| فہرست |
سیرت ولی کامل (حصہ دوم) |
باب اولاہتمام نماز باجماعت
آپ نہ صرف نماز باجماعت کے خود پابند تھے، بلکہ اپنے متعلقین و احباب کو بھی ہمیشہ نماز باجماعت پڑھنے کی تاکید فرماتے تھے۔ اور سستی کرنے پر سخت تنبیہ فرماتے تھے، اور اس سلسلہ میں احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں ترک جماعت کے وعید سناکر آئندہ کے لئے سستی نہ کرنے کی تاکید فرماتے تھے۔ نعت خواں خلیفہ مولوی عبدالرسول صاحب نے بتایا کہ ایک مرتبہ میں نماز عشاء کے لئے آیا، حسب معمول آتے ہی حضرت صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے دروازے مبارک پر کھڑا ہوکر نعت پڑھنے لگا، نہ معلوم حضور پہلے ہی تشریف لاچکے تھے اور نماز ہورہی تھی، میں اپنی اس بے خودی و مستی کے عالم میں تھا کہ حضور مسجد شریف سے واپس تشریف لائے، اور سخت غصہ کے عالم میں فرمایا: نماز باجماعت میں اتنی سستی کرتے ہو، اور پھر عاشق بنکر نعتیں پڑھتے ہو، آج کے بعد تیری نعتوں کی کوئی ضرورت نہیں۔ حضرت صاحب کی ناراضگی کی وجہ سے میں بہت پریشان ہوا۔ میں نے حضرت خلیفہ قبلہ حاجی بخشل صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی معرفت معافی طلب کی، حضور نے میری ندامت دیکھ کر معافی دیدی اور تہجد کے وقت اپنی ہمشیرہ سے فرمایا کہ فقیر عبدالرسول کی بیوی کو بتادے کہ ہم نے اسے معاف کردیا ہے بیشک نعت بھی پڑھے۔ الغرض مجھے یہ اطلاع نہ ملی۔ میں نے صبح کی نماز کے وقت نعت نہ پڑھی حالانکہ حضور کی تشریف آوری سے پہلے میں دروازہ معلیٰ پر نعتیں پڑھا کرتا تھا۔ میں بڑا پریشان تھا کہ حضور نے بلاکر نہایت پیار سے فرمایا کہ آپ نے آج صبح نعت کیوں نہیں پڑھی؟ میں نے عرض کیا حضور نے منع فرمایا تھا اس لئے نہیں پڑھی۔ پھر آپ نے تسلی دیتے ہوئے مجھے قریب بلاکر گلے لگاتے ہوئے فرمایا کہ آپ کی ندامت دیکھ کر ہم نے اسی وقت معافی دے دی تھی، اور نعت خوانی کی بھی اجازت دے رکھی تھی لیکن یہ بتانے والوں کی غلطی ہے کہ آپ کو نہیں بتایا۔ یہ حضور کی پرخلوص تبلیغ و احسن تربیت کا نتیجہ ہے کہ آج جہاں کہیں آپ کے متعلقین رہتے ہیں خواہ چھوٹی بستیاں ہی کیوں نہ ہوں جہاں چند افراد آباد ہوں، وہاں بھی پابندی کے ساتھ نماز جماعت سے ہوتی ہے۔ بالخصوص دربار عالیہ اللہ آباد شریف اور دربار عالیہ فقیرپور شریف میں رہنے والے خوش قسمت فقراء کو شریعت و طریقت کے دوسرے امور کے ساتھ ساتھ نماز باجماعت کا یہاں تک پابند بنالیا کہ دربار عالیہ پر اذان ہوجانے کے بعد نماز باجماعت پڑھے بغیر کسی شخص کو شہر یا کسی کام سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ ایک مرتبہ لنگر کے کسی کام کی وجہ سے سید حاجی عبدالخالق شاہ صاحب سے جماعت رہ گئی۔ آپ اس پر سخت رنج ہوئے اور فرمایا کہ ہمیں ایسے کسی کام کی ضرورت نہیں جس سے جماعت رہ جائے۔ لنگر کا کام ہو یا کوئی دوسرا اہم کام، لیکن نماز کے وقت سارے کام چھوڑ کر جماعت میں شامل ہونا سب کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ ہاں بسا اوقات کوئی کام ادھورا ہوتا اور نماز کا وقت بھی وسیع ہوتا تو اتنی دیر آپ دیر سے مسجد شریف میں نماز کے لئے تشریف لے آتے، یا مقررہ وقت پر آتے اور مسجد شریف میں بیٹھ جاتے تاکہ کام کرنے والے فارغ ہوکر نماز کی تیاری کرکے پہنچ جائیں۔ اگر اس کے باوجود کسی کی غفلت یا نیند کی وجہ سے جماعت رہ جاتی تو بلا امتیاز بطور کفارہ ایک مرتبہ صلٰوۃ التسبیح نماز پڑھنی ہوتی اور ایک گھنٹہ بستی کی پاسداری (چوکیداری) کرنا ہوتی۔ اگر کسی وجہ سے اس کے لئے پہرہ داری کرنا ممکن نہ ہوتا تو پھر کسی اور فقیر کو مزدوری دیکر چوکیداری سے عہدہ برا ہوتا۔ ایک وہم کا ازالہہمارے بعض ناواقف مسلمان بھائی جن کا صوفیاء کرام کے اس مجمع البحرین، کوچہ علم و عمل یعنی راہ سلوک و تصوف سے گزر نہیں ہوا اور وہ دور رہ کر شریعت و طریقت کو ایک دوسرے سے علیحدہ تصور کرتے رہے، وہ یہ پابندیاں سن کر چونک جاتے ہیں کہ شریعت تو آسان ہے، اگر کوئی جان بوجھ کر جماعت ترک کرتا ہے یا کسی وجہ سے جماعت سے رہ جاتا ہے تو اس پر یہ اس طرح کا جرمانہ عائد کرنا غیر ضروری سختی ہے وغیرہ۔ ان حضرات کی تشفی کے لئے سب سے پہلے تو یہ وضاحت کرنا ضروری ہے کہ حضور کے دربار عالیہ میں (جہاں شریعت و طریقت کی عملی تصویر موجود ہے) پر جن کو رہنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے وہ اسے سرے سے جرمانہ یا کوئی سختی تصور ہی نہیں کرتے، اپنی اصلاح کے لئے رضاکارانہ طور پر صلٰوۃ التسبیح پڑھتے ہیں اور پہرہ داری کی خدمت انجام دیتے ہیں، جو بذات خود عبادت اور اجر و ثواب کے کام ہیں۔ دوم یہ کہ ایسی اہم عبادت کے ترک پر خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی صحابہ کرام پر جرمانہ عائد کیا ہے۔ دیکھئے سنن نسائی شریف ص ۸۹ جلد ثالث اور ابوداؤد شریف ص ۱۵۱ جلد اول میں حضرت سمرۃ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَن تَرَکَ الجُمعَۃ مِنۡ غَیۡرِ عُذۡرٍ فَلۡیَتَصَدَّقۡ بِدِیۡنَارٍ فَاِنۡ لَّمۡ یَجِدۡ فَبِنِصۡفِ دِیۡنَارٍ یعنی بلا عذر نماز جمعہ ترک کرنے والے کو چاہئے کہ ایک دینار صدقہ کرے، اگر ایک دینار میسر نہ ہو تو آدھ دینار۔ بعض روایات میں ”صَاعُ حِنطَۃ اَوۡ نِصۡفُ صاع“ یعنی ایک ٹوپہ گندم کا یا نصف ٹوپہ صدقہ کرنے کے الفاظ وارد ہیں۔ ظاہر ہے کہ ترک جمعہ کے لئے ایک دینار یا نصف دینار بطور کفارہ تو کافی نہیں ہوسکتے، اس کے لئے تو احادیث میں سخت وعیدیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے وارد ہیں۔ مگر ترک جماعت کے لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مصلحۃً مالی جرمانہ عائد کردیا تاکہ اس کی وجہ سے آئندہ کوئی سستی نہ کرے۔ لہٰذا نماز باجماعت تہجد یا مسواک نہ رکھنے کی بنا پر مذکورہ قسم کے جرمانے عائد کرنا متروک العمل سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احیاء کی وجہ سے باعث اجر و ثواب ہوگا، اسے خلاف شریعت یا غیر ضروری سختی شمار نہیں کیا جاسکتا۔ چونکہ احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم میں کھڑا ہوکر نماز پڑھنے کی
فضیلت بیٹھ کر نماز پڑھنے سے زیادہ ہے، اس لئے کثیر عوارض جسمانی کے باوجود
حتی المقدور حضرت صاحب کھڑے ہوکر نماز پڑھتے تھے اور دیگر اہل ذکر فقراء
کو بھی یہی تاکید فرماتے تھے کہ عشاء نماز کے آخری دو نفل کے علاوہ تمام
نوافل بھی کھڑے ہوکر پڑھا کریں۔ کرامتاحقر نے مسلسل آپ کی صحبت بابرکت میں رہ کر بارہا یہ بات نوٹ کی کہ بارش کے موسم میں، اگر بارش ہورہی ہوتی اور حضور نماز کے لئے تشریف لانے والے ہوتے تو عمومًا بارش رک جاتی یا معمولی بونداباندی رہ جاتی اور آپ تشریف لاتے۔ بارہا ایسے بھی ہوا کہ صرف آپ کے مسجد شریف میں داخل ہونے کی دیر ہوتی پھر وہی بارش شروع ہوجاتی۔ اسی طرح واپسی کے وقت بھی عمومًا بارش رک جاتی تھی یا معمولی رہ جاتی تھی۔ البتہ اگر کبھی بارش نہ رکتی اور سخت کیچڑ بھی ہوتا پھر بھی یہ آپ کی نماز باجماعت سے کبھی مانع نہ بنے۔ ایک مرتبہ مجھے یاد ہے کہ مسلسل کئی دن تک بارش ہوتی رہی، آپ کے مکان، مدرسہ اور جائے نماز کے درمیان کئی انچ پانی جمع ہوگیا، جائے نماز میں اتنی جگہ بھی خشک نہ رہی کہ سارے مل کر وہاں جماعت سے نماز ادا کرسکیں۔ عشاء کا وقت تھا، بارش کے ساتھ ساتھ سخت اندھیرا چھایا ہوا تھا، سرد ہوا چل رہی تھی، ہم نوجوان بھی اپنے کمروں سے نکلنے سے کترا رہے تھے، کئی ایک طالب علموں نے اپنے کمروں ہی میں نماز پڑھی، لیکن حضرت صاحب نور اللہ مرقدہ باوجود ضعف اور کثرت عوارض جسمانی کے پھر بھی نماز کے لئے باہر تشریف لائے اور دروازہ کے ساتھ والے حجرہ میں جماعت سے نماز ادا کی۔ اس کے بعد بھی کئی بار بارش کے دنوں میں اسی جگہ نماز باجماعت اور مراقبہ کراتے رہے۔ بعض اوقات نماز سے فارغ ہوکر حضور نماز کے نگران (جس کو جمعدار کہا جاتا ہے) کو بلاکر پوچھتے کہ کوئی جماعت سے رہ تو نہیں گیا، اگر کوئی رہ گیا ہوتا تو جمعدار سے اس کے متعلق دریافت فرماتے کہ اس کی جماعت اتفاقیہ رہ گئی یا یہ عادی سست ہے۔ اگر غلطی سے رہ گیا ہوتا تو آپ درگزر فرماتے ورنہ سختی سے تنبیہہ فرماکر احساس دلاتے تھے۔ ایک مرتبہ حاجی منظور احمد شر جو قصائی کا کام کرتے تھے جماعت سے پہلے نماز پڑھ کر گوشت بنانے کے لئے چلے گئے، اس دن حضور نے دریافت فرمایا کہ آج کوئی جماعت سے رہ گیا ہے؟ بستی کے ایک فقیر کا بلا عذر اکیلے نماز پڑھ کر دنیاوی کام سے چلا جانا جب حضور کو معلوم ہوا تو یہ آپ کے نزدیک غیر معمولی غلطی تھی، فورًا حاجی منظور احمد کو بلایا گیا۔ بقول حاجی منظور احمد میں اپنی غلطی پر بڑا نادم کانپتا ہوا حاضر خدمت ہوا۔ حضور بہت ناراض تھے، انتہائی دردمندی سے مجھے نصیحت فرمائی، یہاں تک فرمایا کہ تم یہاں دنیا کمانے آئے ہو؟ نماز باجماعت کی قدر نہیں مراقبہ کا فکر نہیں، بس ہمیں ایسے آدمی کی ضرورت نہیں، فقیروں کی اس بستی سے چلے جاؤ، یہاں پر وہی رہیں جو بستی کے قوانین کی پوری پابندی کرتے ہوں۔ یہ کہہ کر چند فقراء سے فرمایا اس کے گھر کا سامان باہر نکال دو، یہاں سے چلا جائے۔ میں پریشانی و پشیمانی کے عالم میں سر جھکائے رو رہا تھا، ابھی وہ میرے گھر تک نہیں پہنچے تھے کہ حضور نے آدمی بھیج کر ان کو واپس بلالیا، اور ان کے آتے ہی فرمایا: بس تمہاری برادری اور خیر خواہی یہی ہے کہ کسی سے غلطی سرزد ہوجائے تو تم اس کا سامان باہر پھینک دو کہ وہ چلا جائے؟ تمہیں تو چاہیے تھا کہ مجھے نرمی کی تلقین کرتے اور حاجی صاحب کو نصیحت کرتے کہ آئندہ اس سے ایسی غلطی سرزد نہ ہو، آخر غلطی انسان ہی سے تو ہوتی ہے، کسی کی خیر خواہی تو اس کی اصلاح کرنے میں ہے نہ کہ اس کو علیحدہ کرنے اور نکال دینے میں ہے۔ پھر کافی دیر تک نصیحت فرماتے رہے کہ ایک دوسرے کو اپنا بھائی سمجھ کر اس کی بھلائی کے لئے سوچتے رہیں، آجکل ایسے بھائی ایسے پڑوسی کہاں ملتے ہیں جو خاص رضائے الٰہی کی خاطر اپنا وطن کنبہ چھوڑ کر ایک جگہ پر مل کر اللہ اللہ کریں، ایسے مخلص بھائی بالفرض اگر صبح و شام کسی وجہ سے جوتے ماریں پھر بھی ایسی جگہ نہیں چھوڑنی چاہیے، یہاں تو الحمدللہ ایسے کبھی نہیں ہوا ہے اور نہ انشاء اللہ آئندہ ہوگا، مطلب یہ ہے کہ استقامت اتنی ہونی چاہئے۔ (از حاجی منظور احمد شر بلوچ) واضح ہو کہ نماز باجماعت میں کوتاہی کرنے والوں کو تنبیہہ کرنا بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ ہے، تفصیل کے لئے ملاحظہ کریں۔ (سنن نسائی ص ۱۱۳ جلد ۲) انتظار جماعتعمومًا حضور کے تشریف لانے سے قبل ہی نماز کے لئے جماعت جمع ہوجاتی تھی اور آپ کے تشریف لاتے ہی جماعت کھڑی ہوجاتی تھی اور کبھی حضور پہلے تشریف لے آتے اور احباب ابھی آنے والے ہوتے تو آپ بیٹھ جاتے تھے تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد جماعت میں شامل ہوسکیں۔ اس دوران آپ خاموش بیٹھے رہتے۔ اگر کوئی دنیاوی بات شروع کردیتا تو بار خاطر ہوتا، اگر کوئی پرانا فقیر ہوتا تو اس کو تنبیہہ بھی کرتے، البتہ بعض اوقات خود کوئی دینی مسئلہ بیان فرماتے تھے۔ جماعت حاضر ہونے پر جب بتایا جاتا کہ حضور اکثر جماعت پہنچ چکی ہے، پھر نماز شروع ہوتی تھی۔ دراصل مسجد میں آکر جماعت کا انتظار کرنا بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت طیبہ کی تعمیل کے لئے ہوتا تھا۔ چنانچہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے طویل حدیث شریف میں مروی ہے۔ وَالۡعِشآءَ اَحیَانًا کَانَ اِذَا رَءَاھُم قَدِ اجۡتَمَعُوا عَجَّلَ وَ اِذَا رَءَاھُم قَد اَبطَؤُا اخر (نسائی ص ۲۶۴) بعض اوقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء کے لئے اگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اکٹھا دیکھتے (جلدی آئے ہوتے) تو نماز کے لئے جلدی فرماتے اور اگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دیر سے آتے دیکھتے تو آپ بھی تاخیر فرماتے تھے (ان کے لئے انتظار فرماتے تھے)۔ نماز کے وقت عمامہ کا اہتمامعمامہ تو آپ ویسے بھی پابندی سے پہنا کرتے تھے لیکن نماز کے لئے اور بھی زیادہ اہتمام فرماتے تھے اور جماعت کو بھی تاکید فرماتے تھے کہ حدیث شریف میں عمامہ سے نماز پڑھنے کا ثواب پچیس (۲۵) گنا زیادہ بیان کیا گیا ہے۔ بلکہ بعض احادیث میں اس سے بھی زیادہ ثواب کا ذکر ہے، اس لئے مفت کا یہ ثواب کسی صورت میں ضائع نہ ہونے دیں۔ فرمایا پہلے کبھی کبھی گھر میں نوافل بغیر عمامہ پڑھتا تھا، لیکن جب سے اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی فتاویٰ رضویہ میں عمامہ کے فضائل اور اہمیت مطالعہ کئے، اب تو نماز فرض خواہ نفل کے لئے عمامہ کی پابندی کرتا ہوں اور سنت متواترہ ہونے کی وجہ سے نماز کے علاوہ بھی عمامہ پہنے رکھتا ہوں۔ فتاویٰ رضویہ میں بیاہ شدہ عمامہ کے فضائل حضور کو اس قدر پسند تھے کہ سالانہ جلسہ ہو یا ستائیسویں کا، اس احقر کو ارشاد فرماتے تھے کہ فتاویٰ رضویہ لاؤ اور عمامہ کے فضائل جماعت کو سناؤ۔ چنانچہ حکم کی تعمیل کرتے ہوئے فضائل بیان کئے جاتے تھے۔ اس کے بعد آپ خود ان فضائل کی وضاحت فرماتے تھے اور سر پر عمامہ رکھنے کی ترغیب اور نہ رکھنے پر سخت تنبیہ فرماتے تھے اور فرماتے تھے سر پر دستار اور مسواک رکھنا ہماری جماعت کی خصوصی علامات سے ہیں۔ لہٰذا نماز کے علاوہ بھی سر پر عمامہ رکھا کرو کہ اس میں سنت ہونے کی وجہ سے ثواب بھی ہے اور مرد کی شان و زینت بھی ہے۔ الحمدللہ آپ کے اخلاص، عمل اور نصیحتوں کی بدولت جماعت عالیہ عمامہ کی اس قدر پابندی کرتی ہے کہ عمامہ جماعت غفاریہ بخشیہ طاہریہ کی مخصوص علامت تصور کیا جانے لگا۔ جماعت کے ہزاروں افراد ایسے ہیں جو عمامہ کے بغیر شاذونادر ہی نظر آتے ہیں۔ جیسا کہ اوپر بیان ہوچکا کہ جب یکے بعد دیگرے تین مرتبہ آپ کے آپریشن ہوئے، کمزوری اتنی تھی کہ اپنے ہاتھوں سے عمامہ بھی باندھ نہیں سکتے تھے، اس کے باوجود نماز کے وقت خادم خاص حاجی محمد علی صاحب سے ارشاد فرمایا: میرے سر پر پگڑی باندھیں، میں نے عمامہ کے بغیر کبھی نماز نہیں پڑھی، لہٰذا آج بھی یہ سنت ترک نہ ہونے پائے۔ اوقاتِ مجلسنماز فجرمتبع سنت عاشق رسول سیدی سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ نماز فجر کے بعد پابندی سے مسجد شریف میں تشریف فرما رہتے تھے۔ ذکر الٰہی، وعظ و نصیحت کی یہ نورانی مجلس سورج طلوع ہونے کے کافی دیر بعد تک قائم رہتی تھی۔ مقیم مسافر، مریدین اور عقیدت مندوں کی خاصی تعداد ہر مجلس میں حاضر رہتی تھی۔ اتنی دیر اہل ذکر کے ساتھ بیٹھنے کو حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ماطلعت علیہ الشمس (جہاں تک سورج کی روشنی پہنچتی ہے) سے زیادہ پسندیدہ فرمایا گیا ہے۔ (ابن کثیر ص ۸۰ جلد ثالث) خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی یہی معمول تھا کہ آپ فجر نماز کے بعد جائے نماز پر بیٹھ کر ذکر الٰہی کرتے تھے، یہاں تک کہ سورج طلوع ہوجاتا۔ کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ اِذَا صَلَّی الۡفَجۡرَ قَعَدَ فِیۡ مُصَلَّاہُ حَتّیٰ تَطۡلُعَ الشَّمۡسُ وَ وَقۡتُ الصُّبۡحِ مَا لَمۡ تَطۡلُعَ الشَّمۡسُ تاخیر فجرآپ ہمیشہ فجر کی نماز تاخیر سے مگر مستحب وقت میں پڑھا کرتے تھے، یعنی یہ خیال ضرور رکھتے تھے کہ خوانخواستہ اگر کسی وجہ سے نماز لوٹانے کی ضرورت پیش آجائے تو بسہولت دوسری بار نماز پڑھی جاسکے۔ یہ تاخیر بھی اس لئے فرماتے کہ زیادہ سے زیادہ جماعت نماز میں شامل ہوسکے۔ بعض ناواقف لوگ صبح صادق ہوتے ہی نماز پڑھنے کو ضروری سمجھتے ہیں اور زیادہ دیر ٹھہر کر نماز پڑھنے کو اچھا نہیں سمجھتے، حالانکہ حدیث شریف میں صاف ارشاد موجود ہے ”و وقت الصبح مالم تطلع الشمس“ کہ جب تک سورج طلوع نہ ہو فجر کا وقت ہے، اتنی دیر بلکہ اس سے بھی زیادہ تاخیر فعل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ سنن نسائی شریف کی حدیث ہے ثُمَّ اَخَّرَ الۡفَجۡرَ مِنَ الۡغَدِ حِیۡنَ انۡصَرَفَ وَالۡقَائِلُ یَقُولُ طَلَعَتِ الشَّمۡسُ (نسائی ص ۲۶۱) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے دن (جبکہ پہلے دن جلدی پڑھی تھی) فجر کی نماز میں اتنی تاخیر کی کہ جب نماز پوری ہوئی کسی کہنے والے نے کہا سورج طلوع ہوچکا۔ یہی نہیں بلکہ فجر کی نماز میں اتنی تاخیر کرنا کہ سفیدی پھیل جائے اور بھی بہتر اور باعث اجر و ثواب ہے۔ چنانچہ سنن نسائی شریف میں انصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت سے مروی ہے۔ اِنَّ رَسُوۡلَ اللہِ صلّی اللہُ عَلَیہِ وَسلَّمَ قَالَ مَا اَسۡفَرۡتُمۡ بِالۡفَجۡرِ فَاِنَّہٗ اَعۡظَمُ بِالۡاَجۡرِ (سنن نسائی ص ۲۲۲ ج ۲) نماز عصر میں تاخیراسی طرح نماز عصر کے لئے بھی آپ محض اس لئے دیر سے تشریف لاتے تھے کہ
زیادہ جماعت بسہولت شامل ہوسکے، دیگر یہ کہ نماز عصر سے لیکر سورج غروب
ہونے تک ذکر خدا میں مشغول رہنے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اولاد
سیدنا اسماعیل علیہ السلام سے آٹھ غلاموں کے آزاد کرنے سے بھی محبوب تر
