فہرست
سیرت ولی کامل (حصہ دوم)

باب اول

کشف


حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اِتَّقُوۡا فِرَاسَۃِ الۡمُؤۡمِنِ فَاِنَّہٗ یَنۡظُرُ بِنُوۡرِ اللہِ

مومن کی بصیرت اور دانائی سے بچو کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نور سے دیکھتا ہے (التعرف)۔ یعنی ایسی چیزیں جو عام انسانوں کو نظر نہیں آتیں اور جو عام انسانوں کو نظر آتی ہیں وہ سبھی کامل ایمان بندگان خدا نور خدا سے دیکھتے ہیں، چاہے وہ چیزیں عام لوگوں کی سمجھ میں آئیں یا نہ آئیں۔ آخر یہ نعمت ان حضرات کو کیونکر حاصل نہ ہو جو حدیث قدسی کے مطابق مقربان الٰہی ہیں۔

وَمَا یَزَالُ عَبۡدِیۡ یَتَقَرَّبُ اِلَیَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَیٰ اَحۡبَبۡتُہٗ فَاِذَا اَحۡبَبۡتُہٗ فَکُنۡتُ سَمۡعَہُ الَّذِیۡ سَمۡعُ بِہٖ وَبَصَرَہُ الَّذِیۡ یَبۡصُرُ وَیَدَہُ الَّذِیۡ یَبۡطِشُ بِہَا وَ رجۡلَدُ الَّتِیۡ یَمۡشِیۡ بِہَا وَ اِنۡ سَاَلَتِیۡ لَاُعۡطِیَنَّہٗ وَلَئِنِ اسۡتَعَنذَنِیۡ لَاُعِیۡذُنَّہٗ (مشکوٰۃ المصابیح)

(میرا بندہ ہمیشہ فرائض کی ادائیگی کے بعد) نوافل کے ذریعے ہی میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اسے محبوب بنالیتا ہوں، جب میں اس کو دوست رکھتا ہوں تو میں اس کے کان بن جاتا ہوں جن سے وہ سنتا ہے، میں اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اور اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، اور اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔ یعنی بظاہر ہاتھ، آنکھ، کان اور پاؤں ولئ خدا کے ہوتے ہیں، مگر فی الحقیت دیکھنا، سننا، پکڑنا اور چلنا اس کا نہیں بلکہ اس کے خالق و مالک کا ہوتا ہے، لہٰذا اس کی راہ میں ظاہری، دنیاوی حجابات و رکاوٹیں مانع نہیں بن سکتیں، وہ باذن الٰہی دور سے دیکھتے، سنتے اور مدد کرتے ہیں۔ اگرچہ کشف و کرامت طریقت و تصوف کے نہ تو لازمی حصہ ہیں نہ ہی ان کو خاص اہمیت حاصل ہے، البتہ سالکین کی ہمت و حوصلہ افزائی کے باعث ضرور ہیں۔

سیدی و مرشدی سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ بھی صاحب کشف و کرامت ولی کامل تھے۔ طریقہ عالیہ نقشبندیہ سے وابستگی، خلافت و مسند نشینی کے بعد تو بے شمار خوارق عادات، کشف اور کرامات آپ سے ظاہر ہوتے رہے، مگر اس سے پیشتر بھی آپ سے کئی ایک کرامات صادر ہوئیں۔ غرضیکہ کشف و کرامت کی اتنی کثرت (کہ اگر تفصیل سے واقعات جمع کئے جائیں تو مستقل بڑی کتاب ہوسکتی ہے) کے باوجود آپ کے نزدیک یہ چیزیں معمولی تھیں۔ اتباع شریعت و طریقت ہی آپ کے نزدیک لازمی اور ضروری تھی۔ ؎

