فہرست
بزرگوں کی رہنمائی۔ سیرت ولی کامل (حصہ دوم)

باب اول

بزرگوں کی رہنمائی

 

واضح ہو کہ سندھ و پنجاب کے کئی مشہور و معروف صاحب مزار بزرگان دین نے اپنے یہاں چلے کاٹنے والوں اور ہدایت و رہنمائی کے لئے آنے والے سچے طالبوں کو خواب میں، حضور سوہنا سائیں قدس سرہ کے حضور حاضر ہوکر فیض حاصل کرنے کا حکم فرمایا، جن میں سے چند واقعات پیش کئے جاتے ہیں۔

حضرت غوث بہاء الحق ملتانی رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت اور تائید

محترم خلیفہ مولانا محمود الحسن صاحب مری (بڑے صالح آدمی ہیں، تبلیغ اسلام کا اس قدر فکر رکھتے ہیں کہ ایک ٹانگ سے معذور ہونے کے باوجود اکثر وقت تبلیغ میں رہتے ہیں، متوکل اس درجہ کے ہیں کہ اگر کوئی آدمی ترس کھاکر کچھ دینا چاہتا ہے تو بھی نہیں لیتے) ایک مرتبہ محترم مولانا عبدالغفور صاحب کراچی والوں کے ساتھ تبلیغی سلسلہ میں پنجاب جانے کے لئے جب حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ سے اجازت لینے دربار شریف پہنچے تو حضور نے ان کو فرمایا کہ ملتان شریف میں حضرت خواجہ غوث بہاؤ الحق ذکریا رحمۃ اللہ علیہ کے مزار شریف پر جاکر میری طرف سے سلام عرض کرنا اور یہ بھی عرض کرنا کہ ہم فقراء آپ ہی کے شروع کئے ہوئے تبلیغی مشن کا کام کر رہے ہیں، اس لئے ہمیں آپ کی توجہات عالیہ اور تعاون کی ضرورت ہے، ہم یہاں آپ کے شہر ملتان میں تبلیغ کے لئے ہی حاضر ہوئے ہیں۔ محترم مولانا محمود الحسن صاحب نے بتایا کہ صبح تقریبًا ۸ بجے ہم دربار حضرت غوث بہاؤ الحق رحمۃ اللہ علیہ پر حاضر ہوئے، کئی اور آدمی پہلے سے وہاں موجود تھے۔ دروازہ مبارک سے اندر داخل ہوکر جیسے ہی میری نظر مزار شریف پر پڑی میری حالت دگرگوں ہوگئی۔ ایک ساتھ عجیب قسم کا رعب اور کشش طاری ہوگئے کہ میں بے اختیار وجد و جذب کی حالت میں آہ و فغاں کرنے لگا۔ اسی کیف و مستی کے عالم میں بچشم سر میں نے دیکھا کہ غوث بہاؤ الحق رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مزار اقدس سے باہر تشریف لائے اور پوری طرح ہماری طرف متوجہ ہیں۔ میں نے زبان حال سے حضرت قبلہ سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی جانب سے سلام پیش کرکے دعا کے لئے عرض کی، جس پر آپ نے ارشاد فرمایا: حضرت سوہنا سائیں (نور اللہ مرقدہ) ہمارے مخلص دوست ہیں، آج کل بے لوث دینی خدمت کر رہے ہیں، آپ ان کو میرا سلام پہنچانا اور کہنا کہ بلاشبہ ہم نے بھی زندگی بھر اسی تبلیغی مشن کا کام کیا ہے۔ اب آپ ہمارے شہر ملتان کے لئے اپنا کوئی خلیفہ صاحب تبلیغ کے لئے مقرر فرمادیں، ہم ہر طرح سے ان سے تعاون کریں گے، انشاء اللہ تعالیٰ ان کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہوگی۔ تقریبًا ایک گھنٹہ مسلسل مجھ پر یہی بے خودی و گریہ زاری کی حالت طاری رہی جسے دیکھ کر دیگر حاضرین بھی رو رہے تھے۔ غرضیکہ جن سعید لمحات میں حضرت غوث رحمۃ اللہ علیہ مجھ سیہ کار سے ہم کلام رہے، میری زندگی کا عظیم سرمایہ ہیں جنہیں میں کبھی بھول نہیں سکتا۔ اس کے بعد حضرت خواجہ رکن عالم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے مزار شریف تک اسی مستی کے عالم میں پس پشت چلتا رہا۔ معذور ہوتے ہوئے بھی آخر تک حضرت غوث رحمۃ اللہ علیہ کے مزار شریف کی طرف پشت کرکے نہیں چلا۔ حضرت رکن عالم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے مزار اقدس سے ہوکر احباب کے ساتھ شہر چلا گیا، مگر بار بار گریہ طاری ہوجاتا۔ شام گئے تک الحمد للہ یہی کیفیت طاری رہی۔ یہ سب کچھ میرے پیر و مرشد حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی توجہات عالیہ اور خصوصی نظر کرم کا صدقہ و نتیجہ تھا، ورنہ من آنم کہ من دانم کے مصداق میں کہاں اس لائق تھا کہ مجھ پر اتنا کرم ہوتا۔

