فہرست
سیرت ولی کامل (حصہ دوم)

باب اول

محبت اور کشش


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ

مَنۡ ذَکَرَ اللہَ اَحَبَّہُ اللہُ (کنز العمال ص۱۱۵ ج۳)

یعنی جو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے اسے اللہ تعالیٰ دوست رکھتا ہے۔ بفضلہ تعالیٰ حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ صرف ذاکر ہی نہیں بلکہ ”اَولِیَاءَ اللہِ اِذَا رَؤُوۡا ذُکِرَ اللہُ“ (خدا کے ولی وہ ہیں جن کو دیکھتے خدا یاد آجائے) کے تحت اولیاء کاملین کے زمرہ میں شامل تھے۔ گو آپ شہرت و نامداری کے مطلق خواہاں نہ تھے مگر ارشاد رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو اپنا محبوب بنالیتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام سے فرماتا ہے: میں فلاں شخص کو محبوب رکھتا ہوں تو بھی اس سے محبت رکھ۔ پس جبرئیل امین علیہ السلام اس سے محبت کرنے لگتا ہے۔ اس کے بعد آسمان والوں میں یہ اعلان عام فرما دیتا ہے کہ بلاشبہ فلاں شخص کو اللہ تعالیٰ دوست رکھتا ہے تم بھی اسے دوست رکھو۔ پس آسمان والے اسے دوست رکھتے ہیں۔ اور اس کے بعد زمین میں سے اس کے لئے مقبولیت کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ اور زمین والے بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ (صحیح بخاری و تفسیر مظہری ص ۱۲۲ جلد ۶) کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ازخود لوگوں کے دلوں میں آپ کی محبت، عقیدت اور مقبولیت عامہ عطا فرمائی تھی۔ عمومًا آپ کی مجلس میں جو بھی ایک بار عقیدت و محبت سے حاضر ہوتا وہ آپ کی محبت، خلوص اور للٰہیت سے متاثر ہوکر حلقہ عقیدت میں شامل ہوجاتا، اور آمدورفت کا سلسلہ جاری رکھتا۔ قریب رہنے والے تو جلدی جلدی حاضر ہوتے ہی تھے مگر دور رہنے والے بھی زیادہ دیر آپ کی صحبت سے دور نہیں رہ سکتے تھے۔ یہاں تک کہ صوفی ثناء اللہ صاحب (بنوں صوبہ سرحد) جن کے ہر ہفتے دو چار خط حضور کی خدمت میں پہنچتے تھے اور خود بھی وقفے وقفے سے حاضر خدمت ہوتے تھے، ایک بار خط میں لکھا کہ یہاں دل نہیں لگتا۔ جی چاہتا ہے کہ ہر ہفتہ حضور کی خدمت میں حاضر ہوتا رہوں۔ میری اس راہ میں معذوری سفر حائل نہیں مگر کیا کروں والدہ صاحبہ ضعیف العمر ہیں، ان کی خدمت آنے سے مانع ہے۔ موصوف کا یہ زبانی دعویٰ نہیں بلکہ دل کی ترجمانی معلوم ہوتی تھی۔

یہی نہیں بلکہ اتفاقیہ طور پر جس کو حضور کے قریب بیٹھنے کی سعادت حاصل ہوئی وہ بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔ ایک مرتبہ ٹنڈوالہیار سے کراچی جاتے ہوئے ہم صرف تین چار آدمی ہی حضور کے ساتھ تھے۔ میرپور خاص سے جب ٹرین ٹنڈوالہیار پہنچی تو کھچاکھچ بھری ہوئی تھی۔ بمشکل حضور کے بیٹھنے کے لئے ایک سیٹ ملی۔ جب ٹرین حیدرآباد میں رکی اور حضور دوسرے ڈبے میں تشریف لے گئے تو ایک شخص جو حضور کے سامنے بیٹھا ہوا تھا، پوچھنے لگا: یہ کون بزرگ تھے؟ کہاں جا رہے ہیں؟ وغیرہ۔ میرے بتانے پر کہا واقعی یہ کامل بزرگ ہیں۔ دراصل جیسے ہی یہ بزرگ (حضور سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ) میرے سامنے والی سیٹ پر بیٹھے، میں یہ محسوس کرنے لگا کہ آپ کی طرف سے کوئی چیز میرے سینے میں داخل ہورہی ہے۔ حیدرآباد تک یہی کیفیت رہی، جس سے میں ازخود سمجھا کہ واقعی یہ اللہ تعالیٰ کے ولی ہیں۔

