فہرست
سیرت ولی کامل (حصہ اول)

اوقات آں بود کہ با یار بسر رفت

از
عُمدۃ الواصلین ولی بن ولی خلف الرشید
حضرت صاحبزادہ محمّد طاھر صاحب عرف سجّن سائیں
دامت برکاتھم العالیہ

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ہائے افسوس، صد افسوس!۔۔۔۔۔ وہ سہانے بابرکت لمحات اب کہاں؟ جو آستانہ عالیہ اللہ آباد شریف کی البیلی رنگینیوں کو دوبالا کئے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔!

نور معرفت کا وہ سیلاب اب کہاں ۔۔۔؟ جو لاکھوں پیاسے قلوب کو سیراب کرتا تھا۔ جس سے ہر سمت بہار ہی بہار کا سماں تھا، سارا چمنستان رنگا رنگ پھولوں کی رعنائیوں سے مہکتا تھا، ہر آن ہرگھڑی نت نیارے پھول نظر آتے، کلیاں چٹکتیں، جن کی مسحور کن اداؤں اور دلنواز خوشبوؤں سے جسم و جان معطر تھے ۔۔۔۔ جن کے پیار بھرے باد صبا جیسے جھونکوں سے چمن کے بیلے، گلاب خوشی سے خراماں خراماں نظر آتے تھے ۔۔۔۔ جن کے دم مسیحا سے نہ معلوم کتنے دلوں کی دھڑکنیں وابستہ تھیں۔

۞

آج بھی چمنستان میں یہ بہاریں، رعنائیاں اور رنگینیاں، چمن کے پھول پتوں اور پودوں سے دلربا خوشبوئیں جو لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کئے ہوئے ہیں، آخر وہ کس کے دم قدم سے وابستہ ہیں؟

۞

رات کے سناٹے میں اٹھ کر دل دردمند کے سوز و گداز سے اپنے خالق و مالک کے حضور نرم و نازک ہاتھ (جن سے کبھی کسی کو دکھ نہ پہنچا ہو) اٹھا اٹھا کر آہ و التجا کرنے والے کون ۔۔۔؟ اور کس کے لئے اس قدر اشکبار ۔۔۔؟

۞

بلاشبہ یہ میرے محبوب مرشد، مربی و مہربان کی سدا بہار صدائیں، تڑپ، دعائیں اور بارگاہ بے کس پناہ میں بار بار کی پکاریں، التجائیں نہ صرف ہم اور آپ کے لئے بلکہ جملہ نوع انسان کی اصلاح و فلاح کے لئے تھیں۔

۞

یقینا آپ نے چمن محمدی صلّی اللہ علیہ وسلم کے ایک ایک پودے کی آبیاری کی۔ اس گلشن کو الحاد و بے دینی کی باد سموم سے بچانے اور سرسبز و شاداب رکھنے کے لئے آپ کو کس قدر کاوشیں کرنا پڑیں، اس کی حقیقی قدر و قیمت سے آپ کی ذات بابرکات خود ہی واقف تھی، ہم نا اہلوں کو اس کی کیا قدر اور کیا خبر؟

درج ذیل شعر جو آپ کے قلب پر سوز و گداز کا آئینہ دار ہے، بعض اوقات بارگاہ ایزدی میں ہاتھ اٹھا اٹھا کر پڑھا کرتے تھے، جس سے سالکین کے سینے چاک ہوا چاہتے تھے، دل کے مندمل گہرے زخم پھر سے تازہ ہوتے تھے ؂

پھلا پھولا رہے یا رب چمن میری امیدوں کا
جگر کا خون دے دے کر یہ بوٹے میں نے پالے ہیں

۞

اے جماعت غفاریہ بخشیہ کے برگزیدہ علماء کرام!

کیا آپ نے میرے آقا و مرشد، مربی و مہربان سے کئے ہوئے عہد و پیمان بھلا دیئے ہیں؟ زندگی کے ماحصل کو چھوڑ کر دنیائے دنی کے دیوانے بن گئے ہو؟

ارشاد خداوندی ”قل متاع الدنیا قلیل“ یاد نہیں ہے؟ خبردار! یہ وقت بزدل، نحیف و ناتواں بن کر بیٹھنے کا نہیں ہے۔ آج پورا عالم ہماری عزت، غیرت اور حمیت کو للکار رہا ہے، ایسے وقت میں ہمیں آگے بڑھ کر اپنے ماسلف کی روایات کو اجاگر کرنا ہے۔ آگے بڑھو! آگے بڑھو!!۔۔۔ ملک و قوم کے خادم بن کر ۔۔۔ دین اسلام کے محافظ و مجاہد بن کر آگے بڑھو، آگے بڑھو ۔۔۔ !!

