانی چہرہ مبارک پر نظر پڑتے ہی ایسا سکون اور کشش محسوس ہوئی کہ اس سے پہلے کبھی میں نے تصور بھی نہ کیا تھا۔ جب دوسرے نئے آنے والے ذکر سیکھ رہے تھے، میں نے بھی لا ابالی کے عالم میں ذکر تو سیکھ لیا، مگر یہ تک مجھے معلوم نہ تھا کہ اس طرح آدمی کسی پیر کا مرید بن جاتا ہے۔ جب آپ نے دوران خطاب فرمایا ”یہی ہوش سنبھالنے کا وقت ہے، کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے؟ کیا کبھی اس وقت کو بھی یاد کیا ہے جب تو اس دنیا سے کوچ کر جائے گا تیرے ماں باپ، بھائی بہن، تیری کچھ مدد نہیں کر سکیں گے، تجھے تن تنہا قبر میں اتاریں گے وغیرہ۔“

میں دل ہی دل میں یہ سوچ کر (ان کی تمام تر توجہ صرف قبر اور آخرت کی طرف ہے، میرا جوانی کا عالم ہے، میری ان سے کسی طرح مناسبت نہیں ہے) دونوں ہاتھ زمین پر ٹیک کر اٹھنے ہی والا تھا کہ آپ نے موضوع بدلتے ہوئے فرمایا: ”جس کے دل میں یہ خیال ہے کہ میں دنیادار آدمی ہوں، مجھے ان فقیروں سے کوئی مناسبت نہیں ہے، یا ان کے ساتھ بیٹھنے کا اہل نہیں، میرا چلا جانا بہتر ہے وہ صبر سے بیٹھے اور ہماری صرف اتنی عرض قبول کرے کہ بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ذکر کرتا رہے اور کبھی کبھی صحبت میں آتا رہے تو انشاء اللہ تعالیٰ اس کی اصلاح ہو جائے گی، اس کا سینہ نور ہدایت سے بھر جائے گا۔“ آپ کے ارشادات سے قدرے مطمئن ہوکر بیٹھ گیا کہ آپ نے اپنی خدا داد فراست سے میرا حال معلوم کرکے میری اصلاح فرما دی۔ بعد میں تو الحمد للہ حضور سے مسلسل رابطہ عقیدت و محبت رہا۔ کئی بار حضور ہمارے غریب خانہ پر تشریف فرما ہوئے۔ ایک بار تقریباً دس دن مسلسل ہمارے گھر قیام فرمایا (بہ سلسلہ علاج تشریف لائے تھے)۔

بے طمع: آپ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ مبلغ کو چاہیے کہ بے طمع ہوکر رہے، کسی کے پاس جائے تو ان پر بار نہ بنے۔ دراصل آپ خود ان باتوں کے سخت پابند تھے، جس کا مشاہدہ ہم نے بارہا کیا۔ چنانچہ متعدد بار جب ہم نے عرض کی کہ آپ ہمارے گھر کی ہر چیز استعمال کر سکتے ہیں (یہ اس لئے کہ ہمیں معلوم تھا کہ جب تک آپ کو صاف الفاظ میں اجازت نہیں دی جائے گی، آپ ہمارے گھر کی کوئی چیز استعمال نہیں فرمائیں گے) پرہیز کے مطابق جو کھانا تناول فرمانا چاہیں، اس کے لئے ارشاد فرمائیں، تو فرمایا ”کسی چیز کی ضرورت نہیں، یہ عاجز ضروری اشیاء آٹا، گھی وغیرہ اپنے ساتھ لے آیا ہے۔“ بہر حال ہم نے مودبانہ عرض کرکے لنگر کے لئے آپ کو راضی کیا۔ حضور کے ان دس دنوں میں اتنا کثیر تبلیغی فائدہ ہوا کہ بے شمار بے نمازی، نمازی بن گئے، کئی نئے دوستوں نے داڑھیاں رکھ لیں، چند ہی دنوں میں پورے شہر نواب شاہ میں ہل چل مچ گئی۔ روز نئے نئے آدمی حاضر ہونے لگے۔ لیکن جیسے ہی واپسی کا پروگرام بنا، سچ یہ ہے کہ فقیروں پر رنج و غم کے پہاڑ ٹوٹ پڑے، ہر کوئی رو رہا تھا، یہ عاجز تو اس دن بے ہوش ہوگیا تھا۔

