فہرست
سیرت ولی کامل (حصہ دوم)

باب ششم۔ مشاہدات و تاثرات

مشاہدات و تاثرات

از مولانا جان محمد سولنگی صاحب

کمپیوٹر انچارج محکمہ زراعت حیدرآباد سندھ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

بندہ یہاں اپنے مرشد ہادی، نائب نبی سراج السالکین فخر الاصفیاء تاج الاولیاء حضرت الحاج اللہ بخش فضلی غفاری قدس سرہ السامی کی دینی خدمات، تبلیغ، تحریر اور تقریر کے ذریعے اشاعت اسلام، فیوض و برکات، کمالات و کرامات، مشت از نمونہ خروار عرض کرتا ہے۔ جن کے ظاہری و باطنی حالات، اطوار و عادات آپ کے کامل ولی ہونے کے اظہر من الشمس دلیل ہیں۔ کیا یہی کچھ کم ہے کہ آپ کی نگاہ کرم فیض اثر سے ہزارہا مردہ دل ذاکر و زندہ بن گئے، بے شمار فاسق و فاجر گناہوں کی دلدل سے آزاد ہوکر ابدی آزادی حاصل کرچکے، اجڑے آباد ہوئے اور بھٹکے راہ یاب ہوئے، یہی نہیں بلکہ آپ کی توجہات عالیہ سے

خود نہ تھے جو راہ پر اوروں کے ہادی بن گئے

آپ سراپا مجسمۂ اخلاق حسنہ، صاحب شفقت و رحمت، فیض و برکت ولی کامل تھے، جن کی زیارت بابرکت سے ازخود یاد الٰہی آجاتی تھی۔ مجھ جیسے نااہل کی نہ تو زبان کو طاقت ہے کہ کماحقہٗ آپ کی شان بیان کرسکے نہ ہی قلم میں اتنی قوت ہے کہ قلمبند کرسکے۔ بہرحال اپنی حیثیت کے مطابق یہ مسکین بھی حصول تبرک کے لئے اپنی بساط کے مطابق آپ کی دینی خدمات کا اجمالی جائزہ پیش کرے گا۔ درج ذیل حالات و واقعات و خدمات بندہ کی ذاتی معلومات اور مشاہدات پر مبنی ہیں۔

احتیاط، تقویٰ اور پرہیزگاری

خوف خدا، احتیاط و تقویٰ کو شریعت مطہرہ میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ ماضی قریب میں بھی بفضلہٖ تعالیٰ میرے مرشد ہادی نور اللہ مرقدہ کے وجود باجود میں ماسلف مشائخ طریقہ عالیہ نقشبندیہ کی طرح یہ عمدہ وصف پوری طرح موجود تھی۔ نہ فقط یہ کہ خود تقویٰ کو اپنایا بلکہ اپنی جماعت عالیہ کو بھی بڑی حد تک اس کا پابند بنایا۔ خاص طرح خلفاء کرام کو تو مزید تاکید سے فرماتے تھے کہ جس قدر آپ حضرات تقویٰ و پرہیزگاری اختیار کریں گے، اسی قدر آپ کے متعلقین بھی تقویٰ اپنائیں گے۔ تمام اہم اجتماعات کے موقعوں پر خلفاء کرام کو جمع کرکے طریقت کے اصول و ضوابط کی پابندی خاص کر تقویٰ پر زیادہ زور دیتے تھے۔

فرماتے تھے کہ جتنے بھی اولیاء اللہ ہو گذرے ہیں، تمام نے ذکر اللہ، تقویٰ اور بزرگوں کی صحبت اختیار کی تب اس مقام پر پہنچے۔ فرماتے تھے کہ ذکر کا صحیح فائدہ ثمرہ بھی تب حاصل ہوگا جب تقویٰ کیا جائے گا۔ نیز فرمایا میرے پیر و مرشد حضرت قبلہ پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے پیر و مرشد حضرت خواجہ فضل علی قریشی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا یہ واقعہ بکثرت بیان فرماتے تھے کہ آپ کی خدمت میں ایک فقیر کچے چنوں کا ایک گچھا لے آیا اور ہدیۃً آپ کو پیش کیا۔ آپ نے یہ سمجھ کر کہ شاید اس کے اپنے بوئے ہوئے ہوں گے اس سے لے لئے اور ایک دانہ توڑ کر منہ میں ڈالا ہی تھا کہ احتیاطًا فقیر سے پوچھا فقیر صاحب آپ کے ساتھ کاشتکاری میں کوئی اور آدمی شریک تو نہیں ہے؟ کہنے لگا جی حضور شریک تو ہے۔ یہ سنتے ہی منہ میں ڈالا ہوا چنا تھوک دیا اور فرمایا خود تو تقویٰ کے بغیر چیزیں کھاتے پھرتے ہو ہمیں بھی ملوث کرتے ہو۔ اسی طرح کا ایک اور واقعہ بھی ہے کہ ایک مرتبہ فقراء لنگر کا گنا چھیل رہے تھے، حضرت پیر قریشی قدس سرہ تشریف لائے، دیکھا کہ ایک فقیر کماند چھیل بھی رہا ہے لیکن اس کا سرا جو زیادہ میٹھا نہیں ہوتا وہ کھا بھی رہا ہے، دیکھ کر فرمایا صوفی بھی بنے بیٹھے ہو (کہ لنگر کا کام کر رہے ہو) اور گیدڑ بھی (کہ بلا اجازت کھارہے ہو)۔

بعض اوقات ترغیب و تحریص کے طور پر اپنے بھی واقعات سنادیا کرتے تھے۔ چنانچہ فرمایا یہ عاجز حضور پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے لنگر کے لئے گنا کاشت کراکر لنگر کے لئے گڑ بنواتا تھا، زمین کے مالکان بھی اپنے قریبی تعلق والے ہوتے تھے، گڑ بھی بہت سارا تیار ہوتا تھا لیکن کبھی اس عاجز نے وہ گڑ چکھ کر بھی نہ دیکھا، حالانکہ مالکان کی طرف سے اجازت ہوتی تھی۔ فرماتے تھے کہ ہم بازار کی چیزوں سے اس لئے منع کرتے ہیں کہ آج کل خوف خدا دلوں سے اٹھ چکا ہے، زبانی طور پر بھی احباب سے واقعات سنے اور اخبارات میں بھی ایسے واقعات شائع ہوئے ہیں کہ لوگوں نے اپنے دنیاوی منافع کے لئے حرام چیزیں بھی شامل کرلیں العیاذ باللہ تعالیٰ، اسی وجہ سے ہم چاہتے ہیں کہ گڑ، مصری اور دیگر اشیاء خورد و نوش فقراء اپنے ہاتھ سے بناکر استعمال کریں تاکہ ضرورت بھی پوری ہو اور تقویٰ میں بھی فرق نہ آنے پائے (الحمدللہ بڑی حد تک آپ کی یہ کوششیں کامیاب ثابت ہوئیں)۔

فرمایا ذکر، نماز اور دیگر عبادات کے باوجود ان کا صحیح اثر نظر نہیں آتا، عبادت میں لذت نہیں آتی اس کی اصل وجہ بے احتیاطی اور تقویٰ نہ کرنا ہے۔ فرمایا اسی تقویٰ کے پیش نظر ہمارے طریقہ عالیہ کے پیشوا حضرت خواجہ نور محمد بدایونی رحمۃ اللہ علیہ دنیاداروں کے یہاں کھانا کھانے سے پرہیز کرتے تھے۔ مردوں کے علاوہ خواتین کے تقویٰ و پرہیزگاری کے لئے بھی عمدہ طریقہ سے تربیت فرمایا کرتے تھے۔ بعض اوقات خواتین سے خصوصی خطاب فرماتے وقت تفصیل سے درج ذیل امور کی تاکید فرماتے تھے مثلًا یہ کہ جس رسی یا تار پر کپڑے خشک کریں پہلے اسے تین مرتبہ دھوکر پاک کریں، ہر بار تازہ پانی لے کر دھوئیں، خدانخواستہ اگر کپڑے سکھانے کی رسی پاک نہ رہی تو اس پر سکھائے ہوئے کپڑے بھی پاک نہ ہوئے۔ جس تار پر بڑوں کے کپڑے سکھائے جائیں اس پر صغیر بچوں کے کپڑے نہ سکھائیں، اسی طرح دھوتے وقت بھی ان کو علیحدہ رکھیں۔ رات کو برتن الٹاکر رکھیں، کوئی برتن سیدھا اور منہ کھلا نہ چھوڑیں، اور اگر منہ کھلے رہ گیا تو صبح تین مرتبہ دھوئے بغیر اسے کھانے پینے کے لئے استعمال نہ کریں۔ درگاہ فقیرپور شریف میں ایک بار غلطی سے میں نے حضور کے پانی پینے کا پیالہ سیدھا رکھ دیا، تہجد کے وقت آپ نے برتن کھلا دیکھ کر مجھے سخت تنبیہہ فرمائی اور فرمایا پیالہ ابھی ابھی لیکر مٹی سے دھوکر صاف کریں۔