بر جام شریعت، بر سندان عشق
ہر ہوسنا کے نداند جام و سندان باحق

طالب علمی کے زمانہ میں کشف

طالب علمی کے زمانہ میں ایک بار چھٹی لیکر گھر پہنچے، معلوم ہوا کہ آپ کی ہمشیرہ صاحبہ بیمار ہیں، فورًا ان کی عیادت کے لئے ان کے پاس تشریف لے گئے، ہمشیرہ صاحبہ کو دیکھتے ہی غصہ کے عالم میں فرمایا: تو نماز میں سستی کرتی ہے، اس لئے اب میں تیرے ہاتھ کی پکی ہوئی روٹی بھی نہیں کھاؤں گا، یہ کہہ کر نماز کے بارے میں نصیحت فرمائی، جس پر آپ کی پارسا صالحہ ہمشیرہ صاحبہ نے نماز میں سستی کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے آئندہ بروقت نماز کی ادائیگی کی وعدہ کیا۔ (از حضرت صاحب مدظلہ)

آپ نہیں جانتے

محترم مولانا عبدالرسول صاحب نے بتایا کہ حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ میرے والد بزرگوار فقیر قادر بخش ڈیپر کی دعوت پر ہماری بستی جاڑاواہ تحصیل میہڑ تشریف لائے۔ قریب ہی ہماری قوم کے کچھ فقیر رہتے تھے جنہوں نے حضور سے تھوڑی دیر کے لئے اپنی بستی چل کر دعائے خیر کے لئے عرض کی۔ آپ نے ان کی گزارش قبول کی، چنانچہ وہ آپ کی سواری کے لئے ایک گھوڑا لے آئے۔ دونوں بستیوں کے درمیان پانی کی ایک چھوٹی سی نہر بہ رہی تھی (جہاں سے وہ روزانہ سوار چلا جاتا تھا) وہاں پہنچتے ہی آپ نیچے اترنے لگے، قبلہ حاجی بخشل صاحب اور فقیر قادر بخش دونوں نے عرض کی حضور یہ گھوڑے کے لئے معمول کا راستہ ہے اترنے کی کوئی ضرورت نہیں، لیکن پھر بھی آپ یہ کہتے ہوئے نیچے اترے: آپ لوگ اس بات کو نہیں جانتے، آپ پیدل اس نہر سے پار گئے، نہر بالکل معمولی نوعیت کی تھی، اس لئے ساتھیوں نے گھوڑے سے تل ہنوں نہیں اتارے۔ چند قدم ہی آپ آگے بڑھے کہ وہاں سے گزرتے ہوئے گھوڑا بدک کر گرا، تل وغیرہ بھیگ کر خراب ہوگئے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ واقعی ہم نہیں جان رہے تھے، اور آپ کو من جانب اللہ پہلے ہی گھوڑے کے گرنے کا پتہ چل گیا تھا۔ (فقیر عبدالرسول ڈیپر)

واضح ہو کہ مذکورہ علاقہ میں تبلیغ کرنے کے بعد واپسی پر حاجی بخشل صاحب رحمۃ اللہ علیہ، فقیر قادر بخش اور دیگر فقراء بھی حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے ساتھ رحمت پور شریف گئے تھے جن میں سے ایک نے وہاں ہونے والے غیر معمولی جذبات و بے خودی کا ذکر کیا، جسے سن کر حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی طرف متوجہ ہوکر عجیب محبت کے انداز میں پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: مولوی صاحب! اے سندھی آدمی ہن انہاں کوں اتنا توجہ نہ ڈے، جیکر ہکڑا سندھی مر پیا تہ ایڈے آؤسن ای کونہ۔

حاجی محمد حسین شیخ نے بتایا کہ میں کراچی کے تبلیغی سفر میں حضور کے ساتھ تھا۔ ایک دفعہ اچانک مجھے فرمایا: حاجی صاحب آپ آج لاڑکانہ چلے جائیں۔ میں نے عرض کیا حضور کو کتابیں خریدنی ہیں، میں بھی خدمت میں ساتھ رہوں گا اور جلدی گھر جانے کی مجھے کوئی ضرورت نہیں۔ فرمایا فی الحال آپ گھر چلے جائیں، کسی دوسرے موقعہ پر کتابیں خریدیں گے۔ حسب فرمان میں گھر پہنچا تو والد صاحب سخت بیمار تھے، شدت سے میرا انتظار کررہے تھے۔ مجھے فرمایا اگر آج تو نہ آتا تو کل تیرے لئے کراچی کوئی آدمی بھیج کر تجھے بلاتا۔

