فہرست
سیرت ولی کامل (حصہ دوم)

باب اول

تبلیغی سرگرمیاں

 

آپ تبلیغ و اشاعت اسلام کے لئے ہمہ وقت مستعد و متفکر رہتے تھے اور نت نئی تجاویز سوچتے رہتے تھے۔ جب بھی کوئی ایسی بات ذہن میں آجاتی، کسی کاپی، کاغذ کے ٹکڑے، یا لفافہ کی پشت پر لکھ لیتے تھے اور وقتًا فوقتًا خلفاء کرام کے سامنے پیش کرکے فرماتے کہ یہ ہیں تو ہمارے شیخ چلی کی طرح کے خیالی پلاؤ، مگر اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے، ہوسکتا ہے کہ ہمیں ان تجاویز پر عمل کرنے کی توفیق بخشے اور ہمیں عملی جامہ پہنانے کی سعادت سے نوازے، اور نہیں تو کم از کم اس درویش کی طرح ہمارے نامہ اعمال میں اس سوچ بچار کا ثواب لکھا جائے تو بھی غنیمت ہے، جو دنیا میں ریت کے ڈھیر دیکھ کر یہ تمنا کرتا تھا کہ کاش یہ اناج اور شکر، چینی کے ڈھیر بن کر میری مِلک ہوجائیں اور میں غریبوں، مسکینوں کو بلا بلاکر دیتا رہوں۔ اگرچہ اس نے اتنی خیرات و صدقات نہیں کئے ہوتے، مگر قیامت کے دن اس کے نامہ اعمال میں ریت کے ڈھیر کے برابر ثواب لکھا ہوگا۔ وہ حیران ہوکر پوچھے گا کہ الٰہ العالمین میں نے تو اتنے اعمال نہیں کئے، جواب ملے گا واقعی ظاہری طور پر تو تونے اتنے صدقات خیرات نہیں کئے تھے مگر چونکہ تونے صدق دل سے یہ ارادہ کرلیا تھا، اس لئے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے تجھے ان کا ثواب مل رہا ہے۔

بعض اوقات فرماتے تھے کہ حضرت سیدنا امیر المؤمنین عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق مروی ہے کہ آپ نے فرمایا ہے کہ بعض اوقات میں نماز میں بھی جہاد کی تدبیریں سوچتا رہتا ہوں۔ اسی طرح کبھی کبھی اس عاجز کو بھی بے اختیار نماز میں تبلیغ دین کے خیالات آتے ہیں کہ کس طرح اشاعت اسلام کی جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ نے دینی دعوت کے سلسلے میں جو کچھ سوچا، اسے عملی جامہ بھی پہنایا۔ ملک کے طول و عرض میں شہروں سے لیکر گاؤں صحراؤں، کھیتوں کھلیانوں تک، تھرپارکر کے ریگستانوں سے کھیرتھر اور بلوچستان کے کوہستانوں تک، کراچی سندھ سے لیکر ایک طرف بنوں (سرحد) تک دوسری طرف کوئٹہ اور مستونگ (بلوچستان) تیسری طرف سیالکوٹ اور چک امرد (پنجاب پاک بھارت سرحد پر واقع ہے) بذات خود تبلیغی سفر کئے۔

مَنۡ یَھۡتَدِیۡ فِی الۡفِعۡلِ مَا لَا یُھۡتَدیٰ
فِی الۡقَوۡلِ حَتّیٰ یَفۡعَلَ الشُّعَرَآءُ

