فہرست
سیرت ولی کامل (حصہ اول)

شکر نعمت

 

حامِدًا و مصلِّیاً و مسلِّمًا

اما بعد

اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا بے حساب شکر ہے جس نے اس سیہ کار کو اپنے مخلص بندے ولی کامل اور اپنے پیارے نبی امی فداہ ابی و امی صلّی اللہ علیہ وسلم کے علوم ظاہرہ و باطنہ کے حقیقی وارث و نائب حضور شمس العارفین امام الاولیاء خواجۂ خواجگان سیدی و مرشدی حضرت الحاج اللہ بخش عباسی نقشبندی فضلی غفاری نور اللہ مرقدہ کی عقیدت و محبت سے نواز کر سفر و حضر، خلوت و جلوت کی غیر معمولی معیت و صحبت کا گرانقدر سرمایہ عطا فرما کر کئی سال تک آپ کے سایہ عاطفت میں رہ کر درس و تدریس، اور آپ کے حکم و تجویز کے مطابق فقہ اور تصوف کے مختلف موضوعات پر خامہ فرسائی کی توفیق بخشی۔

یہی نہیں بلکہ ہر قدم پر آپ نے ہی میری رہنمائی فرمائی، میری الٹی سیدھی تحریر دیکھ کر بھی داد دے کر ہمت افزائی فرمائی، ہمیشہ پیار سے غلطیوں کی نشاندہی فرما کر اصلاح فرماتے اور مناسبت سے مزید مواد مہیا فرما کر ممنون فرماتے تھے۔

گو ایک ایسی ہمہ گیر شخصیت کی سوانح عمری تحریر کرنا چنداں آسان نہیں، جو نہ صرف پیر طریقت تھے بلکہ بیک وقت شریعت و طریقت کے مجمع البحرین اور ان گنت ایسی صفات حمیدہ کے مجموعہ تھے جن میں سے ہر پہلو مستقل بحث اور مبسوط تصنیف کے قابل ہے۔

دامان نگہ تنگ و گل حسن تو بسیار
گل چین بہار تو ز دامان گلہ دارد

خاص کر مجھ جیسا بے بضاعت تو آپ کی ظاہری و باطنی پاکیزگی، شریعت و طریقت پر پختگی اور تبلیغ و اشاعت اسلام کے محیر العقول کارنامے بیان کرنا بھی چاہے تو کیسے کرے؟ تاہم سیدی و مرشدی حضرت قبلہ صاحبزادہ مدظلہ العالی کی ذرہ نوازی، ہمت افزائی اور تعاون سے اس مہتم بالشان کام کی ابتداء کی۔ آپ کی صغر سنی اور طالب علمی کے تفصیلی حالات و واقعات تو معلوم نہ ہو سکے، تاہم آپ کے ہمعصر ساتھیوں، پڑوسیوں اور پرائمری سکول کے ایک شاگرد سے جو مختصر حالات اور ان کے تاثرات معلوم ہوئے، ان سے یہ حقیقت معلوم ہوجاتی ہے کہ ”ع فی المھد ینطق عن سعادۃ جدہ“ (پنگھوڑے ہی میں اپنے جد امجد کی نیک بختی بتا رہے تھے) کے مصداق تھے۔

سوانح عمری خشک تاریخی واقعات یا محض مناقب و فضائل کے بیان تک محدود نہیں، بلکہ سوانح نگاری کا مفید پہلو قارئین کے جذبہ علم و عمل میں اضافہ اخلاص، تقویٰ اور للّٰھیت کے میدان میں ممدوح موصوف قدس سرہ کے نقش قدم پر چل کر پیش قدمی کرنا ہے۔ میری نظر میں حضور کی عظیم شخصیت کا طرۂ امتیاز ہی یہ ہے کہ جس طرح زمانہ حیات میں آپ کی ظاہری صورت و کردار سے لاکھوں کی تعداد میں مخلوق خدا نے ہدایت حاصل کی اسی طرح بعد از وفات آپ کے حالات زندگی صدقہ جاریہ کے درجہ میں تمام امت مسلمہ بالخصوص آپ کے متعلقین و متوسلین کے لئے مشعل راہ ہیں۔