آج بھی میرے مرشد و مربی سراپا انتظار بن کر بڑی شفقت سے ہمیں دیکھ رہے ہیں، ہم اور آپ کو پکار رہے ہیں ؂

مجھے آہ و فغاں میں نیم شب کا پھر پیام آیا
کہ ٹھہر اے راہ رو شاید کوئی مشکل مقام آیا

۞

روحانی طلبہ جماعت کے نوجوان ساتھیو!

آپ حضرات میرے مہربان مرشد کے مراد (چہیتے) ہو، حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مانند (کہ ان کو رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے بارگاہ الٰہی سے دعا مانگ کر حاصل کیا تھا) حضور نور اللہ مرقدہ نے بارگاہ الٰہی میں دعائیں مانگ کر آپ کو حاصل کیا تھا۔

  • کیا آج تمہارے عزائم متزلزل ہو چکے ہیں؟

  • کیا تمہاری سیسہ پلائی دیواروں میں بھی کمزوری آگئی ہے؟

  • کیا تمہارا گرم لہو اب سرد پڑ گیا ہے؟

نہیں ۔۔۔ہرگز نہیں ۔۔۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟

آپ حضرات میرے مرشد و مربی کے پروردہ، جانباز سپاہی ہیں ۔۔۔، ہمیں آپ کی اعلیٰ صلاحیتوں اور مثالی کردار پر بجا طور پر فخر ہے،!

آج محمد بن قاسم، خالد و طارق رضی اللہ عنہم کی سنہری تاریخ تم ہی کو رقم کرنا ہے ۔۔۔۔!

اٹھو، اٹھو، جلد اٹھو! یہی سنبھلنے اور فرض کی ادائیگی کا وقت ہے!

آپ کو یاد ہو گا کہ میرے آقا مرشد و مربی بھرے مجمعوں میں اپنے پاکیزہ دل لبھانے والے نورانی ہاتھ مبارک اٹھا کر اشکبار آنکھوں سے آپ کے لئے دعائیں مانگتے تھے اور اب بھی مانگ رہے ہیں ؂

تن بے جان ملت میں الٰہی جان پیدا کر
مسلمانوں میں مذہب کی وہ پہلی جان پیدا کر

بھلایا قوم نے اپنے سلف کے کارناموں کو
کوئی حیدر کوئی خالد کوئی عثمان پیدا کر

۞

اے جماعت اہل ذکر!

  • کیا تمہارے عشق و مستی کے حالات قصہ پارینہ بن چکے ہیں؟

  • وہ عہد و پیمان بھول گئے جو مسجد میں بیٹھ کر اپنے مرشد و مربی سے کئے تھے؟

  • جس وقت آپ اپنی پردرد، فلک شگاف اور دل آویز آواز سے سامعین کے دل موہ لیتے تھے۔۔۔ کہ

”ہے کوئی مرد مجاہد اور غازی جو ظاہری مادی اسباب سے صرف نظر کر کے دین کی سربلندی کے لئے میدان کار زار میں کود پڑے؟“

جس وقت آپ پُر کشش لہجہ میں یہ شعر پڑھتے تھے ؂

سڀئي سانگا سٽي سٽي،
ڪي مرد ايندا ميدان انهيءَ ۾.