فرمایا میرے پیر و مرشد حضرت پیر مٹھا قدس سرہ گھر میں مرغیاں پالنے سے منع فرماتے تھے، جس کی اصل وجہ بھی تقویٰ ہی تھی کہ مرغیاں جگہ جگہ بیٹ کرتی رہتی ہیں، کھلے منہ برتن اور کھانے پینے کی اشیاء میں چونچ ڈال کر برتن اور کھانا پلید کردیتی ہیں، عمومًا صاحب خانہ بھی بہت کم احتیاط کرتے ہیں، نتیجۃً تقویٰ تو بجاء خود فتویٰ کی رو سے بھی اکل حلال مشکل ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ مرغیاں غلاظت بھی کھاتی رہتی ہیں، اس لئے آپ فرمایا کرتے تھے جس کی بفضلہٖ تعالیٰ آپ کی جماعت میں بڑی حد تک پابندی بھی کی جاتی ہے کہ مرغی کو ذبح کرنے سے تین دن پہلے باندھ کر مناسب پاک غذا دیتے رہیں تاکہ سابقہ غلاظت کی تاثیر بھی نہ رہے اسی لئے ہمارے مشائخ بازار سے گوشت خریدنے سے منع کرتے ہیں کہ نہ معلوم قصاب نے خون دینے والا رگ کاٹ لیا جس کی وجہ سے خون خارج نہیں ہوتا اور گوشت ہی میں رہ جاتا ہے حالانکہ یہ خون غلیظ ہوتا ہے، آج کل بہت سے قصاب اپنے دنیاوی مفاد کی خاطر ایسی حرکتیں کرتے رہتے ہیں۔

نیز فرمایا کرتے تھے کہ حتی المقدور بستر پاک رکھیں تاکہ اگر گرمی کے موسم میں کوئی ننگے پیٹھ بستر پر لیٹ جائے تو بھی جسم پاک رہے، بچے بستروں پر پیشاب کردیتے ہیں، اس سلسلہ میں والداؤں کو ازحد احتیاط کرنا چاہئے۔ بعض جاہل لوگوں میں یہ مشہور ہے کہ لڑکوں کا پیشاب پاک ہوتا ہے، حالانکہ پیشاب بچے کا ہو یا بچی کا دونوں نجس ہیں، لوگوں کا یہ کہنا شریعت سے ناواقفیت کی وجہ سے ہے۔

فرمایا مساجد میں کھانا نہ کھائیں، کھانے کے ذرات مسجد میں گر جاتے ہیں جن پر کیڑے مکوڑے جمع ہوجاتے ہیں، بعض اوقات طلبہ اور فقراء روٹی لے جاکر مسجد میں رکھتے ہیں جس کی وجہ سے کتے، بلیاں مسجد میں چلی آتی ہیں اور مسجد کی بے حرمتی ہوتی ہے۔ مساجد کا احترام بہت ضروری ہے، عمومًا دیکھا گیا ہے کہ مساجد کی چہار دیواریاں برائے نام ہوتی ہیں، لوگ مسجد میں کھانا کھاتے ہیں، کتے دیواریں پھلانگ کر مسجدوں میں آتے ہیں، مساجد کے لئے جو چٹائیاں خریدیں پوری احتیاط سے تین بار دھوکر ان کو پاک کریں پھر مسجد میں لاکر رکھیں، اس لئے کہ جو لوگ چٹائیاں بناتے ہیں نہ معلوم پیس بھگوتے وقت کس قسم کا پانی استعمال کرتے ہیں، چٹائیاں باہر کھلے میدان میں رکھ دیتے ہیں، کتے وغیرہ انکے اوپر گھومتے پھرتے ہیں، اسی وجہ سے خواجہ خواجگان حضرت پیر فضل علی قریشی قدس سرہ فرماتے تھے کہ مساجد میں بھی کپڑے بچھا کر نماز پڑھیں تاکہ اگر چٹائی دھلی ہوئی نہ ہو تو کپڑے بچھانے سے جاء نماز پاک ہوجائے گی، اور جائے نماز کا پاک ہونا نماز کے شرائط میں سے ہے، نیز فرماتے تھے کہ دودھ دینے والے جانور بھی تو آخر گوبر کے اوپر بیٹھ جاتے ہیں پیشاب کرتے ہیں جس سے تھن پلید ہوجاتے ہیں، حتی المقدور مال مویشیوں کا باڑہ صاف ستھرا رکھا جائے، گوبر اٹھاکر وہاں خشک ریت یا مٹی ڈالنی چاہئے، دودھ دوہنے سے پہلے برتن اور ہاتھ بھی پورے احتیاط سے دھونے چاہئیں۔ غسل کے بارے میں فرمایا پہلے زمانہ میں تو کنویں ہوتے تھے اور پانے نکالنے کے ڈول عمومًا باہر زمین پر رکھ دیئے جاتے تھے اور پھر دھوئے بغیر وہی ڈول کنوئیں میں ڈال دیتے تھے جو کہ فتویٰ خواہ تقویٰ دونوں لحاظ سے درست نہیں، بہرحال آج کل تو الحمدللہ نل عام ہیں جس سے نہاتے وقت تقویٰ بحال رہتا ہے، تاہم اگر بالٹی سے نہا رہے ہوں تو اسے کسی اونچی جگہ پر رکھیں اور آہستہ آہستہ اس سے پانی لیکر بدن پر ڈالیں، اس طریقے سے کہ چھینٹیں دوبارہ بالٹی میں نہ پڑیں، اگر وہی پلید چھینٹیں بالٹی میں پڑتی ہیں تو بالٹی کا تمام پانی ناپاک ہوجائے گا اور غسل کا مقصد ہی فوت ہوجائے گا، آج بھی جہاں کہیں کنوئیں زیر استعمال ہیں وہ ڈول کی پاکی کی خصوصی خیال کریں۔ نیز اگر کوئی چھوٹا موٹا جانور کنوئیں میں گرے تو اس کے مسائل بھی سمجھ رکھیں۔ نیز غسل کے بعد پلید کپڑے چادر پہننے سے تاکیدًا منع فرماتے تھے کہ پھر سے بدن پلید ہوجائے گا۔

تقویٰ کے متعلق حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کا یہ واقعہ بکثرت بیان فرماتے تھے کہ کوفے سے بکری چوری ہونے پر محض اس لئے کوفہ کا گوشت کھانا ترک کردیا کہ کہیں اس چوری کی ہوئی بکری کا گوشت نہ ہو۔
حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی تقویٰ بھی مثالی تھی۔ حدیث شریف کی رو سے ہر مشتبہ چیز سے دور رہتے تھے، کھانے پینے سے لیکر اٹھنے بیٹھنے تک ہر معاملہ میں تقویٰ ملحوظ رکھتے تھے۔ پیشاب کے قطروں سے بچاؤ کے پیش نظر استنجاء خانہ میں ریت بچھواتے تھے۔ بیت الخلاء جانے کی علیحدہ نعلین ہوتی تھی اور نماز کے لئے اور ہوتی تھی، فرماتے تھے کہ وضو کے بعد اسپینج کی چپل پہن کر چلنے سے کپڑوں پر چھینٹیں پڑتی ہیں، اس لئے احتیاط سے چلنا چاہئے۔

گھر میں کوئی نئی چیز نظر آتی تو دریافت فرماتے کہ یہ کہاں سے اور کس لئے آئی ہے، تاکہ ناواقفیت کی بنا پر گھر میں استعمال نہ ہو۔

بے نمازی کے ہاتھ کے پکے ہوئے کھانے سے احتیاط فرماتے تھے۔ کئی جگہ سفر میں دیکھا گیا کہ صاحب دعوت کی دلجوئی کی خاطر جماعت کے فقراء کو تو کھانے کی اجازت مرحمت فرماتے تھے مگر خود پھر بھی نہیں کھاتے تھے۔
جہاں شادی یا غمی کے موقعہ پر شریعت مطہرہ کی پوری طرح پابندی نہ کی گئی ہوتی ایسے پروگراموں میں نہ خود شامل ہوتے تھے نہ ہی جماعت کو جانے کی اجازت دیتے تھے۔ اسی طرح ترکہ تقسیم ہونے سے پہلے کسی ایسے گھرانے کی دعوت قبول نہیں فرماتے تھے۔ گوبر جلا کر کھانا پکانے سے منع فرماتے تھے کہ گوبر پلید ہے۔ جن دواؤں میں شراب یا دوسری نشہ آور ادویہ شامل ہوتیں ان سے بھی پرہیز فرماتے تھے۔