تبرکات: اسی بار از راہ شفقت و عنایت آپ نے ایک تسبیح اور کرتہ عنایت فرمائے، جن سے ہماری خوشی کی انتہا نہ رہی۔ آج بھی جب زیارت کے لئے تسبیح اور کرتہ مبارک نکالتے ہیں تو ان سے حضور کی مسحور کن خوشبو آتی ہے۔

کرامات: ویسے حضور کی کرامات تو بہت زیادہ ہیں، لیکن یہاں چند ایک کرامات ہی کا ذکر کرتا ہوں۔

دہریہ کی اصلاح: یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران ایک بار بعد از نماز ظہر یہ عاجز درگاہ اللہ آباد شریف حاضر ہوا، حضور دولت خانہ میں تشریف لے جا چکے تھے، تو وہاں ایک لکھا پڑھا نوجوان پہلے سے موجود تھا اور بڑی الٹی سیدھی باتیں کرکے فقیروں کو تنگ کر رہا تھا، میں بھی جا کر اس سے ملا، بدقسمتی سے وہ کٹر دہریہ، وجود باری تعالیٰ کا منکر، اس قدر گندی ذہنیت کا تھا کہ کہنے لگا، آپ لوگ سندھ کے لوگوں کو گمراہ کرکے پھر سے اسی زمانہ میں لے جارہے ہیں جو جاہلیت کا دور تھا، آج کل اسلام نہیں چل سکتا وغیرہ۔ ہم نے اسے سمجھانے کی بہت کوشش کی مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوا اور بار بار اپنا یہ سوال دہراتا کہ ”میں خدا کو مانتا ہی نہیں،، اگر بقول تمہارے خدا ہے تو پھر مجھے دکھاؤ کہاں ہے؟ عاجز جب اسے کوئی نصیحت آمیز شعر سناتا تو وہ کوئی گندا شعر سنا کر پانی پھیر دیتا۔ بہر حال میں نے تھک ہار کر اسے کہا کہ جب حضور تشریف لے آئیں، آپ ان سے عرض کرنا وہ آپ کی تشفی کر سکتے ہیں۔ اس پر وہ کہنے لگا کہ مجھے وہ بھی نہیں منوا سکتے۔ خیر نماز عصر کے بعد میں اسے حضور کی خدمت میں لے گیا، اور حضور سے عرض کی یا حضرت یہ اللہ تعالیٰ کے وجود کا منکر ہے اور کچھ عرض کرنا چاہتا ہے، مگر خدا شاہد ہے میرے کہنے کے باوجود اسے ایک کلمہ تک کہنے کی جرات نہ ہو سکی اور خاموش بیٹھ گیا، اور حضور نے چند ہی کلمات میں اس کی کایا پلٹ دی۔ بڑے پیار سے فرمایا تمہیں کس نے پیدا کیا ہے؟ کہنے لگا اللہ تعالیٰ نے، تو پھر حضور نے فرمایا بڑے افسوس کی بات ہے کہ جس نے تجھے پیدا کیا ہے، تو اسے نہیں مانتا۔ بظاہر یہ چند سیدھے سادے الفاظ تھے، مگر ان کی باطنی تاثیر اتنی تھی کہ وہ نوجوان رونے لگا۔ اور عرض کی حضرت مجھے اپنی غلامی میں قبول کریں۔ اس پر آپ نے نورانی ہاتھ آگے بڑھا کر اس کے ہاتھ میں پکڑا دیئے، کلمہ شہادت، استغفار وغیرہ پڑھا کر استقامت کی دعا فرمائی اور قلبی ذکر کی تلقین فرمائی۔ تقریباً ایک ہفتہ بعد جب میں دوبارہ دربار شریف پر حاضر ہوا، تو وہ نوجوان بھی جلسے میں شرکت کے لئے آیا ہوا تھا، بڑی محبت سے گلے ملا اور بتایا کہ اسی دن سے میں نے داڑھی بھی رکھ لی ہے۔ کبھی شیو نہیں بنوائی۔

وعلیکم السلام: جیسے ہی کالج میں بطور لیکچر میرا تقرر ہوا، آتے ہی میں نے حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کا تعارف کروایا۔ جس سے اقبال حسین نامی ایک دوست بڑا متاثر ہوا اور کہا کہ جب کبھی حضور کے نام خط لکھو تو میری طرف سے سلام ضرور لکھنا، میں نے ایسے ہی کیا، ابھی خط ڈالے تین دن ہوئے تھے کہ اقبال صاحب نے مجھے آکر بتایا کہ رات کو آپ کے مرشد حضرت سوہنا سائیں کی مجھے خواب میں زیارت ہوئی، آپ نے مجھ سے فرمایا وعلیکم السلام، اس کے بعد حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کا بعینہ حلیہ بیان کیا۔

