فہرست
سیرت ولی کامل (حصہ دوم)

باب اول

تبلیغی خطوط

(۱) دبئی سے حضور کے پیارے خلیفہ مولانا حاجی محمد اکرم صاحب لکھتے ہیں

بعد از آداب ۔۔۔۔

السلام علیکم و رحمۃ اللہ ۔۔۔ غلام اپنے آقا کے دیدار کے لئے آنکھیں فرش راہ کئے ہوئے ہے اور خادم کو کسی پل چین نہیں ہے، پہلے بھی خادم کئی ایک خط لکھ چکا ہے۔ بہرحال خادم اپنی رپورٹ پیش کرتا ہے کہ ۔۔۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے قبلہ عالم کا فیض سمندر کی لہروں کی طرح موجزن ہے۔

میرے پاس ایک عیسائی کلرک ہے، اس کو ذکر دیا ہوا ہے، وہ دل جمعی سے ذکر کرتا ہے اور اسکا قلب ذاکر ہے، اب اس کے خیالات اسلام کی طرف مائل ہوتے جارہے ہیں۔ باقی حضور کے فیض کی تو بات ہی کیا ہے؟ جو لوگ ذکر کی طلب رکھتے ہیں یہ خادم ان کو گھر جاکر ذکر کی تلقین کرتا ہے۔ ابھی پچھلے دنوں دو گھرانوں نے فقیر کو بلایا تھا، اس عاجز نے ان کو ذکر دیا اور مراقبہ بھی کرایا۔ ان پر اس قدر مہربانی ہوئی کہ دوسرے دن ان میں سے ایک عورت کو خواب میں عرش سے لیکر فرش تک ہر طرف سے ذکر کی آواز سنائی دیتی رہی۔ اسی طرح ایک اور فیملی جو گھر آتی جاتی تھی، وہ لوگ ہر روز ایک فلم دیکھ کر سوتے تھے، ایک دن کہنے لگے کہ ہمارے دل تو ابھی تک ذکر نہیں کرتے۔ میں نے حضور کی طرف متوجہ ہوکر ان پر توجہ کی تو دونوں میاں بیوی کے دل ذکر میں مشغول ہوگئے، مائی صاحبہ پر تو جذب کی کیفیت طاری ہوگئی۔

فقیر محمد اکرم فورمین الامارات العربیۃ المتحدۃ دبئی U.A.E ۳،۳،۸۳۔

 

(۲) دبئی سے حضور کے ایک اور پیارے خلیفہ مولانا محمد صدیق صاحب لکھتے ہیں

بعد از آداب۔۔۔

السلام علیکم و رحمۃ اللہ ۔۔۔ بعد از اقدام بوسی احوال یہ کہ الحمد للہ حضور کی نوری نگاہ سے روزانہ تبلیغ کرتا ہوں، کبھی دو کبھی چار اور کبھی زیادہ نئے افراد طریقہ عالیہ میں داخل ہوتے رہتے ہیں۔ جہاں کہیں دو چار افراد سے ملاقات ہوتی ہے شریعت و طریقت کی چند باتیں ضرور بتاتا ہوں گو وہ پسند کریں یا نہ کریں، خواہ کسی غیر مذہب سے تعلق رکھتے ہوں مگر یہ عاجز ان کو بھی یہ پیغام پہنچاتا ضرور ہے۔ الحمد للہ فائدہ سے خالی نہیں رہتے، چنانچہ سابقہ خط میں میں نے پانچ ہندوؤں کے متعلق عرض کیا تھا کہ وہ مجھ سے ذکر کا وظیفہ سیکھ چکے ہیں۔

ان کے ۱۵ اور ساتھیوں نے ذکر سیکھنے کا وعدہ کیا ہے۔ الحمد للہ ان میں سب سے پہلے جس نے ذکر کا وظیفہ سیکھا تھا، اللہ تعالیٰ کے ذکر کی برکت سے وہ کفر سے تائب ہوکر دائرہ اسلام میں داخل ہوچکا ہے، الحمد للہ ثم الحمد للہ۔ امید یہی ہے کہ جو بعد میں ذکر سیکھ چکے تھے عنقریب وہ بھی مسلمان ہونگے۔ حضور یہاں کے اوقاف کے سیکریٹری جنرل عرب ہیں، ان سے حضور کے غلام فقیر مسرت حسین نے حضور کے فیوض و برکات اور اس عاجز کا ذکر کیا تو وہ کہنے لگے میں بھی نقشبندیہ سلسلہ سے وابستہ ہوں، کبھی فقیر صاحب (میرے نام) کو میرے پاس لانا ان سے ملاقات کروں گا۔ بہرحال جب یہ عاجز ان کے پاس گیا تو مسرت حسین کے علاوہ فقیر محترم اللہ بخش صاحب کو بھی ساتھ لے کر گیا جس کا دل زندہ ذاکر ہے، ذکر کی طرف توجہ کرنے سے ظاہر ظہور اس کا دل جاری ہوجاتا ہے۔ یہ عاجز زیادہ عربی جانتا نہیں، اس لئے میں اردو میں حضور کے فیوض و برکات، ذکر اللہ اور طریقہ عالیہ کے متعلق بتاتا رہا، محترم مسرت حسین صاحب عربی میں ترجمانی کرتے رہے۔ آخر میں وہ اوراد و وظائف کی ایک کتاب لے آئے اور پوچھا آپ حضرات قلبی ذکر کرتے ہیں یا زبانی؟ جوابًا میں نے فقیر صاحب کو ذکر کی طرف متوجہ ہونے کے لئے کہا، توجہ کرتے ہی اس تیز رفتاری سے اس کا دل ذکر کرنے لگا کہ سیکریٹری صاحب حیران ہوکر کہنے لگا ایسا ذکر تو پہلے سنا تک نہیں تھا، مجھے یہ ذکر سمجھائیں۔ اسے ذکر سمجھا کر ہم واپس آئے۔ اسی طرح ایک اور مرتبہ میں کسی کام سے محترم مسرت حسین صاحب کے پاس گیا، ان کے پاس پہلے سے ایک انگریز اور ایک پاکستانی بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ترجمانی کے لئے مسرت صاحب کو کہا اور اردو میں وعظ نصیحت شروع کی، وہ انگریزی میں ترجمانی کرتے رہے۔ تھوڑی ہی دیر نصیحت سننے کے بعد بڑی خوشی سے دونوں طریقہ عالیہ میں داخل ہوگئے۔