سادگی آپ کی فطرت سلیمہ کی عادت ثانیہ تھی۔ تمام حالات و معاملات میں سادگی کا پہلو نمایاں نظر آتا تھا، اور وہ بھی آپ کی دیگر اداؤں کی طرح دکھاوے سے پاک محض للٰھیت پر مبنی ہوتی تھی، نہ کبھی یہ خیال کیا کہ میرے اس فعل سے کوئی زیادہ متاثر ہوگا اور نہ یہ کہ کوئی نفرت کرے گا۔ چنانچہ ایک مرتبہ بعض دنیادار قسم کے آدمی آپ کی زیارت و ملاقات کے لئے درگاہ اللہ آباد شریف حاضر ہوئے، میں نے جاکر حضور سے عرض کی، جب آپ ان کی ملاقات کے لئے تشریف لے جانے لگے میں نے دیکھا کہ آپ کی قمیص مبارک کندھے سے پھٹی ہوئی ہے، میں نے یہ خیال کرکے کہ یہ دنیادار آدمی کہیں اس کو برا نہ منائیں عرض کی حضور یہ قمیص پھٹی ہوئی ہے، بہتر ہے کہ حضور قمیص تبدیل فرماویں۔ فرمایا اگر وہ حق پسند اور سنجیدہ مزاج کے آدمی ہیں تو اس کو برا نہیں منائیں گے، یہ فرماکر قمیص تبدیل کئے بغیر ملاقات کے لئے تشریف لے گئے۔ عمومًا آپ ٹرین کا سفر کرتے تھے اور وہ بھی عام فقیروں کے ساتھ تھرڈ کلاس میں۔ ایک مرتبہ نوڈیرو سے واپسی پر ٹرین میں سخت رش تھا، ہم فقراء بھی آپ کے ساتھ تھے، کوشش کے باوجود حضور کے بیٹھنے کے لئے بھی سیٹ نہیں ملی، بالآخر سیٹوں کے اوپر والے تختے پر بیٹھنے کی جگہ ملی، بمشکل آپ اس پر چڑھ کر بیٹھ گئے۔ یہ دیکھ کر ہم فقراء کو افسوس تو بہت زیادہ ہورہا تھا کہ ہم جیسے سینکڑوں افراد تو فرسٹ کلاس میں سفر کریں اور ہزاروں مریدین کے صحیح معنوں میں رہبر و رہنما کو تھرڈ کلاس میں بھی بیٹھنے کی جگہ نہیں ملی، لیکن آپ کے مزاج سے واقفیت ہونے کی بناء پر مزید کچھ کہنے کی جرات کسی کو نہ ہوئی۔ بہرحال جب ٹرین لاڑکانہ اسٹیشن پر پہنچی، ہم نے آپ کے لئے سیکنڈ کلاس کی ٹکٹ خرید کی اور آپ سے تشریف لے چلنے کی گذارش کی، کافی دیر منت و سماجت کے بعد سیکنڈ کلاس میں تشریف لے گئے اور بیٹھنے کے بعد موجود ساتھیوں کو فرمایا پہلے والا ڈبہ غریبوں مسکینوں کا تھا، میرے آقا و مولا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غریبوں کے ساتھ بیٹھنے کو زیادہ پسند فرماتے تھے اس لئے اس عاجز کو بھی غریبوں کے ساتھ بیٹھتے ہوئے فرحت و راحت محسوس ہوتی ہے۔ آپ حضرات کے مجبور کرنے پر یہاں آیا ہوں، ورنہ عاجز بڑے آدمیوں کے ساتھ بیٹھنا پسند نہیں کرتا۔

یاد رہے کہ حضور نور اللہ مرقدہ کو اللہ نے وسعت و فراخی سے نوازا تھا۔ لباس خواہ خورد و نوش میں جس قدر وسعت کرنا چاہتے کرسکتے تھے، تاہم غیر ضروری اخراجات سے بچتے ہوئے اپنی جملہ آمدنی مدارس، فقراء اور دیگر دینی کاموں میں صرف فرماتے تھے۔ ایک فقیر آپ کے تکیہ کے لئے گاؤتکیہ بنوا کر لے آیا، دیکھ کر فرمایا میں اپنے تکیہ کے لئے اس قدر کپڑا ضائع کرنا پسند نہیں کرتا، اب بھی اسے کھول کر کسی غریب بھائی کے سپرد کیا جائے تو بہتر ہے کہ وہ اس سے اپنا بدن ڈھانپ لے گا۔

ایک مرتبہ غلطی سے خادم سفر میں آپ کے دو نعلین مبارک لے گئے، دیکھ کر فرمایا میرے لئے دو نعلین کیوں لے آئے ہو؟ میں کوئی نواب تو نہیں ایک غریب فقیر ہوں۔ چند بار آپ سے یہ بھی سنا گیا کہ میرے بدن پر جو قیمتی کپڑے (یاد رہے کہ وہ بھی درمیانہ قسم کے ہوتے تھے) دیکھ رہے ہو یہ میں نے خریدے نہیں بلکہ للہ تعالیٰ بعض دوستوں نے دیئے ہیں، انہوں نے صدق دل سے اپنے ثواب کے لئے دیئے ہیں، اگر میں نہیں پہنوں گا تو ان کو دکھ ہوگا، جس کا تجربہ بھی ہے۔ ایک مرتبہ محترم حاجی عطا محمد صاحب آپ کے لئے زریدار قیمتی نعلین بنواکر لائے۔ دیکھ کر فرمایا اتنے پرانے دوست ہو، ابھی تک میری طبیعت سے واقف نہیں ہوئے، مجھے سادہ سی جوتی پسند ہے، یہ پھولدار شو والے نعلین مجھے نہیں بھاتے۔

ایک مرتبہ فرمایا عرصہ سے دل میں یہ خیال رہا کہ اپنے پہننے کے لئے ایک کوٹ بنواؤں مگر اس عمر تک تو یہ نہ ہوسکا کہ اپنے نفس کے لئے خرچہ کرکے خصوصی کوٹ بنواؤں۔ واضح رہے کہ آخر تک آپ بنے بنائے کوٹ کبھی نئے اور کبھی نیلامی خریدتے اور کئی سال تک وہی پہنتے رہتے۔ یہ تو آپ کے مسند نشینی کے بعد کے اوقات ہیں جبکہ طالب علمی کے زمانہ میں بھی آپ کی سادگی کا یہ عالم تھا کہ (مدرسہ کے طلبہ کو سادگی کی ترغیب دیتے ہوئے) فرمایا میں ضلع نواب شاہ کا باسی تھا، چاول کھانے کی عادت نہیں تھی، بستی گیریلو ضلع لاڑکانہ میں جہاں پڑھتا تھا چاول کی روٹی ملتی تھی، گندم کی روٹی کھانے کا رواج نہ ہونے کے برابر تھا جس کی وجہ سے مجھے مسلسل پیچش کی شکایت رہتی تھی، تاہم نہ کبھی اپنے لئے گندم کی روٹی پکوائی نہ ہی استاد صاحب یا کسی اور سے شکایت کی اور نہ ہی کبھی دودھ خرید کر پیا، میرے پاس پیٹی وغیرہ بھی نہ تھی، کپڑے گھٹڑی میں باندھ کر خانواہن سے پیدل گیریلو جاتا تھا، اسی طرح جب استاد صاحب بھریا منتقل ہوگئے تو بھی بیس میل سے زائد کا یہ فاصلہ پیدل طے کرتا تھا۔ اکثر و بیشتر پورے مہینہ میں ایک روپیہ بھی خرچ نہیں ہوتا تھا، اس لئے آپ حضرات بھی قناعت و سادگی اپنائیں، والدین کو زیادہ پیسوں کے لئے تنگ نہ کریں، حصول تعلیم کے لئے تکالیف و مشقتیں برداشت کرنی پڑیں تو خوشی سے برداشت کریں، چنانچہ کسی بزرگ نے فرمایا ہے

چوں شمع از پئے علم باید گداخت

کہ شمع کی طرح علم کے لئے پگھلنا چاہئے، عیاشی ناز و نعم سے حقیقی علم حاصل نہیں ہوتا۔