عمر رسیدہ ہونے کے باوجود راہ حق میں اس قدر کاوشیں کرنا آپ ہی کا حصہ تھا۔ اس راہ میں آپ کو کبھی پریشان اور دل برداشتہ ہوتے نہیں دیکھا گیا، بلکہ ہر قدم پر یک گونہ راحت اور قلبی اطمینان و سکون محسوس کرتے تھے۔ اتفاقًا اگر پروگرام طے ہونے کے بعد یا درمیان سفر میں آپ کی صحبت خراب ہوجاتی اور خادمین پروگرام منسوخ کرنے کی تجویز پیش کرتے تو بھی حتی المقدور یہ کہہ کر پروگرام بحال رکھتے کہ نہ معلوم یہ زندگی کہاں تک وفا کرے، یہ جو چار روزہ زندگی عطا ہوئی ہے اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ ایسے مواقع پر عمومًا اپنے مرشد کامل حضرت پیر فضل علی قریشی قدس سرہ کے آخری تبلیغی سفر کا حوالہ دیتے تھے جب آپ کی موجودگی میں حضرت قریشی علیہ الرحمہ کو سہارا دے کر گاڑی میں بٹھایا گیا تھا، پھر بھی جالندھر تک کا تبلیغی سفر کیا تھا۔ البتہ اگر مرض میں زیادتی کا قوی اندیشہ ہوتا اور ڈاکٹر صاحبان سفر کو نقصان دہ قرار دیتے تو اس صورت میں متعلقہ خلیفہ اور علماء کرام کو پروگرام کے تحت جلسہ کرنے کا حکم فرماکر خود مجبورًا رک جاتے۔ صوبہ سندھ کا تو شاید ہی کوئی ایسا قابل ذکر مقام ہو جہاں حضور تبلیغی سلسلے میں تشریف نہیں لے گئے ہوں، صرف محترم مولانا جان محمد صاحب نے احقر مرتب کو سوا سو سے زائد مقامات کی فہرست دکھائی جہاں مولانا موصوف حضور کے رفیق سفر رہے تھے۔

بزرگوں کے مزارات پر حاضری

حضور سیدی و مرشدی سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ وقتًا فوقتًا مشائخ طریقت کے ایصال ثواب اور استفاضہ کے لئے ان کے مزارات مقدسہ پر حاضر ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ بھی اگر کسی ایسے شہر یا مقام پر مدعو ہوتے جہاں کوئی اللہ والا آرام فرما ہوتا تو اس کی زیارت اور ایصال ثواب کے لئے مزار شریف پر حاضر ہوتے تھے اور پہلے سے ہم سفر خادمین کو تاکید فرماتے تھے کہ مزار شریف کے قرب و جوار میں میرا کسی طرح کا اختیاری ادب و احترام نہ کرنا، میں خود خادم اور سائل بن کر ان کے حضور جارہا ہوں۔ عمومًا ایک ڈیڑھ گز کے فاصلہ پر بیٹھ کر ختم شریف پڑھتے اور بعض مزارات پر ایصال ثواب کے بعد کافی دیر تک مراقبہ بھی کرتے تھے اور بعض اوقات آپ پر گریہ وجد و جذب کی حالت بھی طاری ہوجاتی تھی۔ بعض مشائخ کے اسماء مبارکہ جن کے مزارات پر حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ ایک یا زائد بار حاضر ہوتے رہے۔

  1. آپ کے پیر و مرشد حضرت قبلہ پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ، لاڑکانہ۔
  2. مرشد اول حضرت قبلہ پیر فضل علی قریشی رحمۃ اللہ علیہ، مسکین پور شریف ضلع مظفرگڑھ
  3. حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری قدس سرہ، لاہور
  4. حضرت خواجہ محمد طاہر بندگی قدس سرہ، لاہور
  5. حضرت سید عبداللطیف بھٹائی رحمۃ اللہ علیہ، بھٹ شاہ، ضلع حیدرآباد
  6. حضرت غوث بہاء الحق ذکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ، ملتان شریف
  7. حضرت رکن الدین رکن عالم رحمۃ اللہ علیہ، ملتان شریف
  8. حضرت شاہ محمد سلیمان چشتی و حضرت خواجہ اللہ بخش چشتی و دیگر مشائخ تونسہ شریف قدس اللہ اسرارھم العالیہ
  9. حضرت شیخ عبدالرحیم گرھوڑی رحمۃ اللہ علیہ، ضلع سانگھڑ
  10. حضرت عارف شہید رحمۃ اللہ علیہ نزد فقیرپور شریف
  11. حضرت قبلہ شیر محمد شرقپوری رحمۃ اللہ علیہ
  12. حضرت قلندر لعل شہباز عثمان مروندی قدس سرہ، سیہون شریف
  13. حضرت غوث مخدوم محمد نوح رحمۃ اللہ علیہ، ہالا ضلع حیدرآباد
  14. حضرت شیخ بھرکیو آچاری رحمۃ اللہ علیہ
  15. حضرت پیر شیر محمد عرف پیر متارو نزد نوڈیرو ضلع لاڑکانہ