کشف اور تقویٰ

مولوی نذیر احمد صاحب نے بتایا ہم چند طلبہ فقیرپور شریف سے حضرت صاحب نور اللہ مرقدہ کی خدمت میں دین پور شریف جارہے تھے۔ بیریوں کا موسم تھا۔ راستے میں بلا اجازت بیر کھاتے گئے۔ (عمومًا بیر کھانے سے اندرون سندھ منع نہیں کیا جاتا) نماز ظہر پر حضور تشریف لائے۔ آپ کی طبیعت پر کافی بوجھ محسوس ہورہا تھا۔ ہم مصافحہ کرکے بیٹھے ہی تھے کہ آپ نے فرمایا: یہ بیر کا موسم ہے، یاد رکھو جو بلا اجازت کسی کے بیر کھائے گا وہ ہمارا فقیر نہیں ہے۔ اسی طرح اس وقت چنے مٹر کی پھلیاں بھی عام ہیں۔ لیکن کوئی فقیر بلا اجازت ہرگز نہ کھائے، نہ ہی ہمارے لئے اسی قسم کی مشتبہ چیزیں لیکر آؤ۔ خالص اپنے حصہ کی پھلیاں کوئی لے آئے تو اور بات ہے، کسی دوسرے کے کھیت سے ہرگز نہ لے کر آئے۔

کیوں رو رہے ہو؟

حافظ مولوی احمد علی صاحب سابق متعلم مدرسہ جامعہ غفاریہ اللہ آباد شریف نے بتایا کہ ایک مرتبہ دوران تعلیم میں تکلیف کی وجہ سے اپنے کمرے میں اکیلے بیٹھا رورہا تھا کہ اچانک حضرت قبلہ صاحبزادہ صاحب (سجن سائیں مدظلہ) تشریف لائے اور فرمایا حضور سوہنا سائیں (نور اللہ مرقدہ) نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے کہ جاکر حافظ صاحب سے پوچھو کہ کیوں رو رہے ہو، کیا پریشانی ہے۔ حالانکہ میں نے اپنی اس پریشان حالی اور رونے کو اس حد تک مخفی رکھا تھا کہ قریبی کمرے میں رہنے والے طلبہ کو بھی پتہ نہیں تھا۔

اسی طرح انہی دنوں اپنے ایک رشتہ دار جو کہ مسمریزم، علم جفر وغیرہ بخوبی جانتا ہے اس کے تجربات دیکھ کر مجھے بھی مسمریزم سیکھنے کا شوق ہوا۔ اکیلا کمرے میں رہتا تھا۔ تین دن مسلسل محنت کرتا رہا۔ مسمریزم کے ابتدائی کامیاب تجربات بھی کئے تھے کہ حضور نے مجھے بلاکر فرمایا حافظ صاحب ہوش کر، تو دینی مدرسہ کا طالب علم، تیرا مسمریزم سے کیا واسطہ؟ آئندہ اس کے قریب نہ جانا ورنہ نقصان اٹھاؤ گے۔ آپ کی ناپسندیدگی دیکھ کر میں صدق دل سے تائب ہوگیا اور مسمریزم کے مزید تجربات نہ کئے۔ (حافظ مولوی احمد علی صاحب صوبھو دیرو ضلع خیرپور میرس)

گھر چلے جائیں

حاجی محمد حسین نے بتایا کہ میں پنجاب کے تبلیغی سفر میں حضور کی خدمت میں حاضر تھا۔ جب ننکانہ صاحب پہنچے حضور نے فرمایا حاجی صاحب! آپ سندھ چلے جائیں اور درگاہ فقیرپور شریف کے لئے گندم خریدیں۔ میں نے ساتھ رہنے کے لئے اصرار کیا تو آپ خاموش ہوگئے۔ مولانا بشیر احمد صاحب بھی سفر میں ساتھ تھے، انہوں نے کہا حضور کا فرمان حکمت سے خالی نہیں، آپ کے لئے واپس جانے میں بہتری ہے۔ جب بنوں جانے کے لئے لاہور اسٹیشن پہنچے میں نے مولوی صاحب کے کہنے کے مطابق عرض کیا اگر حضور میرے واپس جانے پر خوش ہیں تو میں جانے کے لئے تیار ہوں۔ فرمایا بڑی خوشی ہوگی۔ اس بار گندم خریدنے کا بھی نہیں فرمایا، صرف معلومات کرنے کیلئے ارشاد فرمایا۔ میں سیدھا گھر لاڑکانہ پہنچا، گھر پہنچنے پر معلوم ہوا کہ گھر میں اس دن سے ایک سنگین مسئلہ درپیش تھا جس دن ننکانہ صاحب میں حضور نے واپس جانے کا فرمایا تھا اور وہ مسئلہ میری مداخلت اور کوششوں کے بغیر حل بھی نہیں ہوسکتا تھا۔