مدرسہ کا کام ہوتا یا مسجد کا، حسب استطاعت حضور بھی اپنے ہاتھ سے کام کرتے تھے۔ چنانچہ ایک مرتبہ حضور درگاہ طاہر آباد شریف میں فقراء کے ہمراہ سر پر مٹی اٹھا رہے تھے کہ سندھ کے ایک بااثر بڑے خاندان کے نوجوان جو کہ سندھ یونیورسٹی کے طالب علم بھی تھے محترم مولانا قمر الدین صاحب (جو خود عرصہ تک مشہور غنڈہ گرد رہ چکے تھے مگر حضور کی نظر کرم سے تائب ہوکر ایک باصلاحیت مبلغ بھی بن گئے) کے ہمراہ حضور کی زیارت و ملاقات کے لئے حاضر ہوئے۔ ان کے پوچھنے پر کہ پیر صاحب کس وقت ملاقات کے لئے تشریف لائیں گے، جب مولانا صاحب نے بتایا کہ ہمارے پیر و مرشد یہی ہیں جو مریدین کے ہمراہ اپنے سر پر مٹی اٹھائے جارہے ہیں، یہ سن کر وہ نوجوان بڑے حیران ہوئے اور کہنے لگے میں اب تک یہی سمجھتا رہا کہ اتنے بڑے پیر صاحب ہیں، بڑے کروفر سے رہ رہے ہوں گے، بڑی مشکل سے ملاقات کے لئے وقت دیتے ہوں گے، مگر یہاں تو صورتحال ہی کچھ اور معلوم ہوتی ہے، بلا امتیاز اپنے مریدین کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں اور یہی طریقہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا کتابوں میں پڑھا ہے کہ آپ صحابہ کے ساتھ مل کر کام بھی کرتے تھے۔ بہرحال حضور سے مل کر تو اور بھی زیادہ متاثر ہوا۔ رات دربار عالیہ پر رہا، سیدھا سادہ لنگر کا کھانا کھاکر کہنے لگا مجھے اس غریبانہ طعام میں اس قدر لذت محسوس ہورہی ہے کہ عمدہ سے عمدہ کھانے میں بھی کبھی اتنی لذت محسوس نہیں ہوئی۔ فقراء کے ساتھ فرش زمین پر سویا، حضور سے بیعت ہوا، واپسی پر گھر پہنچ کر بھی پابندی سے نماز پڑھتا رہا، داڑھی مبارک رکھ لی، جب حضور کو اس نوجوان کی اصلاح اور روحانی تبدیلی کا بتایا گیا تو فرمایا خوشی کی بات ہے کہ اتنے بڑے آدمی اور اتنی جلدی ان میں انقلاب آگیا۔ اب مولانا قمر الدین صاحب کو چاہئے کہ ان سے آمدورفت اور رابطہ مسلسل قائم رکھیں تاکہ یہ تاثیر پائدار رہے۔
طریقہ عالیہ کے فیوض و برکات کا دارومدار صحبت پر ہے۔ غرضیکہ جو بھی حضور کی خدمت میں عقیدت و محبت سے حاضر ہوتا، امیر ہوتا خواہ غریب، شریعت و طریقت کی پابندی عقیدت و محبت لیکر واپس جاتا۔ چنانچہ ایک مرتبہ محکمہ آبپاشی کے صوبائی سیکریٹری حضور سے ملاقات کے لئے (لطیف آباد حیدرآباد میں) قیام گاہ پر حاضر ہوئے، وہ بیچارے کسی دنیاوی مشکل میں پھنسے ہوئے تھے، آتے ہی عرض کی کہ بڑی مشکل میں پھنسا ہوا ہوں دعا فرماویں اللہ تعالیٰ مشکل حل فرمائے۔ آپ نے دعا فرماکر حسب معمول نصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: انسان دنیاوی مصیبت کے وقت تو بڑا پریشان ہوکر اس کے حل کے لئے ہر طرح کے حیلے بہانے تلاش کرتا ہے، مگر افسوس کہ اپنے خالق و مالک کی محبت و معرفت اور اطاعت کی طرف مطلق توجہ نہیں کرتا، حالانکہ اسی مقصد کے لئے انسان کو پیدا کیا گیا ہے۔ حضور کی مختصر سی نصیحت سے وہ اس قدر متاثر ہوا کہ اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور روتے ہوئے کہنے لگا، آپ کی عظیم شخصیت ہم گنہگاروں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے اللہ تعالیٰ کا عظیم احسان ہے، مگر ہم نے آپ کی قدر نہ کی، انشاء اللہ تعالیٰ اب میں کنڈیارو آپ کے دربار پر رہ کر آپ سے مستفیض ہوں گا۔

ایک مرتبہ میں اپنے ایک دوست کو جو کہ میرپور خاص میونسپل کمیٹی کے چیف آفیسر تھے آپ کی خدمت میں لے گیا۔ بدقسمتی سے وہ کٹر دہریہ ذہنیت کا آدمی تھا، راستے میں بھی اسی قسم کی فضول باتیں کرتے ہوئے آیا۔ نماز عصر دربار شریف پر جاکر ادا کی، نماز کے بعد حضور نے اسے قلبی ذکر کی تلقین کی۔ آپ نے ذکر کے طریقہ کے ساتھ ساتھ وجود باری تعالیٰ کے متعلق خطاب فرمایا جس سے وہ اس قدر متاثر ہوا کہ مجلس برخواست ہونے پر کہنے لگا آج میں مان گیا کہ واقعی اللہ والے بھی ہوتے ہیں کہ بن پوچھے میرے ہی قلبی اعتراضات کے جوابات دیتے رہے۔

ایک مرتبہ بنوں صوبہ سرحد کے وزیر قوم کے بااثر رہنما اور حضور کے پیارے خلیفہ مولانا حاجی محمد سلام صاحب (ایکسائز آفیسر بنوں ڈویژن) اپنے والد صاحب کو حضور کی خدمت میں فقیرپور شریف لے آئے اور بتایا کہ جب میں نے والد صاحب کو حضور کی خدمت میں چلنے کے لئے کہا تو کہنے لگے میں نہیں چلوں گا میں نے بہت سارے پیر دیکھے ہیں، مزید کسی پیر کو دیکھنے کی ضرورت نہیں، آج کل کی پیری مریدی بھی دنیاداری کا ایک طریقہ رہ گیا ہے۔ بہرحال میرے اصرار کرنے پر جب حضور کی خدمت میں پہنچے، حضور کا اخلاص اور جماعت کی دینداری دیکھ کر بڑا متاثر ہوا یہاں تک کہ وہی خان صاحب نماز عصر کے بعد حضور سے اجازت لیکر جماعت کے سامنے کھڑا ہوا، رو رہا تھا، بڑی مشکل سے گریہ پر ضبط کرکے کہنے لگا ہم پٹھان آدمی اس قدر تو سخت دل ہوتے ہیں کہ اپنے رشتہ داروں کے مرنے پر بھی رونا نہیں آتا، میرا والد ماجد جب فوت ہوگیا تھا تو بھی میں اتنا نہ رویا تھا جتنا آج یہاں پر بے اختیار رو رہا ہوں، بہت سے علماء کرام کو قریب سے دیکھا ان کی صحبتیں اختیار کیں، مگر وہ میرے دل کو نرم نہ کرسکے، مگر سوہنے سائیں کی ایک ہی نظر کرم سے بے اختیار اپنے گناہوں کی فہرست سامنے نظر آئی ہے، دل نرم ہوگیا ہے، یہاں کے ایک بچے نے آج مجھے ایک مسئلہ بتاکر حیران کردیا ہے وہ یہ کہ جب میں نے وضو بناکر پگڑی باندھی تو سر کا درمیانی حصہ کھلا ہوا تھا جس سے آج تک مجھے کسی پیر یا عالم نے منع نہیں کی تھی، مگر آج ایک چھوٹے سے بچے نے آکر متھے متھے کہہ کر مجھے حیران کردیا، یہ اس لئے کہ وہ سندھی بول رہا تھا جس سے میں بالکل نابلد ہوں، آخر میرے نہ سمجھنے پر معصوم بچے نے سر کی طرف اشارہ کرکے کہا نماز مکروہ، نماز مکروہ، جس سے سمجھا کہ یہ مجھے درمیان میں سر چھپانے کے لئے کہہ رہا ہے کہ ایسی صورت میں نماز مکروہ ہوجاتی ہے۔
آج تک تو میں سندھیوں کو دین سے جاہل اور اپنی قوم کو ان سے دیندار سمجھتا رہا، مگر آج کہتا ہوں کہ آپ حضرات کو مبارک ہو کہ آپ کے یہاں ایسے کامل ولی رہتے ہیں جن کے دربار کے بچوں کو بھی اتنا دین کا پتہ ہے کہ میری بھی اس نے اصلاح کی۔ انشاء اللہ تعالیٰ وطن واپسی پر میں اپنے ہم قوموں کو بتاؤں گا اور دعوت دوں گا کہ حضور سوہنا سائیں کی خدمت میں حاضر ہوکر دیندار بنیں۔

صحبت کی تاثیر

مذکور خان صاحب کے فرزند محترم حاجی محمد سلام صاحب جو کہ حضور سوہنا سائیں قدس سرہ کے پیارے خلیفہ ہیں، طریقہ عالیہ میں بیعت سے پہلے اس قدر عیاش اور آزاد منش تھے کہ بقول ان کے اس زمانہ میں میں اپنے کپڑوں کی سلائی اس درزی سے کراتا تھا جس سے اس وقت کے صدر پاکستان مرحوم سکندر مرزا سلوایا کرتے تھے، مگر آج وہی حاجی صاحب تہجد گزار، متقی و پرہیزگار، چہرہ پر نورانی داڑھی ہے، کسٹم کے اعلیٰ افسر ہوتے ہوئے بھی دیکھنے والا ان کو عالم دین ہی خیال کرے گا۔ آج سے کوئی آٹھ دس سال پہلے جب ایکسائز انسپکٹر تھے ایک ٹرک پر چھاپہ مار کر غیر ملکی مال پکڑا، سمگلروں نے ایک لاکھ روپیہ رشوت کی پیش کش کی مگر انہوں نے صاف الفاظ میں لینے سے انکار کردیا اور ان کو چالان کردیا۔ اسی قسم کے چھوٹے بڑے اور بھی کافی واقعات ان کو پیش آتے رہتے ہیں اور ملکی اخبارات میں بھی شائع ہوتے رہتے ہیں۔