ایک مرتبہ ابوظہبی کا ایک آفیسر صفا میں میرے پاس ملنے آیا اور بتایا کہ دو آدمی آپس میں قلبی ذکر کا تذکرہ کر رہے تھے، میرے پوچھنے پر انہوں نے آپ کا پتہ دیا ہے لیکن چھٹی نہ ملنے کی وجہ سے آپ کے یہاں ۱۵ منٹ سے زیادہ ٹھہر نہیں سکتا، میں نے کہا پرواہ نہ کریں، اتنی ہی دیر میں آپ میرے پیر و مرشد کے فیض سے مستفید ہوسکتے ہیں۔ میں نے اس کے قلب پر انگلی رکھ کر ذکر کی تلقین کی اور مختصرًا نصیحت کی تو وہ جذب میں آکر رونے لگا اور کہنے لگا بلاشبہ یہ زود اثر فیض ہے، ایسا فیض کہیں بھی نہیں دیکھا بلکہ سنا تک نہیں ہے۔ حضور آپ کی نوازشات فیوض و برکات سمندر کی لہروں سے بھی اوپر موجزن ہیں، میں اس کا بیان تک نہیں کرسکتا، میرے لئے اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل محبت اور اتباع کی دعا فرماویں اور یہ کہ بروز قیامت حضور کی معیت نصیب ہو۔

دیگر گذارش یہ کہ شاید یہ میرے گناہوں کی شامت اور بدنصیبی ہے کہ تاہنوز ہم حضور کو عرب امارات لانے سے قاصر رہے۔ دیگر جماعتیں اپنے پیشواؤں کو یہاں تبلیغ کے لئے لے آتی ہیں، اللہ تعالیٰ حضور کو صحت کاملہ شفاء عاجلہ عطا فرمائے کہ حضور یہاں تشریف فرما ہوں، خلیج کے لوگ حضور کے فیوض سے مستفیض ہوں۔ تمام فقراء کی پرنم نگاہیں دربار عالیہ پر مرکوز ہیں، اللہ تعالیٰ حضور کو خضری حیاتی عطا فرمائے اور ہم گنہگاروں کی دعائیں قبول فرمائے۔ دوبارہ پھر میں نے ویزے حاصل کرنے کی کوشش کی ہے، امید ہے کہ حضور ہم گنہگاروں کی دعوت قبول فرماکر اجازت دیدیں گے۔ (فقیر عاجز محمد صدیق از صفا، دبئی، یو۔اے۔ای)

 

(۳)

اے میرے مرشد کامل آپ کی نوری نگاہ سے آج کل تبلیغ کا کام خوب ہورہا ہے، اور خلیج کی ریاستوں میں یہ بات مشہور ہوچکی ہے کہ یہاں ایک کامل بزرگ کے مرید رہتے ہیں جن کے دل ذکر اللہ سے جاری رہتے ہیں۔ یہاں حضور کے مریدین میں چار مرد اور دو عورتیں ایسے ہیں جن کے دل باقاعدہ حرکت کے ساتھ ذکر کرتے ہیں، جنہیں دیکھ کر لوگ عبرت و حیرت میں پڑجاتے ہیں۔ وجد و جذبہ کی تو حد ہی نہیں ہے، بعض لوگ جذبہ کو جادو سمجھ کر ڈر جاتے ہیں، خاص کر عرب حضرات کے لئے قلبی ذکر تو ایک بالکل نئی بات ہے، جبکہ بیرونی ممالک کے لوگ زیادہ مستفیض ہوتے ہیں۔ حضور آجکل درج ذیل ہفتہ وار جلسے پابندی سے ہورہے ہیں۔

  1. جمعہ کی رات دبئی میں جلسہ ہوتا ہے۔
  2. ہفتہ کی رات میرے پاس صفا میں،
  3. سوموار کی رات قصیص میں،
  4. منگل کی رات عجمان میں فقیر محمد شریف صاحب کے پاس،
  5. بدھ کی رات عجمان میں فقیر غلام حسین کے پاس۔ جبکہ پہلے قصیص میں تین مقامات پر جلسے کرتے تھے مگر اب سہولت کے پیش نظر ایک ہی جگہ جلسہ ہوتا ہے، جہاں تمام فقراء اکٹھے ہوتے ہیں۔

حضور کا ادنیٰ غلام فقیر محمد صدیق، صفا، یو۔اے۔ای

 

(۴) مرکز روح الاسلام بیدیاں روڈ لاہور سے مولانا خلیفہ انوار المصطفیٰ صاحب لکھتے ہیں:

حضور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور آپ کی نورانی توجہ باطنی کے طفیل لاہور میں تبلیغ کا بڑا اچھا کام ہورہا ہے۔ اس جمعہ کو عورتوں کا خصوصی پروگرام طریقہ عالیہ کے مطابق باپردہ رکھا گیا تھا جس میں تیس چالیس عورتیں شامل ہوئیں، تمام خواتین کو ذکر کی تلقین کی گئی، مراقبہ کرایا گیا، حضور کی نگاہ کرم سے اس کا نتیجہ اس قدر دور رس ثابت ہوا کہ دوسرے دن ان کے گھر والے اس عاجز کو کہنے لگے کہ آپ مہربانی فرماکر عورتوں میں تبلیغی کام کرتے رہیں، آپ کے مختصر جلسے سے واپسی پر ان میں کافی دین داری کا جذبہ پیدا ہوگیا ہے۔ اسی جمعہ کو گلبرگ میں مولوی عبدالستار صاحب کی مسجد میں بھی کافی اچھا کام ہوا، کئی نئے آدمی طریقہ عالیہ میں داخل ہوئے۔ حضور یہاں پر مراقبہ اور درس دو وقت ہوتا ہے، جس سے کافی نئے دوست محبت والے بنتے جارہے ہیں۔

