| فہرست |
سیرت ولی کامل (حصہ دوم) |
باب ششم۔ مشاہدات و تاثراتذاتی مشاہداتاز مولانا فتح محمد سومرو عرف بیدار مورائیمیرا خواب حقیقت میں تبدیل ہوا۱۹۵۲/۵۳ء میں جب میں سکول کا ایک کمسن طالب علم تھا، لاڑکانہ، حیدرآباد، کراچی تو کجا میں نے قریبی شہر دادو بھی نہیں دیکھا تھا۔ ایک رات خواب میں ایک عجیب و غریب منظر نظر آیا، وہ یہ کہ ایک بہت بڑا مجمع ہے جس میں شامل تمام افراد باریش ہیں، ان کے سروں پر عمامے ہیں، درمیان میں ایک نورانی چہرہ والے بزرگ تشریف فرما ہے۔ بہرحال خواب آخر خواب ہی ہوتا ہے، خاص کر کمسنی کے لاابالی کے زمانہ میں تو ان کے درپے ہونا اور بھی مشکل ہوتا ہے۔ تاہم یہ خواب بعینہ میرے دل و دماغ پر نقش ہوگیا۔ چنانچہ مختصر عرصہ بعد بعض فقراء کے ہمراہ حضرت پیر مٹھا قدس سرہ کے دربار عالیہ رحمت پور شریف حاضر ہوا، جہاں باریش عماموں والے فقراء کی کثیر جماعت دیکھ کر مجھے اپنا سابقہ خواب یاد آیا۔ حضرت پیر مٹھا قدس سرہ کی زیارت سے مستفیض ہوا لیکن جو بزرگ فقراء کے درمیان تشریف فرما دیکھے تھے ابھی تک وہ نظر نہیں آئے تھے، اس لئے ان کو تلاش کرنے لگا۔ بالآخر اسی شکل و صورت والے ایک نورانی بزرگ مسجد شریف کے شمالی کونے میں تشریف فرما نظر آئے، جن کو عرصہ پہلے خواب میں دیکھ چکا تھا، آگے بڑھ کر ادب سے سلام کیا۔ بعد میں دوسرے فقراء سے ان کے بارے میں پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ حضرت پیر مٹھا قدس سرہ کے مقرب ترین خلیفہ ہیں جن کو ”سوہنا سائیں“ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے، اور گیریلو بستی میں بھی آپ تبلیغی سلسلہ میں تشریف فرما ہوتے رہتے ہیں۔ اس کے بعد تو آپ سے تعلق و محبت میں اضافہ ہی ہوتا رہا۔ حضرت پیر مٹھا قدس سرہ کے حال حیات میں ہی حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی ترغیب و تحریص پر میں نے اصلاحی کتابیں اور ناول تحریر کئے جو بفضلہ تعالیٰ بڑے مقبول ہوئے۔ میں نے ہمیشہ آپ کو اپنے پیر و مرشد حضرت پیر مٹھا علیہ الرحمہ کی محبت میں مستغرق پایا۔ گو محبت کا تقاضہ تو یہ ہے کہ محبوب کے قریب بیٹھا جائے مگر آپ بے ادبی کے خوف سے ہمیشہ مجلس کے کسی کونے میں نظر آتے تھے۔ حضرت پیر مٹھا قدس سرہ کے بلانے پر ہمیشہ دست بستہ کانپتے ہوئے حاضر ہوتے تھے اور ان کے دریافت کرنے پر نہایت ہی مختصر الفاظ سے جی ہاں، یا جی نہیں کا جواب دے کر خاموش ہوجاتے تھے۔ جب سعید کلنک میں آپ کا آپریشن ہوا تھا یہ عاجز بھی آپ کی خدمت میں حاضر تھا۔ جیسے ہی آپ کو ۱۲ بجے آپریشن ہونے کا بتایا گیا آپ کے چہرہ مبارک پر پریشانی کے آثار ظاہر ہوئے۔ محترم ڈاکٹر عبداللطیف رحمۃ اللہ علیہ کے دریافت کرنے پر فرمایا آپریشن کی کوئی فکر نہیں، اصل بات یہ ہے کہ آپریشن کے بعد کئی گھنٹوں تک بے ہوشی طاری رہتی ہے، کہیں نماز ظہر قضا نہ ہوجائے۔ غرضیکہ مقررہ وقت پر کرنل سعید نے آپریشن کیا، ٹھیک دو بج کر تین منٹ پر ہوش آنے پر فرمایا ”نماز“۔ چنانچہ اسی حالت مین بھی اشاروں سے نماز ادا فرمائی۔ اتباع سنت کا یہ عالم تھا کہ جب آپ پر فالج کا حملہ ہوا اور آپ کو علاج کے لئے حیدرآباد لایا گیا میں بھی ساتھ تھا۔ تمام اوقات اشاروں سے لیکن باجماعت نماز ادا کرتے رہے۔ یہی نہیں بلکہ حاجی محمد علی صاحب کو فرمایا میرا ہاتھ نہیں اٹھتا، آپ میرے سر پر پگڑی باندھیں تاکہ سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رہ نہ جائے۔ اسی بیماری کے دوران میں نے آپ سے سوانح حیات تحریر کرنے کی اجازت چاہی، سن کر آپ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے، فرمایا اب تک میرے پیر و مرشد نور اللہ مرقدہ کی سوانح حیات نہیں لکھی گئی، یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میں اپنی سوانح حیات کے لئے اجازت دوں۔ مزید فرمایا لوگ ناقدرے ہیں کہ دس برس گزر جانے کے باوجود اپنے پیر و مرشد کی سوانح حیات شائع نہیں کی، جبکہ ہندوستان کے ایک معروف پیر صاحب کی سوانح حیات اس کی زندگی میں لکھی گئی، صرف ایک حصہ رہ گیا تھا جو بعد میں شائع کیا گیا۔ فعال اور محنتی قسم کے لوگوں کے بڑے قدردان تھے۔ گو میں بے علم و بے عقل ہوں، پھر بھی ادبی استطاعت کے مطابق دینی کتابیں لکھتا رہا ہوں اور وہ بھی حضور ہی کے خصوصی تعاون اور مشوروں سے۔ چنانچہ برکات تبلیغ لکھنے کے دوران میں کئی دن تک درگاہ فقیر پور شریف رہا۔ روزانہ حضور استفادہ کے لئے نت نئی کتابیں دیتے رہے، اور بذات خود میرے لئے گھر سے کھانا لے آتے تھے اور دروازہ مبارک پر بیٹھ کر کھانے کا حکم فرماتے تھے۔ مذکورہ کتاب چھپنے کے بعد کماحقہ فروخت نہ ہوسکی اور عرصہ تک فقیرپور شریف میں پڑی رہی، صحیح دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے کافی کتابیں دیمک کے نذر ہوگئیں، معلوم ہونے پر حضور کو سخت دکھ ہوا، چنانچہ مسجد شریف میں میرے پاس تشریف فرما ہوئے اور کتاب کے ضائع ہونے پر تعزیت کے انداز میں افسوس کا اظہار فرمایا، زبانی ہمت افزائی کے علاوہ اپنی جیب سے دو صد روپے نکال کر بطور ہمدردی عنایت فرمائے۔ ہم سفر ساتھیوں کے حقوقایک مرتبہ میں بھی حضور کے ہمراہ درگاہ غریب آباد لاڑکانہ جارہا تھا۔ درگاہ فقیر پور شریف سے اور بھی کافی فقراء وفد میں شامل ہوگئے۔ لاڑکانہ اسٹیشن پر پہنچنے پر حاجی محمد حسین صاحب حضور کے لئے ٹانگہ لے آئے، چند ہی قدم ٹانگہ چلا ہوگا کہ آپ نے ٹانگہ رکواکر مجھے بلایا اور اپنے ساتھ ٹانگہ پر بٹھایا۔ حضور کی عمومی شفقت و نوازش کے پیش نظر یہ کوئی بڑی بات تو نہیں تھی، مگر میں آج اس امتیازی سلوک کی وجہ سے انتہائی متعجب تھا کہ حضور کے مقرب ترین خلفاء کرام بھی سفر میں ساتھ ہیں، آپ نے ان میں سے کسی کو نہ بلایا مجھ گناہ گار کو بلایا ہے۔ میرے دل میں یہ خیال آنا ہی تھا کہ آپ نے فرمایا فتح محمد! سفر کے بھی آداب ہوتے ہیں، جو ساتھی ابتداء سفر سے ساتھ ہوتا ہے اس کا حق بہ نسبت ان لوگوں کے اور بھی زیادہ ہوتا ہے جو دوران سفر شامل ہوئے ہوں۔ چونکہ آپ شروع سے ہمارے ساتھ تھے اس لئے ہم نے آپ ہی کو بلایا ہے۔ اسی سلسلہ کا ایک اور واقعہ بھی قابل ذکر ہے کہ جب حضور محراب پور کے جلسہ میں شرکت کے لئے لاڑکانہ سے روانہ ہوئے، صاحب دعوت محترم حاجی محمد حسین صاحب ٹفن باکس میں حضور کے سفر کے لئے کھانا لے آئے، جب روہڑی اسٹیشن پر ٹرین سے اترے، آپ نے تمام ساتھیوں کو کھانے کے لئے بلایا۔ تقریبًا دس فقراء شریک سفر تھے۔ آپ نے روٹی کے ٹکڑے بناکر (غالبًا ایک ایک چوتھائی حصہ ہر ایک کے حصہ میں آیا) دیدئے اور فرمایا آپ حضرات میرے سفر کے ساتھی ہیں، اس لئے جو کچھ تھوڑا بہت کھانا ہوگا مل کر کھائیں گے۔ محراب پور کے قریب بعض پنجابی فقراء کی دعوت پر تشریف لے گئے، میں حضور