اسی اہم دینی مقصد کے تحت حضور کی حیات ہی میں بندہ نے آپ کی مثالی سیرت و کردار، تبلیغی حالات و واقعات، مکتوبات اور ملفوظات تحریر کرنے کی ابتداء کی تھی اور تمنا یہ تھی کہ آپ کی حیات سعیدہ ہی میں منظر عام پر لے آؤں گا۔ مگر مصروفیات مانع رہیں اور جو مسودات تحریر کئے تھے وہ بھی غیر مربوط رہ گئے۔ اسی طرح حضرت قبلہ مولانا جان محمد صاحب نے بھی بہت سا مواد جمع کیا، مگر وہ بھی منتشر تھا۔ تاہم حضور کے معمولات اور اوراد و ظائف و دیگر بعض نہایت ضروری مواد ان ہی سے حاصل ہوا۔

آخری چند سال حضرت قبلہ مرشدی صاحبزادہ مدظلہ العالی اور برادر محترم ڈاکٹر عبدالرحیم چنہ صاحب کے تعاون سے بندہ نے حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے نورانی ارشادات کا خاصہ ذخیرہ بلفظہ ٹیپ رکارڈر میں محفوظ کرلیا (جو بعد میں شائع کیا جائے گا انشاء اللہ تعالیٰ)

حضور کے حالات و ملفوظات کو اس انداز سے تحریر کرنا کہ کماحقہ حضور کی ترجمانی ہوکر قارئین کے رگ و پے میں رچ بس جائیں اور آپ کے نقش قدم پر چلنے کا اشتیاق پیدا ہو، کم از کم اس عاجز کی بساط سے باہر ہے۔ تاہم راقم الحروف کو (تقریر نقل کرتے دیکھ کر) جو یہ ارشاد فرمایا۔ ”آپ کو میرے کلام میں تقدیم و تاخیر اور لفظی ضروری تصحیح کی اجازت ہے“ نیز اس کتاب کی تحریر کے دوران بارہا آپ کی خواب میں زیارت ہونے اور حضرت قبلہ سیدی و مرشدی سجن سائیں مدظلہ کی خصوصی مہربانی، مسودات پر نظر ثانی اور پسندیدگی سے اتنی امید ضرور بندھتی ہے کہ آپ اس محنت سے خوش ہیں۔ بس اس خادم خستہ دل کی تسلی کے لئے یہی کچھ کافی ہے۔

آپ کی حیات مبارکہ کے تمام پہلوؤں پر تفصیلی تحقیق و بحث تو بڑی بات ہے، یہاں مشت از نمونہ خروارے چند ضروری پہلوؤں پر قدرے تحقیق کی گئی ہے، اور اس میں امکانی حد تک بندہ نے یہ کوشش کی ہے کہ جو کچھ لکھا ہے چشم دید حالات و واقعات اور آپ کی زبان درافشاں سے سنی ہوئی نصائح ہوں یا آپ کے خلفاء علماء اور معتمد علیہ فقراء کی روایات بحوالہ درج ہوں۔ اور جو واقعات چند احباب سے ملے، تکرار سے بچتے ہوئے ایک ہی جگہ اس کے ذکر پر اکتفا کیا ہے۔ سوانح حیات کے سلسلے میں حضرت قبلہ سجن سائیں مدظلہ نے معلومات کی فراہمی کے علاوہ ہر طرح کی سرپرستی فرمائی۔ دیگر خلفاء علماء اور فقراء حضرات نے بھی اپنی عنایات ارزاں فرمائیں۔ جن کی پرخلوص مہربانیوں کو رسمی شکریئے سے بالاتر سمجھ کر دست بدعا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کو اور تمام قارئین کو اور ان تمام کے طفیل اس عاجز سیہ کار کو دنیا میں حضور کے نقش قدم پر چلائے اور آخرت میں جوار رحمت للعالمین میں آپ کا قرب عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین بجاہ سیدالاولین و الاخرین صلّی اللہ علیہ و اصحابہ و بارک وسلم۔

 

لاشی فقیر حبیب الرحمن گبول طاہری (حبیب بخشی)

خادم آستانہ عالیہ اللہ آباد شریف