حاجی صاحب موصوف نے بتایا جب میں حضور سوہنا سائیں قدس سرہ سے اجازت لے کر اپنے والد صاحب کے ہمراہ فریضہ حج کی ادائیگی کے لئے حرمین شریفین پہنچا، اتفاقًا والد صاحب بیمار پڑگئے، میں بڑا پریشان ہوگیا، اسی پریشان حالی میں نیند کا غلبہ ہوگیا جس میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی، آپ نے فرمایا فکر نہ کریں آپ کے والد صاحب جلد شفایاب ہوکر ابھی زندہ رہیں گے۔ اسی سفر حج کے دوران جب کعبۃ اللہ شریف کا طواف کررہا تھا حضور سوہنا سائیں قدس سرہ بھی طواف کرتے ہوئے نظر آئے، قدرے حیران بھی ہوگیا کہ حضور اس سال حج کے لئے تیار نہ تھے، شاید اچانک پروگرام بن گیا ہو، بے انتہا خوشی و محبت کے عالم میں حضور کے قریب جانے کی کوشش کی مگر پہنچ نہ سکا، آپ کافی آگے نکل چکے تھے۔ پھر دوسری بار اور تیز چل کر پہنچنے کی کوشش کی مگر محروم رہا، اسی طرح چند بار دیکھنے کے بعد میری آنکھوں سے اوجھل ہوگئے اور بعد میں معلوم ہوا کہ ظاہری طور پر اس سال حضور حج کرنے تشریف نہیں لائے تھے۔ شاید یہ آپ کے باطنی لطائف تھے جو بعینہ آپ کی سیرت و صورت میں مجھے کعبۃ اللہ شریف کا طواف کرتے دکھائی دیئے تھے (واضح رہے کہ حاجی صاحب موصوف کی گذارش پر حضور سوہنا سائیں قدس سرہ بنوں صوبہ سرحد تشریف لے گئے تھے اور ان کی بستی سرائے نورنگ میں بھی تشریف لے گئے تھے جہاں مثالی تبلیغی کام ہوا اور آج تک وہاں کے خواص خواہ عوام دربار اللہ آباد شریف آتے رہتے ہیں اور محترم خلیفہ مولانا حاجی محمد سلام صاحب شوق و لگن سے تبلیغی کام کررہے ہیں)۔

تبلیغ کا شوق

حضور سوہنا سائیں قدس سرہ تبلیغ و دعوت دین کی راہ میں انتہائی حریص تھے۔ چنانچہ ایک مرتبہ جب آپ کی علالت کے پیش نظر میں نے تبلیغی پروگرام ملتوی کرنے کی تجویز پیش کی تو فرمایا مولوی صاحب اس وقت میرے سامنے دو چیزیں ہیں، ایک صحت اور دوسری خدمت دین، سو مجھے دین کا کام صحت سے بڑھ کر عزیز ہے۔ اپنے متعلقین کے علاوہ ملنے والے علماء کرام اور سید حضرات کو خصوصی طور پر تبلیغ اسلام کا ذمہ دار گردان کر تاکید فرماتے تھے۔ چنانچہ ایک مرتبہ سیاسی ذہنیت کے حامل ایک سید صاحب جو کہ سندھ اسمبلی کے رکن بھی تھے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حسب معمول آپ نے انتہائی محبت سے ان کا استقبال کیا، گلے ملے اور مصلیٰ پر بٹھایا، خیر و عافیت دریافت کی، اس کے بعد فرمایا سائیں یہ دینی کام آپ کا تو ورثہ ہے، لیکن افسوس یہ کہ آپ نے اپنے ورثہ کی طرف کوئی توجہ نہ کی، ہم مسکین فقیر آدمی ہیں حسب استطاعت تھوڑا بہت کام کررہے ہیں، آپ کو چاہئے کہ اس راہ میں آگے آئیں ورنہ کل بروز قیامت آپ سے پوچھ گچھ ضرور ہوگی۔ کافی دیر تک اسی موضوع پر ارشادات فرماتے رہے اور شاہ صاحب بڑے ادب و توجہ سے سنتے رہے، آخر میں یہ کہہ کر رخصت ہوئے کہ آپ کا کہنا بجا ہے، یہ ہماری غفلت و سستی ہے، دعا فرماویں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دینی کاموں کی توفیق بخشے۔ ایک مرتبہ الیکشن کے ایام میں علماء کرام کا ایک وفد آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ نے ان کا پرتپاک خیر مقدم کیا، ان کے لئے گھر سے خود کھانا لیکر آئے اور کھلایا، آخر میں جب انہوں نے اپنا مدعا بیان کیا (ووٹ کا حصول) تو فرمایا اس عاجز کو مروجہ سیاست سے دلچسپی نہیں ہے اور یہی ہمارے ماسلف کا مسلک رہا ہے، البتہ ووٹ یقینی طور پر اسلام اور اہل اسلام کو ملے گا، جو بھی شریعت مطہرہ کے نفاذ کا دعویٰ کرے گا ہم اس کو ووٹ دیں گے، آگے اس کی مرضی۔ اس سلسلہ میں قیام پاکستان کے وقت مولانا شبیر احمد صاحب عثمانی کا حوالہ دیا کہ جب مسلم لیگ اور کانگریس دونوں طرف سے علماء کرام برحق ہونے کا دعویٰ کررہے تھے تو مولانا نے کہا بلاشبہ جناح صاحب بھی شریعت مطہرہ کا پابند نہیں ہے، پھر بھی دعویٰ تو اسلام کے نفاذ کا کرتا ہے، گو دوسری طرف تائید کرنے والے بھی علماء ہیں مگر دیکھا جائے تو آخر وہ ووٹ ملتا کس کو ہے۔ اس کے بعد فرمایا علماء دین دین متین کے وارث و محافظ ہیں، ان کو چاہئے کہ وقت کی نزاکت کو سمجھ کر باہمی ایک جگہ بیٹھ کر مسائل کو حل کریں، عوام الناس تک یہ باتیں نہ پہنچائیں اس سے مزید الجھاؤ پیدا ہوگا۔ بہرحال اتحاد و اتفاق ہی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بندہ عاجز یہاں یہ بات بھی عرض کردے کہ زمانہ میں جو بادشاہ ہوتا حضور اس کے اقتدار کو مشیت الٰہی سمجھ کر اس کی ہدایت و اصلاح اور دینی خدمات کی توفیق کے لئے دعا فرماتے تھے۔
آپ کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے اس قدر والہانہ محبت تھی کہ جب کبھی رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ملبوسات زیارت کے لئے لائے جاتے تو ان کے صدقے لانیوالے فقیر کی بھی تعظیم فرماتے تھے۔ سالانہ جلسہ کا موقعہ ہوتا، ماہانہ یا عام ایام میں باادب دوزانو ہوکر بیٹھ جاتے تھے۔ فقیر صاحب نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتا ہوا غلاف کھولتا اور آپ پورے انہماک سے باادب سنتے اور زیارت کے لئے منتظر بیٹھے ہوتے، جبہ یا عمامہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم لیکر بوسہ دیتے آنکھوں پر رکھتے، زیارت کرانے کے بعد اپنے سر مبارک پر رکھ کر لے چلتے اور جب وہ آپ سے تبرک لے کر روانہ ہوتا تو عمومًا وہیں کھڑے دیکھتے رہتے اور اس وقت تک پیٹھ دے کر نہ چلتے جب تک وہ نظر آتے تھے۔ اسی طرح اپنے پیر و مرشد نور اللہ مرقدہ کے تبرکات کی بھی بے حد تعظیم فرماتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ حیدرآباد میں قیام فرما تھے، علالت کی وجہ سے نیند نہیں آرہی تھی، میں بھی جاگ رہا تھا، کافی رات گذر چکی تھی، مجھے بلاکر فرمایا دونوں جاگ تو رہے ہیں، بہتر یہ ہے کہ پیر و مرشد نور اللہ مرقدہ کی تعریف میں منقبت سنائیں۔ میں نے ایک منقبت پڑھی، فرمایا اور سناؤ، میں نے دوسری منقبت پڑھی، پھر فرمایا تیسری بھی سناؤ، میں نے تیسری منقبت پڑھی جس کے دوران آپ کو نیند آگئی۔

ملک و ملت کی اصلاح و استحکام کے لئے آپ کے نزدیک طلبہ اور فوج سب سے زیادہ اہم تھے۔ اسی مقصد کے پیش نظر روحانی طلبہ جماعت کے قیام سے آپ ازحد خوش ہوئے۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر عمل کرنے کا جس قدر آپ کو شوق اور لگاؤ تھا اس کے لئے آپ کی جماعت میں اتباع سنت کا ہونا ہی کافی ثبوت ہے۔ یہاں ایک مختصر سا واقعہ عرض کردوں کہ ایک بار درگاہ اللہ آباد شریف میں آپ نے مجھے اپنے مکان پر طلب فرمایا، میرے حاضر ہونے پر فرمایا آپ بیٹھیں میں جلدی آتا ہوں، چنانچہ گھر سے خالص جو کی پکی ہوئی روٹی لے آئے اور فرمایا آج جی چاہا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے تناول کئے ہوئے طعام میں سے خالص جو کی روٹی پکوا کر کھاؤں جو کہ میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی خوراک رہا ہے، اور اس میں آپ کو بھی ساتھ شامل کرنے کا خیال ہوا۔ بہرحال دونوں نے مل کر روٹی کھائی۔

تاثرات

حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے بارے میں مذہبی اہم شخصیات کے تاثرات بھی کچھ کم نہیں تھے۔ جس کسی کا آپ سے جتنا رابطہ رہا، اسی قدر متاثر ہوا، اور آپ کے ساتھ بسر کی جانے والی ساعات کو زندگی کا عظیم سرمایہ تصور کرنے لگا۔ سردست جن چند اہم شخصیات کے تاثرات بندہ کو ذاتی طور پر معلوم ہیں پیش کررہا ہوں۔