آپ کو خلفاء کرام میں سے سب سے زیادہ عزیز وہی ہوتا تھا جو دعوت و تبلیغ کا زیادہ کام کرتا۔ دوران خطاب ایسے خوش نصیبوں کے نام لیکر دعائیں دیتے، بلکہ ان کے وسیلہ سے اپنے اور حاضرین مجلس کے لئے بھی دعا فرماتے تھے۔ خلفاء کرام کو فرمایا کرتے تھے کہ تبلیغ کے لئے یہ انتظار نہ کرو کہ آدمی دعوت دیکر اپنے یہاں لے جائیں، کرایہ دیں، یا جہاں پہلے سے واقفیت ہو وہاں جایا جائے، بلکہ تعارف کے بغیر للہ فی اللہ نکل جائیں اور جگہ جگہ تبلیغ کریں، نیز اپنے تبلیغی کام کو مساجد تک محدود نہ رکھیں بلکہ سرعام بازاروں، چوراہوں، بس اسٹاپوں، ریلوے اسٹیشنوں، پلیٹ فارموں، بلکہ ٹرین کے ڈبوں اور بسوں میں جاکر دعوت کا کام کریں۔ اگر کوئی دوسرا ساتھی شامل ہوجائے تو بہتر ہے، تہمارے لئے دل جمعی اور اس کے لئے تربیت کا فائدہ ہوگا۔ ایسے ساتھیوں کو دینی مسائل سکھانا، تقریر و تبلیغ سے واقف کرنا خلیفہ صاحب کی ذمہ داری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے طویل تبلیغی سفروں میں جو فقراء شامل ہوتے تھے صبح و شام ان کی علمی عملی اور اخلاقی تربیت ہوتی تھی۔

فرماتے تھے کہ مبلغ کے لئے ضروری ہے کہ تنگ نظر یا محدود ذہنیت کا نہ ہو بلکہ ہر قسم کے افراد جن سے تبلیغ میں عمومًا واسطہ پڑتا ہے، اس کے مزاج کے مطابق کلام کرے، پیار سے سمجھائے، انشاء اللہ تعالیٰ تمہارے حسن اخلاق سے متاثر ہوکر وہ ضرور فائدہ حاصل کریں گے۔ خدا نخواستہ اگر کوئی بھی نہ مانے تو اس کو منوانا تو تمہارے ذمہ نہیں ہے۔ چنانچہ ایک مرتبہ محترم مولانا خیر محمد کان نے حضور کی خدمت میں خط لکھا کہ ایک مرتبہ سُگھڑ (سندھی ثقافت کے گجھارت، پرولی، ڈور بیت بازی وغیرہ جاننے والے) حضرات کی محفل میں چلا گیا۔ چونکہ میں پہلے سے ان کے فن سے پوری طرح باخبر تھا میں بھی ان کے ساتھ شامل ہوگیا اور آخر میں ان پر غالب بھی آگیا، نتیجۃً وہ مجھے داد دینے لگے۔ میں نے موقعہ غنیمت جان کر ان کو نماز وغیرہ کی تبلیغ کی، وہ بڑے متاثر ہوئے۔ جب حضور کے دربار کا نقشہ اور فیوض و برکات کے متعلق سنایا تو کہنے لگے ایسے بزرگوں کی صحبت میں ہم بھی چلیں گے۔ ان کا مذکورہ خط سن کر حضور بڑے خوش ہوئے اور فرمایا مولوی صاحب ہرفن مولا مبلغ ہے، اس کی حسن تدبیر ہی کا نتیجہ ہے کہ ایسے آدمی متوجہ ہوئے، اگر یہ ہم جنس ہوئے بغیر عام واعظوں کی طرح تبلیغ کرتے تو اتنے اثرات نہ ہوتے۔ واضح رہے کہ مذکورہ مولوی صاحب کی تبلیغ سے چند ایک سُگھڑ (بیت بازی جاننے والے) حضرات نیک صالح اور حضور کے پکے غلام بن گئے۔ مبلغین پر حضور کی خصوصی نظر کرم اور شفقت تھی کہ ظاہری طور پر بھی مبلغین کو ہر جگہ کامیابی ہی حاصل ہوئی۔ ہزاروں بے نمازی فاسق و فاجر اور ظالم لوگ ان کے وعظ و نصیحت سے تائب ہوکر خائف خدا بنے، اور روحانی و باطنی مدارج میں بھی نمایاں ترقی ہوتی رہی۔ بیداری میں اور خوابوں میں مقبولیت کے آثار اور بشارتیں بھی ملتی رہیں، حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام و اہل بیت عظام و ماسلف بزرگان طریقت رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی زیارتیں ہوتی رہیں۔ اس قسم کے چند واقعات اور تبلیغی خطوط درج ذیل ہیں۔

