فہرست
سیرت ولی کامل (حصہ دوم)

باب اول

احترام رمضان المبارک

 

رمضان المبارک کا چاند دیکھتے ہی حضور کے مزاج میں یک گونہ خوشی کی لہر دوڑتی محسوس ہوتی تھی، جس کا اظہار آپ کے قول و فعل سے یکساں ہوتا تھا اور جس طرح حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم آخر شعبان میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو رمضان المبارک کی فضیلت، روزہ رکھنے کی ضرورت اور عبادت و نیکی کی ترغیب کے بارے میں خطاب فرماتے تھے، اسی طرح عاشق رسول متبع سنت سیدی سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ بھی شعبان المعظم کے نصف آخر سے احترام رمضان المبارک کے سلسلے میں مختلف عملی اقدامات فرماتے تھے۔

حضور کے فرمان سے عمومًا ۱۵ شعبان المعظم سے خلفاء کرام و دیگر مبلغ فقراء اپنے اپنے علاقوں میں احترام رمضان المبارک کی تبلیغ شروع کردیتے تھے اور جن علاقوں میں مبلغ نہ ہوتے تھے تو ان علاقوں کے لئے دوسرے علاقوں کے مبلغین کو مقرر فرماتے تھے۔ شعبان المعظم کے آخری ایام میں دربار طاہر آباد شریف میں جلسہ عام منعقد فرماتے تھے جس کا اہم مقصد عوام الناس کو احترام رمضان المبارک کی تبلیغ و تحریص کے علاوہ خلفاء کرام اور مبلغ فقراء کو تبلیغ کے بارے میں خصوصی تاکید کرنا ہوتا۔ جبکہ بعض اوقات جلسہ کے علاوہ خلفاء کرام کا اجلاس بلاکر رمضان المبارک کی خصوصی تبلیغ کا ارشاد فرماتے تھے اور جس علاقہ کے مبلغ حضرات اس اجلاس میں شامل نہ ہوتے ان کو خصوصی تاکیدی خطوط ارسال فرماتے تھے۔

مبلغین حضرات بازاروں، ریلوے سٹیشنوں، بس سٹاپوں، ٹرین کے ڈبوں اور بسوں میں چڑھ کر اپنے مسلمان بھائیوں کو احترام رمضان کی تاکید فرماتے تھے، اس کے علاوہ حکومت کی غفلت اور ناعاقبت اندیشی کی وجہ سے جو ہوٹل رمضان المبارک میں دن کے وقت کھلے ہوتے ان میں جاکر مالکان ہوٹل اور روزہ خوروں کو احساس دلاتے، جس کی بدولت بہت لوگ توبہ تائب ہوکر آئندہ روزہ رکھنے کا عہد کرتے۔ اس طرح کئی ہوٹل والے اپنے ہوٹل بند کردیتے اور پورا رمضان بند رکھتے۔ صوبہ سندھ کی جیلوں میں تبلیغ کرنے کے لئے ہر سال سندھ سیکریٹریٹ سے خصوصی اجازت نامے حاصل کئے جاتے تھے۔ رمضان المبارک کے فضائل اور روزہ کی اہمیت سن کر سینکڑوں قیدی روزہ رکھنے کا عہد کرتے اور دوسری بار جانے پر بتاتے کہ ہم مسلسل روزے رکھ رہے ہیں۔ جیل حکام احترام رمضان کی اس خصوصی تبلیغ سے متاثر ہوکر تائیدی اسناد دیتے تھے جو خاصی تعداد میں آج بھی ہمارے پاس محفوظ ہیں (اگرچہ ہمارے نقطہ نگاہ سے ان کی چنداں اہمیت نہیں ہے)۔ بعض مقامات پر مبلغین کی کوششوں سے قیدیوں کو سحری و افطاری کی مناسب سہولتیں مہیا ہوجاتیں۔ بفضلہ تعالیٰ آج تک مذکورہ طریقہ پر رمضان المبارک میں تبلیغ کا سلسلہ جاری ہے۔ اے کاش! ہمارے علماء کرام و سجادہ نشین حضرات بھی اسی طریقہ پر احترام رمضان المبارک کی تحریک چلائیں تو نہ معلوم کتنے غافل مسلمان روزے رکھ کر اپنے خالق و مالک کو راضی کریں۔

