فہرست
سیرت ولی کامل (حصہ دوم)

باب اول

خواتین کی اصلاح

 

طَلَبُ الۡعِلۡمُ فَرِیۡضَۃٌ عَلیٰ کُلِّ مُسۡلِمٍ وَّ مُسۡلِمَۃ (الحدیث)

الحدیث ”دینی علم حاصل کرنا ہر ایک مسلمان مرد اور عورت کے لئے فرض ہے“۔

یہ حقیقت ہے کہ موجودہ معاشرہ کی اصلاح اور اسلامی نشاۃ ثانیہ کے لئے مردوں کی اصلاح کے ساتھ ساتھ عورتوں کی اصلاح بھی نہایت ضروری ہے۔ خاص کر اولاد (جن پر ملک و ملت کے مستقبل کا دارومدار ہے) اس کی حسن تربیت و تعلیم کے حوالہ سے تو اس کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ مگر بدقسمتی سے عوام سے لیکر خواص تک نے اس جانب خاطر خواہ توجہ نہیں دی، یہاں تک کہ سینکڑوں خدا کے بندے اولاد اور اہل خانہ کی دینی حالت کا رونا روتے دیکھے گئے ہیں جو خود تو نیک نمازی صالح ہیں، مگر اولاد نافرمان ہے، گھر میں نماز، روزہ، شرعی پردہ نہیں، اور غیر شرعی رسم و رواج میں اسقدر جکڑے ہوئے ہیں کہ الامان والحفیظ۔ حالانکہ یہ قصور بڑی حد تک صاحب خانہ کا اپنا ہوتا ہے۔ کُلُّکُمۡ رَاعٍ وَّ کُلُّکُمۡ مَسۡئُوۡلٌ عَنۡ رَّعِیَّتِہ۔ یعنی تم میں سے ہر ایک سربراہ ہے اور سربراہ سے بروز قیامت زیر دستوں کے بارے میں پوچھ گچھ ہوگی کہ اس نے صحیح سمت ان کی رہبری کی یا نہیں۔ حالانکہ اسلام جس طرح مردوں کے لئے ہے، اسی طرح عورتوں کے لئے بھی ہے۔ بانی اسلام صلّی اللہ علیہ وسلم نے تفصیل سے عورتوں کے حقوق اور شرعی احکام بیان کئے۔ بفضلہ تعالیٰ ماسلف مشائخ طریقت کی طرح ماضی قریب میں بھی میرے پیر و مرشد حضرت قبلہ سوہنا سائیں قدس سرہ نے خواتین کی اصلاح اور اسلامی طرز زندگی اپنانے کی راہ میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں، جن کی ایک مختصر سی جھلک پیش خدمت ہے۔

(۱) آجکل مردوں سے بڑھ کر خواتین نماز و روزہ سے غافل ہیں، مگر میرے پیر و مرشد نور اللہ مرقدہ کی تبلیغی کوشش و محنت کا نتیجہ ہے کہ آپ کے تینوں درباروں میں مقیم خواتین سو فیصد روزہ نماز کی پابند ہیں، جبکہ ۸ سال کی عمر سے بھی پہلے بچوں اور بچیوں کو نماز کی ترغیب دی جاتی ہے، جب کہ دس سال کی عمر میں مار کر بھی پابندی سے نماز پڑھائی جاتی ہے اور یہی سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ فرض نماز کے علاوہ جملہ خواتین تہجد بھی پابندی سے پڑھتی ہیں۔