کس قیامت کی کشش اس جذبہ کامل میں ہے
تیر ان کے ہاتھ میں پیکاں ہمارے دل میں ہے

بورے والہ پنجاب کے محترم حاجی فقیر محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ سے اپنی بیعت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ میں بادشاہی مسجد لاہور میں تبرکات عالیہ کی زیارت کرنے گیا تھا۔ زیارت کے بعد جیسے ہی مسجد شریف میں داخل ہوا، عمامہ باندھے ہوئے چند نیک صورت بزرگ بیٹھے نظر آئے۔ ان میں ایک نورانی چہرہ والے بزرگ کو دیکھتے ہی دل میں اتنی کشش اور محبت پیدا ہوئی کہ جاکر مصافحہ کیا، دعا کرائی۔ اس وقت تک میں نے داڑھی بھی نہیں رکھی تھی۔ آپ نے مجھے مختصر نصیحت فرمائی اور ذکر کا طریقہ سمجھایا۔ مجھے بڑا ہی سکون محسوس ہوا۔ یوں محسوس کررہا تھا کہ میرے دل میں کوئی چیز بھری جارہی ہے۔ بہرحال میں آپ سے رخصت ہوکر گھر آیا۔ ازخود نیکی کا شوق اور گناہوں سے اس قدر نفرت پیدا ہوئی کہ میں حیران تھا۔ میری حیرانگی اور پریشانی اس وقت اور بھی زیادہ ہوئی جب دل چاہا کہ بزرگوں کی دوبارہ جاکر زیارت کروں، نصیحت سنوں۔ مگر میں نے ان سے نام اور پتہ تک نہیں پوچھا تھا۔ محلہ کے امام سے جو پیروں فقیروں کو مانتے ہی نہیں تھے، جب میں نے اپنا پورا واقعہ بیان کیا تو حیران ہوکر کہنے لگے یہ تو طریقہ عالیہ نقشبندیہ کے کامل بزرگ معلوم ہوتے ہیں۔ ایسا شخص رسمی پیر نہیں ہوسکتا۔ یہ کامل اور سچا بزرگ ہے۔ ایسے شخص سے غیر متوقع طور پر بزرگ کی تعریف سن کر اور بھی عقیدت میں اضافہ ہوا۔ لاہور چلا گیا، بڑی تلاش کی مگر کوئی پتہ نہ چلا۔ آخر کافی عرصہ پوچھ گچھ کے بعد پورا پتہ ملا اور اللہ آباد شریف حاضر ہوا۔ یہ بزرگ میرے پیر و مرشد حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ تھے جن کے صدقے میں میں نے داڑھی رکھ لی، بیڑی سگریٹ کی دکان چھوڑدی اور اللہ تعالیٰ نے فریضہ حج کی ادائیگی کی بھی توفیق بخشی۔ الحمد للہ

برادر محترم مولانا امام علی چانڈیو صاحب (حال کراچی) نے بتایا کہ حضور کے بلوچستان کے آخری تبلیغی سفر میں میں ساتھ گیا تھا۔ کراچی سے بلوچستان جاتے ہوئے راستے میں چند افراد جو گاڑیوں پر سوار اور شکل و شباہت میں قبائلی سردار یا رئیس نظر آرہے تھے، گزرتے ہوئے حضور کے نورانی چہرہ کی ایک جھلک دیکھ کر پیچھے چلے آئے۔ رکنے پر مصافحہ کیا اور بتایا کہ آپ کو (حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ) دیکھتے ہی دل میں اس قدر کشش پیدا ہوئی کہ زیارت و ملاقات کے بغیر آگے جانے کو دل ہی نہیں چاہ رہا تھا۔ اس لئے حاضر ہوئے ہیں۔ بہرحال وہ بیعت ہوئے، حضور نے مختصر نصیحت فرمائی، اس کے بعد رخصت ہوکر چلے گئے۔