۱۳ رمضان المبارک ۱۴۰۳ھ بعد نماز فجر ڈاکٹر جاوید اقبال صاحب (ٹنڈو آدم) نے حیدرآباد جانے کی اجازت طلب کی۔ آپ نے رمضان المبارک کی تبلیغ کے سلسلہ میں محترم خلیفہ خالد مغل صاحب کے نام پیغام دینا شروع کیا۔ چند کلمات ارشاد فرماکر اچانک طرز کلام تبدیل کرتے ہوئے فرمایا خالد صاحب خود آجائینگے تو ہم ان کو خود کہہ دیں گے۔ آپ کا یہ ارشاد سنتے ہی اس عاجز کو یقین ہوگیا کہ خالد صاحب آنے والے ہیں۔ بمشکل دو ڈھائی منٹ گزرے ہونگے کہ حیدرآباد سے فقراء کی ایک سوزوکی آگئی۔ خلاف معمول ارشاد فرمایا دیکھو کون ہیں؟ (عمومًا آپ کسی آدمی یا کسی گاڑی کے آنے پر پوچھتے نہیں تھے کہ کون آئے ہیں) دیکھنے پر معلوم ہوا کہ خالد صاحب جماعت لیکر آئے ہیں اور انہوں نے نماز فجر بھی دربار شریف پر آکر ادا کی۔

واضح ہو کہ حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کو اس قدر کشف کامل حاصل تھا کہ کئی بار ایسا ہوا کہ کئی معترض ذہن کے آدمی محض تجسس کی غرض سے دربار پر آتے یا کسی فقیر کے دل میں کوئی وہم و خدشہ پیدا ہوتا اور وہ شرم کے مارے عرض بھی نہ کرتا تھا، یا کسی قسم کی مشکل میں پھنسا ہوتا اور دعا کرانے کی ہمت بھی نہ ہوتی (آپ کے خداداد رعب کی وجہ سے کم ہی لوگوں کو بلا تکلف کچھ کہنے کی ہمت ہوتی تھی) تو آپ ازخود دوران تقریر ان کے اعتراضات کا مختصر، مثبت اور مناسب جواب دے دیتے تھے کہ پوچھنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی تھی۔ اسی طرح سامع کی مشکل کا بیان فرماکر دعا مانگتے تھے۔ ؎

دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا
میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے

والد کو راضی کیا ہے؟

خلیفہ حاجی محمد آدم صاحب نے بتایا کہ ایک مرتبہ کسی بات پر والد صاحب مجھ سے ناراض ہوگئے۔ خواب میں حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی زیارت ہوئی۔ مجھے تنبیہہ کرتے ہوئے فرمایا تمہارے والد صاحب تم سے ناراض ہیں، جاؤ اور جاکر ان سے معافی مانگو اور راضی کرلو۔ بیدار ہونے پر قبلہ والد صاحب سے معذرت کی، وہ راضی ہوگئے۔ چند دن بعد جب میں حرمین شریفین جانے کے لئے اجازت لینے دربار عالیہ پر حاضر ہوا تو مجھے فرمایا: اپنے والد کو راضی کرلیا ہے؟ میں عرض کیا جی حضور وہ مجھ سے بالکل راضی ہیں۔ تب مجھے خوشی سے اجازت مرحمت فرمائی۔ واضح ہو کہ ظاہری طور پر والد صاحب قبلہ نے خود یا کسی اور نے اس ناراضگی کا ذکر یا شکایت حضرت صاحب نور اللہ مرقدہ سے نہیں کی تھی، محض اپنی باطنی نگاہ سے بطور کشف معلوم کرکے میری اصلاح فرمائی۔ (خلیفہ محترم حاجی آدم صاحب کراچی)