غیبی طعام: ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ بیرونی دوستوں سے ملاقات ذکر اذکار اور یکے بعد دیگرے تبلیغی حلقوں میں شرکت کی وجہ سے مسلسل دو دن تین رات تک ایک لقمہ بھی نہیں کھایا تھا۔ تیسری رات اورنگی ٹاؤن کے حلقہ میں ذکر اذکار اور مراقبہ کے بعد تقریباً ۱۲ بجے مکان پر پہنچا، بھوک کی وجہ سے پیٹ میں درد ہونے لگا۔ کافی دیر تک کروٹیں بدلتا رہا، آخر تھوڑی دیر کے لئے آنکھ لگ گئی، خواب میں حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ نظر آئے اور مجھے فرمایا

”مقصود الٰہی ہم آپ کو بھوکے پیٹ نہیں سونے دیں گے، اٹھو یہ پراٹھا کھاؤ، شہد اور دیسی گھی سے بھرا ہوا برتن مجھے دے دیا۔ ایک لقمہ لے کر اسے گول لپیٹ لیا اور اس میں گھی اور شہد بھر کر عاجز کو دے دیا اور فرمایا، اس طرح بھر بھر کر کھاؤ، اسی طریقے پر میں سارا پراٹھا کھا گیا۔ اس کے بعد خدا شاہد ہے کہ عاجز کو شہد اور گھی کے ڈکار آرہے تھے، بھوک کا نام و نشان تک نہ تھا، بالکل پیٹ بھرا ہوا محسوس ہو رہا تھا، جس کی وجہ سے تیسرے دن بھی ناشتہ کھائے بغیر کالج چلا گیا اور شام کو آکر کھانا کھایا۔

 

مجھے بلایا گیا

از محترم جناب حکیم مولوی محمد عظیم صاحب
درگاہ رہڑو شریف تحصیل میہٹر ضلع دادو سندھ

میرے آباو اجداد سندھ کے نہایت مشہور علماء اور اولیاء ہو گزرے ہیں۔ ہمارا گھرانہ کئی نسلوں تک دینی علوم کا گہوارہ بنا رہا، آج بھی سندھ کے مشہور پیر طریقت حضرت مولانا محمد قاسم مشوری صاحب مدظلہ العالی ایسے کئی مشاہیر ہمارے بزرگوں کے یادگار اور مایہ ناز شاگرد ہیں۔ بہرحال بدقسمتی سے گردش ایام کے جھونکے نے بڑی حد تک ہمیں اپنے بزرگوں کی بتائی ہوئی شاہراہ سے ہٹا لیا تھا، گو میں خود پنے والد ماجد قبلہ رحمۃ اللہ علیہ کے پاس درس نظامی کی کافی کتابیں پڑھ چکا تھا (جن کے پاس کئی جن بھی دینی تعلیم حاصل کرنے آتے تھے) مگر قبلہ والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے بعد خود میری حالت یہ ہو چکی تھی کہ داڑھی مونڈ تھا، بڑے بڑے چور اور ڈاکو ہی میرے دوست اور ہمنوا تھے، علماء اور بزرگوں سے غیر معمولی نفرت تھی۔ یہاں تک کہ حضرت قبلہ سیدی و مرشدی سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی صورت میں اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم شامل حال ہوا اور ان کی نظر کرم سے میری صورت و سیر ت بد ل گئی۔ ہوا یہ کہ رمضان المبارک ۱۳۸۸ھ کو بستی کرم اللہ چانڈیو میں چند بزرگ تبلیغ کرنے تشریف لائے، میں اپنے غرور و گھمنڈ میں تھا، نہ فقط یہ کہ ان کی ایک نہ سنی بلکہ بلاوجہ ان سے مذاق کرتا رہا۔ خاص کر داڑھی جو کہ سنت رسول اللہ ہے اس کے خلاف بد کلامی کرکے ان کو تنگ کرتا رہا، تاکہ یہاں سے چلے جائیں، وہ بیچارے صبر سے سنتے رہے، آخر مجبور ہوکر دوسری بستی میں چلے گئے۔ رات کو جیسے ہی سویا خواب میں ایک نہایت ہی حسین و جمیل، مگر اجنبی شہر نظر آیا، جس کے دروازے لعل و جواہر سے جڑے ہوئے نہایت ہی شاندار معلوم ہو رہے تھے، وہاں میں نے غیر معمولی طور پر اپنے آپ کو زنجیروں میں جکڑا ہوا پایا۔ طاقت ور ہونے کے باوجود ان کے اٹھانے سے قاصر تھا، وہیں حضرت قبلہ والد ماجد رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت قبلہ پیر مٹھا قدس سرہ اور حضرت سوہنا سائیں قدس سرہ بھی نظر آئے (جن کی زیارت میں کئی برس پہلے اس وقت کر چکا تھا، جب ہمارے بزرگ مخدوم محمد عثمان صاحب رحمۃ اللہ ان کو دعوت دے کر اپنے یہاں رہڑو شریف لائے تھے) وہیں حاجی بخشیل صاحب رحمۃ اللہ علیہ (جو حاجی احمد حسن صاحب اور دیگر چند ساتھیوں کے ہمراہ بستی کرم اللہ تبلیغ کرنے آئے تھے، اور میں نے ان کی بے ادبی کی تھی) نے عرض کی یا حضرت یہ وہ شخص ہے جس نے کل ہمیں برا بھلا کہا تھا، آپ نے فرمایا اسے لے آؤ، ابھی مجھے لے جانا چاہتے ہی تھے کہ حاجی صاحب موصوف رحمۃ اللہ علیہ نے عرض کی کہ حضور اس بار اسے معاف فرما دیں، آئندہ کبھی ایسی غلطی نہیں کرے گا۔ اس پر آپ نے فرمایا