لاشئ فقیر انوار المصطفیٰ بخشی

 

(۵) لاہور ہی سے محترم منظور حسین ساگر صاحب لکھتے ہیں:

بعد از آداب۔۔۔

السلام علیکم و رحمۃ اللہ ۔۔۔ خدا تعالیٰ کا لاکھ لاکھ کرم و احسان ہے کہ اس گمراہی کے دور میں ہم جیسے گنہگاروں کو آپ جیسے خدا والوں کا ساتھ نصیب ہوا، ماضی کے حالات سے صاف ظاہر ہے کہ اگر آپ کی صحبت بابرکت حاصل نہ ہوتی تو نہ جانے ہمارا حال کیا ہوتا۔

حضور جب سے آپ نے حضرت انوار المصطفیٰ صاحب کو لاہور بھیجا ہے، سلسلہ عالیہ کی اشاعت کا کام عروج پر ہے۔

خدا کے فضل و کرم اور آپ کی نوری نگاہوں کے طفیل اب تک لاہور میں ۹ مراکز پر زبردست کام ہورہا ہے، انشاء اللہ تعالیٰ وہ وقت دور نہیں جب لاہور میں عظیم روحانی انقلاب برپا ہوگا۔ فقیروں کی دعوت پر ایسے ایسے لوگ بھی ذکر کے حلقوں میں آتے ہیں جنہوں نے کبھی مسجد کا منہ بھی نہ دیکھا تھا۔ درجنوں چرس، شراب، بھنگ اور دوسرے کبیرہ گناہوں میں مبتلا لوگوں کو کثیر فائدہ ہوا ہے۔ گلبہار کالونی جو پورے لاہور میں بدنام کالونی ہے یہاں ہم نے جلسہ مقرر کیا، اردگرد کے لوگوں کو آنے کی دعوت دی، خصوصًا گوالمنڈی کے لوگوں کو جو حکومت کا بھی مقابلہ کرتے ہیں، پولیس وہاں جانے سے کتراتی ہے، وہاں کے بہت سارے لوگ آئے اور بہت زیادہ متاثر ہوئے۔ اس کے علاوہ اور بھی کئی جلسے حیرانگی کی حد تک کامیاب ہوئے۔ اسی طرح فوج کے پانچ یونٹوں میں بروز جمعرات جلسہ ہوتا ہے، فوجی بھائی بہت پیار سے بیٹھتے ہیں۔

۱۴۰۱ھ، فقط آپ کے دیدار کا طالب فقیر منظور حسین ساگر بخشی، گل بہار کالونی لاہور

 

(۶) مورخہ ۸۔۷۔۸۳ جیکب آباد سے حضرت مولانا سید جیئل شاہ صاحب جیلانی لکھتے ہیں:

بعد از آداب۔۔۔

السلام علیکم و رحمۃ اللہ ۔۔۔ حضور بہ سلسلہ علاج ۱۴ دن مسلسل جیکب آباد میں رہنا پڑا، ایسی حالت میں بھی تبلیغ کا سلسلہ بدستور جاری رہا، ہسپتال کے دو کمپاؤنڈر بنام محمد رمضان اور عید محمد طریقہ عالیہ میں داخل ہوئے، قبل ہٰذا یہ دونوں شراب کے عادی تھے مگر اب توبہ تائب ہوکر اور آئندہ شراب نہ پینے کا وعدہ کرلیا ہے۔ اسی طرح عبدالستار نامی ریڈیو، ٹی وی مکینک بھی جو شراب کے علاوہ کئی اور ایسے گناہوں کا مرتکب تھا کہ لکھتے شرم آتی ہے، اس نے بھی تہہ دل سے توبہ کی، داڑھی مبارک رکھ لی، یہی نہیں بلکہ اس کی تبلیغ سے کئی اور آدمی بھی راہ راست پر آگئے ہیں جن میں عبدالستار کے دہریہ استاد بھی شامل ہیں جو ذات باری تعالیٰ کا منکر اور انتہائی گستاخ قسم کا آدمی تھا، مگر اب اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور آپ کی نگاہ بااثر سے فرضی نمازوں کے علاوہ تہجد بھی پڑھنے لگا ہے، یہی عبدالستار اور فقیر ارباب علی تبلیغی محنت و کوشش کرکے ایک ہندو لڑکا میرے پاس لے آئے جو کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوا، اور ذکر بھی حاصل کیا۔ اس کا والد جیکب آباد کا با اثر سیٹھ آدمی ہے، اس کے سامنے اب تک اسلام کا اظہار نہیں کرسکتا، مزید اس کے متعلق جو حضور کا ارشاد ہوگا اسی کے مطابق کریگا انشاء اللہ تعالیٰ۔ حضور اس عاجز بلکہ ہمارے خاندان کے سہارہ آپ ہی ہیں، ہمارے اعمال سے صرف نظر کرکے اپنی خصوصی رحمت و شفقت فرماتے رہیں۔

فقط طالب دعا خاکپا بندہ محمد جیئل شاہ

 

(۷) حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے پیارے خلیفہ مولانا حاجی محمد علی بوزدار صاحب جو کئی ماہ مسلسل دور دراز خاص کر سمندر کے کنارے کے قصبوں میں اور کبھی جزیروں تک تبلیغ کرنے چلے جاتے تھے اور حضور اس سلسلہ میں ان کی تعریف فرمایا کرتے تھے۔ ان کے بہت سے خطوں میں سے ایک خط کے اقتباسات ۔۔۔۔۔

