| فہرست |
سیرت ولی کامل (حصہ دوم) |
باب ششم۔ مشاہدات و تاثراتگمراہی سے ہدایت کی طرفاز منشی عبدالحسیب فاروقیاے ون ۴/۱۴ قصبہ کالونی، کراچیمثل مشہور ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے پر راضی ہوتا ہے اسے اپنے پیارے بندے یعنی ولی کامل کی رہنمائی عطا فرماتا ہے۔ الحمدللہ میں ۱۹۸۳ء میں حضور قبلہ سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ سے بیعت ہوا تھا، اور آپ کی نظر کرم ہی سے میری اصلاح ہوئی ہے۔ ورنہ حقیقت یہ ہے اگرچہ میں اس سے پہلے بھی مسلمان تھا، مسلمان گھر میں پیدا ہوا تھا، مگر میرے کرتوت ایسے تھے کہ شاید شیطان بھی فخر کرتا ہو کہ مجھے ایسا آدمی مل گیا ہے۔ ۴۷ سال کی کہانی لکھنا، نہ مقصود ہے نہ یہاں گنجائش۔ مختصرًا یہ کہ ہر وہ کام جو ایک مسلمان کو نہ کرنا چاہئے میں کرتا تھا، ہر طرح کی عیاشیاں میرا محبوب مشغلہ تھیں، کبھی عید کی نماز بھی نہیں پڑھی تھی، انتہا یہ کہ آخر میں ذات باری تعالیٰ کی وحدانیت کا بھی منکر ہوچکا تھا، روزانہ ایک ہزار سے تین ہزار تک میری آمدنی تھی مگر بے برکتی اتنی کہ ساری کی ساری آمدنی روزانہ ختم ہوجاتی تھی۔ لیکن جب اپنے ایک دوست کے کہنے پر حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے پیارے خلیفہ مولانا مقصود الٰہی صاحب سے قلبی ذکر حاصل کیا تو فورًا دل میں اس کی غیر معمولی چھبن محسوس کی، رات کو جب سویا تو کعبۃ اللہ شریف کی زیارت نصیب ہوئی، صبح بیدار ہوا تو میری قسمت بدل چکی تھی۔ یکایک تمام برے کاموں سے دل میں نفرت پیدا ہوگئی۔ چند ہی دن میں مجھ گناہ گار پر اس قدر مہربانی ہونے لگی کہ جس وقت آنکھیں بند کرتا پیر و مرشد سامنے نظر آتے اور نماز شروع کرتا تو کعبۃ اللہ شریف اور کبھی روضہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم سامنے نظر آتا۔ لیکن افسوس کہ زیادہ عرصہ حضور کی صحبت بابرکت میسر نہ ہوسکی اور آپ اس دار الفنا سے کوچ فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ آپ کی جدائی سے دل بہت بے چین ہوگیا مگر قربان جاؤں پردہ فرما جانے کے بعد بھی اس طرح میری رہنمائی فرمائی کہ خواب میں آپ کو دیکھا کہ حضرت قبلہ صاحبزادہ سجن سائیں مدظلہ کو ہار پہنا رہے ہیں۔ الحمدللہ حضرت قبلہ سجن سائیں مدظلہ سے بھی وہی فیض مل رہا ہے۔ ایک بار خواب میں حضور کی زیارت ہوئی، مجھے تاکید کرتے ہوئے فرمایا منشی صاحب! آفس میں میز کے نیچے بلی کے بچے ہیں ان کی حفاظت کرنا، ان پر ظلم نہ کرنا۔ صبح حسب معمول دفتر گیا تو واقعی میز کے نیچے بلی نے بچے دیئے تھے، میں نے حسب فرمان بلی اور اس کے بچوں کو محفوظ مقام میں رکھوایا، چوکیدار کو اس کی حفاظت کے لئے تاکید کی، ان میں سے ایک بلی ابھی تک موجود ہے جسے میں نے محبت سے پالا ہے۔ قربان جاؤں، اگر حضور میری رہنمائی نہ فرماتے تو کسی صورت میں میں ان کی حفاظت نہ کرتا۔
|