فہرست
سیرت ولی کامل (حصہ اول)

شکر منعم حقیقی

(دیباچہ طبع دوم)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حامِدًا و مصلِّیاً و مسلِّمًا

اما بعد۔ بندہ کا سر منعم حقیقی کے حضور نیاز مندانہ خم ہے، جس نے اپنے فضل و کرم سے اس سیہ کار بخشی کو یہ توفیق بخشی کہ قدوۃ العارفین شمس العارفین خواجۂ خواجگان پیر طریقت حضرت قبلہ الحاج اللہ بخش عباسی نقشبندی فضلی غفاری (عرف حضرت سوہنا سائیں) نور اللہ مرقدہ کی سیرت و سوانح پر خامہ فرسائی کی، اور سیرت ولی کامل کے نام سے موسوم اس کتاب کی دو ضخیم جلدیں یکے بعد دیگرے شائع ہوتے ہی اہل ذکر، اہل علم و فضل علماء کرام اور صوفیاء عظام خواہ عوام الناس میں بے حد مقبول ہوئیں۔ آپ کے مریدین و متوسلین ہی نہیں دیگر سلاسل طریقت کے سالکین نے بھی اسے خوب پسند کیا۔ کئی مساجد میں روزانہ اس سے درس دیا جانے لگا اور بقدر بساط و استعداد قاری و سامعین میں سے ہر ایک نے اپنا حصہ پایا۔ صاحب سوانح حضرت سوہنا سائیں قدس سرہ کی ہمہ جہت جامع شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا، جن کے مریدین و متوسلین کا دائرہ بہت وسیع، پاکستان کے علاوہ بیرون ممالک حجاز مقدسہ، متحدہ عرب امارات اور امریکہ و افریقہ کے مختلف ممالک تک پھیلا ہوا ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ آپ (اسی طرح آپ کے خلف رشید حضرت صاحبزادہ صاحب مدظلہ) آج کل کے بعض مشائخ کی طرح مریدوں کے ناموں اور پتوں کا کوئی ریکارڈ نہیں رکھتے تھے، نہ ہی آپ کی مصروفیات، خدمات یا خطبات کے جمع و ترتیب کا معقول انتظام تھا۔ ایسے میں بندہ جیسے بے مایہ، علم و عمل اور آداب سے تہی دامن آدمی کا آپ کی سوانح حیات جیسے عظیم کام کو اپنے ہاتھ میں لے کر یہ تکمیل تک پہنچانا (گو حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا پھر بھی جو کچھ بن پڑا) اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم حضور نور اللہ مرقدہ کی گرامت اور آپ کی عنداللہ مقبولیت کی دلیل ہے۔

الحمد للہ والمنتۂ کے میرے حضرت کے لائق و فائق نائب، علوم و معارف ظاہرہ و باطنہ کے حقیقی وارث، عالم و عارف حضرت صاحبزادہ علامہ مولانا الحاج محمد طاہر صاحب بخشی غفاری دامت برکاتہم العالیہ نے بھی اپنی مورث، مرشد مربی کے اصلاحی تبلیغی مشن کو نہ فقط جاری رکھا بلکہ وقت و حالات کے مطابق اس میں خاطر خواہ اضافہ فرمایا، نئے اصلاحی تبلیغی مراکز اور علوم دینیہ کے مدارس کے قیام کے علاوہ دور حاضر میں پریس کی اہمیت کے پیش نظر تحریری تبلیغ کو ایک مستقل شعبہ کی حیثیت دے دی۔ پیش نظر کتاب اسی سلسلہ کی ایک اہم کڑی ہے جس کا پہلا ایڈیشن ۱۴۰۸ ھجری میں شائع ہوکر منظر عام پر آیا اور چند برس سے یہ کتاب بالکل نایاب ہوگئی تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اہل ذکر علماء و فقراء کی جانب سے اس کی دوبارہ طباعت کا اصرار مسلسل بڑھتا ہی رہا۔ بنا بریں سیدی و مرشدی حضرت صاحبزادہ مدظلہ نے چند بار راقم الحروف کی اس جانب توجہ مبذول کرائی، لیکن افسوس کہ ہر بار بندہ کی مصروفیات اور کم ہمتی آڑے آتے رہے اور دل سے چاہنے کے باوجود تعمیل ارشاد سے قاصر رہا۔ یہاں تک موسم گرما کی حالیہ تعطیلات میں جب لاہور سے خلیفہ مولانا انوار المصطفیٰ صاحب اور محترمی محمد اقبال صاحب تشریف لائے اور مذکورہ تذکرہ چھڑنے پر ان حضرات نے حضور مدظلہ سے عرض کرکے طباعت کے جملہ مراحل کی ذمہ داری اپنے سر لے لی اور بڑی ہمت و جوانمردی سے اس اہم کام کو تکیمل تک پہنچایا۔ کمپیوٹر کی کتابت، معیاری طباعت و جلد بندی کے ساتھ ساتھ بڑی حد تک لاگت میں کمی ان کی کامیاب کاوشوں کا ثبوت ہے۔

کتاب ھذا کی دوبارہ اشاعت کے وقت نظر ثانی کی امکانی حد تک کوشش کی گئی ہے، نیز بعض احباب کے توجہ دلانے پر متعدد مقامات پر تصحیح کی گئی۔ تاہم اگر کہیں کسی بھی قسم کی لفظی خواہ معنوی غلطی رہ گئی ہو تو قارئین سے درخواست ہے کہ ضرور مطلع فرما دیں تاکہ آئندہ ایڈیشن میں اس کا تدارک کیا جا سکے۔ حضرت حق سبحانہ و تعالیٰ اس عاصی مؤلف، حضرت قبلہ صاحبزادہ صاحب سجادہ نشین آستانہ عالیہ اللہ آباد شریف اور نشر و اشاعت میں معاونت کرنے والے جملہ احباب اور ان کی کوششوں کو قبول فرما کر سرمایہ سعادت دارین بنائے اور زیادہ سے زیادہ قارئین تک اس کے فیوض و برکات پہنچیں۔

وصلی اللہ تعالیٰ علی حبیبہ سیدنا محمد واٰلہ و اصحابہ اجمعین

 

فقیر حبیب ا لرحمن گبول طاھری بخشی غفاری کان اللہ لہ ولوالدیہ

دربار عالیہ اللہ آباد شریف

۲۴ صفر المظفر ۱۴۱۵ھ