بعد از آداب۔۔۔

السلام علیکم و رحمۃ اللہ ۔۔۔ اقدام بوسی کے بعد معروض باد کہ کراچی میں حضور سے یہ عاجز اور مولوی محمد عالم رخصت لیکر تبلیغ کے لئے روانہ ہوئے۔ لیٹ نامی بس اسٹاپ پر اتر کر، رند، جوکھیہ اور شورہ قوم کی بستیوں میں ایک ہفتہ برابر تبلیغ کرتے رہے، سینکڑوں کی تعداد میں مرد اور عورتیں طریقہ عالیہ میں داخل ہوئے، نماز شروع کی اور منشیات سے تائب ہوئے۔ وہاں سے روانہ ہوکر بہارہ کے علاقہ میں پہنچے، دس بارہ دن تک اس علاقہ میں تبلیغ کی گئی جس سے چند ویران مسجدیں آباد ہوگئیں، کچھ آدمی تو تہجد کا طریقہ سیکھ کر تہجد بھی پڑھنے لگے۔ اس کے بعد گاڑھو نامی شہر گئے جہاں ایک سال پہلے ۳۲ ہندو اپنے باطل مذہب سے تائب ہوکر مسلمان ہوئے اور حضور کے غلام مولوی محمد عالم صاحب کی کوشش سے طریقہ عالیہ میں بھی داخل ہوگئے اور تمام کے تمام مرد اور عورتیں پابندی سے نماز پڑھتے ہیں، ہم رات ان کے پاس ٹھہرے، ذکر مراقبہ اور وعظ نصیحت کی گئی۔ اس کے بعد فقیر محمد آدم اور فقیر عبدالرحیم کی بستی پہنچے، اس بستی میں حضور کے پرانے خادم رہتے ہیں، یہاں کے فقراء حضور کی زیارت کے لئے کراچی بھی گئے تھے۔ یہاں گھر میں باپردہ عورتوں کو تبلیغ کی گئی۔ ان کی بستی سے متصل دریا واقع ہے، کشتی وغیرہ نہ ہونے کی وجہ سے ہم دوسرے کنارے نہ جاسکے مگر بعد میں معلوم ہوا کہ اسپیکر پر وعظ و نصیحت کی آواز دوسرے کنارے کی بستیوں تک پہنچ رہی تھی اور وہاں سے لوگوں نے تقاریر سن کر نماز شروع کردی ہے، ان کی خواہش کے مطابق فقیر صاحب کی بستی سے اسپیکر پر ہی ان کو ذکر کا طریقہ سمجھایا گیا، اس کے بعد ایک سوا میل کے فاصلہ پر فتح محمد بلوچ کی بستی گئے جو کہ ۱۰، ۱۲ سال پہلے کیٹی بندر میں مقیم تھا اور وہاں ذکر سیکھا تھا، اس نے بتایا کہ آپ سے ذکر سیکھنے کے بعد مرد، عورتیں اور بچے پابندی سے نماز پڑھتے ہیں۔ دوسرے دن چار بستیوں میں مختصر مختصر وقت قیام اور وعظ کیا گیا، اس کے بعد محمد صدیق جت کی بستی میں جاکر وعظ کیا گیا، اس بستی کے امام فقیر حاجی خمیسو جو ۸،۱۰ سال پہلے درگاہ شریف پر آکر حضور سے قلبی ذکر سیکھ چکا ہے اس دن سے لیکر اس کا دل ذکر کرتا ہے، جس کی حرکت دوسرے لوگ بھی دیکھ سکتے ہیں۔

حضور تبلیغی سفر میں ایک ماہ تیرہ دن گذر چکے ہیں۔ دور افتادہ علاقہ ہونے کی وجہ سے سواری کی معقول سہولت نہیں، ایک دو میل سے لیکر دس میل تک پیدل سفر کرنا پڑتا ہے، پھر بھی تبلیغ میں لطف اتنا کہ گھر بار کی یاد تک نہیں، کیتی بندر تک جانے کا پروگرام ہے، اس کے بعد واپسی ہوگی انشاء اللہ تعالیٰ۔ سیدھے سادے عوام کے یہ علاقے تبلیغ کے لئے ازحد موزوں ہیں، یہاں تک کہ کئی ایک صرف ٹیپ رکارڈ پر تقاریر سن کر نمازی بن گئے ہیں، ہر بار تقاریر کی کیسٹیں بھرتے ہیں، خود بھی سنتے اور اوروں کو بھی سناتے ہیں۔ قرآن شریف کی تعلیم کے لئے بھی یہ عاجز تاکید کرتا رہتا ہے۔ الحمد للہ بہت سے مقامات پر تعلیم قرآن کے مدارس شروع ہوچکے ہیں، جن میں تعلیم البنات کے مدارس بھی شامل ہیں۔ ایک بستی کی مسجد شریف جو اس قدر کسمپرسی کا شکار تھی کہ اپنے ہاتھوں سے ہم نے گوبر اٹھاکر مسجد صاف کی، لوگوں کو مسجد میں بلاکر تبلیغی محنت کی، بڑے متاثر ہوئے، ان ہی میں سے ایک کو اس عاجز نے امامت کے لئے مقرر کیا اور بچیوں کی تعلیم کے لئے ایک بوڑھی عورت کو مقرر کیا گیا۔ پندرہ دن بعد اس بستی کا ایک آدمی ملا، اس نے بتایا کہ آپ کے جانے کے بعد بھی مسجد شریف نمازیوں سے بھر جاتی ہے، قرآن شریف کی تعلیم کا مدرسہ بھی جاری ہے۔ الحمد للہ حضور کی مہربانی، توجہ و عنایات سے ہر جگہ مثالی کام ہوا ہے۔ اس تبلیغ میں ایک دو سے لیکر آٹھ فقراء تک پورے سفر میں شامل رہے ہیں۔

فقط حضور کا غلام لاشئ فقیر محمد علی سگدر سوہنا سائیں

 

(۸) دربار حبیبیہ سنانواں ضلع مظفرگڑھ سے حضور کے پیارے خلیفہ مولانا محمد معصوم صاحب لکھتے ہیں