جہنم سے رہائی

نوڈیرو ضلع لاڑکانہ سے حضور کے پیارے خلیفہ مولانا حاجی محمد عیسیٰ صاحب لکھتے ہیں: پیر کی رات رمضان المبارک میں سحری کھاکر میں جیسے ہی سوگیا، خواب میں حضور قبلہ سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ تشریف فرما نظر آئے۔ تھوڑی دیر بیٹھنے کے بعد تمام جماعت کو چلنے کا حکم فرمایا۔ میں، مولانا عبدالرحیم صاحب اور بھی کافی احباب آپ کے پیچھے جارہے تھے۔ سامنے ایک بہت بڑا تالاب نظر آیا جہاں حضور رک گئے۔ تالاب کا پانی نہایت غلیظ اور بدبودار تھا اور اس میں مچھلی پکڑنے کا ایک بہت بڑا جال تھا، جال میں کافی رسیاں بندھی ہوئی تھیں۔ آپ نے فرمایا رسیوں کو پکڑ کر کھینچو، جب ہم نے کھینچ کر جال کو باہر نکالا تو اس میں مچھلی کی مانند بعض چیزیں نظر آئیں، جن کو پوری طرح پہچانا نہیں جاسکتا تھا۔ اس کے بعد آپ قیام گاہ پر تشریف لے آئے اور فرمایا یہ تالاب جہنم تھا، اور اس میں مچھلی کی مانند جو چیزیں نظر آئیں یہ وہ لوگ تھے جو شروع میں رمضان المبارک کے روزے نہیں رکھتے تھے اور آپ حضرات کی تبلیغی کوششوں سے انہوں نے روزے رکھنے شروع کئے اور جہنم سے رہائی کے حقدار بن گئے، اب اور روزے رکھ کر جنت کے پانے سے نہا دھوکر جنت کے حقدار بن جائیں گے، اس کے بعد تبلیغ کے موضوع پر کافی دیر تک نصیحت فرماتے رہے۔

تمام مبلغین حضرات پر خاص کر رمضان المبارک میں تبلیغ کرنے والوں پر تو ہمیشہ غیر معمولی مہربانیاں ہوتی رہی ہیں۔ چنانچہ نواب شاہ کے مجاہد و مبلغ صوفی ظریف خان پٹھان کو کئی بار رمضان المبارک میں تبلیغ سے واپسی پر خواب میں حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت بابرکت نصیب ہوئی، اسی طرح تبلیغ سے واپسی پر محترم مولانا مقصود الٰہی کو ایک ساتھ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم، سیدنا علی کرم اللہ وجہہ اور حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کی زیارت کا شرف حاصل ہوا، کئی اور مبلغین کو دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور مشائخ طریقت رضی اللہ عنہم کی زیارات ہوئیں۔ الحمد للہ حضور کے غلاموں کی تبلیغ سے ہر سال سینکڑوں غافل مسلمانوں کو روزے رکھنا نصیب ہورہے ہیں، خاص کر جیلوں میں اور بھی عمدہ کام ہوتا ہے اور ہر سال دس بارہ ضلعی اور مرکزی (ڈسٹرکٹ اور سینٹر) جیلوں کے خصوصی پرمٹ لیکر تبلیغ کی جاتی ہے۔ الحمدللہ حضور کے غلاموں کی تبلیغ سے کئی چور ڈاکو نماز و روزہ کے پابند بن گئے، یہی نہیں بلکہ کئی ایک سچے دل سے تائب ہوئے، ذکر اللہ کا وظیفہ سیکھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت داڑھی بھی رکھ لی۔ اس اصلاحی تبلیغ سے متاثر ہوکر ہر سال جیل حکام تائیدی اور تعریفی سرٹیفکیٹ بھی دیتے ہیں جو ریکارڈ میں موجود ہیں۔