عمل بتایا ہے۔ گھر میں نمازرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب حضرت عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ نے گھر میں نماز پڑھنے کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قَدۡ تَریٰ مَآ اَقۡرَبَ بَیۡتِیۡ مِنَ الۡمَسۡجِدٍ فَلَاَنۡ اُصَلِّیَ فِیۡ بَیۡتِیۡ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنۡ اَنۡ اُصَلِّیَ فِی الۡمَسۡجِدِ اِلَّا تَکُوۡنَ صَلَۃ مَکۡتُوۡبَۃ (شمائل ترمذی ص ۱۶۹) آپ دیکھتے ہیں کہ میرا گھر کتنا مسجد سے قریب ہے پھر بھی مجھے پسند یہ ہے کہ فرض نماز کے علاوہ تمام نمازیں اپنے گھر میں پڑھوں۔ اسلئے سیدی سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ بھی ہمیشہ نوافل اور سنتیں گھر میں پڑھنے کو ترجیح دیتے تھے۔ شروع میں تو فرض نماز کے سوا صرف ظہر کی سنت مسجد میں پڑھتے تھے کہ ظہر کے بعد دعا، ملاقات کرنے والوں کے ساتھ بیٹھتے تھے اور نئے واردین ذکر سیکھتے تھے۔ لیکن آخری چند برسوں میں مغرب کی سنتیں بھی مسجد شریف میں پڑھا کرتے تھے، اس لئے کہ مغرب کا وقت محدود ہوتا ہے اس لئے فرض کے ساتھ متصل سنت پڑھنے کا حکم ہے۔ اور حضور کے تشریف لے جانے کے وقت فقراء اور مدرسہ کے طلباء بھی دروازہ معلیٰ تک جاتے تھے اور بعض ناسمجھ لڑکے بات چیت میں شروع ہوجاتے تھے، فرض اور سنت کے درمیان فاصلہ ہوجاتا تھا، اس لئے آپ بجائے گھر کے مسجد ہی میں سنت پڑھتے تھے۔ جبکہ عشاء کے بعد طلبہ عمومًا جلدی سنت پڑھ کر مدرسہ چلے جاتے تھے۔ نمازی کے آگے سے گزرناآپ نماز پڑھنے والے کے سامنے سے گزرنے کو بہت برا سمجھتے تھے، حویلی مبارک سے تشریف لاتے وقت اگر کوئی آدمی آپ کے راستے پر نماز پڑھ رہا ہوتا تو آپ دور پیچھے سے گزرتے۔ اسی طرح نماز پڑھ کر جب جاتے تو بھی اگر کوئی آدمی آپ کے پیچھے کھڑا نماز پڑھ رہا ہوتا یا راستے میں نماز پڑھ رہا ہوتا تو آپ کافی دیر تک کھڑے رہتے، اگر کوئی نمازی آپ کا کھڑا ہونا محسوس کرکے جلدی جلدی نماز پوری کرلیتا تو اور بھی رنج ہوتے اور فرماتے تھے کہ نماز خدا تعالیٰ کا فرض ہے، تو بھی اس کا بندہ ہے اور میں بھی، میں اگر کچھ دیر کھڑا رہا تو کوئی بڑی بات نہیں، آئندہ کے لئے ایسی حرکت ہرگز نہ کرنا بلکہ نماز آہستگی اور اطمینان سے پوری کرنی چاہئے۔ دربار طاہر آباد شریف میں چونکہ جائے نماز سے مغربی جانب آپ کی حویلی مبارک تھی، اس لئے آپ مغربی دروازہ سے تشریف فرما ہوتے تھے۔ ایک مرتبہ جیسے ہی آپ دروازہ سے داخل ہوئے دیکھا کہ سامنے ایک آدمی نماز پڑھ رہا ہے، دیکھتے ہی وہیں کھڑے ہوگئے۔ یہاں تک کہ اس نے دوسری رکعت پوری کی پھر دوسرا شفعہ ملاکر چار رکعت سنت پوری کی اس کے بعد آپ مصلیٰ پر تشریف فرما ہوئے۔ میں نے بہار شریعت کے حوالے سے عرض کی کہ اگر کوئی آدمی بے خبری میں نمازی کے آگے آجائے، تو اسے اسی جانب نکل جانے کی اجازت ہے جس جانب سے آیا ہو، پھر بھی آپ ایسی صورتوں میں کھڑا رہتے تھے۔ اور ہمیشہ اپنی تقاریر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث شریف بیان فرماتے تھے کہ اگر نمازی کے سامنے سے گزرنے والا جانتا ہو کہ اس کا کتنا گناہ ہے، تو وہ چالیس برس کھڑے ہونے کو ترجیح دیتا اس سے کہ نمازی کے آگے سے گزرے۔ (سنن نسائی ص ۶۶ جلد ثانی) تہجدآپ تہجد نماز کی سختی سے پابندی کرتے تھے، صحت کی حالت میں تو پڑھتے ہی تھے، لیکن سفر یا بیماری کی حالت میں بھی شاید ہی کبھی تہجد قضاء ہوئی ہو۔ یہاں تک کہ آپ کی حیات ظاہری کی آخری نماز، نماز تہجد ہی ثابت ہوئی۔ باوجود یہ کہ آپ کی طبیعت وضو، اور نماز کی متحمل نہ تھی تاہم آپ نے وضو کرکے نماز تہجد ادا کی اور چند منٹوں کے بعد جان جانِ آفریں کے سپرد کی۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ آپ جماعت اہل ذکر کو بھی تہجد نماز کی تاکید فرمایا کرتے تھے۔ آپ کی مستقل خانقاہوں، اللہ آباد شریف، فقیر پور شریف اور طاہر آباد شریف میں تہجد نماز کی پابندی سے حاضری ہوتی ہے۔ دو بجے سے لیکر چار بجے تک جمعدار مسجد شریف میں بیٹھ کر تہجد پڑھنے والوں سے حاضری لیتا تھا اور بار بار اسپیکر پر تہجد کے لئے اٹھنے کا اعلان کرتا تھا۔ یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔ اگر کوئی بلا عذر تہجد نہ پڑھتا تو اسے بطور کفارہ و جرمانہ ایک گھنٹہ دربار عالیہ کا پہرہ دینا ہوتا اور ایک مرتبہ صلٰوۃ التسبیح (جس کے پڑھنے کا طریقہ اور فضائل شب برات کے بیان میں انشاء اللہ ذکر کئے جائیں گے) پڑھنی ہوتی۔ مدرسہ کے طلبہ اور اساتذہ چونکہ کافی دیر تک پڑھتے رہتے تھے اس لئے ان کے ساتھ یہ رعایت فرمائی کہ جس وقت مطالعہ سے فارغ ہوں اس وقت تہجد پڑھ کر سوئیں، اس کے لئے بھی جمعدار مقرر ہوتا تھا۔ مذکورہ بالا خانقاہوں کے علاوہ بعض دیگر مقامات پر بھی آپ کے متوسلین نے یہی طریقہ اپنا رکھا ہے۔ آپ فرماتے تھے کہ نماز تہجد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر تو فرض تھی، ہم اور آپ پر فرض تو نہیں لیکن اس کے کثیر ثواب کے پیش نظر تمام اہل ذکر احباب کو چاہیے کہ تہجد کو لازم سمجھیں، اور یاد رکھو تہجد کی نماز میں جو سستی کرے گا، اس سے نوافل اور سنتوں میں بھی سستی ہوجائے گی اور جو سنتوں میں غفلت برتے گا اس سے فرائض میں بھی کوتاہی ہوسکتی ہے، اس لئے تہجد میں سستی ہرگز نہ کی جائے۔ مورخہ ۲۳ محرم الحرام ۱۴۰۳ھ کو اوتھل (بلوچستان) کے محترم محمد علی صاحب سے مخاطب ہوکر تہجد پڑھنے کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا: جماعت کے ہر فرد کو تہجد کی نماز ضرور پڑھنی چاہئے۔ “التہجد بین النومین” یعنی تہجد سے پہلے بھی نیند ہونی چاہئے اور بعد میں بھی۔ لہٰذا بہتر یہ ہے کہ شروع رات میں آدمی سوکر آرام کرے، نصف شب کے بعد اٹھ کر نماز تہجد پڑھے، پیران کبار رحمہم اللہ کا سلسلہ عالیہ پڑھے اور جملہ لطائف کا ذکر کرے، سلوک میں ترقی کا مدار لطائف پر ہے، زیادہ وقت لطیفہ قلب کو دینا چاہئے، باقی وقت میں جملہ لطائف کا باری باری سے دور کرے، یہ سردیوں کا موسم (۱۰ نومبر نماز فجر و مراقبہ کے بعد فرمایا) لطائف کے ذکر کے لئے بہتر وقت ہے۔ حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ دن رات میں تقریبًا چوبیس ہزار سانس ہوتے ہیں، اس لئے چوبیس ہزار بار لطائف سے ذکر کیا جائے تاکہ رات اور دن کے تمام سانس ذکر میں شمار ہوں، اگر اتنا نہ ہوسکے تو ۱۲ ہزار مرتبہ تو ذکر کیا جائے۔ اس کے بعد کچھ دیر بعد آرام کرنا چاہئے تاکہ تہجد کے لئے بین النومین (دو نیند کے درمیان) پر بھی عمل ہوجائے۔ نیز آپ فرمایا کرتے تھے کہ نماز تہجد کی حاضری کے لئے ۴ بجے تک کا وقت بھی اسی لئے مقرر کیا گیا ہے تاکہ رات کا کچھ حصہ ذکر، مراقبہ لطائف اور اسباق کے دور میں صرف کیا جائے، ورنہ ۴ بجے کے بعد بھی کافی دیر تک تہجد کا وقت ہوتا ہے، بالخصوص سردیوں میں تو اور بھی زیادہ دیر بعد صبح صادق ظاہر ہوتا ہے، اور صبح صادق تک تہجد کا وقت ہے۔ آپ ۲ بجے سے ۴ بجے کے درمیان تہجد کے لئے اٹھتے تھے، تہجد کے بعد مختلف اوراد و وظائف (جن کا بعد میں ذکر ہوگا) پڑھ کر عمومًا کچھ دیر سوجاتے تھے، اور کبھی کبھی ذکر الٰہی اور مراقبہ میں اتنے محو ہوجاتے تھے کہ صبح کی اذان ہوجاتی تھی۔ یہ سونے کا وقت نہیں ہے۔