مخدومہ محترمہ اہلیہ حضرت خواجہ خواجگان پیر فضل علی قریشی اطال اللہ عمرھا

جب حضور شمس العارفین سوہنا سائیں قدس سرہ بمع چند احباب درگاہ مسکین پور شریف حاضری کے لئے تشریف لے گئے، محترمہ مخدومہ صاحبہ، حضرت قریشی علیہ الرحمہ کی صاحبزادی صاحبہ، داماد سید عبدالرؤف شاہ صاحب، اور ان کے صاحبزادگان حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے حسن اخلاق و ادب، شریعت و طریقت کی پابندی، کامل مرشد سے کامل عقیدت و محبت، ذکر اللہ کی کثرت، جذب اور کمال اتباع سنت دیکھ کر ازحد خوش ہوئے۔ یہاں تک کہ حضرت پیر قریشی قدس سرہ کی اہلیہ محترمہ نے (جو بفضلہٖ تعالیٰ تاحال حیات ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو صحت کاملہ کے ساتھ دیرپا رکھے اور ان کے فیوض و برکات اور مستجاب دعاؤں سے تمام متوسلین کو بہرہ ور فرماتا رہے) حضرت مولانا عبدالرؤف شاہ صاحب کی معرفت حضور سوہنا سائیں قدس سرہ کو بمع جماعت درگاہ مسکین پور شریف آنے کی دعوت دی۔ چنانچہ ۱۹۷۶ء میں حضور نور اللہ مرقدہ بمع جماعت قافلے کی صورت میں تشریف لے گئے، اس کے بعد ازراہ شفقت حضرت سوہنا سائیں قدس سرہ کی دعوت پر سیدہ مخدومہ صاحبہ اطال اللہ عمرھا درگاہ اللہ آباد شریف کنڈیارو تشریف فرما ہوئیں۔ درگاہ شریف پر اہل ذکر خواتین میں پردہ، ذکر اللہ، دینداری، اور حضرت قریشی قدس سرہ کے زمانہ اقدس کر طرح جذبہ و جوش دیکھ کر فرمایا کہ شریعت و طریقت کی پابندی، جوش و جذبہ جو حضرت قریشی قدس سرہ کے زمانہ میں دیکھا تھا اتنے طویل عرصہ گزرنے کے بعد وہی نقشہ آج دوبارہ دیکھا ہے۔ گو ضعیفۃ العمر ہونے کی وجہ سے حضرت مخدومہ صاحبہ مدظلہا زیادہ بار تشریف نہ لاسکیں، مگر حضرت سید عبدالرؤف شاہ صاحب، حضرت قریشی علیہ الرحمہ کی دختر نیک اختر مدظلہا اور ان کے فرزندان گرامی بالخصوص حضرت قبلہ مولانا علامہ رفیق احمد شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ بکثرت سندھ تشریف لاتے رہے۔ حضور نور اللہ مرقدہ کے وصال کے بعد بھی قدوم بابرکت سے نوازتے رہتے ہیں، اللہ تعالیٰ اس بابرکت خاندان کو دین و دنیا میں سرفراز رکھے اور اپنے ماسلف کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق رفیق سے نوازے آمین۔

حضرت مولانا احمد دین صاحب خلیفہ حضرت قریشی قدس سرہ

حضرت سوہنا سائیں قدس سرہ کی نیکی، تقویٰ اور اپنے شیخ سے والہانہ عقیدت و محبت اور ان کی خصوصی شفقت و رضا اور ارشادات کی روشنی میں علامہ موصوف فرمایا کرتے تھے کہ میں جانتا ہوں کہ حضرت پیر مٹھا نور اللہ مرقدہ کے بعد حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ ہی ان کے قائم مقام ہیں، اور ان کی طرح دینی خدمات انجام دے سکتے ہیں۔ چنانچہ حضرت پیر مٹھا قدس سرہ کے سانحہ ارتحال کے بعد انہوں نے حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کو یہ تجویز پیش کی تھی کہ آپ پوری جماعت کا تفصیلی دورہ کریں، فوری رابطہ ہی سے جماعت کا نظم و نسق اور اتحاد برقرار رہ سکتا ہے۔ حضور نور اللہ مرقدہ نے ان کی تجویز کو پسند فرمایا اور اسی کے مطابق عمل بھی کیا۔

مولانا سید علی اکبر شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ، میہڑ ضلع دادو سندھ

(سندھ اسمبلی کے سابق رکن، پاکستان کے سابق سفیر اور جامعہ عربیہ حیدرآباد کے بانی)

شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو حضور سوہنا سائیں قدس سرہ سے بے حد محبت اور عقیدت تھی۔ اسی طرح حضور کو بھی ان سے کافی محبت تھی۔ شاہ صاحب علیہ الرحمہ جب بھی زیارت و ملاقات کے لئے تشریف فرما ہوتے حضور ان کی خاطر خواہ مدارات کرتے اور ان سے صلاح و مشورہ کرتے تھے۔ چونکہ شاہ صاحب موصوف علیہ الرحمہ ایک بے لوث عالم دین، سیاستدان، اور غیر معمولی فہم و فراست کے مالک تھے، حضرت سوہنا سائیں قدس سرہ کے اتباع سنت، دین اسلام کی اشاعت اور دین اسلام سے دور افتادہ مسلمانوں کی اصلاح کے فکر، ساتھ ہی اعلیٰ صلاحیتوں اور جذباتی و انقلابی خطاب اور انقلابی قسم کے بیداری پیدا کرنے والے اشعار اور تبلیغ و تربیت کے ڈھنگ کی موقعہ بموقعہ تعریف فرمایا کرتے تھے، یہاں تک کہ حضور سوہنا سائیں قدس سرہ کو کہہ دیا کہ جناب اگر آپ کو اسی ذہنیت کے دوچار اور افراد مل جائیں تو آپ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں اسلامی انقلاب کے لئے فضا ہموار کرسکتے ہیں۔ (واضح رہے کہ حضرت شاہ صاحب علیہ الرحمہ کے زمانہ میں حضور نور اللہ مرقدہ کے تبلیغی مشن کا کام زیادہ وسیع نہیں تھا مگر بعد میں بفضلہٖ تعالیٰ ان کی پیشین گوئی صحیح ہوتی نظر آئی کہ حضور سوہنا سائیں قدس سرہ کے زمانہ میں ہی آپ کے خلفاء کرام نے بیرون پاکستان تبلیغی کام شروع کیا جو دن بدن ترقی پذیر ہے۔ فالحمدللہ تبارک و تعالیٰ از مؤلف)

حضرت مولانا محمد صالح بھٹو صاحب مدظلہ

(سندھ کے مشہور عالم، استاذ العلماء کے لقب سے مشہور ہیں)

مولانا موصوف کو حضور سوہنا سائیں قدس سرہ سے والہانہ عقیدت و محبت تھی، حضور سوہنا سائیں قدس سرہ کے تبلیغی کام کی ابتداء ہوتے ہی عملی تعاون فرمایا۔ دربار عالیہ پر بار بار حاضری کے علاوہ بعض تبلیغی سفروں میں بھی ساتھ رہے۔ حضور سوہنا سائیں قدس سرہ کے متعلق فرمایا کرتے تھے کہ میں ان کو ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ اپنے مرشد حضرت قبلہ پیر مٹھا قدس سرہ کے قابل قدر لائق و فائق جانشین تھے۔ (واضح رہے کہ مولانا موصوف مدظلہ کی حضرت قبلہ صاحبزادہ سجن سائیں مدظلہ سے بھی وہی عقیدت و محبت ہے۔ مؤلف)

استاذ العلماء حضرت علامہ الحاج مولانا رضا محمد صاحب مہاجر مکی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

مولانا موصوف حضور سوہنا سائیں قدس سرہ کے انتہائی مہربان استاد سندھ کے مایہ ناز عالم دین تھے۔ طویل عرصہ سے مکہ مکرمہ زادھا اللہ شرفًا و تعظیمًا میں سکونت پذیر تھے۔ بعد از وفات جنت المعلیٰ میں مدفون ہوئے۔ مولانا موصوف کو جب حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی مسند نشینی اور بڑے پیمانے پر دینی خدمات کا پتہ چلا تو ازحد خوش ہوئے، اور جب حضور فریضہ حج کی ادائیگی کے لئے حجاز مقدسہ تشریف لے گئے تو آپ کے زمانہ طالب علمی کے اخلاق و عادات اور آپ کی دینی خدمات کے پیش نظر بڑی عقیدت و محبت سے ملے، حضور بھی انتہائی ادب و محبت سے پیش آتے رہے، بالآخر بڑے اصرار سے مولانا موصوف نے آپ سے بیعت ہونے کی خواہش ظاہر کی مگر آپ نے ادبًا معذرت کی، لیکن مولانا موصوف نہ مانے، ازحد منت سماجت کرکے خود بھی بیعت ہوئے، اپنے صاحبزادہ اور اہل خانہ کو بھی آپ سے بیعت کرایا۔ مولانا موصوف جب تک زندہ رہے حضور سے عقیدت و محبت میں اضافہ ہی ہوتا رہا۔ آخر تک ایک دوسرے کو سلام و نیاز اور تحفہ تحائف ارسال فرماتے رہے۔

