فہرست
سیرت ولی کامل (حصہ دوم)

باب ششم۔ مشاہدات و تاثرات

مشفق مربی

از مولانا محمد عثمان جلبانی

مدرس جامعہ عربیہ غفاریہ اللہ آباد شریف کنڈیارو، ضلع نواب شاہ

حامدًا و مصلیًّا و مسلمًا۔ اما بعد!

سیدی سوہنا سائیں رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی اعلیٰ تربیت اور مثالی شفقت والدین کی تربیت و شفقت سے کہیں بڑھ کر نظر آئی۔ چنانچہ صغر سنی سے لے کر آخر تک میں یہی سمجھتا رہا کہ مدرسہ کے تمام طلبہ سے آپ کی شفقت مجھ پر زیادہ ہے۔ مگر جب کبھی باہمی حضور کی کرم نوازیوں کا تذکرہ ہوتا تو ہر ایک اپنے متعلق اسی قسم کی رائے کا اظہار کرتا تھا۔ دراصل یہ سب کچھ اس لئے تھا کہ وہ ہر ایک سے خواہ اس کی حیثیت کچھ ہو حضور کی شفقت للہ تعالیٰ ہوتی ہے اور بالکل یکساں۔

جب یہ عاجز درگاہ طاہر آباد شریف سے پڑھنے کے لئے اللہ آباد شریف حاضر ہوا، میرا دل نہیں لگ رہا تھا، طاہر آباد شریف کے لئے اس قدر اداس رہتا تھا کہ بعض اوقات تنہائی میں بیٹھ کر روتا تھا، لیکن ظاہری طور پر کسی کو یہ محسوس ہونے نہ دیا۔ حضور ازراہ کشف میرے حالات سے باخبر تھے، چنانچہ ایک مرتبہ حضرت قبلہ صاحبزادہ مدظلہ مجھے بلاکر دروازہ مبارک پر لے گئے، مجھے رکنے کا فرماکر گھر سے روٹی اور ساگ لے آئے، فرمایا حضور سوہنا سائیں (نور اللہ مرقدہ) نے تمہارے لئے اپنا پس خوردہ عنایت فرمایا ہے، بیٹھ کر کھائیں۔ حضور کا پس خوردہ تبرک کھاتے ہوئے مجھے اس قدر لذت حاصل ہورہی تھی کہ دنیاوی کسی عمدہ سے عمدہ کھانے میں بھی اتنی لذت محسوس نہ کی۔ آپ کے پس خوردہ کھانے کے بعد جیسے ہی باہر آیا مجھے طاہر آباد ہی نہیں اپنا گھر وطن بھول چکا تھا۔

فقراء کی نسبت آپ کی طلبہ پر اور بھی نظر کرم زیادہ تھی۔ چنانچہ ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ درگاہ طاہر آباد شریف میں سحری کے چاول پکانے کے لئے لانگری صاحب کے پاس گُڑ نہیں تھا، نماز عشاء کے بعد تمام اساتذہ طلبہ اور فقراء اپنے اپنے قیام گاہوں پر جاکر سوگئے۔ سخت بارش برس رہی تھی۔ کوئی ایک یا ڈیڑھ بجے کا وقت تھا، میں بھی حضور کے دروازے کے قریب حجرے میں سویا ہوا تھا۔ اچانک بلند آواز سے حضور کے لہجہ میں اللہ اللہ کی آواز سنائی دی۔ میں فورًا آپ کے دروازہ مبارک پہ پہنچا، دیکھا کہ آپ بنفس نفیس غیر معمولی بارش میں طلبہ کے لئے اپنے گھر سے گڑ لے آئے ہیں، مجھے فرمایا گڑ ہے تو تھوڑا سا، تاہم جو کچھ میسر ہوا لے آیا ہوں، لانگری صاحب کو دیدیں۔ شروع میں لانگری صاحب سحری کے ابتدائی وقت میں چاول پکاکر طلبہ کو اٹھاتے تھے، معلوم ہونے پر حضور نے لانگری سے فرمایا اتنی جلدی نہ کریں، سحری کے آخری وقت میں طلبہ کو اٹھاکر لنگر کھلائیں، چھوٹے بچے ہیں جتنی دیر سے کھانا کھائیں گے بھوک دیر سے لگے گی وغیرہ۔ بعض اوقات ہم طلبہ دوپہر کا کھانا کھارہے ہوتے تو خود حضور تشریف لے آتے تھے، سالن کا معائنہ فرماتے، باری باری سبزی تبدیل کرنے اور گھی ڈالنے کی تاکید فرماکر تشریف لے جاتے تھے۔ سفر میں جاتے وقت عمومًا ہر بار لانگری صاحب کو بلاکر طلبہ کے کھانے کے اہتمام کا حکم فرماتے تھے۔

صرف ہمارے دینی خیرخواہ ہی نہیں دنیاوی طور پر بھی انتہائی خیرخواہ تھے۔ چنانچہ میرے والد ماجد قبلہ جو ازحد صالح بزرگ صفت حضور کے پرانے خادمین میں سے ہیں، ان کو کئی بار بلاکر تاکید کی کہ محمد عثمان کو تحریری طور پر کچھ زمین دیدیں، دوسرے بچوں سے بڑھ کر ان کا خیال کریں کہ یہ دین کی تعلیم حاصل کررہا ہے، نہ معلوم کل اس کے بھائی اس سے کیا برتاؤ کریں۔ گو والد صاحب قبلہ نے بھائیوں کی تعریف کی اور میں بھی ان سے بدظن نہ تھا، مگر حضور کی دوربین باطنی نگاہ کے سامنے جو حقائق تھے ان کا عینی مشاہدہ حضور کی ظاہری جدائی کے بعد ہی ہوا، اور تجربہ سے ثابت ہوا کہ حضور کا ارشاد برمحل تھا۔