”چلو اس بار اسے معاف کر دیتے ہیں، اللہ تعالیٰ اسے ہدایت فرما دے“۔

بس یہی خواب اور خواب میں حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی زباں درافشاں سے ہدایت کی دعا میری اصلاح کا ذریعہ بنی۔ صبح ہوتے ہی اپنی مونچھیں کتروائیں، ریڈیو جس سے مجھے بے حد محبت تھی بیچ دیا، اپنے دو نوکر اور دو شاگرد ساتھ لے کر حضور کی خدمت میں درگاہ فقیر پور شریف حاضر ہوا اور اپنی تفصیلی داستان سنائی (مؤلف فقیر بھی اس وقت حاضر خدمت تھا) حضور نے غیر معمولی کرم نوازی فرمائی، ذکر قلبی کا وظیفہ سمجھایا، اور بزرگوں کی نسبت کی وجہ سے مزید شفقت بھی فرمائی، اسی دن سے میں نے نماز شروع کی، اپنے متعلقین احباب اور چور ساتھیوں کو بھی تبلیغ کی، ان میں سے بھی کئی سچے دل سے تائب ہوئے، میں نے کئی چور اور ڈاکوؤں کی لمبی مونچھیں کتروا کر کپڑے کے ایک ٹکڑے میں لپیٹ کر فقیر پور شریف لے جاکر حضور کو دکھائیں کہ حضور آپ کی دعا سے میرے اور ساتھی بھی توبہ تائب ہوئے ہیں، اس پر آپ اور بھی خوش ہوئے۔

حضور کی کرامت: حضور سے بیعت ہونے کے بعد میں نے اپنے گھر میں مکمل طور پر شرعی پردہ کا اہتمام کیا، ریڈیو وغیرہ یکسر ختم کردیا، لیکن پڑوس میں رات دن ریڈیو کا شور رہتا تھا، جس کی وجہ سے میں بڑا پریشان رہتا تھا۔ چنانچہ ایک بار خواب میں حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی اس حال میں زیارت ہوئی کہ آپ کہیں تشریف لے جار ہے ہیں، ہزاروں فقراء آپ کے پیچھے پیچھے اللہ تعالیٰ کے ذکر کی صدائیں بلند کر تے ہوئے جا رہے ہیں، اتنے میں آپ مجھے بستی سے باہر لے گئے اور تھوڑی ہی دور ایک جگہ کھڑے ہوکر فرمایا۔