رمضان المبارک میں مبلغین حضرات کی جانب سے تبلیغی احوال پر مشتمل خط اتنی کثرت سے آتے تھے کہ عمومًا دو سے تین بار حضور مسجد شریف میں بیٹھ کر کافی دیر تک سنتے رہتے، پھر بھی سینکڑوں کی تعداد میں خط بچ جاتے جو بعد میں پڑھے جاتے تھے۔ احترام رمضان المبارک کے سلسلے میں مختلف علاقوں کے فقراء اردو سندھی زبانوں میں اشتہارات چھپواتے تھے جبکہ اردو نظم میں ”نزول رحمت“ نامی ایک کتاب کے علاوہ درگاہ شریف کی جانب سے ایک کتاب ”رمضان جوں رحمتوں“ کے نام سے اور ایک ”برکات رمضان“ کے نام سے شائع ہوکر بے حد مقبول ہوئیں۔ جبکہ ہالا ضلع حیدرآباد کے فقراء کے ”رمضان جون فضیلتون“ کے نام سے ایک کتاب چھپواکر مفت تقسیم کی۔

عبادت و اطاعت

حضور کی تو زندگی ہی عبادت الٰہی اور اشاعت اسلام کے لئے وقف تھی۔ رمضان المبارک میں تو حسب ضرورت مختصر وقت آرام کرنے کے بعد بکثرت تلاوت قرآن، نوافل، ذکر و مراقبہ اور بار بار صلٰوۃ التسبیح پڑھتے نظر آتے تھے۔ جملہ جماعت خاص کر دربار عالیہ پر مقیم فقراء اور مدرسہ کے اساتذہ اور طلبہ کو تاکید فرماتے تھے کہ روزانہ کم از کم دو سو بار درود شریف، دو سو بار کلمہ طیبہ لا الٰہ الا اللہ دھیمی آواز سے کہ آدمی خود سنتا رہے، ہر سو کے آخر بار پورا کلمہ لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ، اور دو سو بار استغفار اور دو سو بار سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم وبحمدہ پڑھا کریں۔ اس کے علاوہ صلٰوۃ التسبیح بھی کم از کم ایک بار روزانہ پڑھا کریں، نہیں تو دوسرے تیسرے دن تو ضرور پڑھا کریں۔ نماز تہجد تو الحمد للہ سبھی پڑھتے ہیں، باقی اشراق، عصر اور عشاء کے بعد پڑھی جانے والی غیر مؤکدہ سنتیں اگر کسی وجہ سے پہلے پابندی سے نہیں پڑھتے تو رمضان المبارک میں سستی نہ کریں، پڑھتے رہیں۔ تلاوت قرآن مجید بھی جس قدر ہوسکے ضرور کیا کریں کہ قرآن مجید کو رمضان المبارک سے خصوصی نسبت ہے کہ اسی ماہ میں اس کا نزول ہوا ہے۔

لیلۃ القدر کے بارے میں خصوصی ارشادات

۲۷ رمضان المبارک ۱۳۹۹ھ میں بعد از نماز عشاء حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ نے ارشاد فرمایا: (حاضرین ۱۵۰ کے قریب تھے) یہ رات نہایت متبرک ہے۔ اکثر مفسرین کرام کی رائے کے مطابق یہی لیلۃ القدر ہے۔ جس کی فضیلت خداوند عزوجل نے ان الفاظ سے بیان فرمائی ہے ”لیلۃ القدر خیر من الف شھر“۔ کہ قدر کی رات ہزار ماہ سے بہتر ہے۔ (سورۃ القدر) ایک ہزار ماہ کے تقریبًا ۸۳ سال بنتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے لیلۃ القدر کو اس سے بھی بڑھ کر مرتبہ والی رات قرار دیا ہے۔ اس بابرکت رات میں جس قدر ممکن ہو زیادہ جاگیں۔ ہمارے پیشوا حضرت امام اعظم قدس سرہ نے چالیس سال تک مسلسل نماز عشاء کے وضو سے فجر کی نماز ادا کی ہے۔ یعنی آپ اتنا طویل عرصہ ساری ساری رات جاگ کر عبادت و بندگی کرتے رہے۔ اس طرح سیدنا حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی محبوب سبحانی قدس سرہ کے متعلق بھی مروی ہے کہ آپ چالیس سال تک مسلسل ہر رات جاگتے رہے اور عشاء کے وضو سے فجر ادا کرتے رہے۔ جاگنے کے معاملے میں شہری دیہاتیوں سے کافی آگے ہیں۔ عمومًا ان متبرک راتوں میں بڑی کثرت سے شہر کے لوگ رات بھر مسجد میں بیٹھ کر عبادت، ذکر، تلاوت وغیرہ میں مشغول رہتے ہیں۔ آپ حضرات تو اہل ذکر، اہل دل اور صاحب باطن ہیں۔ آپ کو تو زیادہ شوق و محبت سے ان راتوں میں جاگ کر عبادت الٰہی میں مصروف رہنا چاہیے۔
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ اس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا بکثرت پڑھا کرتے تھے:

اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌ تُحِبُّ الۡعَفۡوَ فَاعۡفُ عَنِّیۡ یَا غَفُوۡرُ

اس کے علاوہ دو تسبیح درود شریف، دو تسبیح کلمہ طیبہ لا الٰہ الّا اللہ درمیانی آواز سے کہ خود آدمی سن سکے۔ ہر تسبیح کے آخر میں محمد رسول اللہ سمیت پورا کلمہ پڑھیں۔ دو تسبیح استغفار:

اَسۡتَغۡفِرُ اللہَ تَعَالیٰ رَبِّیۡ مِنۡ کُلِّ ذَنۡبٍ وَّ اَتُوۡبُ اِلَیۡہِ۔

یہ تسبیحات روزانہ پڑھنی چاہئیں۔ کم از کم اس بابرکت رات میں تو ضرور پڑھیں۔ اپنے گناہوں سے صحیح معنیٰ میں توبہ تائب ہوکر بخشش طلب کرنی چاہیے، اپنے والدین زندہ ہوں یا وفات پاچکے ہوں، ان کے لئے بھی دعائیں مانگنی چاہئیں۔ اس کے علاوہ وہ اپنے رشتہ دار پڑوسی اور دوست و احباب جو زندہ ہوں ان کے لئے دین پر استقامت کی اور جو وفات پاچکے ہیں ان کے لئے بخشش کی دعائیں کی جائیں۔ آخر میں آپ تمام حاضرین خواہ غائبین کے لئے دعا فرماتے تھے۔ اسی طرح ہر سال قدر کی رات خصوصی ارشاد فرماتے تھے اور دیگر موجود علماء کرام کو بھی وعظ کا حکم فرماتے تھے۔ تقریبًا ساری رات ذکر، تلاوت، مراقبہ، حمد و نعت، نوافل وغیرہ میں گزرتی تھی۔ اور جو نئے فقراء صلٰوۃ التسبیح پڑھنا نہیں جانتے تھے ان کے لئے باجماعت صلٰوۃ التسبیح کا اہتمام ہوتا تھا۔

رمضان المبارک ۱۴۰۳ھ کی تبلیغی سرگرمیاں

حضور نور اللہ مرقدہ کے فرمان سے رمضان المبارک آتے ہی مبلغین خلفاء و فقراء ایک نئے ولولے اور جذبے سے تبلیغ میں مصروف ہوجاتے تھے، اور تبلیغی احوال پر مشتمل خطوط بھی ارسال کرتے تھے جن کی تعداد سینکڑوں میں ہوتی تھی۔ تاہم بڑی اکثریت ان مبلغین کی ہوتی تھی جو بالمشافہ حضور کی خدمت میں آکر تبلیغی احوال سناتے تھے یا پھر کم علمی یا غفلت کی وجہ سے تبلیغ کرنے کے باوجود خط نہیں لکھتے تھے۔

۱۴۰۳ھ میں حضور نور اللہ مرقدہ کے خصوصی فرمان کے تحت احقر نے مبلغین حضرات کی اجمالی رپورٹ تیار کی جن کے خطوط حضور کی خدمت میں پہنچے اور وہ طاہر آباد شریف قیام کے دوران پڑھے گئے (جبکہ کافی تعداد میں خطوط واپسی پر اللہ آباد شریف میں پڑھے گئے)۔

  • ضلع نواب شاہ۔ مبلغین ۵۳
  • کراچی۔ مبلغین ۴۶
  • حیدرآباد۔ مبلغین ۴۵
  • لاڑکانہ۔ مبلغین ۲۲
  • دادو۔ مبلغین ۱۵
  • تھرپارکر۔ مبلغین ۷
  • ٹھٹھہ۔ مبلغین ۲
  • خیرپور۔ مبلغین ۱۳

