| فہرست |
سیرت ولی کامل (حصہ دوم) |
باب ششم۔ مشاہدات و تاثراتدین و دنیا کے بہی خواہاز مولانا عبدالقدیر شیخمدرس جامعہ عربیہ غفاریہ اللہ آباد شریفجیسے ہی سن شعور کو پہنچا اپنے آپ کو حضور سوہنا سائیں رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے در اقدس پر پایا۔ قبلہ والد صاحب مدظلہ وقتًا فوقتًا ہم بچوں کو بلاکر مناسبت سے نصیحتیں کرتے تھے، ایک دن بتایا کہ ہمارا مستقل مکان اور دوکان تو لاڑکانہ میں ہیں، یہاں صرف دینی فائدہ کے پیش نظر رہ رہے ہیں۔ عرصہ تک میں خود داڑھی، نماز، روزہ اور دیگر شرعی امور سے ناآشنا رہا، مگر حضرت پیر مٹھا قدس سرہ اور ان کے بعد حضرت سوہنا سائیں کی صحبت و عقیدت کی بدولت گناہوں سے نفرت اور نیکی سے محبت ہے۔ شہری ماحول میں رہ کر داڑھی رکھنا عمامہ باندھنا بڑی بات ہے۔ قبلہ والد کی یہ باتیں مجھے عجیب سی لگتی تھیں۔ یہ اس لئے کہ دربار عالیہ کے جس ماحول میں میں پلا بڑھا صبح و مساء جن کو دیکھنے کا اتفاق ہوتا تھا وہ سبھی ان امور کے پابند تھے جن کو والد صاحب بڑی بات بتارہے تھے۔ میرے ذہن میں یہ تصور تک نہ تھا کہ کوئی شہر یا بستی ایسی ہوسکتی ہے جہاں اکثریت داڑھی مونڈھ یا بے نمازیوں کی ہو۔ بہرحال بعد میں تو مشاہدہ سے علم الیقین عین الیقین میں تبدیل ہوگیا، اور خدا کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا جس نے گمراہی کے اس دور میں ہمیں پاکیزہ معاشرہ عطا فرمایا۔ بفضلہ تعالیٰ دین کی تعلیم کے لئے بھی والدین نے حضور کے مدرسہ میں داخل کروایا اور حضور کے زیر سایہ ہی درس نظامی کی تکمیل کی۔ اس درمیان کے حالات و معاملات اور حضور کی شفقت و عنایت کی روشنی میں قسم اٹھاکر کہتا ہوں کہ میں نے والدین سے بڑھ کر شفیق و مہربان حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ ہی کو پایا (جبکہ میرے والدین ازحد صالح، خائف خدا، متقی و پرہیزگار اور ہمیشہ مجھ گناہ گار پر مہربان رہے ہیں اور ان کی مہربانیوں سے ہی مجھے حضور کے در دولت سے مستقل تعلق نصیب ہوا) اپنی ذات سے متعلق چند واقعات پیش کرتا ہوں۔ طالب علمی کے زمانہ میں ایک دن بڑی لاپرواہی سے ریلوے لائن پر جا کھڑا ہوگیا، سامنے سے ٹرین آگئی جسے دیکھتے ہوئے بھی میں ریل کی پٹری سے نہ اترا، بچپنے کی بادشاہی کا زمانہ تھا، ڈرائیور ہارن بجاکر تھک گیا، بالآخر ٹرین میرے قریب پہنچی اور انتہائی سلو ہوچکی تھی کہ کسی راہ گذر نے مجھے کھینچ کر پٹری سے اتارا۔ حضور اس قسم کی شرارتوں سے ہمیشہ منع فرماتے اور بوقت ضرورت تنبیہہ بھی فرماتے تھے۔ اتفاق کہئے یا میری خوش قسمتی کہ حضور کی خدمت میں جو رپورٹ پہنچی اس کے مطابق یہ شرارت میرے چھوٹے بھائی نے کی۔ نماز ظہر کے وقت بھائی کو بلایا، وہ تو اور بھی بے سمجھ تھا مگر عام طلبہ کی نصیحت اور عبرت کی خاطر حضور نے اسے تنبیہہ بھی فرمائی اور معمولی قسم کا طمانچہ مارا۔ لیکن جب آپ کو معلوم ہوا کہ یہ شرارت عبدالقدیر کی تھی نہ کی عبدالکبیر کی تو عبدالکبیر کو بلاکر شفقۃً گلے سے لگایا، جیب خرچ عنایت فرمایا اور گھر سے کوئی اور چیز بھی بھیج دی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ روحانی قلبی رشتہ کسی طرح بھی ظاہری خونی رشتہ سے کم نہیں۔ میں نے اس کا بارہا مشاہدہ کیا، لیکن یہ جبھی ممکن ہے کہ کسی کامل اکمل ولی اللہ کی نسبت سے باہمی روحانی تعلق قائم ہوا ہو۔ چنانچہ جب قبلہ والد ماجد نے ہماری ہمشیرہ کا رشتہ دربار عالیہ کے ایک مسکین فقیر سے کردیا تو ہمارے جسمانی رشتہ داروں نے والد ماجد سے مکمل بائیکاٹ کرلیا، آمدورفت، خورد و نوش سبھی منقطع ہوگئے، مگر والد صاحب نے ذرہ برابر بھی کمزوری کا مظاہرہ نہ کیا۔ لیکن جب ہم (پانچ بھائی ہیں) بڑے ہوئے تو ہماری شادیوں کے سلسلہ میں قدرے پریشان ہوئے اور حضور سے صورتحال عرض کی۔ والد صاحب ان رشتہ داروں سے رشتہ لینا چاہتے تھے جو عرصہ سے روٹھ چکے تھے، حضور نے دعا کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ آپ لاڑکانہ چلے جائیں کوئی آدمی خود آپ کے پاس آجائے گا۔ حضور کی مقبول دعا کے نتیجہ میں ایسا ہی ہوا کہ جب والد صاحب لاڑکانہ پہنچے تو وہی رشتہ دار جو بات کرنے کے لئے تیار نہ تھے ازخود آکر رشتہ دینے کی پیش کش کی۔ اسی طرح ہم پانچوں بھائیوں کی شادیاں ہوگئیں۔ حضور کی دعاؤں کی تاثیر کے کئی اور واقعات بھی ہم نے آنکھوں سے دیکھے۔ چنانچہ ہماری ہی قوم کے ایک مسکین فقیر جو سر پر ٹوکرا رکھ کر لاڑکانہ کی گلیوں میں مچھلی بیچا کرتا تھا، جب حضور سے اپنی مسکینی کا ذکر کیا اور دعا کرائی، اس کی آمدنی میں اس قدر برکت ہوتی چلی گئی کہ آج کل وہ فقیر فیکٹریوں کا مالک ہے۔ حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ مریدین کے صرف دینی خیرخواہ ہی نہیں بلکہ جسمانی والد کی طرح ان کی دنیاوی خوشحالی اور عدم احتیاج کے خواہاں بھی تھے۔ چنانچہ جب میرے والد محترم نے ذکر و فکر اور جذبہ کی محویت میں آکر یہ ارادہ کرلیا کہ لاڑکانہ شاہی بازار میں واقع کپڑے کی دوکان بیچ کر اس میں سے کچھ گھریلو ضروریات میں صرف کروں گا اور کچھ لنگر میں پیش کردوں گا تاکہ مسافر فقراء کی خدمت ہوتی رہے، زیادہ دنیا جمع کرکے کیا کروں گا۔ جب حضور کو ان کے اس ارادہ کا پتہ چلا (اس زمانہ میں ہم چھوٹے بچے تھے) والد صاحب کو بلاکر سخت تنبیہہ کی اور فرمایا لنگر کو تمہارے پیسے کی ضرورت نہیں، آج تیرے لڑکے چھوٹے ہیں کل بڑے ہوں گے، معاشی ذریعہ نہ ہونے پر وہ پریشان ہوں گے، دنیا سے یہ بے رغبتی تیری اولاد کی پریشانی کا سبب بن سکتی ہے وغیرہ۔ حضور کی نصیحت کے بعد والد صاحب نے مذکورہ ارادہ ترک کرلیا۔ ظاہر بات ہے کہ اگر کسی باطمع پیر کو اتنی خطیر رقم ملتی تو اور خوش ہوتا، مگر حضور بن مانگے لینے پر بھی تیار نہ ہوئے، اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔
|