شیخ التفسیر حضرت علامہ الحاج فیض احمد اویسی مدظلہ بہاولپوری

۱۳۹۴ھ میں حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے فرمان سے آپ کے مدرسہ عالیہ کے چند طلبہ علامہ موصوف کے یہاں دورہ تفسیر القرآن پڑھ چکے تھے، جن کی نیکی، تقویٰ، فقیری دیکھ کر اور ان کی زبانی حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی دینی خدمات سن کر ازحد متاثر ہوئے۔ چنانچہ ایک بار جب مولانا مدظلہ میرپور خاص میں ایک جلسے میں مدعو تھے، اتفاقًا اسی شام حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کمبھار بستی نزد ھنگورنہ تبلیغی جلسہ میں تشریف لے گئے تھے۔ معلوم ہونے پر مولانا موصوف میرپور خاص سے کافی جماعت لے کر آپ کی خدمت میں کمبھار بستی پہنچے۔ حضور سے ملاقات کے بعد تو آپ کے اخلاق، تواضع اور دینی فکر کو دیکھ کر بہت زیادہ متاثر ہوئے۔ چنانچہ جب حضور کے فرمان سے تقریر کرنے اسٹیج پر تشریف لائے تو فرمایا حضور سوہنا سائیں (قدس سرہ) کی دینی خدمات اور جذبہ دیکھ کر میں اس قدر متاثر اور خوش ہوا ہوں کہ میرے خیال میں ان بزرگوں کے ہوتے ہوئے میری تقریر کی کوئی ضرورت نہیں رہی۔ صحیح معنوں میں تبلیغ و اشاعت اسلام کا کام یہی اللہ والے کرتے ہیں، ہم اہل السنۃ والجماعۃ کے لئے اس عظیم پیمانہ پر کام کررہے ہیں۔

حضرت علامہ مولانا محمد ہاشم فاضل شمسی مدظلہ

(مشیر تعلیمات ورلڈ فیڈریشن آف اسلامک مشنز کراچی، و خطیب جامع مسجد و عیدگاہ رانی باغ حیدرآباد)

علامہ شمسی صاحب نے کئی بار حضور سوہنا سائیں قدس سرہ سے شرف ملاقات حاصل کیا۔ ان کو حضور سے کافی عقیدت و محبت تھی۔ لسانی فسادات کے ایام میں جب حضور نور اللہ مرقدہ کے ایماء پر فقراء نے حیدرآباد شہر میں مختلف مقامات پر اصلاحی جلسے منعقد کرائے، آزاد میدان ہیرآباد حیدرآباد کے جلسے میں شرکت کے لئے بذات خود تشریف فرما ہوئے۔ علامہ شمسی صاحب موصوف بھی اس جلسہ میں موجود تھے اور خطاب بھی فرمایا تھا۔ اختتام جلسہ پر مولانا موصوف نے فرمایا ان بزرگوں کے پرتاثیر خطاب سے بڑھ کر میں نے کسی بزرگ یا عالم کی تقریر نہیں سنی، ان کی تقریر سے آج میں خود رو پڑا تھا (واضح رہے کہ علامہ موصوف عالم باعمل جذباتی انداز کے بہترین مقرر، کہنہ مشق عالم دین و مفتی ہیں، ریڈیو پاکستان پر بھی ان کی تقاریر نشر ہوتی رہتی ہیں)

مولانا محمد احمد صاحب لاہوری

لاہور سے جب مولانا موصوف حضور کی خدمت میں پہنچے، حضور کی تعلیمات سے اس قدر متاثر ہوئے کہ موجود فقراء کو فرمانے لگے میں بہت سی خانقاہوں پر حاضر ہوا ہوں، بزرگوں کی زیارتیں کی ہیں، لیکن حضرت سوہنا سائیں (قدس سرہ) جیسا کامل مرشد اور ان کی جماعت جیسی عامل قرآن و سنت جماعت کہیں نہیں دیکھی۔

مولانا قاری خلیل احمد صاحب، دبئی متحدہ عرب امارات

مولانا موصوف جب حضور کی زیارت اور صحبت بابرکت سے مشرف ہوئے تو متاثر ہوکر فرمایا: کتابوں میں بزرگان دین کے حالات و واقعات پڑھ کر دل میں کامل بزرگوں کی محبت ضرور تھی، مگر آج تک کہیں ایسا بزرگ دیکھا نہیں تھا۔ الحمدللہ حضرت سوہنا سائیں (قدس سرہ) کے بارے میں جس قدر سنا تھا، یہاں آکر اس سے کہیں زیادہ فیوض و برکات اور اتباع سنت کا عملی نمونہ دیکھا ہے، لہٰذا یہ کہنا بجا ہوگا کہ دور حاضر میں آپ کا وجود مسعود ماسلف بزرگان دین کا عملی نمونہ ہے۔

واعظ اسلام حضرت مولانا دوست محمد صاحب ”بلبل سندھ“ رحمۃ اللہ علیہ

مولانا موصوف جانے پہچانے مشہور عالم دین اور واعظ ہو گزرے ہیں۔ حضور سے ان کو غیر معمولی عقیدت و محبت تھی۔ حضور سے ان کی ملاقات کم رہی، مگر ہر جگہ آپ کے تبلیغی اصلاحی کام کی تائید کیا کرتے تھے۔ چنانچہ ایک مرتبہ دربار عالیہ کے ایک طالبعلم کو سر بازار رمضان المبارک کی تبلیغ کرتے دیکھ کر ان کے پاس چلے آئے اور لوگوں کو متوجہ کرتے ہوئے فرمایا ہمارے سندھ میں حضرت سوہنا سائیں (قدس سرہ) کی واحد جماعت ہے جس کا بچہ بچہ مبلغ اسلام ہے، دیہاتوں، شہروں، بازاروں مطلب یہ کہ ہر جگہ حق کا پیغام پہنچاتے ہیں۔ حضور کے انتقال پرملال کے بعد ایصال ثواب کے لئے مزار شریف پر بھی حاضر ہوئے تھے۔ حال ہی میں مولانا موصوف کا انتقال ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے، آمین۔

حضرت مولانا پیر منظور حسین صاحب مدظلہ

حجاز مقدسہ کے مکین حضرت الحاج منظور احمد سے جب حضور کے پیارے خلیفہ حضرت مولانا احمد حسن صاحب ملے، دربار عالیہ کی مطبوعات ان کو تحفہ دیں، حضور کے تبلیغی اصلاحی کام کی تفصیلات بتائیں تو مولانا موصوف نے فرمایا سندھ میرا آبائی وطن ہے، عرصہ سے دل میں یہ تمنا تھی کہ کاش کوئی بزرگ سندھ میں رہ کر تبلیغ، تصنیف و تالیف کے ذریعے اشاعت اسلام کا کام کریں، الحمدللہ میری دیرینہ تمنا پوری ہوئی ہے۔

اڃا ڪي آهين، ڪل جڳ ۾ ڪاپڙي.

جب حاجی احمد حسن صاحب ان سے رخصت ہوکر جانے لگے، تو معمول کے خلاف ان کو الوادع کرنے کے لئے خود بھی ساتھ چلے۔ جب حاجی صاحب نے اس قدر تکلف نہ کرنے کے لئے کہا تو فرمایا میں تمہارے لئے نہیں اس بزرگ کی وجہ سے تمہارے ساتھ چلتا ہوں جن سے تمہیں نسبت حاصل ہے، جو گمراہی کے اس دور میں اس قدر جانفشی سے اشاعت اسلام کا مثالی کام کر رہے ہیں۔ رخصت ہونے کے بعد بھی کافی دیر تک کھڑے حاجی احمد حسن صاحب اور ان کے ساتھیوں کو دیکھتے رہے۔ اس کے بعد تو سلام و پیام کے ذریعے حضور سے ان کا مستقل رابطہ رہا۔ دربار عالیہ کے مدرسہ کی لائبریری کے لئے کئی نایاب اور قیمتی کتابیں خرید کر مولانا موصوف نے ارسال کیں۔ حالانکہ ہر بار حاجی احمد حسن صاحب لینے سے انکار کرتے رہے مگر وہ باصرار مدرسہ عالیہ کی خدمت کرتے رہے۔

حضرت الحاج مولانا علی محمد سندھی مدنی رحمۃ اللہ علیہ

(سندھ کے جید عالم و فاضل جو کہ مستقل طور پر جاکر مدینہ منورہ زادھا اللہ شرفًا و تعظیما کے مکین ہوکر، خوش قسمتی سے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کمان مبارک کی محافظت کی سعادت بھی آخر تک ان کو حاصل رہی)

حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے پیارے خلیفہ الحاج مولانا احمد حسن صاحب اور جماعت کے دیگر احباب سے ملاقات، ان کے قول و فعل اور ان کی زبانی حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی تبلیغی مساعی کا سن کر بذریعہ خط اپنے تاثرات کا اس طرح اظہار فرمایا: آپ کی جماعت کے فقراء سے مل کر بہت خوشی ہوئی کہ ان کے قول و فعل میں یکسانیت کا پہلو نمایاں تھا، جس سے آپ کی صداقت کا بھی پتہ چلتا ہے، ساتھ ہی یہ بھی کہ آپ نے فقراء کی بڑی اچھی تربیت کی ہے، ان سے مزید یہ سن کر میری خوشی اور حیرانگی کی انتہا ہوگئی کہ آپ نے باطنی روحانی تربیت کے علاوہ دینی مدارس اور تصنیف و تالیف کے میدان میں بھی نمایاں کام کیا ہے، شاذونادر ہی صوفیاء کرام نے ایک ساتھ ظاہری اور باطنی تعلیم و تعلّم کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ آپ کی ان کاوشوں سے متاثر ہوکر مزید استقامت و ترقی کے لئے روضہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم پر حاضر ہوکر میں نے دعا مانگی، اللہ تعالیٰ مقبول و منظور فرمائے، آمین۔ اس کے بعد مولانا موصوف کا حضور نور اللہ مرقدہ سے مسلسل پیام و سلام کا رابطہ رہا۔ حضور ان کے لئے کتابیں ارسال فرماتے تھے اور وہ حضور اور حضرت قبلہ صاحبزادہ سجن سائیں مدظلہ کے نام سلوک و تصوف و حدیث کی کتابیں ارسال فرمایا کرتے تھے۔ مولانا موصوف نے اپنے ایک خط میں تحریر فرمایا کہ میں نے ماسلف بزرگان دین کی بہت ساری کتابیں پڑھیں اور یہاں حجاز مقدسہ میں پورے عالم کے علماء اور عوام سے ملاقاتیں ہوتی ہیں، مگر جو انقلابی تبلیغی کام آپ کررہے ہیں مجھے اس کی نظیر کہیں نظر نہیں آتی۔

مولانا مولوی عبداللہ صاحب

مشہور عالم دین، بااثر زمیندار (تحریک خلافت صوبہ سندھ کے رہنما) مولانا موصوف کی بستی (بستی مولوی عبداللہ نزد پھلہڈیوں ضلع سانگھڑ) میں جب حضور کے پیارے خلیفہ مولانا فضل محمد رحمۃ اللہ علیہ پہنچے، تبلیغ کی اور حضور کےدینی اصلاحی فکر کا ذکر کیا تو مولانا موصوف ان کے ہاتھ پر طریقہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت ہوئے، علاقہ بھر میں تائید کی، سینکڑوں آدمی طریقہ عالیہ میں داخل ہوئے۔ بعد میں مولانا موصوف حضور سوہنا سائیں قدس سرہ کی خدمت میں مسلسل آتے رہے۔ مولانا موصوف کی نیکی، للٰہیت اور دینی خدمات کی وجہ سے حضور کو ان سے کافی محبت تھی۔ کافی کافی دیر تک ان سے تفصیلی کچہری فرماتے تھے۔ چند بار مولانا موصوف کی بستی میں جلسہ میں شرکت کرنے تشریف لے گئے۔ آج تک مذکورہ بستی میں ۹ تاریخ کو ماہوار جلسہ ہوتا ہے۔ مولانا عبداللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ حتی المقدور میں نے بھی بڑی تبلیغی کوشش کی مگر پوری طرح اپنے لڑکوں کی اصلاح بھی نہ کرسکا، جبکہ حضور کی تشریف آوری اور خلیفہ صاحب کی محنت سے ہماری بستی کے علاوہ علاقہ بھر میں سینکڑوں مرد اور عورتیں متقی و پرہیزگار بن چکے ہیں۔

حضرت مولانا قاری حضرت گل صاحب، بنوں صوبہ سرحد

(مولانا صاحب صوبہ سرحد کی جانی پہچانی شخصیت، ایک عالم دین اور بے باک صحافی اور اخبار ترجمان الحق کے ایڈیٹر ہیں)

قاری صاحب موصوف حضور سوہنا سائیں قدس سرہ کے مبلغ خلفاء کرام کی مخلصانہ تبلیغی محنت اور للٰہیت دیکھ کر نہایت ہی متاثر ہوئے۔ بالآخر حضور کی خدمت میں آئے تو آپ کے دینی فکر، اخلاص اور اخلاق حسنہ نے ان کی عقیدت و محبت میں مزید اضافہ کردیا اور فرمانے لگے بلاشبہ یہاں روحانیت حقانیت اور للٰہیت موجود ہے، موجودہ معاشرہ کی اصلاح کے لئے ایسی شخصیتوں کی ضرورت ہے، انشاء اللہ تعالیٰ میں واپس جاکر ببانگ دہل صوبہ سرحد کے علماء اور عوام کو بتاؤں گا کہ آج بھی سندھ میں ماسلف کے نمونہ کے ایک عالم ربانی موجود ہیں۔ چنانچہ سندھ سے واپسی پر اپنے پشتو اخبار الحق میں تفصیل سے حضور کا تعارف اور آپ کی تبلیغی مشن کا ایک عمدہ جائزہ شائع کیا۔ اس کے بعد بھی مولانا موصوف حضور نور اللہ مرقدہ کی خدمت میں حاضر ہوتے رہے۔

فقط فقیر جان محمد طاہری بخشی غفاری

حضرت علامہ مولانا عبدالستار صاحب برادر حضرت پیر مٹھا قدس سرھما

حضرت قبلہ پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے سانحہ ارتحال کے بعد حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے یہاں درگاہ فقیرپور شریف تشریف لائے اور وہاں موجود خلفاء کرام کو فرمایا: میرے برادر محترم حضرت پیر مٹھا قدس سرہ کے نقش قدم پر چلنے والے اور ان کے طریقہ کار کے عین مطابق تبلیغی کام کرنے والے حضرت سوہنا سائیں ہی ہیں، اس لئے آپ تمام حضرات کو چاہئے کہ اشاعت اسلام کے ہر موڑ میں دل و جان کے ساتھ ان سے تعاون کرتے رہیں، یہ تنہا ان کی ذمہ داری نہیں ہے۔ (از محترم قاری مولانا عبدالرسول صاحب)

حضرت مولانا غلام فرید صاحب رحمۃ اللہ علیہ داماد حضرت پیر مٹھا قدس سرہ

فقیر گل محمد صاحب نے بتایا کہ حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے وصال کے بعد ایک دن میں پریشان حال مولانا موصوف کے قریب سے گزرا، اس وقت آپ وضو فرما رہے تھے، مجھے بلاکر خیریت دریافت کی اور فرمایا اگر حضرت پیر مٹھا قدس سرہ کا باطنی فیض حاصل کرنا چاہتے ہو تو ان کے پیارے خلیفہ حضرت سوہنا سائیں کے پاس چلے جاؤ اور اگر دنیاداری مطلوب ہو تو تمہارے لئے لاڑکانہ بہتر ہے۔

حضرت علامہ مولانا غلام رسول خطیب جامع مسجد خبیب رضی اللہ عنہ، لاہور

مشہور انتہا پسند عالم دین بظاہر شیخ القرآن غلام اللہ خاں کے سابق ہم نوا اور پنجاب یونیورسٹی کے ادارہ تحقیقات (ریسرچ ڈیپارٹمنٹ) کے پروف ریڈر جو حضور سوہنا سائیں قدس سرہ کے دست حق پرست پر بیعت ہوکر اپنے سابقہ عقائد فاسدہ سے تائب ہوچکے ہیں، مولانا نے بتایا کہ کوئی پندرہ سولہ برس کی عمر میں اپنی بستی پنڈی کھیپ ضلع کیمل پور میں حیات النبی کے منکر اور مشہور گستاخ رسول مولانا غلام اللہ خاں کی تقریر سن کر ان کا اسیر ہوگیا، اس کی صحبت و محبت نے ادب اور عشق رسول جیسی بنیادی چیزوں سے مجھے محروم کردیا، یہی نہیں افسوس یہ کہ میں اس کا ہم نوا بن کر زندگی بھر بندگان خدا (جن کی نگاہ بااثر سے انسانوں کی زندگیاں بدل جاتی ہیں) کی مخالفت اور عقائد باطلہ کی پرچار کرتا رہتا۔

خوش قسمتی سے مولانا انوار المصطفیٰ صاحب سے ملاقات ہوئی اور ان سے حضور کا تعارف ہوا، جب حضور کی زیارت کی اور آپ کی متبع قرآن و سنت جماعت خاص کر روحانی طلبہ جماعت کے ارکان کو دیکھا تو سمجھا کہ میری تمام سابقہ زندگی اکارت گئی۔ الحمدللہ حضور کے دست حق پرست پر بیعت ہوکر اپنی تمام سابقہ کوتاہیوں سے توبہ کرچکا ہوں اور یقین سے کہتا ہوں کہ اسلام میں ادب اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم بنیادی چیزیں ہیں۔ حضور سوہنا سائیں کے در اقدس سے یہی نعمت ملتی ہے۔ بلاشبہ دور حاضر میں ان کا در اقدس تزکیہ نفس اور عاقبت سنوارنے کا مثالی مرکز ہے اور ان ہی اہل اللہ کی امت مسلمہ کو ضرورت ہے۔