کشف اور کرامت

خلیفہ مولانا حاجی حسین بخش شیخ صاحب نے بتایا کہ ایک مرتبہ شاہی بازار لاڑکانہ کے ایک تاجر کے لوٹے جانے کے سلسلہ میں تمام دکانداروں نے ہڑتال کی، جلوس نکالے، جلسے کئے جن میں ہم فقیر بھی شامل تھے۔ جلسے میں حکومت کے خلاف تقاریر کرنے والوں میں میں بھی شامل تھا۔ جمعہ کے دن میں حضور کی خدمت میں فقیرپور شریف چلا گیا۔ ہفتہ کی صبح اجازت طلب کی مگر حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ نے جانے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ٹھہرو آپ سے مشورہ کرنا ہے۔ میں ٹھہر گیا۔ مگر کوئی خاص مشورہ بھی نہیں کیا گیا۔ پھر اجازت چاہی مگر آپ نے پھر بھی رکنے کے لئے ارشاد فرمایا۔ اسی طرح مسلسل ایک ہفتہ تک مجھے جانے کی اجازت نہ دی۔ ایک ہفتہ بعد فرمایا: آپ اب بیشک چلے جائیں۔ لاڑکانہ پہنچنے پر معلوم ہوا کہ جن تاجروں نے میرے ساتھ تقاریر کیں وہ گرفتار کرلئے گئے اور گرفتار کئے جانے والوں کی فہرست میں میرا نام بھی تھا۔ مگر گھر موجود نہ ہونے (اور دربار شریف پر ہونے) کی وجہ سے گرفتاری سے بچا رہا۔ اس وقت کا ڈی۔سی ہمارا ہم قوم تھا۔ میرے بھائی نے اس کی معرفت میرا نام خارج کرانے کی بڑی کوشش کی مگر ناکام رہا۔ دوبارہ جب بھائی صورتحال معلوم کرنے گئے تو ریکارڈ میں میرا نام نہیں ملا، حالانکہ اسی ریکارڈ کے تحت ایس۔پی صاحب کی سختی کی وجہ سے ڈی۔سی نے تعاون کرنے سے معذرت چاہی تھی۔ (خلیفہ محمد حسین صاحب لاڑکانہ)

محترم حاجی محمد آدم صاحب نے بتایا کہ میں نے سروس ملتے وقت مکمل کاغذات جمع نہیں کرائے تھے اور بعد میں بھی میری غفلت کی وجہ سے ملازمت کے کاغذات نامکمل رہے۔ ایک مرتبہ اچانک سروس بُک وغیرہ جمع کرانے کا آرڈر مل گیا۔ وقتی طور پر تو میں بڑا پریشان ہوا مگر دل میں خیال آیا کہ حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی خدمت میں حاضر ہوکر دعا کراؤں گا۔ دربار عالیہ اللہ آباد شریف حضور کی خدمت میں حاضر ہوا، مصافحہ کے بعد خاموش بیٹھ گیا۔ حضور نے چند بار میری طرف دیکھ کر فرمایا مولوی صاحب ابھی ملازمت ہے۔ میری تصدیق کرنے پر حاضرین مجلس سے فرمایا مولوی صاحب کے لئے دعا کریں اللہ تعالیٰ ان کی مشکل کو بسہولت حل فرمائے۔ میرا مقصد تو تھا ہی دعا کروانا۔ میں اجازت لیکر کراچی چلا آیا اور دوسرے ماسٹر صاحبان کے ساتھ سروس بک میں نے بھی بھیج دی۔ حضور کے صدقے اللہ تعالیٰ کی ایسی مہربانی ہوگئی کہ ہمارے ایسے ماسٹر صاحبان کے کاغذات بلاوجہ رد ہوکر آئے جن کے کاغذات مکمل اور درست تھے جن میں ہمارے ہیڈ ماسٹر صاحب بھی شامل تھے اور میرے کاغذات نامکمل ہونے کے باوجود درست تسلیم کرلئے گئے۔ پھر جب میرے بڑے بھائی میاں عنایت اللہ صاحب دربار شریف پر گئے تو حضور نے ان کو فرمایا حاجی محمد آدم صاحب آئے تو دعا کے لئے تھے مگر مانگنے کے لئے کہا تک نہیں۔

