فہرست
سیرت ولی کامل (حصہ دوم)

باب ششم۔ مشاہدات و تاثرات

صاحب جمال و کمال

تحریر: مولانا مشتاق احمد شر صاحب اللہ آبادی

حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے جمال و کمال، شفقت و رحمت کے واقعات اس قدر زیادہ ہیں کہ ان اوراق میں پورے نہ ہوسکیں۔ استاد محترم مولانا حبیب الرحمان صاحب کے کہنے پر مشت از نمونہ خروار اپنے مشاہدے کے چند واقعات لکھ رہا ہوں۔

۱۹۶۹ء میں جب حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ محترم حاجی محمد یوسف صاحب کی دعوت پر محراب پور تشریف فرما ہوئے، خلفاء کرام نے حضور کی خدمت کے لئے مجھے مامور کیا۔ جب حضور تہجد کے لئے اٹھے تو پانی وغیرہ کے لئے مجھے نہ اٹھایا، ازخود وضو بناکر نوافل پڑھ رہے تھے کہ میں بیدار ہوکر دل ہی دل میں بڑا شرمسار ہوا۔ صبح کو واٹر کولر سے برف لینے کے لئے آپ نے مجھے نہ کہا خود اٹھے، میں فورًا آگے بڑھا کہ برف نکال کر پیش کروں، فرمایا آپ کے ہاتھ دھلے ہوئے ہیں؟ (کہ دھوئے بغیر برتن میں ہاتھ ڈالنا خلاف سنت ہے)۔ ۱۹۷۰ء میں جب حضور حاجی سعید احمد صاحب کی دعوت پر رسول پور تشریف لائے تو ارشاد فرمایا پہلے فقراء کو لنگر کھلاؤ اس کے بعد نماز عشاء پڑھیں گے، یہ مسنون طریقہ ہے۔

ایک مرتبہ میری گزارش پر آپ کرونڈی تشریف لے گئے، بڑا اجتماع تھا، بھرے مجمع میں سید لعل شاہ مجذوب آگیا۔ آپ اٹھے اور بڑے پیار سے گلے لگایا، اسی جلسہ میں حاجی پیر غلام اللہ شاہ راشدی بھی اپنے فرزندوں کے ہمراہ آئے، حضور نے ان کو بھی ازحد تعظیم دی اور بیٹھنے کے لئے مصلیٰ عنایت فرمایا۔ شاہ موصوف نے حضور سے ذکر کا وظیفہ سیکھا اور دیوانہ وار حضور کا عقیدت مند بن گیا۔ اسی کرونڈی کی جامع مسجد کے خطیب جو کہ سید عالم اور جلالی صفت عالم ہیں تقریبًا بارہ بجے درگاہ اللہ آباد شریف آئے اور مجھے کہا اسی وقت حضور سے ملاقات کرنی ہے۔ شاہ صاحب کے مزاج سے واقفیت ہونے کی بناء پر میں نے حضور سے عرض کی (حالانکہ یہ وقت حضور سے ملاقات کا نہیں قیلولہ کا ہوتا تھا پھر بھی) اسی وقت آپ نے شاہ صاحب کو گھر بلایا اور پیار و محبت سے حال احوال پوچھے۔

حضور سوہنا سائیں علیہ الرحمہ کو اللہ تعالیٰ نے مزاج ہی ایسا عطا فرمایا تھا کہ شریعت و طریقت کے امور کی خلاف ورزی کے علاوہ کسی بات پر بھی کبھی سختی نہیں کی، ہر ایک سے اس قدر پیار و محبت تھا کہ ہر کوئی سمجھتا کہ سب سے زیادہ میں ہی حضور کو پیارا ہوں۔

ایک مرتبہ سندھ کے ایک مشہور بزرگ ۔۔۔۔۔ کے پوتے ۔۔۔۔۔ حضور سے ملاقات کے لئے تشریف لائے، ان کی مونچھیں ازحد لمبی تھیں، داڑھی مونڈھ تھے، جب حضور کو ان کی آمد کا بتایا گیا تو یک دم چارپائی سے نیچے اترے، ان کو گلے لگایا، نصیحت فرمائی، شفقۃً ان کے چہرہ پر ہاتھ پھیرا، ذکر قلبی سمجھایا تو وہ بڑا متاثر ہوا، یہاں تک کہ اسی دن سے داڑھی رکھ لی، بعض اوقات تبلیغ میں میرے ساتھ چلتا تھا بڑی تائید کرتا تھا اور خود بھی ذکر کے حلقہ میں شریک ہوتا تھا۔ علالت میں حضور نے ہمیں بلاکر اپنے اوپر دم کروایا اور ہمیں تجدید ذکر سے نوازا۔

فقیر سراج الدین کا لڑکا داڑھی مونڈھ تھا، جب حضور کی خدمت میں آیا آپ نے بڑے پیار کے انداز میں اسے احساس دلایا، اسی دن سے اس نے داڑھی رکھ لی اور پکا فقیر بن گیا۔ جب حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ فقیر نیک محمد شر بلوچ کی دعوت پر ٹھری میرواہ تشریف لائے یہ عاجز بھی حاضر خدمت تھا۔ جب کھانا پیش کیا گیا آپ نے اس عاجز ناکارہ کو بھی اپنے ساتھ بیٹھ کر کھانے کا ارشاد فرمایا، حضور گوشت کم ہی کھاتے تھے، بوٹیاں اٹھاکر مجھے دیتے جارہے تھے، چونکہ صاحب دعوت حضور کا پرانا مخلص خادم تھا، آپ نے خلفاء کرام کو فرمایا شوق سے کھاؤ گوشت ختم ہوجائے تو میاں صاحب اور لے آئے گا۔ چنانچہ آپ نے خود ہی فقیر صاحب کو اور گوشت لے آنے کا حکم فرمایا اور وہ لے آیا، تمام احباب نے شوق سے سیر ہوکر گوشت کھایا۔ حضور کی ظاہری زندگی کے آخری دن بروز اتوار ۵ ربیع الاول کو میرے بھائی صاحبان مجھ سے رشتہ طلب کرنے آئے، باہمی معاملہ حل نہ ہونے پر انہوں نے حضور سے شکایت کی، آپ نے اس قدر شفقت و محبت سے کافی دیر تک طرفین کو سمجھایا اور شرعی نقطہ نگاہ سے مسائل بیان فرمائے کہ وہ حیران رہ گئے۔ آخری رات بعد از نماز عشاء جب حضرت صاحبزادہ مدظلہ آپ کو پہیوں والی کرسی پر لے جارہے تھے اور قاری صاحب مسجد سے باہر کھڑے تھے، آپ نے دونوں کو بلاکر فرمایا سردی ہے مسافر فقراء کا خیال کرنا۔ بس یہی آپ کے آخری الفاظ اس عاجز نے سنے۔