| فہرست |
سیرت ولی کامل (حصہ دوم) |
باب اولصوبہ بلوچستان کا تبلیغی سفر
حضور کے پیارے مجاہد خلیفہ مولانا فضل محمد رحمۃ اللہ علیہ صوبہ بلوچستان کے شہروں اور دیہاتوں میں عرصہ دراز سے مثالی تبلیغی خدمات انجام دے رہے تھے۔ چونکہ وہاں کے عوام الناس سفر کی دوری اور غربت کی وجہ سے زیادہ تعداد میں حضور کی خدمت میں سندھ نہیں آسکتے تھے، اس لئے انہوں نے حضور سے عرض کی کہ وہاں تشریف لے چلیں تاکہ زیادہ سے زیادہ آدمی مستفیض ہوسکیں، چنانچہ حضور نور اللہ مرقدہ نے فقراء و خلفاء کی معیت میں بلوچستان کا تبلیغی دورہ منظور فرمایا۔ اس تبلیغی دورہ میں آپ مختلف مقامات پر تشریف لے گئے مگر مرکزی حیثیت سے مستونگ کے قریب شمس آباد میں قیام فرما رہے، جہاں کے فقیر محترم محمد امین صاحب ازحد صالح مخلص اور بہت سی زبانوں کے ماہر حضور کے خادم و مریدین میں سے ہیں۔ انہوں نے یہاں تک گذارش اور کوشش کی کہ حضور یہاں اپنا مستقل مرکز قائم فرماویں، فقراء کے علاوہ مدرسہ کے طلبہ اور اساتذہ کو بھی ہر سال یہاں لے آئیں۔ حضور کی کرامتقلات کے دیہی علاقے نہایت سرسبز و شاداب، چشموں کا سرد اور میٹھا پانی، عمدہ قسم کے دلفریب باغات اور عوام سیدھے سادے، دینداروں سے محبت رکھنے والے ازحد مخلص تھے۔ محترم حاجی امام بخش صاحب جو خان آف قلات کے ملازم خاص رہ چکے تھے، بڑے ہوشیار اور باتونی قسم کے آدمی تھے، جب حضور تبلیغی سلسلے میں ان کی بستی تشریف لے گئے، کافی لوگ حضور سے بیعت ہوئے، دوسرے دن حاجی صاحب مذکور نے حضور کی دو کرامات بیان کیں جو درج ذیل ہیں۔ ۱۔ رات آسمان سے لیکر حضور کی قیام گاہ تک مجھے نور کی روشنی نظر آئی۔ یقین نہ آنے پر مکان کی چھت پر چڑھ کر دیکھا، پھر اہل خانہ کو اٹھاکر دکھایا، انہوں نے بھی تصدیق کی۔ ۲۔ رات مجھے کھیتوں کو پانی دینا تھا مگر حضور کی خدمت میں ہونے کی وجہ سے نہ جاسکا، صبح معلوم ہوا کہ رات پانی آگیا تھا اور میرے نہ جانے کے باوجود کھیت سیراب ہوچکے تھے۔ حضور کی یہ کرامت دیکھ کر حاجی صاحب پر گریہ طاری تھا، اور بار بار کہہ رہا تھا ”آج تو حضرت صاحب نے مجھے ذبح کردیا ہے کہ زیادہ بول ہی نہیں سکتا“۔ چونکہ بلوچستان کے دیہی عوام سندھی یا اردو کم ہی سمجھتے تھے اس لئے حضور کی خصوصی ترغیب پر سندھ سے بلوچ اور بروہی فقراء بھی وفد میں شامل ہوئے، تاکہ مقامی زبان میں لوگوں کو دعوت دے سکیں۔ جتنے دن حضور شمس آباد میں مقیم رہے، فقراء و خلفاء قریہ قریہ بستی بستی جاکر خانہ بدوش بلوچوں اور بروہیوں کو دعوت دے کر حضور کی خدمت میں لاتے رہے۔ شمس آباد کے ڈاکٹر عبداللہ صاحب اور ان کا خاندان مذکورہ علاقہ میں جماعت اسلامی کے سرگرم کارکن تھے، مگر حضور کی نورانی جماعت اور مخلصانہ تبلیغ کا طریقہ کار دیکھ کر حضور سے طریقہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت ہوگئے، تبلیغی سلسلہ میں ازحد تعاون کیا، اپنے متعلقین و احباب کو بھی حضور سے بیعت کرایا۔ ان کی محبت، عملی تعاون اور عرض کرنے پر دوسری اور تیسری بار بھی بلوچستان کے تبلیغی سفر میں شمس آباد ہی مرکز رہا۔ گو بہت سارے بلوچ اور پٹھان حضور کی تقریر نہیں سمجھ رہے تھے تاہم متاثر اس قدر تھے کہ بار بار حضور کی زیارت و ملاقات کے لئے حاضر ہوتے تھے۔ کئی ایسے آدمی حضور کے خطاب سے متاثر ہوکر روتے ہوئے میں نے دیکھے کہ بار بار کہہ رہے تھے مہربانی، شکریہ، الحمدللہ وغیرہ۔ حضور سوہنا سائیں اور آپ کے خلفاء کرام کی محنت و کوشش سے نہ معلوم کتنے ایسے افراد بھی نماز و روزہ کے پابند اور تہجد گزار بن گئے جنہوں نے شاید ہی کبھی پہلے نماز پڑھی ہو۔ قصبہ کلی قاضیان میں بھی بہت سارے آدمی طریقہ عالیہ میں داخل ہوئے، مذکورہ بستی میں بعد از نماز عصر حضور نے سکون قلب اور ذکر اللہ کے موضوع پر مفصل تقریر فرمائی۔ ٹیچرز ٹریننگ کالج مستونگ کے پرنسپل بھی مذکورہ جلسہ میں شامل تھے، وہ اس قدر متاثر ہوئے کہ حضور سے گزارش کی کہ براہ کرم میری دعوت قبول فرمائیں، مجھے امید ہے کہ آپ کی تشریف آوری سے کالج کے اساتذہ اور طلبہ ضرور مستفیض ہوں گے ۔چنانچہ ازراہ شفقت آپ نے دعوت منظور فرمالی اور اگلے دن ٹریننگ کالج مستونگ تشریف لے گئے۔ پرنسپل صاحب نے تمام اساتذہ اور طلبہ کو اکٹھے کیا، سبھی طریقہ عالیہ میں داخل ہوئے، ذکر کا طریقہ سمجھانے کے علاوہ آپ نے مسلمانوں کی موجودہ پست حالی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: آپ حضرات جو کچھ تعلیم حاصل کررہے ہیں شوق سے پڑھیں، محنت کریں، ہمارے مقدس مذہب اسلام میں جس قدر حصول علم کی تاکید کی گئی ہے اتنی تاکید کسی اور مذہب میں نظر نہیں آتی، یہاں تک کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اُطۡلِبُوا الۡعِلۡمَ وَ لَوۡ کَانَ بِالصِّیۡنِ علم حاصل کرو اگرچہ تمہیں چین ہی میں ملے۔ یعنی دور تک کا سفر کرنا پڑے تو بھی علم کی خاطر چلے جاؤ۔ مگر یاد رکھو محض علم پڑھنا مقصد نہیں، پڑھنے سے اصل مقصد اسلام کی سربلندی، ملک و قوم کی ترقی ہونی چاہیے، قوم کے خادم بن کر یہاں سے نکلو، چاہیے کہ تم میں سے صلاح الدین ایوبی اور سلطان محمود غزنوی علیہما الرحمہ جیسے غازی و مجاہد پیدا ہوں۔ آج ملک و قوم کو ان جیسی ہستیوں کی ضرورت ہے، جن کے دم قدم سے اسلام کا بول بالا دنیا بھر میں اسلام کی روشنی پہنچے۔ عام طالبعلم کی حیثیت سے ہٹ کر ایک مسلمان کی حیثیت سے جو تمہاری ذمہ داریاں ہیں ان کو نہ بھلاؤ۔ اساتذہ کا ادب و احترام حصول علم کی راہ میں انتہائی ضروری ہے، ساتھ ہی بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ذکر اللہ کرتے رہنے سے مذکورہ تمام مقاصد کے حصول میں آسانی اور روحانی سکون حاصل ہوتا ہے۔ آخر میں انہوں نے چائے وغیرہ پیش کی، چائے پسند نہ ہونے کے باوجود ان کی دلجوئی کی خاطر تھوڑی سی نوش فرمائی۔ مذکورہ علاقہ میں لوگ ایک دو گھر کی صورت میں اپنی اپنی زمینوں پر رہتے تھے، اس لئے خلفاء کرام ایک دو فرد کے یہاں بھی پہنچ کر تبلیغ کرتے رہے۔ مولانا محمد شریف صاحب تو تبلیغ کے لئے جاتے ہوئے ایک انتہائی بلند پہاڑی سے گرگئے، کافی دور تک پھسلتے چلے گئے، بالآخر ایک بڑے پتھر سے ٹکرا کر رک گئے۔ تاہم تائید الاہی شامل حال رہی، زخم وغیرہ سے بچ گئے، پھر سے آگے تبلیغی سفر جاری رکھا۔ خلفاء کرام کے علاوہ خود حضور سوہنا سائیں قدس سرہ درج ذیل مقامات پر تشریف لے گئے: ۱۔ شہر کوئٹہ سوسائٹی برما ہوٹل وغیرہ، ۲۔ چشمہ بہرام شہی، ۳۔ سیرکی، ۴۔ مشقنہ، ۵۔ پرال ۶۔ مستونگ شہر، ۷۔ بستی فقیر محمد امین، ۸۔ بستی عطا محمد، ۹۔ شمس آباد، ۱۰۔ کلی قاضیان۔ دوسرے اور تیسرے سال جب حضور تشریف لے گئے تو سینکڑوں کی تعداد میں بلوچ حضرات پھولوں کے ہار لئے حضور کے استقبال کے لئے کوئٹہ اسٹیشن پر موجود تھے۔ حضور سوہنا سائیں قدس سرہ کی زندگی کا بلوچستان کی تفصیلی آخری تبلیغی دورہ بھی لسبیلہ، اوتھل، شاہ نورانی کے علاقوں کا ثابت ہوا۔
|