فہرست
سیرت ولی کامل (حصہ دوم)

باب ششم۔ مشاہدات و تاثرات

میری خوش قسمتی

از مولانا رؤف احمد عباسی صاحب اللہ آباد شریف

یہ شاید اس عاجز گناہ گار کی خوش نصیبی اور اعلیٰ بختی ہے کہ جیسے ہی میں نے آنکھ کھولی اپنے سامنے حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی پرنور شخصیت کو پایا۔ حضور نور اللہ مرقدہ محبت و شفقت کے عظیم پیکر تھے، ہر ایک کے ساتھ محبت سے پیش آتے تھے، بالخصوص مدرسہ کے طلبہ پر تو اور بھی زیادہ مہربان تھے، ہر وقت ان کی ضروریات کا خیال رکھتے، بعض اوقات بلاکر اپنے مبارک ہاتھوں سے وظیفہ عنایت فرماتے، انفرادی طور پر ہر ایک سے ضروریات پوچھتے، اساتذہ سے طلبہ کے بارے میں پوچھتے اور حسب ضرورت مہربانی فرماتے۔ ایک مرتبہ درگاہ طاہر آباد شریف میں مجھے اور میرے بڑے بھائی مولوی مسعود احمد کو بلاکر فرمایا: جب کبھی کسی چیز کی ضرورت ہو بلا تکلف کہہ لیا کریں کیونکہ یہ آپ کا اپنا گھر ہے۔ طاہر آباد ہی کا واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ بلاکر ضروریات کے بارے میں پوچھا، ہم نے عرض کی جناب کسی چیز کی ضرورت نہیں، بس آپ کی نظر کرم ہمارے لئے کافی ہے۔ فرمایا تم طالب علم ہو، دینی علم حاصل کرتے ہو محنت بھی کرتے ہو اس لئے آپ کو دماغی طاقت کے لئے دودھ پینا چاہئے، یہ فرماکر پیسے عنایت فرمائے کہ ان کا دودھ خرید کرکے پینا، جب یہ پیسے ختم ہوں تو مطلع کرنا۔ یہ ۱۹۸۱ء کی بات ہے۔ یہ حضور کی ذرہ نوازی تھی ورنہ ہم اس قدر مہربانیوں کے قابل کہاں تھے۔

وقفے وقفے سے مدرسہ کے طلبہ کو بلاکر تعلیم و اخلاق کے موضوع پر خصوصی خطاب فرماتے تھے۔ تعلیمی محنت اور اساتذہ کے احترام کے بارے میں کافی تاکید فرماتے تھے، نیز یہ کہ وقت کی قدر کرو، تمام کام وقت کی پابندی سے کیا کرو، آج کا کام کل کے لئے چھوڑ دینا عقلمندی نہیں ہے۔ مدرسہ کے امتحانی نتائج کا اعلان حضور کے روبرو ہوتا تھا، جس طالبعلم کے نمبر کم ہوتے اسے کھڑا کرکے پوچھتے بیٹے تمہیں کیا ہوا کہ آپ کے نمبر کم آئے ہیں، معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے محنت نہیں کی، آئندہ امتحان میں کمزوری معلوم ہوئی تو تم سے حساب لیا جائے گا۔ بس آپ کے ان ارشادات کا اثر یہ ہوتا کہ وہ سر توڑ کوشش کرتا، دوسرے امتحان میں اچھے نمبر حاصل کرتا۔ اسی طرح جس کے نمبر زیادہ ہوتے اس کی حوصلہ افزائی فرماتے، دوسروں کو اس سے سبق حاصل کرنے کا فرماتے۔ بفضلہ تعالیٰ یہ عاجز ہمیشہ اچھے نمبرون سے امتحان پاس کرتا تھا جس کی بدولت حضور کی شفقت ہر بار مزید معلوم ہوتی اور میرے لئے اس سے بڑھ کر کوئی اور بات تھی بھی نہیں۔ فی الحقیقت میری کامیابی بھی حضور کی دعاؤں ہی کا صدقہ ہوتی تھی، اس لئے جب کبھی حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی کرم نوازیوں کو یاد کرتا ہوں شرمسار ہوتا ہوں اور بصد افسوس کرتا ہوں کہ حضور کے عظیم احسانات کے باوجود ہم نے آپ کی قدر نہ کی، آپ کی فریادوں پر کان نہ دھرا۔

وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

حضور نے عالم اسلام کے تمام مسلمانوں کے لئے خاص کر اپنے عزیز و اقارب کی اصلاح اور دینی ترقی کے لئے کافی کوششیں کیں۔ جو آپ کی صحبت سے دور رہتے تھے ان کے لئے اصلاحی دینی کتب بھیجتے، وقتًا فوقتًا خطوط ارسال فرماتے جو آج بھی موجود ہیں۔ گو ہدایت کرنا اللہ عزوجل کے ہاتھ میں ہے لیکن آپ نے آخر تک کوشش جاری رکھی۔ صرف دینی ہی نہیں دنیاوی مالی طور پر بھی آپ رشتہ داروں پر مہربان تھے۔ جب کبھی کسی کو ضرورت پیش آئی اور آپ سے مدد چاہی آپ نے مایوس نہ لوٹایا۔ بالخصوص میرے والد ماجد (جناب غلام مرتضیٰ عباسی صاحب) پر تو اور بھی زیادہ مہربان تھے۔ یہ اس لئے بھی کہ آپ کے قریبی رشتہ داروں میں سے قبلہ والد صاحب ہی مستقل طور پر حضور کے پڑوس میں رہے اور حضور کے سات بھانجوں میں سے زیادہ نیک سیرت شریعت و طریقت کے عامل بھی والد صاحب ہی ہیں۔ آپ نے والد صاحب کو فرما دیا تھا کہ ہماری زمین کی سبزی وغیرہ کے لئے آپ کو اجازت لینے کی ضرورت نہیں جب ضرورت پڑے لے لیا کریں، اور گھر کے قریب زمین کا ایک قطعہ مستقل طور پر بھی دے دیا تھا جس میں اپنی پسند کے موافق سبزی، گھاس وغیرہ بوتے رہتے ہیں۔

غرضیکہ حضور فیوض و برکات کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر سے کچھ کم نہ تھے، جن سے لاکھوں تشنہ گان حقیقت و طریقت نے پیاس بجھائی۔ آپ انوار و تجلیات کے آفتاب و ماہتاب تھے جن سے لاکھوں دلوں کو جلا ملی۔ آپ کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ کہنا یا لکھنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ مجھ جیسا ناکارہ آپ کے علم و فضل، زہد و تقویٰ کے بارے میں آخر لکھ بھی کیا سکتا ہے۔ صرف حضرت قبلہ صاحبزادہ سجن سائیں مدظلہ کے فرمان کے مطابق یہ کچھ تحریر کیا۔ بس اس احقر کو اس بات پر فخر ہے کہ میں بھی ان خوش نصیب افراد میں شامل ہوں جنہوں نے حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ ایسی شخصیت کی زیارت و صحبت کی، فالحمدللہ۔