تو سالکین پر وارفتگی کا عالم طاری ہو جاتا، سخت سے سخت پتھر دل بھی پاش پاش ہوئے بغیر نہیں رہتے تھے، یوں محسوس ہوتا تھا کہ قلوب و اذہان پر یک گونہ بپا ہو گئی ہے۔ ہر کوئی دنیاوی تفکرات اور تعلقات سے لاتعلق، جان تک قربان کر دینے کو تیار ہوتا تھا۔ ہر طرف سے لبیک ۔۔۔ لبیک ۔۔۔ حاضر سائیں ۔۔۔ حاضر سائیں ۔۔۔ دین کے لئے جان قربان، مال قربان، وطن قربان، سب کچھ قربان ۔۔۔ سنائی دیتا تھا۔

یہ سن کر آپ خوش ہوتے بَارَکَ اللہ ۔۔۔ بَارَکَ اللہ ۔۔۔ اور جَزَاکُمُ اللہ ۔۔۔ جَزَاکُمُ اللہ ۔۔۔ کے دعائیہ کلمات سے یاد فرماتے تھے۔

۞

اے عاشقو، اے سالکو!

آج تمہاری وعدہ وفائی کا وقت آگیا ہے ۔۔۔ آج تمہاری محبت، ہمت اور قربانی کا امتحان ہے ۔۔۔ اس لئے آگے بڑھو ۔۔۔ بڑھو ۔۔۔ قدم آگے بڑھاؤ ۔۔۔ کس جانب؟ ۔۔۔ عشق و الفت اور قربانی کے میدان کار زار کی جانب، اللہ تعالیٰ کی محبت، معرفت اور تقرب کی طرف ۔۔۔ پیچھے مڑ کر نہ دیکھو، نہ ہٹو ۔۔۔ بخدا آج مسلمانوں کی دین سے دوری، نااتفاقی اور دنیا پرستی دیکھ کر دل خون کے آنسو رو رہا ہے، مندمل زخم پھر سے رس رہے ہیں۔

اے کاش! اس پریشاں حالی کے وقت میں کوئی ہمدرد اس مجروح کے لئے مداوا ثابت ہو، کوئی حقیقی خیر خواہ ہو جو غفلت کی نیند سوئی ہوئی اس قوم کو جھنجھوڑ کر بیدا کرے۔

۞

اے میرے دوستو!

ہمارے ماسلف کی یہ حسین تاریخ آج بھی گواہ ہے کہ انہوں نے حضور نبی اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کے مطابق زندگی بسر کی اور ہمیشہ کامیاب و کامران رہے۔

بدقسمتی سے جس مسلمان نے بھی ان زریں اصولوں کو نہ اپنایا وہ نامراد، ذلیل اور رُسوا ہوا۔

فی الوقت مسلمانوں کی دینی پستی کسی سے مخفی نہیں، لیکن پھر بھی یہ سوچنا اور سمجھنا کہ دور حاضر میں شریعت مطہرہ و سنت سنیہ پر کار بند رہنا ممکن نہیں، سراسر نامردی اور بزدلی ہے۔

میرے مرشد، مربی مہربان کی سیرت و سوانح پڑھو اور دیکھو کہ فتنہ و فساد کے اس زمانہ میں بھی کس طرح آپ نے شریعت و سنت کو اپنا شعار بنایا، ادنیٰ سے ادنیٰ سنت کو بھی ترک کرنا گویا آپ کے لئے ناممکن تھا۔

اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اجمالی طور پر آپ کے روزمرہ کے معمولات شریفہ کا ذکر خیر بھی کیا جائے، جس سے آپ کی بابرکت زندگی کے نمایاں پہلو یعنی اتباع سنت سنیہ پر نمایاں روشنی پڑتی ہے۔

 

معمولات شریفہ

فجر کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنے کے بعد حلقۂ ذکر ہوتا تھا۔ حلقۂ ذکر کے بعد تبلیغی خطوط پڑھے جاتے تھے یا آپ مدرسہ کے طلباء، بستی کے فقراء اور مستورات کو خصوصی خطاب فرماتے تھے، یا کسی خلیفہ صاحب کو ارشاد فرماتے کہ اپنے علاقہ میں ہونے والے تبلیغی احوال احباب کو سنائیں۔ آپ خود بھی متوجہ ہو کر سنتے رہتے تھے۔ بعض اوقات حضور نبی اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم یا اپنے پیر و مرشد قدس سرہ کی تعریف میں نعت و منقبت پڑھنے کا امر فرماتے تھے، جبکہ بعض اوقات کسی دوست کو مسائل ضروریہ مثلاً نماز کے مسائل سنانے کا امر فرماتے تاکہ مقیم و مسافر احباب مستفیض ہو سکیں۔ آخر میں مسائل بیان کرنے والے کو فرماتے تھے کہ عملی طور پر وضو اور نماز ادا کرکے دکھائیں۔ ساتھ ہی ناظرین سے ارشاد فرماتے کہ اگر ان سے کسی قسم کی کوتاہی سرزد ہو جائے تو مطلع کرنا۔ صبح کی یہ نورانی مجلس ایک گھنٹہ سے ڈیڑھ گھنٹہ تک جاری رہتی تھی۔