سید محمد مٹھل شاہ صاحب (قاضی احمد) نے بتایا کہ ایک دن حضور کی مجلس میں بیٹھے ہوئے میرے دل میں یہ آرزو پیدا ہوئی کہ کاش حضرت امام مہدی علیہ السلام کے متعلق بھی حضور سے کچھ سنوں۔ بس ادھر میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا ادھر ازخود آپ نے حضرت امام مہدی علیہ السلام سے متعلق کتب حدیث کی روشنی میں تفصیل سے بیان فرمایا ، مزید یہ بھی فرمایا کہ وہ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ سے وابستہ ہونگے اور ان پر ولایت کی انتہا ہوگی۔

حاجی محمد حسین شیخ نے بتایا کہ شروع شروع میں جب حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ نے مجھے خلافت عطا فرمائی تھی میں تبلیغ کرنے جاتا تھا، لیکن قدرے سستی اور کوتاہی کرتا تھا۔ ان ہی دنوں اپنے گھر (لاڑکانہ) میں حضرت شیخ شبلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی سوانح حیات پڑھتے ہوئے جب ان کی یہ بات زیر نظر آئی کہ ان کو جب حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ پھل فروٹ کا میوہ سر پر اٹھاکر دیہات میں جاکر بیچو (حالانکہ وہ پہلے گورنر تھے، گورنری کو خیرباد کہہ کر تصوف و فقیری کو اپنایا تھا اور حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کے اعظم خلفاء میں سے ہو گزرے ہیں) تو حسب فرمان انہوں نے فروٹ کا ٹوکرہ اٹھایا اور بیچنے لگے۔ میں یہ سوچنے لگ گیا کہ اگر مجھے میرے مرشد حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ ٹوکرہ لے کر بیچنے کا حکم فرمادیں تو میں تعمیل کروں گا یا نہیں؟ خیر یہ بات آئی اور ذہن سے چلی گئی۔ کوئی ایک ہفتہ بعد جب درگاہ فقیرپور شریف میں حضور کی خدمت میں حاضر ہوا تو صبح دوران تقریر میری طرف دیکھ کر فرمایا: برادر! فروٹ کا ٹوکرہ لے کر چلنے اور بیچنے سے کیا فائدہ، تبلیغ اسلام کا ٹوکرا لیکر نکلو اور در در پر نام خدا کے اعلان کرو اور لوگوں کو نام خدا کا طالب اور خریدار بناؤ۔ جس سے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو اور آخرت کا فائدہ۔ آپ کا یہ ارشاد اور کشف میری اصلاح کا عمدہ ذریعہ ثابت ہوئے۔ اس کے بعد تبلیغ میں کافی چستی پیدا ہوگئی۔ (حاجی محمد حسین صاحب)

محترم مولانا محمد بلال صاحب (ملیر کراچی) نے بتایا کہ ایک مرتبہ میں کراچی سے بذریعہ ٹرین فقیرپور شریف آیا۔ دوران سفر پیاس لگی اور کھلا ہوا شربت لیکر پیا۔ اسی وقت دل میں یہ خدشہ پیدا ہوا کہ نہ معلوم یہ شربت ان لوگوں نے کس طرح بنایا ہوگا۔ میرا یہ فعل تقویٰ کے خلاف ہے۔ جب دربار شریف پہنچا، تقریر فرماتے ہوئے ازخود یہ ارشاد فرمایا کہ ہمارے فقیر کو یہ زیب نہیں دیتا کہ چلتی ٹرین میں کھلا ہوا شربت پیئیں۔ ایسا شربت پینا تقویٰ اور فقیری کے خلاف ہے۔ واضح ہو کہ شربت کی مروجہ کمپنی کی بنی ہوئی بند بوتلیں جیسے سیون۔اپ، فانٹا وغیرہ ان سے حضور منع نہیں فرماتے تھے البتہ ہاتھ سے جو شربت گلاب صندل وغیرہ بنائے جاتے ہیں اور یہ معلوم نہیں ہوتا کہ بنانے والے کون ہیں، کس قدر احتیاط رکھتے ہیں، ایسے شربت پینے سے منع فرماتے تھے۔