(۲) شریعت مطہرہ کی رو سے جن پر روزہ و نماز فرض ہیں، اسی طرح ان کے مسائل سیکھنا بھی فرض ہیں۔ چنانچہ دربار عالیہ پر خواتین کے دینی مسائل کا مدرسہ قائم ہے، جہاں خواتین اساتذہ ہی وضو، نماز اور حیض و نفاس کے مخصوص مسائل زبانی یاد کراتی ہیں، اور وقتًا فوقتًا ان ضروری مسائل کے امتحانات بھی لئے جاتے ہیں۔
(۳) خواتین کے ان ضروری مسائل کے سلسلے میں اس وقت تک جماعت کی طرف سے دو کتابیں چھپ چکی ہیں۔ ۱۔ زینت النساء، ۲۔ مسائل نجاسات النساء (یہ کتاب حضور رحمۃ اللہ علیہ کے وصال کے بعد چھپی ہے) تاکہ خواتین کتابوں کی مدد سے سہولت سے ضروری مسائل یاد کرسکیں۔

(۴) آجکل مغربی تہذیب کی وبا پھیلنے سے ہمارے ملک میں بھی شرعی پردہ دن بدن ختم ہوتا جارہا ہے، مگر بفضلہ تعالیٰ میرے پیر و مرشد نور اللہ مرقدہ کی جماعت عالیہ میں آج بھی شرعی پردہ نافذ ہے۔ بلا پردہ بیرون خانہ تو کجا، اپنے رشتہ دار مگر غیر محرم مردوں کو بھی گھر میں آنے نہیں دیا جاتا۔ دربار عالیہ پر ۷ سالہ بچہ بھی خواتین کی مخصوص حویلی میں نہیں جاسکتا۔

(۵) خصوصی خطاب حضور سوہنا سائیں قدس سرہ عام وعظ و نصیحت (جو مسجد شریف میں اسپیکر پر فرمایا کرتے تھے) کے دوران خواتین سے مخاطب ہوکر حقوق اللہ اور حقوق العباد کے موصوع پر خطاب فرمایا کرتے تھے، تاہم بعض اوقات خواتین مخصوص حویلی میں باپردہ جمع ہو جاتیں اور حضور بستی کے فقراء اور خلفاء کے ساتھ تشریف لے جاکر پس پردہ ذکر اللہ، حقوق العباد، خاص کر والدین، خاوند، اولاد اور پڑوسیوں کے حقوق کے متعلق خصوصی خطاب فرمایا کرتے تھے۔ (واضح رہے کہ خواتین کے لئے وعظ و نصیحت کی خصوصی مجالس قائم کرنا بھی سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔) دربار عالیہ کے علاوہ تبلیغی سفروں میں بھی بعض مقامات پر خلفائے کرام کے اصرار پر خواتین کو پس پردہ خصوصی خطاب فرمایا کرتے تھے، جس کے نتائج عام وعظ و نصیحت سے بدرجہا بڑھ کر ظاہر ہوتے تھے۔

(۶) آپ خواتین کو خطاب کرتے ہوئے تبلیغ کی تلقین بھی فرماتے تھے کہ تم اپنے اپنے محلہ یا بستی میں کسی مخصوص باپردہ مقام پر پڑوسی خواتین کو جمع کرکے نماز، روزہ کے متعلق نصیحت کرو، اولاد کی حسن تربیت، حقوق خاوند اور خانہ داری کے معاملہ میں خواتین کی لاپرواہی قابل افسوس ہے، ہوسکتا ہے کہ تمہاری کوشش سے کسی کی اصلاح ہوجائے، اگر اللہ تعالیٰ توفیق دے تو ان کے لئے چائے یا تھوڑا بہت لنگر کا انتظام بھی کرو تاکہ تمہارے یہ جلسے مزید کامیاب رہیں۔ گو اس سلسلہ میں حضور کی خواہش کے مطابق کماحقہ کام نہ ہوسکا تاہم بعض مقامات پر خواتین کے تبلیغی حلقے قائم ہوئے اور ان کی کوششوں سے سینکڑوں خواتین کو ذکر اللہ، پردہ، نماز، اور حقوق کی بجاوری کی توفیق حاصل ہوئی۔ اس قسم کے خواتین کے تبلیغی حلقے نواب شاہ، کراچی اور حیدرآباد میں کام کررہے ہیں۔ خاص کر نواب شاہ میں خواتین کے تبلیغی پروگرام بڑی سرگرمی اور پابندی سے ہورہے ہیں۔ ان پارسا خواتین (تمام اہل خانہ صوفی محمد سلیم صاحب گولیمار نواب شاہ) کی کوششوں سے نہ معلوم کتنی عورتیں صالحہ باپردہ اور پرہیزگار بن چکی ہیں۔ آگے پھر ان کی کوششوں سے ان کے خاوند بھی نیک و پرہیزگار بن گئے۔ دور حاضر میں ایسی مثالیں بہت ہی کم ملتی ہیں کہ عورتوں کی کوشش سے مردوں کی اصلاح ہوئی ہو۔ نواب شاہ کی خواتین نے بہاولپور، لاہور اور اوکاڑہ میں بھی اپنی رشتہ دار خواتین میں مثالی تبلیغی کام کیا ہے۔