بعد ازاں اختتام مجلس گھر رونق افروز ہوتے تھے اور سب سے پہلے تہلیل لسانی کی چند تسبیحات (چند صد بار) پڑھتے تھے۔ جماعت کو عموماً دو صد بار تہلیل لسانی (لا الہ الا اللہ) پڑھنے کا امر فرماتے تھے، نیز فرماتے تھے کہ آواز صرف اس قدر بلند ہو کہ آدمی خود ہی سن سکے۔ اور تسبیح کے پورا ہونے پر محمد رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم تک پورا کلمہ پڑھنا چاہیے۔ اس کے بعد غالباً ”سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم وبحمدہ“ کی دو تسبیحات پڑھنے میں دس سے پندرہ منٹ کا وقت گزرتا تھا۔

اس کے بعد گھریلو ضروریات یا لنگر کے متعلق اہل خانہ آپ سے مشورہ طلب کرتے اور آپ حسب ضروریات ہدایات صادر فرماتے۔ بعد ازاں مختصر وقت کے لئے کوئی دینی کتاب مطالعہ فرماتے۔ اس کے بعد تفریح کے لئے قریب ہی واقع باغ میں تشریف لے جاتے۔ باغ اور کھیتی باڑی کے متعلق کارکنان سے معلومات اور ضروری ہدایات دینے کے بعد واپس گھر تشریف لے آتے اور کھانا تناول فرماتے، اس کے بعد چہل قدمی کے انداز میں کچھ دیر گھومتے رہتے، اس دوران ذکر تہلیل لسانی کی مقررہ تعداد (اپنی بابرکت انگلیوں پر گنتے ہوئے) پڑھتے رہتے۔ آپ کے روزانہ تہلیل لسانی کی مقررہ تعداد جس طرح مولانا جان محمد صاحب نے تحریر فرمایا ہے گیارہ تسابیح (گیارہ صد) تھی۔
ان تسبیحات کے بعد فوراً قیلولہ فرماتے تھے۔ اذان ظہر سے کوئی آدھ گھنٹہ پہلے اٹھ کر وضو بناتے۔ پھر صلوۃ التسبیح اور اس کے بعد چاشت کے دو نوافل پڑھ کر تلاوت قرآن مجید فرماتے۔ نماز کا وقت ہونے پر گھر میں ہی سنت پڑھ کر نماز ظہر کے لئے مسجد شریف تشریف لے جاتے۔ فرض، سنت، نفل کے بعد آدھ گھنٹہ سے ایک گھنٹہ تک مسجد شریف ہی میں رونق افروز رہتے، جس دوران نئے واردین کو ذکر کی تلقین فرماتے، تبلیغی خطوط سنتے یا طلبہ کے مابین مقررہ مذاکرہ (اگر ہوتا تو) سماعت فرماتے۔

اس کے بعد گھر تشریف فرما ہوکر بقیہ تلاوت پوری فرماتے۔ اس کے بعد وہیں بیٹھے بیٹھے درود شریف کی تسابیح اور ”اللھم انک عفو تحب العفو فاعف عنی“ (یا فاعف عنا) کی ایک تسبیح اور بعض دیگر معمولات بھی اسی ٹائیم پڑھتے۔ اس کے بعد گھر میں جو کچھ فروٹ موجود ہوتا تناول فرماتے۔ اس وقت گھر کے تمام چھوٹے بڑے افراد موجود ہوتے جن سے آپ کی بے تکلفانہ بات چیت بھی جاری رہتی تھی۔ بعد ازاں کتابوں کا مطالعہ فرماتے تھے، یہاں تک کہ عصر کی اذان آجاتی۔ اذان سنتے ہی نماز کی تیاری میں مصروف ہوجاتے۔ غروب شمس سے پچاس، ساٹھ منٹ پہلے نماز عصر ادا فرماتے۔ نماز کے بعد نئے واردین کو ذکر کی تلقین فرماتے یا تبلیغی احوال پر مشتمل خطوط سماعت فرماتے۔ مجمع کثیر ہونے کی صورت میں خود وعظ فرماتے یا کسی مبلغ یا روحانی طلبہ جماعت کے کسی شاگرد کو تقریر کے لئے امر فرماتے۔ نماز مغرب تک یہ سلسلہ جاری رہتا۔