محترم خلیفہ مولانا محمد عمر صاحب نے بتایا کہ حضور سوہنا سائیں قدس سرہ کا یہ ارشاد کہ آپ تبلیغ کے لئے نکلیں، اپنے مرشد کامل کو اپنے ساتھ تصور کریں (جسے اصطلاح صوفیاء میں رابطہ شیخ کہا جاتا ہے) تو انشاء اللہ تعالیٰ ہر قدم پر تائید الٰہی تمہارے شامل حال ہوگی۔ میں نے بارہا آزماکر دیکھا ہر قدم پر حضور کی نظر عنایت سے تائید شامل حال رہی۔ چنانچہ ایک بار سخت سردی کے موسم میں رات کو تقریبًا بارہ بجے بذریعہ بس دریجی پہنچا۔ بس سے اترکر ابھی مسجد کے دروازہ پر پہنچا ہی تھا کہ گل محمد نامی مسجد کے مؤذن باہر نکل آئے اور بڑے خلوص سے گلے ملے اور میرے پوچھنے پر بتایا کہ مجھے خواب میں نورانی چہرے والے بزرگوں کی زیارت ہوئی، جن میں سے ایک کو میں نے پہچانا وہ حضرت سوہنا سائیں اللہ آبادی تھے، آپ نے مجھے فرمایا مولانا محمد عمر صاحب آرہے ہیں، اٹھ کر ان کو بستر دیدیں، کہیں ان کو سردی سے تکلیف نہ ہو۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت اور تائید

نیز مولانا صاحب نے بتایا کہ ایک مرتبہ میں اور فقیر امیر بخش دونوں تبلیغی کرتے سوڑھ کے علاقہ میں پہنچے، رات کو مولانا محمد مبارک صاحب کی مسجد میں تبلیغ کی اور سوگئے۔ خواب میں فقیر امیر بخش کو مسجد شریف شق ہوتے نظر آئی، جہاں سے انتہائی خوبصورت نورانی بزرگ تشریف لائے۔ امیر بخش نے بتایا کہ میں سراپا محو حیرت بن کر ان کی زیارت میں مگن تھا کہ انہوں نے اپنا تعارف کروایا کہ میرا نام محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے، میں تمہیں مبارک دینے آیا ہوں کہ تم سوہنے سائیں کے مرید ہو جس نے میرے دین کی خدمت کے لئے تمہیں بھیجا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت

محترم خلیفہ مولانا حاجی عبدالستار صاحب نے حضور قبلہ خواجہ خواجگان سیدی سوہنا سائیں کی خدمت میں درج ذیل عجیب و غریب خواب تحریر کیا جو من و عن تحریر کیا جاتا ہے۔ لکھتے ہیں