بعد آداب و نیاز ۔۔۔۔

السلام علیکم و رحمۃ اللہ! ۔۔۔۔ نیاز بے انداز و قدم بوسی کے بعد عارض ہوں کہ حضور کی نور بھری محفل سے واپسی کے چند دن بعد بندہ کی طبیعت ازحد خراب ہوگئی، عید البقر سے چند روز پہلے حضور نے خواب میں مہربانی فرمائی کہ اپنے دست مبارک سے شربت کا ایک گلاس پلایا جس سے قلبی فرحت حاصل ہوئی، اور صبح جب تہجد ادا کرنے لگا تو حضور کی کرم نوازی سے طبیعت ایسی اچھی تھی کہ گویا بیمار ہوا ہی نہ تھا۔ پندرہ ذوالحجہ کو دس فقراء کے ہمراہ تھل کے ریگستانی علاقہ میں پیدل سفر شروع کیا، اسی طرح پندرہ سولہ بستیوں میں حضور کا پیغام پہنچایا اور بہت فائدہ ہوا۔

حضور اس سفر میں ایک ایسی بستی میں بھی گئے جسکے تقریبًا دو تین صد گھر ہونگے اور تین چار ہزار کی آبادی ہوگی۔ بستی کے ایک طرف مسجد تھی، ہم جب مسجد میں داخل ہوئے تو ویران اور خستہ حال نظر آئی، کوڑا کرکٹ اتنا تھا کہ خدا معلوم کب سے مسجد کی صفائی نہیں ہوئی اور جب اندر داخل ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ مسجد میں کتیا نے بچے جنم دے رکھے ہیں۔ بس فورًا آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ مسجد کو ملکر فقیروں نے صاف کیا، جھاڑو مار کر صاف ستھرا کرکے عصر کی اذان دی، چند دیہاتی بھی آئے، عصر کے بعد چند فقیر بستی میں گئے اور لوگوں کو بلا بلا کر لانے لگے کہ ذرا مسجد میں چل کر خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی کچھ باتیں سنیں، عشاء کے بعد بستی کے نمبردار سے ملاقات ہوئی۔

اس کو حضور کا نوری پیغام پہنچایا تو اس پر عجیب کیفیت طاری ہوگئی، روتے ہوئے کہنے لگا ہمیں ملاؤں نے برباد کردیا، خدا اور رسول سے دور کردیا وغیرہ۔ پھر اس نے مفصل احوال اس طرح بتایا کہ میں نے بڑے شوق اور کوشش سے یہ مسجد تعمیر کرائی، علماء کو دعوت دے کر لے آیا مگر انہوں نے دیوبندی، بریلوی اختلافات چھیڑ کر عوام کو بلکہ مجھ کو بھی اس راہ پر لا کھڑا کیا کہ جب عالموں کا یہ حال ہے تو ہم کو نماز و روزہ سے کیا فائدہ ہوگا، چنانچہ آج بیس سال کا عرصہ ہوچکا ہے کہ ہم نے مسجد کا منہ تک دیکھنا ترک کردیا تھا۔ بہرحال اسی نمبردار نے متاثر ہوکر منادی کرادی۔ صبح کی نماز پر پوری مسجد لوگوں سے بھر گئی، وعظ کیا گیا، نمبردار سمیت تمام کو ذکر کا وظیفہ بھی سمجھایا گیا، حلقہ مراقبہ بھی کرایا گیا، وہ بڑا خوش ہوا، اس نے کرایہ کا لاؤڈ اسپیکر منگوالیا، چنانچہ تین دن تک اس بستی میں قیام رہا، پانچوں وقت اذان نماز باجماعت اور نعت خوانی ہوتی رہی۔ اس طرح دو اور بستیوں میں گئے جہاں اکثریت شیعہ مسلک والوں کی تھی۔ شہادت امام عالی مقام رضی اللہ عنہ کے موضوع پر تقاریر ہوئیں، اہل بیت کی دینداری کا ذکر کیا گیا، حضور کا ایسا کرم ہوا کہ سب شیعوں نے ذکر لیا اور نماز بھی اہل سنت کے مطابق ادا کی۔

حضور کا خادم فقیر محمد معصوم بخشی

 

(۹) اوتھل بلوچستان سے حضور کے مخلص غلام فقیر محمد جنید خان جن کی مخلصانہ کوششوں سے مذکورہ ضلع میں تین چار دینی مدارس نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں حضور سوہنا سائیں قدس سرہ کی خدمت میں تبلیغی احوال پر مشتمل درج ذیل خط ارسال کیا۔

بعد آداب السلام علیکم و رحمۃ اللہ۔

گزارش ہے حضور کی نگاہ کرم سے ضلع لسبیلہ خصوصًا اوتھل میں بڑی تیزی سے تبلیغی کام کو آگے بڑھایا جارہا ہے۔ حضور یہاں کے دیہاتوں میں جہالت و بے دینی اس حد تک پہنچی ہوئی ہے کہ دین داری کا ان کو پتہ تک نہیں ہے، بس جانوروں کی مانند جنگلوں میں بکریاں چراکر عمریں ختم کر دیتے ہیں۔

