| فہرست |
سیرت ولی کامل (حصہ دوم) |
باب ششم۔ مشاہدات و تاثراتباکمال مرشداز ماسٹر کاظم علی بوزداربستی بوزدار وڈا ضلع خیرپور۱۹۷۹ء کا زمانہ تھا، میں بستی حاکو خان بروھی (گڈاپ کراچی) میں ملازم تھا کہ وہاں ایک اللہ والے کی تشریف آوری ہوئی جن کی مختصر وقت زیارت و صحبت نے مجھے اس قدر متاثر کیا کہ دل میں یاد الٰہی، خوف خدا اور فکر آخرت گھر کر گئے۔ جبکہ میں پہلے بڑی حد تک ان چیزوں سے محروم تھا۔ خوش قسمتی سے ان کا دربار بھی میرے راستہ پر کنڈیارو شہر میں تھا جن کی زیارت کئے بغیر میرے لئے گھر جانا مشکل تھا۔ یہ بزرگ میرے پیر و مرشد، حضرت الحاج سوہنا سائیں قدس سرہ تھے۔ اسی طرح اسکول جانے سے پہلے بھی کم از کم آپ کی زیارت سے ضرور مشرف ہوتا تھا۔ کبرسنی کے باوجود آپ کی یہ خصوصیت قابل ذکر ہے کہ جب کوئی آدمی ایک بار آپ سے ملاقات کرتا خواہ کئی سال بعد آتا پھر بھی فورًا پہچان لیتے، یہی نہیں بلکہ بعض اوقات سابقہ ملاقات کی روشنی میں حال احوال بھی دریافت فرماتے تھے۔ حالانکہ آپ کی خدمت میں چند سو یا چند ہزار نہیں لاکھوں افراد حاضر ہوتے تھے۔ ہر ایک چھوٹے بڑے، امیر خواہ غریب آنیوالے سے آپ کی شفقت و محبت کا انداز بھی کچھ اس طرح تھا کہ ہر ایک یہی محسوس کرتا کہ آپ کی محبت اوروں سے بڑھ کر میرے ساتھ ہے۔ میری معلومات کی حد تک رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک وصف مبارک یہ بیان کی گئی ہے کہ ہر ایک صحابی رضی اللہ عنہ یہی محسوس کرتا کہ آپ کی شفقت و مہربانی میرے اوپر سب سے زیادہ ہے۔ الحمدللہ میرے پیر و مرشد اخلاق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے عملی نمونہ تھے۔ کرامتمارچ ۱۹۸۱ء میں مجھے بی۔ایس۔سی سال دوم کا امتحان خیرپور میرس میں دینا تھا۔ سکولوں کے امتحانات ہورہے تھے اس لئے میری چھٹی منظور نہیں ہوئی، توکلًا علی اللہ میں چلا گیا اور مسلسل ۱۵ دن سکول سے غیر حاضر رہا۔ دوران امتحان ایک دن حضور کی زیارت کا غیر معمولی شوق دل میں پیدا ہوا اور میں دربار عالیہ پر حاضر ہوا۔ حضور کے خداداد رعب کی وجہ سے دعا کے لئے عرض نہیں کرسکا، دل ہی دل میں دو مقاصد کے حصول کی تمنا رکھ کر قدم بوسی سے مشرف ہوا۔ ایک یہ کہ میری غیر حاضری چھٹی میں شمار ہو، ۲ یہ کہ میری گروی زمین آزاد ہوجائے۔ بہرحال جب حضور سے اجازت لیکر پریکٹیکل دینے کے لئے خیرپور میرس پہنچا، اسی رات خواب میں سکول کی حاضری کا رجسٹر نظر آیا جس کا حاضری کالم خالی تھا۔ آنًا فانًا دیکھا دیکھی اس کالم میں یہ تحریر درج نظر آئی ”بیماری کی وجہ سے چھٹی لیکر گئے ہیں“۔ آخرکار جب امتحانات سے فارغ ہوکر سکول پہنچا معلوم ہوا جس دن میں حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی زیارت کے لئے کنڈیارو گیا تھا اسی دن سب ڈویزنل ایجوکیشن آفیسر وزٹ کے لئے ہمارے سکول آئے تھے، حاضری رجسٹر دیکھنے کے باوجود میرے بارے میں یہ تک نہ پوچھا کہ کہاں گئے ہیں؟ سکول پہنچنے پر ہیڈ ماسٹر نے میڈیکل سرٹیفکیٹ طلب کیا، اور میری بیماری کی چھٹی منظور ہوگئی۔ آج بھی بعینہ خواب میں دیکھے ہوئے الفاظ حاضری رجسٹر میں تحریر ہیں۔ ۲۔ ایک ہی ہفتہ کے وقفہ سے میں نے رقم ادا کرکے اپنی گروی زمین واپس لی۔ کرامتوصال سے چند ماہ پہلے حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ نے بلوچستان کا جو تفصیلی تبلیغی دورہ کیا تھا، خوش قسمتی سے میں اس سفر میں آپ کے ساتھ رہا۔ مسلسل قحط کے پیش نظر جب انہوں نے حضور سے بصد آداب دعا کے لئے عرض کی تو اس قدر سخت بارشیں آئیں کہ پروگرام کے مطابق سفر جاری رکھنا مشکل ہوگیا۔ اسی سفر میں بارانی ندیوں کی وجہ سے گاڑیوں پر سفر کرنے کی بجائے اونٹ، گھوڑوں پر سفر کیا، یہاں تک کہ ایک مقام پر بجز پیدل چلنے کے کوئی صورت نہیں تھی اور حضور عوارض کی وجہ سے زیادہ چل نہیں سکتے تھے۔ چنانچہ آپ کو چارپائی پر بٹھاکر مقررہ مقام تک پہنچایا گیا جس کے لئے تین بارانی ندیوں سے گزرنا پڑا۔ جلسہ کے بعد جس میدان میں ہم سوئے تھے وہ میدان بہت اونچا تھا، جہاں اس سے پہلے کبھی بارانی ندی کا پانی نہیں پہنچا تھا، مگر اس رات ہمیں وہاں سے دوسری جگہ منتقل ہونا پڑا اور وہاں ندی کا زوردار پانی پہنچ گیا۔ صبح کو میزبان فقیر جس نے بہت کچھ خرچہ کیا تھا کہنے لگا یہ پیر و مرشد حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی کھلی کرامت ہے کہ میں نے جتنا خرچہ جلسہ میں کیا ہے، ان کے طفیل مجھے اللہ تعالیٰ کہیں زیادہ دے رہا ہے، وہ اس طرح کہ اب میری یہ غیر آباد زمینیں آباد ہوں گی، انشاء اللہ تعالیٰ ان سے مجھے خاطر خواہ دنیاوی فائدہ ہوگا۔ جہاں تک میں نے دیکھا حضور سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ کی مہربانیاں اپنے مریدین فقراء تک محدود نہیں تھیں، بلکہ جملہ مسلمانوں بلکہ عام انسانوں پر بھی آپ مشفق و مہربان تھے۔ چنانچہ ہماری بستی کے محمد اسماعیل نامی ایک غریب آدمی دکان بنوا رہے تھے کہ شہر کے زمینداروں نے اسے سختی سے منع کی، یہ بیچارہ پریشان ہوگیا، اتنے میں میرے والد بزرگوار فقیر عبدالرحیم بوزدار نے خواب دیکھا کہ لوگوں سے بھری ہوئی ایک سوزوکی بستی میں داخل ہوئی ہے جس میں حضور سوہنا سائیں بھی سوار ہیں، آپ نے مجھے فرمایا ہم محمد اسماعیل کی حمایت کرنے آئے ہیں، اس کے بعد تو بڑی ہمت سے مذکور محمد اسماعیل نے دکان تعمیر کی اور مذکورہ زمینداروں کو کچھ ہمت نہ ہوئی کہ اس کو زیربار کرسکتے۔ (محمد اسماعیل پتافی حضور کا مرید بھی نہیں، صرف ایک مظلوم غریب مسلمان ہونے کے ناطے خواب میں حضور نے ہمت افزائی فرمائی)
|