واضح رہے کہ جب ملتان شریف سے واپسی پر مولانا موصوف نے مذکورہ تفصیلی احوال حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ سے بیان کئے تو آپ کی خوشی کی انتہا نہ رہی اور باوجود یہ کہ آپ کے بعض خلفاء کرام پہلے بھی ملتان شریف میں محدود پیمانہ پر تبلیغ کرتے رہے تھے، پھر بھی حضرت غوث رحمۃ اللہ علیہ کی طلب و رضا کے مطابق آپ نے خلیفہ محترم مولانا محمد معصوم صاحب (سنانواں ضلع مظفرگڑھ) کو ملتان شریف میں باقاعدگی سے تبلیغ کرنے کے لئے تاکید فرمائی، ان پر بھی حضرت غوث بہاؤ الحق رحمۃ اللہ علیہ کی اسی طرح کرم نوازی ہوئی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب

چنانچہ صاحبزادہ مولانا محمد معصوم صاحب بھی حسب ارشاد حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ ملتان میں تبلیغ کرنے سے پہلے دربار حضرت غوث بہاؤ الحق ملتانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پر حاضر ہوئے۔ حضرت غوث رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے جو ان پر شفقت فرمائی اس سلسلہ میں جناب صاحبزادہ صاحب نے مؤرخہ تیس اپریل ۱۹۸۳ء حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی خدمت میں خط لکھا۔ اس کا متن یہ ہے:

”روہڑی سے بذریعہ ٹرین رات ایک بجے ملتان پہنچے۔ حضور کے فرمان کے مطابق سیدھے مزار حضرت غوث بہاء الحق زکریا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پر گئے اور دربار پر حاضری دی، رات قیام کیا۔ بعد نماز تہجد فقراء اور اس عاجز نے مراقبہ کیا حتیٰ کہ صبح کی نماز کا وقت ہوگیا، کوئی احوال معلوم نہ ہوئے۔ صبح کی نماز پڑھ کر پھر مراقبہ کیا تو حضرت غوث پاک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی زیارت نصیب ہوئی۔ آپ نے بڑی مہربانی اور شفقت فرمائی۔ اس عاجز کے سر پر ہاتھ مبارک پھیرا اور فرمایا، بیٹا ہمت و جرات سے کام لو، آپ کے مرشد سوہنا سائیں کے سر پر غوثیت کا تاج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھا ہے، اور جو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض کا طالب ہو وہ سوہنا سائیں سے یہ نعمت حاصل کرسکتا ہے۔ اس عاجز نے حضور کے سلام عرض کئے اور عرض کیا کہ حضور نے اس عاجز کو آپ کے ملتان میں تبلیغ کے لئے بھیجا ہے، آپ اس عاجز کی مدد فرماویں۔ آپ نے فرمایا اپنے شیخ و مرشد سوہنا سائیں کو میرا سلام کہنا اور یہ کہنا کہ آپ اس دور ظلمت میں یہ (تبلیغ کا کام) جہاد اکبر کر رہے ہیں، اس لئے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو محبوب رکھتے ہیں۔ اس عاجز نے عرض کیا حضور ہم تو رات سے آپ کے مزار مبارک پر مراقب ہیں، رات حضور کی زیارت نہ ہوئی کیا وجہ ہے؟ آپ نے فرمایا ہر جمعہ اور سوموار کی رات میں حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت عالیہ میں حاضر ہوتا ہوں۔ چونکہ آج سوموار کی رات تھی اس لئے میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار عالیہ پر گیا ہوا تھا۔ وہاں مجھے حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ جلدی جاؤ تمہارے دربار پر ہمارے محبوب سوہنا سائیں کا ایک فقیر منتظر بیٹھا ہے۔ میں اس لئے ابھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق پہنچا ہوں۔ اور فرمایا کہ حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ سوہنا سائیں کو میرا سلام کہنا اور کہنا کہ آپ بھی ہمارے محبوب ہیں اور آپ کی جماعت بھی ہمیں محبوب ہے۔ مزید فرمایا اس دور میں آپ کے شیخ اللہ کے محبوب ہیں، ان کی توجہ فیض و برکت ہی آپ کے لئے کافی ہے۔ تاہم میں انشاء اللہ تعالیٰ ضرور آپ کی مدد کروں گا۔ اس کے بعد آپ نے اجازت فرمائی اور فرمایا کہ آج صبح کا ناشتہ میرے پاس کھاکر جاؤ۔ ہم حضرت کی مسجد شریف میں جاکر بیٹھے کہ ایک سفید ریش آدمی کھانے کا ایک طشت لئے ہوئے مسجد میں آیا اور کہا آپ لوگ سندھ سے آئے ہیں؟ ہم نے کہا جی ہاں۔ تو اس نے ہمارے سامنے کھانا رکھ دیا۔ کھانا ایسا لذیذ تھا کہ جس کی تعریف کے لئے میرے پاس الفاظ نہیں۔ یہ سب حضور کی مہربانی ہے ورنہ یہ عاجز اس کے قابل نہیں۔

(فقیر محمد معصوم بخشی حبیبی غفاری)

محبوبان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

واضح ہو کہ کئی ماسلف بزرگان طریقہ عالیہ نقشبندیہ علیہم الرحمہ کو بھی الہام، حال اور کشف کے ذریعے منجانب اللہ تعالیٰ محبوبیت کی دولت سے نوازا گیا ہے۔ چنانچہ سیدی سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ اس سلسلے میں خصوصیت سے تین مشائخ کے نام ذکر کیا کرتے تھے۔ ایک حضرت امام ربانی مجدد منور الف ثانی قدس سرہ جن کو بحالت مراقبہ:

قَدۡ غَفَرۡتُ لَکَ وَ لِمَنۡ تَوَسَّلَ بِکَ بِوَاسِطَةٍ اَوۡ بِلَا وَاسِطَةٍ اِلیٰ یَوۡمِ الۡقِیَامَةِ۔

ترجمہ۔ میں نے آپ کو بخش دیا اور اس کو بھی جس نے کسی واسطہ سے یا براہ راست آپ کا وسیلہ پکڑا (بیعت ہوا) قیامت تک (یعنی آپ کے خلیفہ یا خلیفہ کے خلیفہ سے بیعت ہوا، اسی طرح قیامت تک جو آپ کے سلسلہ میں داخل ہوا) کی بشارت دی گئی، ساتھ ساتھ ان انعام الٰہی کے اظہار کا بھی حکم فرمایا گیا۔ دوسرے حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے مرشد اول حضرت پیر فضل علی قریشی مسکین پوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جن کو بمع مریدین کے شرف محبوبیت کا مژدہ سنایا گیا۔ جس کا تذکرہ حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ نے اپنے اس فارسی شعر میں فرمایا ہے جو دربار عالیہ مسکین پور شریف کی حاضری کے موقعہ پر بحالت مراقبہ پڑھا تھا

شد خطابش باصواب از شاہ حضرت کائنات
شرف اصحابک کاصحابی حضرت شاہ فضل

تیسرے حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے محبّ و محبوب مرشد کامل حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ جن کے لئے محترم حاجی مشتاق احمد صاحب کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے شرف محبوبیت و قبولیت کی بشارت موصول ہوئی، جس کا تذکرہ کرتے ہوئے حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ نے فرمایا:

ڏس شان عزت بزرگي جلالت
عطا ڪيس عربيءَ پنهنجي نيابت

ڪيس مير مدنيءَ ڪيڏي عنايت
بچاءِ امت منهنجي توکي آ پارت

تون محبوب منهنجو جماعت پياري
منهنجو پير ڪامل ...