تحصیل سومیانی ضلع لسبیلہ میں ایک قییلہ ہے جو دین سے بالکل ناواقف ہے، جب ان سے پوچھا گیا کہ اس دنیا میں آنے کا مقصد کیا ہے تو کہنے لگے ہمیں اور تو کچھ پتہ نہیں، ہم تو بس مویشی چرانا اور کھانا پینا جانتے ہیں اور بس۔ جب پوچھا گیا کہ کس کے بندے ہو؟ تو کہنے لگے وڈیرہ حاجی مراد کے بندے ہیں اور جب رسول کے بارے میں پوچھا گیا کہ کس کے امتی ہو؟ تو جواب ملا وڈیرے کے بیٹے عبدالرحمان کے۔ جو لوگ اس قدر جہالت اور بے دینی میں مبتلا محض نام کے مسلمان تھے، حضور کی دعاؤں اور نظر کرم سے کافی ایسے لوگ بھی دین داری کی طرف مائل ہوتے جارہے ہیں۔ بہرحال ان لوگوں کو سمجھا بجھا کر ان کے بچوں کو قرآن مجید کی تعلیم دلانے کے لئے اوتھل لے آئے۔ ساتھ ہی ان کو سکول میں بھی داخلہ دلوایا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ان بچوں اور ان کے والدین میں بھی دین کا شعور پیدا ہوا اور اپنے خالق و مالک کو پہچاننے لگے۔ اب اس بستی میں پکی مسجد بنوائی گئی ہے اور وہاں بچوں کو تعلیم دلوانے کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔ یہ سب کچھ حضور کی دعاؤں کا نتیجہ ہے۔ لسبیلہ میں کئی مسجدیں ویران تھیں، اب دوبارہ نماز و ذکر سے آباد نظر آرہی ہیں۔ حضور کے کراچی کے دورہ کے موقعہ پر یہاں سے کافی آدمی حاضر ہوکر ذکر سیکھ چکے ہیں۔

فقیر کی حالت میں بھی جو تبدیلی آئی ہے، اس کو دیکھ کر بھی کافی دوست متاثر ہوئے ہیں اور حضور کی غلامی اختیار کرچکے ہیں، اور ایک دن باتوں باتوں میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر صاحب لسبیلہ نے فقیر سے پوچھا کیا آپ کے دماغ پر کوئی برا اثر تو نہیں پڑا؟ میں نے کہا کیا آپ نے مجھے کوئی ایسی حرکت کرتے دیکھا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہو کہ میرا دماغی توازن درست نہیں؟ اس پر کہا اور تو نہیں البتہ یہ دیکھا ہے کہ آپ نے اچانک بیڑی، پان، نسوار ترک کردیئے، داڑھی رکھ لی اور تبلیغی کام شروع کردیا ہے، اس سے پہلے میں نے ایسے آدمی دیکھے ہیں جنہوں نے ڈسٹرکٹ آفس میں آکر داڑھیاں صاف کیں، ایسا کوئی نہ دیکھا جس نے اس آفس میں آنے کے بعد داڑھی رکھ لی ہو۔ میں نے کہا جناب یہ حقیقت ہے کہ پہلے میرا دل دینی کاموں سے نفرت کرتا تھا، لیکن ان گنہگار آنکھوں نے ایسی باکمال ہستی کو دیکھا ہے جنہوں نے لاکھوں انسانوں کی تقدیر کو بدل دیا ہے، تو ایسی ہستی کی صحبت سے اگر میری قسمت تبدیل ہوگئی اور اچانک یہ انقلات آیا تو تعجب کی کونسی بات ہے۔ تب وہ مانا کہ واقعی اولیاء اللہ کی زیارت اور وعظ و نصیحت میں اتنی تاثیر ہے۔ حضور یہ فقیر روزانہ بعد نماز عشاء مراقبہ کراتا ہے، شامل ہونے والوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے۔ حضور کی نظر کرم سے مل ایریا میں فقیر نے ایک انجمن بنائی ہے جو کہ ۶۰،۷۰ ممبران پر مشتمل ہے، ان کی مسجد میں یہ فقیر درس دینے جاتا ہے، ماہوار جلسہ بھی ہوتا ہے جس میں کراچی سے خلفاء کرام کو مدعو کیا جاتا ہے۔ فقیر کو مذکورہ کمیٹی کے ممبران نے بڑے اصرار سے کم از کم کرایہ لینے کی پیشکش کی لیکن میں نے کہا میں یہاں نہ تو پیسے کمانے آتا ہوں نہ شہرت و عزت کے لئے، میں یہاں صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا اور اپنے پیر و مرشد سوہنا سائیں کی فرماں برداری اور خوشنودی کے لئے حاضر ہوتا ہوں، میں خود شانہ بشانہ آپ کے ساتھ مالی تعاون بھی کروں گا۔ حضور چونکہ میں دینی علم سے زیادہ واقف نہیں اس لئے ابتدائی فارسی عربی تعلیم اور قرآن مجید کا ترجمہ مقامی علماء کرام سے پڑھتا ہوں، دینیات کی اور کتابوں کا مطالعہ خود کرتا ہوں۔ اب انشاء اللہ تعالیٰ دس پندرہ اور ساتھیوں کے ہمراہ دسمبر ۸۱ کے آخر یا جنوری ۸۲ء کے شروع میں اللہ آباد حاضر ہونگا۔ حضور کی صحبت کے علاوہ بیس یوم تک حسب فرمان تعلیمی کورس بھی پڑھیں گے۔

لسبیلہ کے تمام غلاموں کی طرف سے السلام علیکم۔ پتہ فقیر محمد جنید خاں ہیڈ کلرک جوڈیشنل برانچ ڈپٹی کمشنر آف لسبیلہ بمقام اوتھل بلوچستان

 

(۱۰) بلوچستان کے تفصیلی دورے کے بعد مولانا مولوی امام علی صاحب لکھتے ہیں

بعد از آداب۔۔۔

السلام علیکم و رحمۃ اللہ! ۔۔۔ میں اور مولانا محمد نواز صاحب اور ان کے بھائی مولانا محمد صالح صاحب درج ذیل مقامات پر تبلیغ کے لئے گئے، بفضلہ تعالیٰ تمام مقامات پر کافی تبلیغی فائدہ ہوا۔

  1. ۱۔ مستونگ شہر،
  2. ۲۔ شمس آباد اور اس کے قرب و جوار کی کافی بستیوں میں تبلیغ کی گئی۔