تشریف آوری کی برکت

حاجی محمد حسین صاحب نے بتایا کہ لاڑکانہ میں میں نے ایک نئی جگہ خریدی تھی۔ بدقسمتی سے اس میں پہلے سے جنّ رہتے تھے۔ طرح طرح سے ہمیں پریشان کر رکھا تھا۔ خوش قسمتی سے ان ہی دنوں حضور لاڑکانہ تشریف لائے، میں نے کچھ بتائے بغیر اس نئی جگہ میں قیام کے لئے عرض کی۔ آپ نے اسی مکان میں رات قیام فرمایا، صبح مجھے فرمایا اس مکان میں تو جن رہتے ہیں۔ میں نے کہا جی ہاں رہتے تو ہیں، لیکن حضور کی تشریف آوری کے بعد ہمیں جن کیا کریں گے۔ بفضلہ تعالیٰ ایسا ہی ہوا کہ اس دن نے ہمیں جنوں نے تنگ کرنا چھوڑ دیا۔ (حاجی محمد حسین صاحب)
باوجودیکہ حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ عالم فاضل تھے، مگر چونکہ مروجہ طریقے کے مطابق تکمیل کرکے دستاربندی نہیں کی تھی اس لئے اپنے علم پر نازاں سجاول (ٹھٹھہ) کے ایک عالم دین جو آپ کی شخصیت اور دینی خدمات سے متاثر ہوتے ہوئے بھی بیعت ہونے سے ہچکچاتا تھا، جب حضور کی خدمت میں طاہر آباد شریف آیا بقول اس کے جو جو اعتراضات میرے دل میں تھے، بن پوچھے حضور نے تمام کے تسلی بخش جواب دیئے۔ خاص کر جب حضرت خواجہ نظام الدین رحمۃ اللہ علیہ درس نظامی کی بیعت کا واقعہ بیان فرمایا کہ وہ حضرت عبدالرزاق بانسوی رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت تھے جو ظاہری طور پر تو پورا قرآن شریف بھی پڑھے ہوئے نہ تھے مگر ضروری دینی مسائل سے پوری طرح باخبر عامل اور صاحب تقویٰ بزرگ تھے۔ آپ کے ان ارشادات عالیہ سے میرا سابقہ وہم بھی دور ہوگیا اور عقیدت میں بھی اضافہ ہوا۔ بالآخر حضور سے ذکر سیکھ کر بڑی عقیدت اور محبت سے رخصت ہوا۔ (مولانا محمد عظیم صاحب رہڑو شریف)

محترم عبدالغفار شر صاحب نے بتایا کہ ایک مرتبہ میں حاجی فیض محمد صاحب کے گوٹھ (نزد میرپور خاص) سے حضور کی خدمت میں طاہر آباد شریف نزد ٹنڈو الہیار حاضر ہوا، مصافحہ کیا ہی تھا کہ حضور نے پوچھا گھر کب جاؤ گے۔ میں نے کہا گھر سے آئے ابھی چند ہی دن ہوئے ہیں، فی الحال جانے کا ارادہ نہیں ہے۔ فرمایا نہیں آپ آج ہی چلے جائیں۔ میں نے کہا جی ہاں حضور ابھی جاتا ہوں۔ مزید سبب پوچھنے کی جرات بھی نہ کرسکا۔ سیدھا گھر چلا گیا۔ دیکھا بچہ سخت بیمار ہے، اسے شام کے وقت ہسپتال بھی لے گیا مگر وہ اسی رات فوت ہوگیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ بعد میں سمجھا کہ حضور نے من جانب اللہ کشف سے معلوم کرکے مجھے گھر جانے کا حکم فرمایا تھا۔

کشف قبور (قبر والوں کے حالات معلوم کرنا)