السلام علیکم و رحمۃ اللہ۔۔۔ بعد از آداب و نیاز و اقدام بوسی معروض باد کہ یہ عاجز حسب فرمان رات دن تبلیغ دین میں مصروف رہتا ہے، حال ہی میں سسی پنوں کے علاقے کا تبلیغی دورہ کرکے واپس آیا ہوں، تمام پروگرام بے حد کامیاب رہے، ہر جگہ حضور کے فیوض و برکات کی بارش برستی نظر آئی، بہت سے بے نمازی اب پکے نمازی بن گئے ہیں۔ ساکھانی قبیلہ کے ہاں شادی کی ایک تقریب میں بھی شریک ہوئے جہاں یہ عاجز فقیر حاجی محمد مرید، فقیر گل حسن اور بھی کافی فقراء شامل ہوئے تھے۔ ڈھول اور دیگر غیر شرعی رسم و رواج بند کروائے گئے، سارا پروگرام ایک جلسے کی صورت میں جاری رہا۔ لوگ بھی دور دور سے آئے تھے، وہاں ہم نے وعظ نصیحت کی لوگ بہت متاثر ہوئے۔ اس کے بعد یہ عاجز اور فقیر حاجی محمد مرید صاحب دونوں روانہ ہوئے۔ راستے میں متعدد مقامات پر وعظ و نصیحت کے بعد پروگرام کے تحت حسن ہٹ اسٹاپ کے قریب نورانی مرکز پہنچے جہاں جلسے میں شرکت کے لئے دور دور سے آدمی آئے ہوئے تھے۔ ہمارے علاوہ اور بھی ۹ مقررین حضرات نے خطاب کیا، طریقہ عالیہ کے مطابق حلقہ مراقبہ بھی کیا گیا۔

اس جلسہ میں سردار محمد صالح صاحب کی مسجد کے امام مولانا گل محمد صاحب بھی آئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ میں ایک رات نماز تہجد پڑھ کر سوگیا، خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ جنوب سے ایک بہت بڑی نورانی جماعت اللہ اللہ کا ذکر کرتے ہوئے آرہی ہے، جماعت کے پیشرو و آقا و مولا حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی موجود ہیں اور حضرت سوہنا سائیں (قدس سرہ) بھی آپ کی خدمت میں حاضر تھے، جماعت میں شامل بعض فقراء نے مسجد کے قریب واقع ہندو کی دوکان کو پتھروں کا نشان بنالیا۔ اسی درمیان حضرت سوہنا سائیں (نور اللہ مرقدہ) نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی یارسول اللہ اس بستی میں آپ کے ایک غلام رہتے ہیں (میرے نام فرمایا) جو ہمارے پاس بھی آتے رہتے ہیں، اتنے میں میں آگے بڑھ کر حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم بوس ہوا، اس کے بعد حضرت سوہنا سائیں سے بھی ملا، آپ نے مجھ سے پوچھا: فقیر صاحب کیوں دربار پر آمد و رفت بند کردی ہے؟ میں نے عرض کی حضور مسجد میں امامت کراتا ہوں اور مجھے عشر و زکٰوۃ کا چیئرمین بھی مقرر کیا گیا ہے، ان مصروفیات کی وجہ سے حاضر نہیں ہوسکا، اس پر فرمایا حسن آباد کا مرکز بھی ہمارا ہی ہے، آپ وہاں چلے جائیں ہمارے خلفاء وہاں آتے رہتے ہیں۔

اتنے میں خواب کا نقشہ اور تبدیل ہوگیا۔ حضرت قبلہ سوہنا سائیں قدس سرہ کے قریب حضرت قبلہ صاحبزادہ مولانا محمد طاہر صاحب مدظلہ بھی نظر آئے، ساتھ ہی اور بھی بہت سارے فقراء نظر آئے۔ آپ نے حضرت قبلہ صاحبزادہ صاحب مدظلہ کو فرمایا آپ دروازہ پر کھڑے ہوجائیں کسی کو باہر جانے نہ دیں، اور آپ خود فقراء کے مختلف وفد بناکر بیرونی ممالک روانہ کررہے تھے۔ امریکا، افریقہ اور بہت سے ملکوں کی طرف فقراء کے قافلے بھیج دیئے۔ فقیر صاحب نے بتایا کہ اس تفصیلی خواب کے بعد مجھے نیند نہ آئی اور حسن آباد کے اس مرکز میں آ حاضر ہوا، جہاں حضور کے پیارے خلفاء اور فقراء سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ (حقیر فقیر حاجی عبدالستار بخشی از کراچی)