” آپ یہاں اپنے لئے مکان بنائیں، اس جگہ مطب اور اس جگہ اوطاق بنائیں، اور ایک جگہ عصا مبارک گاڑ کر فرمایا، یہاں پانی کا نل لگانا، صبح کو اٹھ کر اس جگہ گیا اور تو کوئی نشان نظر نہ آیا البتہ جہاں آپ نے عصا مبارک گاڑ کر فرمایا یہاں نل لگانا، وہاں عصا کے نشانات بالکل صاف نظر آرہے تھے۔ میں نے اس خواب کو اپنی پریشان حالی کا مداوا سمجھ لیا اور بستی سے منتقل ہوکر وہیں گھر بنانے کا ارادہ کر لیا، مگر چونکہ پوری بستی اور قرب و جوار میں کہیں بھی نل یا کنویں کا پانی میٹھا نہیں نکلا تھا، اس لئے حضور کی خدمت میں فقیر پور شریف حاضر ہوا، اور آپ سے عرض کی یا حضرت آپ کی دعا اور توجہ سے ہزاروں کڑوے دل بھی میٹھے ہوگئے (گمراہوں کی اصلاح ہوئی) دعا فرمائیں کہ میرے نل کا پانی میٹھا ہو۔ بہر حال آپ سے پانی دم کروایا اور نل کے بور میں پانی ڈلوایا، بفضلہ تعالیٰ اس قدر پانی میٹھا نکلا کہ علاقہ بھر کے موافق خواہ مخالف سبھی حیران ہوکر یہ ماننے پر مجبور ہوگئے کہ یہ آپ کے پیر ہی کی کرامت ہے۔

 

چوری سے نعت خوانی تک

از فقیر علی حسن صاحب تحصیل میھڑ ضلع دادو

ایک زمانہ وہ بھی تھا کہ ہماری خواتین بے پردہ رسمی شادیوں کے موقعوں پر لاڈا سہرا گاتی تھیں، شریعت مطہرہ سے دور کا واسطہ نہ تھا، اور ہم مرد چوریاں کرکے گذارہ کرتے تھے۔ پورا علاقہ ہم سے تنگ آچکا تھا، تالے کھولنے کے لئے چابیاں بھی ہم خود بنایا کرتے تھے۔ بیل گاڑیوں کی دوڑ ہمارا محبوب مشغلہ تھی۔ یہی نہیں بلکہ ایک مرتبہ قریب کے بزرگ اور ولی کامل حضرت سعیدی موسانی رحمۃ اللہ علیہ کے یہاں حاضری کے لئے جاتے وقت ہم چند بیل گاڑیوں پر سوار تھے۔ جن میں مر د عورتیں اور بچے بھی شامل تھے۔ آخر جب ایک آدمی کی بیل گاڑی پہل کرنے میں کامیاب ہوگئی، تو دوسرے نے کچھ شرم محسوس کئے بغیر یہ تک کہہ دیا کہ اب دونوں کی بیویوں کی دوڑ ہونی چاہیے جس پر دوسرے نے بھی اتفاق کیا، اور دونوں خواتین کی دوڑ ہوئی۔ جس کے گواہ اب بھی موجود ہیں۔ میرے چچا دودو خان خنزیر کا شکار کھیلتے تھے۔ خنزیر مارکر اس نے انعام بھی حاصل کئے تھے۔ گو یہ باتیں سطحی نظر سے غیر اہم معلوم ہوتی ہیں، مگر میرے نزدیک یہ حضور کی بہت بڑی کرامت ہے کہ آپ نے اس قدر بے دینی اور گمراہی میں مبتلا افراد کی اس قدر اصلاح فرمائی کہ جو بے پردہ گھومنے پھرنے والی، ناچ گانے والی عورتیں تھیں آج ان میں پردہ کا اس قدر اہتمام ہے کہ علاقہ بھر کے لوگ جو پہلے حقارت سے دیکھتے تھے آج نیکی بیان کرتے رہتے ہیں، ہماری چوریاں اور ڈاکے اس قدر مشہور تھے کہ بے گاہ وقت میں قریب سے گزرنے کی کوئی ہمت نہیں کرتا تھا۔ طریقہ عالیہ میں داخل ہوکر سابقہ گناہوں سے تائب ہونے کے بعد بھی ایک مرتبہ حضور کے خلیفہ اور مشہور واعظ مولانا قاضی نصیر الدین صاحب رحمۃ اللہ علیہ جب وہاں سے گزر رہے تھے تو ڈر رہے تھے۔ انہیں یہ معلوم نہ تھا کہ یہ تائب ہو چکے ہیں۔ کسی مخالف جماعت کے آدمی نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا، اب آپ بے فکر چلے جائیں، آجکل یہ مسجدوں میں پڑے رہتے ہیں، رات دن اللہ، اللہ کرتے پھرتے ہیں، اب ان کی چوری اور لوٹنے کی عادت ختم ہو گئی ہے۔ چند سال پہلے میں ایک مقدمہ میں گرفتار ہوا، مجھے کچھ عرصہ دادو سینٹرل جیل میں رکھا گیا اور بیس دن میھڑ جیل میں۔ ہر دو جگہ میں نے ڈاکوؤں میں تبلیغ کی، جس سے کئی ڈاکوؤں نے نمازیں پڑھنی شروع کردیں، چند ایک نے تو نماز تہجد بھی شروع کی، اور لمبی لمبی مونچھیں بھی از خود کتروائیں، یہ سب حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی نگاہ کرم اور صحبت بابرکت کی تاثیر ہے، ورنہ میں تو خود بڑا ڈاکو تھا۔