نماز مغرب کے بعد گھر تشریف فرما ہوتے (مغرب کی سنتیں شروع میں گھر پر ادا فرماتے تھے مگر آخری برسوں میں مسجد شریف میں ہی ادا فرماتے تھے)۔ گھر آنے کے بعد صلوٰۃ الاوابین کے تین نوافل ادا فرماتے۔ بعد میں ڈاکٹر عبدالرحیم صاحب طبیعت مبارکہ کے معائنہ کے لئے حاضر ہوتے۔ ڈاکٹر صاحب دس پندرہ منٹ میں فارغ ہو کر چلے جاتے تھے اور آپ کھانا تناول فرماتے۔

اذان عشاء سن کر (اگر تجدید وضو کی ضرورت پڑتی تو وضو بناتے ورنہ اسی وضو سے) نماز عشاء سے قبل کی سنتیں ادا فرما کر مسجد شریف تشریف لے جاتے۔ باجماعت نماز ادا فرما کر گھر تشریف لے آتے۔

عشاء نماز کے بعد کسی سے بھی بات چیت کرنا پسند نہیں فرماتے تھے۔ آخری برسوں میں وجع المفاصل کی وجہ سے بعد از عشاء سونے سے پہلے تیل کی مالش کرواتے تھے، جس کے لئے آخری عرصہ میں ذرہ نوازی فرما کر اس غلام سگدر کو پسند فرمایا تھا۔ اس دوران ہم دیگر افراد باہمی بات چیت کر لیتے تھے جبکہ حضور رحمۃ اللہ علیہ استغفار کی تسابیح پڑھتے رہتے۔ مقررہ تسابیح پڑھنے کے بعد قرآنی آیات (جو مولانا جان محمد صاحب نے آپ سے دریافت کرکے تحریر کی ہیں) پڑھ کر اپنے ہاتھوں پر دم کرکے، سر، چہرہ، سینہ، ہاتھ، پاؤں سمیت تمام بدن پر ہاتھ پھیرتے اور اپنے لئے پانی دم کر کے قریب رکھ لیتے اور سونے سے پہلے نوش فرمالیتے۔ اس کے بعد گھر کے تمام افراد آپ کے قریب ہو جاتے۔ اس عاجز سے شروع کر کے تمام چھوٹے بڑے افراد کو فرداً فرداً دم فرماتے تھے۔

٭ اس کے بعد سلسلہ عالیہ نقشبندیہ غفاریہ پڑھتے، عموماً مناجات بھی ساتھ پڑھتے تھے۔

٭ بعد ازاں مسنونہ طریقہ کے مطابق سرمہ لگا کر سو جاتے تھے۔

٭ سحر کے وقت دو اور ڈھائی بجے کے درمیان اٹھتے۔ بار بار بلغم خارج کرتے رہتے۔ وضو بنا کر ۴ سے ۶ نوافل نماز تہجد ادا فرماتے۔ دیگر نمازوں کی طرح تہجد بھی انتہائی خشوع و خضوع اور حضور قلبی سے ادا فرماتے تھے جس کا اندازہ مشاہدہ کرنے والوں کو بخوبی ہو جاتا تھا۔

٭ تین بجے اس عاجز اور دیگر اہل خانہ کو ازحد پیار، شفقت و محبت سے باربار نام لے کر تہجد کے لئے بیدا فرماتے تھے۔

٭ نماز تہجد کی ادائیگی کے بعد ۱۵۔۲۰ منٹ تک ہاتھ اٹھا کر بارگاہ الٰہی میں عاجزانہ دعا مانگتے تھے۔

٭ بعد ازاں سلسلہ عالیہ نقشبندیہ بمع مناجات پڑھتے تھے۔ اس کے بعد منہ پر کپڑا ڈالے بغیر مراقبہ کرتے تھے۔ بعض اوقات مراقبہ میں بیٹھ کر کیف و استغراق کے عالم میں جھومتے نظر آتے تھے۔