  3. (نوٹ: فقیر محمد امین صاحب کی دعوت پر حضور سوہنا سائیں قدس سرہ چند ایام شمس آباد میں قیام فرما رہے تھے، فقیر موصوف نے حضور سے التماس کیا تھا کہ حضور ہمارے یہاں تبلیغی مرکز بنانا پسند فرمائیں تو میں مرکز کے لئے اپنی زمین مدرسہ کے طلبہ و اساتذہ کے لئے اپنا باغ وقف کر دونگا، مگر حضور نے تبلیغی فائدہ کے پیش نظر شمس آباد کی بجاء ٹنڈوالہیار کے قریب مرکز بنانا پسند فرمایا جہاں گرمیوں کے قیام کے دوران مثالی تبلیغی فائدہ ہوتا رہا ہے۔)
  4. ۳۔ قلات سے چند میل کے فاصلہ پر ملگزار نامی بستی میں بھی گئے، جہاں حضور مدظلہ العالی بھی تشریف لے گئے تھے، اور آپ کی قیام گاہ پر آسمان سے نورانی شعائیں نازل ہوتے دیکھ کر حاجی امام بخش صاحب حضور سے بیعت ہوئے تھے۔
  5. ۴۔ ضلع خضدار کی تحصیل نال اور مضافاتی بستیوں ۔۔۔۔ وہیر ہزار گنجی اور ہڑنبو بھی گئے جہاں عرصہ پہلے رجال الغیب تبلیغ کے لئے تشریف فرما ہوتے تھے۔

رجال الغیب کے سلام: ہڑنبو بستی میں حضور کے غلام فقیر محترم مولوی محمد بخش صاحب نے بتایا کہ حضرت پیر مٹھا قدس سرہ کی حیات میں یہاں رات کو رجال الغیب (اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے جو دنیاوی چیزوں میں سے کچھ کھاتے پیتے نہیں، مخلوق کی اصلاح و تبلیغ کے لئے باذن الٰہی بعض مقامات پر تشریف لے جاتے ہیں) تشریف فرما ہوتے تھے اور رات ہی میں چلے جاتے تھے۔ علاقہ بھر کے لوگ بڑے شوق سے ان کی زیارت اور وعظ و نصیحت سننے کے لئے ایک کھلے میدان میں جمع ہوتے تھے، نہ معلوم کہاں سے اچانک تشریف فرما ہوکر وعظ نصیحت فرما کر چلے جاتے تھے مگر نہ تو کبھی انکو کسی نے کچھ کھاتے دیکھا نہ پیتے۔ البتہ بعض اوقات ان میں سے ایک بزرگ مجھے وضو کے لئے پانی لانے کا فرماتے تھے اور پانی لیکر وضو فرماتے تھے اور بس۔ اسی طرح دو تین سال تک وہ مسلسل تشریف فرما ہوکر تبلیغ کرتے رہے۔ ایک مرتبہ ان میں سے ایک نے مجھ سے پوچھا کیا آپ کو یہ معلوم ہے کہ میں کیوں اور کسی سے پانی لیکر وضو نہیں کرتا، صرف آپ سے یہ پانی لیکر وضو کرتا ہوں؟ جس پر میں نے لاعلمی کا اظہار کیا کہ مجھے معلوم نہیں۔ فرمایا اس لئے کہ تو پیر مٹھا (قدس سرہ) کا مرید ہے، ہم ان کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ مجدد دوران ہیں اور ان کے خلیفہ جن کو سوہنا سائیں کہتے ہیں وہ بھی کامل و مکمل بزرگ ہیں، جب آپ ان کی زیارت کے لئے جائیں تو دونوں بزرگوں کو ہمارے السلام علیکم کہنا اور دعا کے لئے بھی عرض کرنا۔ چنانچہ جب میں درگاہ رحمت پور شریف حاضر ہوا اور حضور پیر مٹھا قدس سرہ سے مصافحہ کے بعد ان بزرگوں کے السلام علیکم کہے، آپ نے سن کر فرمایا: ہاں میں انہاں کوں جاندا ہاں، ہیکڑا یمن دا ہے، ڈوں شام دے ہن۔ (میں ان کو جانتا ہوں، ایک یمن کا ہے اور دوسرے شام کے ہیں) نیز آپ نے تینوں بزرگوں کے نام بھی بتادیئے۔

اسی طرح حضرت سوہنا سائیں مدظلہ کو بھی ان کے السلام علیکم عرض کئے۔ آپ نے وعلیہم وعلیکم السلام فرماکر ارشاد فرمایا واپسی پر ان کو میرے السلام علیکم کہنا۔ چند ایام درگاہ شریف پر رہ کر جب حضرت صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے اجازت چاہی، تو آپ نے ان رجال الغیب کے نام عربی میں ایک مکتوب لکھ کر مجھے دیدیا اور فرمایا میرا یہ خط ان بزرگوں کو دینا۔ واپسی پر جب ان کی مجلس میں حاضر ہوا تو حضرت پیر مٹھا قدس سرہ اور حضرت سوہنا سائیں مدظلہ کے السلام علیکم پہنچائے اور خاموش کھڑا ہوگیا تو ان میں سے ایک بزرگ فرمانے لگے آپ ہماری چوری کررہے ہیں، وہ امانت ہمیں دیدیں۔ میں نے کہا حضرت میں چور تو نہیں ہوں، فرمایا واقعی چور نہیں اب یہاں سے ہماری ڈیوٹی ختم ہوچکی ہے، ہم یہاں سے جارہے ہیں، اب یہاں حضرت پیر مٹھا (رحمۃ اللہ علیہ) کے خلفاء کرام تبلیغ کے لئے تشریف فرما ہونگے، اسی طرح وہ بھی تبلیغ فرمائیں گے آپ حضرات ان سے تعاون کرنا۔ یہ کہہ کر چلے گئے، پھر کبھی تشریف نہ لائے۔ واضح رہے کہ رجال الغیب کی آمد تبلیغ (فقیر محمد بخش صاحب جو کہ بہت نیک بزرگ آدمی ہیں کے علاوہ مذکورہ بیانات) کے عینی گواہ ہڑنبو علاقہ میں بہت سارے آدمی آج بھی موجود ہیں۔