کی خدمت میں حاضر تھا کہ صاحب دعوت کھانا لے آئے، آپ نے پسند کے موافق
تھوڑا سا کھانا کھاکر فرمایا، میں یہاں مہمان ہوں، مجھے یہ حق نہیں پہنچتا
کہ کسی اور کو بقیہ کھانا دیدوں، یہ کھانا صاحب دعوت کو دے آئیں وہ جسے
چاہے دے سکتا ہے۔ مسلک اعتدالایک مرتبہ دروازہ مبارک پر مجھے بلاکر کافی کتابیں دکھائیں اور فرمایا ہمارے پاس مسلک اہل السنۃ کے دونوں مکتبہ فکر کے علماء کی کتابیں موجود ہیں، نیز دونوں مکتب فکر کے علماء و مشائخ کی سیرت و سوانح کی کتابیں بھی موجود ہیں، یہ اس لئے کہ کل میری اولاد یہ نہ سمجھے کہ میں کسی خاص ایک گروہ سے وابستہ تھا۔ طریقت کی پابندیایک بار درگاہ رحمت پور شریف سے آپ مورو تشریف لائے، مورو اور گرد و نواح کے خلیفہ سید نصیر الدین شاہ صاحب بھی موجود تھے (جو خود حضور سوہنا سائیں قدس سرہ کے عقیدت مند اور ابتداء طریقت میں آپ ہی سے بیعت بھی تھے) ہم نے حضور سوہنا سائیں قدس سرہ کے لئے چارپائی اور دیگر جماعت کے لئے نیچے گلم بچھائے، مگر آپ نے بیٹھنے سے انکار کرتے ہوئے فرمایا: یا تو دوسری چارپائی بھی لے آؤ، تمام احباب چارپائیوں پر بیٹھیں، بصورت دیگر میں بھی تمہارے ساتھ نیچے بیٹھتا ہوں۔ چنانچہ دوسری چارپائی لے آئے۔ چونکہ مذکورہ علاقہ کے خلیفہ حضرت شاہ صاحب علیہ الرحمہ تھے، اس لئے آپ نے فقراء کو تاکید کرتے ہوئے فرمایا کہ شاہ صاحب کا ادب و احترام کریں، جس قدر زیادہ نسبت و محبت خلیفہ صاحب سے ہوگی اسی قدر باطنی فائدہ حاصل ہوگا۔ جب آپ کو مراقبہ کے لئے کہا گیا تو فرمایا یہ جماعت شاہ صاحب کی ہے، یہاں وہی مراقبہ کرائیں گے، میں نہیں۔ بہرحال جب آپ کو بتایا گیا کہ شاہ صاحب علیہ الرحمہ کی یہی خواہش ہے تب آپ نے مراقبہ کرایا۔ دوسرے طریقہ والوں کا خیالایک بار جامع مسجد مورو میں جلسہ رکھا گیا۔ آپ تشریف لائے اور نماز سے پہلے محلہ والوں کے طور طریقہ کے متعلق دریافت فرمایا۔ میں نے بتایا کہ فرض کے بعد کچھ دیر کے لئے جہری ذکر کیا جاتا ہے، اس کے بعد دعا کی جاتی ہے۔ چنانچہ فرض نماز کے بعد کچھ دیر کے لئے قلب کی طرف متوجہ ہوکر بیٹھ گئے اور مقتدی حضرات (جو سلسلہ عالیہ قادریہ سے وابستہ تھے) جہری ذکر کرتے رہے۔ کافی دیر تک ذکر کرنے کے بعد جب خاموش ہوگئے تو آپ نے دعا فرمائی۔ بعد میں فرمایا آپ حضرات تھک کر خاموش ہوگئے، مجھے تو بڑا لطف آرہا تھا۔ دینی کتابوں کی قدرایک بار درگاہ فقیرپور شریف میں آپ نے مجھ کو طلب فرمایا، حاضر ہونے پر آپ نے مجھے لائبریری دکھائی جس میں بڑی بڑی کتابیں موجود تھیں۔ فرمایا آپ بھی مطالعہ کریں میں بھی مطالعہ کرتا ہوں۔ چنانچہ میں بھی مختلف کتابیں دیکھتا رہا۔ اس درمیان کتابوں کے بارے میں کافی اہم نکات بھی بیان فرماتے رہے۔ جن میں سے ایک یہ بھی دیکھا کہ دیکھو علماء و مشائخ نے کس قدر محنتیں اور مشقتیں برداشت کیں، نیند آرام اور صحت کو قربان کرکے اس قدر ضخیم کتابیں تحریر فرمائی ہیں، ہمیں بھی کم از کم یہ چاہئے کہ ان کی محنتوں کی قدر کرتے ہوئے کتابیں خرید کریں، جس سے ایک تو مصنفوں کی ہمت افزائی ہوگی کہ دلچسپی سے کوئی اور دینی کتاب لکھیں گے، دوسری طرف ناشر حضرات کی بھی ہمت افزائی ہوگی اور زیادہ شوق سے دینی کتابیں چھاپیں گے، کوئی بھی کتاب خریدتے وقت میری یہی نیت ہوتی ہے۔
|