 

میرے رہبر و راہنما

محترم اقبال صاحب لیکچرار گورنمنٹ بدایونی کالج کراچی۔

جس کسی کو حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ سے قلبی تعلق اور باطنی نسبت تھی، اس پر کسی نہ کسی طرح کوئی خاص مہربانی ضرور ہوئی۔ چنانچہ یہ عاجز جب محترم خلیفہ مقصود الٰہی صاحب کے ہمراہ حضور کی خدمت میں پہنچا، بیعت اور قلبی ذکر سے مشرف ہوکر واپس کراچی پہنچا، عجیب قسم کی لذت اور جولانی محسوس کرتا تھا۔ مجھ پر خاص مہربانی یہ ہوئی کہ نماز فجر کے وقت اگر سستی کرتا تو میرا نام لے کر کوئی پکارتا اور میں بیدار ہوکر پہلے گھر میں اس کے بعد باہر دیکھتا مگر آدمی نظر نہ آتا، آخر دن کو اپنے دوستوں سے پوچھتا آج کس نے مجھے فجر کے وقت آواز دی؟ مگر جواب ہمیشہ نفی میں ملتا۔ جس سے مجھے یقین ہوگیا کہ یہ میرے پیر کامل کی کرم نواز ی ہے کہ نماز کے لئے مجھے بیدار کیا جاتا ہے۔ یہ معاملہ دس، گیارہ دن مسلسل رہا۔ حضور کے روحانی کشف کا ایک واقعہ بھی میرے سامنے ہو گذرا جس سے میری عقیدت و محبت میں اور بھی اضافہ ہوگیا۔ وہ یہ کہ مؤرخہ ۲۶ دسمبر ۱۹۸۲ء میں کالج جا رہا تھا کہ محترم مقصود الٰہی صاحب راستے میں مل گئے، فرمانے لگے کہ حضور نے فرمایا ہے اپنے دوستوں کے ہمراہ درگاہ شریف پر پہنچو، میں نے کہا کیا کوئی آدمی آیا ہے؟ خط، تار وغیرہ، کہنے لگے، نہیں بس حضور نے بلایا ہے۔ بہرحال میں سمجھ گیا کہ کوئی راز کی بات ہے، ڈیوٹی کے بعد والدہ صاحبہ سے اجازت لے لی، ظہر کے وقت دوستوں کو اپنے جانے کا بتایا، جس پر محترم ببو بھائی اور عظیم بھائی بھی تیار ہوئے۔ رات کے تقریباً گیارہ بجے اللہ آباد شریف کنڈیارو پہنچے، سخت سردی تھی، بہر حال مسجد میں آرام کیا۔ تہجد کے وقت آنکھ کھلی تو عجیب قسم کی لذت محسوس ہو رہی تھی۔ صبح نماز و مراقبہ کے بعد ملاقات ہونے پر حضور نے ازراہ شفقت دریافت فرمایا، رات کوئی تکلیف تو نہیں ہوئی؟ ہم نے کہا جی نہیں۔ حضور کے تشریف لے جانے کے بعد ایک شخص ہمارے پاس آیا، کہنے لگا معاف کرنا مجھ سے غلطی ہوئی، پوچھنے پر بتایا، رات مجھے حضور نے بلا کر فرمایا تھا کہ آج کراچی سے کچھ فقیر آئیں گے، ان کے بستر اور کھانے کا خیال کرنا، ان کو کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچے۔ میں گیارہ بجے تک انتظار کرکے چلا گیا۔ آپ شاید بعد میں تشریف لائے ہیں۔ اس پر میں سمجھا کہ واقعی اللہ والے بڑے شفیق اور مہربان ہیں۔ کسی طرح باطنی طریقے سے پیارے خلیفہ صاحب کو آنے کا حکم فرمایا اور ادھر ایک فقیر کو انتظار کے لئے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ حضور کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں آپ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