اس کے علاوہ واپسی پر جیکب آباد، کندھ کوٹ، غوث پور، کرم پور، کشمور، گڈو، فضل آباد وغیرہ میں بھی تبلیغ کرکے واپس درگاہ شریف پہنچے ہیں۔

 

(۱۱) مولانا محمد صدیق صاحب موصوف کا درج ذیل خط سن کر حضور نور اللہ مرقدہ اس قدر خوش ہوئے کہ بندہ کو فرمایا اس کی فوٹو اسٹیٹ بنوائیں کہ خدانخواستہ اگر اصل گم ہوجائے تو نقل ریکارڈ میں رہے۔

بعد از آداب۔۔۔

السلام علیکم و رحمۃ اللہ ۔۔۔۔ بعد از اقدام بوسی عرض یہ ہے کہ الحمد للہ حضور کی نگاہ کرم سے تبلیغ کا کام خوب ہورہا ہے۔ خلیج کی تمام ریاستوں میں حضور کے فیوض و برکات کا چرچا عام ہورہا ہے۔ چونکہ فقیر مسرت حسین صاحب کے پاس بکثرت لوگ آتے رہتے ہیں، فقیر صاحب اردو، عربی، انگریزی تینوں زبانوں میں بڑی روانی سے کلام کرتے ہیں، اس لئے یہ عاجز ان کے ہاں زیادہ جاتا رہتا ہے، اور وہ بھی بڑی دلچسپی سے تبلیغی کام میں تعاون کررہے ہیں۔ چنانچہ مورخہ ۳۔۹۔۸۳ یہ عاجز ان کے پاس گیا، اتفاقًا اس وقت مسرت صاحب کے پاس ایک بہت بڑے عالم تشریف فرما تھے جو خلیج کی تمام ریاستوں میں تبلیغ کرتے رہتے ہیں اور ان دنوں حکومت کی جانب سے بھارت اور بنگلہ دیش کے تبلیغی سفر میں جانے والے تھے، صلاح و مشورے کے لئے مسرت صاحب کے پاس گئے تھے، میرے جانے کے بعد مسرت صاحب نے ایک دوسرے کا تعارف کرایا، نیز ان کو بتایا کہ مولوی صاحب کے مرشد جو کہ سندھ پاکستان میں رہتے ہیں بڑے کامل ولی ہیں، ان سے بڑھ کر زود اثر فیض میں نے کہیں اور نہیں دیکھا۔ اس کے بعد مولوی صاحب میری طرف متوجہ ہوئے، مجھ سے حضور کے مزید فیوض و برکات سننا چاہتے تھے، پوری طرح عربی نہ جاننے کی وجہ سے میں نے اردو میں حضور کے فیوض و برکات کے بارے میں بتایا وہ اس قدر متاثر ہوئے کہ آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور بڑے شوق سے مجھ سے قلبی ذکر کا وظیفہ سیکھا اور کہنے لگے بلاشبہ آپ کے پیر ولی کامل ہیں۔

ابوظہبی میں ایک فقیر جو ٹیکسی چلاتے ہیں ایک بار ایک مریض کو لے آئے جو ڈاکٹروں سے علاوج کروا کر تنگ آچکا تھا۔ اس عاجز نے اسے قلبی ذکر کا وظیفہ سمجھایا مختصر نصیحت کی، وہ بے حد متاثر ہوا اور بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ذکر کرنے سے بفضلہ تعالیٰ بالکل تندرست ہوگیا۔ چنانچہ وہ اور دو مریض لے آیا، ذکر اللہ کی برکت سے وہ بھی صحت مند ہوگئے۔ جمعہ ۲۱۔۱۰۔۸۳ کو ایک فقیر صاحب کی دعوت پر جانا ہوا جہاں ۳۰ افراد نے ذکر سیکھا۔ ۴۔۱۱۔۸۳ کو حسب معمول اس عاجز کے پاس ۲۷ کا ماہانہ جلسہ منایا گیا۔ فقیر محمد اقبال کے گھر خواتین کے لئے باپردہ جلسہ سننے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ ۱۵ مرد اور ۷ خواتین طریقہ عالیہ میں داخل ہوئے۔ جمعہ کے دن فقیر محمد شریف کے یہاں عجمان میں جلسہ منعقد کیا گیا جہاں ۳۰ نئے افراد طریقہ عالیہ میں داخل ہوئے۔ مورخہ ۱۱۔۱۱۔۸۳ محترم مسرت حسین صاحب کی ترغیب پر ایک انگریز بھی طریقہ عالیہ میں داخل ہوا اور بڑا متاثر ہوا۔ اسی طرح ۱۸۔۱۱۔۸۳ کو محترم مسرت صاحب کے پاس جانا ہوا، اس کے پاس دو پاکستانی آفیسر بیٹھے ہوئے تھے، میرے جاتے ہی مسرت صاحب نے ان کو میرا تعارف کرایا اور حضور کے فیوض و برکات بتائے، ازحد خوش ہوکر طریقہ عالیہ میں داخل ہوئے۔ ان میں سے ایک نے کہا پہلے بھی میں نے سنا تھا کہ یہاں ایک بزرگ رہتے ہیں، جن کی تلقین سے دل ذکر اللہ سے جاری ہوجاتے ہیں۔

حضور کی نگاہ کرم سے میرے مدرسہ میں ۱۲۰ بچے زیر تدریس ہیں، صبح و شام پڑھائی ہوتی ہے، حضور کی نگاہ کرم سے تبلیغی جماعت اور وہابیوں کی مخالفت کے باوجود روز افزوں جماعت میں اضافہ ہورہا ہے، جمعہ کے دن تو پوری مسجد شریف جماعت سے بھر جاتی ہے۔

حضور کی صحت کی خبر سن کر بے حد خوشی حاصل ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس عاجز گنہگار کی زندگی بھی حضور کو مرحمت فرمائے، آمین۔

حضور کے در کا خادم فقیر محمد صدیق از دبئی پوسٹ بکس ۲۶۳۸