چوتھے حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ جن کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوبیت کا پیغام حضرت غوث بہاء الحق زکریا ملتانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی معرفت پہلے ذکر کیا گیا۔ اسی قسم کے بشارات اور خواب کئی متقی، صالح فقراء کو نظر آئے جن میں سے یہاں صرف ایک خواب ذکر کرتا ہوں جو بزرگ صفت، نیک و صالح عزیز القدر محترم جناب الحاج احمد حسن صاحب نے مدینہ منورہ قیام کے دوران، اور خواب بھی مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر دیکھا تھا، کہ نیند کا غلبہ ہوگیا، آنًا فانًا تمام مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم نور سے معمور نظر آئی، اور روزانہ کی نسبت بہت زیادہ آدمیوں کا ہجوم بھی نظر آیا، اچانک حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم عربی لباس میں ملبوس ریاض الجنہ میں جلوہ افروز نظر آئے، آپ کی تشریف آوری سے حرم شریف کی نورانیت میں جو بے پناہ اضافہ نظر آیا بس وہ تصور ہی کرسکتا ہوں، میری زبان و قلم اس کی تصویر کشی سے قاصر ہیں، البتہ اپنی بساط کے مطابق اس نورانی منظر کے بارے میں حلفیہ یہ کہہ سکتا ہوں کہ اس وقت نبی امی فداہ ابی و امی صلی اللہ علیہ وسلم باب السلام کی جانب چہرہ انور کئے ہوئے منتظر نظر آئے، داہنے ہاتھ مبارک سے باب السلام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے راستے میں کھڑے آدمیوں کو راستہ سے ہٹنے کا حکم فرما رہے تھے۔

اشارہ کے ساتھ ساتھ زبان درافشان سے ارشاد فرمایا پیچھے ہٹ کر راستہ کشادہ رکھیں کہ میرے محبوب آرہے ہیں۔ اتنے میں میرے مرشد مربی حضور قبلہ سوہنا سائیں سبز عمامہ باندھے ہوئے باب السلام سے مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں داخل ہوئے اور سیدھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں چلے آئے، ملاقات میں کچھ اس انداز کی وارفتگی اور کشش تھی کہ دو عزیز ترین ساتھیوں کے برسوں بچھڑ جانے کے بعد کی ملاقات میں بھی اتنی کشش معلوم نہیں ہوتی۔ کچھ دیر آپس میں نہ معلوم راز و نیاز کی کیا باتیں ہوتی رہیں، اس کے بعد میری طرف اشارہ کرکے حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی، یا رسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم! یہ آپ کا غلام آپ کی خدمت میں رہتا ہے، آپ کو اس کی پارت ہو۔ جس پر حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم نے گردن مبارک ہلاکر اشارہ سے ”ہاں“ فرمایا۔ یہ عجیب روح پرور منظر میں نے صرف دس قدم کے فاصلہ سے سنا اور دیکھا۔ یقینًا میرا یہ خواب خواب ہی نہیں حقیقت کا مظہر ہے، میرے پیر و مرشد حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق اور محبوب کامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

