| فہرست |
سیرت ولی کامل (حصہ دوم) |
باب اولتبلیغ کی ضرورت اور طریقۂ کار
مؤرخہ ۱۹ جمادی الاولیٰ ۱۴۰۳ھ بعد نماز عصر تبلیغ کی ضرورت و اہمیت کے متعلق ارشاد فرمایا: یہ خاموش بیٹھے رہنے کا وقت نہیں ہے، الحاد و بے دینی دن بدن بڑھتے چلے جارہے ہیں، دہریت کا دور دورہ ہے، مذہب دشمن تنظیمیں بڑی محنت سے مصروف عمل ہیں، خاص کر ہمارے سندھ میں جیئے سندھ تحریک کھلے عام مذہب اور اہل مذہب کے خلاف کام کر رہی ہے، ان کے علاوہ مذہب کے نام پر بھی کچھ آدمی اہل حق کے خلاف بڑے نظم و ضبط سے کام کر رہے ہیں، غیر مقلدوں کو دیکھو، اہل تشیع کو دیکھو کتنا کام کر رہے ہیں، تو کیا ایسے وقت میں ہم اہل حق بیٹھے رہیں؟ نہیں نہیں، بلکہ یہ کام کا وقت ہے بیٹھنے کا نہیں۔ میرے پیر و مرشد حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ کسی کے گھر کو چاروں طرف سے آگ گھیر لے، مشرق، مغرب، شمال، جنوب سے آگ ہی آگ پھیل جائے، کیا ایسے وقت میں صاحب مکان بیٹھا رہے گا، ہرگز نہیں، بلکہ فورًا اٹھ کھڑا ہوگا، ہر طرح سے آگ بجھانے کی کوشش کرے گا۔ یقین کریں کہ دین اسلام کے لئے آج ایسا نازک وقت آن پہنچا ہے، پھر بھی ہم مسلمان غفلت کی میٹھی نیند سوئے رہیں، یہ ہمیں زیب نہیں دیتا۔ تبلیغ پیار و محبت سے کی جائے، باقی ترش روئی سے کوئی معمولی کام بھی نہیں بنتا۔ بڑی محنت اخلاص اور لگن کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں میرے پیر و مرشد حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ایک سیدھے سادے دیہاتی آدمی نے مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں پیشاب کردیا، بعض صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے روکنا چاہا، مگر حضور رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو فرمایا اسے پیشاب کرنے دو، اگر اسے پیشاب کرتے ہوئے اٹھایا جائے گا تو اس کے بیمار ہونے کا اندیشہ ہے۔ جب پیشاب کرکے فارغ ہوا تو اسے بلاکر نرمی سے فرمایا کہ بھائی یہ جگہ تعظیم کے لائق ہے یہاں اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جاتی ہے، ایسی جگہ پیشاب کرنا اچھی بات نہیں۔ آپ نے ایک گنوار کی صحت کا اس قدر خیال رکھ کر ہمیں تبلیغ کا طریقہ سمجھایا ہے، مگر آج کل ہمارے ملا، مولویوں کا طریقہ ہی کچھ اور ہے۔ چنانچہ نقل ہے کہ ایک شخص نے مسجد میں پیشاب کردیا، مولوی صاحب دیکھ کر بڑے گرم ہوئے، طیش میں آکر اسے برا بھلا کہا کہ تو کوئی بڑا بے حیا اور بے شرم آدمی ہے کہ مسجد میں پیشاب کرنے لگا ہے۔ وہ بھی کوئی سرکش قسم کا آدمی تھا، کہا جی ہاں پیشاب کرتا ہوں، آپ خاموش ہوکر چلے جائیں ورنہ مزید گندگی پھیلاؤں گا۔ مولوی صاحب نے کہا مسجد میں پیشاب کیا ہے، اس سے بڑھ کر اور کیا گندگی پھیلائے گا، جلدی اٹھ۔ اتنے میں اس نے پاخانہ بھی کردیا۔ اس سے مولوی صاحب آپے سے باہر ہوگیا، اور اسے برا بھلا کہا، اس پر کہنے لگا مولوی صاحب پھر بھی آپ کو کہتا ہوں کہ آپ خاموش ہوکر چلے جائیں مجھے تنگ نہ کریں ورنہ اور بھی گندگی پھیلادوں گا۔ مولوی صاحب نے کہا حد ہوگئی، پہلے پیشاب کیا پھر پاخانہ بھی کیا اس سے بڑھ کر اور کونسی غلاظت ہوسکتی ہے۔ مولوی صاحب کے سمجھانے کے اس بے ڈھنگے طریقے کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہاتھ میں پاخانہ لیکر مسجد میں بھی ادھر ادھر پھیلا دیا اور مولوی صاحب کو بھی لگایا۔ اس قسم کی تبلیغ میں بجائے فائدہ کے نقصان ہی حاصل ہوتا ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ جو گداگر فقیر کسی کے دروازہ پر بھیک مانگنے جاتے ہیں تو وہ اماں، جیجاں کہہ کر بڑے اخلاق سے مانگتے ہیں، ان کو بھیک ملتی ہے۔ لیکن ایک اناڑی سائل نے جب اماں کی بجائے میرے باپ کی بیوی کہہ کر پکارا تو اسے مار کھانی پڑی۔ حالانکہ اماں کے معنی اور میرے باپ کی بیوی کے معانی ایک جیسے ہی ہیں، مگر موقع و محل کے مطابق استعمال کرنے کے طریقہ کا فرق ہے۔ اسی طرح اگر آپ کسی کو اے داڑھی مونڈھ اے بے نمازی کہہ کر کچھ سمجھانا چاہیں گے تو وہ بجائے اس کے کہ آپ کی نصیحت سے اثر قبول کرتا الٹا آپ کی مخالفت کرے گا۔
|