ایک خاتون کے تاثرات

غالبًا ۱۹۷۱ء میں حضور سوہنا سائیں قدس سرہ کے خصوصی ارشاد سے مبلغین کا ایک وفد تبلیغ کرنے سندھ یونیورسٹی پہنچا، جہاں یونیورسٹی اور کالج کے مختلف ہاسٹلوں میں طلبہ کو وعظ و نصیحت کی اور ماروی ہاسٹل میں طالبات کو بھی باپردہ تبلیغ کی، اور واپس درگاہ شریف پہنچے۔ کچھ دن بعد مسز امینہ خمیسانی ہیڈ آف انگلش ڈپارٹمینٹ سندھ یونیورسٹی کا خط حضور سوہنا سائیں قدس سرہ کی خدمت میں پہنچا، جس میں نہایت ہی عقیدت کے انداز میں تحریر کیا گیا کہ میں نے آپ کی زیارت تو نہیں کی، تاہم آپ کے چند مرید مبلغ حضرات یہاں تشریف لائے، جنہوں نے طلبہ کے علاوہ پردہ میں یونیورسٹی کی طالبات کو بھی وعظ و نصیحت کی جن کے اثرات قابل تعریف ہیں، کہ ان بزرگوں کی نصیحت سے متاثر ہوکر بعض لڑکیاں رو رہی تھیں، جس سے میں یہی سمجھی کہ ان کے مرشد کامل بزرگ ہونگے، اور ان کے چلے جانے کے بعد کئی لڑکیوں نے نماز پڑھنا شروع کی، اور اب دوپٹہ اوڑھتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا تبلیغی مشن ملک و ملت اور قوم کے لئے ازحد نفع بخش ہے۔ براہ کرم امتحانات کے بعد دوسرا وفد پھر بھیجئے تاکہ یونیورسٹی میں آکر تبلیغ کریں۔ یہ خط سن کر آپ بہت خوش ہوئے اور فرمایا دیکھو اخلاص سے تبلیغ کرنے کا کس قدر عمدہ ثمرہ ظاہر ہوا ہے۔ آج کل شاگرد طبقہ میں دہریت اور مذہب سے آزادی عام ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ اس طبقہ میں محنت سے تبلیغ کی جائے۔ دیکھو سیاسی جماعتیں کس قدر محنت سے کام کررہی ہیں، ان کو اصلاح کی فکر نہیں محض سیاسی مفاد حاصل کرنا چاہتے ہیں، جبکہ ہمارے بزرگوں کا طریقہ نہایت ہی موثر اور پرامن طریقہ ہے۔ نوجوان طلبہ مستقبل میں قوم کے معمار بنیں گے۔ اگر ان کی پوری اصلاح ہوگی تو رشوت اور دیگر برائیوں میں کمی واقع ہوگی، مائی صاحبہ کو اللہ تعالیٰ جزائے خیر سے نوازے، اس کی پیشکش کے مطابق امتحانات کے بعد ایک وفد ضرور یونیورسٹی جائے۔ (از مولانا جان محمد صاحب)