حضرت عبداللطیف بھٹائی علیہ الرحمہ کی رہنمائی

مولانا گل محمد صاحب جو کہ مستقل طور پر بھٹ شاہ اور گرد و نواح میں تبلیغ میں کوشاں رہتے ہیں، پہلے بستی قاسم بگھیو میں رہتے تھے اور بھٹ شاہ قریب ہونے کی وجہ سے سالانہ میلے کے علاوہ بھی تبلیغ کے لئے بھٹ شاہ جایا کرتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ۱۹۷۷ء میں حسب معمول میلے کے بغیر ایک مرتبہ درگاہ حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی رحمۃ اللہ علیہ پر حاضر ہوا۔ نماز پڑھ کر جیسے ہی میں نے تقریر شروع کی، سامنے ایک اجنبی شخص زاروقطار روتا ہوا نظر آیا۔ تقریر ختم ہوتے ہی بڑی تعظیم اور محبت کے ساتھ آکر ملا اور ازخود بتانے لگا کہ میں کھیرتھر پہاڑی ضلع دادو کا رہنے والا ہوں۔ طویل عرصہ سے اللہ تعالیٰ کی محبت و معرفت حاصل کرنے کے لئے صحرا نوردی کرتا رہا، کافی دور دور تک بزرگوں کی خانقاہوں پر حاضر ہوتا رہا مگر کہیں سے اطمینان قلبی حاصل نہ ہوا۔ اسی سلسلہ میں سندھ کے مشہور و معروف ولی حضرت عبداللطیف بھٹائی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے دربار پہ آکر چلہ شروع کیا۔ ابھی چلہ (چالیس دن کی خلوت ذکر و مراقبہ) ختم ہونے میں تین دن باقی تھے کہ خواب میں حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی زیارت ہوئی اور آپ کے ساتھ دو اور نورانی چہروں والے بزرگوں کی بھی زیارت حاصل ہوئی، جن میں سے ایک کی ریش مبارک سفید تھی اور دوسرے کی سرخ مہندی رنگی ہوئی معلوم ہورہی تھی۔ حضرت بھٹائی رحمۃ اللہ علیہ نے سفید ریش بزرگ کی جانب اشارہ کرکے فرمایا یہ ہمارے سردار ہیں، اور دوسرے بزرگ جن کی داڑھی مبارک مہندی لگی ہوئی سرخ تھی ان کی طرف اشارہ کرکے فرمایا یہ بزرگ ابھی زندہ ہیں، ان کے ایک فقیر ہمارے یہاں بھٹ شاہ میں تبلیغ کرنے آتے ہیں، ان کی یہ علامات ہیں۔ جب وہ یہاں آجائیں تو آپ ان کے ساتھ چلے جانا، وہ آپ کو ان سرخ ریش نورانی چہرے والے بزرگ کے پاس لے جائیں گے اور آپ کی برسوں کی دیرینہ مراد پوری ہوجائے گی۔ میں اِن علامات کی روشنی میں فقیر کی تلاش میں تھا کہ آج آپ کو ان ہی علامات کے ساتھ اور تقریر کرتے دیکھ کر یقین ہو گیا کہ آپ ہی وہ فقیر ہیں جن کے بارے میں حضرت عبد اللطیف بھٹائی رحمتہ اللہ علیہ نے بتایا تھا کہ وہ آپ کو سرخ ریش بزرگ کے پاس لے جائیں گے، لہٰذا براہ کرم آپ مجھے ان بزرگوں کے پاس لے چلیں۔ میں نے کہا واقعی یہ علامات جو آپ بتا رہے ہیں میرے پیرومرشد میں ہیں۔ لیکن آج تو ان کے ہاں چلنے کی کوئی صورت ہی نہیں۔ کیونکہ اس دن بھٹو حکومت کے خلاف قومی اتحاد کی جانب سے ملک بھر میں پہیہ جام ہڑتال تھی، بھٹ شاہ ہالا روڈ پر ٹریفک معطل تھی، تاہم اس کی محبت اور تڑپ کے پیشِ نظر میں نے اس کو اپنے ساتھ لیا اور کچی سڑک سے پیدل چل کر بستی قاسم بگھیو پہنچا۔