مولانا خدا بخش صاحب نے بتایا کہ حضور ایک مرتبہ چنیسر گوٹھ کراچی میں سید فراخ شاہ مرحوم کے مکان میں قیام پذیر تھے، آپ کی خدمت کے لئے میں اسی مکان میں رہا، آپ نے مجھے فرمایا کہ ڈھائی بجے تہجد کے لئے اٹھانا۔ ٹھیک ڈھائی بجے میں اٹھا، ابھی بلب جلایا ہی تھا کہ حضور یہ فرماتے ہوئے اٹھے هي سمهڻ جو وقت نه آهي، گھڻا ئي سال ننڊون ڪيون آهن. (یہ سونے کا وقت نہیں ہے، کئی سال تک نیند کی ہے۔) تہجد پڑھ کر آپ جیسے ہی مراقبہ میں بیٹھے یہاں تک کہ صبح ہوگئی اور نماز فجر کے لئے مسجد تشریف لے گئے۔ سیرت رسول عربی فداہ امی و ابی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ فانی فی الرسول متبع سنت سیدی و مرشدی سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کا مذکور ارشاد اور اٹھ کر عبادت الٰہی میں مصروف ہونا بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل کی عکاسی کرتا ہے۔ بروایت حضرت عطاء رضی اللہ تعالیٰ عنہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ایک رات حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور میرے لحاف میں لیٹ گئے، لیٹتے ہی تھوڑی دیر میں فرمایا کہ چھوڑیں تو اپنے رب کی عبادت کروں، یہ فرماکر کھڑے ہوئے وضو کیا اور نماز کی نیت باندھ لی اور رونا شروع کردیا۔ (طویل حدیث ہے جس کے آخر میں ہے) غرض صبح تک یہی کیفیت رہی حتیٰ کہ بلال رضی اللہ عنہ صبح کی نماز کے لئے بلانے کو آگئے۔ (خصائل نبوی علی الشمائل للترمذی ص ۲۱۵) فقیر محمد عبدالغفار شر بلوچ نے بتایا کہ ایک مرتبہ جیسے ہی حضور قبلہ سیدی سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور مصافحہ کیا آپ نے پوچھا تہجد پڑھتے ہو یا نہیں؟ میں نے عرض کیا حضور تہجد پڑھنے میں سست ہوں، اس پر آپ رنجیدہ ہوئے اور سختی سے تنبیہہ کرتے ہوئے فرمایا اتنے پرانے فقیر اور تہجد میں سستی، اگر تہجد میں سستی کرتے ہو تو ہمارے پاس نہ آیا کرو۔ میں قدموں میں گر پڑا، روکر معافی طلب کی کہ میری غلطی ہے، آئندہ سستی نہیں کروں گا، تب جاکر راضی ہوئے معافی دیدی اور دعا فرمائی۔ صلٰوۃ التسبیحآپ روزانہ صلٰوۃ التسبیح کم از کم ایک مرتبہ نماز ظہر سے پہلے پڑھ کر نماز کے لئے تشریف لاتے تھے، اس کے علاوہ رات کے وقت اور کبھی کسی دوسرے وقت بھی صلٰوۃ التسبیح پڑھا کرتے تھے۔ اور جماعت کو بھی سیدنا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی روایت (جس کا ذکر بعد میں ہوگا) کے مطابق روزانہ، یا ہفتہ میں یا مہینہ میں یا کم از کم سال میں ایک بار صلٰوۃ التسبیح پڑھنے کی تاکید فرماتے تھے، اور خود کئی بار صلٰوۃ التسبیح پڑھتے تھے۔ اس کے علاوہ عیدین، شب برات اور دیگر مقدس راتوں میں صلٰوۃ التسبیح پڑھنے کے لئے تاکید فرماتے تھے۔ نماز کے بعد تسبیحاتچونکہ آخری کئی سال کثرت عوارض کی وجہ سے آپ نماز نہیں پڑھاتے تھے، کوئی دوسرا ہی نماز پڑھاتا تھا، بعض امام فرض کے بعد جلدی دعا مانگ لیتے تھے۔ اس سلسلہ میں مورخہ ۲۱ صفر المظفر ۱۳۹۷ھ اور بعد میں بھی کئی بار امام کو بلاکر فرمایا: جن نمازوں میں فرض کے بعد سنتیں نہیں ہیں، امام کو دعا میں جلدی نہ کرنی چاہئے۔ جب تک خود امام اور دوسرے مقتدی تسبیحات فاطمہ یعنی ۳۳ مرتبہ سبحان اللہ ۳۳ بار الحمد للہ اور اللہ اکبر ۳۴ بار نہیں پڑھ لیتے، دعا نہ مانگے، اور جن نمازوں میں فرض کے بعد سنتیں پڑھنی ہوں جلدی دعا مانگ لے، سنت کے بعد تسبیحات مذکورہ پڑھ کر پھر دعا مانگنی چاہئے۔
|