تاثرات

کراچی سے مولانا محمد رفیق صاحب لکھتے ہیں: حضور تبلیغ میں اس قدر لذت محسوس ہوتی ہے گویا کہ جنت میں ہیں، سخت گرمیوں کے باوجود تبلیغ میں پیاس اور بھوک محسوس ہی نہیں ہوتی، سارا دن ذکر و فکر میں گزرتا ہے، بعض اوقات جذبہ و گریہ کی حالت طاری ہوجاتی ہے۔ اتفاقًا اگر کسی وجہ سے تبلیغ میں ناغہ ہوجاتا ہے تو مزہ نہیں آتا، پریشانی سی رہتی ہے۔ گو مارشل لاء کی وجہ سے کراچی کی مساجد میں بھی کھلی تقریر کی اجازت نہیں، لیکن فقراء اسٹیشنوں، باغیچوں اور بازاروں میں بھی اسپیکر استعمال کرتے ہیں۔ تائید الٰہی اس قدر شامل حال ہے کہ کسی کو روکنے کی جرات ہی نہیں ہوتی۔ بسا اوقات اسپیکر اور لوگوں کا ہجوم دیکھ کر پولیس والے چلے آتے ہیں، مگر وہ بھی رمضان المبارک کے موضوع پر اصلاحی تقریر سن کر خاموش کھڑے رہتے ہیں۔ کراچی ہی سے فقیر قادر بخش مستانہ لکتے ہیں کہ میں نے ایک بس میں چڑھ کر تبلیغ کی، شروع میں تو بس کنڈیکٹر پان کھارہا تھا، مگر تقریر کے بعد اس نے بھی وعدہ کیا کہ آئندہ روزہ رکھوں گا۔

اوتھل بلوچستان کے فقیر ماسٹر عبدالحکیم لکھتے ہیں کہ درگاہ شریف سے واپسی پر میں نے کراچی سے تبلیغ کی ابتداء کی۔ ایک بس میں تقریر کررہا تھا کہ ایک صابن فروش نے رخنہ بازی کی، باز نہ آنے پر لوگوں نے اسے دھکے دیکر بس سے اتاردیا اور میں تبلیغ کرتا رہا۔ ابراہیم حیدری میں ایک ایسی جگہ تبلیغ کرنے گیا جہاں ملنگ لوگ چرس پینے میں مصروف تھے، شروع میں تو میری نصیحت سننے کے لئے آمادہ نہ تھے مگر بعد میں توجہ سے سنتے رہے اور اچھے تاثرات کا اظہار کرنے لگے۔ نواب شاہ سے مولانا عبدالرحمان صاحب لکھتے ہیں کہ لاکھا روڈ میں جب ہم نے تبلیغ کی، آخر میں ایک شخص کہنے لگا یہ آپ حضرات کی مجھ پر خصوصی مہربانی ہوئی ہے کہ یہاں تشریف لائے، آپ کے وعظ سے متاثر ہوکر میں نے آئندہ تمام روزے رکھنے کا وعدہ کرلیا ہے، ورنہ اس سال والد صاحب کے روزہ نہ رکھنے کی وجہ سے مین نے بھی روزے نہ رکھنے کا ارادہ کرلیا تھا۔ کنڈیارو سے مولانا محمد قاسم گبول صاحب لکھتے ہیں کہ ہم اللہ آباد شریف کے فقراء نے احترام رمضان المبارک کے بینر بنوالئے اور جلوس کی صورت میں کنڈیارو اور ٹھارو شاہ کا گشت کیا، متعدد مقامات پر تقاریر کیں، اللہ اللہ کرتے ہوئے جلوس کی شکل میں پولیس اسٹیشن پر بھی گئے، جہاں پولیس کے عملے کو تبلیغ کی گئی اور عملی طور پر تعاون کرنے کیلئے کہا گیا، انہوں نے روزے رکھنے اور روزہ خوروں کی اصلاح کے لئے شہر میں گشت کرنے کا وعدہ کیا۔

فقیر رسول بخش مستانہ لکھتے ہیں کہ ڈیپارجہ کے نزدیک ایک بستی میں تبلیغ کرنے گیا، وہاں یہ دیکھ کر انتہائی افسوس ہوا کہ جو مزدور اور مستری مسجد شریف کی تعمیر کررہے تھے، دن دیہاڑے چائے پی رہے تھے۔ مجھ سے رہا نہ گیا، جوش میں آکر ڈنڈا لے لیا اور ان سے لڑنے کا ارادہ کرلیا تھا کہ ان میں سے کچھ آدمی چائے چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے، بہرحال میں نے وہاں بھی تبلیغ کی۔ نواب شاہ شہر سے محترم امام علی بروہی صاحب لکھتے ہیں احترام رمضان المبارک کے سلسلے میں ہم فقراء ڈی۔سی اور ڈی۔ایس۔پی صاحب سے ملے اور ان کو تبلیغ کی اور ذمہ داری کا احساس دلایا، نتیجۃ انہوں نے مختلف مقامات پر چھاپے مار کر کئی روزہ خوروں کا چالان کردیا۔