خوش قسمتی سے دوسرے دن حضور شمس العارفین سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کا بستی سائیں ڈنو میربحر نزد جامشورو میں جلسہ میں تشریف آوری کا پروگرام تھا۔ دوسرے دن ہڑتال بھی نہیں تھی۔ رات قاسم بگھیو رہنے کے بعد صبح اس آدمی کو ساتھ لے کر جب بستی سائیں ڈنو میربحر پہنچے اور حضور قبلہ سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ جلسہ گاہ میں تشریف لے آئے تو حضور کو دیکھتے ہی اس کی خوشی کی انتہاء نہ رہی اور بے ساختہ مستانہ وار کہنے لگا سائیں یہی وہ بزرگ ہیں جن کی زیارت حضرت عبد اللطیف بھٹائی رحمتہ اللہ علیہ نے خواب میں کرائی تھی۔ بڑی عقیدت و محبت کے ساتھ حضور سے بیعت ہوا اور کہنے لگا الحمداللہ برسوں سے میں جس نعمت کا طالب تھا آج میری وہ مراد بر آئی ہے، اور اس کے لئے نہ مجھے کسی قسم کی تکلیف اٹھانی پڑی نہ کوئی خرچہ کیا۔

حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری (لاہور) رحمۃ اللہ علیہ کا ارشاد

بزرگ صفت حضرت مولانا حاجی محمد صالح صاحب جو واقعی صالح ہیں، جب حضرت داتا گنج بخش رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کے دربار عالیہ پر حاضر ہوئے ایصال ثواب کیا اور کچھ دیر وہاں مراقبہ کیا، تو مراقبہ میں منجانب اللہ تعالیٰ یہ القا ہوا کہ حضرت داتا علی ہجویری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بزبان حال فرما رہے ہیں حضرت سوہنا سائیں (نور اللہ مرقدہ) کو ہمارا یہ پیغام پہنچائیں کہ ہم نے اپنی ساری زندگی یہی تبلیغی کام کیا جو اب آپ کر رہے ہيں، لہٰذا ہمارے شہر لاہور میں بھی تو تبلیغی سلسلہ جاری کریں۔

واضح رہے کہ لاہور شہر میں عارضی طور پر توعرصہ دراز سے حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے خلفاء کرام تبلیغی کام کر رہے تھے اور سال میں ایک بار حضور خود بھی لاہور جاتے تھے اور ہر بار حضرت داتا رحمۃ اللہ علیہ کے دربار پہ حاضر ہوتے تھے، مگر مستقل طور پر تبلیغی کام نہیں ہوا تھا۔ حضرت داتا قدس سرہ کے مذکور حکم کے بعد آپ نے جوان عمر و فکر خلیفہ مولانا انوار المصطفیٰ صاحب کو مستقل طور پر لاہور میں رہ کر تبلیغ کا حکم فرمایا، اور الحمدللہ ہر قدم پر لاہور میں دن بدن شریعت و طریقت کی اشاعت و ترویج کا کام بڑھتا گیا اور حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے حین حیات ہی میں بھٹہ کوہاڑ بیدیاں روڈ پر مرکز روح الاسلام کے نام سے مستقل مرکز قائم ہوا۔ حضور کے پردہ فرمانےکے بعد بھی حضرت قبلہ صاحبزادہ مدظلہ کے زیرِ نظر یہ مرکز ترقی کی راہ پر گامزن ہے، جبکہ گلبرگ میں محترم خلیفہ مولانا سردار احمد صاحب اور ان کے صاحبزادہ مولانا خالد محمود کی کوشش سے بہتر تبلیغی کام اور پابندی سے ماہوار تبلیغی اصلاحی جلسہ بھی ہو رہا ہے۔

حضرت قلندر شہباز رحمۃ اللہ علیہ کی رہنمائی

محترم مولانا جان محمد صاحب نے بتایا کہ میری موجودگی میں حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی خدمت میں سرگودھا صوبہ پنجاب کا ایک شخص حاضر ہوا، حضور سے قلبی ذکر کا وظیفہ سیکھا اور بتایا کہ میں دو سال مسلسل حضرت شہباز سیہوانی رحمۃ اللہ علیہ کی درگاہ پر رہا، کئی چلے کاٹے، آخرکار حضرت شہباز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خواب میں زیارت ہوئی، مجھے فرمایا کہ دور حاضر میں ایک ولی کامل رادھن اسٹیشن کے قریب فقیر پور شریف نامی بستی میں رہتے ہیں، آپ ان کے پاس جائیں (مولانا جان محمدصاحب)۔