 

خود کشی سے خود قسمتی تک

فقیر محمد شریف مسافر پتوکی ضلع قصور

۱۹۸۱ء کی بات ہے، دل کی دنیا پر ایک عظیم سانحہ گزرا کہ خودکشی کو جی چاہتا تھا، خوش قسمتی سے پہلے سے محترم صوفی ریاست علی کی معرفت ایک روحانی طبیب حاذق کا تعارف تھا، بس اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے ان کے بتائے ہوئے پتے پر عازم سندھ ہوا۔ غالباً مارچ کی چار تاریح تھی، ان بزرگوں کی خدمت میں درگاہ فقیر پور شریف رادھن حاضر ہوکر قدم بوسی کا شرف حاصل کیا۔ یہ بزرگ میرے پیر و مرشد شیخ الاسلام والمسلمین حضرت خواجہ سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ تھے جن کے پاس پہنچ کر میرا شکستہ دل ایک نئی لذت، نئی فرحت سے آشنا ہوا، ایک اضطراب آمیز سکون اور ایک روح پرور اضطراب، ایک نغمۂ جاں فزا، ایک ہمہ گیر انقلاب محسوس ہوا، اور فی الحقیقت بیت اللہ کے بتوں سے پاک ہونے کا تجربہ ہوا، فقیر نے پہلی دفعہ محسوس کیا کہ شاعر مشرق نے سچ کہا ہے۔

ع۔ اس راکھ میں ابھی شرر باقی ہیں

جن اللہ والوں کا ذکر بچپن سے کتابوں میں پڑھتا آیا تھا اور اب تک انہیں ماضی کا سرمایہ خیال کرتا تھا، اس وقت محسوس ہوا کہ ان میں سے کوئی اب بھی موجود ہے، یا یوں کہیے کہ

ترک محرومیوں سے الجھ کر جب جستجو کر دی
کسی نے کان میں چپکے سے بس لا تقنطوا کردی

وہ اک مانوس آواز آئی کہ مبارک ہو
خدا نے آج پوری تیری کہنہ آرزو کردی

وہ جس کی جستجو میں میں فضائیں چھان آیا تھا
زمیں پر آج حق نے ان سے میری گفتگو کردی

چمن مرجھا رہا اپنا تھا مغرب کی گرم لو سے
نسیمِ مہرباں نے پھر سے پیدا رنگ و بو کردی

الغرض اس دور میں آپ کا وجود مسعو د قرون اولیٰ کی نشانی نہیں تو اور کیا تھی؟ فقیر نے تو جو کچھ دیکھا، محسوس کیا بے ساختہ الفاظ کے قالب میں یوں ڈھل گیا کہ۔۔۔

تیری بستی کو جو دیکھوں مدینہ یاد آتا ہے
وہی جلوہ وہی نقشہ قرینہ یاد آتا ہے

تیری صورت کو جو دیکھے خدا کی یاد آتی ہے
تیری سیرت سے محی الدین کا جینا یاد آتا ہے

جماعت آپ کی اس دور پرآشوب کے اندر
جنابِ نوح (علیہ السلام) کا ہم کو سفینہ یاد آتا ہے

یہ خطہ گویا نخلستان ہے صحرائے عالم میں
پریشاں کاروانوں کا سکینہ یاد آتا ہے

تمہارے میکدے میں مستئ رِنداں کا یہ عالم
حجازی خمکدے کا آبگینہ یاد آتا ہے

ملاحظہ کیجیو ذرہ نوازی شاہ والا کی
کہ محفل میں مسافر سا کمینہ یاد آتا ہے

وہ چند ایام جو سرکار کی محفل میں گزرے، بلاشبہ فقیر کی اس ناپائیدار زندگی کا قابل فخر سرمایہ ہیں۔۔۔۔۔۔ !

فقیر محمد شریف مسافر جگپوری پتوکی ضلع قصور