جس طرح اللہ تعالیٰ بعض اوقات اپنے مقرب بندوں انبیاء کرام علیہم السلام اور اولیاء اللہ کو لوگوں کے دلوں کے احوال بتاتا ہے اور ظاہری اسباب سے معلوم نہ ہونے کے باوجود کئی ایسے معاملات و مسائل کی خبر دیتا ہے جن کا عام لوگوں کو علم نہیں ہوتا۔ اسی طرح بعض اوقات ان مقربین کو قبر والوں کے حالات سے بھی مطلع فرما دیتا ہے۔ چنانچہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا قبر والوں کے متعلق یہ بتانا کہ فلاں صاحب قبر کو اس لئے عذاب ہورہا ہے کہ وہ پیشاب کے چھینٹوں سے اپنے آپ کو نہیں بچاتا تھا، اور فلان قبر والا چغل خوری کرتا تھا اسی لئے عذاب میں مبتلا ہے، پھر ان قبروں پر کھجور کی شاخیں گاڑ دینا ہی کشف قبور کے ثبوت کے لئے کافی دلیل ہے۔ اس کے علاوہ سینکڑوں ماسلف بزرگان دین کا بھی قبر والوں کے حالات معلوم کرکے بتانا ثابت ہے۔

آپ کا کشف

اگرچہ ولایت و فقیری کے لئے کشف قبور ہونا کوئی اہم یا ضروری چیز نہیں ہے، پھر بھی کئی بزرگان دین کی طرح حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کو بھی کئی صالح قبر والوں کے حالات معلوم ہوئے، ان کی طرف سے قابل ذکر ارشادات و ہدایات بھی ملیں جن کا مختصر تذکرہ بھی پیش کیا جائے گا۔

محترم مولانا بخش علی صاحب (حیدرآباد) نے بتایا کہ ایک مرتبہ حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ بستی عباس کوندر تبلیغ کے سلسلے میں تشریف لے گئے تھے، میں بھی آپ کے ساتھ تھا۔ پھر وہاں سے محترم قاضی دین محمد صاحب کی دعوت پر خانواہن جانا تھا۔ صبح کو قاضی صاحب موصوف لینے کے لئے حاضر ہوئے۔ جاتے وقت حضور نے ان سے فرمایا کہ فقیر شیر محمد (جن کا قریب میں وصال ہوچکا تھا) بڑا صالح نیک شخص تھا، لہٰذا اس کے مزار پر چل کر ختم بخشنے کے بعد آگے چلیں گے۔ جب مزار پر پہنچے، حضور کے ساتھ میں بھی ختم شریف پڑھنے لگ گیا، مگر قاضی صاحب لکڑیاں جمع کرنے لگے۔ ہم ختم شریف پڑھ کر باہر آئے تو قاضی صاحب بھی آملے۔ حضور نے ان کو فرمایا آپ کے دوست فقیر شیر محمد صاحب آپ کے لئے بڑے افسوس کا اظہار کررہے تھے کہ اس وقت جب دوسرے دوست میرے پاس آئے قاضی صاحب کو بھی آنا چاہیے تھا مگر وہ میرے پاس آنے کی بجائے لکڑیاں جمع کرنے میں لگ گئے۔

میاں نذیر احمد شیخ نہایت صالح نوجوان فقیر تھا، جب ان کی وفات ہوگئی اور ان کو قبرستان لے گئے اکثر فقراء ساتھ تھے۔ لحد میں اتارے جانے کے بعد ایک فقیر مراقب ہوا۔ مراقبے میں نذیر احمد متحیر نظر آئے اور اسی وقت پھر حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ تسلی دیتے ہوئے نظر آئے جس کے بعد وہ خوش اور پرسکون نظر آئے، ساتھ ہی ان کے ہاتھ میں انگور کا ایک گچھہ بھی نظر آیا۔ (حاجی محمد حسین صاحب شیخ)

ان ہی حاجی محمد حسین صاحب نے بتایا کہ میرے والدین کی قبریں ایک دوسرے کے ساتھ ہیں۔ عمومًا میں والد صاحب کے مزار کے قریب بیٹھ کر ختم شریف کا ثواب دونوں کو ایصال کیا کرتا تھا۔ ایک مرتبہ جیسے ہی والد صاحب کے مزار کے پاس جا بیٹھا والدہ صاحبہ کی ندا سننے میں آئی کہ کیا میں نے تجھے دودھ نہیں پلایا، میرے پاس آکر کیوں نہیں بیٹھتا۔ اس کے بعد جب بھی قبرستان جاتا ہوں والدہ صاحبہ کے مزار پر بھی کچھ دیر بیٹھ کر ختم شریف بخش کر واپس جاتا ہوں۔