محترم منظور حسین ڈھر کو جو کہ تبلیغ میں بھی ساتھ چلتا ہے، خواب میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت باسعادت نصیب ہوئی، جس سے اس کی ہمت و استقامت میں اور اضافہ ہوگیا اور اس نے آئندہ سنت کے مطابق داڑھی رکھنے کا وعدہ کیا ہے۔

درگاہ اللہ آباد شریف سے فقیر گل محمد صاحب (جو بالکل ان پڑھ ہیں مگر حضور کے فرمان کے مطابق چند آیات احادیث کا مفہوم یاد کرکے تبلیغ کرتے رہتے ہیں) لکھتے ہیں بس میں تبلیغ کرتے وقت ایک آدمی نے مجھے کچھ پیسے دیئے، اس کے اصرار کرنے پر میں نے لے لئے، لیکن جب تقریر ختم کی تو یہ کہہ کر واپس دیدیئے کہ میں رضائے الٰہی کی خاطر تبلیغ کرتا ہوں، یہ پیسے آپ کسی اور ضرورت مند کو دیدینا۔ جس سے وہ اور بھی زیادہ متاثر ہوا۔

نواب شاہ کے محترم محمد ظریف خان پٹھان نے بتایا کہ دن بھر تبلیغ کرنے کے بعد جیسے ہی رات کو سویا خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی، وہیں حضرت سوہنا سائیں قدس سرہ بھی موجود نظر آئے، جن کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ میرے دین کی بڑی خدمت کررہے ہیں، دور حاضر میں یہی وہ مجاہد ہیں جو کہ احترام رمضان المبارک کے سلسلے میں اتنا کام کررہے ہیں۔ حال ہی میں جب ظریف خان صاحب سے احقر نے دریافت کیا تو بتایا کہ ہر سال رمضان المبارک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوتی ہے، آٹھ دس سال سے کبھی رمضان میں ناغہ نہیں ہوا، حضور سوہنا سائیں قدس سرہ کے وصال کے بعد حضرت صاحبزادہ مدظلہ کے بارے میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم تعریفی کلمات ارشاد فرماتے رہتے ہیں۔

لاڑکانہ سے محترم حاجی محمد حسین صاحب لکھتے ہیں کہ احترام رمضان المبارک کے سلسلے میں ہم لاڑکانہ میں متعین فوجی سربراہوں سے ملے، جنہوں نے تعاون کا یقین دلایا اور شہر بھر میں پولیس کا گشت شروع کرادیا ہے۔ جہاں کہیں کوئی کھاتے پیتے نظر آتا ہے، اسے سخت سزا دیتے ہیں یا جرمانہ وصول کرتے ہیں، کئی آدمیوں کو ۲،۳ دن کے لئے جیل میں بھی بھیج دیا ہے۔

لاڑکانہ ہی سے محترم محمد منیر شیخ صاحب لکھتے ہیں کہ باقرنی اسٹاپ پر تقریر سنکر ایک ہوٹل کے مالک نے اسی وقت ہوٹل بند کردیا اور سارا رمضان المبارک دن کو ہوٹل نہ کھولنے کا وعدہ کیا۔ نوڈیرو سے شاہ نواز کوری صاحب لکھتے ہیں کہ حضور آج کل میں ایک ایسی مسجد شریف میں نماز کی امامت کرارہا ہوں جس میں پہلے ۲۔۳ آدمی نماز پڑھتے تھے، صحیح معنوں میں ان کو بھی نماز نہیں آتی تھی، ثناء و تشہد تک یاد نہیں تھا، الحمد للہ اب وہ بھی نماز سیکھ رہے ہیں اور مسجد شریف میں پابندی سے چار صفیں جماعت کے وقت ہوجاتی ہیں۔

حیدرآباد سے مولانا نسیم احمد صاحب لکھتے ہیں کہ مسلم ہائی اسکول کے میدان میں کچھ آدمی شطرنج کھیل رہے تھے، ہم ان کے ہاں چلے گئے، تبلیغ سے بڑے متاثر ہوئے، اسی طرح فردوس کالونی میں ایک جگہ گئے جہاں لوگ جوا کھیل رہے تھے، الحمد للہ ہماری گذارش پر متوجہ ہوکر تقریر سنتے رہے اور آخر میں روزے رکھنے کا وعدہ بھی کیا۔
لاہور سے محترم امام الدین بلوچ صاحب لکھتے ہیں کہ حضور کے فرمان کے مطابق ہم محنت سے تبلیغ کررہے ہیں، حال ہی میں شیعہ مسلک کا ایک لڑکا تبلیغ سے اس قدر متاثر ہوا کہ پابندی سے روزے رکھ رہا ہے، اور نماز بھی ہمارے ساتھ پڑھتا ہے۔