| فہرست |
سیرت ولی کامل (حصہ دوم) |
باب ششم۔ مشاہدات و تاثراتحضرت سوھنا سائیں علیہ الرحمۃتحریر حضرت خلیفہ مولانا الحاج محمد ادریس ڈاہرینحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم امابعد۔ مرشدی و مربی قبلہ خواجہ حضرت سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ کے سانحہ
ارتحال کے بعد حضرت مولانا حبیب الرحمان صاحب (حبیب بخشی فاضل غفاری) نے
آپ کے سوانح حیات کے انتہائی اہم اور مفید کام کی ابتداء کی جو نہ فقط
حضرت کے مسترشدین بلکہ تمام امت مسلمہ کے اہل دل سالکان طریقت کے لئے مشعل
راہ سے کچھ کم نہیں۔ مولانا موصوف نے اس عاجز کو بھی مذکورہ سعادت میں
شرکت کے لئے چند بار کہا، مگر مسلسل تقریری پروگراموں کی وجہ سے تعمیل
سے قاصر رہا۔ مگر جب بیس محرم الحرام ۱۴۰۸ھ کو مزار پرانوار کی زیارت اور
آستانہ عالیہ کے سجادہ نشین مرشد ابن مرشد مدظلہ کی خدمت میں حاضری کا
شرف ہوا، رخصت ہوتے وقت فرمایا حضور نور اللہ مرقدہ کے حالات زندگی کے
متعلق کچھ لکھ کر بھیجنا۔ اب تو دوہری ذمہ داری عائد ہوگئی اور عذر و بہانہ
کی گنجائش بھی نہ رہی۔ بس یہ آپ کی کرم نوازی ہی تھی کہ ایسے بابرکت سلسلہ
میں مجھ گناہگار کو بھی شرکت کا شرف بخشا ہے۔ یہ آپ کے روحانی کمالات کا تصرف ہی تھا کہ موجودہ فتنہ و فساد کے زمانے میں بھی آپ کی تبلیغی کوششوں سے ہزاروں فاسق و فاجر، چور، شرابی تائب ہوکر متقی و پرہیزگار بن گئے۔ آپ نے علمی میدان میں بھی نمایاں خدمات سرانجام دیں۔ درس نظامی، حفظ و ناظرہ کے کئی مدارس قائم فرمائے جن سے سینکڑوں علماء و حفاظ فارغ ہوئے۔ آپ کا کشفایک بار مدرسہ نور الاسلام کنڈیارو کے مہتمم ماسٹر عبدالعزیز صاحب سے میں نے کہا کہ مسلسل تقریری پروگراموں سے تھک چکا ہوں، اب ارادہ یہ ہے کہ مدرسہ میں تدریسی کام شروع کروں، عندالضرورت کبھی کبھی جلسوں میں بھی جایا کروں گا۔ ماسٹر صاحب نے تو تائید نہ کی، الٹا کہنے لگے کہ آپ اہل السنۃ کے بہتر اور مقبول مبلغ ہیں، سندھ کے سنی عوام کو آپ سے محبت ہے، ہزاروں افراد آپ کے خطاب سے متاثر اور مستفیض ہوتے ہیں وغیرہ۔ بہرحال اسی وقت ہم دونوں حضور سوہنا سائیں علیہ الرحمہ کی زیارت کے لئے اللہ آباد شریف گئے، دست بوسی کے بعد بیٹھے ہی تھے کہ ازخود میری طرف متوجہ ہوکر ارشاد فرمایا: مولوي صاحب! اوهان تقريرن جو سلسلو بند نه ڪيو ۽ نه ڪري سگھندؤ، ڇو ته اوهان کي ان ڪم لاءِ مٿان منتخب ڪيو ويو آهي. مولوی صاحب! آپ تقاریر کا سلسلہ ختم نہ کریں اور نہ ہی یہ سلسلہ آپ ختم کرسکتے ہیں، اس لئے کہ آپ کو اس کے لئے منتخب کیا گیا ہے۔ مجلس برخواست ہونے پر ماسٹر صاحب بڑی حیرانگی کے عالم میں کہنے لگے تھوڑی دیر پہلے جو ہم نے بات چیت کی، حضور کو کس طرح پتہ چل گیا؟ میں نے جوابًا حضرت علامہ رومی علیہ الرحمہ کا شعر سناکر موصوف کو مطمئن کردیا کہ اولیاء را حق کند علم نصیب اہل اللہ صرف ظاہری علم کے عالم ہی نہیں، باطنی علوم جن میں کشف القلوب اور کشف القبور بھی شامل ہیں اہل اللہ کو حاصل ہوتے ہیں۔ اس قسم کے اور بھی بہت سے واقعات و مشاہدات گواہ ہیں کہ آپ کا سینہ، فیض الٰہی کا خزینہ اور رموز و اسرار کا بحر بے کراں تھا۔ ایک بار شاہ پور جہانیاں تحصیل مورو کے ایک کہنہ مشق عالم دین مولانا محمود صاحب میرے ساتھ حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے، بعد از نماز عصر آپ نے خطاب فرمایا۔ میں نے دیکھا مولانا موصوف کی آنکھوں سے مسلسل آنسو جاری تھے۔ اختتام مجلس پر کہنے لگے حضور سوہنا سائیں (علیہ الرحمہ) کی مجلس میں بیٹھنے سے پتہ چلتا ہے کہ یقینًا آپ اللہ تعالیٰ کے یہاں مقبول، کامل مکمل اور فیاض ولی ہیں، صرف روحانی ہی نہیں آپ کے خطاب کا انداز بھی عمدہ ہے، روانی، مترادف الفاظ کا استعمال آپ کے خطاب کے اضافی پہلو ہیں۔ بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں مقبولیتجب آپ نے ذرہ نوازی فرماکر اس عاجز نااہل کو خلافت کے شرف سے مشرف فرمایا تو میں نے عرض کی یا حضرت! سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت فیض بشارت کی تمنا ہے، اس نااہل پر یہ مہربانی ہو! سن کر ارشاد فرمایا: ہماری طرف سے خلافت کا دیا جانا زیارت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا پیش خیمہ ہے، انشاء اللہ تعالیٰ آپ زیارت مبارکہ سے مشرف ہوں گے۔ الحمدللہ اس سال بھی حرمین شریفین کی حاضری نصیب ہوئی اور ہر موقعہ پر پہلے سے کہیں زیادہ انوار و تجلیات، فیوض و برکات سے مستفیض ہوا۔ مدینہ منورہ پہنچنے پر حسب معمول اپنے سسر محترم حاجی عبدالحمید صاحب کے مکان کے ایک کمرہ میں رہائش پذیر تھا، رات کو تفسیر و حدیث کی کتابوں کا مطالعہ کرنے کے بعد جیسے ہی سویا خواب میں حبیب کبریا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی بایں طور کہ آپ مذکورہ کمرہ میں تشریف فرما ہوئے ہیں، اور میں یا رسول اللہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم کے نعرے بلند کرتے ہوئے آپ کے قدموں سے لپٹ گیا، اس دوران مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خالص نور نظر آئے اور گنبذ خضریٰ میں تشریف فرما ہورہے تھے۔ اسی سال مجھ پر ایک اور کرم نوازی ہوئی۔ وہ یہ کہ جب میں حرم شریف میں جاکر بیٹھتا کئی سوڈانی اور ترکی ازخود میرے پاس آکر بیٹھتے اور اپنی اپنی زبانوں میں ذکر کی اجازت چاہتے۔ افسوس یہ کہ ”یار من ترکی و من ترکی نمی ندانم“ کے مطابق میں صرف اشارے اور ذکر کا لفظ سمجھتا اور ان کو ذکر کی تلقین کرتا اور بار بار یہ سوچتا تھا کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصی نگاہ کرم ہے کہ مجھے حضرت سوہنا سائیں علیہ الرحمہ جیسے کامل مرشد ملے ہیں، جن کے فیض اور توجہات عالیہ کے طفیل اتنے انعامات و احسانات ہورہے ہیں۔ زیارت انبیاء کرام علیہم السلاماسی سال ایام صبح میں جب منیٰ میں حاضری نصیب ہوئی، رات کو نوافل پڑھ کر دعا سے فارغ ہوکر مراقبہ کیا۔ نیم بیداری اور نیم خوابی کے عالم میں مراقب تھا کہ یہ محسوس ہوا کہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام منیٰ میں تشریف فرما ہوئے ہیں جن کی قیادت سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں، وہیں پیر و مرشد حضرت قبلہ سوہنا سائیں علیہ الرحمہ بھی موجود نظر آئے۔ یہ احساس و ادراک اس قدر قوی اور واضح تھا کہ آج تک معمولی توجہ کرنے سے مذکورہ نقشہ سامنے ہوتا ہے۔ جماعت کی علامتایک بار مدینہ منورہ قیام کے دوران بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوا۔ صلٰوة و سلام پڑھ کر باب جبریل علیہ السلام سے باہر آیا کہ ایک نوجوان جو لکھا پڑھا اور ہوشیار معلوم ہورہا تھا آگے بڑھ کر مصافحہ کیا اور میرا تعارف چاہا۔ جب میں نے اس کو بتایا کہ میں پاکستان کے صوبہ سندھ سے آیا ہوں تو کہنے لگا آپ حضرت سوہنا سائیں کو جانتے ہیں اور ان سے کیا تعلق ہے؟ میں نے اس کو بتایا کہ میں سوہنا سائیں کا مرید اور غلام ہوں، وہ میرے مرشد مربی اور مجھ گنہگار پر بڑے مہربان ہیں۔ یہ سن کر کہنے لگا میں لاہور کا رہنے والا ہوں، ایک بار شجاع آباد اسٹیشن پر حضرت سوہنا سائیں کی زیارت کی تھی، ان کے مریدین کو دیکھا تھا، اس کے بعد جب کبھی ان کا مرید دیکھتا ہوں تو پہچان لیتا ہوں کہ یہ سوہنا سائیں کا مرید ہے، یہ اس لئے کہ سوہنا سائیں اور ان کے مریدین کی سیرت و صورت اور تمام حلیہ شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ہوتا ہے۔ ایک دو نہیں اس قسم کے بے شمار واقعات ہیں، یہاں صرف چند ایک واقعات پر اکتفا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ بار شکر ہے کہ حضور کی ظاہری جدائی کے بعد آپ کے تبلیغی، تعلیمی اور اصلاحی مشن کو حضرت صاحبزادہ مرشدی سجن سائیں مدظلہ اسی نہج پر چلا رہے ہیں، بلاشبہ حضرت صاحبزادہ مدظلہ حضور سوہنا سائیں علیہ الرحمہ کے فیوض و برکات کے مظہر کامل ہیں۔ آج بھی دربار عالیہ کی حاضری پر وہی سکون وہی سرور ملتا ہے۔ بس یوں لگتا ہے کہ شاید حضرت سوہنا سائیں علیہ الرحمہ کسی کام سے کہیں تشریف لے گئے ہیں۔ مریدین سے خلوص و ہمدردی، دینی تبلیغی اشاعت و ترویج کا فکر دیکھ کر حضرت سوہنا سائیں علیہ الرحمہ کے حیات ظاہری کے ایام کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔ اللہم زد فزد۔ ایک کرامتایک بار ٹھٹھہ میں مولانا حافظ عبدالرحمان صاحب ٹھٹھوی کے مدرسہ میں فارغ التحصیل طلبہ کی دستاربندی کے سلسلہ میں عظیم الشان جلسہ منعقد ہورہا تھا، صوبہ بھر سے علماء کرام اور بہت سارے گدی نشین حضرات رونق محفل تھے۔ مجھے اسی جلسہ میں خطاب کرنا تھا اور اسی رات میرپور بٹھورو میں حضرت مولانا عنایت اللہ صاحب کے یہاں جلسہ میں بھی تقریر کرنی تھی۔ اس لئے پہلے میں میرپور بٹھورو سے تقریر کرکے رات کے تقریبًا ایک بجے ٹھٹھہ کے مذکورہ جلسہ میں پہنچا۔ علماء و مشائخ کا جم غفیر دیکھ کر جی چاہا کاش میرے پیر و مرشد حضرت سجن سائیں مدظلہ بھی اسی مجلس میں جلوہ افروز ہوتے تو مجلس کی رونق ہی دوبالا ہوجاتی۔ بہرحال یہ قلبی ہیجان تھا، خیال آیا اور ۔۔۔۔۔ اختتام جلسہ پر جیسے ہی میں سویا خواب میں جلسہ کا وہی منظر نظر آیا، ساتھ ہی حضرت سجن سائیں مدظلہ اپنی میٹھی میٹھی پیاری زبان سے نہایت عاجزی و انکساری سے پروقار انداز میں خطاب فرماتے نظر آئے۔ الحمدللہ جب کبھی آپ کی خدمت میں جانا نصیب ہوتا ہے غیر معمولی روحانی مہربانی ہوتی ہے۔ خواہ کتنے ہی غم اور فکر لاحق ہوتے ہیں مگر آپ کی صحبت کے چند لمحات سے تمام پریشانیاں یکسر کافور ہوجاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کا سایہ دیرپا رکھے اور ہم کو آپ کے فیوض و برکات سے مستفیض ہونے کی توفیق بخشے۔ اٰمِیۡنَ یَا رَبَّ الۡعَالَمِیۡنَ بِحُرۡمَۃِ سَیِّدِ الۡمُرۡسَلِیۡنَ صَلَّی اللہُ تَعَالیٰ عَلَیۡہِ وَ عَلیٰ آلِہٖ وَ اَصۡحَابِہٖ اَجۡمَعِیۡنَ۔ الراقم فقیر پرتقصیر محمد ادریس ڈاھری طاھری عفی عنہ۔ ۵ صفر ۱۴۰۸ھ (ص۴۶۵) ڪک سڙن پن سڙن، سڙي سائو گاه، حقیقت نما خوابمدینہ طیبہ سے محترم حاجی خیر محمد عباسی صاحب (خطیب جامع مسجد عمر اسلام نزد ایس پی آفس حیدرآباد) نے حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی خدمت میں وہاں کے فیوض و برکات اور فقراء کے روحانی اجتماعات کے ذکر خیر کے ساتھ درج ذیل حقیقت نما خواب بھی تحریر فرمایا جسے سن کر حضور نور اللہ مرقدہ اور تمام سامعین کے قلوب و ازہان پر اطمینان و خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی۔ حاجی صاحب موصوف رقم طراز ہیں کہ چونکہ میں عمرہ کے ٹکٹ پر یہاں حاضر ہوا تھا، قانونی طور پر حج سے پہلے مجھے واپس جانا تھا، مگر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ اقدس کی صبح و مساء حاضری، روحانی قلبی سکون و طمانیت واپسی سے مانع رہے، توکلًا علی اللہ ویزے میں دیئے گئے عرصہ کے بعد بھی میں مدینہ طیبہ میں قیام پذیر رہا۔ لیکن سعودیہ حکومت کی سختی اور روزمرہ عمرہ والوں کی واپسی کے مناظر دیکھ کر میں بھی قدرے پریشان ہوگیا تھا، نیز بعض احباب سے یہ سن کر (کہ خط و کتابت میں کوتاہی کرنے کی وجہ سے حضور تجھ سے ناراض ہیں) اور بھی کبیدہ خاطر ہوگیا۔ اسی پریشان حالی کے عالم میں ایک رات حرم شریف میں نماز تہجد پڑھ کر متوجہ الی اللہ ہوکر پرنم آنکھوں سے روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ہوئے بڑی عاجزی سے دعا مانگ رہا تھا کہ بلا اختیار معمولی جذب و گریہ طاری ہوگیا، زبان سے تو کچھ نہیں کہہ سکتا تھا البتہ بے قرار دل سے آہ و بکا اور التجا کا سلسلہ جاری تھا، دعا کے بعد منہ پر کپڑا ڈال کر اپنے پیر و مرشد (حضور سوہنا سائیں قدس سرہ) کا تصور کرکے مراقب ہوگیا۔ گریہ پھر بھی طاری تھا۔ چند ہی منٹ گزرے ہوں گے کہ قریب ہی مرشد و ہادی حضور سوہنا سائیں تہجد پڑھتے نظر آئے۔ خلاف توقع آپ کے دیدار سے مستفیض ہوکر بڑا خوش ہوا اور چاہا کہ آپ سلام پھیریں تو قدم بوس ہوکر اپنی کوتاہی پر معذرت کروں۔ نماز سے فارغ ہوکر آپ نے بارگاہ الٰہی میں ہاتھ اٹھائے، آپ پر سخت گریہ طاری تھا۔ میں یہی سوچ رہا تھا کہ آپ تو ولی کامل برگزیدہ بارگاہ الٰہی ہیں شاید یہ آپ کا گریہ و ندامت ہم گنہگار مریدین کی بخشش کے لئے ہے۔ کچھ دیر توقف کے بعد میرا پیمانہ صبر لبریز ہوگیا اور بے ساختہ آپ کے قدموں کو بوسہ دیا، اتنے میں آپ نے دعا ختم کی اور مجھے گلے لگاکر تسلی دیدی کہ فکر نہ کریں، ہم تو آپ سے ناراض نہیں ہیں، بات صرف یہ ہے کہ آپ کے خط نہ آنے کی وجہ سے فکر لاحق رہتا ہے۔ اتنے میں گنبذ خضرا کی جانب سے ایک خادم دوڑتے آئے اور کہا: قریشی اتنی دیر کردی ہے، جلدی چلو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے انتظار میں ہیں۔ یہ ارشاد سنتے ہی حضور سوہنا سائیں اٹھ کھڑے ہوئے اور خادم کے پیچھے جانے لگے۔ میں بھی حضور کے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔ یہاں تک کہ روضہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازہ مبارک پر پہنچے تو دربان نے دروازہ کھولا، حضور اندر تشریف لے گئے، میں بھی جانے لگا لیکن مجھے دربان نے اندر جانے سے روک دیا، اتنے میں روضہ اطہر سے یہ آواز آئی کہ اسے بھی آنے دو۔ میں جو اندر داخل ہوا تو دیکھا ایک وسیع میدان ہے جس پر غالیچے بچھے ہوئے ہیں اور ان پر نہ معلوم کتنے نورانی چہروں والے بزرگ رونق افروز ہیں، ایک نہایت ہی حسین و جمیل تخت پر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں۔ عجیب و غریب دربار تھی، خوشبو کی مہک بہت زیادہ تھی، میں اس نورانی و روحانی محفل کی ہیبت نہیں برداشٹ کررہا تھا، بعض دیگر بزرگوں کے پیچھے دوزانو باادب بیٹھ گیا، جب کہ حضور (سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب تشریف لے گئے۔ اس وقت رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دفتر دیکھ رہے تھے، حضور سوہنا سائیں بھی اپنے ہاتھ میں ایک دفتر لئے کھڑے تھے، تھوڑی دیر بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھاکر دیکھا تو حضور سوہنا سائیں کو کھڑا پاکر گلے لگاکر انتہائی شفقت سے خوش آمدید کہا، یہ دیکھ کر تمام حاضرین مجلس اٹھ کر ادب سے کھڑے ہوگئے اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا اس قدر قرب و پیار دیکھ کر سبھی حضرت سوہنا سائیں کو دیکھنے لگے (کہ یہ کون بزرگ ہیں؟) ایک اور نورانی بزرگ نے آگے بڑھ کر حضرت سوہنا سائیں (قدس سرہ) سے معانقہ کیا اور اپنے قریب بٹھایا، میں نے اپنے قریب بیٹھے ہوئے بزرگ سے پوچھا حضور! یہ نورانی چہرہ والے کون بزرگ ہیں جنہوں نے میرے پیر و مرشد کو پرتپاک انداز میں گلے لگایا اور اپنے قریب بٹھایا ہے؟ جوابًا اس بزرگ نے فرمایا یہ نورانی چہرہ والے بزرگ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ تھوڑی دیر بعد (اسی استغراق کے عالم میں تھا کہ) اذان فجر کہی گئی۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھنے والے ہی تھے کہ حضرت سوہنا سائیں نے آگے بڑھ کر ایک دفتر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوہنا سائیں (نور اللہ مرقدہ) کے چہرہ کی طرف دیکھ کر تبسم فرما کر ارشاد فرمایا قریشی! ہم آپ سے اور آپ کے تبلیغ کرنے والے خادموں سے ازحد خوش اور راضی ہیں، آپ نے فتنہ و فساد کے اس دور میں میرے دین کی بڑی خدمت کی ہے، ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس وقت رمضان المبارک میں روزہ کی تکلیف کے باوجود آپ کے متعلقین خلفاء و فقراء جہاں کہیں رہتے ہیں تبلیغ کرتے ہیں۔ ہم آپ سے ہر طرح خوش ہیں۔ یہ فرمانے کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سوہنا سائیں کے دفتر پر پڑھے بغیر اپنی رضا و خوشی کے دستخط ثبت فرماکر اپنے قریب بیٹھے ہوئے ایک اور نورانی صورت والے بزرگ کو دیدیا۔ میں نے اپنے قریب بیٹھے ہوئے بزرگ سے دفتر لے جانے والے بزرگ کے بارے میں پوچھا کہ یہ کون تھا؟ انہوں نے جوابًا بتایا یہ بزرگ فرشتہ تھے۔ اتنے میں جماعت کھڑی ہوگئی اور حضور پرنور شافع یوم النشور صلی اللہ علیہ وسلم مصلیٰ مبارک پر تشریف لائے۔ تمام موجود بزرگ صفوں میں کھڑے ہوگئے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز کی امامت فرمائی۔ سلام پھیر کر جماعت کی طرف متوجہ ہوکر دعا فرمائی۔ اس وقت تمام حاضرین پر گریہ کی حالت طاری ہوگئی۔ اسی اثناء میں حرم شریف کے ایک خادم نے اٹھاکر کہا جماعت کھڑی ہونے والی ہے، نماز کی تیاری کریں۔ نہ معلوم یہ خواب تھا، حال تھا یا کچھ اور، جس سے میں ابھی لطف اندوز ہورہا تھا کہ خادم مذکور نے آکر بیدار کیا۔ مگر میں پھر بھی یہ سوچنے میں محو ہوگیا کہ نماز فجر تو ابھی ابھی رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں پڑھ چکا ہوں، دوبارہ کون سی نماز پڑھنی ہے؟ بالآخر عشق و مستی کے خمار سے افاقہ پر میری مسرت و خوشی کی انتہا ہوگئی، شکر خدا بجا لاتے ہوئے اپنی بساط کے مطابق کچھ نقدی حرم شریف میں تقسیم کی۔ حاجی صاحب موصوف نے پاکستان واپسی پر بتایا کہ مذکورہ مجلس میں خوشبو کی مہک اس قدر زیادہ تھی کہ بیدار ہونے کے بعد بھی مجھے اپنے جسم اور کپڑوں سے غیر معمولی خوشبو محسوس ہورہی تھی۔
|