حضرت سمن سرکار قدس سرہ کی رہنمائی

لاڑ اور تھر سندھ کے مشہور بزرگ حضرت سمن سرکار رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جن کے سالانہ عرس کے موقعہ پر مسلمانوں کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں ہندو عقیدت مند بھی حاضر ہوتے ہیں۔ کئی نیک صالح آدمی راہ حق کی طلب کے سلسلے میں بھی دربار پر حاضر ہوکر چلہ کشی کرتے ہیں۔ اسی طرح محمد اشرف نامی ایک پنجابی (جو الحمدللہ بہت نیک صالح ہے) بھی محض ہدایت یابی کے کئےان کے دربار پر حاضر ہوا، ایصال ختم شریف کے بعد ان کے وسیلے سے بارگاہ الٰہی میں یہی دعا کی کہ باری تعالیٰ میری رہنمائی فرما، مجھے کسی ایسے بزرگ کی غلامی نصیب کر جن کی صحبت سے میری اصلاح ہو، نیکی کا شوق پیدا ہو وغیرہ۔ بقول فقیر صاحب مذکور اللہ تعالیٰ نے ولی کامل حضرت سمن سرکار قدس سرہ کے صدقے میری دعا قبول فرمائی اور میری رہنمائی اس طرح فرمائی کہ خواب میں حضرت سمن سرکار رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی زیارت ہوئی، اپنے تعارف کے بعد انہوں نے مجھے ایک سرخ ریش بزرگ کی زیارت کرائی اور فرمایا یہ بزرگ ابھی زندہ ہیں دورِ حاضر کے مجدد ولی ہیں، ان کو لوگ سوہنا سائیں کے نام سے پکارتے ہیں، آپ ان کی صحبت میں جائیں آپ کی صحیح رہنمائی ان سے ہوگی۔ میں اس نام کے کسی بزرگ سے واقف تھا نہیں، نہ ہی تلاش کی ہمت ہوئی، گھر پر ہی رہا۔ چنانچہ ایک بار ہماری مسجد (جھڈو ضلع تھرپارکر) میں ایک سندھی مولوی صاحب تبلیغ کرنے آئے، باشرع بزرگ صفت آدمی تھے، انہوں نے تقریر میں بتایا کہ سوہنا سائیں کے نام سے میرے پیر و مرشد بڑےکامل بزرگ ہیں، دین کی تبلیغ و اشاعت کا ان کو بہت فکر ہے، میں بھی ان کے حکم سے یہاں تبلیغ کرنے آیا ہوں۔ ان کی تقریر کو اپنے خواب کی تعبیر سمجھ کر جلسہ کے بعد ان سے ملا، دوسرے ہی دن کا پروگرام بناکر مذکور مولانا محمد ایوب صاحب (جو کہ حضرت سوہنا سائیں کے پیارے خلیفہ ہیں) کے ساتھ دربار پر حاضر ہوا، اور جیسے ہی حضرت سوہنا سائیں قدس سرہ باہر تشریف لے آئے بعینہ وہی سیرت و صورت نظر آئی جن کی حضرت سمن سرکار رحمۃ اللہ علیہ نے خواب میں زیارت کرائی تھی۔ میں عقیدت سے بیعت ہوا، اور واقعی طور پر میری اصلاح ہوئی، شریعت و طریقت کی پابندی بھی نصیب ہوئی اور میرے اہل خانہ بلکہ قرب و جوار کے کئی آدمی حضور کی خدمت میں حاضر ہو کر نیک صالح بن گئے۔

حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ تعالیٰ کی رہنمائی

عزیز القدر جناب مولانا مولوی جان محمد صاحب نے بتایا کہ ایک مرتبہ حضور کے پیارے خلیفہ حضرت حافظ حبیب اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ المتوفی ۱۴۰۲ھ کسی چک میں تبلیغ کرنے گئے، جامع مسجد کے خطیب و امام سے ملاقات کے بعد تبلیغ کرنے کی اجازت چاہی مگر انہوں نے صاف انکار کر دیا، آخر بیٹھ کر تفصیل سے ان کو حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی سیرت و صورت اور تبلیغی خدمات کا مفصل احوال سنایا تو بے ساختہ مولوی صاحب گلے ملے اور بڑی خوشی سے تبلیغ کی اجازت دی اور بتایا کہ میں نے حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے حالات کتابوں میں پڑھے جس سے میں اس قدر متاثر ہوا کہ روزانہ حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے روح پُرفتوح کو ختم شریف ایصال کرتا تھا اور آپ کے وسیلہ سے بارگاہ الٰہی میں یہی دعا کرتا تھا کہ اگر آج بھی صحیح معنوں میں کوئی بزرگ حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے طریقہ کی اشاعت کرتے ہوں تو مجھے ان کی غلامی نصیب ہو، آج میں اپنی دعاؤں کو مستجاب اور حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی باطنی مہربانی سمجھتا ہوں کہ بعینہ ان کے طریقے کو چلانے والے کا تعارف ہوا ہے اور گھر بیٹھے ہی ان کا فیض مل رہا ہے۔ چنانچہ بڑے خلوص و محبت سے مولوی صاحب خود بھی بیعت ہوئے اور اپنے حلقہ والوں کو بلا بلا کر حلقہ ذکر میں داخل کرایا۔

سید محمود شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی رہنمائی

حضور سوہنا سائیں قدس سرہ کے کئی مخلص فقراء سے احقر مؤلف نے سنا کہ چنیسر گوٹھ کراچی کے ٹھیکیدار سید فراخ شاہ جو حضور کے مخلص عاشق صادق مرید تھے، حضور سے بیعت ہونے سے پہلے بھی اولیاء اللہ کے عقیدت مند تھے، خاص کر سیّد محمود شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر بکثرت حاضر ہو کر ایصالِ ثواب کرتے تھے۔ ایک بار ان کو بخاری صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت ہوئی کہ آپ مزار شریف سے باہر تشریف لائے ہیں اور فرما رہے ہیں شاہ صاحب! آپ کی محلے کی مسجد میں ایک ولی کامل تشریف لائے ہیں، آپ ان کے پاس چلے جائیں، آپ کے قلبی مقاصد ان کی دعا سے حل ہونگے۔ چنانچہ وہ مسجد شریف میں گئے تو اس وقت مذکورہ مسجد شریف میں حضور سوہنا سائیں قدس سرہ بمع چند فقراء تشریف فرما تھے، شاہ صاحب حضور سے ملے، مذکورہ واقعہ سنایا اور بیعت ہوگئے۔ محترم مولانا جان محمد صاحب نے بتایا کہ سید فراخ شاہ صاحب، حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ سے بیعت ہونے سے قبل میری حالت انتہائی کمزور تھی، یہاں تک کہ بعض اوقات خود کشی کو جی چاہتا تھا، مگر حضور سے بیعت ہونے کے بعد اتنی برکت و رحمت ہوئی کہ پہلے ہی سال مجھے چار لاکھ روپے کا منافع ہوا۔

حضرت داد شہید رحمۃ اللہ علیہ کی پسندیدہ جماعت

اُنڑپور سے بزرگ صفت مولانا حاجی محمد عبدالکریم صاحب (جو کہ حضرت مخدوم غوث بہاءالحق زکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ کی اولاد میں سے انتہائی صالح فرد ہیں) تحریر فرماتے ہیں علی آباد سے متصل ہی حضرت مخدوم داد شہید رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا مزار شریف ہے جہاں ہر ماہ کی ۱۴ تاریخ کو جلسہ ہوتا ہے۔ ایک مرتبہ ہماری جماعت کے فقراء مولانا محمد ادریس صاحب کو خطاب کے لئے دعوت دیکر لے آئے، جماعت کے فقراء حیدرآباد سے لیکر مانجھند تک کے اس پروگرام میں شامل ہوئے تھے، جلسہ بڑا ہی پُرلطف جوش و جذبہ سے معمور ہوا۔ رات کو علی آباد کے مرد صالح فقیر محمد سعید صاحب کو خواب میں حضرت مخدوم داد شہید رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت ہوئی کہ آپ مزار انور سے باہر تشریف لائے اور نہایت ہی شفقت سے مجھے گلے لگا کر ارشاد فرمایا حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی جماعت مجھے بہت ہی زیادہ پسند ہے۔