٭ اذان سے آدھ گھنٹہ پہلے لیٹ جاتے تھے۔ اذان سنتے ہی اٹھ کر وضو بناتے، سرمہ لگاتے۔ ہر سلائی پر ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ سید الکونین“ پڑھ کر دم کرتے۔

٭ اس کے بعد تیل لگا کر بالوں کو کنگھی کرتے۔ بعد ازاں گھر میں ہی سنت فجر ادا فرما کر، فرض نماز کے لئے مسجد شریف تشریف لے جاتے تھے۔

نوٹ۔ چونکہ نماز فجر کے بعد کافی دیر تک مراقبہ اور وعظ و نصیحت کی مجلس رہتی تھی، اس لئے عرصہ تک نماز سے پہلے شہد، مغز بادام یا دودھ میں بیضہ (انڈا) حل کر کے تناول فرماتے تھے، مگر بعد میں صحت اس کی متحمل نہ رہی اور خالی پیٹ ہی تشریف لے جاتے تھے۔

 

یہ مسکین، اپنے محسن جناب قبلہ استاد حبیب الرحمن صاحب مد ظلہ کی خدمت میں لاکھ لاکھ بار مبارکباد پیش کرتا ہے کہ آپ نے جماعت غفاریہ بخشیہ کے سامنے ایک بیش بہا، انمول اور عظیم تحفہ پیش کیا ہے۔

بلا شبہ میرے محبوب آقا کی زندگی پر مشتمل اس کتاب کے پیارے اور نیارے الفاظ باران رحمت کی مانند ہیں جس کے ایک ایک قطرہ میں محبت و معرفت اور ایمانی جذبات کے عجیب رموز و اسرار سمائے ہوئے ہیں۔

  • آئیے، کاملین کی قرب بھری اور کار آمد زندگی کے احوال پڑھ کر دیکھیں۔

  • ان کے اسوۂ حسنہ کا پوری طرح مطالعہ کریں اور سوچ سمجھ کر ان کے اخلاق و اعمال کو اپنائیں اور دیکھیں کہ کس طرح ہمارے ظاہر پر شریعت و سنت کا رنگ چڑھ جاتا ہے اور باطن میں حقیقت و معرفت کا نور جلوہ گر ہو جاتا ہے۔

  • چاہیے کہ ایک قدر دان صدف کی مانند ہم بھی اپنے سینوں میں تڑپ رکھ کر باران رحمت کے ان بیش قیمت قطروں کو اپنے قلوب میں سما کر محبت و معرفت کے موتی حاصل کریں۔

مرشد، مربی، مہربان کی ظاہری جدائی کے بعد جلد ہی جناب قبلہ استاد حبیب الرحمن صاحب مدظلہ نے آپ کی سیرت و سوانح جمع اور مرتب کرنے کی ابتدا کی۔ وہ دن اور آج کا دن ہر خواہش کو بھلا کر، تمام نشیب و فراز کو قطع کر کے اپنے محبوب مرشد کی سوانح عمری کے لئے وقف ہو گئے، بس اپنے مرشد و مربی کی ذات میں فانی ہو کر رہ گئے۔

اس قدر چاہت سے نوک قلم کو چلایا، الفاظ کو ترتیب دیا کہ حالات و واقعات پڑھنے سے حضور کی شہد سے شیریں زندگی کا واضح نقشہ آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے۔

بچپن ہی سے اس مسکین کی اپنے محسن استاد کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وابستگی اور وارفتگی رہی ہے اور آپ کی بے انتہا شفقت کی بدولت دن بدن اس تعلق میں اضافہ ہوتا رہا ہے۔ مدرسہ میں پڑھنے کے زمانہ میں اس نااہل کی تعلیم و تربیت میں آپ کا بڑا دخل رہا ہے۔

اللہ تعالیٰ آپ کی ان مساعی جمیلہ کو عظمت بخشے، قبولیت بخشے۔ اس مسکین اور جمیع مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ اس کتاب سے پورا پورا فائدہ حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین۔ بجاہ حبیبک سید المرسلین صلّی اللہ علیہ وسلم