یَزِیۡدُکَ وَجۡھَہٗ حُسۡنًا اِذَا مَا زِدۡتَّہٗ نَظۡرًا

(جس قدر زیادہ آپ اسے دیکھیں گے اسی قدر ان کے چہرہ کا حسن بھی تجھے زیادہ نظر آئےگا) کے مطابق جو حضور کی خدمت میں جتنا زیادہ حاضر رہتا آپ کی نورانیت میں اتنا ہی اضافہ محسوس کرتا اور آپ سے عقیدت و محبت میں بھی بے اختیار اضافہ ہی ہوتا چلا جاتا۔ بقول محترم جناب حاجی محمد سلام صاحب وزیر (کسٹم آفیسر بنوں صوبہ سرحد) حضور کے چہرہ انور کی کشش اور نورانیت تو ہر بار غیر معمولی محسوس ہوتی تھی، مگر آخری بار جب ۹ نومبر ۱۹۸۳ء کو میں اور حاجی رسول زمان صاحب حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے تو مجھے پہلے سے کہیں زیادہ حضور کے چہرہ مبارک کی نورانیت دکھائی دی۔ جیسے ہی واپس بنوں پہنچا تو تمام فقراء کو بلایا اور اپنے گھر بھی بتایا کہ اس بار حضور کے فیوض و برکات، انوار و تجلیات اس قدر زیادہ نظر آئے کہ میں بیان نہیں کرسکتا۔ یہی تاثر حاجی رسول زمان صاحب بھی لے کر گئے اور اپنے ملنے والوں کو بتاتے بھی رہے۔

قابل ذکر ایک واقعہ

محترم مولانا خدا بخش صاحب (سائٹ کراچی) نے بتایا کہ ایک مرتبہ میں کسی کام سے ڈاکٹر فضلی صاحب کے پاس گیا تھا۔ واپسی پر جیسے ہی بس آرام باغ کے قریب پہنچی، اچانک دل میں خیال آیا کہ آرام باغ کی مسجد میں جاکر پانی پیؤں اور تھوڑی دیر تک آرام بھی کرلوں۔ حالانکہ یہ میرے آرام کرنے کا وقت بھی نہیں تھا اور میں نے کرایہ بھی مہاجر کیمپ تک کا دیا تھا۔ بہرحال مسجد شریف میں پہنچ کر میری حیرانی کی انتہا ہوگئی کہ حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ تن تنہا چہرہ مبارک پر ہاتھ رکھے ہوئے فرش مسجد پر لیٹے ہوئے ہیں۔ میں حضور کے سامنے کی جانب باادب بیٹھ گیا۔ تھوڑی ہی دیر بعد میری طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے حیرانی کے عالم میں فرمایا: آپ کیسے آئے، آپ کو کس نے بتایا؟ میں نے مذکورہ واقعہ تفصیل سے بتایا، اس کے بعد آپ نے ازخود میری حیرانی کو (کہ کراچی میں حضور کے ہزاروں مریدین موجود ہیں، معلوم نہیں کیوں حضور کسی کے پاس تشریف نہیں لے گئے) رفع کرتے ہوئے فرمایا یہ عاجز علاج کے سلسلے میں کراچی آیا ہے۔ حاجی گل حسن صاحب میرے ساتھ تھے، ابھی کام سے گئے ہیں۔ کراچی کے کسی فقیر کے پاس اس لئے نہیں گئے تاکہ عام جماعت کو پتہ نہ چلے اور میری وجہ سے کسی قسم کا تکلف نہ کریں۔

بہرحال جب حضور ڈاکٹر عبدالحمید صاحب (حضور کے دوست اور مخلص معالج) کے پاس جانے کے لئے اٹھے تو اپنے ایک دست مبارک میں سامان کی ٹوکری لے لی۔ اور سردہ جو ڈاکٹر صاحب کے لئے لے جارہے تھے وہ بغل میں دبایا اور نعلین دوسرے ہاتھ میں لے لئے۔ میں نے ازحد منت سماجت کی کہ حضور سامان مجھے دیدیں، میں لے چلتا ہوں، نہیں تو کم از کم نعلین مبارک تو مجھے دیدیں۔ میرے انتہائی اصرار کے باوجود فرمایا: یہ میرا ذاتی کام ہے، آپ کا اس سے کوئی واسطہ نہیں۔ جو بات کہیں مانیں۔ میں خاموش ہوگیا۔ حضور اپنا سارا سامان خود ہی اٹھائے لے جارہے تھے۔ میں ازحد شرم محسوس کرتے ہوئے حضور کے پیچھے چلا۔ ڈاکٹر صاحب اٹھ کر باادب ملے۔ وہاں سے فارغ ہوکر میرے اصرار پر حاجی گل حسن صاحب کے پاس جہاں حضور قیام فرما تھے ساتھ لے گئے۔ چار دن تک وہاں قیام فرمایا، مگر کراچی کے فقراء کو محض اس لئے اطلاع نہ دی گئی کہ آمدورفت کی ان کو تکلیف ہوگی۔